آپ نے کبھی دو انگریزوں کو ایک دوسرے سے فرانسیسی بولتے سناہے؟ یا لاطینی امریکیوں کو پولش؟ یا پٹھانوں کو عربی؟ یا اردو بولنے والوں کو بلوچی؟ کبھی نہیں سنا ہوگا۔ میں نے بھی نہیں سنا۔ میں پچھلے چند سالوں سے ایک ایسے ملک میں مقیم ہوں جہاں دنیا کے ہر کونے اور ہر قومیت کے لوگ مقیم ہیں۔ ان لوگوں سے سماجی اور پیشہ وارانہ سطح پر میل جول بھی ہے۔ میں نے ایک بھی ایسا فرد نہیں دیکھا جو اپنی زبان بولتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتا ہو۔ اب یہاں میرا ایک سوال ہے، پنجابیوں کو پنجابی بولتے ہوئے کیوں تکلیف ہوتی ہے؟
میرے بہت سے ذاتی تجربے ہیں۔ ایک بیان کرتا ہوں۔ ایک صاحب کام کے سلسلے میں آئے۔ سوٹڈ بوٹڈ۔ کام ان کا ارجنٹ تھا۔ ابتدائی تعارف کے بعد جب پتہ چلا کہ میں بھی پاکستانی ہوں تو کہنے لگے میں لاہور کا رہنے والا ہوں۔ بہرحال اس کے بعد ان کا کام ترجیحا پہلے کردیا۔ وہی صاحب کوئی دو مہینے کے بعد دوبارہ تشریف لائے ان کے ساتھ ان کے کوئی ماتحت بھی تھے، ایک سی ڈی مجھے دی اور انگلش میں کہنے لگے کہ اس کو ذرا چیک کرلیں۔ میں نے پنجابی میںجواب دیا کہ سر جی کیا حال ہیں؟ پہچانا نہیں تو ان کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور جوابا (بزبان انگریزی ) کہنے لگے ، ”میں سمجھا نہیں، انگلش میں کہیں، میں یہ زبان نہیںجانتا جو آپ بول رہے ہیں“۔ بس جی پھر کیا تھا مجھے تو آگ لگ گئی ، پنجابی میں وہ ذات کی سنائیں کہ ان کے کان اور کچھ اور ناقابل بیان اعضا بھی لال ہوگئے ہوںگے۔
یہی حال پنجاب کے متوسط طبقے کی اکثریت کا ہے۔ بچوں کو گھروں میں بھی اردو بولنے کی تلقین کی جاتی ہے ، پنجابی بولنے پر ڈانٹا جاتا ہے کہ ہش۔۔ گندے بچے پنجابی بولتے ہیں۔ جبکہ گھر کے باقی سب فرد ایک دوسرے سے پنجابی بولتے ہیں۔ اب جو بچے کی زبان کا حال ہوتا ہے۔ وہ شاید آپ کے علم میں بھی ہو۔
اس دفعہ چھٹی گیا تو میرے کزن کا بیٹا مجھ سے جس طرح مخاطب ہوا، اس کی چند مثالیں
”جعفر انکل! آپ کدوں آئے تھے“۔ :mrgreen:
”میرے لئی کیا لائے ہیں“۔ :mrgreen:
”آپ اوتھے کیا کام کرتے ہیں“ :mrgreen:
میں نے بہت غور کیا لیکن اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ ہم لوگ اپنی مادری زبان سے کیوں شرمندہ ہیں، کیا پنجابیوں کی مائیںگونگی ہوتی ہیں؟ کہ ان کے بچے اردو بولتے ہیں۔ کیا ایسا احساس کمتری ہے کہ ہم اپنی مادری زبان بولتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتے ہیں؟ دنیا کی ہر قوم بچوں کو مادری زبان میں ابتدائی تعلیم دیتی ہے۔ جب کہ مجھے کالج میں آکر پتہ چلا تھا کہ پنجابی زبان بطور مضمون پڑھائی جاتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ علم ہوا کہ کیسا علم و ادب کا خزانہ ہے جس سے ہم اپنی زبان نہ پڑھنے کہ وجہ سے محروم ہیں؟
چنگا بھلا بندہ یاروں دوستوں سے پنجابی میں گپ شپ کر رہا ہو، کسی کے فون کی گھنٹی بجے اور وہ اردو میں آہستہ آواز میں دبی دبی ہنسی کے ساتھ باتیں کرنے لگے تو سب سمجھ جاتے ہیں کہ اچھاااااااااااا۔۔۔۔ بھابھی (ہونے والی) کا فون ہے۔ کیا محبوب سے پنجابی میں بات کرنا گناہ کبیرہ ہے؟ یا بندہ سوفسٹی کیٹڈ نہیںلگتا؟؟؟ :shock:
تو کیا ہم پنجابیوں کو ڈھگے کا جو خطاب ملا ہوا ہے وہ درست ہے؟ میں سازشی نظریوں پر یقین نہیں رکھتا۔ لیکن کوئی تو ہے جس نے ہمارے ذہنوں میں یہ ڈال دیا ہے کہ پنجابی ایک بدتمیز زبان ہے۔ اس کو بولنے سے انسان گنوار لگتا ہے۔ منٹو کا ایک واقعہ سنا کر بات ختم۔۔۔
ایک شام منٹو اپنے دوستوں کے ساتھ ”معمول“ کی محفل سجائے بیٹھے تھے کہ اس بات پر بحث چھڑ گئی کہ پنجابی زبان وسیع ہے یا اردو؟ یار لوگ ذرا خمار میں تھے ، بحث گرم ہوتی گئی۔ منٹو نے اچانک اپنے سامنے پڑی تانبے کی رکابی اٹھا کر فرش پر دے ماری۔ سب کو سانپ سونگھ گیا کہ منٹو کا غصہ مشہور تھا۔ پھر انہوں نے وہ رکابی اٹھائی اور کہا کہ میں نے اس میںپنجابی میں ”چِب“ ڈال دیا ہے تم اس میں اردو میںکچھ ڈال کے دکھاؤ۔
:grin: :grin: :grin:
جدید کلیشے*
سیاسی کلیشے :
- اجازت نہیں دی جائے گی۔
- آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔
- بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔
- تقدیر بدل دیں گے۔
- جمہوری اقدار کو فروغ دیںگے۔
- جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کریں گے۔
بلاگی کلیشے:
- بہت اچھی تحریر ہے۔
- سب چور ہیں۔
- انقلاب آنے والا ہے۔ (بروزن سیلاب آنے والاہے)
- میں کسی بحث میں نہیں پڑنا چاہتا/چاہتی۔
- میں آپ سے بالکل متفق ہوں۔
سماجی کلیشے:
- ہور فیر۔۔۔
- اور کیا حال ہے؟
- کسی سے بات مت کرنا۔۔۔
- کدھر تھے اتنے دن سے؟
- مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے۔
- بس یار مصروفیت بہت ہے۔
- سوٹ نیا لیا ہے؟
- کام کیسا چل رہا ہے؟
- اس مہینے بل بہت زیادہ آیا ہے!
