حاجی صاحب

جالندھر میں پیدا ہوئے۔ 47 میں ہجرت کے وقت چار پانچ سال کے تھے۔  ہنستے بستے گھر چھوڑ آنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ دادا جنت مکانی لائلپور میں آٹھہرے۔ بہت عرصہ تک یہی کہتے اور سمجھتے رہے کہ یہ عارضی مشکل ہے۔ ہم واپس اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے۔ ایسا کچھ نہ ہوا۔

پودا اکھڑ جائے تو نئی جگہ جڑ پکڑتے دیر لگ جاتی  ہے۔ سکول جانا شروع کیا تو شاید پانچویں جماعت تک ہی پڑھ سکے۔ گھر میں عسرت تھی۔  بتاتے تھے کہ شاید کتابوں کے پیسے نہیں تھے تو سکول چھوڑ دیا۔ جھنگ بازار میں سبزی کا ٹھیلا لگا لیا۔ جو کچھ یافت ہوتی، ماں کے ہاتھ پہ رکھ دیتے۔ بتایا کرتے تھے کہ امی کے ساتھ گھر کے کام بھی کرتے تھے۔ سب سے بڑے بھائی 47 میں بچھڑ گئے تھے۔ تقریبا دس سال بعد ملے۔   دادی کو ان سے اور ابو سے زیادہ لگاؤ تھا۔ آخری عمر تک رہا۔

سلمی ستارے کا کام سیکھا اور نوجوانی تک وہی کام کیا۔ سب سے بڑے بھائی درزی تھے۔ جناح کالونی لائلپور میں ٹیلرنگ کی دکان تھی۔ ان سے درزی کا کام سیکھا۔ آخری عمر تک پرانے ملنے والے ماسٹر جی پکارتے تھے۔ شادی کے بعد اپنا کاروبار شروع کیا۔ جناح کالونی میں اس وقت ہوزری مارکیٹ کا آغاز تھا۔ وہی کام شروع کیا۔گُنی اور محنتی تھے۔ کاروبار میں برکت ہوئی۔ چند سال میں اپنا گھر بنا لیا۔

جوانی میں حج بھی کرلیا۔ اس کے بعد جگت حاجی صاحب ہوگئے۔ گھر، باہر سب یہی پکارتے تھے۔ بہن بھائیوں میں چھوٹے تھے، آخری سے پہلا نمبر۔  خاندان میں مگر رتبہ بڑوں جیسا تھا۔ بڑے بھائی بھی ان کو بڑا سمجھتے اور مانتے تھے۔ کسی معاملے، مناقشے، مسئلے میں ان سے رجوع کرتے۔ ان کی رائے کو ترجیح دی جاتی۔

تحمل تھا، کبھی طیش میں نہیں دیکھا۔ اس زمانے بلکہ آج بھی دیسی معاشرے میں بچوں کی تربیت اور مار پیٹ کو مترادف سمجھا جاتا ہے۔ ساری زندگی میں ان سے ایک تھپڑ کھایا۔ اس کی الگ کہانی ہے۔ کبھی گالی نہیں سنی۔ بہت غصہ میں ہوتے تو 'گدھا' کہہ دیتے۔ اس سے زیادہ نہیں۔ چلاّ کے بات کرتے کبھی نہیں سنا۔ چھوٹے، بڑے سب کو "تسی" سے مخاطب کرتے۔

جوانی میں حج کرلیا تھا۔ مذہب سے لگاؤ ساری زندگی رہا۔ نماز کے پابند۔ زاہدِ خشک مگر نہیں تھے۔ کبھی پابندیاں نہیں لگائیں کہ  یہ پہنو، یہ مت پہنو۔ بال کٹواؤ، داڑھی چھوڑو۔  مطالعہ کا شوق ان سے ہوا۔ بیٹھک میں ایک الماری کتابوں سےبھری ہوئی تھی۔ مذہبی لٹریچر سے لے کر سیاست اور ادب تک بہت سی کتابیں۔ بہارِ شریعت سے  گلستان و بوستان ، چودھری افضل حق کی 'زندگی' ، 'جواہرات' اور ایس ایم ظفر کی 'ڈکٹیٹر کون ' سے شبلی کی 'الفاروق' تک۔  سکول کے دور میں ایک دفعہ مظہر کلیم کی عمران سیریز کا ناول ہمارے ہاتھ میں دیکھا تو بہت ناراض ہوئے ۔ کہا کہ پڑھنا ہے تو ابن صفی کو پڑھو۔

زندگی میں پیسہ  خوب کمایا، خرچ بھی خوب کیا۔ خود پر کم، دوسروں پر زیادہ۔ خدا کے بعد ان کا محنت پر ایمان تھا۔ ادھیڑ عمری کے اختتام پر بحران کا شکار ہوئے۔ زندگی میں جو کچھ بنایا، ختم ہوگیا۔ مال بھی، تعلق بھی۔ رشتہ دار، دوست کترانے لگے۔ کبھی زبان سے تو نہیں کہا لیکن حالتِ حال سے پتہ چلتا تھا کہ دکھ ہے۔ پھر نئے سرے سے محنت شروع کی۔ ہم نے بھی ہجرت کی اور روزی کی تلاش میں خلیج آگئے۔ محنت کا جو سبق ان سے سیکھا تھا، کھرا پایا۔

