رانا، مولانا اور ایسکوبار

یہ منظر لاطینی امریکہ کے ملک کولمبیا کے دارالحکومت بگوٹا کے مضافات میں واقع ایک وسیع فارم ہاؤس کا ہے۔ سوئمنگ پول کے کنارے چھتریوں کے نیچے میزیں انواع و اقسام کے مشروبات سے سجی  ہوئی ہیں۔  یہ فارم ہاؤس میڈلین کارٹل کے سربراہ ایل مانچو کا ہے جہاں وہ بیرونِ ملک سے آنے والے خاص مہمانوں کی خاطر تواضع اور بزنس سے جڑے معاملات کو دیکھتا ہے۔ آج یہاں ایک بہت خاص مہمان بہت دور سے آیا ہے۔ اس کا تعلق میڈلین کارٹل سے اس وقت سے ہے جب پابلو ایسکوبار زندہ تھا۔ میڈلین کارٹل پر اچھے برے وقت آتے رہے لیکن اس مہمان کا تعلق کبھی کمزور نہیں پڑا۔
یہ مہمان پاکستانی سیاست کا جانا پہچانا نام رانا ثناءاللہ ہے!۔
ہلکے رنگ کی پولو شرٹ اور ٹراؤزر میں ملبوس سر پر تنکوں کا ہیٹ، کالے شیشوں کی عینک، ہاتھ میں ارغوانی مشروب کا جام اور منہ میں کیوبن سگار۔ یہ پاکستانی سیاست کا بڑا نام تو ہیں لیکن ان کی دوسری شناخت اتنی پراسرار اور چھپی ہوئی ہے کہ آج تک کوئی اس کا کھوج نہ لگا سکا تھا۔ یہ دہائیوں سے میڈلین کارٹل کے ساؤتھ ایشیا میں ایجنسی ہولڈر ہیں۔ 1993 میں جب نواز شریف کو حکومت سے نکالا گیا اور ان کے کاروبار زوال پذیر ہوئے تو انہیں اپنی سیاست کو زندہ رکھنے کے لیے خطیر وسائل کی ضرورت پڑی۔ رانا صاحب اس وقت پی پی پی میں تھے۔ ان کو میاں صاحب کی اس ضرورت کا پتہ چلا تو جون 1993 کی ایک گرم شام کو وہ ماڈل ٹاؤن میں شہباز شریف سے ملے اور اپنی خدمات پیش کیں۔ باقی تاریخ ہے۔
ایل مانچو سے رانا ثناءاللہ کی ملاقات ایک خاص مشن  بارے تھی۔ دنیا بھر میں ڈرگ کا بزنس سی آئی اے اور موساد کے ذریعے ہوتا ہے۔ 2017 کے وسط میں مغربی ممالک  کے طاقت کے مراکز میں پریشانی کی لہریں دوڑ رہی تھیں۔ انہیں علم ہوچکا تھا کہ پاکستان میں اگلی حکومت عمران خان کی ہوگی اور ان کی انٹیلی جنس ایجنسیاں بیس سال پہلے یہ نتیجہ نکال چکی تھیں کہ اگر عمران خان کو اقتدار مل گیا تو اس دنیا میں ایک نیا ورلڈ آرڈر تشکیل پائے گا جسے مسلمان کنٹرول کریں گے اور عمران خان اسے لیڈ کریں گے۔ 2013 میں کامیابی سے انہوں نے عمران خان کا راستہ روک لیا تھا لیکن اس دفعہ پوری مسلم دنیا پوری تیاری کے ساتھ عمران خان کے ساتھ تھی۔  2018 کے انتخابات میں مغربی طاقتوں کے بدترین اندیشے درست ثابت ہوئے اور پوری کوشش کے باوجود عمران خان کا راستہ نہ روکا جا سکا اور عمران خان وزیر اعظم پاکستان بن گئے۔
اس موقع پر ایک نئے پلان کو بروئے کار لایا گیا۔ رانا ثناءاللہ کے ذریعے ڈرگ منی اربوں کے حساب سے پاکستان میں لائی گئی۔ اس کے ذریعے پاکستان کی ریاست اور عمران خان کی حکومت کے خلاف مہم شروع کی گئی۔  25 اکتوبر 2018 کو ایک اسرائیلی جہاز اسلام آباد ائیرپورٹ پر لینڈ ہو اتھا۔ اس جہاز میں 90 ارب ڈالر کی کرنسی پاکستان لائی گئی۔ جب تک اداروں کو بھنک پڑتی یہ کرنسی ٹریلرز کے ذریعے فیصل آباد منتقل کردی گئی اور جہاز واپس چلا گیا۔
جن ٹریلرز کے ذریعے یہ ڈالرز منتقل کیے گئے انہی میں سے ایک ٹریلر کے ڈرائیور کا ضمیر جاگ گیا۔ وہ فیصل آباد انٹی نارکوٹکس کے دفتر پہنچا اور ساری تفصیل من و عن بتا دی۔ اس ڈرائیور کو حفاظتی تحویل میں لے کر تفتیش کا آغاز کیا گیا ۔ دورانِ تفتیش سارے سرے رانا ثناءاللہ تک پہنچے۔ ان کی نگرانی شروع کردی گئی۔ بالآخر دو مہینے کی کڑی نگرانی کے بعد ان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا ۔ رانا ثناءاللہ کی گرفتاری سے  پوری مغربی دنیا میں صفِ ماتم بچھ گئی۔ ان کو نظر آنے لگا کہ اب پوری دنیا میں اسلام کے غلبہ کو روکنا ناممکن  ہے۔
اس موقع پر مولانا فضل الرحمن نے اپنی خدمات پیش کر دیں!۔
مولانا مغربی طاقتوں کے ہمیشہ سے خاص دوست رہے ہیں اور ہر مشکل موقع پر انہوں نے اپنی وفاداری اور جانثاری ثابت کی۔  رانا ثناءاللہ کی گرفتاری کے کچھ عرصہ بعد مولانا عمرے کا بہانہ کرکے تل ابیب پہنچے اور امریکی، برطانوی، فرانسیسی اور اسرائیلی اعلی حکام سے تفصیلی ملاقاتیں کی۔ مولانا نے کہا کہ اگر انہیں مطلوبہ فنڈنگ فراہم کر دی جائے تو وہ عمران خان کی حکومت کو گرا سکتے ہیں اور ہمیشہ کی طرح مغربی طاقتوں کی دنیاپر اجارہ داری یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مولانا نے یقین دلایا کہ وہ ساری سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کرسکتے ہیں  کیونکہ سب کرپٹ ہیں اور عمران خان نے ان کے بڑے رہنماؤں کو شکنجے میں کس دیا ہے اور وہ کسی بھی صورت ان کو نہیں چھوڑے گا۔ اگر ان کو ذرا سی بھی امید ہوئی کہ عمران خان سے چھٹکارا مل سکتا ہے تو وہ دل و جان سے میرا ساتھ دیں گے۔ چار دن جاری رہنے والی ملاقاتوں میں اس منصوبہ  کی جزئیات طے کی گئیں اور مولانا  کو ان کی ڈیمانڈ کے مطابق 36  ارب ڈالرز کی فنڈنگ فراہم کردی گئی ۔
 اس طرح آزادی مارچ کا آغاز ہوا۔

چوتھی منزل

چھیما ڈیرے سے واپس آ رہا تھا۔ پِنڈ کی حد شروع ہونے میں دو پیلیاں باقی تھیں کہ اس نے بَنتو کو آتے دیکھا۔ بَنتو چودھری  زوار کی حویلی میں چودھرانی کی خاص تھی۔ چھیما یوں تو وڈھیری عمر کا تھا لیکن خوب کس کے بچے  کچھے بال کالے کرتا اور طیفے نائی سے شیو بھی خوب چھیل چھیل کر کراتا ۔ آنکھوں میں سُرمہ ڈالے ، لاہور بادشاہی مسجد کے نواح سے خریدا گیا عطر لگا کے گھوما کرتا ۔ بَنتو چھیمے کی جنٹل مین لُک پر مر مٹی تھی اور اکثر و بیشتر  کماد، حویلی، ڈیرے اور چودھری زوار کے منشی منّان کے گھر ان کی ملاقاتیں ہوتیں۔ چھیمے کی آواز منہ متھے لگتی تھی۔ فنکاروں کا بچّہ تھا، سُر کی پہچان تھی۔ بَنتو کو عنایت حسین بھٹی اور جازی بی کے گانے سناتا اور اس کی لائی ہوئی چُوری کے ساتھ کبھی کبھار حُسن کی سوغات بھی پاتا۔
بَنتو نے چھیمے کے قریب سے گزرتے ہوئے اسے آج شام منشی منّان  کے گھر ملنے کا کہا۔ چھیما خوش بھی ہوا لیکن اسے جیدے کی فکر بھی لگ گئی تھی۔ جیدا بھی چھیمے کی طرح منشی مانے کا ماتحت تھا۔  ویسے تو دونوں کی بہت بنتی تھی لیکن زن، زر، زمین فساد کی جڑ ہوتی ہے اور بَنتو ویسے بھی سینکڑوں میں ایک تھی۔ جیدا عمر میں اس سے کافی چھوٹا تھا اور اسے تیار ہونے میں بھی چھیمے کی طرح دو گھنٹے نہیں لگتے تھے۔ چھیما ہمیشہ بَنتو کو کہتا تھا کہ منشی کے گھر ملنا خطرے سے خالی نہیں لیکن بَنتو پچھلی وڈّی عید کی رات کماد والی ملاقات سے کافی یَرک چکی تھی۔ وہ تو چھیمے نے بعد میں بات سنبھالی  ورنہ بَنتو ہتھّے سے اکھڑ جاتی۔
چھیمے کے کرنے کو اب کافی کام اکٹھے ہوچکے تھے۔ اسے جیدے کو کسی کام سے شہر بھجوانا تھا۔ منشی مانے کے لیے درّے کی خالص چرس مہیّا کرنی تھی تاکہ منشی جی دو جوڑے لگا کر سرگی ویلے تک انٹا غفیل رہیں۔ پڑچھتّی کی صفائی کرنی تھی ۔ نیچے سے منجی لے جا کر اس پر پھول دار چادر اور رنگلا نیا کھیس بچھانا تھا۔ چھیما تِیر کی طرح نکلا اور چودھری صاحب کی حویلی میں منشی مانے کے پاس جا پہنچا۔ منشی کو کہہ کر جیدے کو شہر بھجوایا۔ منشی کو چرس دی اور شام ہونے سے پہلے منشی کے گھر پہنچ گیا۔ چھیما اور جیدا منشی کے گھر کی بیٹھک میں رہتے تھے۔مغرب سے پہلے چھیما کنگھی پٹّی کرکے تیار بیٹھا تھا۔
مولوی صاحب نے عشاء کی اذان دی تو آدھا پنڈ سو چکا تھا۔ چھیما نظر بچا کر چھت پر  گیا تو پڑچھّتی میں بچھی منجی پر بَنتو اپنی تمام حشر سامانی کے ساتھ آلتی پالتی مارے موجود تھی۔ بَنتو کے زانو پر رکابی دھری تھی جس میں دیسی گھی کی چُوری تھی۔ چھیمے نے بھی مِیدے حلوائی سے سپیشل بھنگ والے پکوڑے بنوائے تھے۔ چھیمے نے پکوڑوں کا لفافہ کھولا اور اپنے ہاتھ سے بَنتو کو پکوڑے کھلانے لگا۔ تیسرے پکوڑے پر ہی بَنتو بے خود ہو کر ہنسنے لگی تھی۔ پکوڑے ختم ہوئے تو چُوری کی باری آئی۔ ابھی دو نوالے ہی لیے تھے کہ یکایک جیدا سیڑھیوں سے نمودار ہوا۔ بَنتو گھبرا کر چھیمے سے اور لپٹ گئی۔ چھیمے کی ہوائیاں اڑی دیکھ کر جیدے کی آنکھوں میں شیطانی چمک اتر آئی۔ جیدا  ان کے سامنے دونوں ہاتھ پہلوؤں پر رکھ کر کھڑا ہوگیا اور کہا، "سانوں شہر بجھوا کے تے آپ کلّے کلّے چُوریاں کھا دیاں  جا  ریاّں نیں۔۔۔ ساڈا وی حصہ پاؤ۔۔ نئیں تے فیر کھپ ای پئے گی۔۔۔"
چھیمے نے بَنتو کے کان میں کہا سرگوشی کی کہ اس شوہدے کو بھی تھوڑی سی چُوری دے دیتے ہیں ورنہ بدنامی ہوجائے گی۔ بَنتو بادلِ نخواستہ مان گئی۔ سب چُوری کھا کر فارغ ہوئے تو بھنگ کے پکوڑوں نے بَنتو پر اثر دکھانا شروع کر دیا تھا۔ وہ روتے ہوئے چھیمے سے لڑنے لگی کہ تم تو میرے جانو ہو اس ناما نیم نے میری چُوری کیوں کھائی۔ چھیمے کو بھی اس پر غیرت آگئی۔ وہ لہراتا ہوا اٹھا اور ایک گھسن جیدے کے منہ پر دے مارا۔
چند لمحوں میں ہی پلاسی کی جنگ شروع ہوچکی تھی۔ دونوں لڑتے لڑتے سیڑھیوں سے لڑھکتے صحن میں جا گرے۔ آس پاس کے لوگ شور سن کر جاگ گئے تھے۔ مانا منشی بھی چرس کے نشے میں دھت اپنے کمرے سے نکلا۔ پیچھے سے منشی کی بیوی نے آواز دی کہ "دھوتی وی بَن لوو۔۔ کلا کرتہ ای پایا جے"۔۔۔ منشی جی جلدی سے کمرے میں گھس کر دھوتی باندھ کر باہر آئے تو چھیما اور جیدا لڑتے لڑتے گلی میں پہنچ چکے تھے۔ دونوں کے کرتے لیرو لیر ہوچکے تھے۔ ان کو چھڑانے کی کوشش میں بَنتو کا دوپٹہ بھی لا پتہ تھا اور وہ سینہ تانے گلی میں کھڑی جیدے کو بددعائیں دے رہی تھی۔
چودھری زوار کو اس ماجرے کی خبر ہوئی تو وہ سفید گھوڑی پر سوار منشی مانے کے گھر جا پہنچا۔ چھیما اور جیدا خونم خون، لیرو لیر کپڑو ں کے ساتھ ادھ مرے پڑے تھے۔ بَنتو ان کے قریب کھڑی واویلا کر رہی تھی۔ چودھری نے منشی مانے کو پکارا اور کہا ، "منشی! یہ ہمارا پنڈ ہے، تو نے اسے ہیرا منڈی بنا دیا ۔" درّے کی خالص چرس اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی۔ منشی مانے اپنے کرتے کا پلّو جھٹکا اور للکار کر چودھری کو جواب دیا، "چودھری صاحب! یہ میرا گھر ہے، آپ کا نہیں۔ اپنے کام سے کام رکھیں"۔
چودھری نے یہ سن کر کندھے سے لٹکی پکّی رائفل اتاری اور گھوڑی سے کود کر اترا!