- کوئی نئی تازی۔۔
- اس دفعہ بہت گرمی پڑ رہی ہے۔۔
- بڑوں کا ادب ختم ہوگیا ہے۔
- سردی بہت زیادہ ہے اس دفعہ۔۔۔
- بس جی قیامت کی نشانیاں ہیں۔
* آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق Cliche کی تعریف کچھ اس طرح ہے " hackneyed phrase or opinion"
- اجازت نہیں دی جائے گی۔
- آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔
- بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔
- تقدیر بدل دیں گے۔
- جمہوری اقدار کو فروغ دیںگے۔
- جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کریں گے۔
بلاگی کلیشے:
- بہت اچھی تحریر ہے۔
- سب چور ہیں۔
- انقلاب آنے والا ہے۔ (بروزن سیلاب آنے والاہے)
- میں کسی بحث میں نہیں پڑنا چاہتا/چاہتی۔
- میں آپ سے بالکل متفق ہوں۔
سماجی کلیشے:
- ہور فیر۔۔۔
- اور کیا حال ہے؟
- کسی سے بات مت کرنا۔۔۔
- کدھر تھے اتنے دن سے؟
- مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے۔
- بس یار مصروفیت بہت ہے۔
- سوٹ نیا لیا ہے؟
- کام کیسا چل رہا ہے؟
- اس مہینے بل بہت زیادہ آیا ہے!
- کوئی نئی تازی۔۔
- اس دفعہ بہت گرمی پڑ رہی ہے۔۔
- بڑوں کا ادب ختم ہوگیا ہے۔
- سردی بہت زیادہ ہے اس دفعہ۔۔۔
- بس جی قیامت کی نشانیاں ہیں۔
* آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق Cliche کی تعریف کچھ اس طرح ہے " hackneyed phrase or opinion"
ذرا یہ بھی دیکھئے!!!
اقسام ہائے انساناں
ازلی مایوس: :sad:
آج کل یہ قسم خاصی عام ہے (بلاگروں میں بھی :mrgreen: ) ۔ یہ ایسے لوگ ہیں جو سہاگ رات کو بھی "موت کا منظر، مرنے کے بعد کیا ہوگا" پڑھتے رہتے ہیں۔ :shock: کسی شادی پر چلے جائیں تو وہاں تھوڑی دیر بعد اپنی گفتگو سے ایسا ماحول بنادیں گے کہ جیسے چالیسویں کا ختم ہو رہا ہو۔ ان کا بانڈ بھی نکل آئے تو یہ خبر ایسے سنائیں گے جیسے ڈاکٹر نے انہیں کینسر تشخیص کیا ہے۔ بھوک زیادہ لگے تو سوچنے لگیں گے کہ انہیں شوگر ہو گئی ہے، نہ لگے تو سوچیں گے کہ کالا یرقان ہوگیا ہے۔ یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ جنت میں بھی چلے جائیں تو کہیں گے ”مزا نہیں آیا، دودھ کی نہر میں کسی نے پانی ملا دیا ہے اور شہد کی نہر میں گلوکوز“ :mrgreen:
ازلی پر امید: :razz:
یہ قسم بہت شاذ و نادر پائی جاتی ہے۔ یہ اپنے والد کی وفات پر افسوس کرنے والے کو بھی سکھوں کے لطیفے سنانے لگتے ہیں۔ خدانخواستہ حادثے میں ٹانگ وغیرہ ٹوٹ جائے تو کہیں گے شکر ہے جوتے بچ گئے۔ محبوبہ کی بے وفائی پر شکر کریں گے کہ اب رات دیر تک چیٹنگ نہیں کرنی پڑتی۔ زرداری کے صدر بننے پر ایسے ہی ایک شخص نے کہا کہ شکر ہے اس سے زیادہ ذلالت ممکن نہیں تھی، اب اس کے بعد کوئی اچھا آدمی ہی آئے گا۔
افلاطون کے سالے: :twisted:
ان لوگوں کے پاس ہر مسئلے کا حل اور ہر تالے کی چابی ہوتی ہے۔ دنیا کے کسی مسئلے پر بحث کر کے دیکھ لیں، یہ آپ کو ”تیرہویں گل“ ہی سنائیں گے۔ :shock: بڑے بڑے لوگوں کے ساتھ تعلقات کی کہانیاں اتنی روانی سے سنائیں گے کہ اتنی روانی سے کوئی ا ب ت نہیں سنا سکتا۔ اپنی ہر بات کو حرف آخر سمجھیں گے اور کوئی اس سے اتفاق نہ کرے تو اسے مردود۔۔ان کے نزدیک دنیا ان کے ہونے سے ایک بہتر جگہ بن گئی ہے اگر وہ نہ ہوتے تو بنی نوع انسان کا مستقبل تاریک ہوجاتا۔ ان کو گھر کے اندر کوئی بولنے نہیںدیتا ۔۔۔۔ اور گھر کے باہر یہ کسی کو بولنے نہیں دیتے !! :mrgreen:
میسنے : :wink:
کائنات میں جانداروں کی سب سے خطرناک قسم ہے۔ ان کا ظاہر بھیڑ کا اور باطن بھیڑیے اور سانپ کا مکسچر ہوتاہے۔ جس سے بھی ملیں اسے لگتا ہے کہ یہ دنیا میںمیرا سب سے بڑا خیر خواہ ہے۔ بقول نور جہاں ”اکھ لڑی بدوبدی موکا ملے کدی کدی، کل نئیں کسی نے ویکھی مزا لییے اج دا“ ان کی زندگی کا نصب العین ہوتا ہے۔ موقعہ ملنے پر اپنے باپ کو بھی نہیں بخشتے۔ اور کہیں ”بدوبدی اکھ لڑ“ جائے تو گدھے سمیت سب کو اپنا باپ بنانے میں ذرا تاخیر نہیں کرتے۔ اس قسم کی سب سے کلاسیک مثال حضرت مولانا ڈیزل مدظلہ العالی ہیں ۔ (جن کے بارے میں کل ڈفر نے بھی لکھا تھا)۔
باقی آئیندہ ۔۔۔(یہ باقی آئیندہ بھی وبا کی طرح پھیلتا جارہا ہے تانیہ بھی چند دن سے اس کا شکار ہیں ) :mrgreen: :mrgreen:
آج کل یہ قسم خاصی عام ہے (بلاگروں میں بھی :mrgreen: ) ۔ یہ ایسے لوگ ہیں جو سہاگ رات کو بھی "موت کا منظر، مرنے کے بعد کیا ہوگا" پڑھتے رہتے ہیں۔ :shock: کسی شادی پر چلے جائیں تو وہاں تھوڑی دیر بعد اپنی گفتگو سے ایسا ماحول بنادیں گے کہ جیسے چالیسویں کا ختم ہو رہا ہو۔ ان کا بانڈ بھی نکل آئے تو یہ خبر ایسے سنائیں گے جیسے ڈاکٹر نے انہیں کینسر تشخیص کیا ہے۔ بھوک زیادہ لگے تو سوچنے لگیں گے کہ انہیں شوگر ہو گئی ہے، نہ لگے تو سوچیں گے کہ کالا یرقان ہوگیا ہے۔ یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ جنت میں بھی چلے جائیں تو کہیں گے ”مزا نہیں آیا، دودھ کی نہر میں کسی نے پانی ملا دیا ہے اور شہد کی نہر میں گلوکوز“ :mrgreen:
ازلی پر امید: :razz:
یہ قسم بہت شاذ و نادر پائی جاتی ہے۔ یہ اپنے والد کی وفات پر افسوس کرنے والے کو بھی سکھوں کے لطیفے سنانے لگتے ہیں۔ خدانخواستہ حادثے میں ٹانگ وغیرہ ٹوٹ جائے تو کہیں گے شکر ہے جوتے بچ گئے۔ محبوبہ کی بے وفائی پر شکر کریں گے کہ اب رات دیر تک چیٹنگ نہیں کرنی پڑتی۔ زرداری کے صدر بننے پر ایسے ہی ایک شخص نے کہا کہ شکر ہے اس سے زیادہ ذلالت ممکن نہیں تھی، اب اس کے بعد کوئی اچھا آدمی ہی آئے گا۔
افلاطون کے سالے: :twisted:
ان لوگوں کے پاس ہر مسئلے کا حل اور ہر تالے کی چابی ہوتی ہے۔ دنیا کے کسی مسئلے پر بحث کر کے دیکھ لیں، یہ آپ کو ”تیرہویں گل“ ہی سنائیں گے۔ :shock: بڑے بڑے لوگوں کے ساتھ تعلقات کی کہانیاں اتنی روانی سے سنائیں گے کہ اتنی روانی سے کوئی ا ب ت نہیں سنا سکتا۔ اپنی ہر بات کو حرف آخر سمجھیں گے اور کوئی اس سے اتفاق نہ کرے تو اسے مردود۔۔ان کے نزدیک دنیا ان کے ہونے سے ایک بہتر جگہ بن گئی ہے اگر وہ نہ ہوتے تو بنی نوع انسان کا مستقبل تاریک ہوجاتا۔ ان کو گھر کے اندر کوئی بولنے نہیںدیتا ۔۔۔۔ اور گھر کے باہر یہ کسی کو بولنے نہیں دیتے !! :mrgreen:
میسنے : :wink:
کائنات میں جانداروں کی سب سے خطرناک قسم ہے۔ ان کا ظاہر بھیڑ کا اور باطن بھیڑیے اور سانپ کا مکسچر ہوتاہے۔ جس سے بھی ملیں اسے لگتا ہے کہ یہ دنیا میںمیرا سب سے بڑا خیر خواہ ہے۔ بقول نور جہاں ”اکھ لڑی بدوبدی موکا ملے کدی کدی، کل نئیں کسی نے ویکھی مزا لییے اج دا“ ان کی زندگی کا نصب العین ہوتا ہے۔ موقعہ ملنے پر اپنے باپ کو بھی نہیں بخشتے۔ اور کہیں ”بدوبدی اکھ لڑ“ جائے تو گدھے سمیت سب کو اپنا باپ بنانے میں ذرا تاخیر نہیں کرتے۔ اس قسم کی سب سے کلاسیک مثال حضرت مولانا ڈیزل مدظلہ العالی ہیں ۔ (جن کے بارے میں کل ڈفر نے بھی لکھا تھا)۔
باقی آئیندہ ۔۔۔(یہ باقی آئیندہ بھی وبا کی طرح پھیلتا جارہا ہے تانیہ بھی چند دن سے اس کا شکار ہیں ) :mrgreen: :mrgreen:
رنگ بازیاں
