بخاری مسجد

یہ تیسری جماعت کا قصّہ ہے۔ نئے سکول میں ہم خوش تھے اور تعلیمی مدارج ہنسی خوشی طے کررہے تھے جب ہمارے والدین کو ہماری دینی تعلیم کی فکر ہوئی۔ ہر محلّے کی طرح ہمارے محلّے میں بھی قرآن پاک پڑھانے والی ایک "خالہ جی" موجود تھیں۔۔ استاد خالد کی والدہ۔ عمر رسیدہ، سفید برف جیسے بال۔ انتہائی شفیق۔ تو ہم بھی ایک سہانی شام سر پر جالی والی ٹوپی جمائے، ہاتھ میں نیا نورانی قاعدہ لیے، سڑک پار کرکے خالہ جی کے گھر جا پہنچے۔ ہم، چونکہ، نئی بھرتی تھے تو ہمیں تین باجیوں میں سے سب سے چھوٹی باجی کے سپرد کیا گیا۔ ان کی طبیعت کچھ جلالی قسم کی تھی اور ہم کسی نوابزادے سے کم نہیں تھے۔ ان کی دو ایک گھُرکیوں پر جب ہماری معصوم سی آنکھوں میں آنسو آگئے تو انہوں نے فورا ہمیں مرغا بن جانے کا حکم دیا۔ مرتا کیا نہ کرتا۔ مرغا بننا پڑا۔ وہ ہمارا خالہ جی کے گھر میں پہلا اور آخری تدریسی دن تھا۔ واپس گھر پہنچ کے ہم نے قطعی فیصلہ سنا دیا کہ کل سے ہم خالہ جی کے پاس سیپارہ پڑھنے ہرگز نہیں جائیں گے۔ امّی نے لاکھ پوچھا کہ ہوا کیا۔۔ لیکن ہم بھی ایک کائیاں تھے اپنی عزت افزائی کا بالکل ذکر نہیں کیا اور وہی راگ الاپتے رہے کہ ہم نہیں جائیں گے، نہیں جائیں گے، نہیں جائیں گے۔۔۔
دو تین دن گزر گئے اور امّی کے اصرار اور دھمکیوں کے باوجود ہم سیپارہ پڑھنے نہیں گئے تو یہ معاملہ ابّو جی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ ابّو جی جان گئے کہ سکول کی طرح اس کی سّوئی یہاں بھی اٹک گئی ہے لہذا اس کا کوئی اور بندوبست کرنا پڑے گا۔ اگلے دن ہم سکول سے واپس دکان پر پہنچے تو ابّو نے کہا کہ یہ آپ کے کپڑے ہیں، اوپر گیلری میں جا کے بدلیں، کھانا کھائیں اور پھر سیپارہ پڑھنے کے لیے مسجد جانا ہے۔
ہماری دکان جناح کالونی کی ہوزری مارکیٹ میں واقع تھی۔ فیصل آبادی احباب جانتے ہوں گے کہ یہ مارکیٹ بہت سے چھوٹے پروڈکشن یونٹس پر مشتمل تھی (اور ہے شاید)۔ ہماری دکان دوسرے بازار کے کونے پر واقع تھی اور دوسرے اور تیسرے بازار کے عین درمیان بخاری مسجد تھی۔ ہر دکان کے ساتھ ایک برآمدہ تھا جہاں ایک یا دو یا تین پریس مین ہوتے تھے جو بنیان یا جرابیں استری کرتے تھے۔ ایک کَٹَر ماسٹر ہوتا تھا اور ایک مرمتّیا۔۔ جس کے کان کے اوپر ہوزری مشین کی سُوئی ہر وقت ٹِکی رہتی تھی۔ کچھ دکانوں کی گیلریوں میں فلیٹ اور اوورلاک مشینیں بھی تھیں۔ کپڑا بُننے کی مشینیں زیادہ تر کوئی مکان کرائے پر لے کر لگائی جاتی تھیں اور وہیں فلیٹ اور اوورلاک کی مشینیں بھی ہوتی تھیں، اسے جناح کالونی کی زبان میں "کارخانہ" کہا جاتا تھا۔ ہمارے دکان چونکہ نُکڑ پر واقع تھی تو کافی جگہ میسر تھی۔ چار پریس مین، دو کٹر اور ایک مرمتّیا اس وقت دکان پر کام کرتے تھے۔ خیر۔۔۔ تو ہم گیلری میں جاپہنچے، کپڑے بدلے اور کھانا کھا کے اپنے ابّو کے ساتھ سہ پہر تین بجے کے قریب بخاری مسجد جا پہنچے۔
