کیتھرین اور وال سٹریٹ کی شام

"تم ہمیشہ اداس کیوں نظر آتے ہو؟"۔ کیتھرین میری طرف جھکی اور آنکھوں میں جھانکتے ہوئے نرم لہجے میں پوچھا۔ کیتھرین کا سوال مجھے ماضی میں کئی سال پیچھے لے گیا۔ میں اس وقت سکول میں پڑھتا تھا۔ گھر کا خرچ چلانے کے لیے سکول سے آنے کے بعد ہم تنکوں سے ٹوکریاں اور ہیٹ بناتے تھے جو لاہور کا ایک تاجر ہم سے خرید لیتا تھا۔ ایک ٹوکری کے پانچ روپے اور ہیٹ کے دس روپے ملتے تھے۔ ہمارے ہُنر کو کوڑیوں کے بھاؤ خرید کر وہ انہیں موتیوں کے بھاؤ ایکسپورٹ کردیتا تھا۔ ایک ٹوکری پانچ لاکھ اور ہیٹ پندرہ لاکھ میں بیچتا تھا۔ اس کے پاس ڈیفنس میں دو ایکڑ کا وسیع و عریض محل تھا۔ اس کے بچّے امریکہ میں پڑھتے تھے۔ لمبرگینی اور فراری سے پورشے اور بنٹلے تک۔۔ اس کے پاس اعلی سے اعلی گاڑیاں تھیں۔ اس کے سوٹ اٹلی سے سِل کر خصوصی جہاز پر آتے تھے۔ اس کے پاس بارہ شیف تھے جو دنیا کی اعلی سے اعلی ڈشز بنانے میں کمال مہارت رکھتے تھے۔ اس کے محل میں آئ میکس سینما سے لے کر چڑیا گھر تک ہر چیز موجود تھی۔ یہ سب اس نے ہماری محنت کی کمائی لُوٹ کر بنایا جبکہ میرے پاس سکول کی فیس دینے کے پیسے تک نہیں ہوتے تھے۔۔۔ اتنا کہہ کر میں سانس لینے کے لیے رُکا۔۔۔ کیتھرین دم سادھے یہ کہانی سُن رہی تھی۔۔۔ اس کا تیسرا ہمبرگر ابھی تک ویسے کا ویسا ہی پلیٹ میں رکھا ٹھنڈا ہورہا تھا۔۔ بئیر پڑی پڑی گرم ہورہی تھی۔۔۔
"بہرحال" میں دوبارہ گویا ہوا۔۔ " جیسے تیسے میں نے میٹرک پاس کرلیا اور ملتان چلا آیا۔ یہاں میرے ہم وسیب بہت سے دوست تھے جنہوں نے میرا بڑا ساتھ دیا۔ ان کی محبتیں اور احسان میں کبھی نہیں بھول سکوں گا۔ ایم اے انگلش کرنے کے بعد میں نے اخبار میں نوکری کرلی۔ انہی دنوں اس اخبار میں ایک پنجابی جو ایم اے جرنلزم کرکے آیا تھا، وہ بھی بھرتی ہوا۔ میں اس سے ہر لحاظ سے بہتر تھا۔ مجھے انگلش بھی فر فر آتی تھی۔ جبکہ وہ بے چارہ اردو بھی نہیں بول سکتا تھا۔ لیکن مجھے سائیڈ لائن کرکے اس کو پروموٹ کیا گیا۔ اس کا کالم بھی شائع کرنا شروع کردیا گیا۔ نامور پنجابی صحافیوں نے اس کو پروموٹ کیا۔ آج وہ سب سے مقبول کالم نگار ہے۔ سب سے ہائلی پیڈ جرنلسٹ ہے۔۔۔ مجھے کیا ملا؟ مجھے ہمیشہ دیوار سے لگایا گیا۔ میری حق تلفی کی گئی۔ کسی اخبار یا چینل میں مجھے ٹِکنے نہیں دیا جاتا۔ میرا جُرم صرف یہ ہے کہ میں اپنی مظلوم قوم کے حق میں آواز اٹھاتا ہوں۔ میں نے ظالم پنجابی حکمرانوں کی کھربوں ڈالرز کی کرپشن کا سراغ لگایا۔ لیکن میری آواز صدا بصحرا ثابت ہوئی۔"
کیتھرین کی آنکھیں بھر آئی تھیں۔۔۔۔ اس نے میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کے تھپتپھایا۔۔۔ "اصل بات ابھی باقی ہے میری دوست"۔۔۔ میں نے سلسلہءکلام جوڑتے ہوئے کہا، " اگر اس تربیتی کورس کے سلسلے میں میرا نیویارک آنا نہ ہوتا تو میں کبھی نہ جان سکتا کہ میری محنت کی کمائی سے کیا کیا ہورہا ہے۔۔۔ سنو، پیاری کیتھرین، مجھے وال سٹریٹ پر ان تنکوں کی خوشبو آتی ہے جن سے ہم نے ٹوکریاں اور ہیٹ بنائے اور تم شاید سن کر حیران ہوگی کہ ایک عظیم الشان برانڈ چین میں، میں نے وہی ٹوکریاں اور ہیٹ لاکھوں ڈالرز میں بکتے دیکھے ہیں۔ ہماری خون پسینے کی کمائی سے آپ لوگوں نے نیو یارک جیسے شہر کھڑے کرلیے ہیں۔۔ تخت لہور ہو یا وال سٹریٹ۔۔۔ سرائیکی وسیب کا خون سب نے چُوسا ہے۔۔ سوال تو یہ ہے کہ ہمیں کیا ملا؟ غربت، ناانصافی، طعنے۔۔۔"
کیتھرین نے بچا ہوا تیسرا ہمبرگر منہ میں ڈال کے گرم بئیر کا لمبا گھونٹ لیا۔۔۔ اور ایک طویل ڈکار لے کے میرے دونوں ہاتھ تھام لیے اور میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولی۔۔۔ "رؤف، میں ان سب ناانصافیوں کا اُپائے تو نہیں کرسکتی لیکن اپنا قرض ضرور ادا کرسکتی ہوں۔۔"
اس کی آنکھوں میں محبّت اور سُپردگی تھی۔
Comments
19 Comments

19 تبصرے:

shaairejunoob نے فرمایا ہے۔۔۔

کمال

shaairejunoob نے فرمایا ہے۔۔۔

کمال

Ahsan Riaz نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت خوب

آم اچار نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت خوب لکھا۔ مگرجعفر کے معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے مجھے یک گونہ تشنگی سی محسوس ہو رہی ہے۔

آبرار قریشی نے فرمایا ہے۔۔۔

ہاہاہاہاہاہاہاہاہا بہت خوب بہت اعلیٰ۔ ہم صرف واہ واہ کرتے ہیں تفصیلی داد انشاءاللہ انجلابیوں کی ٹی ایل اور ٹرینڈز می :پ

faheem wali نے فرمایا ہے۔۔۔

ایسا مبالغہ کہ رؤف بھی پریشان ہو جائےکہکس کے ہاتھ لگ گیا :ڈ

Khawar Wahla نے فرمایا ہے۔۔۔

مختصر کہانی پڑھ کر زیادہ مزہ آیا کہ تشنگی باقی رہی.. اللہ زور تلوار زیادہ کرے

MAniFani نے فرمایا ہے۔۔۔

ھاھا، خوب استاد۔ کنوں پھڑیا اے، پر چپیڑ صحیح نہی بیٹھی

anwar نے فرمایا ہے۔۔۔

کمال ھے جناب. کاش گلاسڑہ ساب بھی پڑھ لیں

Tariq Iqbal نے فرمایا ہے۔۔۔

خوب لکها هے پر پڑهنے والے ابھی مانگیں اور
یه تحریر ایسے هے جیسے شدید گرمی میں پیاسے کو دو گھونٹ پانی پر ٹرخادیا جایے
( آخری درویش)

Paarsa نے فرمایا ہے۔۔۔

معزرت جعفر بھائی تبصرہ کیا تھا لیکن شاید کسی وجہ سے اپ ڈیٹ نی ہو سکا بحرحال آپکا نام اپنی پہچان آپ ہے اور یہ کام آپکا قلم ہی کرسکتا ہے ....بہت عمدہ منظر کشی کی ہے رووف گلاسڑہ کی

Paarsa نے فرمایا ہے۔۔۔

محرومیوں کا شکار لوگ اکثر تعصب کا سہارا لیتے ہیں خود کی تسلی کے لیے اور رونے رو کے ہمدردی حاصل کرتے ہیں

Saira Waheed نے فرمایا ہے۔۔۔
This comment has been removed by the author.
Saira Waheed نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت خوب لکھا، مزا آیا پڑھ کر

Anonymous نے فرمایا ہے۔۔۔

رؤف کی باتوں میں تو اتنا اثر نہیں تھا بس کیتھرین کا ہی دل کر رہا تھا اپنا "قرض" اتارنے کو

adnan نے فرمایا ہے۔۔۔

مجھے ہمیشہ دیوار سے لگایا گیا
بہت عمدہ صاحب

👏🏻👏🏻👏🏻👏🏻👏🏻

Mudassir Iqbal نے فرمایا ہے۔۔۔

سب سے بڑی محرومی خود ترسی ہی ہوتی ہے .... مختصر لیکن پراثر تحریر -

sarwataj نے فرمایا ہے۔۔۔

نکتہ رس پر
سرائیکی وسیب کے دکھڑے اور کیتھرین
نیا کنٹراسٹ

عمیر محمود نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت ہی خوب۔ یہ کیتھرین کا فون نمبر مل سکتا ہے۔ میں بھی سرائیکی بیلٹ میں شفٹ ہونے کا سوچ رہا ہوں

تبصرہ کیجیے