کالج کینٹین کا منظر ہے۔ ایک میز کے گرد سات آٹھ لڑکوں کا ٹولہ بیٹھا ہوا ہے۔ ان میں سے کچھ سگریٹ سے شوق کر رہے ہیں اور کچھ چائے سے۔ ان میں سے ایک میں بھی ہوں۔ گرما گرم بحثیں جاری ہیں۔ چائے ختم ہو چکی ہے اور ہماری جیبوں میں پیسے بھی۔ اچانک ایک لڑکے کی انٹری ہوتی ہے اور وہ ہم میں سے ایک سے جھک کر ملتا ہے۔ جیسے پیر سے مرید ملتے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد میز پر چائے ، کولڈ ڈرنک ، سموسے اور گلاب جامن بہار دکھانا شروع کردیتے ہیں۔ ہم سب کے ”دور“ گھوم جاتے ہیں کہ یہ کیا ہورہا ہے؟ ہمارا وہی دوست آنکھ بچا کر ہمیں اشارہ کرتا ہے کہ ”موجاں کرو“ ۔ ان کھابوں سے انصاف کرنے کے بعد وہی نئی انٹری سب سے عقیدت مندانہ انداز سے مل کر اور بل دے کر رخصت ہو جاتا ہے۔
تو میرے بھائیو! یہاں سے اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔ ہم سب مل کر باجماعت اس دوست (اس کا نام وسیم فرض کرلیں، اور اس کا تعارف یہ ہے کہ وہ ایک طلبہ تنظیم کا سرگرم رکن تھا اور پر جوش قسم کی آتشیں تقریریں کیا کرتا تھا) کے اوپر چڑھ گئےکہ اؤئے یہ کیا تھا؟ تس پر وسیم نے وضاحت کی کہ چند دن پہلے یہ لڑکا میرے پاس آیا اور روہانسی آواز میں مجھ سے مدد کی درخواست کی کہ ایک لیکچرر نے اسے اپنی کلاس سے نکال دیا ہے، داخلے جانے والے ہیں اور اسے ڈر ہے کہ اس کی حاضریاں کم پڑ جائیں گی اور اس کا داخلہ رک جائےگا۔ اس پر وسیم صاحب نے مونچھوں کو تاؤ دیا اور اسے کہا بس اتنا سا کام ہے۔ چلو میرے ساتھ۔ دیکھ لیتے تمہارے سر کو بھی ۔ :mrgreen:
وہاں سے وہ سیدھے ان لیکچرر کے پاس گئے۔ وسیم نے اسے باہر کھڑا کیا اور اندر جا کر ڈھٹائی سے لیکچرر صاحب کے پیر پکڑ لئے وہ پریشان کہ یہ کیا مصیبت آگئی؟ وسیم بولا کہ سر جب تک آپ وعدہ نہیں کرتے کہ آپ میری بات مانیں گے میں آپ کے پیر نہیں چھوڑوں گا۔ تنگ آ کر انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے، ٹھیک ہے، میں وعدہ کرتا ہوں۔ اس پر وسیم نے ساری سمسّیا ان کے گوش گزار کی۔ انہوں نے کہا بس اتنی سی بات ہے۔ کل سے اسے کلاس میں بھیج دینا۔
اس سارے سین پارٹ کے بعد وسیم صاحب مونچھوں پر تاؤ دیتے ہوئے باہر آئے اور اس کانٹے میں پھنسی ہوئی مچھلی سے مخاطب ہو کر کہا، ”اتنی سی بات تھی، میں نے ان کو وارننگ دے دی ہے کہ یہ اپنا بچہ ہے، آئندہ اس کے ساتھ ایسا سلوک کیا تو ۔۔۔۔۔ :lol:
بس وہ دن جاتا ہےاور آج کا آتا ہے، یہ بچہ جب بھی ملتا ہے میری ایسے عزت کرتا ہے کہ شائد اپنے باپ کی بھی نہ کرتا ہو۔۔۔۔ :lol:
ضروری اعلان: :wink:
اس سارے واقعے سے کوئی کسی قسم کا سبق حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے اور نہ ہی اسے کسی شخص یا واقعہ پر منطبق کرنے کی کوشش کرے۔ ایسا کرنے والا نتائج کا خود ذمہ دار ہوگا۔ :wink: :wink: :wink:
تو میرے بھائیو! یہاں سے اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔ ہم سب مل کر باجماعت اس دوست (اس کا نام وسیم فرض کرلیں، اور اس کا تعارف یہ ہے کہ وہ ایک طلبہ تنظیم کا سرگرم رکن تھا اور پر جوش قسم کی آتشیں تقریریں کیا کرتا تھا) کے اوپر چڑھ گئےکہ اؤئے یہ کیا تھا؟ تس پر وسیم نے وضاحت کی کہ چند دن پہلے یہ لڑکا میرے پاس آیا اور روہانسی آواز میں مجھ سے مدد کی درخواست کی کہ ایک لیکچرر نے اسے اپنی کلاس سے نکال دیا ہے، داخلے جانے والے ہیں اور اسے ڈر ہے کہ اس کی حاضریاں کم پڑ جائیں گی اور اس کا داخلہ رک جائےگا۔ اس پر وسیم صاحب نے مونچھوں کو تاؤ دیا اور اسے کہا بس اتنا سا کام ہے۔ چلو میرے ساتھ۔ دیکھ لیتے تمہارے سر کو بھی ۔ :mrgreen:
وہاں سے وہ سیدھے ان لیکچرر کے پاس گئے۔ وسیم نے اسے باہر کھڑا کیا اور اندر جا کر ڈھٹائی سے لیکچرر صاحب کے پیر پکڑ لئے وہ پریشان کہ یہ کیا مصیبت آگئی؟ وسیم بولا کہ سر جب تک آپ وعدہ نہیں کرتے کہ آپ میری بات مانیں گے میں آپ کے پیر نہیں چھوڑوں گا۔ تنگ آ کر انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے، ٹھیک ہے، میں وعدہ کرتا ہوں۔ اس پر وسیم نے ساری سمسّیا ان کے گوش گزار کی۔ انہوں نے کہا بس اتنی سی بات ہے۔ کل سے اسے کلاس میں بھیج دینا۔
