ابن صفی - نمک پارے

”آپ کا مذہب کیا ہے۔۔۔۔!“
”بکواس۔۔۔۔!“
”کیا مطلب۔۔۔۔!“
”مذہب کے سلسلے میں عموما بکواس کرتاہوں ۔۔۔۔ عمل نہیں کرتا۔!“
(پتھروں کے پیچھے)
-----------------------------------------------------------------------------------------
”تم مجھے بہت اچھے لگتے ہو۔!“
”ہماری ممی بھی یہی کہتی ہیں۔!“ عمران نے بڑی سادگی سے جواب دیا۔
(شفق کے پجاری)
-----------------------------------------------------------------------------------------
”۔۔۔ان کے قریب ہی ایک تین سالہ صاحب زادے والدہ محترمہ کی گود میں بیٹھے ان کی ٹھوڑی کو ہاتھ لگا لگا کر گارہے تھے
جان من اتنا بتادو ۔۔۔ محبت ۔۔۔ محبت ۔۔۔۔ محبت ہے کیا
”ٹیپو۔۔۔ چپ بیٹھو۔۔۔ !“ وہ اسے جھڑک کر بولیں ۔۔۔۔ اور پھر اپنے ساتھ والی خاتون سے گفتگو کرنے لگیں۔
”باس میں کیا کروں۔۔۔! جوزف کراہا۔
”اب کیا بتاؤں ۔۔۔۔۔ تو آنکھیں نہیں کھول سکتا ورنہ میں تجھے آنے والی نسل کا ٹیپو دکھاتا۔!“
(تصویر کی اڑان)
-----------------------------------------------------------------------------------------
”ارے بند کرو ۔۔۔ ورنہ میں تمہارا گلا گھونٹ دوں گی۔“ وہ دونوں کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر چیخی۔
عمران نے بوکھلائے ہوئے انداز میں ستار رکھ دیا اور دروازے کی طرف چھلانگ لگائی۔ دروازہ اتنی بدحواسی کے ساتھ بند کیا جیسے مویشیوں کے اندر گھس آنے کا خدشہ رہا ہو۔
”ٹھیک ہے۔“ اس نے خوفزدہ انداز میں روشی سے پوچھا۔
”کیا ٹھیک ہے“۔
”بند کردیا۔“
”میں نے ستار بند کرنے کو کہاتھا“۔
”اس میں دروازے نہیں ہیں۔“ بہت سادگی سے جواب دیا گیا۔
(قاصد کی تلاش)
-----------------------------------------------------------------------------------------
”عورت اور گاؤدی۔“ عمران آنکھیں نکال کر بولا۔ ”دنیا کی ہر عورت گاؤدی ہونے کے علاوہ اور سب کچھ ہو سکتی ہے۔ عورت سے زیادہ چالاک جانور روئے زمین پر دوسرا نہیں ملے گا۔ ارے یہی کیا کم ہے کہ اس نے بڑے بڑے افلاطونوں کو اپنے گاؤدی ہونے کا یقین دلا دیا۔۔۔ محض اس لئے کہ ذمہ داریوں کے بوجھ سے سبکدوش ہوجائے۔ عورت تو اس وقت بھی ذہین تھی جب آدمی درختوں کی جڑیں کھود کر اپنا پیٹ بھرتا تھا۔ سو مردوں میں کم از کم دس مرد بے وقوف ہوتے ہیں لیکن اگر تم پانچ سو عورتوں میں سے آدھی بے وقوف عورت بھی پیدا کرسکو تو علی عمران ایم۔ایس۔سی۔ پی۔ایچ۔ڈی گورداسپوری اس سے شادی کرلے گا۔۔۔ آدھی ہی سہی ۔۔۔ اور کیا؟“
(قاصد کی تلاش)
-----------------------------------------------------------------------------------------

چرسیلے گلاب جامن

جعفر کا دسترخوان کے ساتھ ایک بار پھر حاضر ہوں۔ پچھلی ترکیب کی سپر ہٹ کامیابی کے بعد حضرات کے پرزور اصرار پر سویٹ ڈش کی ترکیب پیش خدمت ہے۔ گذارش صرف اتنی ہے کہ پکڑے جانے کی صورت میں‌ میرا نام بالکل مت لیں! نوازش ہوگی!!!
ہاں تو پھر اجزاء نوٹ کرلیں۔

1- اچھی کوالٹی کی چرس (حسب ذائقہ اور حسب ہمت)
2- دو کلو گلاب جامن (کسی بھی لاری اڈے میں‌واقع مٹھائی کی دکان سے خریدی گئی ہوں)
3- بس اتنے ہی اجزاء ہیں!!