ٹویٹو سلطان کی ڈائری


زوجۂ اقدس نے جھنجھوڑ کر جگایا تو ابھی صرف 11 بجے تھے۔ آنکھیں کھولنے کی کوشش کھڑکی سے آنے والی دھوپ نے  ناکام کی تو سائیڈ ٹیبل سے کالا چشمہ اٹھایا اور آنکھوں پر جما کر غور سے زوجۂ اقدس کو دیکھا۔ وہ اتنے میں ہی خوش ہو گئیں اور میرے فون کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ ہم نے فورا انتباہی کھنگورا مار کر انہیں اپنی ناپسندیدگی سے آگاہ کرنے کی کوشش کی۔ تِس پر انہوں نے فرمایا۔۔۔۔ جا کے کُرلی کر آؤ، تہاڈی چھاتی اچ ریشہ کھڑکدی پئی اے۔ ہم نے نیچے کھسکتے ٹراؤزر کو اوپر کیا اور کود کے بیڈ سے اترے۔ زوجۂ اقدس کے ہاتھ سے فون لیا اور انگشت شہادت اٹھا کر انہیں یوں مخاطب کیا۔۔۔ ہزار دفعہ عرض کی ہے کہ ہمارے فون کو ہاتھ مت لگایا کریں کیونکہ بقول علامہ صاحب "جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں"۔۔۔  غلطی سے کوئی چیز ریٹویٹ یا فیورٹ ہوگئی تو اس نقصان کا بھگتان کون کرے گا؟ یہ درست ہے کہ آپ کے روحانی درجات بہت بلند ہیں لیکن شوہر بھی مجازی خدا ہوتا ہے۔ اگر کسی انسان کو سجدہ جائز ہوتا تو بیوی شوہر کو سجدہ کرتی۔
زوجۂ اقدس یہ لیکچر سن کر کچھ بدمزہ ہوئیں۔ جس سے ان کا چہرہ کرپان جیسا ہوگیا۔ ہم نے فورا عینک اتار کر ٹی شرٹ کے دامن سے آنکھوں کی کِیچ صاف کی ۔مسکرا کر زوجۂ اقدس کی طرف دیکھا اور ان کا ہاتھ تھام کر چومنے کی کوشش کی۔ انہوں نے فورا ہاتھ چھڑا  کرفرمایا، پہلے منہ سے نکلنے والی رال تو صاف کرلیں۔ ہم شرمندہ ہوئے اور فورا واش روم کی طرف لپکے۔ ہاتھ منہ اور دیگر ضروری اعضاء دھو کر باہر نکلے تو زوجۂ اقدس ہنوز موجود تھیں۔ ہم نے تولیہ کی تلاش میں نظریں دوڑائیں۔ تولیہ نظر نہیں آیا تو زوجۂ اقدس کے دوپٹے سے منہ صاف کیا۔ اس میں کافور کی بھینی بھینی خوشبو بسی ہوئی تھی۔ آخرت یاد آگئی۔
بالوں میں ہاتھ پھیر کر گنج چھپایا۔ کالی عینک لگائی۔ بیڈ کے کنارے پر ٹک کر ہم نے زوجۂ اقدس سے اتنی سویرے جگانے کا سبب دریافت کیا۔ زوجۂ اقدس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ فرمانے لگیں ،  ہمسایوں نے آج پھر ہمارے گھر کے باہر کوڑا پھینکا ہے۔ کتنی دفعہ منع کیا لیکن بات ہی نہیں سنتےبلکہ آج تو چودھری شہریار کی بیوی نے دروازے سے سر نکال کر ہمیں چیلنج بھی دیا کہ جو  کرسکتی ہو کرلو، ہم تو کوڑا یہیں پھینکیں گے۔ یہ سنتے ہی جلالِ شاہی سے ہمارا جسم کانپنے لگا۔ زوجۂ اقدس ایک دم پریشان ہوگئیں۔ ہمارے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔ ہتھیلیاں چَسنے لگیں کہ شاید ہمیں پھر دورہ پڑ گیاہے۔ ہم نے ہاتھ چھڑائے اور فرمایا، ہم جلالِ شاہی سے لرز رہے ہیں ہمیں ڈوز لیٹ ہونے والا دورہ نہیں پڑا۔ یہ سن کر زوجۂ اقدس کی جان میں جان آئی۔
ہم نے گرجدار آواز میں حکم دیا کہ ہمارا فون لایا جائے آج ہم چودھری شہریار کو ایسا سبق سکھائیں گے کہ ان کی آنے والی نسلیں یاد کریں گی۔  زوجۂ اقدس  نے چھِبّی دے کر فرمایا، بولن توں پہلے جیباں تے چیک کرلیا کرو فون تہاڈی جیب اچ ای ے۔  ہم نے ڈھیٹ بن کر جلالِ شاہی جاری رکھتے ہوئے فرمایا، ہماری  دلاری زوجۂ اقدس کی شان میں گستاخی اور ہماری حق حلال کی سرٹیفائیڈ آمدنی سے بنے گھر کے سامنے کسی کی جرأت کیسے ہوئی کہ کوڑا پھینکے۔ ہم نے فورا  جیب میں ہاتھ ڈال کر فون نکال کر بِلّو بادشاہ والا اکاؤنٹ لاگ ان کیا اور چودھری شہریار کے خلاف "شہر یار پر خدا کی مار" ٹرینڈ شروع کر دیا۔ ڈی ایم گروپ  میں ہم نے اپنی سائبر فورس کے اہم کمانڈرز کو طلب کرکے چودھری شہریار، اس کی بیوی اور بیٹی کے اکاؤنٹس شئیر کیے اور ان کو حکم دیا کہ ان عاقبت نا شناس لوگوں کو ایسا سبق سکھائیں کہ یہ کبھی دوبارہ کسی شریف اور مہذب انسان کو تنگ کرنے کا سوچ بھی نہ سکیں۔ ہم نے چودھری شہریار کی خاندانی تصاویر جو ان کے فیس بک پروفائل سے ہم نے سیو کر کے رکھی تھیں، وہ بھی سائبر فورس کے کمانڈرز کے حوالے کیں اور ان کو حکم دیا کہ یہ تصاویر فوٹو شاپ کور کے حوالے کی جائیں اور جلد از جلد چودھری کے ٹوئٹر اور فیس بک پروفائل پر چاروں طرف سے حملہ کر دیا جائے۔ (اصل میں ان کی بیوی اور بیٹی دونوں بہت خوبصورت ہیں۔ لتا جی بھی فرما گئی ہیں۔۔ "دل تو ہے دل، دل کا اعتبار کیا کیجے۔۔ آگیا جو کسی پہ پیار کیا کیجے")۔
زوجۂ اقدس خاموشی سے ہماری طرف دیکھ رہی تھیں۔ سائبر فورس کو حملے کا حکم دے کر ہم فارغ ہوئے تو فرمانے لگیں کہ پھر ہمسایوں کا کیا کرنا ہے۔ ہم نے فخر سے اپنا فون ہوا میں بلند کیا اور انہیں بتایا کہ چودھری شہریار اور اس کے پورے خاندان کو ہم اگلے ایک گھنٹے میں ذلیل کرکے رکھ دیں گے۔ زوجۂ اقدس نے ہماری طرف اہانت بھری نگاہ ڈالی اور یہ فرما کے بیڈروم سے خروج کرگئیں 
"تہاڈے نالوں تے شیرو چنگا اے،وڈّھے پاویں ناں، پونک تے لیندا اے"

