جھیل، چِکّڑ چھولے اور چیمہ

میں نے نظریں جھکائیں۔ ارمانی کی شرٹ پر دہی پودینے کی چٹنی کا دھبہ دیکھا اور گہری سانس لے کر نان چھولے کا آخری بائٹ لیا  اورویٹر کو سپرائٹ اور کالانمک  لانے کا آرڈر دے دیا۔ لا گورڈیا جھیل میں لہریں اٹکھیلیاں کر رہی تھیں۔ ایک شوخ  لہر باقی لہروں سے نظر بچا کے بار بار ساحل تک آتی اور ترشے ہوئے پتھرکو چوم لیتی۔ پتھر بے خود ہو کراس کی طرف لپکتا۔ اس کو بانہوں میں لینے کی کوشش کرتا  لیکن یہ انگلی سے نہ نہ کا اشارہ کرتے بھاگ جاتی۔ یہ منظر اتنا رومانی  تھا۔ یہ اتنا  خواب ناک تھا کہ میں 6 نان کھا گیا۔ میں نے چکڑ چھولوں کی چار پلیٹیں کھالیں جن میں سات ابلے ہوئے انڈے بھی تھے۔ میرے سٹامک میں پین ہونے لگی۔ ہر محبت کا انجام پین ہوتا ہے۔یہ مجھے لاگورڈیا جھیل کے کنارے بیٹھ کر نان چھولے کھاتے ہوئے  سمجھ آیا۔
یہ ریسٹورنٹ عین لاگورڈیاجھیل کے کنارے  ایک جھکی چٹان پر واقع ہے۔ یہ چٹان، جھیل پر بالکل ایسے جھکی ہوئی تھی جیسے کسی عاشق  کو زمانوں بعد اپنے محبوب  کا دیدار  نصیب ہو اور وہ اس کے حضور جھک جائے ۔ اس ریسٹورنٹ کی سٹوری بہت انٹرسٹنگ ہے۔ یہ نیامت چیمے کا ریسٹورنٹ ہے ۔ یہ لاگورڈیا تک کیسے پہنچا، جھیل  کنارے اس کو ریسٹورنٹ بنانے کا خیال کیسے آیا۔ اس کے لیے آپ کو چیمے کی سٹوری جاننا بہت ضروری ہے۔
یہ  لالے موسے کے ریلوے سٹیشن پر نان پکوڑے بیچتا تھا۔ یہ غریب تھا۔ یہ ہڈحرام اور بے ایمان تھا۔ یہ باسی پکوڑے بیچ دیتا۔ یہ بقایا پیسے دینے میں حیل حجت کرتا حتی کہ گاڑی چل پڑتی۔ مسافر اس کو کھڑکیوں سے سر نکال نکال کے گالیاں دیتے۔ یہ ڈھیٹ بن کر ہنستا رہتا۔ ریلوے سٹیشن کے سارے صادق اور امین اس کو سمجھاتے۔ یہ اس کو گندی گالیاں نکالتے۔ یہ اس کو کہتے، بے ایمانی سے کبھی فائدہ نہیں ہوتا۔ جب تک تم تازے پکوڑے نہیں بیچو گے۔ مسافروں کا بقایا نہیں دوگے۔ تم کبھی ترقی نہیں کرسکتے۔ چیمہ آگے سے ان کو ہنس کے دکھا دیتا۔ یہ ان کو عرفان قادر والے اشارے کرتا۔ یہ ان کے چھابے الٹا دیتا۔ یہ صادق اور امین  مایوس  ہوگئے۔ انہوں  نے چیمے  سےکچّی کرلی۔ یہ اس کو بلانا چھوڑ گئے۔
لالے موسے کے سٹیشن پرریل گاڑیوں کا جھمگٹا لگا رہتا ہے۔ یہاں ہر وقت رش رہتا ہے۔ یہ وسط اکتوبر کے دن تھے۔ ہوا میں بھینی بھینی خنک خوشبوئیں تھیں۔ آتی جاتی ٹرینوں میں  لڑکے ،  لڑکیاں اکھ مٹکّوں میں مشغول تھے۔ تاروں پر بیٹھے چڑے، چڑیوں سے رومانس کررہے تھے۔ جنہیں دیکھ کر بچے حیران ہوتے تھے کہ یہ چڑیاں کیوں لڑ رہی ہیں۔ یہ نہیں جانتے تھے ۔ یہ پیار ہے یہ محبت ہے۔ یہ لڑائی نہیں ہے۔ نیامت چیمہ خیبر میل کو بھگتا کے فارغ ہی ہوا تھا۔ اس نے فیقے کے ٹی سٹال سے چائے اور کیک رس لیے۔ یہ بنچ پر بیٹھ کر کھانے لگا۔ اچانک اس کی نظر ایک اخبار کے ٹکڑے پر پڑی۔ اس نے اٹھا کر دیکھا ۔ یہ ضرورت رشتہ کا صفحہ تھا۔ یہ اس کو پڑھنے لگا۔ یہ لاگورڈیا میں رہائش پذیر ایک خاتون کا اشتہار تھا۔ خوبرو، خوب سیرت، والدین انتقال کرچکے، بے تحاشہ جائیداد کی واحد وارث، نیک دل ، صادق اور امین کی طالب۔  چیمہ اس اشتہار میں ایسا ڈوبا کہ اس کا کیک رس چائے میں ڈو ب گیا۔ یہ فورا اٹھا ۔ نان پکوڑے سمیٹے اور تیر بن کے نکلا ۔یہ اپنے لنگوٹیے تجمل کمبوہ کے گھر پہنچ گیا۔ اس نے کمبوہ سے کہا۔ میرا ٹَیم آگیا ہے جِیلے۔ خدا نے میری سن لی ہے۔ چیمے نے کمبوہ سے اس اشتہاری حسینہ کو خط لکھوایا۔ تجمل کمبوہ خواتین کے رسالوں میں شگفتہ نورین کے نام سے کہانیاں لکھتا تھا۔ اس نے پھڑکتا ہوا خط لکھ کے چیمے کے حوالے کردیا۔
خط کا جواب ایک ہفتے میں ہی آگیا۔ اشتہاری حسینہ نے اپنی تصویر، نام ، فون نمبر بھی بھیجا۔ اس کا نام کوثر شہزادی تھا۔ یہ خط پڑھتے ہی چیمے کی محبت میں مبتلا ہوگئی۔ کوثر کی تصویر چیمے کو روغنی نان پر دھرے تازہ پکوڑوں جیسی لگی۔ یہ پہلی نظر میں کوثر کا دیوانہ ہوگیا۔ دو لیٹرز اور پانچ ٹرنک کالز کے بعد کوثر اور چیمہ، کوثر چیمہ بننے کے لئے بے تاب ہوگئے۔ نیامت چیمے کو لاگورڈیا کا ویزا ملا تو اس نے پورے محلے میں تازہ پکوڑے بنا کے بانٹے۔ یہ اتنا ہیپی ہوگیا کہ اس نے سٹیشن والے صادق، امینوں سے بھی صلح کرلی۔ جس دن چیمے نے کراچی جانے والی ٹرین میں پاؤں دھرا، پورا سٹیشن اس کے استقبال کے لیے امڈ آیا۔  چیمے نے ثابت کردیا کہ آنسٹی از ناٹ بیسٹ پالیسی، لَوّ از بیسٹ پالیسی۔
یہ ریسٹورنٹ اسی چیمے کا ہے۔ یہ لاگورڈیا جھیل کے کنارے بھی نان پکوڑے اور چِکّڑ چھولے بیچتا ہے۔ پوری دنیا سے محبّت کے پنچھی یہاں آتے ہیں۔ یہ محبت کی نشانی جھکی ہوئی چٹان پر بیٹھتے ہیں۔ یہ تلوں والے نان اور چِکّڑ چھولے کھاتے ہیں۔ یہ سِی سِی کرتے ہیں۔ یہ سپرائٹ میں کالانمک ڈال کے پیتے ہیں ۔ یہ پتھروں اور لہروں کی بالغانہ فلم انجائے کرتے ہیں۔ یہ منظر ان کے یادوں کا مستقل حصہ بن جاتا ہے۔ زندگی میں جب بھی انہیں محبت ہوتی ہے۔ انہیں چِکّڑ چھولے یاد آجاتے ہیں۔ انہیں پتھر اور لہریں یاد آجاتی ہیں۔ یہ لاگورڈیا اور نیامت چیمے کے مشکور ہوجاتے ہیں۔ 
نیامت چیمہ آج کا شاہجہاں ہے جس نے کوثر شہزادی کی محبت  میں چِکّڑ چھولوں کا تاج محل بنادیا ہے۔  میں نیامت چیمے کو سلیوٹ کرتا ہوں!