میرا پسندیدہ شاعر

ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال میرے پسندیدہ شاعر ہیں۔ وہ پاکستان کے قومی شاعر بھی ہیں۔ آپ بہت عرصہ پہلے سیالکوٹ کے کسی محلے کے کسی گھر میں پیدا ہوئے تھے۔ پیدائش کے وقت آپ صرف محمد اقبال تھے، ڈاکٹر، پی ایچ ڈی (اس وقت بھی ہوتی تھی!) کرنے کے بعد، سر، انگریز کی مہربانی سے اور علامہ، پاکستان بننے کے بعد بنے تھے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم سیالکوٹ سے حاصل کی اور اعلی تعلیم انگلستان اور جرمنی وغیرہ سے حاصل کی جس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ان کے والد ایک متمول شخص تھے۔ ورنہ اس دور میں تو عام آدمی کے لئے لاہور سے امرتسر جانا مشکل ہوتا تھا کجا کہ فرنگیوں کے دیس میں بندہ سالوں گھومتا پھرے۔

علامہ اقبال کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس سے تمام مکاتب فکر کے لوگ مستفید ہوسکتے ہیں۔ سوشلزم والے "اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگادو" گاتے پھرتے ہیں۔ نشاۃ ثانیہ والے "نیل کے ساحل سے لے کرتابخاک کاشغر" کا الاپ جاپتے ہیں۔ علماء حضرات جمعے کے خطبے ان کے اشعار سے سجاتے ہیں اور اپنے اکابرین کے ان فتووں سے صرف نظر کرتے ہیں جو انہوں نے علامہ کی شان میں دئیے تھے۔ سول سوسائٹی والے "ذرا نم ہو تویہ مٹی" کو اپنا ترانہ بنائے پھرتے ہیں۔مارشل لاء والے "بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے" کو اپنی ٹیگ لائن کے طور پر سجاتے رہے اور جمہوریت والے "سلطانیء جمہور کا آتا ہے زمانہ" گاتے رہے۔ فوج والے "شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن" کو اپنا ماٹو قراردیتے رہے ہیں۔ لیکن یہاں آکر ایک مخمصہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلامی نظام بندوق کے زور پر نافذ کرنے والے بھی اسی شعر کو اپنا ماٹو قراردیتے ہیں۔ اب اصل مومن کا فیصلہ کرنے کے لئے ہم پچھلے دس سال سے الجھے ہوئے ہیں! اور تو اور ہندوستان والے بھی ان کے "سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا" کو اپنا پسندیدہ ترین ملی نغمہ سمجھتے ہیں۔

علامہ اقبال کی سیاسی خدمات بھی بے پناہ ہیں۔خطبہ الہ آباد کسی نے پڑھا ہویا نہ پڑھا ہو، اتنا ضرور جانتا ہے کہ پاکستان کا نظریہ اس میں پیش کیا گیاتھا۔ اور اس کی تصدیق کرنا کوئی ضروری نہیں سمجھتا کہ بزرگوں کی باتوں پر شک کرنا بےادبی ہوتی ہے۔ مبینہ طور پر پاکستان کا خواب بھی انہوں نے ہی دیکھا تھا۔ مبینہ اس لئے کہ اس خواب کی تعبیر وہ آج دیکھ لیں تو خواب دیکھنے سے ہی توبہ کرلیں۔ چند محققین یہ بھی کہتے ہیں کہ جس تصویر کو بنیاد بنا کر ان پر مفکر پاکستان کا ٹیگ لگایا گیا ہے، اس میں تو وہ انتظار کررہے ہیں کہ علی بخش حقہ تازہ کرکے کب لاتا ہے؟ اور سوچ رہے ہیں کہ اگر علی بخش اسی طرح ہر کام دیر سے کرتا رہا تو وہ اس کی جگہ نیا ملازم رکھ لیں گے!

