کہانی کی کہانی

کہانی پڑھنا، کہانی سننے سے زیادہ دلچسپ ہے۔ بچپن کی کچھ دھندلی اور بہت سی واضح یادوں میں سے ایک، اگلی جماعتوں کی اردو کی کتابیں پڑھنا شامل ہے۔ شاید تیسری جماعت میں تھا، جب اخبار پڑھنا شروع کیا۔ پہلا اخبار  'جسارت' تھا جو ان دنوں شام کو فیصل آباد پہنچا کرتا تھا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ابّو، جماعت کے متفقین میں شامل تھے۔ اس میں ہماری دلچسپی کا سامان اندر کے صفحات میں "فلیش گورڈن" کی قسط وار، باتصویر کہانی ہوتی تھی۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس دور کے مُتقین اتنے خُشک نہیں تھے۔ آج کل شاید ان کہانیوں کو کامکس کہا جاتا ہے۔۔۔۔ خیر۔۔۔ پڑھنے کی لَت بہرحال دو تین مختصر پیروں سے تسکین نہیں پاتی تھی۔ لہذا شہزادی، بادشاہ، جن، پری، دیو، شہزادہ، لکّڑ ہارا، چرواہے کی کہانیوں والے مختصر سے رسالے اپنے جیب خرچ سے خرید کے پڑھنا شروع کیے۔ ہمدرد، نونہال وغیرہ بھی کہیں نہ کہیں سے مل جاتے تھے۔ لیکن یہ کہانیاں زیادہ عرصہ ہمارا دل نہ لُبھا سکیں۔
ان دنوں ابّو، تقریبا روزانہ شام کے وقت ایک کتاب لے کے بیٹھ جاتے۔ جس کے سرِ ورق پر پستول تھامے، سوٹ پہنے ہوئے کوئی شخص ہوا کرتا تھا۔ ان سے پوچھتا کہ اس "رسالے" میں کیا ہے تو جواب ملتا کہ ۔۔ چور، سپاہی کی کہانی ہے۔۔۔ میں اصرار کرتا کہ میں بھی پڑھوں گا تو مسکرا کے کہتے کہ بڑے ہوجاؤ ، پھر پڑھنا، ابھی سمجھ نہیں آئے گی۔
وہ "رسالے" ابنِ صفی سے ہمارا پہلا تعارف تھا۔
جناح کالونی میں چھتری والے چوک سے ہوزری مارکیٹ کی طرف جائیں تو سیدھے ہاتھ کونے پر ویسٹ اینڈ بیکری ہوا کرتی تھی شاید اب بھی ہو۔ اس کے ساتھ ایک دو دکانیں چھوڑ کے "رفیق لائبریری" تھی۔ لائبریری کے مالک، رفیق صاحب، ایک دھان پان، معنّک، گورے چٹّے، بیٹھی ہوئی آواز والے چاچا جی تھے۔ ابّو کے دوست ہونے کی وجہ سے ہم ان کو چاچا جی کہتے تھے۔ انکی دوستی کی وجہ بھی وہی "رسالے" تھے۔
گرمیوں کی چھٹیوں میں دوپہر تک ہمیں دکان پر قید کیا جاتا تھا کہ گھر میں رہتے ہوئے، چھٹیوں کے کام کی بجائے ہم بنٹے، کرکٹ اور ایسی ہی دوسری مفید سرگرمیوں میں ملوّث رہتے تھے۔ تو صبح سویرے ہم بستہ اٹھائے، ابّو کےساتھ دکان پر تشریف لے جاتے۔ جناح کالونی میں واقع پاکستان نیشنل سنٹر سے ہمارا تعارف انہی دنوں ہوا۔ جیسے ہی ابّو کسی کام کے لیے نکلتے، ہم سُودی کو ساتھ لیتے اور پاکستان نیشنل سنٹر میں جا دھمکتے۔ وہاں بہت سے اخبار، کتابیں، رسائل ہمارے لیے کسی خزانے سے کم نہیں تھے۔ ایک چھوٹی سی الماری میں بچّوں کے لیے کتابیں تھیں۔ عنبر، ناگ، ماریا، چلوسک ملوسک، داستانِ امیر حمزہ وغیرہ ہم نے وہیں بیٹھ کر پڑھیں۔
انہی دنوں ہم نقل مکانی کرکے اپنے آبائی مکان جھنگ بازار سے عوامی کالونی منتقل ہوگئے۔ یاد نہیں کہ پہلی دفعہ ظہیر لائبریری، ہمارا جانا کیسے ہوا لیکن ایک دفعہ تعارف ہونے کے بعد عوامی کالونی میں گزرے ہوئے طویل عرصے میں شاید ہی کوئی دن ایسا ہو جب دن میں کم ازکم ایک چکّر، ظہیر لائبریری کا نہ لگا ہو۔ طارق روڈ سے عوامی کالونی میں داخل ہوں تو گلی نمبر چھ میں بائیں ہاتھ پر تیسرا مکان ہمارا تھا۔ گلی کی دائیں نُکّڑ پر 'سلیم اختر راہی بیسٹ ٹرنر اینڈ ریپیئرنگ" نامی خراد کی دکان تھی۔ راہی صاحب، قاری سعید چشتی کے گہرے دوست تھے اور قاری صاحب اکثر شام کو اپنے ویسپے سمیت اس دکان پر پائے جاتے تھے۔ قاری صاحب اس وقت تک صرف قاری ہی تھے، قوّال نہیں ہوئے تھے۔ گلی کی بائیں نُکّڑ پر استاد خالد کی ویلڈنگ کی دکان تھی۔ گلی پار کرکے گلستان روڈ (اب شاید بمبینو روڈ) آتا تھا جس کے دوسری طرف گلشن کالونی تھی۔ ظہیر لائبریری گلستان روڈ پر گلی نمبر ایک کے کونے سے تیسری دکان میں واقع تھی۔ تینوں دیواروں پر لکڑی کے ریک استادہ تھے۔ جو کتابوں سے بھرے ہوتے تھے۔ ایک چھوٹا سا کاؤنٹرتھا جس کے پیچھے پروپرائٹر ظہیر لائبریری، ظہیر الدین بابر براجمان ہوتے تھے۔ کاونٹر کے سامنے والی دیوار کے ساتھ لکڑی کا ایک بنچ تھا۔ جس پر کافی عظیم شخصیات اپنی تشریف رکھتی تھیں۔
اشتیاق احمد سے پہلا تعارف، ظہیر لائبریری کی وساطت سے ہوا۔ یہ ہمارے لیے ایک بالکل نئی چیز تھی۔ بادشاہ، ملکہ، شہزادی، لکڑہارا، جن، دیو، پریوں کی بجائے ، عام کردار۔ ہمارا ماننا ہے کہ چور، سپاہی کی کہانی سے دلچسپ شاید ہی کوئی اور کہانی ہوتی ہو۔ تو اشتیاق احمد ہمارے پسندیدہ ترین لکھنے والے بن گئے۔ جیسے جیسے ہم بڑے ہوتے گئے، ابّو کا رجحان مذہبی ہوتا گیا۔ رسالے، ناول وغیرہ خرافات میں شامل ہوتے گئے۔ جماعت اسلامی کے رسالے، نُور، بتول اور ترجمان القرآن باقاعدگی سے آنے لگے۔ ہم بھی لیکن چھپ چھپا کر خرافات پڑھتے ہی رہے۔ اشتیاق احمد کے بعد عمران سیریز کی باری آئی۔ مظہر کلیم، صفدر شاہین، ایچ اقبال وغیرہ کے ناولز پڑھے۔ مظہر کلیم ان سب میں سے اچھا لکھتے تھے۔ ابنِ صفی کو ساتویں میں پہلی دفعہ پڑھا تو بہت بورنگ لگے، چھوڑ دیا۔ دسویں کے پیپر دے کے دوبارہ شروع کیا اور آج تک نہیں چھوڑا۔
نسیم حجازی، اسلم راہی ایم اے، قمر اجنالوی، عنایت اللہ وغیرہ کو بھی پڑھ ڈالا۔ نویں جماعت میں پہلا ڈائجسٹ پڑھا، جاسوسی ڈائجسٹ۔ "شکاری وہ پہلی کہانی تھی جس سے ڈائجسٹ کا چسکا لگا۔ بس پھر چل سو چل۔۔۔ سب رنگ، جاسوسی، سسپنس، مسٹری میگزین، عمران ڈائجسٹ، نیا رخ، نئے افق، عالمی ڈائجسٹ۔۔۔ ڈائجسٹوں کے لکھاریوں کی اپنی ایک الگ دنیا تھی۔ شکیل عادہ زادہ، احمد اقبال، علیم الحق حقّی، اثر نعمانی، ایم اے راحت، محی الدین نواب، طاہر جاوید مغل، محمود احمد مُودی، کاشف زبیر، ساجد امجد، جبار توقیر، اقلیم علیم اور بہت سے دوسرے۔۔۔۔۔ ڈائجسٹ سے ہی غیرملکی کہانیوں کے ترجمے پڑھنے کا موقع ملا۔ ایک نئی دنیا سے تعارف۔۔۔
کالج کے پہلے سال، منٹو کا ذکر سنا۔ یہ ذکر اور تاثر کچھ ایسا خوشگوار نہیں تھا۔ ہمارے ایک دوست جو بعد میں کاکول کو پیارے ہوگئے، انہوں نے منٹو کی کہانی "ٹھنڈا گوشت" پڑھنے کو دی اور بائیں آنکھ مِیچ کے بولے۔۔ "مزے آجان گے"۔۔۔ مزے تو خیر کیا آتے، جتنی سمجھ آئی۔۔ اسی میں ہمارے کان لال ہوگئے۔ اس سے بہرحال ایک فائدہ یہ ہوا کہ ہمیں ادب پڑھنے کی تحریک ملی۔ احمد ندیم قاسمی کے افسانے شاید وہ پہلی ادبی تحریر تھی جو ہم نے پڑھی۔ ممتاز مفتی، اشفاق احمد، بانو قدسیہ، غلام عباس، خدیجہ مستور، اے حمید، قرۃ العین حیدر، عصمت چغتائی، عبداللہ حسین۔۔ الغرض جو بھی ہمارے سامنے آیا ہم نے پڑھ ڈالا۔۔۔۔ بہت کچھ سر کے اوپر سے گزر گیا۔۔ بہت عرصے بعد دوبارہ پڑھا تو گتھیاں سلجھیں۔ تارڑ کے سفرنامے پڑھے اور سچّی بات کہ زیادہ متاثر نہیں کرسکے۔ تارڑ سے اصلی والا ٹاکرا "راکھ" پڑھ کے ہوا اور تب سے تارڑ کے سحر میں مبتلا ہیں۔
نان فکشن بہت کم پڑھا۔ ڈاکٹر سلیم اختر، سبطِ حسن اور ڈاکٹر مبارک علی کے نام  ذہن میں آرہے ہیں۔ اس میں اگر مذہبی لٹریچر کو بھی شامل کرلیا جائے تو مولانا مودودی اور شبلی نعمانی کا نام آتا ہے۔
شاعری سے کوئی لگاؤ نہیں تھا۔ اقبال کے علاوہ ہم کسی کو شاعر نہیں سمجھتے تھے اور اقبال کا نام سنتے ہی ہمارے ذہن میں عقیدت و احترام کی اگر بتّیاں سلگنے لگتی تھیں۔ ایک دن ظہیر سے گپ شپ کرتے، ریک میں پڑی ایک کتاب کے عنوان نے توجہ کھینچ لی۔۔۔ دشمنوں کے درمیان شام۔۔۔ ورق گردانی کی تو ایک انوکھی چیز پڑھنے کو ملی۔ یہ ہمارے شاعری سے لائف لانگ رومانس کا آغاز تھا۔ منیر نیازی، شاعری میں ہماری پہلی محبّت ہیں۔ پہلی محبّت کبھی نہیں بھولتی۔