مونٹانا کا کیبن اور خلائی مخلوق

یہ امریکی ریاست مونٹانا کے پہاڑی سلسلے کے دامن میں واقع گھنے جنگلات کا منظر ہے۔ انسانی آبادی کی رسائی سے دور اس خوبصورت علاقے میں گھنے جنگلات کے بیچوں بیچ بہت بڑے رقبے پر ایک فارم ہاؤس نما محل  واقع ہے۔ پہاڑوں پر جاتی دھوپ شام ڈھلنے کی خبر سنا رہی ہے۔ اس فارم ہاؤس پر غیر معمولی چہل پہل ہے۔ یہ فارم ہاؤس امریکی سیاست کو کنٹرول کرنے والے طاقتور عناصر کی خفیہ ترین سوسائٹی "ایلیزئین فیلڈز" کا  ہیڈ کوارٹر ہے۔  فارم ہاؤس پر جاری سرگرمیوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کوئی اہم تقریب منعقد ہونے جا رہی ہے۔ افق پر پھیلی سرخی غائب ہوتے ہی سیاہ رنگ کی ایس یو ویز کی آمد شروع ہوگئی جو قریب ایک گھنٹہ تک جاری رہی۔ ٹھیک جب آسمان نے سیاہی کی چادر اوڑھی اور ستارے نظر آنے شروع ہوئے تو تقریب کا آغاز ہوا۔
ندی کے کنارے ایک طویل میز بچھی تھی جس پر انواع و اقسام کے بیف سٹیک اور وہسکی سجی تھی۔ میز کے گرد پڑی کرسیاں پُر ہوگئیں تو سینٹ کے اکثریتی لیڈر سینیٹر مِچ مک کونل کھڑے ہوئے  اور میٹنگ کی غایت بیان کرتے ہوئے بتایا کہ چند ماہ سے انٹیلی جنس رپورٹس، ناسا رپورٹس اور پوری دنیا میں پھیلے امریکی سفیروں کی جانب سے بہت خطرناک اور عجیب رپورٹس مل رہی ہیں۔ انٹیلی جنس رپورٹس کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سب ایجنسیز خدشہ ظاہر کر رہی ہیں کہ امریکہ پر ایسا دہشت ناک حملہ ہونے کی اطلاع ہے جس میں پورا براعظم تباہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے لیکن ایجنسیز اس بارے کوئی بھی سراغ حاصل کرنے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہوسکیں۔
سینیٹر نے مزید بتایا کہ سب سے  عجیب ناسا کی رپورٹس ہیں۔ انٹرنیشنل سپیس سٹیشن اور مریخ پر بھیجے گئے مشنز  سے کچھ عجیب سگنلز اور پراسرار واقعات رونما ہونے کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے مارس روور کی جانب سے کھینچی گئی ایک تصویر بھی دکھائی جس میں ایک عجیب الخلقت مخلوق نظر آرہی ہے جس کے سر پر دو سینگ ہیں اور دانت باہر نکلے ہوئے ہیں۔ اس کا رنگ سرخ  اور لمبے بازو ہیں۔ ہاتھوں کی دس انگلیاں ہیں جن پر تیز اور لمبے ناخن بھی نظر آرہے ہیں۔ تصویر دیکھ کر حاضرین میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔
سفارتخانوں کی رپورٹس میں بتایا گیا کہ بغیر کسی ظاہری وجہ کے ہر ملک میں امریکہ کے خلاف نفرت میں یکدم اضافہ ہوگیا ہے۔ عوام سے لے کر حکومتوں تک سب کا رویہ بدل رہا ہے اور امریکی مفادات کو دنیا بھر میں شدید خطرات لاحق ہیں۔
سینیٹر مِچ مک کونل بات ختم کرکے کرسی پر بیٹھے اورگلاس اٹھا کر وہسکی سِپ کی۔ برنی سینڈرز اسی اثناء میں کھڑے ہوچکے تھے اور صدرِ محفل  ڈونلڈ ٹرمپ کی اجازت سے بات کرنے لگے۔ برنی سینڈرز نے بتایا کہ جیسے آپ سب جانتے ہیں کہ ان کو ڈریم وژنز ہوتے ہیں اور 90 فیصد تک یہ وژنز درست ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے چند ماہ سے وہ ایک وژن بار بار دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ پر خلائی، شیطانی اور انسانی مخلوق حملہ آور ہوتی ہے اور اس کو صیہونیوں کی حمایت حاصل ہے۔ جیسا کہ مقدس کتابوں میں آرما گیڈن کا ذکر ہے تو صیہونی اس کو برپا کرکے امریکہ کو تباہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ پوری دنیا پر ان کا غلبہ ہوجا ئے۔
برنی سینڈرز ایک لحظہ کے لیے رکے اور بات جاری رکھتے ہوئے کہنے لگے کہ ان وژنز میں پچھلے چند دن سے ایک اور وژن کا اضافہ ہوا ہے۔ اس ساری تباہی کو روکنے کی طاقت ایک شخص کے پاس ہے جو ماورائی فوج پر دسترس رکھتا ہے۔ اس کے پاس ایسی طاقتیں ہیں جن کا کوئی منطقی یا سائنسی وجود ثابت نہیں کیا جاسکتا لیکن یہ طاقتیں حقیقت ہیں۔ برنی سینڈرز نے رک کر گہرا سانس لیا اور کہا کہ اب جو میں کہنے جا رہا ہوں اسے تحمل سے سنیں۔ اس ساری تباہی کو روکنے کے لیے ہمیں اس شخص کو اپنا رہنما بنانا ہوگا اور جس عقیدے پر وہ قائم ہے اس پر ہمیں بھی ایمان لانا ہوگا۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر ہم اس تباہی کو ٹال سکتے ہیں۔
یہ کہہ کر برنی سینڈرز بیٹھ گئے اور صدر ٹرمپ  کھڑے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ساری معلومات برنی سینڈرز پچھلے دنوں میرے پاس لے کر آئے تھے اسی لیے آج ایلیزئین فیلڈز کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا ہے۔ برنی سینڈرز نے اپنے وژنز میں جس شخص کو دیکھا، آج وہ بھی یہاں موجود ہے۔ سینیٹر سینڈرز نے جن ماورائی طاقتوں کا ذکر کیا اس کا مشاہدہ میں نے خود کیا ہے اور میں حیران ہوں کہ ایسے عظیم شخص کو ہم کیسے نظر انداز کرتے رہے۔ یہ کہہ کر انہوں نے ندی کنارے موجود چھوٹے سے کیبن کی طرف اشارہ کیا۔ سب گردن موڑ کر ادھر دیکھنے لگے۔
 کیبن کا دروازہ کھلا اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان باہر نکلے۔ ایلیزئین فیلڈز کے سارے ارکان ششدر رہ گئے۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ آج سے ایلیزئین فیلڈز اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ وزیر اعظم عمران خان کے غلام ہیں۔ ہم انہیں اپنا قائد، سربراہ، بادشاہ، رہنما سب تسلیم کرتے ہیں اور ان کے عقیدے کو سچا تسلیم کرتے ہوئے اسلام قبول کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔
رات ڈھل رہی تھی۔ مونٹانا کی اس دور افتادہ وادی پر چاند پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔ کیبن کے باہر وزیر اعظم عمران خان سیاہ شلوار قمیص میں معمول سے زیادہ وجیہہ لگ رہے تھے۔ ایلیزئین فیلڈز کے سب اراکین اپنی کرسیوں سے اٹھے  اور باری باری وزیر اعظم عمران خان کی بیعت کرنے لگے۔
دنیا صیہونی سازش سے بچائی جا چکی تھی۔

ٹوٹے حضورِ والا، ٹوٹے

ہیہات ۔۔ہیہات۔۔۔۔ تاریخ کے چوراہے پر بے سدھ ہم پڑے ہیں اور دنیا حظ کشید کرتی ہے۔ کوئی مردِ کار ہے جو پکار کے کہے، ہالٹ!  ہیہات ۔۔ ہیہات۔۔۔۔
مضمون  کوئی پرانا نہیں ہوتا۔ انسان قدیم ہے، کائنات قدیم تر۔ فطرت سے اغماض ہو نہیں سکتا۔ کون ہے جو لذائذ دنیا سے کنارہ کرلے مگر درویش۔ خدا نے جو راحتیں انسان کو ارزاں کیں کوئی بدبخت ہی ان سے کنارہ کر سکتا ہے۔ کیا پرندوں کا گوشت، پھلوں کا عرق، شباب شجر ممنوعہ ہیں؟ خدا کی خدائی میں یہ دخل ہے۔بے طرح دل بے قرار ہوا۔ ایک ہی ٹھکانہ جہاں قرار نصیب ہے۔  درویش کہ اب تک وجیہہ ہے، عنفوانِ شباب میں وجاہت کانمونہ تھا۔ درسگاہ کی طالبات کہ ہمہ وقت جھمگٹا درویش کے گرد بنائے رکھتیں۔ ذوق مگر اس وقت بھی اعلی۔ کبھی گہری رنگت اور فلیٹ ارتھ کو آنکھ جھپک کر نہ دیکھا۔آج بھی اس وقت کو یاد کرتے درویش کی نگاہوں میں چئیرمین نیب  کو دیکھا جا سکتا ہے۔
شام کا جھٹپٹا تھا جب درویش کی کٹیا میں طالب علم داخل ہوا۔ کھٹکے پر درویش نے یکدم آئی پیڈ میز پر الٹا  دیا۔ طالبعلم کو دیکھا تو خورسند ہوا۔ آئی پیڈ اٹھایا اور اشارے سے پاس بلایا۔ سبحان اللہ۔۔۔ آنسہ آشا ٹاکیہ کی گوگل امیج سرچ کے رزلٹس تھے۔ من بیک وقت شانت و بے قرار ہوا۔ آدھ گھنٹہ درویش و طالبعلم  خدائے لم یزل کی صناعی کا نظارہ کرتے رہے۔  دل کا ادبار کچھ ہلکا ہوا تو درویش سے دبدھا بیان کی۔ انسان کہ بیک وقت کمزور و توانا ہے۔ فطرت کے خلاف وہ جا نہیں سکتا الاّ یہ کہ درویش ہو یا کپتان یا سپہ سالار۔ مصروف طعام یا مشغولِ وظیفہءبقائے انسانیت؛  کوئی بدبخت کیسے کسی کو فلم بند کرسکتا ہے۔ ظلم ہے یہ حضورِ والا، صریح سفاکی۔ دل لہو ہوتا ہے۔ ایسی روشن تاریخ  کے ہم وارث ہیں کہ ستاروں کو شرمائے اور حالت یہاں تک آ پہنچی کہ فطری تقاضوں کو سلیکون چپ پر ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ کوئی جائے اور ان کو بتائے کہ بندگانِ خدا کو شرمندہ کرنا  عذابِ الہی کو دعوت دینا ہے۔
امیرالمؤمنین خلیفہ ہارون الرشید کہ نامِ نامی ان کا تاریخ میں فلوریسنٹ سے لکھا ہے، روایت ہے کہ حرم ان کا پوری دنیا سے چنیدہ مہ وشوں سے آباد تھا۔ کیا امیر المؤمنین ان سے لڈّو کھیلتے تھے؟ واللہ ہرگز نہیں۔ آپ امورِ سلطنت و اشاعتِ دین سے تھک جاتے تو حرم میں تشریف لے جاتے۔ چند گھنٹوں کی خوش وقتی سے توانائی بحال ہوتی۔ اگلی صبح اسی توانائی کے ساتھ امورِ سلطنت میں مشغول ہوجاتے۔ دربار لگا تھا، ایک مشیر نے دریافت کیا، یا امیر المؤمنین! آپ کیسے اتنے کام نبٹا لیتے ہیں۔ آپ نے ایک لحظہ توقف  کیا  اور ایسا جواب دیا جو رہتی دنیا تک  فیس بک پیجز کی زینت بنا رہے گا، "ایک مہ وش کی آغوش ہزار ریڈ بُلز سے زیادہ توانائی آور ہے"
درویش ہمہ تن گوش تھے۔ طالبعلم کی بے قراری پر ان کا دل ملول ہوا۔ چہرہ غم سے متغیّر ہوا۔ کافی مگ میں کھیسے سے چپٹی بوتل نکال کر کچھ محلول ڈالا، مگ کو انٹی کلاک وائز حرکت دی، محلول کو سونگھ کر ایک لحظہ کے لیے آنکھیں میچیں اور ہلکا سا سِپ لیا۔ طالبعلم کی طرف بغور دیکھا۔ انگشت وسط اٹھائی اور گویا ہوئے،  مینوں کِی دسداں۔۔۔ میرے اپنے ٹوٹے بنے ہوئے نیں۔
ہیہات ۔۔ہیہات۔۔۔۔ تاریخ کے چوراہے پر بے سدھ ہم پڑے ہیں اور دنیا حظ کشید کرتی ہے۔ کوئی مردِ کار ہے جو پکار کے کہے، ہالٹ!  ہیہات ۔۔ ہیہات۔۔۔۔