آخری دو تین سال کے علاوہ جب کمزور ہوگئے تھے، ساری زندگی اپنے ہاتھ سے کمایا۔ کبھی کسی کے احسان مند نہ ہوئے۔   ہم بڑے ہوئے تو ان سے تعلق دوستانہ ہوگیا۔ سیاست، کھیل، مذہب سب پر گپ شپ ہوتی جیسے دوستوں میں ہوتی ہے۔ ملک چھوڑنے کے بعد یہ سب ختم ہوا۔ چھٹی پر آنا ہوتا تو سامان کھولنے باندھنے میں ہی دن گزر جاتے۔

مارچ میں پاکستان آیا تو وباء کی وجہ سے رکنا پڑا۔ تقریبا چھ مہینے ان کے ساتھ گزارے۔ کمزور اور ضعیف ہوگئے تھے۔ یادداشت بھی اچھی نہیں رہی تھی۔ مگر ان کی زندہ دلی برقرار تھی۔  آتے ہوئے ان سے کہا کہ اگلی دفعہ میں نے آنا ہے تو آپ مجھے ائیرپورٹ لینے کے لئے آئیں۔ ہنس دئیے۔

یہ ان کی آخری یاد ہے۔

آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

 


وبا کے دنوں میں خلافت


آئن سٹائن نے 1905 میں نظریۂ اضافت پیش کیا۔ اس کے ٹھیک دس برس بعد اسی سے متعلقہ ورم ہول (Wormhole) نظریہ پیش کیا گیا۔ جس کے مطابق  کائنات میں ایک شارٹ کٹ تشکیل پاتا ہے جس کے ذریعے  زمان و مکان کی حدیں توڑ کر وقت یا سپیس میں کہیں بھی جایا جاسکتا ہے۔ 1997 تک  ورم ہول صرف تھیوری کی حد تک ہی تھا۔ عملی طور پر انسان اس بارے کچھ نہیں جانتا تھا۔
1997 میں یونیورسٹی آف لزبن کے فزکس ڈپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ ڈین پروفیسر ہاوئیر فیگو نے ایک دلچسپ تھیوری پیش کی۔ جس کے مطابق جب بھی دنیا میں بڑے پیمانے پر انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں،اس کے نتیجے میں ورم ہول پیدا ہوتا ہے۔ پروفیسر فیگو کا کہنا تھا کہ اس ورم ہول کا مقصد یہ ہے کہ جانوں کے اس ضیاع کو روکنے کے لیے فطرت انسان کو موقع  دیتی ہے کہ وہ وقت میں سفر کرکے اس سانحے یا حادثے کو رونما ہونے سے پہلے روک سکے۔
پروفیسر فیگو  کی تھیوری کو زیادہ پذیرائی نہیں  ملی بلکہ سائنسی حلقوں میں اس کا مذاق بھی اڑایا گیا۔ 2005 میں پروفیسر ہاوئیر فیگو اپنے اپارٹمنٹ میں مردہ پائے گئے۔ ان کی موت کا سبب ڈپریشن بتایا گیا۔
1999 میں پروفیسر فیگو یونیورسٹی کی ملازمت چھوڑ چکے تھے۔ 99 سے 2005 تک  وہ رینڈ کارپوریشن کے ساتھ بطور کنسلٹنٹ وابستہ رہے۔ 2007 میں رینڈ کارپوریشن کے ایک وسل بلوور نے نہایت عجیب انکشافات کیے۔ ان کا نام رچرڈ ہاکنگز تھا اور وہ پروفیسر فیگو کے ساتھ بطور اسسٹنٹ وابستہ رہے۔ ہاکنگز کا کہنا تھا کہ پروفیسر فیگو کی تھیوری کو ٹیسٹ کرنے کے لیے عراق اور افغانستان میں بڑے پیمانے پر قتلِ عام کیا گیا ۔ اس کے نتائج  جانچنے کے لیے فزکس کے ماہرین  کی ٹیم جدید ترین آلات کے ساتھ خلائی سٹیشن پر موجود رہی۔  اس تجربہ کا کوڈ نیم 'ریبٹ ہول' رکھا گیا۔
رچرڈ ہاکنگز کے مطابق  آپریشن ریبٹ ہول کامیاب رہا اور ماہرین نے افغانستان میں بامیان کے قریب ورم ہول دریافت کرلیا۔ اس ورم ہول کے ذریعے ایک سپیشل آپس ٹیم تجرباتی طور پر   ہٹلر کو قتل کرنے کے لیے بھیجی گئی۔ کیلکولیشنز میں ابہام کی وجہ سے یہ ٹیم 1938 کی بجائے 1944 میں جا پہنچی۔ جدید آلات اور ٹیکنالوجی کی مدد سے انہوں نے ہٹلر کے بنکر سراغ لگایا  اور اسے قتل کرکے اس کی نعش اپنے ساتھ لے آئے۔ یہ نعش رینڈ کارپوریشن کے خفیہ عجائب گھر میں آج بھی موجود ہے۔
اس ٹیم کی بنائی گئی وڈیو سے ظاہر ہوا  کہ جرمنی بھی اس وقت تک ایٹم بم ایجاد کرچکا تھا اور جس وقت یہ ٹیم ہٹلر کے بنکر میں پہنچی ، اسی شام ہٹلر پورے یورپ اور امریکہ کو  ایٹم بموں سے تباہ کرنے والا تھا۔