اقبال، خُودی اور بُلبلیں

علاّمہ اقبال سے ہماری عقیدت کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ زمانہءطالبعلمی میں ہمارا خیال تھا کہ شاعر صرف اقبال ہوتا ہے بالکل ویسے ہی جیسے امیتابھ بچن بارے ہمارا خیال تھا کہ ہیرو صرف 'میتا بچن' ہوتا ہے۔ سکول کے مرکزی دروازے سے داخل ہوتے ہی طویل برآمدے کی دونوں اطراف اقبال کے اشعار سے مُزین کتبے لگے ہوتے تھے۔ جن پر موج، دریا، کشت، زرخیز، نم، کاشغر، نیل (اس وقت ہم اسے رابن نیل سمجھا کرتے تھے)، شاہین (الحمدللہ ۔۔ اس وقت ہمیں مسرّت شاہین کا قطعی علم نہیں تھا) ، لوح و قلم وغیرہ کا ذکر تھا۔ ابّو کی چھوٹی سی لائبریری سے ہمیں شکوہ، جواب شکوہ بھی ملی۔ جسے پڑھتے ہوئے ہم تخیّلاتی دنیا میں "آخری چٹان"، "داستانِ مجاہد" وغیرہ کے ہیرو بن کے کفّار کے لشکروں کے لشکر تہہ تیغ کر دیا کرتے تھے۔ اہلِ زبان نہ ہونے کے سبب ہم شِکوہ کو شِکَوہ اور دارا شِکَوہ کو دارا شِکوہ پڑھا کرتے نیز دارا شِکَوہ کو ایک گمراہ اور فاسق انسان بھی سمجھتے تھے۔ ویسے بھی کسی شہزادے کا نام دارا ہونا ہی محلِ نظر ہے، کسی لوفر لونڈے کا نام لگتا ہے۔ خیر۔۔۔
علاّمہ صاحب کی شاعری پر بہت تحقیقی کام ہوچکا ہے اور محققین نے اس میں سے مابعد الطبیعیات سے کوانٹم فزکس تک سب کچھ برآمد کرلیا ہے۔ ہم نے بھی اس سلسلے میں کچھ غورو فکر کیا اور کچھ ایسی حیران کُن باتیں دریافت کی ہیں جن کی طرف شاید کسی کا دھیان نہیں گیا۔ علاّمہ صاحب فرماتے ہیں۔۔
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر۔۔۔
اس شعر سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کو کوہ پیمائی کا بہت شوق تھا اور اکثر چٹانوں وغیرہ پر چڑھ جایا کرتے تھے۔ آپ کی شاعری میں جو بلندی نظر آتی ہے ہمیں اس کی وجہ بھی یہی لگتی ہے۔ خود ہی سوچیے، جو شاعری سطح سمندر سے کئی ہزار فٹ کی بلندی پر کی گئی ہو اس میں تو بلندی خودکار طریقے سے ہی آجائے گی۔ علاّمہ صاحب نے اپنے شعروں میں جگہ جگہ خُودی کا ذکر کیا ہے۔ اس کی تشریح میں بہت سے اہلِ علم خطا کھا گئے ہیں اور اس کی عجیب و غریب تاویلات کرتے رہے ہیں اور کر رہے ہیں۔ یہ بہت سادہ سی بات تھی۔ ایک مشہور مصرعہ جو غلطی سے کسی اور سے منسوب ہوگیا، وہ علاّمہ صاحب کا تھا جس میں آپ فرماتے ہیں۔۔۔
امّی کہتی ہیں جو کہتا ہے وہ "خُود ای" ہوتا ہے۔۔
یہ "خُود ای" کثرت استعمال سے خُودی بن گیا اور لوگوں نے رائی کا پہاڑ بنا لیا۔
علاّمہ صاحب کو پختونوں سے بہت لگاؤ تھا۔ اس کی مثالیں جا بجا ان کے شعروں میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ آپ نے اپنے المشہور ملّی نغمے ۔۔۔ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا۔۔ میں فرمایا ہے۔۔
ہم بُلبلیں ہیں اس کی۔۔ یہ گلستاں ہمارا
"بُلبل" کا اتنا برمحل استعمال کم ہی دیکھنےمیں آیا ہے۔ برسبیل تذکرہ، آپ نے جب یہ ملّی نغمہ لکھا تو قائد اعظم نے آپ کو خط لکھ کے ان الفاظ میں سخت سرزنش کی تھی: " بالے۔۔ ہم تمہیں مفکّر پاکستان بنانے کا سوچ رہے ہیں اور تم ابھی تک ہندوستان کے ملّی نغمے لکھ رہے ہو؟"۔ پھر آپ نے اسی زمین میں دوسرا نغمہ لکھا جو یہاں سے شروع ہوتا ہے۔۔
چین و عرب ہمارا، ہندوستاں ہمارا
مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
اور
خنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا۔۔۔
اس پر قائد اعظم بہت خوش ہوئے اور علاّمہ صاحب کو حُقّے کے لیے عمدہ قسم کا تمباکو بھیجا نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ علاّمہ صاحب بھی قائد اعظم کے غصے سے ڈرتے تھے۔
وما علینا الا البلاغ

۔۔۔ تو ناچتی بوتل

کوئی جائے اور شہباز مسیح کو بتائے؛ فقیروں کو لُوٹ کے تونگری نہیں ملتی۔
خدا اس کی قبر کو نُور سے بھر دے۔ ربع سال ہوتا ہے، جون کی تپتی صبح کو جانکاہ اطلاع ملی، جارج گھسیٹے خاں گزر گئے۔ ایسا نجیب و بے ریا آدمی۔ زمین کا نمک۔ دو دہائیوں کی سنگت رہی۔ ایک بھی دن ایسا نہیں کہ شکایت کا موقع دیا ہو۔ ہمیشہ جو کہا، وہی ملا۔ قناعت ایسی کہ تہواروں پر بھی وہی دام جو عام دنوں میں۔ فقیر، بُہتیرا اصرار کرتا کہ میاں، سب زیادہ لے رہے ہیں۔۔۔ تم کیوں نہیں لیتے؟ آنکھیں بھر آتیں، کانوں کو ہاتھ لگاتے اور آسمان کی طرف انگشت شہادت سے اشارہ کرکے گویا ہوتے۔۔۔ خدا کو کیا منہ دکھائے گا؟ فقیر، شاہوں کی محفلوں میں بھی گیا اور اپنے جیسے بے مایہ رندوں کے ساتھ بھی محفلیں جمائیں، پَر جو بوتل، خلد آشیانی لاتا تھا ویسا خالص پن کہاں۔۔۔۔ جو مزا چھجّو کے چوبارے وہ بلخ نہ بخارے۔۔۔
برّصغیر کا مزاج مگر تقلید کا ہے۔ نشہ حرام ہے حضورِ والا۔۔ مشروب حرام نہیں۔ یہ نکتہ مگر سب پر نہیں کھلتا۔ حالی، شہرہءآفاق مُسدّس میں یوں گویا ہوئے۔۔۔
نشہ شراب میں ہوتا تو ناچتی بوتل
مگر کون سنتا ہے، کون غور کرتا ہے۔ تقلید کے خُوگر صرف عامی نہیں، جلیل القدر علماء بھی اکابرین کا آموختہ دھراتے ہیں۔ مشروب حرام اور لسّی مرغوب۔ روح چیخ اٹھتی ہے۔ ایک سے فکر کی پرواز بلند کہ کائنات کے راز کھولنے پر آمادہ اور دوسری ایسی کہ انسان کو گوبھی بنا دے۔ غنودگی اور بسیارگی۔ درویش کی خدمت میں حاضر ہوا۔دل بے چین اور روح مضطرب۔ خاموش ایک کونے میں براجمان ہوا۔ طالب علم کی حالت مگر درویش سے اوجھل کیسے رہ سکتی ہے۔ سر اٹھایا، ہچکی لی اور بوتل، طالب علم کی طرف بڑھا دی۔ دو گھونٹ لئے تو دل کو قرار آیا۔ ذہن سوچنے کے قابل ہوا۔ درویش سے ماجرائے درد بیان کیا۔
وہی قصّے ہیں وہی بات پرانی اپنی
کون سنتا ہے بھلا رام کہانی اپنی
کون سنتا ہے مگر سوائے درویش کے۔ دل چیر کے رکھ دیا۔ چار ماہ ہونے کو آئے۔ خالص مشروب کی ایک بوند حلق سے نہیں اُتری۔ ڈیڑھ سو کی کُپّی کے چار سو تک ادا کیے۔ نرا پانی۔ جب حلق ہی تَر نہ ہوا تو دماغ کیسے تَر ہوگا۔ قارئین، حیران اور برگشتہ۔ لکھتا ہوں تو ۔۔ ماروں گُھٹنا پھُوٹے آنکھ۔۔۔ والا حال۔ حضرت جنید بغدادی سے شروع ہونے والی تحریر، اختتام تک صدارتی نظام کی حمایت بن جاتی ہے۔ ایک دو دفعہ تو العیاذ باللہ، میاں صاحب کی حمایت بھی سرزدِ قلم ہوئی۔ مدیر بھی ایسے کہ بعینہ شائع کردی ۔۔۔۔
کَلّی کَلّی جان دکھ لکھ تے کروڑ وے
دور جان والیا مہاراں ہُن موڑ وے
مردانِ باصفا کی قدر ان کے جانے کے بعد ہوا کرتی ہے۔ جارج گھسیٹے خان کا ذکر آیا تو آنکھیں برس اٹھیں۔ درویش بے اختیار اٹھے، لڑکھڑائے اور دھڑام سے طالبعلم پر آ پڑے۔ گلے سے لگا لیا۔ دل کو قرار آیا۔ آنسو پونچھے۔ تسلّی دی۔ الماری کھول دی۔ اذن دیا کہ جو جی چاہے لے لو۔ مشروب کی خوش وضع بوتلیں کہ قطار اندر قطار پریاں۔ ہاتھ باندھ دئیے۔عرض کیا۔۔ حضور، کوئی مستقل حل عنایت ہو۔ درویش نے سر جھُکا لیا۔ چند ثانیے گزرے۔۔۔ ایک آہ بھری سر اٹھایا اور گویا ہوئے۔۔۔ جان دے سکتے ہیں۔۔۔۔ سپلائر کا نام نہیں دے سکتے۔
بوجھل دل کے ساتھ طالبعلم اٹھا۔ دو ریڈ لیبل اور تین جیک ڈینئیلز اٹھائیں اور صدری کی جیبوں میں ٹھونس لیں۔ اپنی آزمائش سے خود ہی نبرد آزما ہونا پڑتا ہے۔ انسان، سپلائر سے نہیں اس پر اصرار سے برباد ہوا کرتا ہے۔ ڈھونڈے سے خدا مل جاتا ہے۔ ایک صالح سپلائر کی کیا حیثیت!

