قربانیاں وغیرہ

خالی پیلی حب الوطنی ہیروئن کے نشے سے کم نہیں ہوتی۔ ملّی ترانوں سے  جاگنے والی حُبّ وطن ، بجلی کا بل دیکھ کے فورا سو بھی جایا کرتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اپنے ملک سے محبت نہیں ہونی چاہیے یا یہ کوئی قابل دست اندازیءپولیس جرم ہے بلکہ اس محبت کی جڑیں ، حکمران طبقات کی حرامزدگیوں کے دفاع کی بجائے اس ملک کے وسائل میں حصہ داری سے پھوٹنی چاہییں۔ 
سوشل میڈیا سے مین سٹریم میڈیا تک ہر جگہ آج کل آپریشن کے چرچے اور ان میں فوجی جوانوں کی قربانیوں کا ذکر خیر جاری ہے۔  عوام سے  کہاجارہا ہے کہ فوج کے ساتھ اس نازک موقع پر کھڑے ہوجائیں اور اپنے دشمنوں کو فیصلہ کن شکست دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔  یہاں چند سوالات  پیدا ہوتے ہیں۔  ہمیں بچپن سے آج تک یہی پڑھایا اور سکھایا گیا کہ ہمارا دشمن  ہندوستان ہے۔ اس نے ہمارے ساتھ بہت زیادتیاں کی ہیں۔  کشمیر پر قبضہ کرلیا ہے۔ دریاوں کا پانی روک لیا ہے۔ قیامت تک قائم رہنے کے لیے بننے والے ملک کو توڑ دیا ہے۔ وطن عزیز میں دہشت گردی کروا رہا ہے۔ وغیر ہ وغیرہ۔ ہم نے اسی جوش ایمانی میں ہندوستان سے کافی جنگیں بھی لڑیں۔ جن کا نتیجہ، کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا ، بارہ آنہ۔۔ نکلا۔  اب ہمیں یہ بتایا جارہا ہے کہ اصل دشمن دراصل ہمارے اندر ہی چھپا ہوا ہے ۔ اور اس کا مقابلہ کرنا ہماری بقاء کے لیے ضروری ہے۔ جی   بہتر ۔ ایسا ہی ہے۔ ہم نے مان لیا۔ یہ اصل دشمن کہاں سے آیا؟  کس نے انہیں ملک میں گھسنے دیا؟ کس نے انہیں اس حد تک طاقت حاصل کرنے دی کہ آج وہ ایک ایٹمی طاقت کی فوج کے ساتھ ایک باقاعدہ جنگ میں ملوث ہے؟ یہو د و ہنود کی سازش والے زید حامدی نظریات کو ایک طرف رکھ کے سوچا جائے تو کیا یہ انہی کی ذمہ داری نہیں تھی جو آج قربانیوں اور شہادتوں کے ذکر سے پورے میڈیا کو بھر رہے ہیں؟  کیا یہ لشکر اور اسلام کے پرائیویٹ مجاہدوں کی فوج ، بلدیہ گکھڑ نے بنائی تھی؟ کیا ان کی تربیت  کھرڑیانوالہ بار ایسوسی ایشن کے وکلاء نے کی تھی؟ کیا ان کی مالی مدد انجمن تاجران کچہری بازار،  فیصل آبا د نے کی تھی؟  یہ سوال پوچھنے پر جو جواب بلکہ طعنہ فورا سے پیشتر ملتا ہے، وہ یہ ہے کہ یہ وقت ان باتوں کا نہیں ہے۔ نہیں جناب، یہی وقت ان باتوں کا ہے۔ فوج کے جوان اور افسر شہید کروانے والوں کے ذمہ داروں سے سوال کا یہی وقت ہے۔   آج اگر ان کی پالی ہوئی بلائیں ان کے قابو سے باہر ہوگئی ہیں اور اس ملک کی جان کے درپے ہیں تو اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ دوبارہ یہ سب کچھ نہیں کیا جائے گا؟ 
قرائن سے بھی واضح ہے کہ کوئی سبق نہیں لیا گیا۔ اپنے پسندیدہ لشکر آج بھی پالے جارہے ہیں۔ اور انکو تزویراتی اثاثوں کا درجہ دے کر ان کے نخرے اٹھائے جارہے ہیں۔ کل کو اگر یہ بھی قابو سے باہر ہوگئے تو پورا پاکستان ، پناہ گزین ہوکے کہاں جائے گا؟   جو لوگ اب اس ریاست کے دشمن بن کے ریاست سے لڑ رہے ہیں۔ کبھی ان کو پاکستان کی پہلی دفاعی لائن کہا جاتا تھا۔ ان کے تقوی اور پرہیزگاری کے قصیدے  ایسے ایسے لوگ پڑھتے تھے کہ ۔۔ دامن نچوڑ دیں تو "فرشتے" وضو کریں۔۔۔ آج یہ وحشی اور درندے ہیں۔ حضور، یہ اس وقت بھی وحشی اور درندے ہی تھے ، فرق یہ تھا کہ اس وقت یہ آپ کے اپنے وحشی اور درندے تھے ۔ اب یہ آپ کو کاٹنے لگے تو قربانیاں دینے کے لیے عوام کو آواز؟ یہ سب کرنے سے پہلے "عوام" سے پوچھنے کون آیا تھا؟
جتنے مرضی آپریشن کرلیں، جتنے مرضی بندے مار کے اپنا ہی ملک فتح  کرتے رہیں جب تک "سوچ" نہیں بدلے گی ۔۔ کچھ نہیں بدلے گا۔۔ اور اگر کوئی اس خوش فہمی میں ہے کہ صرف طاقت کے بل پر سب کچھ ٹھیک ہوسکتا ہے تو اسے اپنے ارد گرد کے حالات پر نظر ڈال لینی چاہیے۔ عراق، شام، لیبیا، مصر۔۔۔  