اس سارے سین پارٹ کے بعد وسیم صاحب مونچھوں پر تاؤ دیتے ہوئے باہر آئے اور اس کانٹے میں پھنسی ہوئی مچھلی سے مخاطب ہو کر کہا، ”اتنی سی بات تھی، میں نے ان کو وارننگ دے دی ہے کہ یہ اپنا بچہ ہے، آئندہ اس کے ساتھ ایسا سلوک کیا تو ۔۔۔۔۔ :lol:
بس وہ دن جاتا ہےاور آج کا آتا ہے، یہ بچہ جب بھی ملتا ہے میری ایسے عزت کرتا ہے کہ شائد اپنے باپ کی بھی نہ کرتا ہو۔۔۔۔ :lol:
ضروری اعلان: :wink:
اس سارے واقعے سے کوئی کسی قسم کا سبق حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے اور نہ ہی اسے کسی شخص یا واقعہ پر منطبق کرنے کی کوشش کرے۔ ایسا کرنے والا نتائج کا خود ذمہ دار ہوگا۔ :wink: :wink: :wink:
پیروڈی
اس نے میری طرف دیکھا۔ میز سے میرا رومال اٹھایا اور اپنی ناک صاف کر کے واپس میز پر رکھ دیا۔ اس کی آنکھوں میں مجھے شعلے لپکتے نظر آرہے تھے۔ اس نے ایک لمبی سانس لی اور کہا ” کب تک میں اس حالت کو برداشت کروں گا، آخر میرا قصور کیا ہے؟“ میں نے اس کی بات سنی، کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی اور ایک لمحے کے لئے آنکھیں بند کرلیں۔ وہ بدستور میری طرف گھور رہا تھا۔ میں کرسی پر سیدھا ہوا اور ایک قہقہ لگایا۔ اس پر اس نے اٹھ کر میرے منہ پر ایک گھونسہ جمایا۔ اور کہا ” میں بخار اور فلو سے مرا جارہاہوں اور تجھے جاوید چوہدری کی ایکٹنگ سوجھی ہے، سیدھی طرح دوائی دیتا ہے یا کسی اور ڈاکٹر کے پاس جاؤں“۔
بلا تبصرہ
بابے کا یہ ملک تھا سالم
لیکن اب تو ہاف نئیں لبھدا
نہانے پر تو لعنت بھیجو
پِین کو پانی صاف نئیں لبھدا
محافظ خود محفوظ نئیں ہے
جسٹس کو انصاف نئیں لبھدا
صدر کی وردی اتر گئی ہے
سو سو میل تے قاف نئیں لبھدا
(خالد مسعود)
لیکن اب تو ہاف نئیں لبھدا
نہانے پر تو لعنت بھیجو
پِین کو پانی صاف نئیں لبھدا
محافظ خود محفوظ نئیں ہے
جسٹس کو انصاف نئیں لبھدا
صدر کی وردی اتر گئی ہے
سو سو میل تے قاف نئیں لبھدا
(خالد مسعود)
مائے نیں میںکنوں آکھاں ۔۔۔
صوفی شاعر نے کہا تھا۔۔
کیہہ حال سناواں دل دا
کوئی محرم راز نہ ملدا
پچھلے دو دن چھٹیاں تھیں۔ ایک جمعہ کی ہفتہ وار چھٹی اور ایک 12 ربیع الاول کی ۔ یہ دن کیسے گزارے، مت پوچھیے ۔ پردیس میں سب سے مشکل وقت وہ ہوتا ہے جب کرنے کو کچھ نہ ہو۔ ایسے ہی وقت میں یادیں اپنا پروجیکٹر چالو کرکے آپ کو اس زمانے کی فلمیں دکھانا شروع کر دیتی ہیں جو آپ پردیس میں بھلا دینا چاہتے ہیں
اگرچہ مجھے سات سال ہو چکے ہیں ملک چھوڑے ہوئے ۔۔لیکن ابھی تک میرا یہاں دل نہیں لگا۔ حالانکہ دبی میں دل تو کیا بندے کا ”داء“ بھی لگ جاتا ہے۔ یہاں کسی کو دل کا حال بھی نہیں سنا یا جا سکتا کیونکہ سب کی ایک ہی کہانی ہے اور ایک ہی کہانی کوئی کب تک سنے گا!!
اگر آپ بھی گھر سے اور اپنوں سے دور ہیں تو شاہ حسین کی اس کافی کو سننے سے پرہیز کریں،
مائے نیں میںکنوں آکھاں
درد وچھوڑے دا حال نیں
کیہہ حال سناواں دل دا
کوئی محرم راز نہ ملدا
پچھلے دو دن چھٹیاں تھیں۔ ایک جمعہ کی ہفتہ وار چھٹی اور ایک 12 ربیع الاول کی ۔ یہ دن کیسے گزارے، مت پوچھیے ۔ پردیس میں سب سے مشکل وقت وہ ہوتا ہے جب کرنے کو کچھ نہ ہو۔ ایسے ہی وقت میں یادیں اپنا پروجیکٹر چالو کرکے آپ کو اس زمانے کی فلمیں دکھانا شروع کر دیتی ہیں جو آپ پردیس میں بھلا دینا چاہتے ہیں
اگرچہ مجھے سات سال ہو چکے ہیں ملک چھوڑے ہوئے ۔۔لیکن ابھی تک میرا یہاں دل نہیں لگا۔ حالانکہ دبی میں دل تو کیا بندے کا ”داء“ بھی لگ جاتا ہے۔ یہاں کسی کو دل کا حال بھی نہیں سنا یا جا سکتا کیونکہ سب کی ایک ہی کہانی ہے اور ایک ہی کہانی کوئی کب تک سنے گا!!
