بے لاگ بلاگر - خاور کھوکھر

سب سے پہلے ڈفر کا بلاگ وزٹا تھا میں نے اور وہ بھی اتفاق سے۔ ڈھونڈنے کچھ اور نکلا تھا، پہنچ کہیں اور گیا۔ لیکن اب سوچتا ہوں کہ ٹھیک جگہ پہنچا تھا۔ اسی کے بلاگ رول سے خاور کھوکھر کے بلاگ کا پتہ ملا۔ پہلی دفعہ وہاں گیا تو تصویر دیکھ کر لگا کہ کوئی منڈا کھنڈا ہے اور گانے شانے پوسٹ کردیتا ہوگا موج میلہ کرنے کے لئے۔
لیکن پوسٹ پڑھنی شروع کی تو آخری سطر تک پڑھتا ہی چلا گیا۔ انوکھا انداز تحریر اور قاری کو برچھی سے ”کتکتاریاں“ کرتے ہوئے خاور صاحب۔
دو قسم کے بندے ہوتے ہیں پہلے جو خود کو تجربہ کار کہتے ہیں لیکن اصل میں پڑے پڑے پرانے ہوگئے ہوتے ہیں اور جو ہر بات پر اپنا باجا نکال کر بجانا شروع کردیتے ہیں۔ دوسری قسم کے یہ ہمارے خاور کھوکھر جیسے ہوتے ہیں کہ ایسی باتیں وہی لکھ سکتا ہے جس کو زندگی نے چنگا رگڑا دیا ہو اور خوب دھو کر نیل دے کر سکھایا ہو۔چمک جاتا ہے پھر بندہ، تو اپنے خاور صاحب بھی چمک گئے ہیں۔ سیدھے انداز میں نوکیلی باتیں۔ کاٹ دار ایسی کہ بندہ پڑھنے کے بعد بھی چبھن محسوس کرتا رہے۔ لگی لپٹی رکھے بغیر لیکن کسی کو طعنے اور مہنے دیئے بغیر۔
تبصرے بھی کم کم کرتے ہیں، لیکن تبصرے بھی پڑھنے لائق ہوتے ہیں۔ ایک اقتباس دیکھئے

طالبان کے اسلام کا ورژن ہو گا جی
خواہ مخواہ
شلوار کو اونچا کروانے کے لیے گٹوں پر چھڑیاں برسیں گی
داڑھی کے سائیز پر سزا ہو گي
لیکن جی فکر ناں کریں
ان لوگوں کی نیت ٹھیک ہو گي اس لیے ان کو سنوارنا آسان ہو گا

ان کے نقطہ نظر سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ سوچی سمجھی رائے کے مالک ہیں اور اس پر دلیل سے بات کرتے ہیں۔ پوری قوم کی طرح بلاگروں میں بھی جذباتیت پسندوں (جن میں خود بھی شامل ہوں) کی بھرمار ہے لیکن یہ بھی ان کی خوبی ہے کہ جذباتیت سے کوسوں دور ہیں۔ سیاست، مزاح، معاشرت ہر موضوع پر قلم برداشتہ لکھتے ہیں۔ قاری سے مکالمہ کرتا ہوا لکھنے کا انداز اور اپنی رائے بغیر ٹھونسے ہوئے بیان کرنے کا فن۔



آخر میں ان کے بے لاگ بلاگ سے ایک اقتباس۔۔۔
اب یہ حال ہے کہ حکومتی لوگ ڈرے ہوئے ہیں اور میڈیا ان کے ھاتھ ہے
اور یہ لوگ بچوں کی طرح کہہ رہے ہیں وہ دیکھو جی طالبان آ رہے ہیں یہ ہم لوگوں کو ماریں گے
نہیں جی یہ ہم لوگوں کو نہیں تم لوگوں کو ماریں گے
بس میرے لوگوں کو عام لوگوں کو اس بات کا معلوم ہونے تک کی دیر ہے کہ ہم لوگ ہم ہیں
اورحکومتی لوگ
ہم نہیں ہیں!!

