اوبامہ - تیرے جے پُت جمّن ماواں


السید باراک حسین اوبامہ­ دامت برکاتہم عالیہ  و عالم پناہ کُل مسیحانِ عالم
صدر ریاست "ہائے" متحدہ امریکہ (بناصدارتی استثنا والے)

سلام مسنون و گڈ مارننگ وغیرہ

حضورِ والا تبار کی خدمت میں پیشگی مبارکباد کے ساتھ حاضر ہیں۔ اس مبارک موقع پر ہم اپنے شدید مسرت و خوشی کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہنا ضروری   سمجھیں گے کہ ہمیں تو پہلے ہی یقین تھا کہ یہ مُوا، سُوئے کی شکل والا کبھی یہ انتخاب نہیں جیت سکتا۔ آپ کی کرشماتی قیادت و ڈرامہ ء اسامہ سے یہ امر واضح ہوچکا تھا کہ کوئی رانی خاں کا برادر نسبتی آپ کو انتخاب میں ہرانے کا خیال بھی ذہن میں نہیں لاسکتا ۔ اِلاّ یہ کہ کوئی ری پبلکن سرمایہ دار   (از قسم امریکی ملک ریاض ، سک رُو فیم ) جس کے پاس دولت بے تحاشہ اور عقل سلیم ، میاں صاحب جتنی ہو۔ اللہ آپ کو نظر بد سے بچائے۔
قیادت و سیادت کے جو معیارات آپ نے گزشتہ چار سالوں  (سال کی جمع، بیوی کے بھائی نہیں ) میں متعین کردئیے ہیں، امرمحال ہے کہ مستقبل قریب میں کوئی ان میں اضافہ کرنے کی جرات کرسکے۔  ہمیں یقین واثق ہے کہ انشاءاللہ العزیز آپ کی مدبرانہ قیادت و رہنمائی ، عظیم امریکہ کو انہی بلندیوں پر لے جائے گی ، جہاں حضرتگورباچوف ، سوویت یونین کو لے گئے تھے ۔ یہ بلندیاں اتنی بلند تھیں کہ سوویت یونین عامیوں کو نظر آنا ہی بند ہوگیا تھا۔ تاریخ سے سبق سیکھنے کے لیے جس ذہنی بلندی کی ضرورت ہوتی ہے وہ آپ کے ہاں بدرجہ اُتّم پائی جاتی ہے۔ سوویت یونین والی بلندیاں حاصل کرنے کے لیے سب سے چھوٹا راستہ، افغانستان سے ہوکرجاتاہے ، لہذا آپ نے نیا کنواں کھودنے میں وقت اور صلاحیتیں ضائع کرنے کی بجائے ا سی سے استفادہ حاصل کرنے کا دانشمندانہ فیصلہ کیا۔ جس کی گواہی آنے والے دور کے مورخین سنہری الفاظ میں دیں گے۔۔۔۔ یہ نصیب، اللہ اکبر، لوٹنے کی جائے ہے۔۔۔ الحمد للہ
اگر چہ ہمیں اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ کی متحرک اور دانا قیادت میں نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا ہی  ابدی سکون کی جانب تیزی سے سفر کرے گی  لیکن ہم آج اپنی ایک پرانی درخواست واپس لینے کی التجا کرتے ہیں۔  مہربانی فرما کر اسے کسی گستاخی پر محمول نہ کیجیے گا۔ یہ آپ کی ذمہ داریوں میں کمی کرنے اور آپ کو انتخابی مہم کی تھکن اتارنے کا موقع دینے کی عاجزانہ سی کوشش ہے۔ گر قبول افتد زہے عزو شرف۔ ویسے بھی آپ نےگزشتہ دور میں ہماری اتنی خدمت کی ہے کہ اب ہمیں شرم محسوس ہونے لگی ہے کہ آپ کو اور تکلیف دی جائے۔ کساد بازار ی کے اس دور میں قیمتی  ڈرون اور ان کے مہنگے میزائل جس طرح آپ نے ہمارے لیے وقف کیے رکھے وہ انسان دوستی کی ایک  دائم روشن و درخشاں مثال ہے۔ جاتے جاتے البتہ اسلام آباد اور پنڈی میں چھ سات ڈرون حملے کردیجیے۔ یہ آپ کا ہم پر ایک اور احسان عظیم ہوگا۔
تھوڑے لکھے کو بہت جانیں کہ ہم ان حقیر الفاظ کے ذریعے اپنی خوشی اور مسرت کو پوری طرح بیان کرنے پر قادر نہیں ہیں۔ ویسے بھی ہمیں آپ کی صورت میں امانت چن کی شبہیہ نظر آتی ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ آپ کے کچھ کم رحمدل کارناموں پر بھی ہمارے ارباب اختیار کی "دندیاں" نکلتی رہتی ہیں۔واللہ اعلم بالصواب۔
 خداوند آپ کو عظیم امریکہ کے سر پر ایسے ہی مسلط رکھے۔ اے مین۔