یوٹوپیا

شہر میں ہُو کا عالم تھا۔ سڑکیں خالی اور گنجان آباد شہروں کا مخصوص شور غائب تھا۔ حیرانی کی بات  تھی کہ کاریں، موٹر سائیکلیں، پک اپ ٹرک، گدھا گاڑیاں، تانگے سڑکوں پر بے ترتیبی سے کھڑے نظر آتے تھے جیسے یکدم کسی نے صور پھونک دیا ہو  یا جادو  کے زور سےسب غائب ہوگئے ہوں۔ شاپنگ مالز، بازار، تعلیمی ادارے، اسپتال،  عدالتیں، تھانے کسی بھی جگہ کوئی انسان نظر نہیں آ تاتھا۔ آوارہ جانور ہر طرف مٹر گشت کرتے نظر آتے ۔ ویرانی دیکھ کر اکا دکا جنگلی جانور بھی شہر کے مضافات سے آگئے تھے۔  رات ہونے کو تھی۔ اچانک دور سے گھوڑے کی ٹاپوں کی آواز آئی۔سفید گھوڑے پر سوار ایک شخص نمودار ہوا۔ اس کے ہاتھ میں چمڑے کا دُرّہ تھا۔ شہر کے مرکزی چوک میں رک کر وہ گھوڑے سے اترا۔ دُرّہ شڑاپ کی آواز کے ساتھ ٹریفک سگنل پر مارا اور کہا، میں نے کہا تھا کہ کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔ اب بھی اگر کوئی کہیں چھپا ہے تو ظاہر ہو کر حساب دے ورنہ اس کا انجام بھی باقی سب جیسا ہوگا۔
یہ یوٹوپیا کے دارالحکومت کا منظر تھا۔ پورے ملک میں یہی حالات تھے۔ گھڑسوار شخص یوٹوپیا کا حکمران دُھر عالم تھا۔ چند سال پہلے اس نے "چند لوگ چور ہیں" کے نعرے پر حکومت سنبھالی۔ دُھر عالم نے یوٹوپیا کے لوگوں کو یقین دلایا تھا کہ اس کے حکومت میں آتے ہی ہر طرح کی کرپشن ختم ہوجائے گی جس کی وجہ سے آج تک یوٹوپیا ترقی نہیں کرسکا تھا۔ جرائم کا خاتمہ ہوجائے گا اور وہ الوہی ریاست قائم ہوگی جس کا وعدہ آسمانی کتابوں میں کیا گیا ہے۔
اقتدار سنبھالنے کے چند ماہ بعد دُھر عالم کو اندازہ ہوگیا  کہ چند لوگ چور نہیں ہیں بلکہ ساری قوم ہی چور ہے۔ اس نے تین سال لوگوں کو سمجھایا کہ چوری چھوڑ دیں اور حکومت کو محصولات ایمانداری سے ادا کریں لیکن قوم بگڑ چکی تھی۔ایک گدھا گاڑی والا بھی  بیس ہزار کا موبائل لے کر گھومتا تھا اور جب اس سے منی ٹریل مانگی جاتی کہ اس کے لیے پیسے کہاں سے آئے؟ گدھے کے لیے چارہ خریدنے کی رسیدیں کدھر ہیں؟ تو وہ اشتعال میں آجاتا اور پورے شہر میں گدھا گاڑیوں کی ہڑتال ہوجاتی۔  حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ دفاع کے لیے بھی مطلوبہ رقم کا انتظام کرنا مشکل ہوگیا۔ اس موقع پر دُھر عالم کو  پتہ چلا کہ اسے یوٹوپیا کے لوگوں کے لیے عذاب بنا کر بھیجا گیا ہے۔
اگلے ہی دن دُھر عالم نے سارے ملک کی بجلی اور گیس بند کردی۔ پٹرول پمپ، ریلوے اسٹیشن، ائیر پورٹس، شپنگ پورٹس ، اسپتال، تعلیمی ادارےسب ختم کردئیے ۔ اس سے خطیر رقم کی بچت ہوئی۔ یوٹوپیا کی آبادی خطرناک حد تک بڑھ چکی تھی۔ ان اقدامات سے آبادی میں فوری کمی ہونی شروع ہوگئی۔ لوگ شہروں کو چھوڑ کر جنگلوں اور ویرانوں کی طرف جانے لگے۔ جہاں بھی لوگوں کی بڑی تعداد اکٹھی ہوتی؛  دُھر عالم کے حکم پر اس کے ارگرد خاردار تار کی باڑ لگا کر اس میں کرنٹ چھوڑ دیا جاتا تاکہ کوئی باہر نہ نکل سکے۔ یوٹوپیا میں ایسے سینکڑوں کیمپ قائم ہوگئے۔ آبادی کم ہونے سے ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ زمین کو قدرتی کھاد میسر آئی جس سے ان کیمپوں کی زمین زرخیز ہوگئی۔لوگ  خوراک کے لیے کھیتی باڑی کرنے لگے۔ کچھ عرصہ بعد جن کیمپس کے لوگ  زیادہ اناج پیدا کرنے لگے ان کو حکومتی فارمز پر شفٹ کردیا گیا تاکہ وہ دفاعی اداروں اور ان کے خاندانوں کے لیے اناج پیدا کریں۔
دُھر عالم جب بھی کسی کیمپ کے قریب سے گزرتے تو ادھیڑ عمر خواتین کیلے کے پتے لپیٹے بے اختیار باڑ کی طرف لپکتیں۔ باڑ میں کرنٹ کی پروا کیے بغیر اس کو عبور کرنے کی کوشش کرتیں اور الجھ کر رہ جاتیں۔ آخری سانسیں لیتے ہوئے بھی ان کے لبوں سے"ہینڈسم "ادا ہوتے ہوئے سنا جا سکتا تھا۔
چند سال میں ہی یوٹوپیا کے تمام غیر ملکی قرضے ختم ہوگئے۔ بجلی اور گیس کی ضروریات چونکہ نہایت محدود ہوچکی تھیں لہذا دُھر عالم نے بجلی اور گیس کی برآمد سے خطیر زر مبادلہ کمایا۔ برآمدات نہ ہونے کی برابر رہ گئی تھیں جس سے امپورٹ بل بھی نہ ہونے کی برابر رہ گیا۔ چور عوام کی تعلیم ، صحت، انفراسٹرکچر پر جو پیسہ ضائع ہوتا تھا اب وہ بھی بچت میں شامل ہوگیا۔ یوٹوپیا چند سال میں ہی اقوام عالم کی صف میں ایک ممتا زمقام پر فائز ہوچکا تھا۔زرمبادلہ کے ذخائر اتنے زیادہ ہوچکے تھے کہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف بھی یوٹوپیا سے قرض لینے لگے۔ پوری دنیا سے چوٹی کے ماہرین یوٹوپیا میں ملازمت کی خواہش کرتے تھے لیکن ان میں سے چند خوش نصیب ہی کامیاب ہوتے تھے۔
آج بھی دُھر عالم رات کے آخری پہر بھیس بدل کر نکلتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیا چور عوام میں سے کوئی ابھی تک چھپا تو نہیں ہوا۔ یوٹوپیا  کے شہروں میں اب بھی رات کے وقت دُھر عالم کی آواز گونجتی ہے۔۔۔۔۔
کسی کو نہیں چھوڑوں گا!

ظفر کمال اور ڈولی

آپ  ظفر کمال کو دیکھ لیں۔ آپ ان کی زندگی پر نظر دوڑائیں۔ آپ حیران رہ جائیں گے۔ یہ فلاسفر، دانشور، حکیم، شاعر، مصنف، پریمی اور منصف ہیں۔ ایک بندے میں اتنی خوبیاں شاذو نادر دیکھنے کو ملتی ہیں۔ پولینڈ کی کہاوت ہے کہ ہر صدی میں ایسے دو انسان ہوتے ہیں جن میں یہ خوبیاں موجود ہوں۔ ہم برصغیر کو دیکھیں۔ ہم جان جائیں گے کہ پچھلی صدی میں علامہ اقبال ایسی شخصیت تھے اور اس صدی میں جناب ظفر کمال۔  یہ لاہور کے مضافات میں سپاہیانوالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کی زندگی جدوجہد سے عبارت ہے۔ یہ بچپن سے ہی خوبصورت اور ذہین تھے۔ سکول میں اساتذہ ان سے بہت محبت کرتے تھے۔ ہر جماعت میں یہ بآسانی پاس ہوجاتے۔ کالج اور یونیورسٹی میں بھی ان کی ذہانت اور حسن کے چرچے تھے۔ یہ جب آنکھوں میں سُرمہ لگاتے۔ بالوں میں چنبیلی کا تیل لگا کر پٹیاں جما کر باہر نکلتے تو لوگ انگلیاں منہ میں داب لیتے۔
ایجوکیشن کمپلیٹ کرنے کے بعد یہ سرکاری افسر بن گئے۔ ان کی فرض شناسی، معاملہ فہمی نے ہر طرف دھوم مچا دی۔ یہ افسر بن کر بھی سپاہیانوالہ کو نہیں بھولے۔ یہ ہر ویک اینڈ پر وہاں جاتے۔ یہ سپاہیانوالہ کی پنچائت کے سر پنچ بھی ہوگئے۔ یہ لوگوں کے جھگڑوں اور لڑائیوں میں منصف بن گئے۔ یہ کبھی انصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے تھے۔ فریقین ان کا فیصلہ ہنسی خوشی قبول کرتے۔ یہ ہر ویک اینڈ پر واپس آتے تو ان کے سکوٹر کی ٹوکری اور پچھلی سیٹ مختلف چیزوں سے لبالب بھری ہوتی۔ کوئی ان کو مرغیاں دے جاتا۔ کوئی ہدوانے اور گنے دے جاتا۔ کوئی دیسی گھی اور کوئی پنجیری۔ لوگ ان کو نقد نذرانے بھی دیتے۔ ان کی جیب بھر جاتی۔ یہ درویش طبیعت کے تھے۔ یہ پیسے اپنے پاس نہیں رکھتے تھے۔ یہ انہیں اپنے چپراسی کے اکاؤنٹ میں جمع کرا دیتے۔ چپراسی  کا نام عنایت اللہ تھا۔ یہ میانوالی کے علاقے عیسی خیل کا رہائشی تھا۔ ظفر کمال کو اس سے خاص انسیت تھی۔ یہ اسے کبھی ماتحت نہیں سمجھتے تھے۔ یہ اسے کبھی کبھار سکوٹر پر بٹھا کر راوی کنارے بھی لے جاتے۔ یہ دونوں گھنٹوں راوی کنارے جنگلات میں چہل قدمی کرتے ۔ یہ گنے بھی چوپتے ۔ یہ چھلیاں بھی کھاتے۔
ایک دن ظفر کمال کی لائف میں ایک دم چینج آگیا۔ یہ ویک اینڈ پر سپاہیانوالہ میں پنچائت اٹینڈ کرنے گئے۔ پنچائت میں خلاف معمول رش زیادہ تھا۔ یہ سرپنچ کی کرسی پر جا کر بیٹھے تو سب خاموش ہوگئے۔  اچانک ایک جوان العمر دوشیزہ اٹھی۔ سَرو قد۔ کتابی چہرہ۔ میدہ شہاب رنگت۔ بھرے بھرے ہونٹ۔ بادامی آنکھیں۔ گولائیوں اور قوسوں میں تِرشا سراپا جسے ریشمی چادر بھی چھپانے میں ناکام تھی۔ دوشیزہ نے ظفر کمال کی طرف دیکھا اور یوں مخاطب ہوئی،
"میرا نام ڈولی جوئیہ ہے۔ میرے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے۔ دشمنوں نے میرے شوہر کو جھوٹے الزام میں پھنسا کر گرفتار کرا دیا ہے۔ تھانے میں کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ کسی نے آپ کا ذکر کیا کہ ظفر کمال کے پاس جاؤ۔ انصاف ملے گا"۔
ظفر کمال کی نظریں بے اختیار جھک گئیں۔ یہ باعزت اور شرم حیا والے انسان تھے۔ یہ کبھی کسی کی دھی بہن کو غلط نظروں سے نہیں دیکھتے تھے۔ ظفر کمال نے ڈولی جوئیہ کو تسلی دی اور کہا کہ اس کے ساتھ ضرور انصاف ہوگا۔ انہوں نے ڈولی کو اگلے منگل اپنے دفتر آنے کا کہا۔
ڈولی جوئیہ اور اس کا شوہر  طارق حفیظ فراڈئیے تھے۔ یہ مالدار ادھیڑ عمر مردوں کو ڈولی کے جال میں پھنسا کر بلیک میل کرتے تھے۔ ڈولی فون پر ان کے ساتھ گندی باتیں کرتی تھی۔ یہ ساری کالیں ریکارڈ کر لیتے تھے۔ یہ بعد میں ان لوگوں کو بدنام کرنے کی دھمکی دیتے تھے۔ یہ ان کو لوٹ لیتے تھے۔ ظفر کمال ان کا نیا شکار تھا۔ منگل والے دن ڈولی ڈیپ کٹ کی سکائی بلیو پرنٹڈ شرٹ اور بلیک ٹراؤزر میں ملبوس، ڈارک گلاسز لگائے ظفر کمال کے دفتر میں جا پہنچی۔ عنایت اللہ نے ڈولی کو دیکھا تو اس کی فوک وزڈم نے الارم بجا دیا۔ وہ سمجھ گیا کہ یہ عورت خطرناک ہے۔ وہ ظفر کمال کو خبردارکرنا چاہتا تھا لیکن اسی اثناء میں ڈولی دفتر میں داخل ہو چکی تھی۔ ظفر کمال ڈولی کو اس حلیے میں دیکھ کر حیران رہ گئے۔ یہ ڈولی اس پنچائت والی ڈولی سے بالکل مختلف تھی۔ ظفر کمال نے ڈولی کو بیٹھنے کو کہا۔ ڈولی اک ادائے ناز سے آگے کو جھکی اور ایسے کرسی پر بیٹھی کہ ظفر کمال کی نظریں ڈولی کی شرٹ میں الجھ کر رہ گئیں۔
ظفرکمال نے عنایت اللہ کو بلا کر چائے لانے کو کہا اور ڈولی کی طرف متوجہ ہو کر بولے کہ بتائیے آپ کا مسئلہ کیا ہے۔ ڈولی نے گلاسز آنکھوں سے ہٹا کر سر کے بالوں میں اٹکائے۔ کرسی کی پشت سے سر ٹکایا اور ٹھنڈی سانس لے کر سیدھی ہوئی۔ اس کی آنکھوںمیں آنسو تھے۔ اس نے کہا کہ اس  کی محبت کی شادی تھی۔ لیکن بعد میں پتہ چلا کہ اس کا شوہر ایک دھوکے باز ہے۔ یہ اس کو مالدار مردوں سے افئیر لڑانے پر مجبور کرتا ہے تاکہ ان سے پیسے اینٹھے جا سکیں۔ ڈولی کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ اس نے میز پر پڑے ٹشو باکس سے ٹشو نکالا۔ گال اور ناک صاف کیا۔ ظفر کمال کی طرف محبت بھری نظروں سے دیکھا اور کہا کہ مجھے آپ سے بہت امید ہے کہ آپ مجھے اس شیطان کے چنگل سے بچا سکتے ہیں۔ پلیز میری ہیلپ کریں۔ میں کبھی بھی آپ کا احسان نہیں بھولوں گی۔ یہ کہہ کر ڈولی بلک بلک کر رونے لگی۔ ظفر کمال بے اختیار ہو کر کرسی سے اٹھے اور ڈولی کے قریب جا کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ ڈولی نے ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہونٹوں پر رکھا اور اسے چوم کر کہنے لگی،
"ظفر مجھے اس سے بچا لو۔ میں جانتی ہوں میں تمہارے لائق نہیں لیکن میں ساری زندگی تمہاری باندی بن کے رہوں گی۔ تم جو کہو گے میں وہ کروں گی"۔
یہ کہہ کر ڈولی اٹھی اور ظفر کمال کے فراخ سینے میں سما گئی۔ وقت جیسے تھم سا گیا ہو۔ ڈولی کا گداز سراپا ظفر کمال کو کسی اور ہی دنیا میں لے گیا جو عنایت اللہ کی دنیا سے قطعی مختلف تھی۔ اسی لمحے ظفر کمال نے فیصلہ کیا کہ وہ ڈولی کے لیے کچھ بھی کرے گا۔ ظفر کمال کی زندگی میں عزت، شہرت، مرتبہ، مقام سب کچھ تھا صرف محبت نہیں تھی۔ ڈولی نے اسے محبت سے بھی آشنا کر دیا۔  ظفر کمال اور ڈولی کی ملاقاتیں ہونے لگیں۔ اب ظفر کمال راوی کنارے جنگلات میں ڈولی کو لے کر گھنٹوں گھومتے رہتے۔ یہ ڈولی کو لمبی لمبی فون کالز بھی کرتے۔ یہ اس  کے لیے شاعری بھی کرنے لگے۔ یہ ڈولی کو مجبور کرنے لگے کہ طارق حفیظ سے طلاق لے  کر ان سے شادی کرلے۔ ڈولی اس موضوع پر ظفر کمال کو طرح دے جاتی۔ یہ کہتی کہ پہلے اس کو باہر آنے دیں۔ میں اس کے بعد ہی کوئی فیصلہ کر سکتی ہوں۔ ویسے بھی میرا سب کچھ تو آپ کا ہے شادی کی کیا ضرورت ہے؟ یہ کہہ کر ڈولی ایک ادا سے ظفر کمال کی طرف دیکھتی تو وہ گھائل ہو کر رہ جاتے۔
بالآخر ظفر کمال کی کوشش سے طارق حفیظ رہا ہو گیا۔ ڈولی اس کے ساتھ ظفر کمال کے دفتر آئی۔ دونوں بہت خوش نظر آرہے تھے۔ ظفر کمال یہ دیکھ کر کٹ  کے رہ گئے۔ ان کا دل ملول ہوگیا۔ ان کو ڈولی سے یہ امید نہیں تھی۔ ڈولی نے ظفر کمال کے چہرے سے ان کے دلی حالت کا اندازہ لگا لیا۔ یہ ان کی طرف دیکھ کر طنزیہ انداز میں مسکرائی اور بولی، "ظفر صاحب! میرا پیچھا چھوڑ دیں۔ میں جو حاصل کرنا چاہتی تھی وہ مجھے مل گیا ہے۔ اگر آپ نے دوبارہ مجھے تنگ کرنے کی کوشش کی تو آپ کی فون کالز کی ریکارڈنگز میرے پاس موجود ہیں۔ راوی کنارے والی بہت سی تصاویر بھی ہیں۔ یہ سب روزنامہ 69 میں چھپ جائیں گی۔ آپ کسی کو منہ دکھانے لائق نہیں رہیں گے۔ آج کے بعد میرا آپ کا کوئی تعلق نہیں۔ آپ نے میری جو مدد کی اس کا صلہ میں آپ کو ساتھ ساتھ دیتی رہی ہوں۔ ہمارا آپ کا حساب بے باق ہوا"۔
یہ کہہ کر ڈولی اٹھی، طارق حفیظ کا ہاتھ پکڑا اور دفتر سے نکل گئی۔ ظفر کمال اپنی سیٹ پر دل شکستہ اور دم بخود حالت میں بیٹھے تھے۔ ان کی دنیا اچانک اندھیر ہوگئی تھی۔ عنایت اللہ آہستگی سے دفتر میں آیا۔ ظفر کمال کو دیکھا اور نم آنکھوں سے ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا۔
دل لگایا تھا دل لگی کے لیے
بن گیا روگ زندگی کے لیے

