بلاگروں کی حکومت

بلاگروں کی مسلسل بقراطیوں، افلاطونیوں اور چخ چخ سے تنگ آکر پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر اس ملک کا وزیر اعظم چوہدری شجاعت جیسا شخص بن سکتا ہے تو بلاگروں میں کیا کیڑے پڑے ہوئے ہیں؟ لہذا اس سارے جمہوری ڈرامے کو ختم کرکے تین سال کے لئے بلاگروں کی حکومت قائم کردی جائے تاکہ ملک ایسا جنت نظیر بن جائے جیسا بنانے کے دعوے وہ اپنے بلاگوں میں عرصہ دراز سے کررہے ہیں۔ ویسے بھی ہم نے ہر قسم کے تجربے کر کے تو دیکھ لئے ہیں۔ فوجی اور سول ڈکٹیٹر بھی بھگت لئے۔ اسلام نظام کے دعوے دار بھی موجیں کرگئے۔ عوام کی حالت بدلنے کے نعرے لگانے والے بھی اپنی حالت بدل کے چلے گئے تو ”اک گناہ اور سہی“ کی طرز پر اگر ایک اور تجربہ بھی ہوجائے تو اس میں ہرج ہی کیا ہے۔ یہ تجربہ کامیاب ہوگیاتو وارے نیارے اور اگر نہ ہوا تو کم ازکم ان بلاگروں کی چونچ تو بند ہوہی جائے گی!
یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ بلاگی حکومت کے پاس ہر قسم کے فیصلے کرنے اور انہیں نافذ کرنے کا اختیار ہو اور یہ موجودہ نمائشی قسم کی حکومت نہ ہو جس کے پاس دوروں پر جاکر ”لوشے“ لوٹنے کے علاوہ کوئی اختیار ہی نہیں۔
یہ خبر سنتے ہی دس بارہ بلاگر تو شادئ مرگ کی کیفیت سے دوچار ہو کر داعئ اجل کو لبیک کہہ گئے اور باقی ”اج خوشیاں دے نال مینوں‌ چڑھ گئے نیں حال“ کی عملی تفسیر بن گئے!
اب سوال یہ اٹھ کھڑا ہوا کہ اس حکومت کا سربراہ کون ہو اور کابینہ میں‌ کس کو شامل کیا جائے اور ان کے محکمے کیا ہوں؟ یہاں آکر پچھلے دوسال سے بلاگر ایک دوسرے سے ”بلاگو بلاگی“ ہورہے ہیں اور کوئی فیصلہ نہیں‌ہوسکا ہے!
سو پیارے قارئین اس قضئے کے حل کے لئے آپ کی مدد درکار ہے۔ آپ کے خیال میں اس بلاگی حکومت کی ہیئت ترکیبی کیا ہونی چاہئے؟
بلا خوف و خطر اپنی رائے کا اظہار کیجئے! اگر آپ کی تجاویز کے مطابق حکومتی سیٹ اپ بن گیا تو آپ کے پوبارہ بھی ہوسکتے ہیں!

دم نکلتا نہیں

نیند آتی نہیں
دن گزرتا نہیں
شام ڈھلتی نہیں
رات کٹتی نہیں
وقت کی دوپہر خواب بنتی نہیں
بے کلی سوچ کے پھول چنتی نہیں
شعر ہوتا نہیں
درد سوتا نہیں
ضبط کا امتحاں ختم ہوتا نہیں
اس کو سوچے بنا دل بہلتا نہیں
سانس چلتی نہیں
کتنا دشوار دشت انا کا سفر
اور پاؤں بھی وہ جو سنبھلتے نہیں
رات پڑجائے تو دن نکلتا نہیں
کوئی لہجہ مقدر بدلتا نہیں
جسم ٹوٹے بنا دم نکلتا نہیں
(معصومہ شیرازی)

فٹافٹ پیزا

جیسا کہ یہاں‌ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ میں اگر مجلس بھی پڑھوں‌ تو یار لوگ اس میں‌ سے بھی ہنسی کا سامان برآمد کرلیں گے!!
تو کیا ضرورت ہے پھر منہ پکا کرکے سنجیدہ باتیں کرنے کی! تو خواتین و حضرات۔۔۔۔۔ ہور چوپو!!
پچھلی دو تراکیب روایتی اور مشرقی کھانوں پر مشتمل تھیں۔ اس دفعہ نوجوان نسل کے ذوق کو مدنظر رکھتے ہوئے پیزا کی ترکیب پیش خدمت ہے۔ گر قبول افتد زہے عزو شرف۔۔۔۔
اجزاء:
1- میدہ
2- تازہ زیتون
3- زیتون کا تیل
4- پنیر
5- ٹماٹر
6- پیاز
7- کالی مرچ
8- کھمبیاں
9- مرغی
اوہو۔۔۔ یہ تو بہت سارے اجزاء ہوگئے ہیں۔ ہممم اب کیا کریں؟؟؟
ایک طریقہ تو یہ ہے کہ آپ سر کھپائی کرکے خواتین کے کسی ڈائجسٹ سے پیزا بنانے کی ترکیب ڈھونڈیں اور پھر مندرجہ بالا اجزاء کسی نہ کسی طرح اس میں فٹ کرکے پیزا تیار کرلیں۔ لیکن خدشہ ہے کہ وہ پیزا کھانے والا ہر ذی روح مجھے بددعائیں ضرور دے گا۔ ایک دوسرا خدشہ بھی ہے کہ اتنی دیر میں شاید بھوک سے آپ کا دم ہی نکل جائے تو مرنے کے بعد تو بندہ کچھ بھی نہیں کھا سکتا!! ہیں جی۔۔۔
تو پھر کیاکریں اب؟؟ اچھا، ٹھہریں ذرا ایک منٹ ۔۔ مجھے ذرا سوچنے دیں۔۔۔۔ ارے ہاں۔۔۔ آپ ایسا کریں کہ فورا سے پیشتر ان تمام اجزاء کو جہاں جہاں سے نکالا تھا وہاں رکھیں، اپنی جیب میں ”جھاتی“ ماریں اگر کرنسی نوٹوں کی قابل عزت مقدار نظر آئے تو سایکل ، موٹر سائیکل یا کار پر اور اگر ذاتی سواری میسر نہ ہوتو تانگے ، رکشے ، چنگ چی، منی بس، ٹویوٹا ہائی ایس جو بھی میسر آئے، اس میں‌سوار ہوجائیں اور اپنے قریبی پیزا ہٹ جاکر اپنی مرضی کا پیزا کھائیں اور مجھے دعائیں دے کر عنداللہ ماجور ہوں۔
پیزا ہٹ والے اس مفت کی پبلسٹی پر اگر مجھے عمر بھر کے لئے مفت پیزا فراہم کرنے لگیں تو اسے میری قسمت اور اپنی بدقسمتی گردانیں اور تقدیر کا لکھا سمجھ کر برداشت کریں جیسا کہ ساری قوم ہر قسم کے عذاب ، چھترپولے اور لتریشن ، تقدیر کا لکھا سمجھ کر کافی عرصے سے برداشت کررہی ہے!!!