کوئی جائے اور شہباز مسیح کو بتائے؛ فقیروں کو لُوٹ کے تَونگری نہیں ملتی۔

سپہ سالار کی ڈائری

نماز فجر ادا کی۔ ورزش کرنے کے لیے قریبی میدان کا رخ کیا۔ جاگنگ کرتے ہوئے دو سپاروں کی تلاوت کی۔ الحمدللہ۔ واپس گھر پہنچا تو بیگم نے بچوں کے سکول کی فیس بابت دریافت کیا۔ میں نے بتایا کہ کل تنخواہ ملی تھی۔ آفس سے آتے ہوئے رستے میں جماعت الدعوۃ کے امدادی کیمپ پر نظر پڑگئی۔ شام کے پناہ گزینوں کے لیے امداد اکٹھی کی جارہی تھی۔ ساری تنخواہ وہیں دے آیا۔ بیگم نے فخر سے میری طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے کہا، کوئی بات نہیں۔ اللہ تعالی اور کوئی سبب بنا دیں گے۔ شادیوں کا سیزن شروع ہے۔ چار گھنٹے کی بجائے آٹھ گھنٹے سلائی کرلوں گی۔
رات کی بچی ہوئی روٹی اور پانی سے ناشتہ کیا۔ آج سرکاری دورے پر مُلکِ فرنگ جانا تھا۔ ولیمے پر جو شلوار قمیص اور واسکٹ پہنی تھی، بیگم نے کل وہی دھو کر بستر کے نیچے بچھادی تھی تاکہ استری ہوجائے۔ کپڑے بدل کر سائیکل نکالی اور ہوائی اڈے کی جانب روانہ ہوا۔ کچھ ہی دور گیا تھا کہ ایک کیفے کے باہر ایک نوجوان پریشان حالت میں فٹ پاتھ پر بیٹھا ہوا دیکھا۔ اس کے قریب جا کے سائیکل روکی اور ماجرا دریافت کیا۔ اس نے رقّت آمیز لہجے میں بتایا کہ اس کے پاس آئی فون فائیو ہے جبکہ نیا آئی فون لانچ ہوچکاہے۔ اس کے پاس خریدنے کے لیے رقم نہیں۔ معاشرے میں اس کی کیا عزت رہ جائے گی؟ یہ کہہ کر وہ زار و قطار رونے لگا۔ میں نے ٹکٹ کی رقم نکال کے اس نوجوان کو نئے فون کے لیے دی، سائیکل کو پیڈل مارا اور عازمِ ہوائی اڈّہ ہوا۔
رستے میں سو طرح کے وسوسے ذہن میں کلبلاتے رہے۔ بغیر ٹکٹ کے کیسے سفر کروں گا۔۔ یہ سرکاری رقم میرے پاس امانت تھی، کیا میں نے خیانت کی؟ یہی سوچتے ہوائی اڈے پر پہنچ گیا۔ سٹینڈ پر سائیکل کھڑا کرکے ٹوکن لے کر مُڑا ہی تھا کہ سامنے ایک سفید پوش نورانی صورت والے بزرگ، عصا تھامے کھڑے تھے۔ انہوں نے اشارے سے پاس بلایا۔ پاس جانے پر انہوں نے میرا ہاتھ تھاما اور کہا، شکیل، آنکھیں بند کرلو۔ ایک لحظہ گزرا تو انہوں نے آنکھیں کھولنے کا حکم دیا۔ دیکھا تو ہم لندن کے ہوائی اڈے کے باہر موجود تھے۔ میں نے بزرگ سے دریافت کیا کہ واپسی کا کیا بندوبست ہوگا۔ ان کا چہرہ جلالی ہوگیا۔ انہوں نے عصا میری تشریف پر رسید کیا اور کہا، ہم تمہیں یہاں لاسکتے ہیں تو واپس بھی لے جاسکتے ہیں۔ یہ کہہ کر وہ دفعتا غائب ہوگئے۔
فلائٹ کے پہنچنے میں ابھی کافی وقت باقی تھا لہذا پیدل ہی سفارتخانے کا قصد کیا۔ تاکہ عامیوں پر یہ روحانی واردات ظاہر نہ ہو۔ اس سے سفارتخانے کی گاڑی کا پٹرول بھی بچا۔ ایک ایک پیسہ ہمارے پاس عوام کی امانت ہے۔ مغرب کا وقت ہوگیا تھا۔ ٹیمز کے کنارے وضو کرکے نماز ادا کی۔ بیگم نے زادِ راہ کے طور پر مُٹھّی بھر بھُنے ہوئے چنے اور پانی کی چھاگل ساتھ کردی تھی۔ تھوڑے سے چنے چبائے، دو گھونٹ پانی کے پئے اور سفارتخانے کی جانب روانہ ہوا۔ وہاں پہنچا تو سکیورٹی گارڈ نے اندر داخل ہونے سے روک دیا۔ لاکھ کہا کہ میں سپہ سالار ہوں۔ لیکن وہ جوابا کہنے لگا کہ میں برطانیہ کی ملکہ ہوں۔ ستم ظریف، فیصل آباد کا لگتا تھا۔ بعد میں تحقیق سے یہی ثابت ہوا۔ شور سن کر سفیر صاحب باہر تشریف لائے۔ مجھے دیکھ کر ان کی گھِگھّی بندھ گئی۔ بڑی مشکل سے کُھلی۔
سفیر صاحب نے شب بسری کے لیے ڈورچسٹر ہوٹل میں بندوبست کیا تھا۔ میں نے سختی سے انکار کردیا۔ سفارتخانے میں رات گزارنے پر بھی دل راضی نہیں ہوا۔ عوام کا پیسہ اپنی ذات پر خرچ کرنا، امانت میں خیانت لگتا ہے۔ سفیر صاحب سے کل کی ملاقات بارے بریفنگ لی دوران بریفنگ سختی سے منع کیا کہ کسی بھی قسم کے مشروبات نہ لائے جائیں۔ خواہش ہوگی تو میں اپنی گرہ سے چائے پی لوں گا۔ رات گئے سفارتخانے سے نکلا۔ عشاء کا وقت ہوچکا تھا۔ ٹیمز کنارے ایک پُرسکون جگہ ڈھونڈی۔ رات کے کھانے میں بھُنے ہوئے چنے کھائے اور پانی پی کر اللہ کا شکر ادا کیا۔ وضو تازہ کیا اور نماز کے لیے قبلہ رُو ہوا۔ فرض ادا کرکے سلام پھیرا تو کیا دیکھتا ہوں کہ پیچھے حدِّ نظر، سفید پوش نورانی وجود صفیں باندھے ہوئے ہیں۔ دل کی عجیب سی حالت ہوگئی۔ ایک گنہگار پر پروردگار کی اتنی رحمتیں۔ فورا سجدہءشکر بجا لایا۔ بقیہ رات ذکر اذکار میں گزری۔ سردی بھی تھی۔ نوافل کی ادائیگی سے جسم کو گرمی ملتی رہی۔
دس بجے وزیر اعظم سے ملاقات طے تھی۔ پیدل ہی جانے کا فیصلہ کیا۔ اس سے ورزش بھی ہوئی اور قیمتی زرِمبادلہ کی بچت بھی۔ ڈاؤننگ سٹریٹ کے قریب پہنچنے پر پولیس والے نے روکا اور شناخت پوچھی۔ تعارف کرایا تو وہ دم بخود رہ گیا۔ دو قدم پیچھے ہٹا اور ایک زوردار سلیوٹ کیا۔ پھر آگے بڑھ کر عقیدت سے میرا ہاتھ تھام کر چُوما اور دعا کی درخواست کی۔ وزیرِاعظم نے میرا استقبال کیا اور مذاکرات کے لیے میٹنگ روم میں لے گئے۔ میز پر انواع و اقسام کے مشروبات و ماکولات تھے۔ میں نے نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ وزیر اعظم کا لہجہ رُوکھا تھا۔ انہوں نے لگی لپٹی رکھے بغیر کہا کہ ان کے منصوبوں کی راہ میں واحد رکاوٹ میں ہوں۔ حکومت پاکستان ہر وہ کام کرنے کو تیار ہے جو ہم چاہتے ہیں لیکن آپ کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہے۔ بتائیں۔۔ آپ کی قیمت کیا ہے؟۔ یہ سنتے ہی میں نے غضب کے عالم میں ان کی طرف دیکھا۔ جیسے ہی ہماری نظریں ملیں، بجلی کڑکی اور کھڑکی سے تیز دودھیا روشنی کی لکیر سیدھی ان کے دل تک پہنچی۔ وہ بے اختیار اٹھے اور سجدے میں گرگئے۔ میں نے فورا اٹھ کر دروازہ مقفل کیا۔ ان کو سجدے سے اٹھایا اور گلے سے لگا لیا۔
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
وزیر اعظم نے کہا کہ ان کو کلمہ پڑھایا جائے۔ کلمہ پڑھا کر ان کو مشرف بہ اسلام کیا۔ ان کا اسلامی نام داؤد فریدون رکھا۔ وہ سب کچھ تیاگ کر میرے ساتھ پاکستان جانے کو تیار تھے۔ میں نے ان کو مومنانہ فراست سے کام لینے کا مشورہ دیا اور کہا کہ کسی کو اس کایا پلٹ کی خبر نہیں ہونی چاہیے۔ حسبِ معمول وزارت عظمی پر فائز رہیں۔ اور پاکستان اور عالمِ اسلام کے خلاف ہر سازش کی خبر مجھے دیں۔ یہی ان کا جہاد ہوگا۔ انہوں نے اس پر صاد کیا۔ یہود و ہنود کی سازشوں بارے انہوں نے لرزا دینے والے انکشافات کیے۔ میں نے ان کو سمجھایا کہ آئندہ کسی بھی سازش بارے خبر ملے تو مجھے مِس کال کردیں۔ میں خود ان تک پہنچ جاؤں گا۔ کسی بھی صورت سکائپ کال، وٹس ایپ، ایمیل یا ڈی ایم نہ کریں۔ سو سجن سو دشمن۔
ملاقات ختم ہوئی۔ وزیر اعظم مجھے دروازے تک چھوڑنے کے لیے آنا چاہتے تھے۔ میں نے منع کیا کہ خلاف مصلحت ہے۔ باہر نکل کر دیکھا تو سفید پوش بزرگ کے دور دور تک کوئی آثار نہ تھے۔ لشٹم پشٹم ہائیڈ پارک تک پہنچا۔ تین گھنٹے انتظار کرنے پر بزرگ ظاہر ہوئے۔ میں نے تاخیر کا سبب دریافت کیا تو کمالِ بے نیازی سے بولے۔۔۔
۔۔۔" اکھ لگ گئی سِی"۔۔۔


کیِ فرق پیندا اے

کالونی کے مرکزی دروازے سے داخل ہوتے ہی بردارِ خُورد نے ون وے کی خلاف ورزی کی تو ہم نے ان سے دریافت کیا، "کِی تکلیف اے تینوں؟"۔ جواب ملا کہ دوسری طرف سے جانے پر یوٹرن لینا پڑتا۔ مزے کی بات یہ کہ صرف بیس پچیس میٹر کا فرق پڑتا۔ ہم نے انہیں بائیک موڑنے اور اسی طرف سے جانے کا حکم دیا۔ مرتا کیا نہ کرتا، سگ باش بردارِ خورد مباش۔۔۔برادر نے بائیک موڑی اور اسی سڑک پر ہولئے۔ گھر پہنچنے پر ہم نے ان کو ایک عدد پُر جوش لکچر دیا جس میں قوانین کا احترام اور ان کی اہمیّت سمجھانے کی کوشش کی گئی تھی۔ سب کچھ بظاہر بغور سننے کے بعد وہ ہم سے یوں گویا ہوئے۔۔" بھائی جی۔۔ سڑک تے خالی سِی بالکل۔۔ کیِ فرق پیندا اے"۔
زیادہ تر کیسز میں کچھ سال ملک سے باہر گزارنے والوں کو گھروالے اور حلقہءاحباب، کالا صاحب سمجھنے لگتے ہیں۔۔۔ پیسے آگئے نیں تے دماغ ستویں اسمان تے پہنچ گیا اے۔۔ ایتھے ای کھجل ہندا سِی پہلے۔۔۔ ہماری لیکن کھال موٹی ہے اور ہم ایسی باتیں ایک کان سے سن کر ان کا جواب اپنی گز بھر لمبی زبان، بقول امّی جی "لُتری" سے دیتے ہیں۔
بچپن میں گھر اور سکول سے ہمیں ٹریفک بارے جو معلومات یا تربیت ملی وہ صرف اتنی تھی کہ سڑک دونوں طرف دیکھ کے پار کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ کبھی کسی نے کچھ سمجھانے یا بتانے کی کوشش نہیں کی۔ بائیک ہم نے اس وقت چلانی شروع کی جب ہمارے پاؤں زمین پر نہیں لگتے تھے۔ ہمیں کسی نے منع نہیں کیا۔ ڈرائیونگ لائسنس تو کالج میں کہیں جا کے بنوایا۔ سڑک پر ہمارے رویّے ایسے تھے اور ہیں جیسے سب گھر سے اس امر کا تہیّہ کرکے نکلے ہوں کہ زندہ گھر واپس نہیں جائیں گے اور یہیں کہیں کسی کھوتا ریڑھی یا ویگن سے ٹکرا کر شہید ہوجائیں گے یا کسی کو شہید کردیں گے کہ حادثے میں فوت ہونا بھی شہادت ہی ہوتی ہے۔
چند سال پہلے ہمیں دیس نکالا ملا اور ہم ایک ایسے ملک میں پہنچے جہاں ٹریفک کا نظام دیکھ کر ہماری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔۔۔ ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی۔۔۔ اس ٹریفک کا وطنِ عزیز و مُلکِ خداداد سے موازنہ کیا تو ہمیں یوں لگا جیسے مادرِ وطن میں سڑکوں پر ٹریفک نہیں چلتی، موت کے کنوئیں کا شو چلتا ہے۔ سڑک پر موجود ہر شخص اتنی جلدی میں ہوتا ہے جیسے فائر بریگیڈ کا ملازم ہو اور بازارِ حُسن میں آگ لگنے کی اطلاع پر آگ بجھانے جارہا ہو۔
ہم جب بھی وطنِ عزیز کا چکر لگاتے ہیں تو ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ٹریفک بارے جو کچھ ہم نے پردیس میں رہ کر سیکھا ہے اس پر ہر ممکن حد تک عمل کرسکیں اور جن پر ہمارا بَس چلتا ہے ان کو بھی تاکید کریں۔ ٹریفک سگنل پر سبز بتّی جلتی ہے تو اکثر ہم اکیلے ہی کھڑے ہوتے ہیں کہ باقی سب احباب ساٹھ یا اسّی سیکنڈ کا طویل عرصہ گزارنے کی سکت نہیں رکھتے اور سگنل توڑ کر آگ وغیرہ بُجھانے نکل جاتے ہیں۔ اکثر احباب تو ہمیں اکیلا سگنل پر کھڑا دیکھ کر ہنستے ہیں اور کچھ تو باقاعدہ جُگتیں بھی کرتے ہیں۔ فیصل آبادی جو ہوئے۔ ہم ڈھیٹ بنے کھڑے رہتے ہیں۔ کسی کو تو کھڑا ہونا ہی ہے۔
ہم اپنی پوری ایمانداری سے بیان کرتے ہیں کہ بچپن سے لے کر آج تک ہم نے کسی مسجد میں ٹریفک یا کسی بھی قسم کے قوانین کے احترام کا وعظ یا بیان نہیں سُنا۔ ہم نے ہر قسم کی مساجد میں نمازیں باقاعدگی سے پڑھی ہیں۔ بریلویوں کی مسجد ہمارے محلے میں تھی۔ دیوبندیوں کی مسجد میں ہم ابّو کے ساتھ جمعہ پڑھنے جاتے تھے۔ اہل حدیثوں کی مسجد میں وہ جمعہ پڑھتے تھے جس دن کرکٹ میچ آرہا ہوتا تھا کہ ان کا جمعہ جلد اور سب سے پہلے ختم ہوجاتا تھا۔ ان مساجد میں ہم نے ہر قسم کے قصّے، کہانیاں، ایمان کو گرما دینے والے وعظ، شلوار کی اونچائی اور داڑھی کی لمبائی، روزے کے مسائل، مدارس کے لیے چندہ دینے کے فضائل، جہاد کی اہمیّت (صرف سننے والوں کے لیے)، نُور بشر کے مسائل، قربانی کی کھالوں کا درست مصرف، فلسطین، کشمیر، بوسنیا وغیرہ کے مسلمانوں کی امداد، یہود و ہنود کی سازشیں، شیعوں کا کُفر، بریلویوں کا شرک، دیوبندیوں اور اہل حدیثوں کا گستاخ رسول ہونا۔۔۔ یہ سب ہم نے سنا۔ نہیں سُنا تو یہ نہیں سُنا کہ سگنل توڑنا، گناہ کبیرہ ہے اور یہ اقدام قتل کے برابر ہے۔ یہ نہیں سُنا کہ مُلکی قوانین کو جان بوجھ کے توڑنا، فتنہ ہے۔ اور فتنہ قتل سے بدتر ہے۔ سوچنے کا مقام ہے کہ اگر مسجد کے منبر سے کہے گئے لفظ پر لوگ اپنا مال اور جان قربان کرسکتے ہیں تو کیا انہیں یہ نہیں سکھایا جاسکتا؟

