کُکّڑ، بانگ اور گڈ مارننگ


اس نے کرسی پر پہلو بدلا۔ پتلون کی جیب سے پان پراگ  کا پیکٹ برآمد کیا۔ اسے دانتوں سے کھول کر ہتھیلی پر انڈیلا اور ایک جھٹکے سے  پھکّا مار لیا۔  پان پراگ کے اجزاء کو منہ میں ایڈجسٹ کرنے کے بعد اس نے کرسی کی پشت پر سر ٹکایا ایک گہرا سانس لیا اور یوں مخاطب ہوا۔ "ہمیں ہمیشہ تعصّب ، ظلم ، ناانصافی اور تشدّد کا نشانہ بنایا گیا۔ ہمارے آباو اجداد اس ملک کے بانی تھے, اس کے باجود ہمیں یہاں دوسرے درجے کا شہری سمجھا گیا۔ ہم اپنے بسے بسائے گھر اور جمے جمائے کاروبار چھوڑ کر یہاں آئے۔ لیکن ہمیں اس قربانی کی کوئی صلہ نہیں ملا۔ ہم نے اس قصبہ نما شہر کو نئے ملک کی معاشی حب بنادیا لیکن اس کے باوجود ہمیں  اس کا کریڈٹ نہیں دیا جاتا۔ یہ شہر پورے ملک کا ستر فیصد ریونیو اکٹھا کرکے دیتا ہے لیکن ہمیں ہمارے جائز حصے سے ہمیشہ محروم رکھا گیا۔ مرے پہ سو دُرّے ہماری محنت سے جب یہ شہر اس مقام پر پہنچ گیا تو پورے ملک سے لوگ اس پکی پکائی پر پہنچ گئے اور ہماری محنت کے پھل میں اپنا حصہ جتانےلگے۔ کیا ہم نے اس شہر کو اس لیے اپنا خون پسینہ دیا تھا کہ کوئی اور اس کا فائدہ اٹھائے؟  جس کو دیکھو، منہ اٹھائے یہاں گھسا چلا آتا ہے،  ہم اس ظلم اور ناانصافی کو اور برداشت نہیں کرسکتے۔ یہ تعصّب کا رویّہ جو ہم سے روا رکھا جاتا ہے اب ختم ہونا چاہیے اور ہمیں ہماری شناخت اور حق ملنا چاہیے"۔   میرے اس دوست نے یہاں رک کر پان پراگ کے ملغوبے کا ایک گھونٹ بھرا اور منہ میں باقی ماندہ کی پوزیشن بدلی اور چائے ، جو اسی اثنا میں آچکی تھی، کا کپ اٹھا کر ایک گھونٹ بھرا اور میری طرف شکایتی اور جوابیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔
میں نے میز  پر رکھی پلیٹ سے گلاب جامن اٹھا کر منہ میں رکھی ، نمکو کی پلیٹ سے ایک مُٹّھی بھری اور کرسی پر پہلو بدل کر اپنے دوست کی طرف متوجہ ہو کر یوں مخاطب ہوا۔ " میں تمہاری شکایتییں اور ہر وقت کے رونے سن سن کے تنگ آگیا ہوں۔ پاکستان کے سب سے بڑے اور ترقی یافتہ شہر میں رہنے کے باوجود تم خود کو مظلوم اور بے بس اور پتہ نہیں کیا کیا سمجھتے ہو تو یہ تمہارے دماغ کی کوئی چُول ڈھیلی ہونے کاثبوت ہے۔ کراچی کے شہریوں کو جو سہولتیں میسر ہیں وہ پاکستان کی ستر فیصد آبادی کے خواب و خیال سے بھی باہر ہیں۔ جہاں تک پاکستان بنانے والوں کی اولاد ہونے کا تعلق ہے تو یقینا پاکستان کی تحریک کا زور یوپی میں بہت زیادہ تھا۔ لیکن یہ امر بھی ملحوظ خاطر رکھو کہ کراچی میں ستر کی دہائی تک لوگ ہندوستان سے آکے آباد ہوتے رہے ہیں۔ اس کی وجہ پاکستان سے محبت یا اسلام کے قلعے کو مضبوط کرنا نہیں تھی بلکہ اس کی وجہ پاکستان اور کراچی میں روشن مستقبل تھا جو انہیں ہندوستان میں نظر نہیں آتا تھا۔ جہاں تک گھر اور چلتے کاروبار چھوڑ کے آنے کا تعلق ہے تو یوپی والوں کو کسی نے مجبور نہیں کیا تھا جیسے مشرقی پنجاب میں سب کو مجبورا ہجرت کرنا پڑی تھی ورنہ جان اور عزت کا کوئی ضامن نہیں تھا۔ کیاتم نے کبھی سنا کہ کسی لاہوری  مہاجر نے اپنے کسی بیٹے کی شادی لدھیانہ میں مقیم کسی مسلمان خاندان میں کی ہو؟ نہیں سنا ہوگا کیونکہ وہاں کوئی مسلمان باقی ہی نہیں رہا تھا۔ اور کراچی میں آج تک دلہنیں ہندوستان بیاہ کر جاتی ہیں اور وہاں سے یہاں آتی ہیں۔  اور جہاں تک معاشی حب اور کراچی کو یہاں تک پہنچانے کی بات ہے تو میاں صاحبزادے، اس پر تو میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ  ایک کُکّڑ جینوئنلی یہ سمجھتا تھا کہ جب تک وہ بانگ نہیں دے گا تو سورج نہیں نکلے گا اور گڈ مارننگ نہیں ہوگی۔ اس کُکّڑذہنیت سے نکلو  پیارے بھائی۔ خود کو برتر ثابت کرنے کےلیے کسی کو کمتر سمجھنا، احساس کمتری کی بدترین شکل ہوتی ہے۔ اور اگر سینتالیس سے ستر تک لوگوں کاکسی اور ملک سے آکر کراچی میں آباد ہونا جائز تھا تو آج اسی ملک کے باشندے کراچی میں غیر مقامی کیسے ہوگئے؟ یہی سوچ اگر سینتالیس سے پہلے کے مقامیوں کی ہوتی تو سوچیے کہ آج آپ کہاں ہوتے؟"