رچرڈ ہاکنگز کے یہ انکشافات ناقابل یقین تھے۔ بوسٹن گلوب میں چھپنے والی اس خبر کی اگلے ہی دن تردید کی گئی اور اخبار نے قارئین سے معافی مانگی۔ رچرڈ ہاکنگز کو نفسیاتی مریض قرار د ے کربوسٹن کے آربر ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا۔   26 نومبر 2010 کو پراسرار حالات میں رچرڈ ہاکنگز  اپنے کمرے میں مردہ پائے گئے۔ ان کے جسم پر کسی قسم کا کوئی زخم نہیں تھا۔ پوسٹ مارٹم  رپورٹ کو کلاسیفائیڈ قرار دے کر سیل کردیا گیا۔
22 مارچ 2020 کو ترکی کی خفیہ ایجنسی این آئی او کے اہلکار اورحان ایورن نے واشنگٹن سے ایک رپورٹ بھیجی۔ اورحان رینڈ کارپوریشن میں کرد امور کے ماہر کے طور پر ملازمت کرتے تھے۔  حادثاتی طور پررینڈ کارپوریشن 2017 کی ٹاپ سیکرٹ سالانہ میٹنگ کے منٹس  اورحان کے ہاتھ لگ گئے۔  ان کے مطابق دنیا کے حالات اگلے پانچ برسوں میں بالکل تبدیل ہونے والے تھے۔ مغرب اور امریکہ کی سائنسی اور سیاسی برتری  ختم ہونے والی تھی۔ اس تبدیلی کی شروعات پاکستان سے ہونے والی تھیں ۔
منٹس کے مطابق رینڈ کارپوریشن نے اپنے پورے وسائل کے ساتھ اس تبدیلی کو روکنے کے لیے دس سال جدوجہد کی۔ لیکن بالآخر 2018 میں تبدیلی کو روکنا ناممکن ہوگیا۔  اس تبدیلی کے بعد ترکی اور پاکستان مل کر خلافت کا احیاء کرنے والے تھے ۔ طیب اردگان اس بارے میں ہمیشہ سے یکسو تھے  اور صرف مناسب وقت کا انتظار کررہے تھے۔ جیسے ہی پاکستان میں عمران خان وزیر اعظم بنتے، خلافت عمرانیہ کے احیاء کا اعلان استنبول سے کر دیا جاتا۔ رفتہ رفتہ سارے بااثر مسلم ملک اس خلافت کی بیعت کرلیتے۔ عمران خان اس کے لیے سارا ہوم ورک پہلے ہی کرچکے تھے۔ سعودیہ سے یو اے ای اور انڈونیشیا سے ملائشیا تک سبھی آپ کی خلافت پر متفق تھے۔
خلافت عمرانیہ قائم ہونے کے بعد جو منظر نامہ ہوتا ، رینڈ کارپوریشن نے اس کی کچھ منظر کشی اس میٹنگ میں کی۔ اس کے مطابق تیل کے ذخائر، مشترکہ فوجی طاقت اور بے تحاشا انسانی وسائل کی حامل اس خلافت کو دنیا پر حکومت کرنے سے روکنا ناممکن تھا۔  یہ مغربی تہذیب کی موت ہوتی۔ سیموئل ہنٹنگٹن کا 'تہذیبوں کا تصادم' سچ ثابت ہوجاتا۔
میٹنگ منٹس کے آخر میں تجویز پیش کی گئی کہ مغربی تہذیب کی اس تباہی کو روکنے کے لیے 'آپریشن ریبٹ ہول 2' کا آغاز کیا جائے۔ اس کے لیے بل گیٹس کی تجویز کو مناسب قرار دے کر اس پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
منصوبہ کے مطابق بائیولوجیکل ہتھیار کے ذریعے دنیا میں ایسی وبا پھیلائی جانی تھی جو ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی۔ اس کے آغاز کے لیے چین کا انتخاب کیا گیا۔ اس کی ویکسین پہلے ہی تیار کرلی گئی تھی۔ جیسے ہی وبا عالمی طور پر پھیلتی، مغربی میڈیا کے ذریعے یورپ اور امریکہ میں بے تحاشا اموات کی خبریں پلانٹ کی جاتی۔ جبکہ اصل میں زیادہ اموات چین او ر اسلامی ممالک میں ہونی تھیں۔ جیسے ہی اموات  ورم ہول کی مطلوبہ تعداد تک پہنچتیں، سپیشل آپس سائی بورگ ٹیم ماضی میں روانہ کی جاتی ۔ یہ ٹیم عمران خان کے بچپن  میں جا کر ان کو اغواء کرتی اور  تنزانیہ  کے قصبہ دودوما میں چھوڑ آتی۔
یہاں تک کا منصوبہ بے داغ اور عیب سے پاک تھا لیکن چین نے وبا کے آغاز میں ہی اس پر قابو پا لیا۔ اس کے بعد ترکی نے اپنی معلومات چین سے شئیر کیں۔ چین نے اسی وائرس کوتبدیل کرکے یورپ اور امریکہ میں پلانٹ کر  دیا ۔ چند ہفتوں میں اس کی ویکسین تیار کرکے پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک کو فراہم کردی گئی۔ یورپ اور امریکہ میں بے تحاشا اموات  ہونے لگیں۔ ان کی ویکسین اس تبدیل شدہ وائرس کے مقابلے میں ناکارہ ثابت ہوئی۔
مئی کے پہلے ہفتے میں اموات کی تعداد پوری ہوتے ہی ترکی اور چین کی مشترکہ ٹیم ماضی میں گئی اور عمران خان کی حفاظت پر مامور ہوگئی۔ اب یہ ٹیم رینڈ کارپوریشن کی سپیشل آپس سائی بورگ ٹیم کا انتظار کررہی ہے!