تعلیم کے پیچھے دوڑ رہے ہیں اور تربیّت بالکل بھُلا دی گئی ہے۔ تعلیمی اداروں میں بے دال کے بُودم بن رہے ہیں۔ والدین کے نزدیک سکول اور کالج کی فیسیں دے کے ان کی ذمّہ داری ادا ہوجاتی ہے۔ بچّے جانیں اور ان کے تعلیمی ادارے جانیں۔ یہ سب ہوتے ہوئے اگر آپ کو سڑک پر پاگلوں کا ایک ہجوم دکھائی دیتا ہے تو اس میں حیرانی کی کیا بات ہے؟

مقطع میں آ پڑی ہے سُخن گسترانہ بات

قادیانی/مرزائی/احمدی احباب بارے پھر بحث چھڑی ہے کہ کسی کو کافر کیوں قرار دیا جائے؟ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔ آئین میں ترمیم کریں اور انہیں مسلم قرار دے دیں۔ جب تک ریاستی قانون انہیں غیرمسلم قرار دیتا ہے تب تک اسے ماننا پڑے گا۔
دوسرا رخ اس کا یہ کہ اس بنیاد پر ان سے امتیازی سلوک کیا جائے یا تشدّد کی کسی بھی قسم سے کام لیا جائے تو یہ مذہی، قانونی، اخلاقی کسی بھی رُو سے نہ تو جائز ہے اور نہ ہی اس کی کوئی توجیہہ یا حمایت کی جاسکتی ہے۔ یہ پاکستان کے شہری ہیں اور انہیں وہی حقوق (یا ان کی حق تلفی) حاصل ہیں جو عمومی طور پر ہم سب کو حاصل ہیں۔
تیسرا رُخ یہ کہنا کہ بھُٹّو نے مولویوں کے دباؤ میں یہ فیصلہ کیا تھا، قطعی غلط ہے۔ یہ انیس سو چوہتّر کا واقعہ ہے جب بھٹّو اپنے اقتدار کے عروج پر تھے۔ جن مولویوں کے دباؤ کی بات کی جاتی ہے، انہیں اسمبلی سے ڈنڈا ڈولی کرکے باہر پھینک دیا جاتا تھا۔ جو بات ہم سمجھنا نہیں چاہتے وہ یہ کہ ان کے پیشوا (موروثی)  کو پارلیمان نے اپنا موقف بیان کرنے کا پورا موقع دیا اور ان کا مؤقف ظاہر و باہر اور آن ریکارڈ ہے کہ جو مرزا صاحب کو نبی اور مسیح موعود نہیں مانتا، ان کے نزدیک وہ ان کے دائرہ اسلام سے خارج اور کافر ہے۔ ان کی حق گوئی کی داد دی جانی چاہیے کہ جس بات کو انہوں نے درست سمجھا اسے ڈنکے کی چوٹ پر ریاست کی مقنّنہ  کے سامنےبغیر کسی ہچکچاہٹ بیان کیا۔ اسی اصول کو سامنے رکھتے ہوئے مقنّنہ نے بھی وہ فیصلہ کیا جسے وہ حق سمجھتی تھی۔ جمہوری اصول کے تحت اس فیصلہ کا احترام تب تک کیا جانا چاہیے جب تک اسے وہی مقنّنہ بدل نہ دے۔
قادیانی احباب اپنے پیشواؤں  کے جیسے مقلّد ہیں وہ شاید ان احباب کو جاننے والے حضرات بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ جائز اور اکثر ناجائز طور پر ہم مولویوں پر تنقید کرتے ہیں اور ان میں لبرل حضرات خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ لیکن آج تک کبھی کسی نے، قادیانی احباب جس پیشوائی چنگل میں جکڑے ہیں، اس پر ایک لفظ نہیں لکھا۔ یہ بھی مذہبی پیشوائیت کے ہاتھوں اتنے ہی ڈسے جا رہے ہیں جتنے ہم ہیں شاید اس سے بھی زیادہ۔ ہم تو اپنے مولویوں پر ہر قسم کی تنقید اور ان کا پوسٹمارٹم کرتے رہتے ہیں لیکن یہ اس پیشوائیت کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھاتے یا اٹھا نہیں سکتے۔

ایک زمانہ تھا جب ہم ان دوستوں بارے بہت سخت زبان استعمال کرتے تھے اور مرزا صاحب بارے وہ سب کچھ کہتے تھے جو یقینا ہم اپنے بارے سننا نہیں چاہیں گے۔ لیکن آہستہ آہستہ یہ جانا کہ نفرت کاشت کرنے سے تشدّد کی فصل اگتی ہے اور تشدّد زدہ معاشرہ معذور ہوجاتا ہے۔ تو اب کوشش یہ ہوتی ہے کہ اپنے عقیدے پر رہتے ہوئے، مناسب انداز میں اپنی رائے بیان کردی جائے۔

آخری ٹُل

آپ سلطان کو دیکھ لیں۔ یہ بانسانوالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد نمبردار کے مُنشی تھے۔ یہ بہن بھائیوں میں وچکارلے تھے۔ یہ بچپن سے ہی کھیل کُود کے شوقین تھے۔ ان کی والدہ سے روایت ہے کہ قبل از پیدائش بھی کافی اودھم مچایا کرتے تھے۔ بانسانوالہ کی گردونواح میں وہی اہمیّت تھی جو پارٹیشن سے پہلے علی گڑھ کی یو پی میں تھی۔ ان کے والد اعلی تعلیم یافتہ تھے۔ سلطان کی ابتدائی تعلیم نمبردار کے ڈیرے پر ہوئی۔ جہاں یہ والدکے ساتھ جاتے تھے کیونکہ یہ گھر میں سب کا جینا حرام کیے رکھتے تھے۔
نمبردار کے ڈیرے سے ہی ان کو گلّی ڈنڈا کھیلنے کا شوق ہوا۔ یہ ابّا جی کی نظر بچا کر ڈیرے سے بھاگ جاتے۔ یہ فرینڈز کے ساتھ آوارہ گردی کرتے۔ یہ ٹیوب ویل پر نہاتے۔ یہ گنّے توڑتے (کھیتوں سے)۔ بڑے لڑکوں کو گلّی ڈنڈا کھیلتے دیکھ کر ان کو بھی کھیلنے کا شوق پیدا ہوا۔ نیامت ورک، جو گلّی ڈنڈے کا ماہر کھلاڑی تھا، سے دوستی گانٹھ کر سلطان بھی بڑے لڑکوں کے ساتھ کھیلنے لگے۔ یہ پیدائشی کھلاڑی نکلے۔ ان کا ٹُل ایسا جاندار ہوتا کہ کوئی اس پر ہاتھ ڈالنے کی جرات نہ کرتا۔ ابتدائی دور میں ہی انہوں نے اتنی گُلّیاں اپنے ٹُلّوں سے گم کیں جو گلّی ڈنڈے کی ہسٹری میں کوئی نہیں کرسکا۔ فیلڈنگ میں بھی ان کو ملکہ حاصل تھا۔ یہ ٹُل باز کے ڈنڈے کی ابتدائی حرکت سے جان لیتے کہ ٹُل کدھر جائے گا۔ ٹُل کو کیچ کرنے میں بھی ان کو یدِ طُولٰی حاصل تھا۔ ریومر ہیز اٹ ۔۔۔کہ ایک دفعہ انہوں نے چار پَیلیاں دوڑ کر ٹُل کیچ کیا۔ گلّی ان کی ہتھیلی میں پیوست ہوگئی لیکن کمٹمنٹ ایسی کہ کیچ نہیں چھوڑا۔
وقت گزرتا گیا۔ سلطان، جوان ہوگئے۔ ہر طرف ان کے کھیل کی دُھومیں تھیں۔ دوشیزائیں ان کا میچ دیکھنے کے لیے پانی بھرنے کا بہانہ بنا کر آتیں اور ہر ٹُل پر اَش اَش کرتیں۔ یہ لنگوٹ کے اتنے پکّے تھے کہ کبھی لنگوٹ کسا ہی نہیں تھا۔ یہ اپنے مدّاحوں سے ایک مناسب فاصلہ رکھتے اور ان سے کبھی تحائف وغیرہ وصول نہیں کرتے تھے کوئی زبردستی گھر پہ دے جاتا تو کسی کا دل نہیں توڑتے تھے۔ یہ ایک ہینڈسم ہَنک تھے۔ بانسانوالہ کے طول و عرض کے کمادوں اور مکئی میں ان کے پیار کی داستانیں بکھری پڑی تھیں۔ نِگّو سے نسرین اور پِینو سے بشرٰی تک۔ یہ پیار کا جواب ہمیشہ پیار سے دیتے تھے۔ یہ دل سے یقین رکھتے تھے کہ کسی کا دل توڑنے سے بڑا گناہ کوئی نہیں۔
گلّی ڈنڈے میں انہوں نے نئی اختراعات کیں۔ اس سے پہلے گلّی ڈنڈے میں کپتان کا کوئی تصوّر نہیں تھا۔ یہ بانسانوالہ کی ٹیم کے پہلے کپتان بنے۔ یہ کھلاڑیوں کی فٹنس پر خاص توجّہ دیتے تھے۔ یہ کھلاڑی کا تہہ بند دیکھ کے بتا دیتے تھے کہ یہ آج کیسا پرفارم کرے گا۔ یہ ایک دلیر اور بہادر کپتان تھے۔ مخالف ٹیم کے بہترین ٹُل باز کے عین سامنے کھڑے ہوجاتے تھے۔ وہ گھبرا کر ٹُل مِس کردیتا تھا۔ یہ مخالف ٹُل باز کے ڈنڈے کی حرکت سے گلّی کی سمت کا اندازہ لگا لیتے تھے۔ان کے لگائے ہوئے ٹُل کی پاور کا یہ حال تھا کہ جہاں گلّی گرتی تھی وہیں زمین میں دھنس جاتی تھی۔ ان کو یہ اعزاز بھی حاصل تھا کہ پورے کیرئیر میں کبھی ان کے ٹُل کو کیچ نہیں کیا جاسکا۔
بانسانوالہ کی ہزاروں سالہ تاریخ میں یہ واحد سپو ت تھے جو "آل بُچّیکِی گلّی ڈنڈا گولڈ کپ" کے فاتح ٹھہرے۔ ان کی کپتانی اور کھیل نے وہ معجزہ کر دکھایا جو بانسانوالہ کی ہسٹری کا گولڈن چیپٹر ہے۔ اس اعزاز کو حاصل کرنے پر اہالیانِ بانسانوالہ نے ان پر گندم، چاول، دیسی گھی، پیاز، آلو، دیسی مرغیوں، اور میوے والےگُڑ کی بارش کردی۔ نیامت ورک جو اپنے ابّاجی کی ڈیتھ کے بعد بانسانوالہ کے سب سے بڑے زمیندارے کے وارث ٹھہرے تھے۔ انہوں نے سلطان کو دس پیلیاں، ایک ٹریکٹر اور ٹیوب ویل کا نذرانہ پیش کیا۔ اتنی محبّت اور پیار اور رسپیکٹ سے سلطان کا دل موم ہوگیا۔ یہ خود کو بانسانوالہ کا مقروض سمجھنے لگے۔
انہی دنوں خواب میں ان کو ایک بزرگ کی زیارت ہوئی۔ یہ سفید تہہ بند اور کالے کُرتے میں ملبوس پست قامت نورانی چہرے والے بزرگ تھے جن کے ہاتھ میں گلّی ڈنڈے والا ڈنڈا تھا۔ انہوں نے گلّی کو زوردار ٹُل لگایا اور جلالی لہجے میں سلطان سے کہا۔۔۔ "اٹھ اوئے کاکا سلطان۔۔ تے بانسانوالے نوں ظالموں دے چنگل توں آزاد کرا۔۔۔۔"۔ سلطان یہ خواب دیکھ کر اپ سیٹ ہوگئے۔ یہ پریشان ہوگئے۔ یہ دبدھا میں پڑ گئے کہ اس خواب کی کیا تعبیر ہے۔ یہ اپنے بچپن کے دوست نیامت ورک کے پاس گئے اور خواب بیان کیا۔ نیامت ورک اٹھے اور انہیں لے کر بابا تُوڑی سائیں سرکار کے مزار پر پہنچ گئے۔ خادم انہیں لے کر حجرہءخاص میں پہنچا جہاں مزار کے متوّلی پیر کَڑدِھن شاہ بے اولاد زنانیوں میں تعویذ بانٹ کے فارغ ہوئے تھے۔ پِیر صاحب نے خواب سُنا۔ ان پر رقّت طاری ہوگئی۔ ان کی حالت غیر ہوگئی۔ خادم نے چپٹی سی شیشی سے محلول ایک گلاس میں ڈال کر ان کی خدمت میں پیش کیا۔ جسے پی کر ان کی طبیعت ذرا بحال ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ خواب میں نظر آنے والے بزرگ بابا تُوڑی سائیں سرکار تھے اور ان کا اشارہ نمبردار کے بانسانوالے پر چنگل کی جانب تھا۔ پیر صاحب نے کہا کہ اب یہ سلطان پر فرض ہے کہ وہ اپنے علاقے کو ان ظالموں سے نجات دلائے۔ سلطان یہ سب خاموشی سے سنتے رہے۔ یہ سوچ میں ڈوبے رہے۔ دس منٹ بعد انہوں نے سر اٹھایا اور پیر کَڑدِھن شاہ سے یوں مخاطب ہوئے۔ "میں پاغل آں۔۔۔ بیفکوف نئیں۔۔۔"۔ یہ کہہ کر سلطان اُٹھے اور حجرہءخاص سے باہر نکل گئے۔