فقط
اہالیان اصلی پاکستان
Comments
11 Comments

11 تبصرے:

ikhlaq ahmed نے فرمایا ہے۔۔۔

ہاہاہاہاہا

خالد حمید نے فرمایا ہے۔۔۔

""جاتے جاتے البتہ اسلام آباد اور پنڈی میں چھ سات ڈرون حملے کردیجیے۔ یہ آپ کا ہم پر ایک اور احسان عظیم ہوگا۔"""

ماریں گے اسلامابادیئے۔۔۔۔۔۔
ویسے تحریر اچھی رہی۔۔۔

فاروق درویش نے فرمایا ہے۔۔۔

خوب است استاد مکرم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھی عزت افزائی فرمائی سید صاحب کی ۔۔۔۔۔ ویسے سید اوبامہ ہو یا شوبامہ سنگھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔۔۔ ہر کٹھ پتلی امریکی صدر کو نچانے والے تو تل ابیبئے کنگ میکرز ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن انجام ریگن والا ھی لکھا ہے ان خوش بختوں کے بخت میں ۔۔۔۔۔۔۔
خوش آباد

یاسر خوامخواہ جاپانی نے فرمایا ہے۔۔۔

مجھے اور تو کوئی غم نہیں اس اوبامہ نے مزید ڈالر چھاپ چھاپ کر بازار میں کم بچے خوشحال گھرانہ کی پرچیوں کیطرح آسمان سے پھینکے ہی جانا ہے۔
دنیا کے زرداریوں اور شریفوں نے پہلے ہی ڈالر بیچ بیچ کر سونا اور جاپانی ین خریدنا شروع کردیا تھا۔
سونا بے شک تگڑا تے مہنگا ہو۔۔لیکن جاپانی ین کی مضبوطی ہماری کمر توڑی رہی ہے۔۔۔۔۔اب ہمیں ایکسپورٹنے کے بجائے ریڑھی لگانے کے کام کا سوچنا پڑے گا۔

علی نے فرمایا ہے۔۔۔

عقل سلیم ، میاں صاحب جتنی ہو
ویسے بھی ہمیں آپ کی صورت میں امانت چن کی شبہیہ نظر آتی ہے
کیا ہی بات ہے یا استاد، چھری ہر طرف برابر ہی چلتی ہی
:D

Anonymous نے فرمایا ہے۔۔۔

او بامہ – تیرے جے پتر جمن مانواں
زرداری – لگے سب نوں اے بیماری
شریف – ہرا نہ سکیں تجھے حریف
عمران – تو چھڈ ای دے ساریاں دی جان

نان حلیم نے فرمایا ہے۔۔۔

ہدیہؑ تبریک منجانب سیاسی عوام، امریکی جمہوریہ پاکستان
جا -- جا وے جا -- جُھوٹیا -- پیار دی لگن، ساڑھے تن من، پُچھیا نہ حال کدی توں سجن

Rai Azlan نے فرمایا ہے۔۔۔

apna to in intkhabat ke bary main yehi kehna hy k chahy gillette kharid lo chahy Braun donon P&G walon ki he pedawar hain. kher obama bhai kuch bhi le lain sohny aina ne fer nahi hona.

افتخار اجمل بھوپال نے فرمایا ہے۔۔۔

آپ تو زبردست قلمکار ہیں ۔ اسے اوباما بھی پڑھے تو سمجھ آنے تک جھومتا رہے ۔ پنجابی میں کہتے ہیں سرہاندی سو یا پواندی سو ۔ لَک وچکار ای رہنا اے ۔ بات فاروق درویش صاحب کی درست ہے

Fazal Din نے فرمایا ہے۔۔۔

محترم آپ نے چونکہ پاکستان کی نمائندگی کی ہے سو داد وصول کیجئیے۔ آپ کو اس محبت نامہ میں اوبامہ محترم کو اِس ملک آنے کی دعوت بھی دینی چاہیے تھی اور گوزرانوالے کے چڑے، لور کی انارکلی اور ملتان کے سوحن حلوے کا حوالہ کافی ذود ہضم ثابت ہوتا۔ نیز مہمان آتے ہؤے شاید کچھ لیتے آتے

DuFFeR - ڈفر نے فرمایا ہے۔۔۔

یہ کلاسیکی میری نظر سے ایک دم دور کستراں رھی؟
ایک یونیورسل ٹرتھی پوسٹ ،جو آنے والے کئی ادوار تک صرف ناموں کی تبدیلی کے ساتھ پوسٹی جا سکتی ھے
وہ کیا کہتے ہیں ، سدا بہار النسل قسم کی :ڈ

تبصرہ کیجیے