بہت گُلّو بٹّیاں ہوگئیں، اب انسان بن جائیں۔
Comments
5 Comments

5 تبصرے:

Sajid Nisar نے فرمایا ہے۔۔۔

دیکھیں، ایسی باتیں کر کے آپ 'وقار' مجروح کر رہے ہیں، طعنہ ذنی کر رہے ہیں. دیکھیں حامد، ایسا تو دشمن بھی نہیں کرتے. (دھیان رہے کہ طالبان کیخلاف آپریشن مؤخر کرکے کہیں آپ کے خلاف نہ شروع ہو جائے. ابھی آپ کی بہت ضرورت ہے اس قوم کو.)

خورشید آزاد نے فرمایا ہے۔۔۔

اس ملک میں ہر طاقتور طبقے نے گلو بٹ پال رکھے ہیں۔۔۔۔آج کے دہشت گرد کا کل اسٹیبلشمنٹ کے گلو بٹ تھے جنہیں افغانستان اور بھارت کے خلاف بے دریغ استعمال کیا جارہا تھا۔۔۔۔۔لیکن پریشانی اس وقت پیدا ہوگئی جب یہ گلو بٹ پاگل ہوکر اپنے پالنے والوں کے گھروں کے شیشے توڑنے لگا۔

Pervaiz Kareem نے فرمایا ہے۔۔۔

یہ سوال پوچھنے پر جو جواب بلکہ طعنہ فورا سے پیشتر ملتا ہے، وہ یہ ہے کہ یہ وقت ان باتوں کا نہیں ہے۔ نہیں جناب، یہی وقت ان باتوں کا ہے۔ فوج کے جوان اور افسر شہید کروانے والوں کے ذمہ داروں سے سوال کا یہی وقت ہے۔
استا جی سرخ سلام آپ کو۔ بہت ہی عمدہ تحریر ہے اور مبنی بر حقیقت ہے۔

Mudassir Iqbal نے فرمایا ہے۔۔۔

میری طرف سے ایک بوسہ عقیدت قبول فرمائیں جعفر صاحب - اگر مجھ میں اپنے خیالات کو الفاظ کا جامہ پہنانے کی صلاحیت ہوتی تو میں یہی کچھ لکھتا - کہیں لسانی گینگ بنتے ہیں تو کہیں مذہبی جہادی بنائے جاتے ہیں- مقصد ایک ہی ہے، اس ملک پر اپنا کنٹرول مضبوط رکھنا اور سویلین حکومت وقت کو موقع کے لحاظ سے بلیک میل کرتے رہنا - جاندار اور شاندار پوسٹ -

کاشف نے فرمایا ہے۔۔۔

تحریر پڑھ کر دل تو واہ واہ لکھنے کو کر رہا ہے لیکن میں سمجھتا ھوں کہ تبصرہ کا مقصد تحریر کے موضوع پر اپنی رائے کو بیان کرنا ھوتا ہے۔ لیکن پھر یہ بھی مسئلہ آڑے آ جاتا ہے کہ میں جب بھی آپ کی کوئی بلاگ پوسٹ پڑھتا ھوں، تحریر کی روانی اور مرکزی خیال کے بھرپور انداز میں بیان کی وجہ سے کنفیوژ ھو جاتا ھوں کہ کیا تبصرہ کروں۔ اس لیے فی الحال صرف ایک دفعہ واہ ہی لکھ کر جا رہا ہوں۔

واہ۔

تبصرہ کیجیے