چرسیلے گلاب جامن

جعفر کا دسترخوان کے ساتھ ایک بار پھر حاضر ہوں۔ پچھلی ترکیب کی سپر ہٹ کامیابی کے بعد حضرات کے پرزور اصرار پر سویٹ ڈش کی ترکیب پیش خدمت ہے۔ گذارش صرف اتنی ہے کہ پکڑے جانے کی صورت میں‌ میرا نام بالکل مت لیں! نوازش ہوگی!!!
ہاں تو پھر اجزاء نوٹ کرلیں۔

1- اچھی کوالٹی کی چرس (حسب ذائقہ اور حسب ہمت)
2- دو کلو گلاب جامن (کسی بھی لاری اڈے میں‌واقع مٹھائی کی دکان سے خریدی گئی ہوں)
3- بس اتنے ہی اجزاء ہیں!!

بہت آسان ترکیب ہے۔ گلاب جامن کھا کر اس کے بعد چرس والا سگریٹ پئیں پھر گلاب جامن کھائیں پھر سگریٹ پئیں پھر گلاب جامن کھائیں‌پھر۔۔۔۔ علی ہذ القیاس ۔۔۔۔ حتی کہ انٹا غفیل ہوجائیں۔
یہ بات دھیان میں رہے کہ یہ ترکیب کسی ایسی جگہ استعمال کریں جہاں پولیس اور گھر والوں کے چھاپے کا ڈر نہ ہو۔ اگر شومئی قسمت سے پھر بھی پکڑے جائیں تو براہ مہربانی میرا نام مت لیں!! اور پولیس کے ہاتھوں‌ پکڑے جانے کی صورت میں اصرار کریں کہ ”پانجہ“ فورا ہی لگا دیا جائے کیونکہ چرسیلے گلاب جامنوں کی وجہ سے درد زیادہ محسوس نہیں ہوگا! ہیں‌جی۔۔۔ کیا کہا!! نہیں ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ تجربہ نہیں ہے میرا۔۔۔ کامن سینس کی بات ہے!! اور اگر گھر والوں‌ نے پکڑ لیا تو ایسا ”چھتر پولا“ تو ہوتا ہی رہتا ہوگا آپ کا۔۔۔ اس لئے یہ کوئی زیادہ تشویش کی بات نہیں ہے۔۔۔
بس اب اجازت دیں۔۔۔ اگلی ترکیب کے ساتھ پھر حاضر خدمت ہوں گا۔۔۔ اگر کسی نے مخبری نہ کردی تو۔۔۔۔

پِٹ سیاپا

بڑے نمناک سے ہوتے ہیں انور قہقہے تیرے
کوئی دیوار گریہ ہے ترے اشعار کے پیچھے
===================================
کٹ ہی گئی جدائی بھی یہ کب ہوا کہ مرگئے
تیرے بھی دن گزر گئے، میرے بھی دن گزر گئے
===================================
بظاہر ایسا نہیں‌ پیڑ اس حویلی کا
ہوا چلے تو بہت پھول مارتا ہے مجھے
===================================
یہ جو ہے پھول ہتھیلی پہ اسے پھول نہ جان
میرا دل جسم سے باہر بھی تو ہو سکتا ہے
===================================
کب تمہیں عشق پہ مجبور کیا ہے ہم نے
ہم تو بس یاد دلاتے ہیں چلے جاتے ہیں
===================================
اب اور ٹوٹنے کا حوصلہ نہیں مجھ میں
جمال یار مجھے آئنہ بنانا مت
===================================
لے کے جاتا رہا ہر شام وہ پھول اور چراغ
بس یہی اس نے کیا جتنا جیا میرے بعد
===================================
عدیم اب تک وہی بچپن وہی تخریب کاری ہے
قفس کو توڑ دیتا ہوں پرندے چھوڑ دیتا ہوں

بہت بےآبرو ہو کر ترے ”دفتر“ سے ہم نکلے۔۔۔

یہ اس وقت کا قصہ ہے جب آتش جوان تھا بلکہ درست تو یوں ہے کہ بچپن اور جوانی کی سرحد پر حیران تھا۔ تازہ تازہ سکول کی قید سے رہائی ملی تھی اور کالج کی آزاد فضا میں سانس لینے کا موقع! ایسا محسوس ہوتا تھا جیسا نیلسن منڈیلا کو 30 سال سے زیادہ کی قید کے بعد رہائی ملنے پر محسوس ہوا ہوگا۔ میرے بہت سے مینوفیکچرنگ فالٹس میں سے ایک لیڈری بھی تھا(اورہے) اور لیڈری بھی ایسی جس کے بارے میں خالد مسعود نے کہا تھا؛