آسماں اس دفعہ رحم نہیں کھائے گا شاید

آسماں اس دفعہ رحم نہیں کھائے گا شاید
کوئی مجھ کو بچانے نہیں آئے گا شاید

سورج نہیں نکلے گا اس رات کے بعد
پرندہ، صبح کا گیت نہیں گائے گا شاید

میرا مشورہ ہے تو چھوڑ دے مجھ کو
پھرتجھے کوئی ہاتھ نہیں لگائے گا شاید

توڑ دے آس، تجھے کیا فرق پڑتا ہے
اک کھنڈر، دلِ برباد میں بڑھ جائے گا شاید

موسم گل میں بھنورا اداس ہے!
طوفاں کوئی ہلاکت خیز آئے گا شاید

ڈائیلاگ بازی

پچھلے کچھ برسوں میں جو چند اچھی فلمیں بنی ہیں ”اومکارہ“ ان میں‌ سے ایک ہے۔ یہ فلم شیکسپئر کے ڈرامے ”اوتھیلو“ سے ماخوذ ہے۔ اور اس کو دیہی اتر پردیش کے پس منظر میں فلمایا گیا ہے۔ فلم میں‌ استعمال کی گئی زبان بہت ہی عوامی ہے لہذا کمزور دل حضرات دیکھنے سے پرہیز کریں۔ فلم کے اوپننگ کریڈٹس کے فوراً بعد یہ ڈایلاگ ہے ، جو بہت سی وجوہات کی بناء پر میرا پسندیدہ ہے۔

(سیف علی خان بطور لنگڑا تیاگی)
”بے وقوف اور ۔۔۔۔ میں‌ دھاگے بھر کا پھرک ہوتا ہیگا بھیّا
دھاگے کے ہینگے بے وقوف اور ہونگے ۔۔۔۔۔۔۔
اور جو دھاگہ ہینچ لو تو کون ہے بےوقوف اور کون ہے ۔۔۔۔۔، کروڑ روپے کا پَرَسَن ہے بھیا
!

خالی جگہ میں استعمال ہونے والا لفظ لکھنے کی ہمت نہیں‌ ہوئی۔ جنہوں نے فلم دیکھی ہے ان کو پتہ چل گیا ہوگا کہ کونسا لفظ ہے!

برسبیل تذکرہ ایک بات یاد آئی ہے وہ بھی سن لیجئے۔ ایک انڈین دوست سے میری کرکٹ پر بحث ہورہی تھی کہ وہ اچانک بولا۔ ”یار، تم پاکستانی انڈیا کے اتنے مخالف ہو لیکن فلمیں اور گانے ہمارے ہی دیکھتے اور سنتے ہو۔ یہ کیا منافقت ہے؟“
میں نے جواب دیا کہ جب کوئی بندہ تماشبینی کے لئے بازار میں جاتا ہے تو وہ طوائف سے اس کی قومیت نہیں‌ پوچھتا۔ پیسے خرچ کرتا ہے اور تماشبینی کرتا ہے۔ اس میں منافقت کہاں‌ سے آگئی۔
وہ اٹھا، میرے گھٹنوں‌ کو ہاتھ لگایا اور ہاتھ جوڑ کر بولا۔ ”تو مہان ہے میرے باپ، معاف کر مجھے“۔

آخر میں تبرک کے طور پر الحاج سلطان راہی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی ایک ڈائلاگ سن لیجئے:
سلطان راہی:‌ ”اوئے چاچا! میرے پیو نوں کنے کنے رل کے ماریا اے“۔
چاچا: ”او پترا، اونہوں ساریاں رل کے ماریا سی“۔
سلطان راہی: ”اوئے میں سارے ماردیاں گا“۔

تبصروں میں اپنے پسندیدہ ڈایلاگ لکھنے کی کھلی آزادی ہے!