ٹوٹے حضورِ والا، ٹوٹے

ہیہات ۔۔ہیہات۔۔۔۔ تاریخ کے چوراہے پر بے سدھ ہم پڑے ہیں اور دنیا حظ کشید کرتی ہے۔ کوئی مردِ کار ہے جو پکار کے کہے، ہالٹ!  ہیہات ۔۔ ہیہات۔۔۔۔
مضمون  کوئی پرانا نہیں ہوتا۔ انسان قدیم ہے، کائنات قدیم تر۔ فطرت سے اغماض ہو نہیں سکتا۔ کون ہے جو لذائذ دنیا سے کنارہ کرلے مگر درویش۔ خدا نے جو راحتیں انسان کو ارزاں کیں کوئی بدبخت ہی ان سے کنارہ کر سکتا ہے۔ کیا پرندوں کا گوشت، پھلوں کا عرق، شباب شجر ممنوعہ ہیں؟ خدا کی خدائی میں یہ دخل ہے۔بے طرح دل بے قرار ہوا۔ ایک ہی ٹھکانہ جہاں قرار نصیب ہے۔  درویش کہ اب تک وجیہہ ہے، عنفوانِ شباب میں وجاہت کانمونہ تھا۔ درسگاہ کی طالبات کہ ہمہ وقت جھمگٹا درویش کے گرد بنائے رکھتیں۔ ذوق مگر اس وقت بھی اعلی۔ کبھی گہری رنگت اور فلیٹ ارتھ کو آنکھ جھپک کر نہ دیکھا۔آج بھی اس وقت کو یاد کرتے درویش کی نگاہوں میں چئیرمین نیب  کو دیکھا جا سکتا ہے۔
شام کا جھٹپٹا تھا جب درویش کی کٹیا میں طالب علم داخل ہوا۔ کھٹکے پر درویش نے یکدم آئی پیڈ میز پر الٹا  دیا۔ طالبعلم کو دیکھا تو خورسند ہوا۔ آئی پیڈ اٹھایا اور اشارے سے پاس بلایا۔ سبحان اللہ۔۔۔ آنسہ آشا ٹاکیہ کی گوگل امیج سرچ کے رزلٹس تھے۔ من بیک وقت شانت و بے قرار ہوا۔ آدھ گھنٹہ درویش و طالبعلم  خدائے لم یزل کی صناعی کا نظارہ کرتے رہے۔  دل کا ادبار کچھ ہلکا ہوا تو درویش سے دبدھا بیان کی۔ انسان کہ بیک وقت کمزور و توانا ہے۔ فطرت کے خلاف وہ جا نہیں سکتا الاّ یہ کہ درویش ہو یا کپتان یا سپہ سالار۔ مصروف طعام یا مشغولِ وظیفہءبقائے انسانیت؛  کوئی بدبخت کیسے کسی کو فلم بند کرسکتا ہے۔ ظلم ہے یہ حضورِ والا، صریح سفاکی۔ دل لہو ہوتا ہے۔ ایسی روشن تاریخ  کے ہم وارث ہیں کہ ستاروں کو شرمائے اور حالت یہاں تک آ پہنچی کہ فطری تقاضوں کو سلیکون چپ پر ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ کوئی جائے اور ان کو بتائے کہ بندگانِ خدا کو شرمندہ کرنا  عذابِ الہی کو دعوت دینا ہے۔
امیرالمؤمنین خلیفہ ہارون الرشید کہ نامِ نامی ان کا تاریخ میں فلوریسنٹ سے لکھا ہے، روایت ہے کہ حرم ان کا پوری دنیا سے چنیدہ مہ وشوں سے آباد تھا۔ کیا امیر المؤمنین ان سے لڈّو کھیلتے تھے؟ واللہ ہرگز نہیں۔ آپ امورِ سلطنت و اشاعتِ دین سے تھک جاتے تو حرم میں تشریف لے جاتے۔ چند گھنٹوں کی خوش وقتی سے توانائی بحال ہوتی۔ اگلی صبح اسی توانائی کے ساتھ امورِ سلطنت میں مشغول ہوجاتے۔ دربار لگا تھا، ایک مشیر نے دریافت کیا، یا امیر المؤمنین! آپ کیسے اتنے کام نبٹا لیتے ہیں۔ آپ نے ایک لحظہ توقف  کیا  اور ایسا جواب دیا جو رہتی دنیا تک  فیس بک پیجز کی زینت بنا رہے گا، "ایک مہ وش کی آغوش ہزار ریڈ بُلز سے زیادہ توانائی آور ہے"
درویش ہمہ تن گوش تھے۔ طالبعلم کی بے قراری پر ان کا دل ملول ہوا۔ چہرہ غم سے متغیّر ہوا۔ کافی مگ میں کھیسے سے چپٹی بوتل نکال کر کچھ محلول ڈالا، مگ کو انٹی کلاک وائز حرکت دی، محلول کو سونگھ کر ایک لحظہ کے لیے آنکھیں میچیں اور ہلکا سا سِپ لیا۔ طالبعلم کی طرف بغور دیکھا۔ انگشت وسط اٹھائی اور گویا ہوئے،  مینوں کِی دسداں۔۔۔ میرے اپنے ٹوٹے بنے ہوئے نیں۔
ہیہات ۔۔ہیہات۔۔۔۔ تاریخ کے چوراہے پر بے سدھ ہم پڑے ہیں اور دنیا حظ کشید کرتی ہے۔ کوئی مردِ کار ہے جو پکار کے کہے، ہالٹ!  ہیہات ۔۔ ہیہات۔۔۔۔

Comments
4 Comments

4 تبصرے:

عقیل نے فرمایا ہے۔۔۔

کمال کر دیا جعفر صاحب آپ نے. موجودہ حالات میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات کو استاد بوتل کے انداز میں بیان کرنا آپ کا ھی خاصہ ھے..

Khawaja نے فرمایا ہے۔۔۔

استاد محترم
کمال ہی کر دیا جناب نے
چس آ گئی اے

Unknown نے فرمایا ہے۔۔۔

ہارون الرشیدکی مٹی پلید

Imran نے فرمایا ہے۔۔۔

Wah

تبصرہ کیجیے