اس کو پلس سے روز ہی چھتر پڑتے تھے
کرتا تھا ایسی تقریر کمینہ سا

تو قصہ کچھ یوں ہے کہ ہمارے کیمسٹری کے لیکچرار ایک عجوبہ روزگار شخصیت واقعہ ہوئے تھے۔ ایسے سمارٹ کہ سوئی کے ناکے میں سے گزر جائیں اور مونچھیں ایسی کہ دور سے لگتا تھا کہ مونچھیں چلی آرہی ہیں، قریب آنے پر پتہ چلتا تھا کہ مونچھوں کے ساتھ بندہ بھی لگا ہوا ہے۔ پڑھاتے ایسے تھے کہ قسم اٹھوالیں جو ان کا ایک بھی لفظ سمجھ میں‌ آتا ہو۔ ہم ٹھہرے اردو میڈیم کے پڑھے ہوئے اور ان کا ”ایکسنٹ“ برٹش اور آسٹریلین ایکسنٹ کا کراس بریڈ تھا (یہ اب پتہ چلا ہے کہ ایسا تھا)۔ پھر ان کی کلاس میں‌ یونیفارم کی پابندی۔ اتنی شرمندگی ہوتی تھی یونیفارم پہن کر کہ پورے کالج میں ہماری کلاس کے شیر جوان ہی پہنتے تھے اور سب کی طنزیہ نظروں‌ اور فقروں کا نشانہ بھی بنتے تھے۔ ایک غیر حاضری پر وہ 3 دن کی غیر حاضری لگاتے تھے۔ نام کی بجائے سب کو رول نمبر سے بلاتے تھے۔ کسی کو متوجہ کرنے کے لئے چاک کا ٹکڑا کھینچ مارتے تھے اور نشانہ بھی اس غضب کا تھا کہ سیدھا شکار کے سر پر لگتا تھا۔ بچپن میں‌ضرور ”بنٹوں“ کے بین المحلہ چیمپئین رہے ہوں گے ۔!!! اور ان کا ایک مشہور زمانہ ڈائلاگ بھی تھا، چلیں چھوڑیں اسے، پہلے ہی بیبیاں اس بلاگ پر آنے سے گریز کرنے لگی ہیں!!!

الغرض ”ہزاروں ہی شکوے ہیں کیاکیا بتاؤں“

توفرنگی محاورے کے مطابق” ایک خوشگوار صبح“ ہم سب نے فیصلہ کیا کہ اس سمسیا کا کوئی حل نکالنا چاہئے۔ حل یہ نکلا کہ ایک درخواست بنام پرنسپل لکھی جائے جس میں کیمسٹری کے لیکچرار کو تبدیل کرنے کی مانگ کی جائے اور پوری کلاس اس پر دستخط کرے۔ اب سوال اٹھ کھڑا ہوا کہ یہ درخواست پرنسپل کے حضور پیش کون‌ کرے گا؟ سب کی نظریں بیک وقت مجھ پر آکر ٹھہر گئیں کہ چل بچو! بڑا لیڈر بنتا ہے! اب پتہ چلے گا تیرا۔! میں نے بھی نعرہ مستانہ (حماقت بھی پڑھا جاسکتا ہے) بلند کیا اور کہا لکھو درخواست! میں‌لے کر جاؤں گا پرنسپل کے پاس۔! درخواست لکھی گئی، دستخط ثبت کئے گئے اور میرے ہاتھ میں تھما دی گئی۔