فرض کیجئے اگر علامہ اقبال نہ ہوتے تو پی ٹی وی کے خبرنامے کے بعد اظہر لودھی کی آواز میں کس کے اشعار پڑھے جاتے؟ حسرت موہانی کے تو کم ازکم نہیں۔ سوچئے، خبرنامے کے بعد اظہر لودھی یہ شعر پڑھتے تو کیسے لگتے کہ
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانہ یاد ہے ۔۔۔

اتفاق (فونڈری نہیں) سے پچھلی دو تحاریر میں ایک درخواست ہے اور دوسرا خط۔ لہاذا میں نے سوچا کہ اردو "ب" کے پرچے کی تیاری پوری ہوجائے، اسی سلسلے میں یہ مضمون قلم بند کیا گیا ہے۔ المشتہر۔۔۔۔ جعفر عفی عنہ۔۔۔

Comments
37 Comments

37 تبصرے:

ڈفر نے فرمایا ہے۔۔۔

:mrgreen: :mrgreen: :mrgreen:
بھائی جی اب میں تیری تحقیق کو ایپریشییٹ کروں گا تو تو بھی اپنی تعلیمی قابلیت پہ ایک پوسٹ لکھ دے گا اس لئے میری تعریف میرے پاس ہی ٹھیک ہے
سوچو ذرا اظہر لودھی امام دین کے شعر پڑھ رہا ہو تو :lol:

راشد کامران نے فرمایا ہے۔۔۔

آپ یہ پوسٹ لکھ کر کیوں بھری جوانی میں رحمتہ اللہ علیہ ہونا چاہتے ہیں۔۔ باقی جی قلم تو اب ہوتے نہیں اور کی بورڈ کی قیمتیں تو آپ کو معلوم ہی ہے اس لیے ورچوئل قلم سمجھیے توڑ دیا ہے۔

*ساجد* نے فرمایا ہے۔۔۔

جعفر ، حسب سابق بہت خوب لکھا ہے۔ :idea:
پاکستان سے باہر کبھی کسی کا موبائل "سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا" کی دھن بجانے لگے یا پھر کوئی گاڑی بیک گئیر میں حرکت کرتے کرتے یہ نغمہ بکھیرتی تو یہ سمجھنا آسان ہو جاتا تھا کہ صاحب الجوال / سیارہ کا تعلق ہندوستان سے ہے۔

حارث گلزار نے فرمایا ہے۔۔۔

خواب تو میں نے بھی بہت دیکھے ہیں، مگر کسی کو بتاتا نہیں ہوں۔ ۔ ۔

ویسے اقبال صاحب واقعی بہت پائے کے شاعر تھے۔ کوئی سری کا شاعر ملے تو ضرور بتائیے گا۔ ۔ ۔

بدتمیز نے فرمایا ہے۔۔۔

اینیا زبردست پوسٹاں
شاباش
پر یار یہ اشعار کتنی مشکل سے ڈھونڈے ہونگے نہ؟ :razz:

Aniqa Naz نے فرمایا ہے۔۔۔

اگر وہ طبقہ جو اس وقت موجود ہے علامہ کے دور میں ہوتا تو خواب دیکھنے کی بھی نوبت نہ آتی۔ علامہ قرطبہ کی مسجد میں بیٹھ کر پی ایچ ڈی سے توبہ کر کے مجھ کو مدینے بلا لے مولا میرے گاتے رہتے۔ ایک مثالی مسلمان بنتے، شاعر مشرق نہ بنتے۔
آپکے یہ تمام مندرجات صحیح ہیں۔ اور جس طرح مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا تو ہر اچحی چیز جو ہمارے موٹو میں استعمال ہو سکتی ہے ہماری ہے۔ دور کیوں جاءیں فیض احمد فیض بائیں بازو کے انقلابی شاعر، کمیونزم سے متاءثر، لیکن انکی شاعری کو جتنا کامیابی سے دائیں بازو والوں یعنی دینی جماعتوں نے استعمال کیا ہے اتنا شاید ہی کسی نے کیا ہو۔
دنیا میں ویسے بہت کم لوگوں کو یہ اعزاز ملتا ہے کہ انہیں بعد از مرگ اس طرح اغوا کر لیا جائے۔
خدا انکی مغفرت کرے۔
اب آج مجھے آپ پہ رشک کرنا چاہئے۔

SHUAIB نے فرمایا ہے۔۔۔

ڈاکٹر، پی ایچ ڈی (اس وقت بھی ہوتی تھی!)
گر شک ہو تو "حکیم" یا "طبیب" کرلیں ۔

خاور نے فرمایا ہے۔۔۔

زندھ باد اچھا لکھا کچھ اسی طرح کے خیالات جب میں پیش کرتا هوں محفلوں میں تو لوگ ہستے هیں
لیکن جی ان کے بیٹے کا بھی ذکر کرنا تھا جن کی مہربانی سے یه شاعر سے قومی شاعر بنے که نئے بنے پاکستان میں تھوڑے سے پڑھے لکھوں میں سے تھے اور باپ کو ٹمنے چڑھا دیا
ایک مقتول کے باپ(جوھدری محمد نواز چیمه آف تلونڈی موسے خان) کے بقول جو که خود بھی بڑے هی طاقت ور چوھدری تھے
باپ نے خودی میں نام کا کہا تھا
بیٹا وڈی (رشوت) میں نام پیدا کررها ہے

محمد وارث نے فرمایا ہے۔۔۔

خوب لکھا ہے جناب :smile:

محمد احمد نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت خوب!