مسجد کے داخلی دروازے کے بائیں طرف صحن پار کرکے ایک کمرہ تھا۔ جس میں پینتیس چالیس مختلف عمروں کے لڑکے آمنے سامنے دو قطاروں میں اپنے سامنے پڑے لکڑی کے طویل ڈیسک پر قرآن پاک رکھے، ہِل ہِل کے پڑھ رہے تھے۔ ایک سرے پر قاری صاحب بیٹھے تھے جن کے سامنے ایک چھوٹا سا لکڑی کا میز تھا۔۔ جس پر کچھ کتب رکھی ہوئی تھی۔ قاری صاحب، ابّو کے جاننے والے تھے، اٹھ کر تپاک سے ان سے ملے۔ حال احوال کے بعد ہمیں باقاعدہ قاری صاحب کا شاگرد بنا دیا گیا۔
قاری صاحب، طویل قامت، چھریرے بدن کے مالک اور نرم گو انسان تھے۔ پڑھنے لکھنے سے ہمیں کبھی نفور نہیں رہا۔۔ رویّے البتہ ہمارے لیے ہمیشہ اہم رہے۔ بخاری مسجد میں ہماری دینی تعلیم، جو ناظرہ قرآن تک محدود تھی، دن دوگنی چار چوگنی رفتار سے بڑھتی رہی۔ ہمارے ہم سبق زیادہ تر صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والے تھے۔ جن کی عمریں چھ سات سال سے لے کر سترہ اٹھارہ سال تک تھیں۔ انکی رہائش، کھانے اور دوسری ضروریات مسجد اور مدرسے کی انتظامیہ کے ذمّے تھیں۔ دوسری منزل پر ایک قطار میں دس بارہ کمرے تھے جہاں یہ سب رہتے تھے۔ ہمارے ذہن میں اس وقت یہ خیال آتا تھا کہ اپنے امی ابو کے بغیر یہ اتنی دور، اتنا عرصہ کیسے رہ لیتے ہیں؟ ہمیں تو یہ سوچ کے ہی رونا آنے لگتا تھا۔
مدرسے کے ان طالبعلموں میں جناح کالونی سے تعلق رکھنے والوں کا صرف ایک بچہ شامل تھا۔ وسیم بھائی، جو پاک سویٹس والوں کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ لحیم شحیم۔۔ حفظ کے طالبعلم تھے۔ فربہ لوگوں کی اکثریت کی طرح ہنس مُکھ اور خوش مزاج۔ ان کے علاوہ کوئی بھی طالبعلم گردونواح سے تعلق نہیں رکھتا تھا۔
مسجد اور مدرسے کا انتظام چلانے میں جناح کالونی کے کاروباری حضرات پیش پیش تھے۔ مالی طور پر مدرسے کی انتظامیہ کو کبھی تنگی پیش نہیں آئی لیکن مدرسے میں دی جانے والی تعلیم، البتّہ اپنے بچوں کو دلانے میں کسی کو خاص دلچسپی نہیں تھی۔ سب کے بچے اچھے سکولوں میں پڑھتے تھے۔ ہمارا معاملہ مختلف اس لیے تھا کہ ہم ایک عارضی طالبعلم تھے جو چند مہینے، پڑھ کے وہاں سے فارغ ہوگیا۔ اس دور میں طبقاتی تقسیم اتنی واضح اور عریاں نہیں تھی لیکن پھر بھی مدرسے کے ان طالبعلموں اور میرے جیسے عام سے بچّے کے طرز معاشرت میں واضح فرق تھا۔ جیسے دو مختلف دنیاؤں کے باسی۔
قاری صاحب نے ان چند مہینوں میں ہم سے نہایت شفقت برتی۔ سوائے سر پر ایک ہلکی سی چپت کے، جو مسلسل دو چھٹیاں کرنے کی سزا تھی، ہمیں انگلی تک نہیں لگائی۔ ان کے میز کے نیچے پڑی چپٹی لکڑی البتّہ دوسرے طالبعلموں پر بے دردی سے برستی تھی۔ ہم حیران ہوتے تھے کہ اتنے اچھے قاری صاحب ایک دم اتنے گندے کیوں ہوجاتے ہیں؟ اس کا جواب ہمیں کبھی نہ مل سکا۔
ٹی وی، کارٹون، ڈرامے، جنوں اور پریوں کی کہانیوں والے رسالوں کی باتیں جب ہم اپنے ہم درسوں سے کرتے تو وہ ان کے لیے کسی اور دنیا کی باتیں ہوتی تھیں۔ وقت کے ساتھ یہ فرق کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی رہا ۔۔ اس میں سیاست، تزویراتی گہرائی اور مذہبی مفادات کے تڑکے لگتے رہے۔۔۔۔ اور آج ہم جہاں پر ہیں وہ۔۔
تیس برس کا قصّہ ہے، دو چار برس کی بات نہیں۔۔۔ 
Comments
18 Comments