مُتفرّقات

٭ مچھلی، پانی اور مولوی، لاؤڈ سپیکر کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔
٭ درشت مزاجی کو ۔۔"میں تو صاف بات کرتا ہوں"۔۔ میں نہ چھپائیں۔
٭ قابلیت کے بغیر ایمانداری، گولی کے بغیر بندوق ہے۔
٭ عقیدت، عقل کا کینسر ہے.
٭ گمان کو حقیقت اور پھر اس کو ایمان سمجھ لینا، پاگل پن کا اعلی ترین درجہ ہے.
٭ سب سے مہلک سراب، اپنی اہمیت کا احساس ہے.
٭ عبادت بہرحال نہایت ذاتی معاملہ ہے.. محبت کی طرح
٭ حماقت کا دفاع نہیں ہوسکتا صرف پیروی ہوسکتی ہے۔
٭ صرف وہ گرنا اہمیت رکھتا ہے جس کے بعد آپ اٹھ نہ سکیں۔
٭ طیش کو سستا نہ کریں۔
٭ تبلیغ، عمل کا نام ہے، خطبوں کا نہیں۔
٭ مسلسل انتظار میں گزری زندگی ، پرندے کی قفس سے محبّت کا استعارہ بن جاتی ہے۔
٭ چلے جانے والوں اور چھوڑ جانے والوں کی یاد میں دل اس ادھ جلے کوئلے کی طرح ہوجاتا ہے جو ذرا سی ہوا پا کر دھک اٹھے۔۔۔
٭ ممدوح کی شان بیان کرتےہوئے کسی کو گالی دینے کی ضرورت پڑجائے تو یہ گالی اصل میں ممدوح کے لیے ہی ہوتی ہے۔
٭ کم گو کی بات توجہ سے سنی جاتی ہے۔
٭ پرہیزگاری کے شدید احساس کو فاشزم کہتے ہیں۔
٭ پچھتاوے کا کوئی علاج نہیں۔
٭ اعلی ترین اخلاقی اقدار کا پرچار، دودھاری تلوار ہوتا ہے۔
٭ سکھانے والا ہی سیکھتا ہے۔
٭ ملحدین، زنادقہ، روافض۔۔۔ اگر ان کا مطلب پتہ نہ ہو تو کیسے عمدہ لفظ لگتے ہیں۔
٭ وہ اپنے مُنکر سے جینے کا حق نہیں چھینتا، ہم آپ کیسے چھین سکتے ہیں؟
٭ فوری ردّعمل، ناپختگی کی نشانی ہے۔
٭ فنکار مرد اور خود مختار عورت۔ دونوں جنسِ مخالف کے لیے مرعوب کُن ہوتے ہیں۔
٭ مطلقہ خاتون اور شادی شدہ مرد کا المیہ ایک جیسا ہے۔ دونوں کی سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔
٭ دنیا، نظریات کی بجائے ضروریات پر چلتی ہے۔
٭ بجٹ اور محبوب کے وعدے ایک سے ہوتے ہیں۔
٭ سانپ کو مارنے کے لیے لاٹھی ٹوٹنے کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔
٭ محبّت کرنے والے کو وضاحت کی ضرورت نہیں ہوتی اور نفرت کرنے والا اس کا حقدار نہیں ہوتا۔
٭ نااہلی کا خسارہ ایمانداری بھی پورا نہیں کرسکتی۔
٭ اگر آپ نے زندگی میں صرف نصابی کُتب پڑھی ہیں تو یقین جانیے آپ جاہل ہیں۔

مانی

یادیں، مدّہم پڑ سکتی ہیں، محو ہوسکتی ہیں، وقت کی گرد انہیں چھپا سکتی ہے۔ پر جو منظر دل پر نقش ہوجائیں وہ کبھی مدّہم نہیں پڑتے، محو نہیں ہوتے، وقت کی گرد ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔ وہ ہمیشہ ویسے ہی سفّاک، شفّاف اور واضح نظر آتے ہیں۔ جب نظر جھکائی، دیکھ لیا۔۔۔
مانی مجھ سے بہت چھوٹا تھا۔۔۔ کہیں تو سب بہن بھائیوں میں آخری نمبر۔ بہت کم عمری میں بھی کچھ الگ سا تھا ۔۔ بیمار ہوتا تو روتا نہیں تھا، تنگ نہیں کرتا تھا۔ چہرے پر نقّاہت سے پتہ چلتا کہ صاحب کی طبیعت برابر نہیں ہے۔ ہنس مُکھ ایسا کہ محلّے کے بچّے اسے باہر لے جانے کے لیے باری کا انتظار کرتے ۔ میری خالہ کہا کرتی تھیں کہ "اس کی آنکھیں ہنستی ہیں"۔۔۔۔خالہ کا اس سے بہت انس تھا۔۔۔ سادھ بیلے سے تقریبا روزانہ آیا کرتیں اور جس عمر میں بچہ ماں سے چند منٹ دور نہیں رہتا، وہ ان کے ساتھ ان کے گھر چلا جاتا اور سارا دن ان کے ساتھ رہتا۔
تھوڑا بڑا ہوا تو اس کی سب سے من پسند سرگرمی، موٹر سائیکل کی سیر تھی۔ محمّد پورہ کے بازار جسے "وڈّا بازار" کے نام سے یاد کیا جاتا تھا، ناشتہ لینے کے لیے جانا ہوتا تو مانی میاں موٹر سائیکل کے ساتھ پہلے سے کھڑے ہوتے کہ ہم بھی جائیں گے۔۔ حلوہ اور پوری ان کا من بھاتا کھاجا تھا۔ وڈّے بازار میں پاء شفیع کی حلوہ پوری سب سے مزے دار ہوتی تھی اور رش بھی خوب۔ مانی کے لیے دو پوریاں اور انکے درمیان حلوہ رکھ کے الگ باندھا جاتا کہ اسے ایسا ہی پسند تھا۔
جولائی کا مہینہ تھا اور دسویں کی گرمیوں کی چھٹیاں چل رہی تھیں۔ برسات کے موسم میں پھوڑے پھنسیاں نکل ہی آتی ہیں۔۔ اس کی کمر پر عین ریڑھ کی ہڈی کے اوپر ایک پھنسی سی نکلی۔۔ یہ کوئی خلاف معمول بات نہیں تھی۔۔ آم کھانے کے شوقین ہوں تو پھنسیاں تو نکل ہی آتی ہیں۔۔ کافی دن گزر گئے اور یہ پھنسی بڑھ کر پھوڑا بن گئی۔۔ مانی جو کبھی روتا نہیں تھا اور تنگ نہیں کرتا تھا وہ بے چین سا رہنے لگا۔۔۔ گھریلو ٹوٹکے آزمائے جاتے رہے کہ معمولی سا پھوڑا ہے، ٹھیک ہوجائے گا، لیکن نہیں ہوا۔ جولائی کی ایک گرم صبح ابّو اسے ساتھ لے کر ڈاکٹر کے پاس گئے۔ کہ چیک تو کروائیں کہ کیا مسئلہ ہے۔۔۔ اسی دن گیارہ بجے کے قریب، میں درمیان والے کمرے میں امّی کے ساتھ بیٹھا تھا۔ کھڑکی سے دیکھا کہ برآمدے سے نکل کر تایا جی صحن میں آئے۔۔۔ مانی کو دونوں ہاتھوں پر اٹھائے۔۔۔ ابّو ان کے پیچھے تھے۔۔۔ مانی ایک کپڑے سے ڈھکا ہوا تھا۔۔۔ یہ منظر ہے۔۔ جو نقش ہے۔۔۔۔
اس کے بعد کیا ہوا اس کا کچھ وضاحت سے مجھے علم نہیں۔۔۔۔ عصر کے بعد ہم نے اسے دفنا دیا۔ سخت گرمی اور حبس کا دن تھا۔ جنازے کے ساتھ جاتے ہوئے بھی میں سب سے پیچھے رہا۔۔۔ قبر میں کس نے اتارا، مجھے کچھ علم نہیں۔۔۔
وہ رات، خدا سے پہلے شکوے کی رات تھی۔ اس سے پہلے مجھے اس سے کوئی شکایت نہیں تھی۔ میں سوچتا رہا کہ اتنی گرمی اسے لگتی تھی تو اب کیسے گڑھے میں اتنی مٹّی کے نیچے پڑا ہوگا۔۔ تو یہ سب کرکے خدا کو کیا ملا اور یہ چیز مجھے ایسی تکلیف دیتی تھی جس کا کوئی تجربہ مجھے اس سے پہلے نہیں تھا۔۔۔ میں گم آواز میں روتا رہا کہ مرد رویا نہیں کرتے ۔۔۔
اس بات کو بہت عرصہ گزرگیا ۔۔۔ مانو تو ایک لائف ٹائم گزر گیا ۔۔ لیکن وہ منظر آج بھی ویسا ہی شفّاف، سفّاک اور واضح ہے۔