اگر آپ بھی گھر سے اور اپنوں سے دور ہیں تو شاہ حسین کی اس کافی کو سننے سے پرہیز کریں،
مائے نیں میںکنوں آکھاں
درد وچھوڑے دا حال نیں
اقوال سیاہ
جھوٹ کی تین اقسام ہوتی ہیں 1- جھوٹ 2- سفید جھوٹ 3- اعداد و شمار (مشتاق یوسفی)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
فقیر کی گالی ، عورت کے تھپڑ اور مسخرے کی بات سے آزردہ نہیں ہونا چاہئے۔ (مشتاق یوسفی)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دور کے رشتے دار سب سے اچھے ہوتے ہیں ، جتنے دور کے ہوں اتنا ہی بہتر ہے۔ (شفیق الرحمن)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جس طرح آج کل کسی کی عمر اور تنخواہ دریافت کرنا بری بات سمجھی جاتی ہے اسی طرح بیس سال بعد کسی کی ولدیت پوچھنا بد اخلاقی سمجھی جائے گی ۔ (مشتاق یوسفی)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بچوں کو پالتے وقت احتیاط کیجئے کہیں وہ ضرورت سے زیادہ نہ پل جائیں ۔ (شفیق الرحمن)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
گھر میں دو تین بچے ہوں تو لاڈلے بنا دئیے جاتے ہیں لہذا بچے ہمیشہ دس بارہ ہونے چاہیئں تاکہ ایک بھی لاڈلا نہ بن سکے ! (شفیق الرحمن)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مرد کی آنکھ اور عورت کی زبان کا دم سب سے آخر میں نکلتا ہے۔ (مشتاق یوسفی)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
در حقیقت زندگی اور موت میں کوئی فرق نہیں، کم از کم ایشیا میں! (مشتاق یوسفی)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ماہرین کا خیال ہے کہ عورتوں کو سنجیدہ مرد اس لئے پسند آتے ہیں کہ انہیں یونہی وہم سا ہو جاتا ہے کہ ایسے حضرات ان کی باتیں غور سے سنتے ہیں !! (شفیق الرحمن)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
محبوب کی سالگرہ یاد رکھیے لیکن اس کی عمر بھول جائیے۔ (شفیق الرحمن)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
یہ ہمیشہ یاد رکھئے کہ جیسے جیسے محبوب کی عمر بڑھتی جائے گی وہ اپنی امی کی طرح ہوتے جائے گی۔ (شفیق الرحمن)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
:lol: :lol: :lol:
آج کے لئے اتنا ہی۔۔۔ باقی پھر کبھی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
فقیر کی گالی ، عورت کے تھپڑ اور مسخرے کی بات سے آزردہ نہیں ہونا چاہئے۔ (مشتاق یوسفی)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دور کے رشتے دار سب سے اچھے ہوتے ہیں ، جتنے دور کے ہوں اتنا ہی بہتر ہے۔ (شفیق الرحمن)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جس طرح آج کل کسی کی عمر اور تنخواہ دریافت کرنا بری بات سمجھی جاتی ہے اسی طرح بیس سال بعد کسی کی ولدیت پوچھنا بد اخلاقی سمجھی جائے گی ۔ (مشتاق یوسفی)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بچوں کو پالتے وقت احتیاط کیجئے کہیں وہ ضرورت سے زیادہ نہ پل جائیں ۔ (شفیق الرحمن)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
گھر میں دو تین بچے ہوں تو لاڈلے بنا دئیے جاتے ہیں لہذا بچے ہمیشہ دس بارہ ہونے چاہیئں تاکہ ایک بھی لاڈلا نہ بن سکے ! (شفیق الرحمن)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مرد کی آنکھ اور عورت کی زبان کا دم سب سے آخر میں نکلتا ہے۔ (مشتاق یوسفی)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
در حقیقت زندگی اور موت میں کوئی فرق نہیں، کم از کم ایشیا میں! (مشتاق یوسفی)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ماہرین کا خیال ہے کہ عورتوں کو سنجیدہ مرد اس لئے پسند آتے ہیں کہ انہیں یونہی وہم سا ہو جاتا ہے کہ ایسے حضرات ان کی باتیں غور سے سنتے ہیں !! (شفیق الرحمن)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
محبوب کی سالگرہ یاد رکھیے لیکن اس کی عمر بھول جائیے۔ (شفیق الرحمن)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
یہ ہمیشہ یاد رکھئے کہ جیسے جیسے محبوب کی عمر بڑھتی جائے گی وہ اپنی امی کی طرح ہوتے جائے گی۔ (شفیق الرحمن)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
:lol: :lol: :lol:
آج کے لئے اتنا ہی۔۔۔ باقی پھر کبھی
شہر دی کُڑی
بُلاّں اُتّے سُرخی مَل کے
کوٹھے اُپّر چڑھدی اے
وحشیاں وانگوں رنگ برنگے