اسد عمر - اصل سازش

2011 کے آغاز میں جب واضح ہوچکا تھا کہ اب عمران خان کا راستہ روکنا ناممکن ہوچکاہے تو ایک گھناؤنا کھیل رچایا گیا جس کی تفصیلات میں جانے کا یہ وقت نہیں ۔ بالآخر 2013 کے انتخابات میں دھاندلی، بدمعاشی اور عیاری سے خان کا راستہ روک دیا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ بات سب کی سمجھ میں آنے لگی کہ بہت دیر تک خان کو اسلام آباد سے دور رکھنا ممکن نہیں ہے۔ اس موقع پر ایک دوسری طویل مدتی سازش کا آغاز  کیا گیا۔

یہ کراچی کے پوش علاقے کے ایک بنگلے کا منظر تھا۔ ڈرائنگ روم میں چار افراد صوفوں پر براجمان تھے۔ چائے کا دور چل رہا تھا۔ نظر نہ آنے والے سپیکرز سے جنید جمشید کی مدھر آواز آ رہی تھی "ہم کیوں چلیں اس راہ پر"۔ ایک طویل قامت ہینڈسم بندہ اس پر فٹ ٹیپنگ کرر ہا تھا۔ سفید بالوں والے ایک شخص نے کھنکھار کر گلا صاف کیا اور کہا،
 "دیکھیں، بہتر یہی ہوگا کہ اسد کو اس کے پاس ہی رہنے دیتے ہیں۔ ابھی تک اس کو کوئی شک نہیں ہوا۔ یہ اس کو پٹّی پڑھاتا رہے کہ میں اکانومی دس دن میں ٹھیک کردوں گا۔ میرے پاس سارا پلان ہے۔ آپ فکر نہ کریں۔ جیسے وہ اسلام آباد پہنچے گا۔ اسد اپنا کام شروع کردے گا اور چند مہینوں میں ہی ہم اس کا وہ حال کریں گے کہ دنیا دیکھے گی۔"
سفید بالوں والے یہ شخص نواز شریف کے سب سے قریبی ساتھی خواجہ آصف تھے۔ ان کے ساتھ اسد عمر اور زبیر عمر تھے۔ چوتھے فرد کا ذکر کرنا مناسب نہیں۔ اسد عمر نے یہ سن کر سر اثبات میں ہلایا۔ پہلو بدلا۔ چائے کا سِپ لیا۔ بسکٹ کا چھوٹا سا بائٹ لے کر چباتے ہوئے بولے، "خواجہ صاحب۔۔ آپ اس کو اتنا لائٹلی نہ لیں۔ وہ بہت ہوشیار، ذہین، قابل اور بہادر انسان ہے۔ اگر اس کو تھوڑا سا شک بھی ہوگیا تو میری خیر نہیں۔ اس نے تو اپنے کزن ماجد خان کو ٹیم سے بزّت کرکے نکال دیا تھا۔ جمائمہ سے پیسے بھی نکلوائے اور پھر بھی اس کو طلاق دے دی۔  یہ بندہ جب کمٹمنٹ کرلے تو خود کی بھی نہیں سنتا۔ مجھے گارنٹی چاہیئے کہ اگر اس کو وقت سے پہلے پتہ چل گیا تو میری حفاظت کا کیا بندوبست ہوگا؟ وہ مجھے کبھی نہیں چھوڑے گا اور پاتال سے بھی ڈھونڈ نکالے گا۔"
خواجہ آصف کے چہرے پر مکار سی مسکراہٹ آگئی۔ کہنے لگے کہ اس کی آپ فکر نہ کریں۔ کل سے ہی آپ کو تمام چینلز پر روزانہ ائیر ٹائم ملا کرے گا۔ آپ اس میں ہماری حکومت کی رج کے بیستی کریں۔ لمبی لمبی چھوڑیں۔ ایسے دعوے کریں کہ سوائے انصافیوں کے سب ان پر ہنسیں۔ میں اٗس کو جانتا ہوں۔ لمبی لمبی چھوڑنے والے اس کو بہت پسند ہیں۔ کچھ عرصہ میں ہی وہ آپ کو پی ٹی آئی کا برین کہنا شروع کردے گا۔ آپ اس کے انر سرکل میں شامل ہوجائیں گے۔ بس وہی وقت ہوگا کہ اس کو اپنی باتوں سے شیشے میں اتارنا ہے۔ آپ نے ایم بی اے کیا ہوا ہے اس کی مشکل مشکل اصطلاحات اس کے سامنے بول کر معاشی مسائل کے خود ساختہ حل اس کو روزانہ کی بنیادوں پر سناتے رہیں۔ اس کو یقین دلا دیں کہ معیشت کا جو بھی حال ہوگا ہم اس کو چند ماہ میں ایسا کردیں گے کہ لوگ مغربی ممالک سے یہاں نوکریاں کرنے آئیں گے۔ خواجہ آصف کی اس بات پر زور کا قہقہہ گونجا۔ زبیر عمر جو اس وقت تک خاموشی سے باتیں سن رہے تھے، بولے۔۔۔ اب ایسا بھی نہیں ہے خواجہ صاحب۔ وہ بھی آکسفورڈ سے پڑھا ہوا ہے۔ اس کو اتنا چونا لگانا شاید ممکن نہ ہو۔ یہ نوکریوں والی بات تو وہ کبھی نہیں دھرائے گا۔ یہ تو بالکل بے وقوفی والی بات ہے۔ کوئی چھوٹا سا بچہ بھی اس پر ہنس دے گا۔ خواجہ آصف نے سنٹر ٹیبل پر پڑی پلیٹ سے کریم والی پیسٹری اٹھاکر منہ میں ٹھونسی اور انگلی سے انتظار کا اشارہ کیا۔ پیسٹری نگل کر ٹشو سے منہ صاف کرکے بولے۔ وہ بہت صاف دل انسان ہے۔ اگر اس کا اعتبار جیت لیا جائے تو وہ سمجھتا ہے کہ جیسا میں صاف نیّت کا ہوں ایسے ہی میرے دوست اور اعتبار والے بندے بھی صاف نیّت والے ہیں۔ یہی موقع ہوگا جب ہم اس پر وار کریں گے اور اس کی 22 سالہ جدوجہد کو مٹی میں ملا  دیں گے۔ یہ کہہ کر خواجہ آصف کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ آگئی۔
اسد عمر نے اٹھ کر خواجہ آصف سے ہاتھ ملایا اور کہا کہ ڈیل ڈَن۔ خواجہ آصف نے چوتھے بندے کو اشارہ کیا، وہ ڈرائنگ روم سے باہر چلا گیا۔ تھوڑی دیر میں بڑے سائز کے دو سوٹ کیس دھکیلتا ہوا ڈرائنگ روم میں داخل ہوا۔ اسد عمر کے چہرے پر خوشی اور حیرت کے تاثرات تھے۔ خواجہ آصف کے اشارے پر چوتھے شخص نے سوٹ کیس کھول کر دکھائے۔ ایک سوٹ کیس سونے کی اینٹوں سے لبالب بھرا ہوا تھا اور دوسرے میں ہیرے بھرے تھے۔ خواجہ آصف نے انگلی اٹھا کر کہا،
"اسد، یہ 40 کروڑ ڈالرز ہیں۔ یہ صرف بیعانہ ہے۔ تم ہمارا کام تسلّی بخش طریقے سے کردو تو اس سے چار گنا مال اور ملے گا۔ تمہاری نسلوں کو بھی کبھی کام کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ "
اس کے بعد جو ہوا وہ تاریخ ہے۔ ہر ٹاک شو میں اسد عمر پی ٹی آئی کے نمائندے کے طور پر موجود ہوتے۔ عوام کو یقین دلاتے کہ ہم ان کی تقدیر بدل دیں گے۔ پاکستان میں دنیا بھر سے لوگ کام تلاش کرنے آئیں گے۔ تعلیم، صحت سب مفت ہوں گے۔ غریبوں کے لیے ماہانہ وظیفہ ہوگا۔ پی ٹی آئی کے سپورٹرز کے لیے عمران اور اسد عمر میں کوئی فرق نہیں تھا۔ وہ دونوں کو یک جان دو قالب سمجھتے تھے۔ جولائی 2018 کے انتخابات میں شاندار کامیابی کے بعد کپتان کی حکومت بنی تو اسد عمر وزیر خزانہ کے لیے آٹومیٹک چوائس تھے۔یہی وہ موقع تھا جہاں ان کو اپنی سازش کو انجام تک پہنچانا تھا۔ 8 مہینے میں اسد عمر نے ہر وہ کام کیا جس سے کپتان نے انہیں منع کیا تھا۔ کپتان خود حیران تھا کہ آخر اسد کو ہو کیا گیا ہے۔ میں اس کو جس کام کا کہتا ہوں یہ اس سے بالکل الٹ کرتا ہے۔
آخر کار اسد عمر کی ڈینگیں مارنے کی عادت نے انہیں پکڑوا دیا۔ کوہسار مارکیٹ کے ایک ریستوران میں خواجہ آصف سے خفیہ ملاقات طے تھی۔ اسد عمر اپنی کامیابی اور مزید کروڑوں ڈالرز ملنے کے نشے میں اپنے کسی دوست سے کہہ بیٹھے کہ اس کپتان کا وہ حشر ہوگا کہ ساری دنیا اس کا تماشہ دیکھے گی۔ وہ دوست ایک سچا محب وطن اور کپتان کا ٹائیگر تھا۔ اس نے فورا جا کر نعیم الحق سے رابطہ کیا اور ساری بات بتائی۔ کوہسار مارکیٹ کے اس ریسٹورنٹ کو پوری طرح بَگ کر لیا گیا تھا۔ جب اسد عمر اور خواجہ آصف کی ملاقات جاری تھی تو اسی وقت کپتان وہاں نعیم الحق کے ساتھ پہنچ گیا اور دونوں کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ سنا گیا کہ کپتان نے خواجہ آصف کو دو تین جھانپڑ بھی لگائے۔ اسی وقت اسد کو وزیر خزانہ کی پوسٹ سے ہٹا دیا گیا۔ نعیم الحق کہتے ہیں کہ واپس بنی گالہ جاتے ہوئے کپتان نے گاڑی میں یہ گانا لگایا ہوا تھا۔۔۔
دشمن نہ کرے دوست نے وہ کام کیا ہے
عمر بھر کا غم ہمیں انعام دیا ہے