18 تبصرے:

faheem wali نے فرمایا ہے۔۔۔

واہ استاد ! بہت کچھ کہہ گئے بنا الفاظ استعمال کئے۔ ۔ ۔ مدرسی دراصل دو وقت کی روٹی اور دنیاوی علوم کے مقابل تخیل کی عکاسی ہے

Ahmed Khaleel نے فرمایا ہے۔۔۔

ماشاءاللہ آپ نے تو دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے اسی احساس محرومی کو ہمارے شعبدہ بازوں نے استعمال کیا ہے کبھی جہاد کے نام پر تو کبھی ملک کے دفاع کے نام پر ویسے آپ کی یادداشت ماشاءاللہ کافی اچھی ہے تیسری جماعت کیباتیں بھی یاد ہیں اور ہہمیں تیسرے روز کی بات بھی یاد نہیں رہتی

Paarsa نے فرمایا ہے۔۔۔

ہمیشہ کی طرح عمدہ خیال اور انداز بیاں تو بہت عمدہ ہے جعفر بھائی آپکا.

Saddam Hussain نے فرمایا ہے۔۔۔

Thanks for sharing.
Thoughtful of you.

Wajiha نے فرمایا ہے۔۔۔

Thought provoking article.

shaairejunoob نے فرمایا ہے۔۔۔

اس بلاگ سے مجھے تقدیس کی بو آتی ہے. ایسا لگتا ہے کسی نے آب زم زم کی قے کردی ہو.
واللہ اعلم بالصواب

Salman Zahid نے فرمایا ہے۔۔۔

اس تحریر کو پڑھ کے یہ سیکھ لیا کہ آب بیتی کو لمباااا کیسے کرتے ہیں۔
ماشاء اللہ، بہت اعلی

عادی تنولی نے فرمایا ہے۔۔۔

بالکل اصل تصویر پیش کی ھے میں خود ایسے مدارس میں پڑھا ھوں. یہیی صورتحال ھے. جبکہ میرے بزرگ انگریز دور میں ایک مسجد سکول سے چار جماعتیں پڑھے تھے. انکو انگریزی میں عبور حاصل تھا

Raja Iftikhar Khan نے فرمایا ہے۔۔۔

سب کچھ ہی تو آپ کہہ گئے جناب
پوری کی پوری عمرانیات اس مضمون مین سمجھا گئے

Jauher abbas khan نے فرمایا ہے۔۔۔

لفظ قے کے بغیر بھی تشبیہ جاذب ہو سکتی تھی.. لیکن اگر عمدا استعمال کیا ہے تو پھرحسن انتخاب کی داد

shuaib azhar نے فرمایا ہے۔۔۔

کیا شاندار لکھا ہے - جنت کمانے کے لیے یہ امیر کاروباری حضرات بس پیسہ ہی دے سکتے ہیں - اپنی اولاد نہیں دے سکتے - اس کام کے لیے غریب کا بچہ ہی وارے میں آتا ہے سب سٹیک ہولڈرز کو

آبرار قریشی نے فرمایا ہے۔۔۔

پوسٹ اچھی ہے مگر یہ طریقہ اچھا نہیں کہ معصوم سے چند الفاظ لکھ کرپسِ منظر میں مشکل کہانی بیان کردیتے ہیں۔

AQIB نے فرمایا ہے۔۔۔

لکھا تو ماشاءاللہ بہت اعلیٰ کہ سماں بندھ گیا۔ باقی مندرجات سے معمولی اختلاف کہ ایسی تقسیم تو ہر جگہ ہے۔ اسلئے ہم شائد اس کو انصاف نہی کہہ پائیں گے۔

حجاب نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت خوب ....

sarwataj نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت رواں اور سادہ انداز میں گہری بات
یادداشت، تخیل اور مقصد .....
خؤش رہیئے

Uzair Aslam نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت خوب

Humaira نے فرمایا ہے۔۔۔

قاری صاحب نے ان چند مہینوں میں ہم سے نہایت شفقت برتی۔ سوائے سر پر ایک ہلکی سی چپت کے، جو مسلسل دو چھٹیاں کرنے کی سزا تھی، ہمیں انگلی تک نہیں لگائی۔ ان کے میز کے نیچے پڑی چپٹی لکڑی البتّہ دوسرے طالبعلموں پر بے دردی سے برستی تھی۔ ہم حیران ہوتے تھے کہ اتنے اچھے قاری صاحب ایک دم اتنے گندے کیوں ہوجاتے ہیں؟ اس کا جواب ہمیں کبھی نہ مل سکا۔

Humaira نے فرمایا ہے۔۔۔

قاری صاحب نے ان چند مہینوں میں ہم سے نہایت شفقت برتی۔ سوائے سر پر ایک ہلکی سی چپت کے، جو مسلسل دو چھٹیاں کرنے کی سزا تھی، ہمیں انگلی تک نہیں لگائی۔ ان کے میز کے نیچے پڑی چپٹی لکڑی البتّہ دوسرے طالبعلموں پر بے دردی سے برستی تھی۔ ہم حیران ہوتے تھے کہ اتنے اچھے قاری صاحب ایک دم اتنے گندے کیوں ہوجاتے ہیں؟ اس کا جواب ہمیں کبھی نہ مل سکا۔

تبصرہ کیجیے