فربہ دانشور


"توانا جسم کے ساتھ فربہ فکر بھی ضروری ہے۔ جیسے کمزور جسم میں طاقتور سوچ نہیں رہ سکتی اسی طرح فربہ فکر بھی مرگھلے ڈھانچے میں پیدا نہیں ہوسکتی۔ "
انسانی شعور و تہذیب کے ارتقاء میں سب سے اہم کردار   ان شخصیات نے ادا کیا ہے جو دین و دنیا کو الگ سمجھنے کی بجائے ان کے ادغام پر یقین رکھتے تھے۔ شامیر خادم جاکھرانی اکابرین کی انہی روایات کے صادق امین ہیں۔جدید دور کے چیلنجز نے نئی نسل کے لیے بہت خطرات پیدا کیے ہیں جن میں سب سے بڑا خطرہ مشرقی روایات سے روگردانی کی صورت میں سامنے آیا ہے۔
مغربی تہذیب کے زہریلے پراپیگنڈے کی وجہ سے نئی نسل مذہب سے دور ہوتی جارہی ہے۔ بزرگوں کا ادب و احترام کم ہوتا جارہا ہے۔ فحاشی و عریانی کا ایک سیلاب ہے جس نے مملکتِ اسلامیہ کو گھیرا ہوا ہے۔ اس پُر فتن دور میں شامر جاکھرانی امید کی سرچ لائٹ بن کر سامنے آئے ۔
آپ نے ابتدائی تعلیم گھر سے حاصل کی۔ روایت ہے کہ پیدائش کے تیسرے دن آپ نے خلیفہ  جی کا کالم پڑھا۔ والدہ نے چھلہ نہایا تو آپ اوریا اور کلاسرہ کے مضامین پر نقد کرنے لگے تھے۔ آپ کی پیدائش میں کچھ وقت ابھی باقی تھا کہ آپ کے والدِ ماجد کو خواب میں ایک بزرگ کی زیارت ہوئی۔ بزرگ فرمانے لگے کہ جلد ہی تمہارے خاندان میں ایسا شہابِ ثاقب گرے گا جس کی روشنی اور توانائی سے پورا وسیب روشن ہوجائے گا۔  بزرگ نے بڑے جاکھرانی صاحب کو خبردار کیا کہ نومولود  کی خور و نوش میں کوئی دقیقہ فروگزاشت رکھا تو اس ہزارئیے میں اُمّہ کی بربادی کی ذمہ داری تمہارے نامۂ اعمال کی سیاہی میں اضافہ کرے گی۔ بزرگ کے اس انتباہ کو بڑے جاکھرانی صاحب نے حرزِ جاں بنا کے رکھا۔ آج شامیر خادم کی فربہ فکر  کو وہ مچّرب ڈھانچہ میسرہے جو اس فکر کا بوجھ بخوبی اٹھا سکتا ہے۔  
؏ تفو بر تو اے چرخ گردوں تفو
دنیاوی علوم میں تبحر حاصل کرنے کے ساتھ آپ عالمِ رویاء میں اکابر علماء اور فلاسفہ کے سامنے زانوئے تلمذ بھی تہہ کرتے رہے۔ان اساتذہ میں جگر کینیڈوی،  فرائڈ، ہومر، وان گوف، شیخ الجبل، راسپوٹن، شیکسپئیر،  ابنِ عربی،  چارلی چپلن، قاسم شاہ اور رنگیلا شامل تھے۔  آج کل آپ خود بھی عالمِ رویاء کے اکابر اساتذہ  کی اس فہرست میں شامل ہیں جو دورِ جدید کے نابغے ہیں۔ ان میں نعیم الحق، وقار ذکاء، صابر شاکر، طاہر شاہ، آغا وقار،  علامہ ضمیر نقوی، جسٹس ٹیڈی بکری ، سلمان احمد،  علامہ خادم رضوی،  وصی شاہ اور آفتاب اقبال شامل ہیں۔
دنیاوی و روحانی اکابرین کی پوری توجہ  اور مکمل غذائیت ملنے سے آپ کی ذہنی و جسمانی کیفیات عروج پر پہنچیں تو آپ کو دنیا کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا گیا۔ آپ  کواکیسویں صدی کا فکری بگ بینگ کہا گیا۔ نوجوان نسل جو گمراہ ہو کر فیس بک کی پر خار وادیوں میں بھٹک رہی تھی، آپ ان کے لیے غبارۂ نور ثابت ہوئے۔ جلد ہی آپ کا ڈنکا  فیس بک کے ہر کھلے، بند اور خفیہ گروپ میں بجنے لگا۔ حاسدین ڈنکا بجنے کی وجہ مقدارِ خوراک اور بدہضمی قرار دیتے ہیں ، اہلِ نظر مگر جانتے ہیں کہ   دنیاوی علوم کو ثابت نگل جانے والوں کے لیےکباب،  نہاریاں، بونگ پائے، مغز،  ٹکاٹک، نان، بریانیاں، پلاؤ، ساگ، پالک گوشت، کریلے گوشت، چاؤمن، کابلی پلاؤ، سجیاں، چنیوٹی کُنے، پاستے، چرغے ،سوہن حلوے، حلیم، رس گلے، مرغ چھولے، مٹن کڑاہیاں، بیف تکے، فش فرائی، زردے، کھیریں، فرنیاں،  بلیک فارسٹ کیک، آم، کیلے، ہدوانے، خربوزے، انگور، ملوک، بیر وغیرہ ہضم کرنا بائیں جبڑے کا کام ہے۔
فیس بک پر ظہور سے پہلے یہاں ہر طرف گالم گلوچ کا رواج تھا۔ نوجوان نسل ہر زنانہ آئی ڈی کو ان باکس کرتی تھی۔ ان زنانہ آئی ڈیز کی اکثریت رشید، حفیظ وغیرہ نے بنائی ہوئی تھی۔ اس سے نوجوان نسل کے اخلاق کے علاوہ مستقبل خراب ہونے کا بھی خدشہ ہوتا تھا۔ آپ نے ان کو زندگی کا ایک واضح نصب العین دیا۔ اخلاقیات کے درس ، رنگ برنگی کتب، علماء دین  کے ایمان افروز واقعات، روحانی شخصیات کی دماغ افروز حکایات، انگریزی ٹی وی شوز اور فلمز کے تھرلز اینڈ مزے، معیشت کے اسرار و رموز، وادیٔ سیاست کےپیچ و خم، چندے کے فوائد، وردی کے فضائل، سیاستدانوں کے رذائل۔۔۔ الغرض آپکی فیسبک ٹائم لائن ہر رنگ سے مزین ہے۔
؏ جو رنگ رنگیا گوڑھا رنگیا
جرائد، اخبارات، کتب، فیس بک،  نیوز ویب سائٹس  ہر جگہ آپ کے تبحر علمی کی دھوم ہے۔ بدقسمتی یہ ہوئی کہ ابھی تک وطنِ عزیز میں کوئی ایسا کیمرہ  دستیاب نہیں جو ان کو ٹاک شوکے سیٹ پر پورا کیپچر کر سکے ورنہ آج آپ ٹاپ اینکر بھی ہوتے۔  یہ زمانہ بلاشبہ علم و فضل کا دورِ جاکھرانی ہے۔
؏ کھا چکے ہم تو زمانے نے بہت یاد کیا