بادشاہ اور رس گُلّے

مُلکِ فارس کے شمال میں واقع ایک چھوٹے سے ملک پر ایک نیک دل بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ عوام اپنے بادشاہ سے بہت محبت کرتی تھی۔ ملک میں ہر طرف امن و امان کا دور دورہ تھا۔ کوئی شخص بے روزگار نہیں تھا۔ جسے کام نہ ملتا اسے روزانہ شاہی محل کے لنگر سے کھانا مل جاتا تھا۔ کہیں تو شاہی محل اس دور کا داتا دربار تھا۔ بادشاہ سلامت یوں تو کھانے پینے کے بہت شوقین تھے لیکن میٹھا انہیں خاص  طور پر پسند تھا۔ ہرشام شاہی اہلکار پورے ملک میں بادشاہ سلامت کی طرف سےجھنگ بازار کے بنگالی رس گُلّے تقسیم کرتے ۔ بالغ افراد کو فی کس دو اور بچوں کو ایک  رس گُلّا ملتا ۔
رعایا ڈنر کے بعد یہ رس گُلّے تناول کرتی اور بادشاہ کی سلامتی کی دعا کرکے سو جاتی ۔رعایا میں کچھ کرپٹ لوگ بھی تھے۔ یہ اپنے بچوں کے رس گُلّے بھی ہڑپ کر جاتے ۔ زیادہ رس گُلّوں کی لالچ میں یہ زیادہ بچے بھی پیدا کرنے لگے تاکہ انہیں فی بچہ زیادہ رس گُلّے ملیں۔ جو بچہ اس کے خلاف احتجاج کرتا اس کو اپنے ابّا سے پھینٹی پڑتی ۔ بے چارے بچے چپ چاپ بغیر رس گُلّہ کھائے روتے روتے سو جاتے۔چند متاثرہ بچوں نے فیصلہ کیا کہ وہ شاہی محل جاکر بادشاہ کو اس ظلم بارے آگاہ کریں گے۔متاثرہ بچے اکٹھے ہو کر شاہی محل کے باہر پہنچ گئے۔ محل کا سیکورٹی انچارج اتنے بچوں کو دیکھ کر گھبرا گیا۔ وہ بچوں کے پاس گیا اور پوچھا کہ بیٹا کیا بات ہے، آپ یہاں کیا کرنے آئے ہیں؟ ایک لیڈر قسم کے بچے نے آگے بڑھ کر ماجرا بیان کیا کہ ہمارے ابّے ہمارے رس گُلّےبھی کھا جاتے ہیں اور ہمیں دوسرے بچے بتاتے ہیں کہ یہ بہت مزے دار ہوتے ہیں۔ ہمیں اپنے رس گُلّوں پر تصّرف چاہیئے۔
یہ سن کر سیکورٹی انچارج کی سٹّی گم ہوگئی۔ جو اس نے بڑی مشکل سے تلاش کی۔ یہ بھی اپنے 23 بچوں کے رس گُلّے روزانہ کھا جاتا تھا۔ اگرچہ اسے ذیابیطس بھی تھی لیکن یہ دل میں خود سے کہتا تھا کہ جو رات قبر میں آنی ہے وہ پلنگ پر نہیں آ سکتی اور قبر میں بغیر رس گُلّے کھائے چلے جانا بہت بدقسمتی کی بات ہے۔ اب معاملہ گھمبیر ہوچکا تھا۔ اتنے بچوں کا شاہی محل کے باہر اجتماع چھپنے والی بات نہیں تھی۔ اگر وہ بادشاہ سلامت تک یہ ماجرا نہ پہنچاتا تو خفیہ والے پہنچادیتے اوربادشاہ سلامت بدظن ہو کر اسے ملازمت اور زندگی سے نکال سکتے تھے۔ سیکورٹی انچارج لشٹم پشٹم شاہی دربار تک پہنچا تو بادشاہ سلامت ڈنر کرر ہےتھے۔ ماش کی بھنی ہوئی دال،  کڑک تندوری روٹی، پیاز، ٹماٹر، ہری مرچ، لیموں کا سلاد، آم کا اچار، پودینے اناردانے کی چٹنی اور کچّی لسّی کا جگ دستر خوان پر سجے تھے۔ بادشاہ سلامت نے سیکورٹی انچارج کو بے وقت آتے دیکھ کر کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا اور خادم کو اشارہ کیا۔ وہ فورا  ایک ڈھکی ہوئی رکابی لے آیا۔ بادشاہ سلامت نے رکابی سے رومال اٹھایا تو اس میں 6 رس گُلّے سجے تھے۔ بادشاہ سلامت نے رغبت سے رکابی خالی کی۔ سیکورٹی انچارج حیرانی سے سب دیکھ رہا تھا۔ اس نے بادشاہ سلامت سے جان کی امان چاہنے کے بعد کچھ عرض کرنے کی درخواست کی۔ بادشاہ سلامت نے طویل ڈکار لے کر اجازت دے دی۔ وہ بولا، آپ کے حصّے میں 2 رس گُلّے آتے ہیں لیکن آپ نے 6 کھا لیے؟ باقی رس گُلّے کس کے تھے؟
بادشاہ سلامت نے زیرِ لب تبسم فرمایا، شیرے والے انگلیاں چاٹیں اور یوں گویا ہوئے،  "دو میرے اور چار میرے بچوں کے۔ میں ان کے رس گُلّےبھی چھین کر کھا جاتا ہوں۔ "

ملکہ اور کریلے گوشت

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مُلکِ شام سے آگے کسی ملک میں ایک نیک دل بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ ایک دن وہ وفات پاگیا۔ اس کی کوئی نرینہ اولاد نہیں تھی کیونکہ اس ملک میں ایسا کوئی پیر یا درگاہ نہ تھی جس پر چڑھاوا چڑھانے سے بیٹا ملتا ہو۔ اس بادشاہ کی ایک خوبصورت اور نیک سیرت بیٹی تھی۔ اس کا نام مہرالشگفتہ تھا۔ بادشاہ کی وفات کے بعد وہ اس ملک کی ملکہ بن گئی۔ ملکہ یوں تو بہت سادہ اور نیک دل تھی لیکن اس کی ایک کمزوری تھی۔ اس کو کریلے گوشت بہت پسند تھے۔ ملکہ کے مرحوم اباجان جب تک زندہ رہے، محل میں کبھی کریلے گوشت نہیں پکے کیونکہ مرحوم بادشاہ کا خیال تھا کہ  "تکّہ و کباب اوّل، کریلے و ٹینڈے آخر"
مہرالشگفتہ نے ملکہ بنتے ہی حکم جاری کیا کہ جو شخص اسے مزے دار کریلے گوشت پکا کر کھلائے گا، اس کو شاہی شیف مقرر کیا جائے گا۔ 12 ہزار ڈالر ماہانہ راتب کے علاوہ ھواوے کا نیا فون اور ان لمیٹڈ ڈیٹا بھی دیا جائے گا۔ پورے ملک سے لوگ کریلے گوشت لے کر ملکہ کے دربار میں حاضر ہوئے لیکن ملکہ کو کسی کے بھی کریلے گوشت پسند نہ آئے۔ ملکہ نے طیش میں آکر مقابلے کے تمام شرکاء کی سمیں دو مہینے کے لیے بند کرا دیں اور سختی سے ہدایت کی کہ انہیں نئی سم جاری نہ کی جائے۔
ملکہ نے اگلے دن منادی کرا ئی کہ دس دن تک اگر کسی نے اسے مزے دار کریلے گوشت نہ کھلائے تو  سارے ملک کی بجلی چھ مہینے کے لیے بند کر دی جائے گی۔ موسمِ گرما کی آمد آمد تھی۔ اس اعلان سے تمام ملک میں دہشت کی لہر دوڑ گئی۔یہ خبر شکور محمد تک بھی پہنچی جو بھاگٹانوالہ سے آگے اپنے کھیتوں میں چھوٹی سی جھگّی بنا کر اکیلا رہتا تھا۔ اس نے فورا سائیکل اٹھائی، پیڈل مارا اور مارا مار استاد پیارے لال خاں کے گھر موضع لدھیانوالہ پہنچ گیا۔ استاد اس وقت ریاض میں مصروف تھے۔ انہوں نے تانپورے سے ہاتھ اٹھائے اور شکور سے  اس کے اچانک آنے کا سبب پوچھا ۔ شکور محمد نے تمام ماجرا استاد کے گوش گذار کیا۔ استاد نے شکور کو گھورتے ہوئے کہا کہ اب تم مجھ سے کیا چاہتے ہو۔ شکور نے نظریں جھکا کر لجاجت سے کہا کہ استاد! پوری زندگی میں آپ کے گھر سے مزے دار کریلے گوشت کہیں نہیں کھایا۔ اگر ممکن ہوسکے تو مجھے کریلے گوشت پکوا دیں تاکہ میں ملکہ کی خدمت میں پیش کرکے رعایا کو آنے والے عذاب سے بچا سکوں۔ استاد سوچ میں پڑ گئے۔تھوڑی دیر بعد تانپورے پر تان لگائی تو اندر سے آواز آئی، "جی سرتاج! ابھی بناتی ہوں"۔ تھوڑی دیر بعد اندر سے سٹیل کا ٹفن آیا جس میں کریلے گوشت تھا۔ شکور محمد نے تشکر سے ٹفن لیا اور استاد سے کہا کہ اگر ملکہ کو یہ کریلے گوشت پسند آگئے تو۔۔۔ شکور ابھی یہاں تک ہی پہنچا تھا کہ استاد نے تانپورہ اٹھا کر شکور کے سر پہ دے مارا اور چلاّئے۔۔۔۔ ناہنجار، ہمارے گھر کے پکے ہوئے کریلے گوشت بارے 'اگر' کا لفظ استعمال کرنے کی جرات کیسے ہوئی؟ شکور محمد نے ٹفن بغل میں دابا اور سر سہلاتا ہوا رخصت ہوا۔
شکورمحمد ملکہ کے دربار میں حاضر ہوا اور ملکہ کی خدمت میں کریلے گوشت کا ٹفن پیش کرتے ہوئے عرض کی کہ اس کو کھانے کی ایک شرط ہے۔ ملکہ نے غضب ناک نگاہوں سے شکور کی طرف دیکھا اور کہا کہ تم ملکہ سے شرطیں منواؤ گے؟ شکور محمد نے ملکہ کے سامنے کورنش بجاتے ہوئے عرض کیا کہ آپ پہلے شرط سن لیں۔ ملکہ نے سر اثبات میں ہلایا تو شکور گویا ہوا کہ یہ کریلے گوشت تندور کی تازہ اور کراری روٹی کے ساتھ تناول کیے جائیں اس کے علاوہ کوئی شرط نہیں۔ ملکہ نے غلام کو بلانے کے لیےتالی بجائی تو تمام درباری تالیاں بجانے لگے۔ ملکہ طیش میں آکر چلاّئی، "یہاں کیا عاطف اسلم کا کنسرٹ چل رہا ہے؟ بدبختو بات تو سمجھ لیا کرو"۔ تمام درباری یہ سن کر شرمندہ ہوئے اور منہ پر انگلیاں رکھ کر چپ کرکے بیٹھ گئے۔
قصّہ مختصر، تندور لگا، روٹی اتری، ملکہ نے لقمہ لیا اور خوشی سے نہال ہو کر بولی، "میں نے پا لیا، میں نے پالیا"۔ شکور محمد کو فوری طور پر شاہی شیف مقرر کردیا گیا۔ ہواوے کا فون دیا گیا تو اس نے آئی فون لینے پر اصرار کیا۔ ملکہ نے ہنستے ہوئے کہا کہ وہ تو زنانہ فون ہے۔ بہرکیف شکور محمد کو آئی فون دے دیا گیا۔ شکور محمد نے ملکہ سے درخواست کی کہ اسے پچاس روپے کا بیلنس بھی کرا دیا جائے کیونکہ اس نے اپنی بیوی سے بات کرنی ہے۔شکور محمد نے دربار سے رخصت چاہی تو ملکہ نے کہا کہ تم اب محل میں رہو کیونکہ اب تم شاہی شیف ہو۔ شکور محمد نےجواب دیا کہ وہ اپنی جھگی میں ہی خوش ہے۔ وہ روز محل آکے کریلے گوشت پکا دیا کرے گا لیکن رہائش اپنی جھگی میں ہی رکھے گا۔ کل کو اگر ملکہ کی شادی ہوگئی اور بادشاہ سلامت نے اسے محل سے نکال دیا تو وہ کیسے محل کی پر تعیش زندگی چھوڑے گا۔ اس کے لیے بہت مشکل ہو جائے گی۔ لہذا ملکہ اسے اجازت دے کہ وہ روزانہ آ ئے، کریلے گوشت پکا ئے اور اپنے گھر چلا جائے ۔
ملکہ یہ سن کر گہری سوچ میں گم ہوگئی۔ اس نے چند ثانیوں بعد سر اٹھایا اور شکور محمد سے کہا کہ وہ اسے ایسی آفر کرے گی کہ وہ انکار نہیں کرسکے گا۔ شکور محمد نے گاڈ فادر دیکھ رکھی تھی۔ اسے بہت افسوس ہوا کہ ملکہ گاڈ فادر والے ڈائیلاگ اپنے بنا کر استعمال کر رہی ہے۔ ملکہ نے شکور محمد سے کہا کہ وہ اس سے شادی کرلے۔ اس کےبعد اسے کوئی خوف نہیں رہے گا کہ کوئی اسے محل سے نکال سکتا ہے۔ شکور محمد فرطِ مسرّت سے جھوم اٹھا۔ فورا شادی کی تیاریاں شروع ہوگئیں۔ اسی دن بعد از نمازِ عشاء ملکہ اور شکور محمد کا نکاح ہوگیا۔ شبِ زفاف کی صبح شکور اور ملکہ نے غسل کیا، شاہی لباس زیبِ تن کیا اور دربار میں جا پہنچے۔ شکور محمد اب بادشاہ بن چکا تھا۔ شکور شاہی تخت پر براجمان ہوا۔ سر پر تاج رکھا۔ وزیر خاص کو اپنے پاس بلایا اور اپنا پہلا حکم نامہ لکھوایا۔
"آج سے سلطنتِ خداداد میں کوئی فرد کریلے گوشت پکاتا، کھاتا یا ان کا نام لیتا پکڑا گیا تو اس کا سر تن سے جدا کر دیا جائے گا"۔

