بابا حاجی

ہمارا گھر گلی میں داخل ہوکے بائیں ہاتھ پر تیسرا تھا۔ بائیں ہاتھ پر آٹھواں گھر، بابا حاجی کا تھا۔ ان کے اصل نام کا تو ہمیں کبھی علم نہ ہوسکا لیکن سب لوگ انہیں بابا حاجی کے نام سے ہی جانتے تھے۔ باریش، گُٹھا ہوا سر، تہہ بند اور کُرتا۔ کندھے پر سفید رنگ کا صافہ جو گرمی میں سر پر بندھا ہوتا تھا۔ شیخ برادری سے ان  کا تعلق تھا۔ زوجہ وفات پاچکی تھیں اور وہ اپنے بڑے بیٹے اور بہو کے ساتھ رہتے تھے۔ شیخ اور سیاستدان کبھی ریٹائر نہیں ہوتے۔ مرتے دم تک اپنے کام سے لگے رہتے ہیں۔ یہ بھی اپنے بیٹے کے ساتھ کپڑے کی دکان پر جاتے تھے ۔ شام کو جلد واپس آجاتے تھے۔ ان کا مستقل ٹھکانہ ، ان کے گھر کے باہر والا تھڑا تھا ۔  شام کو اکثر وہیں پائے جاتے ، جہاں ان کے ساتھ ان کے ہم عمر بزرگ شہری  بھی محفل جمایا کرتے تھے۔
بابا حاجی ،  ہمارے بزرگوں کی اس روایت پر سختی سے کاربند تھے جس کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ چڑچڑا پن بڑھانا ضروری ہوتا ہے۔  ہم شام کو گلی میں کرکٹ ایمانی جو ش و جذبے کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ زبیر کے گھر کے سامنے ہماری "پچ " تھی۔ بالر کا  رن اپ وہاں سے شروع ہوتا تھا جہاں بابا حاجی و ہمنوا شام کو بیٹھتے تھے۔ ہر گیند پھینکنے سے پہلے وہ بالر کو یہ تنبیہ ضرور کیا کرتے تھے کہ   ۔۔ جے گیند مینوں لگّی تے میں چھڈنا نئیں تہانوں"۔۔۔ شو مئی قسمت کہ برسوں ہم کرکٹ کھیلتے رہے ایک بھی دفعہ گیند ان کو نہیں لگی۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تنبیہات میں غصہ اور برہمیت بڑھتی ہی رہی۔
ہم بھی لڑکپن سے خطرناک عمر تک بڑھتے رہے اور بابا حاجی کا چڑچڑ اپن بھی ۔  مسلسل ٹوکا ٹاکی سے تنگ آکر ہم نے اپنے گینگ آف عوامی کالونی سے مل کر ایک گھناؤنا منصوبہ بنایا ۔ جس کا مقصد بابا حاجی کو اس حد تک زچ کرنا تھا کہ وہ ہمیں تنگ کرنے سے با ز آجائیں۔ اس وقت ہمیں اگر یہ پتہ ہوتا کہ ساری زندگی کی عادتیں اس عمر میں جا کے نہیں بدلتیں تو یقینا ہم یہ حرکت نہ کرتے۔ پر ہر بات  مناسب وقت پر ہی پتہ چلے تو اچھا ہوتاہے ورنہ زندگی بے رنگ ہوجاتی ہے۔
ہم نے گلی کی بچہ پارٹی کو اکٹھا کیا اورانہیں اپنے ساتھ کبھی کبھار کرکٹ کھیلنے کا لالچ دے کر اپنے منصوبے کا حصہ بنالیا۔  ایک دن شام کو جب بابا حاجی تھڑے پر تنہا بیٹھے تھے۔ سب سے پہلے باجی رانی کے صاحبزادے نے ان کے پاس سے گزرتے ہوئے کہا۔۔ بابا حاجی، سلاما لیکم۔۔ بابا حاجی نے خوش ہوکے جواب دیا۔۔ واالیکم سلام۔۔۔ دو منٹ بعد شیخ یونس کے تھتھّے صاحبزادے عدنان کی باری آئی۔۔ بابا ہادی۔۔ تھلامالیتم۔۔  انہوں نے غور سے اسے دیکھا اور جوابا  وعلیکم کہا۔۔ تیسرے بچے پر ان کا پارا تھوڑا چڑھ گیا۔۔ چوتھے پر انہوں نے چلا کے سلام کا جواب دیا۔ پانچویں کو گالی اور چھٹے کے پیچھے مارنے کو بھاگے۔۔۔
گلی میں ہونے والے خلاف معمول شور نے خواتین خانہ کی توجہ بھی مبذول کرالی اور  گھروں کے دروازے آباد ہوگئے۔ بابا حاجی  کو اپنے گھر کے سامنے کھڑے بآواز بلند گالیاں بکتے دیکھ اور سن کر خواتین ہکّا بکّا رہ گئیں کہ اس سے پہلے بابا حاجی کے منہ سے ایسے الفاظ کسی  نے نہیں سنے تھے۔ اب یہ روز کا معمول بن گیا۔ بچوں کے ہاتھ ایک کھیل آگیا۔۔ وہ دور سے ہی بابا حاجی کو دیکھ کر نعرہ لگاتے۔۔ بابا حاجی، سلاما لیکم۔۔ اور  وہ انہیں ایسی ایسی گالی دیتے کہ ان کی والدائیں گھروں کے اندر شرم سے دُہری ہوجاتیں۔  خواتین نے زنانہ چینل کی وساطت سے اپنی گذارشات ان کی بہو تک بھی پہنچائیں لیکن وہ بے چاری بھی کیا کرتیں۔ بگڑا ہوا بابا، سدھارنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا ہے۔
یہ تماشہ  سالہا سال جاری رہا۔ گلی سے بات نکل کے پورے محلے میں پھیل گئی۔ راہ چلتے لوگ انہیں ۔۔ بابا حاجی، سلاما لیکم ۔۔  کہہ کے ان کی گالیوں کا مزا لینے لگے۔ تماشبینی ہمارے خمیر میں شامل ہے چاہے اس میں ہمیں ہی گالیاں کیوں نہ پڑ رہی ہوں۔ بابا حاجی کو کبھی پتہ نہیں چل سکا کہ ان کے ساتھ یہ کھیل کھیلنے والے کون تھے ۔  سب یہی سمجھتے رہے کہ  بابا حاجی عمر کے تقاضے کی وجہ سے سٹھیا  گئے ہیں۔
اس وقت تو نہیں لیکن کافی عرصہ بعد ہم پر یہ کُھلا کہ پرہیزگاری اور تقوی کے زُعم میں گنہگاروں کو دیوار سے نہیں لگانا چاہیے۔ اگر وہ پلٹ کر حملہ آور ہوجائیں تو آپ کے اندر کا بابا حاجی جسے آپ ساری عمر مختلف طریقوں سے چھپا کے رکھتے ہیں وہ عُریاں ہو کر سب کے سامنے آجاتا ہے۔