کریں گے اہلِ نظر تازہ بستیاں آباد

"اس دنیا میں تین جہات ہیں۔ مثلث کے تین کونے  ہوتے ہیں،  اہرامِ مصر  مثلث کی شکل میں ہیں۔ ان کی پراسراریت پر صدیوں کی تہیں جمی ہیں۔ آج تک کوئی  جیالوجسٹ یا سائنسدان اس کا بھید نہیں پاسکا۔ برمودا ٹرائی اینگل سے جڑی بے شمار پراسرار کہانیاں ہیں۔ ان پر فلمیں بھی بنیں۔ کہانیاں بھی لکھی گئیں مگر ابھی تک کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اس کا راز کیا ہے۔ دنیا کے نقشے کو دیکھیں تو برمودا ٹرائی اینگل امریکہ کی سمت ایک کونے میں نظر آئے گا۔ ہمالیہ کا پہاڑی سلسلہ اس کے بالکل دوسری سمت کونےمیں ہے۔ اس فرضی مثلث کا تیسرا کونا قطبِ شمالی کا وہ علاقہ ہے جہاں سارا سال پراسرار روشنیاں نظر آتی ہیں۔  یہ تین کونے مل کر اس دنیا کی چوتھی جہت کی مثلث بناتے ہیں۔
ہمالیہ کی ترائیوں میں ایسے علاقے ہیں جہاں آج تک کسی بھی انسان کے قدم نہیں پہنچے۔ اتنے دشوار گزار علاقوں میں نہ تو جدید ترین ہیلی کاپٹر یا جہاز جا سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی جیپ یا کار وغیرہ۔ پہاڑی علاقوں میں سفر کے لیے یاک استعمال ہوتے ہیں لیکن وہ بھی ایک مخصوص علاقے میں ہی حرکت کرتے ہیں۔ "
یہا ں پہنچ کر لسوڑی شاہ صاحب نے توقف کیا۔ کچھ دیر خاموش رہ کر زیرِلب کچھ  پڑھا۔ میں ہمہ تن گوش  تھا۔ شاہ صاحب نے اشارے سے ملازم کو بلایا اور کافی لانے کا کہہ کر میری طرف متوجہ ہوئے۔
لسوڑی شاہ ایک ریٹائرڈ صنعت کار ہیں۔  لاہور منتقل ہونے کے بعد کچھ احباب کے ساتھ ا ن سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ تصوف، مابعد الطبیعیات، علم الاسماء پر ان کی گرفت حیرت انگیز ہے۔ پہلی ملاقات میں ہی میں ان کا گرویدہ ہوگیا۔ اس کے بعد کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں لاہور میں موجود ہوں اور ہفتہ میں دو تین دفعہ ان سے ملاقات نہ ہوسکے۔ ان کا گھر ایک طرح  کا ڈیرہ بن چکا ہے۔ ہر وقت لوگوں کا جھمگٹا رہتا ہے۔
دست شناسی میں بھی شغف ہے لیکن سب کا ہاتھ نہیں دیکھتے۔ مجھ سے خصوصی طور پر ہاتھ دکھانے کی فرمائش کی اور میری زندگی بارے ایسی باتیں بتائیں جو میرے علاوہ کسی کے بھی علم میں نہیں تھیں۔ مستقبل بارے ایک پیشگوئی بھی کی جو حرف بہ حرف پوری ہوئی۔ حالانکہ اس وقت میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ زندگی میں کوئی اور عورت بھی آسکتی ہے۔
کافی آنے کے بعد آپ نے اشارے سے ملازم کو کمرے سے جانے کے لیے کہا۔ اس محفل میں زیادہ لوگ نہیں تھے۔ استادِ محترم اور میرے علاوہ ایک بزرگ اور تھے جو لسوڑی شاہ صاحب کے قریبی معلوم ہوتے تھے۔ شام ڈھلتی جارہی تھی۔ شاہ صاحب نے آج خصوصی طور پر مجھے بلایا تھا۔ انکی ابتدائی گفتگو دلچسپ تو تھی لیکن میں ابھی تک سمجھ نہیں پایا تھا کہ وہ کہنا کیا چاہ رہے ہیں۔
شاہ صاحب نے کافی کا گھونٹ بھرا  اور دوبارہ گویا ہوئے، "دنیا کی تین جہات وہ ہیں جو ہم سب کو نظر آتی ہیں۔ ایک چوتھی جہت بھی ہے جسے صرف اہلِ نظر دیکھ سکتے ہیں۔ اس جہت میں داخل ہونے کے انٹری پوائنٹس بھی ہیں جن کا علم دنیا میں صرف چنیدہ لوگوں کو ہوتا ہے اوروہ دنیا سے پردہ کرنے سے پہلے یہ راز اگلی نسل تک پہنچا دیتے ہیں۔ یوں یہ سلسلہ ہزاروں سال سے چلتا آرہا ہے۔اگرچہ یہ جہت موجود ہے اور اس میں داخل ہوا جاسکتا ہے لیکن آج تک کوئی اس میں داخل نہیں ہوا۔ روایت چلی آتی ہے کہ قیامت کے قریبی زمانے میں اس جہت کی ضرورت پیش آئے گی۔ اس کے لیے تیاریاں کئی صدیوں سے جاری تھیں۔ "
