ہمارا قومی المیہ

میرا اس  اہم مو ضوع پر کچھ بھی تحریر کرنا اصل میں یہی ہے ہمارا المیہ . جی ھاں ،ایساشخص جو پنجاب کے جاٹ گھرانے میں پیدا ہوا ہو اور علم و ادب سےوابستگی بھی درسی کتب اور امتحان میں کامیابی کے حصول سے زیادہ نہ ہو تو وہ اپنے دماغ میں کچھ رینڈم خیالات کے نتیجے میں  بننے والی رائے پر فیصلہ کرلے کہ یہ ہمارا قومی المیہ ہےاور  دوسروں پر صادر کرنے پر بضد بھی ہو تو میرے خیال میں یہ ایک المیہ ہی ہے ... 
جس شخص نے کبھی کر کٹ بیٹ کو ہاتھ بھی نہ لگایا ہو اور کرکٹ کی بال اور ہاکی بال کا فرق بھی نہ جانتا ہو ، وہ بھی ہما رے ہاں تبصرہ ایسے ہی کرتا ہے کہ جیسے ڈان بریڈ مین کی روح سیدھی اسی میں اتر آئی ہے اسے حیرت ہوتی ہے کہ ہمارا باولر ہر گیند پر آوٹ کیوں نہیں کرتا اور ہمارا بیٹسمین دوسرے کی ہر بال کو باونڈری کےباہر کیوں نہیں پھینکتا حالانکہ اسے اتنا مہنگا بیٹ لے کے دیا ہواہے...اور یہی کام سابقہ کرکٹر کر رہے ہوتے ہیں ،عامر سہیل ذمہ دارانہ بیٹنگ اور شعیب اختر سمجھداری کے ساتھ باولنگ کرانے کے "آزمودہ" نسخے بیان کر رہے ہوتے ہیں ..
یہ حال ان ٹی وی اینکرز کا ہے ایک دن  فیلڈ میں صحافتی زندگی گزارے بغیرایسی ایسی کوڑی ڈھونڈ کے لاتے ہیں کہ بے شرمی پر داد دیے بغیر نہیں رہا جاتا...
سیاست پر تبصرہ کیلے آپ کو سوشل میڈیا پر ایسے نابغے میسر ہیں کہ پوچھیں مت، وہ الگ بات ہے کہ چیک کرنے پر پتہ چلے گا کہ ان کی پچھلی کئی پشتوں نے بھی کبھی ووٹ نہیں دیا اور نہ ہی کسی سیاسی کارکن یا اس کے مسائل کو جانتے ہیں..کچھ ایسا ہی معاملہ مذہب کا ہے وہ بھی ہم نے ایسے لوگوں کےسپرد کیا ہوا ہے جو عالم سے زیادہ پرفارمر ہیں ، 
قصہ مختصر کہ ہم ہر اس سنجیدہ بات پر بےلاگ تبصرہ کرنا اپنا قومی فرض سمجھتے  جس کے بارے میں ہمارا علم یا تحقیق بالکل صفر ہوتی ہے ایسے میں لوگوں کو چور، نااہل حتی کہ غدار قرار دینے سے بھی نہیں  چوکتے .اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نفرت ، تعصب اور عدم برداشت فروغ پاتی ہے اور معاشرہ کی شکل وہ بن جاتی ہے جو آج ہم دیکھ رہے ہیں ، ہم رائے دیتے وقت کبھی دوسرے کی پوزیشن پر خود کو رکھ کرنہیں سوچتے ، اگر یہی سلسلہ چلتا رہا تو کچھ عرصہ کے بعد شاید ہمیں یہ ادراک تو ہو جائے گا کہ ہم غلط فتوے دیتے رہے پر زبان کے گھاو بھرنے کا وقت گزر چکا ہو گا ......!!