فلمی پرچے پڑھدی اے
وچوں وچوں چور اکھّاں نال
پَوڑیاں وَل وی تکدی اے
نویں ویائی ووہٹی وانگوں
لوکاں کولوں جھکدی اے
سِدھیاں سِدھیاں چیزاں دا وی
پُٹھّا مطلب لیندی اے
کَلّیاں بہہ کے گندیاں گندیاں
گَلاّں سوچدی رہندی اے
(منیر نیازی)
کوٹھے اُپّر چڑھدی اے
وحشیاں وانگوں رنگ برنگے
فلمی پرچے پڑھدی اے
وچوں وچوں چور اکھّاں نال
پَوڑیاں وَل وی تکدی اے
نویں ویائی ووہٹی وانگوں
لوکاں کولوں جھکدی اے
سِدھیاں سِدھیاں چیزاں دا وی
پُٹھّا مطلب لیندی اے
کَلّیاں بہہ کے گندیاں گندیاں
گَلاّں سوچدی رہندی اے
(منیر نیازی)
بہت بے آبرو ہو کر ۔۔۔۔
دو دن پہلے ایک خبر پڑھی ” بھکر میں ہیجڑوں نے گورنر راج اور سلمان تاثیر کی حمایت میں ایک جلوس نکالا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب پنجاب میں ایک ایسی حکومت آئی ہے جو ان کی اپنی حکومت ہے اور سلمان تاثیر جیسے حکمران ان کے مسائل حل کرسکتے ہیں“
زرداری اور ان کی پالیسیوں ( اگر ان کو پالیسی کہا جا سکتاہے تو) اس سے اچھا خراج تحسین پیش نہیںکیا جا سکتا۔ پورے پاکستان میںان کو سوائے ہیجڑوں اور الطاف حسین کے، کسی کی حمایت حاصل نہیں ہو سکی۔ حتی کہ جمعیت علمائے حضرت مولانا کے تا حیات امیر جو ضرورت پڑنے پر شیطان کے حق میں بھی دلیل گھڑ سکتے ہیں وہ بھی چپ ہیں۔
پی پی سے چاہے جتنا بھی اختلاف کرلیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس کی جڑیں عوام میں ہیں اور پچھلے کم و بیش 40 سال سے اسٹیبلشمنٹ اس میں نقب لگانے کی کوشش کررہی ہے۔ کیونکہ ان قوتوں کو کوئی ایسی جماعت یا لیڈر سوٹ نہیںکرتا جو عوام کی بات کرتا ہو اور مقبول ہو۔ بھٹو کو پھانسی لگی لیکن پی پی زندہ رہی، بے نظیر کو بے بسی کی موت مار دیا گیا لیکن پی پی زندہ رہی۔ لیکن اس مرتبہ پی پی کا اسٹیبلشمنٹ کے وار سے بچنا بظاہر ممکن نہیںلگتا۔ جو کام ایوب، یحیی، ضیاء اور مشرف پوری حکومتی مشینری کی حمایت کے باوجود نہیں کر سکے وہ زرداری، تاثیر، نائیک، کھوسہ اور بابر اعوان جیسے باریک کام کے فنکار کر گزریںگے۔
پی پی کے وہ رہنما جو بی بی کے معتمد تھے مثلا ناہید خان، اعتزلز احسن، جہانگیر بدر، امین فہیم وغیرہ ان کو چن چن کر کھڈے لائن لگا دیا گیا ہے۔ وہ جماعت جس کو جناب صدر نے قاتل لیگ قرار دیا تھا اور بی بی نے اس کے ایک لیڈر کو اپنے قتل کی سازش میں ملوث قرار دیا تھا ، زرداری صاحب ان کے ساتھ ایوان صدر میں لنچ اور ڈنر اڑا رہے ہیں۔ اگر یہ مفاہمت کی سیاست ہے تو منافقت کی سیاست کیسی ہوتی ہوگی؟؟؟ اور مفاہمت بھی ساری کی ساری دوسروں کے لئے ہے۔ شریف برادران کا مکو ٹھپنے کے لئے سارے حربے جائز ہیں۔ چاہے ڈوگر کورٹ کا استعمال ہو یا ہیجڑوں کے پسندیدہ گورنر پنجاب، جن کی زبان پنجابی کے ایک محاورے کے مطابق نیفے تک لٹکتی ہے، کی فنکاریوں کی کاریگری۔۔
گردش ایام دیکھیے وہ جماعت جس کا بانی بھٹو تھا اب کہاں آ پہنچی ہے کہ اس کو حمایت کے لئے ہیجڑوں کا مرہون منت ہونا پڑا ہے ۔۔۔
نکلنا سنتے آئے تھے آدم کا خلد سے لیکن
بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
زرداری اور ان کی پالیسیوں ( اگر ان کو پالیسی کہا جا سکتاہے تو) اس سے اچھا خراج تحسین پیش نہیںکیا جا سکتا۔ پورے پاکستان میںان کو سوائے ہیجڑوں اور الطاف حسین کے، کسی کی حمایت حاصل نہیں ہو سکی۔ حتی کہ جمعیت علمائے حضرت مولانا کے تا حیات امیر جو ضرورت پڑنے پر شیطان کے حق میں بھی دلیل گھڑ سکتے ہیں وہ بھی چپ ہیں۔
پی پی سے چاہے جتنا بھی اختلاف کرلیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس کی جڑیں عوام میں ہیں اور پچھلے کم و بیش 40 سال سے اسٹیبلشمنٹ اس میں نقب لگانے کی کوشش کررہی ہے۔ کیونکہ ان قوتوں کو کوئی ایسی جماعت یا لیڈر سوٹ نہیںکرتا جو عوام کی بات کرتا ہو اور مقبول ہو۔ بھٹو کو پھانسی لگی لیکن پی پی زندہ رہی، بے نظیر کو بے بسی کی موت مار دیا گیا لیکن پی پی زندہ رہی۔ لیکن اس مرتبہ پی پی کا اسٹیبلشمنٹ کے وار سے بچنا بظاہر ممکن نہیںلگتا۔ جو کام ایوب، یحیی، ضیاء اور مشرف پوری حکومتی مشینری کی حمایت کے باوجود نہیں کر سکے وہ زرداری، تاثیر، نائیک، کھوسہ اور بابر اعوان جیسے باریک کام کے فنکار کر گزریںگے۔