اسماء پيرس نے فرمایا ہے۔۔۔

اللہ خير کرے آج اقبال کے پيچھے کيوں پڑ گئے ہو خرم کی مسدس حالی دماغ کو تو نہيں چڑھ گئی

محمدصابر نے فرمایا ہے۔۔۔

میں نے پتہ کروایا ہے۔ آپ کو اس مضمون میں پیپر مارکر نے صرف دو نمبر دیے ہیں۔ وہ جس کتاب کو سامنے رکھ کر لفظ سے لفظ ملا رہا تھا۔ اس میں سے صرف دو مصرعے ہی آپ کے مضمون سے ملتے ہیں۔

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

::ڈفر::‌ فکر نہ کر یار۔۔۔ میرے پاس تعلیم ہے ہی نہیں‌ تو تعلیمی قابلیت کدھر سے لاؤں گا۔۔۔ :mrgreen: بس تو کھل کے اپریشیٹ کر۔۔۔ اور اس میں تحقیق تو کہیں بھی نہیں‌ ہے بھائی۔۔۔ زبان زد عام مصرعے اور اشعار استعمال کئے ہیں۔۔۔
::ساجد:: شکریہ جی۔۔یہ جوال اور سیارہ جیسے لفظ استعمال کرنے پر مجھے شک ہے کہ آپ بھی کہیں خلیج وغیرہ میں‌پائے جاتے ہیں :smile:
::راشد کامران:: بہت بہت بہت شکریہ۔۔۔۔
::حارث گلزار:: سری کے بغیر تو شاعری ہو ہی نہیں‌سکتی ناں‌جی۔۔۔۔ تو اس طرح سبھی شاعر سری کے شاعر ہوتے ہیں۔۔۔
::بدتمیز::‌ بس جی آپ جیسے بزرگوں کی دعائیں ہیں۔۔۔ ویسے بندہ خود بھی کچھ کم نہیں‌ہے۔۔۔ :grin:
:؛عنیقہ ناز:: میری تحریر سے اچھا تبصرہ کرکے آپ نے میرا کریڈٹ چرانے کی کوشش کیوں کی؟
::شعیب:: بہت دن کے بعد تشریف لانے پر ایک دفعہ پھر خوش آمدید۔۔۔ وہ جناب میں نے سوال پوچھنے کی کوشش نہیں کی تھی بلکہ حیرت ظاہر کی تھی۔۔ ویسے اقبال کو حکیم الامت بھی کہا جاتا ہے۔۔۔ :grin:
::خاور:: آپ خوش قسمت ہیں‌کہ آپ پر ہنستے ہیں، مجھ پر تو تبرا کیا جاتا ہے ایسے خیالات کے اظہار پر۔
::محمد وارث:: بہت بہت شکریہ سر۔۔ یقین کریں آپ کو دوبارہ یہاں‌دیکھ کر بہت بہت خوشی ہوئی۔۔۔
::محمد احمد:: شکریہ جناب۔۔۔
::اسماء:: نہ جی اقبال کے پیچھے نہیں پڑا، اپنے قومی رویوں کو آئینہ دکھانے کی کوشش ہے۔۔۔
::محمد صابر::‌ ان دو مصرعوں‌کی نشاندھی کی جائے اور پیپر مارکر بدلا جائے۔۔۔ :grin:

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

::کامی:: او نئیں پائی جان۔۔۔ اے تے پہلے دی لکھی پئی سی۔۔۔۔ :grin:

کنفیوز کامی نے فرمایا ہے۔۔۔

میچ ھارن دا سیک کڈ کے چھڈیا اے :razz: تے بلی چڑھیا علامہ اقبال :lol:

omer نے فرمایا ہے۔۔۔

نہایت عمدہ، اقبال کا یہ حال پہلی بار دیکھا ہے، مطلب یہ کہ سوچتے تو ہم بھی ہیں‌لیکن کبھی زباں‌پر نہ لائے کہ کہیں‌کوئی مولوی، شاعر، ادیب، فوجی، سیاستدان، استاد، سٹریٹ‌مین میں‌سے کوئی ہمیں‌پھڑکا ہی نہ دے :mrgreen: وہ کیا ہے کہ قومی شاعر ہیں‌تو پوری قوم کو ہی کچھ ناں‌کچھ فراہم تو کیا ہی ہوا ہے۔
بہت اعلٰی۔۔۔۔۔

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

::عمراحمد بنگش:: یار یہ بڑی زیادتی ہے، ہربندہ ہی تحریر سے اچھا تبصرہ کرکے چلاجاتا ہے۔۔۔کم ازکم اتنی کھیچل کرنے والے کو اس کاجائز حق تو دو۔۔۔ :mrgreen:

افتخار اجمل بھوپال نے فرمایا ہے۔۔۔

علامہ محمد ڈاکتر محمد اقبال صاحب کو علامہ پاکستان بننے کے بعد نہيں بلکہ پاکستان بننے سے کم از کم کچھ سال قبل ہی کہنا شروع کر ديا گيا تھا ۔

علامہ صاحب کے زمانہ ميں مندرجہ ذيل قسم کے تبصرے کرنے والے لوگ اگر بھاری تعداد ميں ہوتے تو واقعی علامہ صاحب سب کچھ چھوڑ کر جرمنی واپس چلے جاتے جہاں آج بھی اُن کی تصوير يونيورسٹی کے ہال ميں بطور ايک مفکر کے لگی ہے

"اگر وہ طبقہ جو اس وقت موجود ہے علامہ کے دور میں ہوتا تو خواب دیکھنے کی بھی نوبت نہ آتی۔ علامہ قرطبہ کی مسجد میں بیٹھ کر پی ایچ ڈی سے توبہ کر کے مجھ کو مدینے بلا لے مولا میرے گاتے رہتے۔ ایک مثالی مسلمان بنتے، شاعر مشرق نہ بنتے۔"

عبداللہ نے فرمایا ہے۔۔۔

علامہ اقبال کے رتبے سے تو کسی کو انکار نہیں مگر اس تحریر کے زبردست ہونے سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا،آج سب ہی کا تخیل زوروں پر ہے :razz:
بی سی جیلانی کی ڈائری کے بعد ایک زبردست پوسٹ :smile:
عمر نے بلکل صحیح بات کی قومی شاعر ہیں تو سبھی کو کچھ نہ کچھ دیا ہے :lol:
ویسے آپ لوگ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ وہ بڈھے پیدا نہیں ہوئے تھے جوانی ان پر بھی آئی تھی :cool:

اسد علی نے فرمایا ہے۔۔۔

اقبال بھی اقبال سے آگا ہ نہیں ھے۔۔
کچھ اس میں تمسخر نہیں واللہ  نہیں ھے۔
جہاں تک پاکستان کا اوردو قومی نظریے والی بات کا تحلق ھے۔۔وہ اقبال کے علاوہ کون پیش کر سکتا تھا۔۔۔اقبال جس پاکستان اورجس فکر کی بات کرتے تھے کاش ھم اسے سمجھ سکیں۔۔۔۔

محمودالحق نے فرمایا ہے۔۔۔

علامہ اقبال رحمہ جیسےرہنما صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں جو تاریخ کا دھارا بدل دیتے ہیں ۔ ہندوستان کے علاوہ ایرانی انقلاب میں کلام اقبال کا کلیدی کردار ہے جس کا اظہار اور اعتراف ایرانی انقلابی اکابرین بار ہا کر چکے ہیں۔ قائد اعظم کہتے ہیں کہ علامہ اقبال رحمہ میرے دوست‘ راہنما اور روحانی مرشد تھے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے 1944ء میں یوم اقبال منعقدہ پنجاب یونیورسٹی ہال لاہور کے صدارتی خطبے میں علامہ اقبال رحمہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا تھا ’’اگر پاکستان بن جائے اور مجھ سے کہا جائے کہ تم اس آزاد اسلامی ریاست کے سربراہ بن جاؤ یا کلام اقبال لے لو البتہ ان دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو تو میں کلام اقبال کا انتخاب کرونگا۔

