اقبال، خُودی اور بُلبلیں

علاّمہ اقبال سے ہماری عقیدت کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ زمانہءطالبعلمی میں ہمارا خیال تھا کہ شاعر صرف اقبال ہوتا ہے بالکل ویسے ہی جیسے امیتابھ بچن بارے ہمارا خیال تھا کہ ہیرو صرف 'میتا بچن' ہوتا ہے۔ سکول کے مرکزی دروازے سے داخل ہوتے ہی طویل برآمدے کی دونوں اطراف اقبال کے اشعار سے مُزین کتبے لگے ہوتے تھے۔ جن پر موج، دریا، کشت، زرخیز، نم، کاشغر، نیل (اس وقت ہم اسے رابن نیل سمجھا کرتے تھے)، شاہین (الحمدللہ ۔۔ اس وقت ہمیں مسرّت شاہین کا قطعی علم نہیں تھا) ، لوح و قلم وغیرہ کا ذکر تھا۔ ابّو کی چھوٹی سی لائبریری سے ہمیں شکوہ، جواب شکوہ بھی ملی۔ جسے پڑھتے ہوئے ہم تخیّلاتی دنیا میں "آخری چٹان"، "داستانِ مجاہد" وغیرہ کے ہیرو بن کے کفّار کے لشکروں کے لشکر تہہ تیغ کر دیا کرتے تھے۔ اہلِ زبان نہ ہونے کے سبب ہم شِکوہ کو شِکَوہ اور دارا شِکَوہ کو دارا شِکوہ پڑھا کرتے نیز دارا شِکَوہ کو ایک گمراہ اور فاسق انسان بھی سمجھتے تھے۔ ویسے بھی کسی شہزادے کا نام دارا ہونا ہی محلِ نظر ہے، کسی لوفر لونڈے کا نام لگتا ہے۔ خیر۔۔۔
علاّمہ صاحب کی شاعری پر بہت تحقیقی کام ہوچکا ہے اور محققین نے اس میں سے مابعد الطبیعیات سے کوانٹم فزکس تک سب کچھ برآمد کرلیا ہے۔ ہم نے بھی اس سلسلے میں کچھ غورو فکر کیا اور کچھ ایسی حیران کُن باتیں دریافت کی ہیں جن کی طرف شاید کسی کا دھیان نہیں گیا۔ علاّمہ صاحب فرماتے ہیں۔۔
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر۔۔۔
اس شعر سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کو کوہ پیمائی کا بہت شوق تھا اور اکثر چٹانوں وغیرہ پر چڑھ جایا کرتے تھے۔ آپ کی شاعری میں جو بلندی نظر آتی ہے ہمیں اس کی وجہ بھی یہی لگتی ہے۔ خود ہی سوچیے، جو شاعری سطح سمندر سے کئی ہزار فٹ کی بلندی پر کی گئی ہو اس میں تو بلندی خودکار طریقے سے ہی آجائے گی۔ علاّمہ صاحب نے اپنے شعروں میں جگہ جگہ خُودی کا ذکر کیا ہے۔ اس کی تشریح میں بہت سے اہلِ علم خطا کھا گئے ہیں اور اس کی عجیب و غریب تاویلات کرتے رہے ہیں اور کر رہے ہیں۔ یہ بہت سادہ سی بات تھی۔ ایک مشہور مصرعہ جو غلطی سے کسی اور سے منسوب ہوگیا، وہ علاّمہ صاحب کا تھا جس میں آپ فرماتے ہیں۔۔۔
امّی کہتی ہیں جو کہتا ہے وہ "خُود ای" ہوتا ہے۔۔
یہ "خُود ای" کثرت استعمال سے خُودی بن گیا اور لوگوں نے رائی کا پہاڑ بنا لیا۔
علاّمہ صاحب کو پختونوں سے بہت لگاؤ تھا۔ اس کی مثالیں جا بجا ان کے شعروں میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ آپ نے اپنے المشہور ملّی نغمے ۔۔۔ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا۔۔ میں فرمایا ہے۔۔
ہم بُلبلیں ہیں اس کی۔۔ یہ گلستاں ہمارا
"بُلبل" کا اتنا برمحل استعمال کم ہی دیکھنےمیں آیا ہے۔ برسبیل تذکرہ، آپ نے جب یہ ملّی نغمہ لکھا تو قائد اعظم نے آپ کو خط لکھ کے ان الفاظ میں سخت سرزنش کی تھی: " بالے۔۔ ہم تمہیں مفکّر پاکستان بنانے کا سوچ رہے ہیں اور تم ابھی تک ہندوستان کے ملّی نغمے لکھ رہے ہو؟"۔ پھر آپ نے اسی زمین میں دوسرا نغمہ لکھا جو یہاں سے شروع ہوتا ہے۔۔
چین و عرب ہمارا، ہندوستاں ہمارا
مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
اور
خنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا۔۔۔
اس پر قائد اعظم بہت خوش ہوئے اور علاّمہ صاحب کو حُقّے کے لیے عمدہ قسم کا تمباکو بھیجا نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ علاّمہ صاحب بھی قائد اعظم کے غصے سے ڈرتے تھے۔
وما علینا الا البلاغ
Comments
1 Comments

1 تبصرے:

Salman Zahid نے فرمایا ہے۔۔۔

ہاہاہاہا بہترین،

تبصرہ کیجیے