بخاری مسجد

یہ تیسری جماعت کا قصّہ ہے۔ نئے سکول میں ہم خوش تھے اور تعلیمی مدارج ہنسی خوشی طے کررہے تھے جب ہمارے والدین کو ہماری دینی تعلیم کی فکر ہوئی۔ ہر محلّے کی طرح ہمارے محلّے میں بھی قرآن پاک پڑھانے والی ایک "خالہ جی" موجود تھیں۔۔ استاد خالد کی والدہ۔ عمر رسیدہ، سفید برف جیسے بال۔ انتہائی شفیق۔ تو ہم بھی ایک سہانی شام سر پر جالی والی ٹوپی جمائے، ہاتھ میں نیا نورانی قاعدہ لیے، سڑک پار کرکے خالہ جی کے گھر جا پہنچے۔ ہم، چونکہ، نئی بھرتی تھے تو ہمیں تین باجیوں میں سے سب سے چھوٹی باجی کے سپرد کیا گیا۔ ان کی طبیعت کچھ جلالی قسم کی تھی اور ہم کسی نوابزادے سے کم نہیں تھے۔ ان کی دو ایک گھُرکیوں پر جب ہماری معصوم سی آنکھوں میں آنسو آگئے تو انہوں نے فورا ہمیں مرغا بن جانے کا حکم دیا۔ مرتا کیا نہ کرتا۔ مرغا بننا پڑا۔ وہ ہمارا خالہ جی کے گھر میں پہلا اور آخری تدریسی دن تھا۔ واپس گھر پہنچ کے ہم نے قطعی فیصلہ سنا دیا کہ کل سے ہم خالہ جی کے پاس سیپارہ پڑھنے ہرگز نہیں جائیں گے۔ امّی نے لاکھ پوچھا کہ ہوا کیا۔۔ لیکن ہم بھی ایک کائیاں تھے اپنی عزت افزائی کا بالکل ذکر نہیں کیا اور وہی راگ الاپتے رہے کہ ہم نہیں جائیں گے، نہیں جائیں گے، نہیں جائیں گے۔۔۔
دو تین دن گزر گئے اور امّی کے اصرار اور دھمکیوں کے باوجود ہم سیپارہ پڑھنے نہیں گئے تو یہ معاملہ ابّو جی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ ابّو جی جان گئے کہ سکول کی طرح اس کی سّوئی یہاں بھی اٹک گئی ہے لہذا اس کا کوئی اور بندوبست کرنا پڑے گا۔ اگلے دن ہم سکول سے واپس دکان پر پہنچے تو ابّو نے کہا کہ یہ آپ کے کپڑے ہیں، اوپر گیلری میں جا کے بدلیں، کھانا کھائیں اور پھر سیپارہ پڑھنے کے لیے مسجد جانا ہے۔
ہماری دکان جناح کالونی کی ہوزری مارکیٹ میں واقع تھی۔ فیصل آبادی احباب جانتے ہوں گے کہ یہ مارکیٹ بہت سے چھوٹے پروڈکشن یونٹس پر مشتمل تھی (اور ہے شاید)۔ ہماری دکان دوسرے بازار کے کونے پر واقع تھی اور دوسرے اور تیسرے بازار کے عین درمیان بخاری مسجد تھی۔ ہر دکان کے ساتھ ایک برآمدہ تھا جہاں ایک یا دو یا تین پریس مین ہوتے تھے جو بنیان یا جرابیں استری کرتے تھے۔ ایک کَٹَر ماسٹر ہوتا تھا اور ایک مرمتّیا۔۔ جس کے کان کے اوپر ہوزری مشین کی سُوئی ہر وقت ٹِکی رہتی تھی۔ کچھ دکانوں کی گیلریوں میں فلیٹ اور اوورلاک مشینیں بھی تھیں۔ کپڑا بُننے کی مشینیں زیادہ تر کوئی مکان کرائے پر لے کر لگائی جاتی تھیں اور وہیں فلیٹ اور اوورلاک کی مشینیں بھی ہوتی تھیں، اسے جناح کالونی کی زبان میں "کارخانہ" کہا جاتا تھا۔ ہمارے دکان چونکہ نُکڑ پر واقع تھی تو کافی جگہ میسر تھی۔ چار پریس مین، دو کٹر اور ایک مرمتّیا اس وقت دکان پر کام کرتے تھے۔ خیر۔۔۔ تو ہم گیلری میں جاپہنچے، کپڑے بدلے اور کھانا کھا کے اپنے ابّو کے ساتھ سہ پہر تین بجے کے قریب بخاری مسجد جا پہنچے۔
مسجد کے داخلی دروازے کے بائیں طرف صحن پار کرکے ایک کمرہ تھا۔ جس میں پینتیس چالیس مختلف عمروں کے لڑکے آمنے سامنے دو قطاروں میں اپنے سامنے پڑے لکڑی کے طویل ڈیسک پر قرآن پاک رکھے، ہِل ہِل کے پڑھ رہے تھے۔ ایک سرے پر قاری صاحب بیٹھے تھے جن کے سامنے ایک چھوٹا سا لکڑی کا میز تھا۔۔ جس پر کچھ کتب رکھی ہوئی تھی۔ قاری صاحب، ابّو کے جاننے والے تھے، اٹھ کر تپاک سے ان سے ملے۔ حال احوال کے بعد ہمیں باقاعدہ قاری صاحب کا شاگرد بنا دیا گیا۔
قاری صاحب، طویل قامت، چھریرے بدن کے مالک اور نرم گو انسان تھے۔ پڑھنے لکھنے سے ہمیں کبھی نفور نہیں رہا۔۔ رویّے البتہ ہمارے لیے ہمیشہ اہم رہے۔ بخاری مسجد میں ہماری دینی تعلیم، جو ناظرہ قرآن تک محدود تھی، دن دوگنی چار چوگنی رفتار سے بڑھتی رہی۔ ہمارے ہم سبق زیادہ تر صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والے تھے۔ جن کی عمریں چھ سات سال سے لے کر سترہ اٹھارہ سال تک تھیں۔ انکی رہائش، کھانے اور دوسری ضروریات مسجد اور مدرسے کی انتظامیہ کے ذمّے تھیں۔ دوسری منزل پر ایک قطار میں دس بارہ کمرے تھے جہاں یہ سب رہتے تھے۔ ہمارے ذہن میں اس وقت یہ خیال آتا تھا کہ اپنے امی ابو کے بغیر یہ اتنی دور، اتنا عرصہ کیسے رہ لیتے ہیں؟ ہمیں تو یہ سوچ کے ہی رونا آنے لگتا تھا۔
مدرسے کے ان طالبعلموں میں جناح کالونی سے تعلق رکھنے والوں کا صرف ایک بچہ شامل تھا۔ وسیم بھائی، جو پاک سویٹس والوں کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ لحیم شحیم۔۔ حفظ کے طالبعلم تھے۔ فربہ لوگوں کی اکثریت کی طرح ہنس مُکھ اور خوش مزاج۔ ان کے علاوہ کوئی بھی طالبعلم گردونواح سے تعلق نہیں رکھتا تھا۔
مسجد اور مدرسے کا انتظام چلانے میں جناح کالونی کے کاروباری حضرات پیش پیش تھے۔ مالی طور پر مدرسے کی انتظامیہ کو کبھی تنگی پیش نہیں آئی لیکن مدرسے میں دی جانے والی تعلیم، البتّہ اپنے بچوں کو دلانے میں کسی کو خاص دلچسپی نہیں تھی۔ سب کے بچے اچھے سکولوں میں پڑھتے تھے۔ ہمارا معاملہ مختلف اس لیے تھا کہ ہم ایک عارضی طالبعلم تھے جو چند مہینے، پڑھ کے وہاں سے فارغ ہوگیا۔ اس دور میں طبقاتی تقسیم اتنی واضح اور عریاں نہیں تھی لیکن پھر بھی مدرسے کے ان طالبعلموں اور میرے جیسے عام سے بچّے کے طرز معاشرت میں واضح فرق تھا۔ جیسے دو مختلف دنیاؤں کے باسی۔
قاری صاحب نے ان چند مہینوں میں ہم سے نہایت شفقت برتی۔ سوائے سر پر ایک ہلکی سی چپت کے، جو مسلسل دو چھٹیاں کرنے کی سزا تھی، ہمیں انگلی تک نہیں لگائی۔ ان کے میز کے نیچے پڑی چپٹی لکڑی البتّہ دوسرے طالبعلموں پر بے دردی سے برستی تھی۔ ہم حیران ہوتے تھے کہ اتنے اچھے قاری صاحب ایک دم اتنے گندے کیوں ہوجاتے ہیں؟ اس کا جواب ہمیں کبھی نہ مل سکا۔
ٹی وی، کارٹون، ڈرامے، جنوں اور پریوں کی کہانیوں والے رسالوں کی باتیں جب ہم اپنے ہم درسوں سے کرتے تو وہ ان کے لیے کسی اور دنیا کی باتیں ہوتی تھیں۔ وقت کے ساتھ یہ فرق کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی رہا ۔۔ اس میں سیاست، تزویراتی گہرائی اور مذہبی مفادات کے تڑکے لگتے رہے۔۔۔۔ اور آج ہم جہاں پر ہیں وہ۔۔
تیس برس کا قصّہ ہے، دو چار برس کی بات نہیں۔۔۔ 

بچّی، حضور والا، بچّی

دو ہزار سال ہوتے ہیں۔۔۔اُس نادرِ روزگار عبقری نے کہ، راسپوٹین جس کا نام تھا، کہا، " حُسنِ بلاخیز ہر جُرم سے ماوراء ہوتاہے۔" لوگ مگر غور نہیں کرتے۔ الحذر الحذر۔۔۔
عارف نے کہا تھا، "بچّی اپنے فگر سے پہچانی جاتی ہے۔" بیس یوم اُدھر، طالب علم پنج ستارہ ہوٹل میں چند ہم نشینوں کے ہمراہ قہوہ پی رھا تھا کہ ایک عزیز اصرار سے اس طرف لے گیا کہ جہاں رنگ برنگی تتلیاں اور کوہ قاف کو شرماتی پریاں، حُسن کو دھار پر لگا رہی تھیں۔ ایسے مناظر کہ زاہدِ خُشک بھی سبحان اللہ پُکار اٹھے۔ لیکن نگاہ کو جس کا ہوکا تھا وہ صورت، نظر میں نہ آسکی۔ شتابی سے سوال کیا۔ "آیان کہاں ہیں؟" جواب سُنا تو روح لرز اٹھی۔۔۔۔ تاریخ کے چوراہے میں سوئی، انجام سے بے خبر قوم اور اس کے رہنما۔۔۔ کوئی ہے جو جائے اور ان کو جگائے؟
روح چیخ اٹھتی ہے۔ مکھّن جیسی بچّی اور ایسا ظُلم۔۔ امراء القیس، وہ شاعر، وہ شہزادہ کہ جس کا نام آج بھی دوشیزاؤں کے سانس اتھل پتھل کردیتا ہے۔۔۔ بلادِ شام سے واپسی کا سفر تھا۔۔ شب آپہنچی تو پڑاؤ کا قصد کیا۔۔۔ کمر بھی سیدھی نہ کرپایا کہ قاصد پیام لایا۔۔ "شہزادے، امتحان آپہنچا۔۔۔ رُقیّہ قید میں ہے۔۔۔"۔ شہزادہ، الفاظ کا ہی نہیں، تلوار کا بھی دھنی تھا۔۔ اُٹھا اور وہ کہا جو آج تک تاریخ میں مثلِ شمس جگمگا رہا ہے۔۔۔" بچّی، امراء القیس کو پکارے اور وہ نرم بستر میں سوتا رہے۔۔۔ تُف ہے ایسی مردانگی اور شہزادگی پر۔۔" اسباب سمیٹا۔۔ گھوڑے کو ایڑ لگائی ۔۔۔  باقی تاریخ ہے۔
حکمرانوں سے کیا گلہ۔۔ تاریخ کا جن کو شعور نہیں۔ اپنی ذات سے اٹھ کر وہ سوچ نہیں سکتے۔ کوتاہ نظر و ظاہر بیں۔۔۔ شکوہ مگر کپتان سے ہے۔ ایسا جری اور بانکا جواں بھی جب ظُلم و جَور کے سامنے سِپر ڈال دے تو ۔۔ کس کا گلہ کرے کوئی۔۔۔ طالب علم کے لیے ہر شب، قیامت اور ہر دن امتحان کا ہے۔ لُقمہ، حلق سے اترتا نہیں۔۔ دل نے عارف کی دُھائی دی تو سفر کا قصد کیا۔ شام ڈھلے خدمت میں حاضر ہوا۔۔ حالت بیان کی۔۔ عارف نے سر اٹھایا اور بھیگے لہجے میں کہا۔۔۔
ہم رات بہت روئے بہت آہ و فغاں کی
دل درد سے بوجھل ہو تو نیند کہاں کی
المیہ مگر ہمارا یہ ہے کہ تفکّر نہیں کرتے۔ بے سبب کینہ پالتے ہیں۔ جتنی رقم کا الزام، بچّی پر لگا ہے اتنی تو اس کے پیروں کا صدقہ، مجھ جیسا فقیر دے سکتا ہے۔ جھوٹ ہے، صریح جھوٹ۔ اب بھی یہ قوم حشر نہ اٹھا دے تو سمجھیے کہ دل بنجر اور ذہن بے فیض ہوئے۔ کوئی امیّد باقی نہ رہے گی۔ وقت آ لگا ہے جب کھرا اور کھوٹا الگ کردیا جائے گا۔۔۔ اس بے مثال گویّے، جازی بی نے جیسا کہا تھا۔۔۔
حُسناں دی سرکار
دلاں نوں لُٹ دی جاوے
دو ہزار سال ہوتے ہیں۔۔۔اُس نادرِ روزگار عبقری نے، کہ راسپوٹین جس کا نام تھا، کہا، " حُسنِ بلاخیز ہر جُرم سے ماوراء ہوتاہے۔" لوگ مگر غور نہیں کرتے۔ الحذر الحذر۔۔۔