لاری اور لارے

یہ طارق بشیر عرف ٹونی کی کہانی ہے۔  ڈونگا بونگا کے نواح میں پیدا ہونے والے ٹونی  کے ابا محکمہ ڈاک میں ملازم تھے۔ خاکی وردی، چمڑے کا بستہ اور سائیکل۔ گلی گلی گھومتے۔ لوگوں میں خوشی اور غم کی خبریں بانٹتے۔  باؤ بشیر کے نام سے جانے جاتے۔ زیادہ تر گھروں میں خط پڑھ کے سنانے کی ذمہ داری بھی ادا کرتے۔ اچھی خبر ہوتی تو نذرانہ بھی مل جاتا۔ کبھی گڑ، کبھی مکئی، کبھی گندم۔ زندگی اچھی گزر رہی تھی۔ کم عمری میں شادی بھی ہوگئی۔ ٹونی ان کا پہلا بچہ تھا۔ اس کے بعد پانچ بچے اور پیدا ہوئے جو سب لڑکیاں تھیں۔ فطری طور پر ٹونی بہت لاڈلا تھا۔ لاڈ پیار کی وجہ سے ہی ٹونی تعلیم میں ہمیشہ پیچھے رہا لیکن بچپن سے ہی اسے اچھے سے اچھا پہننے اور کھانے کو ملا۔ باؤ بشیر نے ٹونی کو کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔
جیسے تیسے کرکے ٹونی میٹرک تک تو پہنچ گیا لیکن وہاں جا کے اٹک گیا۔ تین سال فیل ہونے کے بعد ایک دن اس نے گھر میں اعلان کیا کہ اب وہ پڑھائی نہیں کرے گا بلکہ اپنا بزنس کرے گا۔ باؤ بشیر کی ریٹائرمنٹ بھی آن لگی تھی۔ گریجویٹی کے پیسے ملے تو ٹونی نے ایک چنگ چی خریدا اور مین بازار سے لاری اڈّے تک چلانے لگا۔ ٹونی ایک وجیہہ، خوش شکل اور صحت مند جوان تھا۔ جینز ٹی شرٹ پہن کے جب وہ عینک لگاتا اور الٹی پی کیپ پہن کے چنگ چی سٹارٹ کرتا تو کسی فلم کا ہیرو لگتا ۔
 اس زمانے میں ڈونگے بونگے  سے بہاولنگر تک لاری چلتی تھی جو دن میں دو چکر لگاتی۔ لاری کے ڈرائیورکا نام حاجی رمضان تھا۔ ادھیڑ عمر، مہندی رنگی جماعت کٹ ڈاڑھی، چوخانے کا رومال سر پر بندھا ہوا۔ حاجی نوجوانی سے ہی اس کام میں پڑ گیا تھا۔ دس بارہ سال کنڈکٹری کی۔ پھر استاد مقبول جب بوڑھا ہوگیا تو ایک دن لاری درخت میں دے ماری ۔  مالکوں نے حاجی کو ترقی دے کر ڈرائیور بنا دیا۔حاجی رمضان ڈرائیور بہت زبردست تھا۔ کسی دن دو کی بجائے تین چکر بھی لگا لیتا۔ کبھی چھوٹا موٹا ایکسیڈنٹ بھی نہیں ہوا۔ لاری میں بندے بھی گنجائش سے تین گنا بٹھاتا۔ عیدشبرات پر من مانا کرایہ بھی  وصول کرتا۔ ڈیزل، سپیر پارٹس کی مد میں بھی پیسے بناتا۔  مالک بھی خوش  اور حاجی کو بھی اچھی آمدنی ہوجاتی۔ پہلے حاجی نے اپنا گھر پکا کیا۔ پھر اپنے والدین کو حج کرایا اور خود بھی حج کیا۔ تین چار پلاٹ بھی خریدے۔ بہنوں کی شادیاں بھی کیں۔
لاری جب بہاولنگر سے ڈونگا بونگا پہنچتی تو ٹونی بھی سواری کے انتظار میں وہاں کھڑا ہوتا۔ اس کے دل میں آتا کہ کاش وہ اس لاری کا ڈرائیور ہوتا تو وارے نیارے ہوجاتے۔ سارا دن چنگ چی چلا کے بھی پورا نہیں پڑتا تھا۔ گھر کا خرچہ چلانے کے بعد اتنے پیسے بھی نہ ہوتے کہ دو سگریٹوں کی چرس ہی مہیا ہوجاتی۔ پرائز بانڈ کے نمبرلینے کے لئے بھی ہفتے دو ہفتے پیسے اکٹھے کرنے پڑتے۔ ٹونی کو اپنی وجاہت کا تھوڑا بہت فائدہ ضرور تھا۔ اس کے پاس لیڈیز سواریوں کی کبھی کمی نہیں ہوتی تھی۔ اکثر ادھیڑ عمر عورتیں اس کو کرائے سے کچھ پیسے زیادہ ہی دے جاتیں۔ ٹونی چرب زبان بھی تھا۔ لیڈیز سواریاں ہوتیں تو لچھے دار باتیں کرتا۔ چنگ چی پر ٹیپ بھی لگوالی تھی۔ کمار سانو کے گانے اس وقت لگاتا جب لیڈیز سواری ہوتی۔ مرد ہوتے تو عطاءاللہ کے گانے چلتے۔
ٹونی اب اٹھتے بیٹھے حاجی رمضان بارے باتیں کرنے لگا  کہ کیسے وہ ڈونگے بونگے کی سواریوں کو لوٹ رہا ہے۔ لاری کے حالات بھی خراب ہیں۔ سیٹیں پھٹی ہوئی  اور لاری میں گنجائش سے تین گنا زیادہ مسافر۔ کرایہ بھی زیادہ وصول کرتا ہے اور  ٹکٹ بھی نہیں دیتا ۔ لیڈیز سواریوں کے سامنے جب وہ لاری کا نقشہ کھینچتا ا ور کہتا کہ اگر وہ لاری کا ڈرائیور بن جائے تو لاری بالکل ڈائیوو بس جیسی بنا دے گا تو خواتین کے چہرے پر یقین اور محبت ہلکورے لے رہی ہوتی۔  ٹونی نے حاجی رمضان کے کنڈکٹر ریاض سے بھی یارانہ گانٹھ لیا۔ ریاض عرف جج بچپن سے ہی حاجی کے ساتھ تھا۔ حاجی رمضان اوپر کی آمدنی میں سے جج کو روپےمیں 10 پیسے دیتا تھا۔ ٹونی نے باتوں باتوں میں ایک دن جج سے کہا کہ اگر وہ لاری کا ڈرائیور بن گیا تو جج کو روپے میں پچاس پیسے دے گا۔ کھانا پینا اور نشہ پانی مفت۔
ٹونی کی باتیں رنگ لانے لگی تھیں۔ لاری میں سفر کرنے والے لوگ حاجی رمضان کے خلاف ہونے لگے۔ آئے دن لاری میں دنگا ہوتا۔ جج اور ٹونی کا یارانہ بھی بڑھتا جا رہا تھا۔ ایک دن جج مالکوں سے ملا اور ان کو ساری صورتحال بتائی اور ٹونی کی تعریفیں کرتے ہوئے زمین آسمان ایک کردیا۔ اگلے دن مالکوں نے ٹونی کو بلا لیا۔ مالک ٹونی کی وجاہت، اعتماد اور ڈرائیونگ پلان سے بہت متاثر ہوئے۔ ٹونی نے انہیں بتایا کہ وہ ڈرائیور بن گیا تو چند مہینوں میں ہی کایا پلٹ ہوجائے گی۔ برسہا برس سے حاجی رمضان ڈرائیوری کررہا ہے لیکن ابھی تک لاری وہی ہے۔ اس کو موقع دیا جائے تو وہ ایک لاری سے چند مہینوں میں ہی دو لاریاں اور خرید لے گا۔ روٹ پر تین لاریاں چلیں گی تو آمدنی میں دس گنا اضافہ ہوسکتا ہے۔  اگلے ہی دن ٹونی کو مالکوں کا پیغام ملا کہ اس کو ڈرائیور رکھ لیا گیا ہے۔ وہ لاری چلانے کی تیاری کرے۔
23 مارچ  کو ٹونی پہلی دفعہ لاری کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا۔ ڈونگے بونگے سے بہاولنگر جانے والے لوگ لاری میں ٹھنسے ہوئے تھے۔ ٹونی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تو اسے اچانک یاد آیا کہ اسے تو لاری چلانی ہی نہیں آتی۔ ڈرائیور کی ملازمت حاصل کرنے میں وہ اتنا مگن رہا کہ لاری چلانا سیکھ ہی نہ سکا۔ بہرحال اس نے اللہ کا نام لے کر سیلف مارا۔ گئیر لگایا۔ لاری دھچکا کھا کر بند ہوگئی۔ تین چار دفعہ ایسا کرنے کے بعد وہ لاری کو اڈّے سے باہر لے آیا۔ٹونی کسی نہ کسی طرح لاری کو بہاولنگر جانے والی بڑی سڑک تک لے آیا تھا۔ وہاں پہنچ کر اس نے دل میں سوچا کہ یہ تو کوئی اتنا مشکل کام نہیں ہے۔ ایکسلریٹر پر پاؤں دباتے ہوئے اس نے ٹیپ  چلا دی۔ کمار سانو کی آواز لاری میں گونجنے لگی، "دیکھا ہے پہلی بار۔۔ ساجن کی آنکھوں میں پیار"۔ لیکن وہ سامنے سے آنے والے آئل ٹینکر کو نہ دیکھ سکا۔ لاری قابو سے باہر ہوئی۔ ٹونی نے تیزی سے سٹئیرنگ وہیل گھمایا۔ لاری ٹینکر کی سائڈ سے لگ  کر کچے میں اتری اور الٹ کر درخت میں جا لگی۔
راہگیر جب زخمیوں کو لاری سے نکال رہے تھے تو ریٹائرڈ تھانیدار چوہدری رفاقت جن کی ٹانگ ٹوٹ چکی تھی، کراہتے ہوئے بولے، "جو بھی ہے، ٹونی کم از کم کرپٹ نہیں ہے"۔ ٹونی ڈرائیونگ سیٹ والی کھڑکی سے چھلانگ لگا کر فرار ہوچکا تھا۔ ڈرائیور کے پیچھے والی زنانہ سیٹ پر بیٹھی  گرلز سکول کی ہیڈ مسٹریس ثمینہ شہزادی جن کے سر سے خون بہہ کر چہرے پر آرہا تھا،  لاری کی کھڑکی سے بمشکل باہر نکلیں اور یہ کہہ کر بے ہوش ہوگئیں، "ہائے اللہ! ٹونی کتنا ہینڈسم ہے!"۔