فرحت کیانی نے فرمایا ہے۔۔۔

السلام علیکم
بہت اچھی تحریر ہے جعفر! :smile:
ویسے جس تسلسل سے آجکل وطنِ عزیز میں 'امن کی آشا' کی تکرار چل رہی ہے ناں۔ پاکستان میں بھی 'سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا' کی گنگناہٹ بعید از امکان نہیں۔
آج میں بھی پی ٹی وی پر خبرنامہ دیکھوں گی :smile:

ابن سعید نے فرمایا ہے۔۔۔

کچھ بچا ہی نہیں اب میں کیا کہوں؟ بھئی جعفر پیارے آپ جو بھی لکھتے ہیں لا جواب لکھتے ہیں۔

محمداسد نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت ہی عمدہ جعفر۔ آپ کا یہی انداز دوسروں سے جدا لگتا ہے۔ اور تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی بات تو خوب لگی۔ اور تبصروں سے اس کی صداقت بھی ظاہر ہوگئی :razz:

*ساجد* نے فرمایا ہے۔۔۔

عنیقہ بہن کو یہاں دیکھ کر یاد آیا کہ جعفر نے "پی ایچ ڈی" کا تُوت اپنی تحریر میں کیوں کھڑا کیا ہے۔ :mrgreen:
جعفر ، باز آ جاؤ نہیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لگے رہو۔ سانوں کی۔ :grin:

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

::افتخار اجمل بھوپال::‌ بس میں‌بھی یہی جاننا چاہتا ہوں کہ اتنے اچھے لوگوں نے پاکستان بننے کے بعد اس کا یہ حال کیوں‌کیا؟ خرابی کہاں ہوئی اور اس خرابی کی وجہ کیا تھی؟
::عبداللہ:: شکریہ۔۔۔۔
::اسد علی:: میں‌ آپ کے جذبات کو سمجھ سکتا ہوں۔۔۔
::محمود الحق::‌ لیکن انہی روحانی مرشد نے ان کے خلاف اپنا الگ گروپ بھی بنا لیا تھا مسلم لیگ کا۔ ہم پر کیوں‌اثر نہیں‌ہوا اقبال کی شاعری اور نظریات کا؟ اور جہاں‌تک ایرانی انقلاب اور ان کے اکابرین کا تعلق ہے تو ان کے بارے میں‌جتنا کم لکھا جائے اتنا اچھا ہے! شاہ کی جگہ ولایت فقیہہ؟ فرق کیا پڑا؟
::فرحت کیانی:: بلاگ پر خوش آمدید :smile:
امن کی آشا تو جی ایک تشہیری مہم ہے، اسی زیادہ سنجیدہ نہ لیں۔
امید ہے کہ غریب خانے کو رونق بخشتی رہیں‌گی۔
::ابن سعید:: آپ کی محبت ہے جناب۔۔۔ :smile:
::محمد اسد::‌ شکریہ شکریہ۔۔۔ :smile:

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

:؛ساجد:: عنیقہ ہماری بہت ہی قابل احترام ساتھی اور دوست ہیں اور مذاق سمجھتی بھی ہیں اور اس کا زنانہ وار جواب بھی دیتی ہیں۔
:smile:

افتخار اجمل بھوپال نے فرمایا ہے۔۔۔

جعفر صاحب
آپ کو دوبارہ تکليف دينے پر معذرت خواہ ہوں ۔ اُس وقت بجلی جانے والی تھی بس جلدی ميں اتنا ہی لکھا جا سکتا تھا ۔ آپ کی تحرير کی تعريف ميں نے اسلئے نہيں کی کہ آپ اپنی ہر تحرير پر تعريفيں سُن سُن کر پہلے ہی پريشان ہو چکے ہوں گے

ميں تحرير کے ساتھ تبصرے بھی پڑھ کر بعض اوقات تحرير سے زيادہ محظوظ ہوتا ہوں بالخصوص آپ کی تحارير پر تبصرے ۔ کچھ لوگ بہت معصوم ہوتے ہيں اور تحرير کی گہرائی ميں کيا ہے سمجھ نہيں پاتے ۔ اس ڈر سے کہ غلط فہمی نہ ہو جائے اور قصور آپ کے نام ڈال ديا جائے جيسا کہ آجکل رواج ہے ميں مندرجہ ذيل سطور لکھ رہا ہوں