اب منظر ملاحظہ ہو۔ میں سب سے آگے اور میرے پیچھے چالیس، پینتالیس شیر جوان مارچ پاسٹ کرتے ہوئے پرنسپل آفس کی طرف گامزن۔ میں نے مورل سپورٹ کے لئے دو جوان ساتھ لئے اور گھس گیا سیدھا آفس میں۔ درخواست جا میز پر رکھی۔ پرنسپل صاحب نے عینک کے شیشوں میں‌سے گھورتے ہوئے فرمایا۔ ”کیا ہے یہ؟“ پھر جواب کا انتظار کئے بغیر اٹھا کر اسے پڑھنا شروع کردیا۔ ان کے چہرے کے بدلتے رنگوں سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ ” ٹھاکر تو گیو“ ۔ پڑھنے کے بعد انہوں نے وہ درخواست میرے منہ پر دے ماری۔ اور وہ بے عزتی کی کہ بس کچھ مت پوچھیں۔ مجھ سے پوچھا گیا کہ جن کے دستخط ہیں وہ کہاں‌ ہیں؟ میں نے کہا، سر! سب آفس کے باہر کھڑے ہیں۔ انہوں نے فرمایا، چلو میرے ساتھ دیکھتا ہوں ان کو بھی! یہ منظر دیکھ کر میرے ساتھ اندر آنے والے تو پہلے ہی کھسک گئے تھے۔ باہر جاکر انہوں نے باقی پلاٹون کو بیستی پروگرام کے بارے میں بریف کردیا تھا۔ تو صاحب! جب ہم پرنسپل صاحب کے ساتھ آفس سے باہر آئے تو وہاں نہ بندہ تھا نہ بندے کی ذات!

تو صاحبو! اصل بیستی پروگرام تو اگلے دن کیمسٹری کے پیریڈ میں شروع ہوا جو اگلے دو سال تک لگاتار ”سوپ سیریل“ کی طرح چلتا رہا۔ اس کی تفصیل پھر کبھی۔ اس ساری ”گھٹنا“ میں‌ صرف دو جوانوں نے میرا ساتھ دیا۔ باقی سب پورس کے ہاتھی ثابت ہوئے ۔
میرا ان دلیر جوانوں سے پکا وعدہ تھا کہ وزیر اعظم بننے کے بعد ان دونوں کو نشان حیدر عطا کروں گا!!!
اگر وہ دونوں پڑھ رہے ہوں تو سند رہے کہ میں اپنا وعدہ بھولا نہیں!

کام تمام

کوئی جائے اور جاکر علی عظمت کو بتلائے کہ وقت نکلا جاتا ہے ۔ زندگی خوابوں پر بسر نہیں ہوتی، نئے گانوں پر ہوتی ہے!!

چند سال ہوتے ہیں جب کل کے لونڈے نے اٹھ کر اس کو چیلنج کیا تھا وہ مگر اپنی ہی دنیا میں مگن رہا اب یہ حال ہے کہ کوئی اس کا نام لیوا باقی نہیں۔ وائے افسوس!

کارواں‌کے دل سے احساس زیاں‌جاتا رہا

کیا کیا گہر تھے جو نرگسیت کے ہاتھوں تاریخ کی خاک ہوئے۔ کل کا مورخ جب یہ داستاں لکھے گا تو اس کے قلم سے خون بہے گا۔ وقت رکتا نہیں اور رکنے والوں‌کو بہا کر لے جاتا ہے ، کاش کہ کوئی اسے بتائے! اتنی زیاں کاری، ایسی سود فراموشی۔۔۔۔ کیا دور تھا کہ مہ جبینیں اس کی موسیقی پر مدہوش ہو کر رقص کیا کرتی تھیں اور اب۔۔۔۔ گڑوی والیاں بھی شادیوں‌ پر اس کے گانے نہیں گاتیں۔

دو صدیاں‌ ہوتی ہیں جب محمد شاہ رنگیلا بھرے دربار میں‌ داد فن (اور عیش بھی) دیا کرتا تھا۔ فنکار اور موسیقار دور دور سے آتے اور اپنے من کی مراد پاتے۔ مگر افسوس کہ بھرے بڑھاپے میں اسے موت کا منہ دیکھنا پڑا۔ سب اہل فن جیسے یتیم و یسیر ہوگئے تھے۔ پھر دو صدیوں کے بعد ایک اور فن کا قدردان تخت نشین ہوا، اہل فن جیسے دوبارہ جی اٹھے ہوں۔ مورخ، اہل فن کی قدردانی میں‌محمد شاہ رنگیلے سے پہلے مشرف شاہ سریلے کا نام لکھے گا۔ مگر افسوس اس کو بھی جیتے جی مار دیا گیا۔ تو کیا یہی وہ غم ہے جو ہمارے گلوکار کو لے بیٹھا!!

تو کوئی جائے اور جاکر علی عظمت کو بتلائے کہ وقت نکلا جاتا ہے ۔ زندگی خوابوں پر بسر نہیں ہوتی، نئے گانوں پر ہوتی ہے!!
(ایک اور پیروڈی۔۔۔ کس کی ہے۔۔۔ بتانے والے کو انعام میں‌ 10 کوڑے لگائے جائیں گے۔۔۔ پہلے آئیں، پہلے کھائیں!!)