ریٹائرڈ بزرگ کی ڈائری

رات جوڑوں میں درد کچھ سِوا تھا۔مرے پر سو دُرّے ،  نیند  کی دو گولیاں کھانے کے بعد آنکھیں مزید کھل گئیں۔ خدا خدا کرکے نیند آنے ہی لگی تھی کہ بیگم صاحبہ کے خرّاٹوں والی مشین چالو ہوگئی۔  خد اجھوٹ نہ بلوائے ایسے خوفناک خرّاٹے مارتی ہیں کہ کسی ہارر فلم کے بیک گراونڈ میوزک کا گمان ہوتا ہے ۔ جانے کس سائل کی بددعا لگی تھی جو ہمیں ایسی بیگم ملیں۔  ریٹائرمنٹ کے بعد تو اب کسی پر حکم چلانے کی حسرت ہی رہ گئی ہے۔پہلے گھر میں گزارے ہوئے وقت کی کسر ہم دفتر میں ماتحتوں اور سائلین پر نکال لیا کرتے تھے۔ اب تو ہمیں اپنا آپ کسی پنکچر سائیکل کی طرح لگتا ہے۔  ایسے دردناک خیالات کے جھرمٹ میں نجانے کس وقت نیند آگئی۔ خواب بھی شدید ڈراؤنے تھے۔ جس میں بیگم کے چھ ہاتھ اور دس ٹانگیں تھیں اور وہ ہمیں اپنی گرفت میں لے کر ایسے بھینچتیں کہ ہماری پسلیاں کڑ کڑ کرکے ٹوٹ جاتیں۔ پھر ہمیں ایلفی پینے پر مجبور کرتیں ۔ جس سے پسلیاں فورا جڑ جاتیں۔ یہ عمل بار بار دہرایا جاتا۔ اس خواب میں بیگم نے تشدد کی کچھ ناقابل بیان تکنیکس بھی استعمال کیں۔ جو ہم بوجہ شرم اور خوف بیان نہیں کرسکتے۔  اگلے منگل ،سائیکاٹرسٹ کے ساتھ اپائنٹ منٹ ہے۔  اس سے نئی پریسکرپشن لکھوانی پڑے گی۔
صبح  ،بیگم کی غُرّاتی ہوئی آواز سے ہماری آنکھ کھلی۔  ناشتے پر بلارہی تھیں جیسے کہہ رہی ہوں ۔۔ آؤ، کھا مرلو۔ مرتا کیا نہ کرتا۔۔ لشٹم پشٹم اٹھ کر ضروریات سے فارغ ہوا۔ اس میں بھی اب کافی دیر لگ جاتی ہے۔ یہ قبض بھی جان نہیں چھوڑتی۔بواسیر نے الگ جان عذاب کی ہوئی ہے۔  ٹھنڈی بدمزہ پھیکی چائے اور اکڑے ہوئے توس۔ یہ ناشتہ ہمیں تقریبا روز زہر مار کرنا پڑتا ہے۔ چائے ٹھنڈی ہونے کی شکایت پر،  بیگم نے کڑے تیوروں سے جواب دیا کہ اگر گرم چاہیے تو  واش روم میں ساتھ ہی لے جایا کرو۔جتنی دیر تم وہاں لگاتے ہو اتنی دیر میں سات کلومیٹر واک ہوجاتی ہے۔ ہم نے کان لپیٹ کر یہ سنا  اور اخبار لے کر برآمدے میں چلے آئے۔ دو تین گھنٹے تک ہم نے ٹینڈر نوٹس تک پڑھ ڈالے۔ اس ساری مشق سے ہمیں جو علم حاصل ہوا اس کو بانٹنے کے لیے سمارٹ فون کو آن کیا اور  دھڑا دھڑ فیس بک سٹیٹس اپ ڈیٹ کرنے شروع کردئیے۔  دیٹ  فیلز سووووو گُڈ۔ آخر کار ہم بھی ملک و قوم کی ترقی کے لیے اپنے حصے کا کام کررہے ہیں۔ اس جاہل قوم کو سمجھانے اور سیدھی راہ پر لانے کے لیے ہم نے بہت سے اقوال زرّیں ، اسلامی معلومات اور انقلابی نظریات والے فیس بک پیجز کو لائیک کیا ہوا ہے۔وہاں سے چُنیدہ تصاویر ہم اپنی وال پر شئیر کرتے ہیں اور موقع ملے تو ٹویٹ بھی کردیتے ہیں۔
اس مصروفیت میں تقریبا سارا دن گزر جاتا ہے۔ بیگم کے لیے تو ہم ایک اضافی سامان ہیں۔ جسے وہ سٹور میں ڈال کے بھول جاتی ہیں۔ خیر۔۔۔ ایسا سلوک تو وہ ہم سے جوانی میں بھی روا رکھتی تھیں اور اب تو ہم ان کے "کسی" کام آنے کے قابل بھی نہیں رہے۔  بوقت جوانی بھی کام کے دباؤ اور تھکن کی وجہ سے "ادویات" ہی استعمال کرنی پڑتی تھیں۔ لیکن اب تو "جدید" ادویات بھی کوئی اثر نہیں کرتیں۔  شاید بیگم ہمارے ساتھ جو کُتّے کھانی کرتی ہیں اس کی وجہ بھی یہی ہے۔ لیکن ہم بوجہ شرمندگی اور خوف ان سے پوچھنے کی جرات نہیں کرتے کہ  بیگم کی زبان بالکل  اسی طرح بے قابو ہے  جس طرح ہم سوشل میڈیا پر بے قابو ہیں۔ وہ ہمیں ایسے ایسے شرمناک طعنے  اور مہنے دیتی ہیں کہ مرد ہوکے بھی ہمیں ٹھنڈے پسینے آنے لگتے ہیں ۔  
مردانگی کی یہ ساری کمی ہم آن لائن پوری کرلیتے ہیں۔ کسی کو کچھ بھی کہہ دیں اور جیسے مرضی کہیں ، کوئی ہمیں پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ بالکل افسری والی فیلنگ آتی ہے اور ہمیں وہ سہانا زمانہ یاد آجاتا ہے جب ہم اپنے ماتحتوں اور سائلین کو نت نئی مُغلّظات سے نوازا  کرتے تھے۔ وہی مشق اب سوشل میڈیا پر کام آرہی ہے۔  ہمارے سٹیٹس کو دھڑا دھڑ لائیکس ملتے ہیں اور نوجوان نسل اس پر تعریف و توصیف والے کمنٹس کرتی ہے تو بالکل آرگیزم والی فیلنگ آتی ہے۔ جو کام جدید ریسرچ اور مہنگی ترین ادویات نہ کرسکیں وہ سوشل میڈیا نے کردکھایا ہے۔ اب ہمیں لطف حاصل کرنے کے لیے کسی دوسرے کی ضرورت نہیں۔ ہم اس معاملے میں خودانحصار ہوچکے ہیں۔ تین چار سٹیٹس اور بیس پچیس ٹویٹس سے ہمارا گھر پورا ہوجاتا ہے۔۔ الحمدللہ۔۔۔
سمارٹ فون اور سوشل میڈیا کی وجہ سے ہی ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی میں کچھ رنگ ہیں۔ یہ نہ ہوتے تو شاید ریٹائرمنٹ کے بعد ہمارے پاس فوت ہونے کے علاوہ کوئی آپشن نہ بچتا!۔