کیتھرین اور وال سٹریٹ کی شام

"تم ہمیشہ اداس کیوں نظر آتے ہو؟"۔ کیتھرین میری طرف جھکی اور آنکھوں میں جھانکتے ہوئے نرم لہجے میں پوچھا۔ کیتھرین کا سوال مجھے ماضی میں کئی سال پیچھے لے گیا۔ میں اس وقت سکول میں پڑھتا تھا۔ گھر کا خرچ چلانے کے لیے سکول سے آنے کے بعد ہم تنکوں سے ٹوکریاں اور ہیٹ بناتے تھے جو لاہور کا ایک تاجر ہم سے خرید لیتا تھا۔ ایک ٹوکری کے پانچ روپے اور ہیٹ کے دس روپے ملتے تھے۔ ہمارے ہُنر کو کوڑیوں کے بھاؤ خرید کر وہ انہیں موتیوں کے بھاؤ ایکسپورٹ کردیتا تھا۔ ایک ٹوکری پانچ لاکھ اور ہیٹ پندرہ لاکھ میں بیچتا تھا۔ اس کے پاس ڈیفنس میں دو ایکڑ کا وسیع و عریض محل تھا۔ اس کے بچّے امریکہ میں پڑھتے تھے۔ لمبرگینی اور فراری سے پورشے اور بنٹلے تک۔۔ اس کے پاس اعلی سے اعلی گاڑیاں تھیں۔ اس کے سوٹ اٹلی سے سِل کر خصوصی جہاز پر آتے تھے۔ اس کے پاس بارہ شیف تھے جو دنیا کی اعلی سے اعلی ڈشز بنانے میں کمال مہارت رکھتے تھے۔ اس کے محل میں آئ میکس سینما سے لے کر چڑیا گھر تک ہر چیز موجود تھی۔ یہ سب اس نے ہماری محنت کی کمائی لُوٹ کر بنایا جبکہ میرے پاس سکول کی فیس دینے کے پیسے تک نہیں ہوتے تھے۔۔۔ اتنا کہہ کر میں سانس لینے کے لیے رُکا۔۔۔ کیتھرین دم سادھے یہ کہانی سُن رہی تھی۔۔۔ اس کا تیسرا ہمبرگر ابھی تک ویسے کا ویسا ہی پلیٹ میں رکھا ٹھنڈا ہورہا تھا۔۔ بئیر پڑی پڑی گرم ہورہی تھی۔۔۔
"بہرحال" میں دوبارہ گویا ہوا۔۔ " جیسے تیسے میں نے میٹرک پاس کرلیا اور ملتان چلا آیا۔ یہاں میرے ہم وسیب بہت سے دوست تھے جنہوں نے میرا بڑا ساتھ دیا۔ ان کی محبتیں اور احسان میں کبھی نہیں بھول سکوں گا۔ ایم اے انگلش کرنے کے بعد میں نے اخبار میں نوکری کرلی۔ انہی دنوں اس اخبار میں ایک پنجابی جو ایم اے جرنلزم کرکے آیا تھا، وہ بھی بھرتی ہوا۔ میں اس سے ہر لحاظ سے بہتر تھا۔ مجھے انگلش بھی فر فر آتی تھی۔ جبکہ وہ بے چارہ اردو بھی نہیں بول سکتا تھا۔ لیکن مجھے سائیڈ لائن کرکے اس کو پروموٹ کیا گیا۔ اس کا کالم بھی شائع کرنا شروع کردیا گیا۔ نامور پنجابی صحافیوں نے اس کو پروموٹ کیا۔ آج وہ سب سے مقبول کالم نگار ہے۔ سب سے ہائلی پیڈ جرنلسٹ ہے۔۔۔ مجھے کیا ملا؟ مجھے ہمیشہ دیوار سے لگایا گیا۔ میری حق تلفی کی گئی۔ کسی اخبار یا چینل میں مجھے ٹِکنے نہیں دیا جاتا۔ میرا جُرم صرف یہ ہے کہ میں اپنی مظلوم قوم کے حق میں آواز اٹھاتا ہوں۔ میں نے ظالم پنجابی حکمرانوں کی کھربوں ڈالرز کی کرپشن کا سراغ لگایا۔ لیکن میری آواز صدا بصحرا ثابت ہوئی۔"
کیتھرین کی آنکھیں بھر آئی تھیں۔۔۔۔ اس نے میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کے تھپتپھایا۔۔۔ "اصل بات ابھی باقی ہے میری دوست"۔۔۔ میں نے سلسلہءکلام جوڑتے ہوئے کہا، " اگر اس تربیتی کورس کے سلسلے میں میرا نیویارک آنا نہ ہوتا تو میں کبھی نہ جان سکتا کہ میری محنت کی کمائی سے کیا کیا ہورہا ہے۔۔۔ سنو، پیاری کیتھرین، مجھے وال سٹریٹ پر ان تنکوں کی خوشبو آتی ہے جن سے ہم نے ٹوکریاں اور ہیٹ بنائے اور تم شاید سن کر حیران ہوگی کہ ایک عظیم الشان برانڈ چین میں، میں نے وہی ٹوکریاں اور ہیٹ لاکھوں ڈالرز میں بکتے دیکھے ہیں۔ ہماری خون پسینے کی کمائی سے آپ لوگوں نے نیو یارک جیسے شہر کھڑے کرلیے ہیں۔۔ تخت لہور ہو یا وال سٹریٹ۔۔۔ سرائیکی وسیب کا خون سب نے چُوسا ہے۔۔ سوال تو یہ ہے کہ ہمیں کیا ملا؟ غربت، ناانصافی، طعنے۔۔۔"
کیتھرین نے بچا ہوا تیسرا ہمبرگر منہ میں ڈال کے گرم بئیر کا لمبا گھونٹ لیا۔۔۔ اور ایک طویل ڈکار لے کے میرے دونوں ہاتھ تھام لیے اور میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولی۔۔۔ "رؤف، میں ان سب ناانصافیوں کا اُپائے تو نہیں کرسکتی لیکن اپنا قرض ضرور ادا کرسکتی ہوں۔۔"
اس کی آنکھوں میں محبّت اور سُپردگی تھی۔

کِی دم دا بھروسہ

ان سے پہلی ملاقات ہی خوشگوار نہیں تھی۔
پردیسی ہوئے ہمیں زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا اور طبیعت کی تُنک مزاجی اور زُود رنجی ابھی قائم تھی۔ ہمارے کولیگ چھٹی پر پاکستان تشریف لے گئے تھے اور دو بندوں کا کام ہمارے نازک کندھوں پر تھا۔ یہ انہی دنوں کا قصّہ ہے۔۔۔۔
ہم حسب عادت ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے، کام میں مشغول تھے کہ ایک درمیانہ قامت و عمر کے صاحب ہمارے دفتر میں وارد ہوئے۔ درمیانہ جُثّہ، گورا چٹّا رنگ، چھوٹے چھوٹے سخت بال، چہرے پر درشت تاثّر۔۔۔ آتے ہی بزبان عربی بہ لہجہ مصری گویا ہوئے، "وہ پاکستانی کہاں ہے؟"۔ اس وقت تک عربی سمجھ تو آتی تھی لیکن بولنے میں روانی نہیں تھی تو ہم نے انگریزی میں جواب دیا کہ وہ حضرت تو پاکستان تشریف لے گئے ہیں۔ تِس پر موصوف گویا ہوئے کہ ہمارا کام کون کرے گا؟۔ ہم نے ان کی طرف بغور دیکھا اور پھر اپنے سامنے پڑے میک کو غور سے دیکھا اور دوبارہ انکی طرف دیکھا۔ انہیں ہماری اس حرکت کا مفہوم سمجھ آیا تو چہرے کی درشتی میں مزید اضافہ ہوگیا اور مخصوص مصری انداز میں بڑبڑاتے ہوئے دفتر سے نکل گئے۔
کمپنی کے مندوب جو اتفاق سے مصری ہی تھے، ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد تشریف لائے اور استفسار کیا کہ وہ جو صاحب آئے تھے ان سے کیا بات ہوئی۔۔ ہم نے حرف بحرف دہرا دی۔ انہوں نے ہمیں یرکانے کی پوری کوشش کی کہ یہ صاحب فلاں سیمنٹ فیکٹری کے چیف اکاؤنٹنٹ وغیرہ ہیں جس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں ہماری کمپنی کے مالک بھی شامل ہیں اور یہ "ارباب" کے خاص آدمی ہیں۔ یہ تم سے بہت ناراض ہیں کہ تم نے ان کا "احترام" نہیں کیا۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔ ہم دل میں گھبرائے تو لیکن پکّا سا منہ بنا کے ان کی بات سنی ان سنی کرنے کا تاثر دیتے رہے۔
بات یہ کھلی کہ ہر سال اس سیمنٹ فیکٹری کی سالانہ رپورٹ ہماری کمپنی چھاپتی تھی اور وہ اسی سلسلے میں تشریف لائے تھے لیکن ہمارے روئیے اور ان کا واجب احترام نہ کرنے سے ان کو شدید طیش آیا اور وہ واپس تشریف لے گئے۔
اللہ غریق رحمت کرے، ہمارے مینجر، جو فلسطینی اردنی تھے۔ ان تک بات پہنچی تو وہ اپنے مخصوص دبنگ انداز میں بولے۔۔ شُووو۔۔ خلّی ولّی ہذا نفر۔۔ مافی فکر۔۔ (کیا؟؟ مٹی ڈالو اس بندے پر۔۔ اور فکر نہ کرو)۔۔۔ ہم نے فورا ان پر مٹّی ڈالی اور بے فکر ہو کے اپنی مزدوری میں مشغول ہوگئے۔ بہرکیف، اگلے دن انہوں نے اپنے کسی ماتحت کو ساری تفصیلات دے کر بھیجا اور خود تشریف نہیں لائے۔۔۔۔
ان کی کمپنی کا سارا چھپائی کاکام یہیں ہوتا تھا چونکہ ارباب ادھر بھی تھے اور ادھر بھی۔۔ لہذا ان کا ہمارے دفتر میں کبھی کبھار کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔۔۔۔ ہمارے کولیگ سے وہ بڑی گرمجوشی سے باقاعدہ عربی چمُیوں والے انداز سے گلے ملتے لیکن سالہا سال گزر گئے انہوں نے کبھی ہمیں سلام تک نہیں کیا۔ اگر کبھی کولیگ دفتر میں نہ ہوتے تو دروازے سے واپس ہوجاتے اور ریسپشن سے ان کے بارے استفسار کرتے کہ کہاں ہیں اور کب تک آئیں گے۔۔۔ ان کے چہرے سے ہی پتہ چلتا تھا کہ وہ ہمیں کس حد تک ناپسند کرتے ہیں۔ ہمیں ان کے اس مسلسل روئیے کی سمجھ نہیں آتی تھی کہ ہم ایک معمولی سے کِی بورڈ مزدور۔۔ جس کی مہینے کی آمدنی شاید ان کی ایک دن کی آمدنی سے بھی کم۔۔۔ مجھ سے یقینا اعلی تعلیم یافتہ اور سماجی طور پر بھی مجھ سے کہیں برتر۔۔ شیوخ کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا۔۔ جبکہ ہم سے تو نائی بھی بال کاٹنے کے ایڈوانس پیسے لیتے تھے۔ خیر۔۔ جیسا کہ ہماری کھال کافی سخت ہے تو ہم نے ان کے اس روئیے کو بھی معمول سمجھ لیا اور جیسے وہ ہمیں گوبھی سمجھتے تھے ہم بھی انہیں میز سمجھنے لگے۔
یہ قریبا اڑہائی سال پہلے کی بات ہے۔ کمپنی کے ڈرائیور نے ہمیں بتایا کہ وہی صاحب بہت بیمار ہیں اور ہسپتال میں ہیں۔ ہم نے تفصیل پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ انہیں کینسر ہوگیا ہے اور طبیعت بہت خراب ہے۔ ہم نے ان سے کہا کہ جب بھی آپ کا ہسپتال جانا ہو تو مجھے بھی ساتھ لے لیجیے گا۔۔۔ اس بات سے قریبا ایک ڈیڑھ مہینہ پہلے وہ ہمارے دفتر آئے اور بالکل ہشاش بشاش اور تندرست تھے۔ ہم نے دل میں سوچا کہ خان بھائی، مبالغہ کررہے ہوں گے، طبیعت ایک دم اتنی خراب کیسے ہوسکتی ہے۔۔۔
اس سے ایک آدھ دن بعد خان بھائی نے ہمارے دفتر کا دروازہ تھوڑا سا کھول کر گردن گھسائی اور گویا ہوئے، "جاپر بھائی، ام اسپتال جائےگا، تم جائےگا؟"۔ ہم آمنّا و صدقنّا کہتے ہوئے ان کے ساتھ چل دئیے۔
ہسپتال کی مخصوص بُو، خاموشی اور اس خاموشی میں تیرتی امید اور مایوسی۔۔ ہم جب ان کے کمرے میں داخل ہوئے تو گورے چٹّے صحت مند چہرے والے صاحب ایک مخصوص مشینی سی کرسی پر بیٹھے تھے۔۔ ان کا رنگ ایسا زرد تھا کہ زندگی میں کبھی کسی انسان کا رنگ ایسا نہیں دیکھا۔ پیٹ پُھولا ہوا تھا۔ ہمیں دیکھ کر ان کی آنکھوں میں حیرانی بھر آئی۔۔۔۔ پھر ایک شناسائی کی چمک۔۔۔ دونوں ہاتھ پھیلا کر بولے۔۔ "شّوف ۔۔ یا گعفر۔۔۔" (دیکھو۔۔ یہ کیا ہوگیا میرے ساتھ) ان کی آنکھیں بھر آئی تھیں ۔۔ "سوی دُعا حبیبی"۔۔۔ (میرے دوست، دُعا کرنا میرے لیے) ہمارے حلق میں جیسے دُھواں بھر گیا ۔۔۔ ان کا کندھا تھپتھپایا۔۔۔ روایتی سی باتیں کیں کہ انشاءاللہ کچھ نہیں ہوگا۔۔ سب ٹھیک ہوجائےگا۔۔۔ ان کو بھی اور ہمیں بھی علم تھا کہ یہ جھوٹ ہے۔۔۔۔ واپسی کے لیے مُڑے۔۔ تو بولے۔۔ شُکرا یا گعفر۔۔۔۔
پندرہ بیس دن بعد خبر ملی کہ وہیں چلے گئے ہیں جہاں سب کو جانا ہے۔