گفتگو دلچسپ  مرحلہ میں تھی۔ استادِ محترم کی انگلیوں میں سگریٹ جل کے خاک ہوچکا تھا لیکن انہیں کش لگانے کا بھی ہوش نہیں تھا۔ شاہ صاحب نے مسکرا کر ان کی طرف دیکھا اور سگریٹ کی طرف اشارہ کیا کہ کہیں آستین نہ جلادے۔ کافی کا آخری گھونٹ لے کر آپ نے گفتگو آگے بڑھائی۔
"موجودہ صورتحال  ایسے لوگوں کو بھی مایوس کر رہی ہے جن کی ساری زندگی رجائیت کا پرچار کرتے گزری ہے۔ ہر طرف بدنظمی پھیلی ہے۔ کسی کو علم نہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور کیسے ہو رہا ہے۔ "
لسوڑی شاہ صاحب نے انگشت شہادت سے میری طرف اشارہ کیا اور گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا،
"آپ بھی مایوس ہوگئے حالانکہ آپ اس انتظام کے سب سے بڑے حامی تھے۔ آپ نے قریبا ایک عشرہ امیج بلڈنگ اور امید جگانے میں صرف کیا اور جب پھل پکنے لگا ہے تو آپ مایوس ہوگئے۔ یہ بدانتظامی ایک فریبِ نظر ہے۔ میں جو بات آپ کو اب بتاؤں گا یہ اتنی حیران کن ہے کہ شاید آپ میرے کہے پر بھی یقین نہ کریں۔ "
استادِ محترم نے بے چینی سے پہلو بدلا۔ شاہ صاحب کے قریبی رفیق کے لبوں پر مسکراہٹ تھی۔
"یہ سب مہنگائی، بے روزگاری  اور بدانتظامی اس عظیم  پراجیکٹ سے توجہ ہٹانے کے لیے جان بوجھ کر برپا کی گئی ہے جس کی تکمیل ہماری ترقی ،خوشحالی  اور استحکام کو قیامت  تک کے لیے یقینی بنا دے گی۔ وادی تیراہ سے ایک سرنگ ہمالیہ کی ترائیوں میں اس علاقہ تک بنائی جا رہی ہے جہاں چوتھی جہت کا  مرکزی داخلی  دروازہ ہے۔ اہلِ تصوف نے جب کپتان کو چنا تو ان کو علم تھا کہ 'ہی از دا ون'۔  اگلے تین سے پانچ سال تک یہ عظیم سرنگ مکمل ہوجائے گی۔ اس وقت تک ہمیں ہر حالت میں کپتان کا ساتھ دینا ہے۔ ایک دفعہ سرنگ مکمل ہوگئی تو پاکستان کی ساری آبادی اس سرنگ کے ذریعے چوتھی جہت میں داخل ہوجائے گی۔  چوتھی جہت میں کائنات کے سارے راز کھل جائیں گے۔ بیماریاں ختم ہوجائیں گی۔ انسان اڑ سکیں گے۔ فاصلے پلک جھپکتے میں طے ہوجائیں گے۔ موجودہ دنیا کی سائنس ابھی صرف ابتدائی مرحلے میں ہے جبکہ چوتھی جہت میں داخل ہونے والا ہر انسان طبیعی علوم میں ماہر ہوجائے گا۔
یہ سب مگر اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہم سب کپتان کی بنا کسی شک و شبہ دل و جان سے حمایت پر کمر بستہ ہو جائیں۔ جو اہلِ نظر جانتے ہیں وہ آپ نہیں جانتے۔ اس محفل کا مقصد آپ کو اس عظیم راز میں شریک کرنا تھا جو اس پوری دنیا میں صرف چند  لوگ جانتے ہیں۔  کیا میں امید رکھوں کہ آپ اس راز کی حفاظت کریں گے اور کپتان کا ساتھ دیں گے؟"
لسوڑی شاہ صاحب کے چہرے کے گرد روحانی ہالہ تھا۔ آپ نے اشارے سے مجھے قریب بلا کے اپنے پاس بٹھایا۔ میری کمر تھپتھپائی اور بولے، "آپ جیسے لکھاری ہی میری امید ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ ہمیں مایوس نہیں کریں گے۔"