پی پی کے وہ رہنما جو بی بی کے معتمد تھے مثلا ناہید خان، اعتزلز احسن، جہانگیر بدر، امین فہیم وغیرہ ان کو چن چن کر کھڈے لائن لگا دیا گیا ہے۔ وہ جماعت جس کو جناب صدر نے قاتل لیگ قرار دیا تھا اور بی بی نے اس کے ایک لیڈر کو اپنے قتل کی سازش میں ملوث قرار دیا تھا ، زرداری صاحب ان کے ساتھ ایوان صدر میں لنچ اور ڈنر اڑا رہے ہیں۔ اگر یہ مفاہمت کی سیاست ہے تو منافقت کی سیاست کیسی ہوتی ہوگی؟؟؟ اور مفاہمت بھی ساری کی ساری دوسروں کے لئے ہے۔ شریف برادران کا مکو ٹھپنے کے لئے سارے حربے جائز ہیں۔ چاہے ڈوگر کورٹ کا استعمال ہو یا ہیجڑوں کے پسندیدہ گورنر پنجاب، جن کی زبان پنجابی کے ایک محاورے کے مطابق نیفے تک لٹکتی ہے، کی فنکاریوں کی کاریگری۔۔
گردش ایام دیکھیے وہ جماعت جس کا بانی بھٹو تھا اب کہاں آ پہنچی ہے کہ اس کو حمایت کے لئے ہیجڑوں کا مرہون منت ہونا پڑا ہے ۔۔۔
نکلنا سنتے آئے تھے آدم کا خلد سے لیکن
بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
شاہد کپور اور احسان صاحب
ایک دو دن پہلے شاہد کپور کی نئی فلم "کمینے" کا ٹریلر دیکھا۔ اس میں وہ ایک توتلے کا کردار ادا کر رہاہے جو س اور ش کو ف بولتا ہے۔ اب اس کا ڈایلاگ دیکھیے۔
" تین فال سے فکل بھی نہیں دیکھی میں نے اف کی"
kaminey
اس سے مجھے اپنے ایک استاد یاد آگئے جو دسویں میں ہمیں ریاضی اور کیمسٹری پڑھاتے تھے۔ نام ان کا احسان الحق تھا اور نک نیم "چِینا" تھا اوہو پریشان نہ ہوں یہ نک نیم مطلب ۔۔۔ چھیڑ ۔۔۔ :grin: میری ہی ڈالی ہوئی تھی ۔۔۔ جی جی بالکل بہت بدتمیزی کی بات ہے لیکن آپ نے بھی تو رکھے ہوں گے اپنے استادوںکے نک نیم۔۔۔ ہاں ہاں۔۔۔ یہ دبی دبی ہنسی بتا رہی ہے کہ ایسا ہی ہے۔۔ ۔بہر حال ہمارے سر بھی B کو V پڑھتے تھے اور جیسا پہلے لکھ چکا ہوں کہ پڑھاتے بھی ریاضی اور کیمسٹری تھے تو ہماری تو واٹ لگ جاتی تھی جب وہ زبانی کچھ بھی پڑہاتے تھے ۔۔۔ تھے بھی بہت جبر جنگ ۔۔۔ ایک سے دوسری دفعہ پوچھنے پر ایسے گھورتے تھے کہ بس جیسے ابھی گراؤنڈ میں لے جا کر پھانسی دے دیں گے۔۔۔ لہذا ہم سیاق و سباق کی مدد سے سمجھ لیتے تھے کہ یہاں کیا مراد ہے B یا V
ایک خوشگوار دن جب ہم بہت خوش تھے (یہ مت پوچھیے کیوں؟ آپ کو خود معلوم ہونا چاھیے کہ ایک دسویںکا نوجوان صبح صبح کیوں خوش ہوتا ہے :grin: ) اور سر جی کچھ پڑ ھا رہے تھے " اے سکویر پلس وی سکویر" ہم نے لقمہ دے دیا " سر! بی یا وی" تو بولے "وی نہیں و ی ی ی" تو صاحب کلاس میں وہ ہنسی کا فوارہ چھوٹا کہ کچھ مت پوچھیں اور اس کے بعد میرے ساتھ کیا ہوا وہ تو بالکل ہی مت پوچھیں ۔۔۔ :roll:
بہرحال اکر سر احسان صاحب یہ پڑھ رہے ہوں تو میںکہنا چاہتاہوںکہ سر جی! آج جو کچھ بھی ہیں وہ اللہ کی رحمت کے بعد آپ کی وجہ سے ہیں۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔
" تین فال سے فکل بھی نہیں دیکھی میں نے اف کی"
kaminey
اس سے مجھے اپنے ایک استاد یاد آگئے جو دسویں میں ہمیں ریاضی اور کیمسٹری پڑھاتے تھے۔ نام ان کا احسان الحق تھا اور نک نیم "چِینا" تھا اوہو پریشان نہ ہوں یہ نک نیم مطلب ۔۔۔ چھیڑ ۔۔۔ :grin: میری ہی ڈالی ہوئی تھی ۔۔۔ جی جی بالکل بہت بدتمیزی کی بات ہے لیکن آپ نے بھی تو رکھے ہوں گے اپنے استادوںکے نک نیم۔۔۔ ہاں ہاں۔۔۔ یہ دبی دبی ہنسی بتا رہی ہے کہ ایسا ہی ہے۔۔ ۔بہر حال ہمارے سر بھی B کو V پڑھتے تھے اور جیسا پہلے لکھ چکا ہوں کہ پڑھاتے بھی ریاضی اور کیمسٹری تھے تو ہماری تو واٹ لگ جاتی تھی جب وہ زبانی کچھ بھی پڑہاتے تھے ۔۔۔ تھے بھی بہت جبر جنگ ۔۔۔ ایک سے دوسری دفعہ پوچھنے پر ایسے گھورتے تھے کہ بس جیسے ابھی گراؤنڈ میں لے جا کر پھانسی دے دیں گے۔۔۔ لہذا ہم سیاق و سباق کی مدد سے سمجھ لیتے تھے کہ یہاں کیا مراد ہے B یا V
ایک خوشگوار دن جب ہم بہت خوش تھے (یہ مت پوچھیے کیوں؟ آپ کو خود معلوم ہونا چاھیے کہ ایک دسویںکا نوجوان صبح صبح کیوں خوش ہوتا ہے :grin: ) اور سر جی کچھ پڑ ھا رہے تھے " اے سکویر پلس وی سکویر" ہم نے لقمہ دے دیا " سر! بی یا وی" تو بولے "وی نہیں و ی ی ی" تو صاحب کلاس میں وہ ہنسی کا فوارہ چھوٹا کہ کچھ مت پوچھیں اور اس کے بعد میرے ساتھ کیا ہوا وہ تو بالکل ہی مت پوچھیں ۔۔۔ :roll:
بہرحال اکر سر احسان صاحب یہ پڑھ رہے ہوں تو میںکہنا چاہتاہوںکہ سر جی! آج جو کچھ بھی ہیں وہ اللہ کی رحمت کے بعد آپ کی وجہ سے ہیں۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔
