مقطع میں آ پڑی ہے سُخن گسترانہ بات

قادیانی/مرزائی/احمدی احباب بارے پھر بحث چھڑی ہے کہ کسی کو کافر کیوں قرار دیا جائے؟ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔ آئین میں ترمیم کریں اور انہیں مسلم قرار دے دیں۔ جب تک ریاستی قانون انہیں غیرمسلم قرار دیتا ہے تب تک اسے ماننا پڑے گا۔
دوسرا رخ اس کا یہ کہ اس بنیاد پر ان سے امتیازی سلوک کیا جائے یا تشدّد کی کسی بھی قسم سے کام لیا جائے تو یہ مذہی، قانونی، اخلاقی کسی بھی رُو سے نہ تو جائز ہے اور نہ ہی اس کی کوئی توجیہہ یا حمایت کی جاسکتی ہے۔ یہ پاکستان کے شہری ہیں اور انہیں وہی حقوق (یا ان کی حق تلفی) حاصل ہیں جو عمومی طور پر ہم سب کو حاصل ہیں۔
تیسرا رُخ یہ کہنا کہ بھُٹّو نے مولویوں کے دباؤ میں یہ فیصلہ کیا تھا، قطعی غلط ہے۔ یہ انیس سو چوہتّر کا واقعہ ہے جب بھٹّو اپنے اقتدار کے عروج پر تھے۔ جن مولویوں کے دباؤ کی بات کی جاتی ہے، انہیں اسمبلی سے ڈنڈا ڈولی کرکے باہر پھینک دیا جاتا تھا۔ جو بات ہم سمجھنا نہیں چاہتے وہ یہ کہ ان کے پیشوا (موروثی)  کو پارلیمان نے اپنا موقف بیان کرنے کا پورا موقع دیا اور ان کا مؤقف ظاہر و باہر اور آن ریکارڈ ہے کہ جو مرزا صاحب کو نبی اور مسیح موعود نہیں مانتا، ان کے نزدیک وہ ان کے دائرہ اسلام سے خارج اور کافر ہے۔ ان کی حق گوئی کی داد دی جانی چاہیے کہ جس بات کو انہوں نے درست سمجھا اسے ڈنکے کی چوٹ پر ریاست کی مقنّنہ  کے سامنےبغیر کسی ہچکچاہٹ بیان کیا۔ اسی اصول کو سامنے رکھتے ہوئے مقنّنہ نے بھی وہ فیصلہ کیا جسے وہ حق سمجھتی تھی۔ جمہوری اصول کے تحت اس فیصلہ کا احترام تب تک کیا جانا چاہیے جب تک اسے وہی مقنّنہ بدل نہ دے۔
قادیانی احباب اپنے پیشواؤں  کے جیسے مقلّد ہیں وہ شاید ان احباب کو جاننے والے حضرات بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ جائز اور اکثر ناجائز طور پر ہم مولویوں پر تنقید کرتے ہیں اور ان میں لبرل حضرات خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ لیکن آج تک کبھی کسی نے، قادیانی احباب جس پیشوائی چنگل میں جکڑے ہیں، اس پر ایک لفظ نہیں لکھا۔ یہ بھی مذہبی پیشوائیت کے ہاتھوں اتنے ہی ڈسے جا رہے ہیں جتنے ہم ہیں شاید اس سے بھی زیادہ۔ ہم تو اپنے مولویوں پر ہر قسم کی تنقید اور ان کا پوسٹمارٹم کرتے رہتے ہیں لیکن یہ اس پیشوائیت کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھاتے یا اٹھا نہیں سکتے۔

ایک زمانہ تھا جب ہم ان دوستوں بارے بہت سخت زبان استعمال کرتے تھے اور مرزا صاحب بارے وہ سب کچھ کہتے تھے جو یقینا ہم اپنے بارے سننا نہیں چاہیں گے۔ لیکن آہستہ آہستہ یہ جانا کہ نفرت کاشت کرنے سے تشدّد کی فصل اگتی ہے اور تشدّد زدہ معاشرہ معذور ہوجاتا ہے۔ تو اب کوشش یہ ہوتی ہے کہ اپنے عقیدے پر رہتے ہوئے، مناسب انداز میں اپنی رائے بیان کردی جائے۔
Comments
16 Comments

16 تبصرے:

Anonymous نے فرمایا ہے۔۔۔

قادیانیت کی حقیقت کوئی جاننا چاہے تو پڑھیں "قادیانیت سے اسلام تک" ۔ اس کتاب میں قریباً سو کے قریب ایسے خواتین و حضرات کے احوال خود اُن کی طرف سے دیئے گئے ہیں جو قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام کی طرف آئے۔ ضرور پڑھیئے۔

ڈاکٹر جواد احمد خان نے فرمایا ہے۔۔۔

قادیانیت کی یہ بات اچھی ہے کہ جو بھی کچھ ہے سب کے سامنے ہے اور کسی کو بھی اس بارے میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ ان میں تقیہ نہیں ہے مگر سازش بہت ہے۔ اگر بات محض الگ دین کی ہوتی تو انکے خلاف تشدد پر افسوس کا اظہار کیا جاسکتا تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ لوگ روز اول سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازش کرتے آئے ہیں۔ برطانیہ اور اسرائیل میں انکی پذیرائی ، موجودگی اور غیر معمولی نمو کوئی اتفاق نہیں ہے۔ انکے فیس بکی حرکتیں سب جانتے ہیں۔ ملحد، روشن خیال ، سیکیولر ترقی پسند کو تھوڑا سا کھنگالیں تو یا تو وہ قادیانی نکلتا ہے یا پھر شیعہ

Ishfaq نے فرمایا ہے۔۔۔

Excellent topic to write on.
But we should talk more about sectarian harmony.

Waseem Rana نے فرمایا ہے۔۔۔

"تو اب کوشش یہ ہوتی ہے کہ اپنے عقیدے پر رہتے ہوئے، مناسب انداز میں اپنی رائے بیان کردی جائے۔"
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
مطلب بات پھر عقیدے پر ہی آ کر اٹکی۔۔۔۔۔۔کیا خیال ہے ۔۔۔!!ا

Introspection نے فرمایا ہے۔۔۔

آج ہی امتنان صاحب کی آپکے حوالے سے ایک تحریر پڑھنے کا اتفاق ہوا - آپکے اس موضوع پر اسطرح لکھنے
سے انکے بیان کی تصدیق ہو گئی-

Asim Ikram نے فرمایا ہے۔۔۔

جعفر بھائی، مجھے یہ کہنے میں کوئی تامّل نہیں کہ آپ نے اپنے روائتی انداز سے ہٹ کر یہ مضمون تحریر کیا ہے اور یقین کیجئے کہ موضوع کی مناسبت سے نہایت موزوں پیرائیہ اختیار کیا ہےـ قادیانیت کے بارے میں کچھ کتب کے مطالعے کا اتفاق ہوا، یہ امر طے ہے کہ قادیانیت کو اسلام سے نتھی نہیں کیا جاسکتا مگر مجھے اس بات پر اعتراض بھی ہے کہ انہیں معاشرے میں راندہء درگاہ بنا دیا جائے، میری رائے میں کسی کو تشدد کی بجائے عمل سے قائل کرنا زیادہ موثر طریقہ کار ہےـ آخر میں گزارش یہ ہے کہ ایسے موضوعات پر تھوڑا تفصیل سے لکھا کیجئے، پڑھنے والوں کی زیادہ رہنمائی ہوجاتی ہے

AQIB نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت عمدہ۔آپ نے سوشل میڈیائی دور کے اس حساس موضوع کو نہایت سچائی سے بیان کیا ہے۔
تاریخ کی درستگی اور آئیندہ کیلئے ایسے مضامین نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔
آخر میں عاصم بھائی والی بات دہراؤں گا کہ اگر مزید تفصیل سے لکھتے تو اور بھی اچھا ہوتا۔ جزاک اللہ

AlHaq نے فرمایا ہے۔۔۔

"قادیانیوں/احمدیوں کو ریاست کےزریعےغیرمسلم قرار دیا جانا درست فیصلہ تھا کیونکہ قادیانی دوسرےمسلمانوں کو غیر مسلم سمجھتےہیں"
اگر اوپر والی منطق صحیح مان لیں تو صرف احمدیوں ہی کو نہیں بلکہ شیعہ/سنی سب کو ریاست کے
زریعےغیر مسلم قرار دیں کہ ان کے اپنے علاوہ باقیوں کو غیر مسلم کہنے کےفتوے موجود ہیں
ہر فرقہ اپنے کو جنتی اور دوسرے کو جہنمی کہتاہے

اناالحق Anaulhaq نے فرمایا ہے۔۔۔

حساس موضوع پر ایک موزوں تحریر جس میں تاریخی حوالے کے ساتھ موقف بغیر کسی تلخی کے بیان کیا گیا ہے اور آج کل کے دور میں جب ہر کوئی عقائد کی تلوار سے گھائل کرنے کے چکر میں ہے نہایت بہتر اسلوب اختیار کیا گیا ہے - گو یہ موضوع اتنا مختصر نہیں مگر دلیل مکمل ہے
عمدہ قابل مطالعہ تحریر

آم اچار نے فرمایا ہے۔۔۔

انتہائی سادہ انداز میں پیچیدہ مسئلے کو بیان کر دیا، گویا کہ اذہان کو ایک کشمکش سے آزاد کر دیا۔ یہ تحریر سینکڑوں دلائل و مباحث (ہر جانب سے) کو ایک ساتھ تلف کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ مزید یہ کہ مثبت سوچ کا ایک راستہ بھی متعین کرتی ہے۔ قاری کے لیے سوائے تفصیل طلب کرنے کے، حجت کرنا مشکل ہے۔ بہرحال اس موضوع پر متعلقہ تحاریر کا لنک مہیا کیا جانا چاہیے

Usman Ashraf نے فرمایا ہے۔۔۔

جعفربھائی بصداحترام ، آپ کی صرف تشدد والی بات سے سو فیصد اتفاق ھے ، مگر اُسکی ابتدا بھی مرزائیوں سے ہوئی یقین کیجیے، بات لمبی ھےپرمختصرکرنےکی کوشش کرتاہوں، پاکستان بننےسےپہلےیہ بن چکےتھےاور بہت سےعلاقوں میں انگریزنےزیلداری انہی کےبڑوں کودی رکھی تھی اور پھرکچھ نہ پوچھیں وہ لوگوں کومرزائی کرنےکےلیےکیسے کیسےحربےاور تشدد کی راہیں اختیارکرتےرھے، آپ لوگوں نےصرف سُن رکھاھےہم نےدیکھ رکھا ھے ثبوت موجودہیں ۲ باقی مقننہ نے ہاتھ کافی ہلکارکھاھے ،جو شخص اسلام کےکسی ایک بنیادی رکن کا بھی انکاری ھے اُسے صرف غیرمسلم نہیں کہاجاسکتا، اُسکی سزا کچھ اورھے، ۳ عجب پیروکاروں کی حق گوئی ھے عجب نبی ھے جوایک امام کا مقلد
ھے ،
بات وہی ھے عدم تشدد جب ریاست اُنہیں غیر مسلم قرار دےچکی ھےتو اُنکےجان ومال کی مکمل حفاظت بھی کرے

Lutf نے فرمایا ہے۔۔۔

‏‎@masadaslam 74 کی کارروائی پر میرا تبصرہ بھی پڑھ سکتے ہیں. http://t.co/XFwqx6Wbf6‎

Lutf نے فرمایا ہے۔۔۔

‏‎ یہ دلیل بونگی ہے کہ کوئی آپ کو کافر کہے اور جواب میں آپ اس کو کافر کہنے کے علاوہ ان کو اپنی شناخت کے حق سے محروم کر دیں.

‏‎ آپ لاکھ بار کافر کہیں قیامت تک کافر اور جہنمی سمجھیں. قانون بنا کر احمدیوں کی حق تلفی قطعی طور پر قرآن و سنت کے خلاف ہے.

‏ 74 کی کارروائی پر میرا تبصرہ بھی پڑھ سکتے ہیں. http://t.co/XFwqx6Wbf6‎

خاور کھوکھر نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت خوب ۔
ایک متوازن موقف ہے

قادیانیون کو غیر مسلم قرار دیا گیا
چلو مان لیا گیا
لیکن اس بات پر ان کو قتل کرنے ، ان پر تشدد کرنے یا کہ ان کو حقوق کو پامال کرنا غلط ہے ۔
قادیانی نظریہ غلط ہے
مگر ان کو بھی جینے کا حق ہے ۔

Najeeb Alam نے فرمایا ہے۔۔۔

ایک بہترین اور متوازن تحریر

AlHaq نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت خوب!

تبصرہ کیجیے