میرے پاس تم ہو

دارالحکومت میں رات بھیگ چلی تھی۔ شام سے ہونے والی بارش  تھم چکی تھی۔ ہڈیوں کا گودا جما دینے والی سرد ہوا نے ہر ذی روح کو پناہ لینے پر مجبور کردیا تھا۔ آوارہ کتے تک نظر نہیں آتے تھے۔ دنیا و مافیہا سے بے خبر نشئی جن پر سردی گرمی کا اثر نہیں ہوتا تھا وہ بھی آج پناہ  اور حرارت کی تلاش میں تھے۔ چائے خانوں اور سُوپ کی ریڑھیوں کے علاوہ کہیں بندہ بشر نظر نہیں آتا تھا۔
متوسط طبقہ کی  آبادی میں چند نوجوان گلی کی نکڑ پر ایک بند دکان کے تھڑے پر آگ جلا کر گپیں ہانک رہے تھے کہ اچانک گلی سے "اُبالو گرم آنڈےےےے" کی آواز سنائی دی۔  شکل سے سنجیدہ اطوار نظر آنے والا لڑکا آواز سن کر چونک اٹھا۔ منہ پر انگلی رکھ کر سب کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ آواز دوبارہ آئی تو اس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ کیا تمہیں بھی یہ آواز سنی ہوئی لگ رہی ہے؟ سب قہقہہ لگا کر ہنسنے لگے۔ الٹی پی کیپ پہنے ایک لڑکے نے  کمر پر ہاتھ جماکر کہا کہ سیدھی طرح بول، انڈے کھانے ہیں۔ ڈرامے نہ کر۔
 اسی اثناء میں آواز قریب سے آئی اور سب چونک اٹھے۔ یہ آواز واقعی بہت سنی ہوئی لگ رہی تھی۔ ایک لڑکا جلدی سے اٹھا اور گرم انڈے والے شخص کو پاس بلایا۔ یہ ایک دراز قامت شخص تھا۔ جس نے سرخ رنگ کی کڑھائی والی گرم چادر اوڑھ رکھی تھی۔ اس کا منہ بھی چادر میں چھپا ہوا تھا۔ پی کیپ والا بولا، چاچا یہ چادر چاچی کی لےکر آگیا ہے۔ سب ہنسنے لگے۔ اس شخص نے گرم انڈوں والا کولر نیچے رکھا،  چادر کی بکل درست کی اور کہا کہ تم نے انڈے لینے ہیں تو بولو۔ میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔
اس شخص کی آواز میں ایک نامعلوم سا تحکم اور رعب تھا۔ سب نوجوان یکدم چپ سے ہوگئے۔ سنجیدہ اطوار لڑکا اٹھا  اور بولا کہ ایک درجن انڈے دے دیں، نمک ہے تو وہ بھی دے دیں۔ اس نے کولر کا ڈھکن کھولا ۔ درجن انڈے گنے۔ کرتے کی جیب سے کاغذ  اور نمک کی شیشی نکالی ۔ تھوڑا سا نمک کاغذ پر ڈالا اور اس کی پُڑی بنا کر نوجوان کو تھما دی۔ پیسے پوچھنے پر دراز قامت انڈہ فروش نے  کہا کہ 22 روپے کے حساب سے دے دیں۔ لڑکے حیران رہ گئے۔ ایک بولا کہ دوسرے لوگ تو کافی مہنگے بیچتے ہیں۔ آپ اتنے سستے کیوں دے رہے ہیں۔
یہ بات سن کر دراز قامت گرم انڈہ فروش نے چادر ایک جھٹکے سے اتار دی۔ سب نوجوان ششدر رہ گئے۔ وہ شخص  وزیر اعظم پاکستان تھے!