دورِ حاضر کی طرح علامہ صاحب کے زمانہ ميں بھی ذہين طالب علموں کو اعلٰی تعليم کيلئے مالی امداد دی جاتی تھی جس کی مُختلف قسميں ہوتی تھيں
ہندوستان کی حکومت پڑھائی کا پورا يا جزوی خرچہ ادا کرتی تھی
جس ملک ميں تعليم حاصل کی جائے وہاں کی يونيورسٹی يا حکومت يا کوئی ادارہ تعليم کا خرچہ ادا کرتے تھے

علامہ صاحب پکے مسلمان تھے ۔ لغزش ہر انسان سے ہو سکتی ہے
قرآن شريف ميں کہیں نہيں لکھا کہ صرف مسجد ميں بيٹھے رہو ۔ مسلمان بننے کا نمونہ آخری نبی صلی اللہ عليہ و آلہ و سلّم کی زندگی ہے
مسلمانی کا مذاق اُڑانا بھی شايد دورِ جديد کے مسلمان کا شيوہ بن گيا ہے

خرم ابن شبیر نے فرمایا ہے۔۔۔

اقبال ہے اقبال ہے اقبال ہمارا
قائد بھی رہنمابھی ہے اقبال ہمارا

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

:؛افتخار اجمل بھوپال:: نہ جی تکلیف والی کیا بات ہے؟ آپ بزرگ ہیں جی ہمارے۔۔ باقی جی علامہ صاحب کی مسلمانی میں شک کرنے والا میں‌، بلکہ کوئی اور بھی کون ہوسکتا ہے۔ یہ تو ایک ہلکی پھلکی تحریر تھی جس کا مقصد اپنے رویوں میں‌ پائے جانے والے تضادات کا پھلکا اڑانا تھا۔
::خرم ابن شبیر:: بھائی جان 14 اگست ابھی کافی دور ہے، ہاں‌ 23 مارچ آنے والا ہے، اس دن گائیں گے مل کے ۔۔۔

افتخار اجمل بھوپال نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت دنوں بعد سنا ہے " پھلکا اڑانا " ہمارے خاندان ميں يہ بولا جاتا تھا ۔ نئی نسل کا مجھے پتہ نہيں ۔آپ کی عمر اور اس سے بھی پہلے يعنی لڑکپن ميں ميں بھی ايسی تحريريں لکھا کرتا تھا پھر موسم ايسا آيا کہ لوگ مجھ سے ناراض ہونے لگے تو ميں بُڈھا بن گيا
:smile:

عبداللہ نے فرمایا ہے۔۔۔

پتہ نہیں یہ کچھ لوگ ہر بات میں نسلوں نسلی اور خاندانی کیوں ہوجاتے ہیں؟؟؟
ارے بھائی پھلکا اڑانا اب بھی بہت بولا جاتا ہے! :cool:

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین نے فرمایا ہے۔۔۔

داد دینے کے الفاظ نہیں ہیں۔ بس یہ نادر قسم کی تحریر ہے۔ جو کبھی کبھی لکھی جاتیں ہیں۔

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

::جاوید گوندل:: عنایت ہے آپ کی جناب

منظرنامہ » مارچ 2010ء کے بلاگز کا تجزیہ نے فرمایا ہے۔۔۔

[...] (مکمل تحریر پڑھیں) [...]

ikhlaq ahmed نے فرمایا ہے۔۔۔

ہممم،اگر یہ مضمون تو نویں جماعت کے مطالعہ پاکستان کے کسی پرچے میں لکھتا تو "انڈا" ڈالتا میں سرخ پنسل سے پہلے اِس کی پیشانی پر۔مگر چونکہ یہ نہ تو نویں جماعت کا پرچہ ہے اور نہ ہی میں کوئی ماسٹر شاسٹر،اسلیے سو میں سے پورے سو نمبر۔:ڈ

محمد سلیم نے فرمایا ہے۔۔۔

استاد محترم علامہ صاحب کی تصویر مفکرانہ سوچ میں ڈوبی ہوئی تصویر اصل میں ان کے اس لمحات کی ہے جب وہ اپنے حقے کا انتظار کر رہے ہوتے تھے، ایسا جملہ شاید ہی کسی کے ذہن میں آ پائے۔
تحریر پڑھ کر مزا آ گیا۔ اگر آپ علامہ صاحب کے بچپن کا بھی احاطہ کرتے تو ہمیں یہ فقرہ بھی سننے کو مل جاتا کہ وہ بچپن میں بالے سیالکوٹی کے نام سے مشہور تھے

تبصرہ کیجیے