رزقِ حلال، سلائی مشین اور الحذر


معاشی حرکیات سے نابلد، آتشِ حسد میں جلتے لوگ اس کے سوا کیا کہیں؟رزقِ حلال ہے یہ رزقِ حلال۔ ہزار الزام کپتان کو دئیے جاسکتے ہیں کرپٹ  مگر وہ نہیں۔ کوئی دن میں ہاتف چیخ کر پکارے گا۔۔۔۔ فاعتبرو یا اولی الابصار
پون صدی ہوتی ہے۔ لائلپور کہ تَر دماغ و ہنرمند نفوس کا گڑھ ہے، ایک مردِ جفاکش کندھے پر چادریں رکھے گھنٹہ گھر گول میں کھڑا بیچتا تھا۔ پنجاب کے وسط میں موسم کی شدّت۔۔ الحذر۔۔ جون ، جولائی کی گرمی  کہ چیل انڈے چھوڑ دے مگر یہ ہنرمند اپنے کام میں جُتا رہتا۔ رزقِ حلال حضورِ والا رزقِ حلال۔ برکت اس کام میں اتنی ہوئی کہ کندھے پر چادریں رکھ کے بیچنے والا ستارہ مل کا مالک بنا۔ دنیا اسے حاجی بشیر کے نام سے جانتی ہے۔ پارچہ بافی کی صنعت کا سٹیوجابز۔ زبانِ طعن دراز کرنا آسان ہے۔ محنت سے یافت کرنا دشوار۔ لوگ مگر سمجھتے نہیں۔ سیاست کو نفرت بنا دیا اور اختلاف کو دشمنی۔ اگلے وقتوں کی مروت اور وضعداری تمام ہوئی کہ مائیں بہنیں سانجھی ہوتی تھیں۔ ان کی عزت و احترام میں کوئی فرق آتا نہیں تھا۔ سب ختم ہوا۔ نفرت و حسد کا زہر معاشرے کی رگوں میں اتر چکا۔ خدا مگر اپنی دنیا سے بے نیاز نہیں۔  لازم ہے کہ بدباطنوں پر عذاب نازل ہو۔ لازم ہے۔
کندھے پر چادریں رکھ کے بیچنے والا گروپ آف انڈسٹریز کا بانی ہوسکتا ہے تو کیا سلائی مشین کی یافت اتنی کم ہے کہ دو چار چھوٹے موٹے فلیٹ نہ خریدے جاسکیں؟ حسد و انتقام میں اندھے لوگ۔ سامنے کی بات نظر انداز کرتے ہیں۔ محترمہ علیمہ خانم کہ متمول والدین کی اولاد۔ ترکے میں دادا  اور نانا سے اربوں کی جائیداد۔ ربع صدی سے سلائی مشینوں کا کاروبار۔ چاہیں تو آدھا پاکستان خرید لیں ۔ اعتراض ہے تو چند معمولی فلیٹس پر۔ ارے بھائی، اندر کی کہانی معلوم ہے لیکن سخت تنبیہ کپتان کی ہے کہ ہرگز اس کا ذکر نہ کیا جائے۔ طالبعلم اشارہ دیتا ہے۔ ہر سال پوری دنیا سے جتنا چندہ اکٹھا ہو، اتنا ہی محترمہ علیمہ اپنے پاس سے دیتی ہیں۔ بیس لاکھ بیوہ خواتین کو ایک لاکھ ماہانہ خرچ اس کے ماسوا۔ ایسی ہزاروں روشن کہانیاں ہیں کہ قلب و نظر کو نور سے بھر دیں۔ چراغ سے چراغ۔
بغداد کے شیخ احمد الاغانی کی داستان مثلِ شمس تاریخ میں جگمگاتی ہے۔ ملک شام و عراق کے بڑے تاجر۔ سامانِ تجارت سے لدے قافلے بلادِ شرق و غرب میں  سارا سال چلتے ۔ کل یوم ان کی حویلی میں لنگر کا بندوبست ہوتا۔ سبھی کو دعوتِ عام۔ سونے کے برتنوں میں کھانا پروسا جاتا ۔ کھانے کے بعد وہی برتن مہمان کو ہدیہ کر دئیے جاتے۔ مال و اسبا ب کا یہ عالم کہ خلیفہ ہارون الرشید ایک دن دربار میں کہنے لگے کہ میں مفلس ہوسکتا ہوں مگر شیخ احمد الاغانی کی دولت کم نہیں ہوسکتی۔ خدا نے جتنا فضل کیا اتنا ہی غرباء و مساکین پر خرچ کرتے۔ ایک دن خلوت میں شیخ کی اہلیہ نے دریافت کیا، یا شیخ! کیسے آپ نے اتنا مال کمایا؟ ۔ آپ فرمانے لگے کہ کپڑے سینے سے کام شروع کیا تھا۔ اللہ تعالی نے برکت ڈالی۔ آج جو کچھ بھی ہوں اسی "الاغانی خیاطہ للرجال و النساء " والی دکان کی برکت ہے۔ سبحان اللہ۔ رزقِ حلال حضورِ والا رزقِ حلال۔
معاشی حرکیات سے نابلد، آتشِ حسد میں جلتے لوگ اس کے سوا کیا کہیں؟رزقِ حلال ہے یہ رزقِ حلال۔ ہزار الزام کپتان کو دئیے جاسکتے ہیں کرپٹ  مگر وہ نہیں۔ کوئی دن میں ہاتف چیخ کر پکارے گا۔۔۔۔ فاعتبرو یا اولی الابصار

نیو جرسی اور پرانی قمیص

یہ سترہ سال پہلے موسم خزاں کی ایک اداس شام تھی۔ زمان پارک لاہور کے ایک گھر میں ویرانی کا ڈیرہ تھا۔ ڈرائنگ روم میں تین  افراد سر جھکائے سوچوں میں گم تھے۔ ان میں سے ایک وجیہہ و شکیل شخص نے گردن اٹھائی اور یوں گویا ہوا، "سب کچھ ختم ہوگیا۔ نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم۔ جب تک میں زندہ ہوں تب تک تو یہ کام چلتا رہے گا لیکن اس کے بعد کیا ہوگا؟ کون اس کام کو چلائے گا؟ کیسے چلائے گا؟ کیا میری محنت اور جدوجہد میری زندگی کے ساتھ ہی ختم ہوجائے گی؟ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا۔"
یہ ہینڈسم شخص عمران خان تھا۔ مشرف کے الیکشن میں وہی چہرے دوبارہ جیت گئے تھے جن کے خلاف وہ جدوجہد کرتا رہا۔ جمائما کے ساتھ عائلی زندگی بھی اسی سیاست کی وجہ سے مسائل کا شکار تھی۔ وہ بچوں کو لے کر لندن جا چکی تھی۔ عمران کی زندگی کا مقصد کینسر اسپتال تھا جس کے لئے وہ دن رات محنت کرتا تھا۔ عطیات اکٹھے کرتا تھا۔ اس کی کرشماتی شخصیت کی وجہ سے کبھی فنڈز کی کمی کا مسئلہ نہیں ہوا۔ لیکن موسم خزاں کی اس اداس شام میں شاید کپتان ہمت ہار چکا تھا۔ سیاسی اور عائلی زندگی بظاہر ختم ہوچکی تھی اور اسے لگ رہا تھا کہ اس کی زندگی کے ساتھ ہی کینسر اسپتال بھی ختم ہوجائے گا۔
عمران کے دائیں طرف کرسی پر بیٹھے ایک مدبرّ نظر آنے والے شخص نے اس کا کندھا تھپتھپایا اور کہا کہ فکر مت کرو۔ ہم کینسر اسپتال کے لئے ایسا بندوبست کریں گے کہ تا قیامت یہ منصوبہ چلتا رہے گا اور پھلتا پھولتا رہے گا۔ یہ شخص نعیم الحق تھا۔ عمران کے ہر اچھے برے وقت کا ساتھی اور جان نچھاور کرنے والا دوست۔ عمران نے حیرانی سے اس کی جانب دیکھا اور استفسار کیا کہ ایسا کیسے ممکن ہے؟ نعیم الحق نے کہا کہ اس میں کوئی مشکل نہیں۔ ہم امریکہ، یورپ اور مشرق وسطی سے کثیر فنڈز اکٹھا کرتے ہیں اور انہی سے اسپتال کا نظم ونسق چلتا ہے۔ غریبوں اور مسکینوں کا مفت علاج ہوتا ہے۔ تمہاری یہ بات درست ہے کہ تمہارے بعد فنڈز اکٹھا کرنا بہت مشکل ہوگا۔ پاکستان میں شاید ہی لوگوں کو کسی ایک شخص پر اتنا اعتبار ہو۔ عمران نے اس کی بات کاٹی اور جھلاّ کر کہا کہ یہ باتیں ہوچکی ہیں، یہ بتاؤ کہ ایسا کیسے ممکن ہے؟
نعیم الحق زیرِ لب مسکرایا اور عمران کی طرف محبت بھری نظروں سے دیکھ کر بولا کہ آج سے بیرون ملک جتنے فنڈز اکٹھے ہوں گے ان کا پچاس فیصد ہم الگ رکھیں گے۔ یہ بات سنتے ہی عمران کے چہرے کا رنگ سرخ ہوگیا، اس نے بے چین ہو کر پہلو بدلا اور کہا ، نعیم۔۔ یہ ممکن نہیں ہے۔ یہ پیسہ ہمارے پاس غریبوں اور مسکینوں کی امانت ہے۔ ہم اس میں کیسے خیانت کرسکتے ہیں؟ تمہارے ذہن میں ایسا خیال بھی کیسے آیا؟ مجھے بہت افسوس ہوا۔ آج سے تمہارے اور میرے رستے جدا ہیں۔ نکل جاؤ اس گھر سے اور دوبارہ کبھی مجھے اپنی شکل نہ دکھانا۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تم اتنی گھٹیا اور نیچ سوچ کے مالک ہو۔ میں شرمندہ ہوں کہ تمہیں اپنا دوست سمجھتا رہا۔ عمران کی آواز بھرّا چکی تھی اور اس کی آنکھوں میں ستارے چمکنے لگے تھے۔ نعیم اپنی کرسی سے اٹھا اور روتا ہوا  عمران سے لپٹ گیا۔ کہنے لگا کہ یار تو نے ایسا سوچا بھی کیسے۔ میری بات تو پوری ہونے دیتا۔ میں تمہارے لئے اپنی جان بھی دے سکتا ہوں۔ تمہیں چھوڑنے کا تصور میرے لئے موت سے بھی زیادہ بھیانک ہے۔
اس موقع پر ڈرائنگ روم میں موجود تیسرے فرد نے جو خاتون تھی، نے مداخلت کرتے ہوئے دونوں کو تسلی دی اور نعیم کو کہا کہ اپنی بات مکمل کرے۔ نعیم نے جیکٹ کی جیب سے رومال نکا ل کر آنسو پوچھے اور یوں گویا ہوا، "ہم ان آدھے فنڈز سے  مہنگے اور پوش علاقوں میں پراپرٹیز خریدیں گے۔ ان کو کرائے پر دیں گے۔ وقت کےساتھ ساتھ ان کی قیمت بھی بڑھتی رہے گی اور کرائے کی مد میں ہر سال اضافہ ہوتا رہے گا۔ پانچ سے دس سال میں ہی اس قابل ہوجائیں گے کہ اگر ہمیں بالکل فنڈز ملنے بند ہوجائیں تب بھی ہم اسپتال کو بہترین طریقے سے چلا سکیں گے۔ یہ درست ہے کہ قواعد و ضوابط کے تحت یہ ٹھیک نہیں ہوگا لیکن ہمارا خدا ہماری نیّت کا شاہد ہے۔ اور ہم خدا کے علاوہ کسی کے سامنے جوابدہ نہیں۔
عمران بغور یہ باتیں سن رہا تھا۔ نعیم نے بات مکمل کی تو عمران کے چہرے پر چمک نظر آرہی تھی۔اس نے نعیم کی کمر تھپتھپا کر ویل ڈن کہا اور پوچھا کہ یہ پراپرٹیز ہم کس کے نام پر خریدیں گے۔ میرے نام پر خریدنا تو ممکن نہیں ہوگا ۔ کوئی نہ کوئی حاسد اس کا کھوج لگا کے مجھے اور اسپتال کو بدنام کرے گا کہ یہ لوگ عطیات اور زکوٰۃ کے پیسوں سے اپنی جائیدادیں بنار ہے ہیں۔ نعیم نے متانت سے سر  ہلایا اور خاتون کی طرف دیکھ کر کہا کہ ہم ساری پراپرٹیز علیمہ باجی کے نام پر خریدیں گے۔ کسی اور کے نام پر خریدنا رسک ہوگا۔ کسی کی بھی نیّت خراب ہوسکتی ہے۔ علیمہ خانم جنہوں نے بچپن سے لے کر آج تک عمران کو اپنے بھائی کی بجائے بیٹے کی طرح پالا تھا۔ آج پھر بھائی کے خوابوں کو پورا کرنے کے لئے کمر بستہ تھیں۔ قربانی، محبّت اور ایثار کی یہ داستان افسانوی لگتی ہے۔
یہ صادق اور امین لوگوں کا قصّہ ہے جسے کچھ فاسق اور لعین غلط رنگ دے رہے ہیں۔ خدا ان کو غارت کرے۔