"دیکھو  ٹائیگرز! میں نے ساری زندگی کبھی کرپشن نہیں کی۔ یہ انڈے میری مرغیوں کے ہیں۔ میں جنگل سے لکڑیاں اکٹھی کرکے آگ جلا کر ان کو ابال لیتا ہوں۔  میرا ان پر کوئی خرچ نہیں آتا تو کیا میں ناجائز منافع کماؤں؟  تم حیران ہو رہے ہوگے کہ میں رات کے اس وقت گرم انڈے کیوں بیچ رہا ہوں۔ سچ بات  یہ ہے کہ تنخواہ میں گزارا نہیں ہورہا۔  ایک طریقہ تو یہ تھا کہ میں کرپشن کرتا۔ ساری چیزیں مہنگی کرتا۔ ان پر کمیشن کھاتا اور اربوں میں کھیلتا۔ لیکن میں لعنت بھیجتا ہوں ایسا کرنے والوں پر۔ میں نے  ہمیشہ رزقِ حلال کمانے کو ترجیح دی۔ رات نو بجے میری ڈیوٹی ختم ہوتی ہے۔ ساڑھے نو سے دو بجے تک میں انڈے بیچتاہوں۔ اس سے دو تین سو روپے کی بچت ہوجاتی ہے۔ اگلے دن کی ہانڈی روٹی کا بندوبست ہوجاتا ہے۔  میری صحت آرام نہ کرنے سے متاثر ہو رہی ہے لیکن میں اپنی جان پر تکلیف برداشت کرلوں گا اپنی قوم کو تکلیف نہیں پہنچنے دوں گا۔"
نوجوان حیران  ہو کر وزیر اعظم کی باتیں سن رہے تھے۔ ان کی گرجدار آواز سن کر گلی سے بھی لوگ نکل  کر آگئے۔ پوری گلی میں شور مچ گیا کہ وزیر اعظم گرم انڈے بیچنے آئے ہیں۔ وزیر اعظم کے سارے انڈے پانچ منٹ میں ہی بک گئے۔ خواتین کو بھی پتہ چل چکا تھا۔ کوئی اپنے زیور لا رہی تھی، کوئی گرم چادر، کوئی جرسی اور کوئی اپنے خاوند کی جیب سے پیسے۔ سب چیزیں وزیر اعظم کے قدموں میں ڈھیر کی جارہی تھیں۔
سنجیدہ اطوار نوجوان نے ہاتھ اٹھا کر سب کو خاموش ہونے کا اشارہ کیا اور گویا ہوا، "اس شخص نے ساری زندگی ہمارے لیے قربان کر دی۔ یہ چاہتا تو دنیا کے کسی بھی کونے میں عیش و عشرت سے زندگی گزار سکتا تھا لیکن یہ آج اس سردی میں اس لیے گرم انڈے بیچ رہا ہے کہ ہم سکون سے سو سکیں۔ اس قوم نے پہلے بھی اس کی آواز پر لبیک کہا تھا۔ آج پھر وقت آگیا ہے کہ ہم اس کا ساتھ دیں۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ "وزیر اعظم فنڈ برائے یتیم خانہ" شروع کیا جائے جس میں ساری قوم عطیات اور چندہ جمع کرائے۔ ہمارے وزیر اعظم یتیم ہیں اور ان کی تنخواہ اتنی نہیں کہ گھر کا خرچہ چلا سکیں۔ ان سے زیادہ مستحق کون ہوسکتا ہے۔ ہمیں ان کو اتنا کچھ دینا ہوگا کہ گھر چلانے کی فکر سے آزاد ہو کر ملک چلا سکیں اور پاکستان کو ایک ایسی قوت بنا دیں کہ ساری دنیا ہم سے خوف کھائے۔"
وزیر اعظم گرم انڈوں کا کولر تھامے ایک طرف کھڑے نوجوان کی باتیں سن رہے تھے۔ آپ کے لبوں پر ہنسی اور آنکھوں میں چمک تھی!