ظرف

نوٹس بورڈ پر کلاس روم اور لیکچرر کا نام تلاش کرتے ہوئے نظر، رُستم علی ضیاء، پر پڑی تو پہلا خیال جو ذہن میں آیا وہ ایک لمبے تڑنگے، دس بج کے دس منٹ والی مونچھوں اور مصطفی قریشی جیسی آواز والی دبنگ شخصیت کا تھا۔ کلاس روم ڈھونڈتے ہوئے نئے بلاک کے ایک کمرے میں پہنچے تو پینتیس چالیس، انواع و اقسام کے لڑکے بالے پہلے سے موجود تھے۔ ہم بھی دم سادھ کے حسب معمول و عادت، پچھلے بنچوں پر جا کر تشریف فرما ہوگئے۔ کچھ توقّف کے بعد خاموشی سی چھا گئی اور منمناتی ہوئی سی ایک آواز سنائی دینے لگی۔ آواز کا مخرج البتہ سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔ تھوڑا تردّد کیا اور ذرا اُچک کر دیکھا تو ایک منحنی سے مُعنّک صاحب، جو ٹنڈولکر کے ہم قد تھے، پروفیسرانہ مونچھیں اور صورت پر ثقلین مشتاق جیسی معصومیت لیے کچھ کہہ رہے تھے۔ ہم نے آخری بنچ کو چھوڑ کے دو بنچ آگے ہجرت کی تو آواز کچھ واضح ہوئی۔ وہ اپنا تعارف کرارہے تھے اور وہی روایتی باتیں کررہے تھے جو استاد پہلے دن اپنے طلباء سے کرتے ہیں۔ ہمیں بہرحال، رُستم علی ضیاء، اچھے لگے۔
کمرہءجماعت میں ہم ہمیشہ لو پروفائل رہنے کی کوشش کیا کرتےتھے۔اس سے دو فائدے ہوتے، ایک تو استاد آپ کو نکمّا سمجھتے اور دوسرا  رٹّو طوطے ہم جماعت آپ سے پروفیشنل جیلسی محسوس نہیں کرتے تھے۔ رُستم صاحب بھی ہمیں ایک کم گو، غبی اور سست طالبعلم سمجھتےاور دورانِ لیکچر ہمیں کسی سوال کے جواب کے لیے تکلیف نہیں دیتے تھے۔ ویسے بھی ہمارا گریجویشن کرنے کا پلان ایک طعنے کا نتیجہ تھا۔ ورنہ ہمیں اس میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ یہ البتہ ایک الگ کہانی ہے۔
گریجویشن کے دوسال ہم نے کرکٹ کھیلتے، جگتیں کرتے اور دھوپ سینکتے (سردیوں میں) گزار دئیے۔ تھرڈ ائیر کے سالانہ امتحان میں ہمارے نمبر دیکھ کے ہمارے سارے اساتذہ اور ہر وقت کتاب لے کے گراسی پلاٹس میں بیٹھے رٹّو طوطے کم و بیش ایک جیسی، گہرے شاک، والی کیفیت میں تھے۔ ایک دن کلاس ختم ہونے کے بعد باہر نکلتے ہوئے رُستم صاحب نے ہمیں روک لیا اور پوچھنے لگے، "آپ نے امتحان خود دیا تھا ناں؟"۔ ہم نے جوابا کہا، "نہیں سر، میرے مؤکل نے دیا تھا"۔ وہ بات سمجھ گئے۔ قہقہہ لگایا،  کندھے پر تھپکی دی اور اس دن کے بعد ہم ان کی نظر میں آگئے اور ہمیں پہلے بنچ پر ہجرت کرنا پڑی۔
گریجویشن کے دوسرے سال رُستم صاحب پوری کلاس کو سٹڈی ٹور پر پنڈی اسلام آباد، تربیلا اور مری لے گئے۔ (مری تو خیر سٹڈی نہیں پُونڈی ٹُور تھا)۔ پنڈی، اسلام آباد کے سوشل ویلفئیر کے اداروں میں وزٹس کیے۔ تربیلا میں اس وقت رُستم صاحب کے کوئی کلاس فیلو دھانسو قسم کے آفیسر تھے اور وہ دور بھی اچھا تھا تو ہمیں ان جگہوں کا وزٹ بھی کرایا گیا جہاں عام طور پر سٹڈی ٹورز پر آنے والوں کو نہیں لے جایا جاتا تھا۔ کنٹرول روم ٹائپ ایک بڑے سے ہال میں گھومتے ہوئے، ہمارے کلاس فیلو ملک واحد نے ایک بڑے سارے پینل پر کھڑے انجینئر ٹائپ بندے سے پوچھا، "پائین، فیصلاباد دی بتّی کتھوں بند کردے او؟" اس نے پوچھا کہ آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟ تو جواب ملا، " میں سوچیا، آئے تو ہوئے آں، او بٹن ای پَن دیّے"۔ انجینئنر صاحب نے حیران ہو کر ملک کی طرف دیکھا۔۔ پھر اسے احساس ہوا کہ یہ فیصل آباد سے آئے ہیں!۔
پنڈی صدر کے ایک ہوٹل میں ہماری رہائش کا بندوبست تھا۔ ہمیں جو کمرہ ملا وہ شاید چوتھی منزل پر تھا، تیسری منزل کے کمروں میں ہمارے گروپ کے باقی سارے مسکیٹئیرز تھے۔ رات کو کھانے سے فارغ ہو کے ایک کمرے میں محفل جمتی تھی۔ ہمارے روم میٹ جناح کالونی کے ایک شیخ صاحب تھے جن کا اصل نام، واللہ، ہم بھول چکے ہیں کیونکہ ہمارا دیا ہوا نام اتنا مقبول ہوگیا تھا کہ اب یاد کرنے پر بھی ان کا اصل نام یاد نہیں آتا۔ اصلی شیخ تھے، سرخ و سپید، گول مٹول، حساب کتاب میں تیز اور باقی معاملات میں معصوم۔
ہم محفل میں پہنچے تو رنگ کھیلا جارہا تھا۔ شیخ صاحب ہمارے ساتھ تھے۔ ہمارے آتے ہی پتّے سمیٹ دئیے گئے اور ساجد چیمے نے اپنے بیگ سے پلاسٹک کی ایک بوتل نکالی۔ میز پر رکھے گلاسوں میں تھوڑا تھوڑا محلول انڈیلا اور سب کو "بسم اللہ کرو" کہہ کے دعوت دی۔ ساجد کا تعلق ساہیانوالے سے تھا۔ جہاں کی مشہور مصنوعات میں جاٹ اور دیسی ٹھرّا شامل ہیں۔ پینے والوں میں ساجد چیمہ، زاہد ٹھنڈ، ملک واحد اور زاہد موٹا شامل تھے۔ شیخ صاحب کا رنگ شراب کا ذکر سنتے ہی پیلا پڑ گیا تھا۔ جبکہ ہمیں کوئی ایسی چیز پینے سے کبھی دلچسپی رہی ہی نہیں جسے پینے کے لیے ناک بند کرنی پڑے اور بعد میں وہ دماغ بند کردے۔
ہمارے ہم جماعتوں میں تین زاہد تھے۔ جن کے نام بالترتیب زاہد ٹھنڈ، زاہد موٹا اور زاہد کیسٹ تھے۔ زاہد ٹھنڈ، پیپلز کالونی کے رہائشی تھے۔ جِم وغیرہ کرتے تھے۔ جس سے ان کا منہ پچک سا گیا تھا اور ایسے ٹھٹھک کر بات کرتے تھے جیسے ٹھنڈ لگ رہی ہو ان کے پاس ایک زمانہء قدیم کا پوائنٹ ٹُو ٹُو کا زنگ لگا زنانہ پستول بھی ہوتا تھا جو وہ ڈب میں لگا کر گھوما کرتے تھے۔ ہم نے ایک دفعہ ان  سے پوچھ لیا کہ میاں، اس پستول سے شلوار میں ناڑا ڈالتے ہو؟ تِس پر انہیں مزید ٹھنڈ لگنی شروع ہوگئی تھی۔ زاہد موٹا، غلام محمد آباد کے رہائشی تھے۔ شدید موٹے اور شدید کالے۔ معصوم صفت انسان تھے، ہومیوپیتھک کہہ لیں، جیسا کہ اکثر موٹے ہوتے ہیں۔ زاہد کیسٹ، محمد پورہ کے رہائشی تھے، جماعتیے تھے تو کیسٹ کی وجہ تسمیہ آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ ہر معاملے پر وہ اپنے لیکچر کی کیسٹ چلا دیتے تھے اور پوری سنائے بغیر کسی کو بات نہیں کرنے دیتے تھے۔ ویسے ہم ان کے احسان مند بھی ہیں کہ انہوں نے ایک دفعہ ہماری جان بچائی تھی۔ یہ کہانی بھی پھر سہی۔۔۔
تیسرے گلاس کے بعد محفل کی حالت بدلنے لگی ۔ ساجد چیمہ نہایت رومانٹک ہوکے نورجہاں کے گانے گنگنانے لگا۔ زاہد ٹھنڈ کے چہرے پر آرنلڈ شوارزینگر جیسے تاثرات آنے لگے، زاہد موٹے کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو تھے۔ ملک واحد البتّہ ویسے کا ویسا ہی تھا۔ آنکھوں میں ہلکی سی سُرخی کے علاوہ اسکی کسی حرکت یا بات سے نشے میں ہونے کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ اس کی جگتوں کی دھار البتہ کچھ تیز ہوگئی تھی۔ ساجد کی رومانی حالت کا رُخ جب شیخ صاحب کی طرف ہونے لگا تو ہم نے دخل در نامعقولات کرتے ہوئے، ساجد سے پوچھا، "ساجد، وہ فائر کیسے لگا تھا تجھے؟" یہ سنتے ہی چیمے کے تاثرات، چیتے جیسے ہوگئے۔ اور وہ اپنی ہزار دفعہ کی دہرائی ہوئی کہانی پورے جوش و جذبے اور گالیوں کے ساتھ دہرانے لگا کہ کیسے اسے ڈیرے پر اس کے ویری نے فائر مارا تھا اور اس کا چھوٹا بھائی اس کو ہسپتال لے جانے کی بجائے پہلے بندوق لے کے اس ویری کو فائر مار کے آیا اور اس کے بعد ساجد چیمے کو ہسپتال لے کےگیا۔۔۔۔ فلمی سین تو یہ ہوا کہ وہ ایک ہی وارڈ میں دو بیڈ چھوڑ اپنی ٹانگوں پر پلستر چڑھائے لیٹے تھے اور سارا دن ایک دوسرے کی والدہ ہمشیرہ، واحد کرتے تھے۔
زاہد ٹھنڈ، پانچواں گلاس ختم کرتے ہی کمرے سے باہر نکل گیا۔ تھوڑی دیر بعد ہنگامے کی آواز سن کر ہم باہر دوڑے تو وہ ساتھ والے کمرے کا دروازہ پیٹ رہا تھا اور مشیر مسیح، جو ہمارا ہم جماعت تھا، اسے گالیاں دے رہا تھا۔۔ نکل اوئے ویسٹ انڈیز دیا چوہڑیا۔۔۔ مشیر، بستی عیسائیاں کا رہائشی اور بہت نفیس بندہ تھا (اب بھی ہے)۔ اس نے عقلمندی کی کہ دروازہ نہیں کھولا اور مزید تماشہ بنانے سے گریز کیا۔ زاہد ٹھنڈ کو بڑی مشکل سے گھسیٹ کر کمرے میں لایا گیا۔ عام حالات میں ٹھنڈ کی مشیر سے گاڑھی چھنتی تھی۔ جس کی وجہ مسیحیوں کا بوتل کوٹہ تھا۔کمرے میں واپس آئے تو زاہد موٹا، پُھس پُھس کرکے رو رہا تھا۔ ملک کی آنکھوں میں شرارت تھی، اس نے اشارہ کیا کہ اس سے پوچھو کہ کیا ہوا۔۔ ہم موٹے کے پاس جا کے بیٹھ گئے اور پوچھا کہ کیا ہوا ہے۔۔ اس کے رونے کی آواز اور اونچی ہوگئی۔۔۔ "میرے نال بڑے ظلم ہوئے نیں، میرے نال بڑے ظلم ہوئے نیں"۔۔ ہم سمجھنے سے قاصر تھے کہ اتنی بالی عمریا میں کتنے کُو ظلم ہوگئے ہوں گے؟ ظلم کی نوعیت پوچھنے پر بھی وہی جواب ملتا رہا۔۔ میرے نال بڑے ظلم ہوئے نیں۔۔۔ عام حالات میں زاہد موٹا ایک نہایت خوش باش اور ہیپی گو لکّی قسم کا بندہ تھا۔ ہمیں آج تک سمجھ نہ آسکی کہ اس کے ساتھ کیا ظلم ہوئےتھے۔
ملک واحد البتّہ، اپنی گلامابادی وِٹ اور خوش مزاجی پر ویسے کا ویسا قائم تھا جیسے پانچ گلاس پہلے تھا۔ آنکھ کی سُرخی اور منہ کی بُو کے علاوہ کوئی ایسی نشانی نہیں تھی جس سے ان پانچ گلاسوں کا کوئی نشان ملتا ہو۔