بہت آسان ترکیب ہے۔ گلاب جامن کھا کر اس کے بعد چرس والا سگریٹ پئیں پھر گلاب جامن کھائیں پھر سگریٹ پئیں پھر گلاب جامن کھائیں‌پھر۔۔۔۔ علی ہذ القیاس ۔۔۔۔ حتی کہ انٹا غفیل ہوجائیں۔
یہ بات دھیان میں رہے کہ یہ ترکیب کسی ایسی جگہ استعمال کریں جہاں پولیس اور گھر والوں کے چھاپے کا ڈر نہ ہو۔ اگر شومئی قسمت سے پھر بھی پکڑے جائیں تو براہ مہربانی میرا نام مت لیں!! اور پولیس کے ہاتھوں‌ پکڑے جانے کی صورت میں اصرار کریں کہ ”پانجہ“ فورا ہی لگا دیا جائے کیونکہ چرسیلے گلاب جامنوں کی وجہ سے درد زیادہ محسوس نہیں ہوگا! ہیں‌جی۔۔۔ کیا کہا!! نہیں ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ تجربہ نہیں ہے میرا۔۔۔ کامن سینس کی بات ہے!! اور اگر گھر والوں‌ نے پکڑ لیا تو ایسا ”چھتر پولا“ تو ہوتا ہی رہتا ہوگا آپ کا۔۔۔ اس لئے یہ کوئی زیادہ تشویش کی بات نہیں ہے۔۔۔
بس اب اجازت دیں۔۔۔ اگلی ترکیب کے ساتھ پھر حاضر خدمت ہوں گا۔۔۔ اگر کسی نے مخبری نہ کردی تو۔۔۔۔

بہت بےآبرو ہو کر ترے ”دفتر“ سے ہم نکلے۔۔۔

یہ اس وقت کا قصہ ہے جب آتش جوان تھا بلکہ درست تو یوں ہے کہ بچپن اور جوانی کی سرحد پر حیران تھا۔ تازہ تازہ سکول کی قید سے رہائی ملی تھی اور کالج کی آزاد فضا میں سانس لینے کا موقع! ایسا محسوس ہوتا تھا جیسا نیلسن منڈیلا کو 30 سال سے زیادہ کی قید کے بعد رہائی ملنے پر محسوس ہوا ہوگا۔ میرے بہت سے مینوفیکچرنگ فالٹس میں سے ایک لیڈری بھی تھا(اورہے) اور لیڈری بھی ایسی جس کے بارے میں خالد مسعود نے کہا تھا؛

اس کو پلس سے روز ہی چھتر پڑتے تھے
کرتا تھا ایسی تقریر کمینہ سا

تو قصہ کچھ یوں ہے کہ ہمارے کیمسٹری کے لیکچرار ایک عجوبہ روزگار شخصیت واقعہ ہوئے تھے۔ ایسے سمارٹ کہ سوئی کے ناکے میں سے گزر جائیں اور مونچھیں ایسی کہ دور سے لگتا تھا کہ مونچھیں چلی آرہی ہیں، قریب آنے پر پتہ چلتا تھا کہ مونچھوں کے ساتھ بندہ بھی لگا ہوا ہے۔ پڑھاتے ایسے تھے کہ قسم اٹھوالیں جو ان کا ایک بھی لفظ سمجھ میں‌ آتا ہو۔ ہم ٹھہرے اردو میڈیم کے پڑھے ہوئے اور ان کا ”ایکسنٹ“ برٹش اور آسٹریلین ایکسنٹ کا کراس بریڈ تھا (یہ اب پتہ چلا ہے کہ ایسا تھا)۔ پھر ان کی کلاس میں‌ یونیفارم کی پابندی۔ اتنی شرمندگی ہوتی تھی یونیفارم پہن کر کہ پورے کالج میں ہماری کلاس کے شیر جوان ہی پہنتے تھے اور سب کی طنزیہ نظروں‌ اور فقروں کا نشانہ بھی بنتے تھے۔ ایک غیر حاضری پر وہ 3 دن کی غیر حاضری لگاتے تھے۔ نام کی بجائے سب کو رول نمبر سے بلاتے تھے۔ کسی کو متوجہ کرنے کے لئے چاک کا ٹکڑا کھینچ مارتے تھے اور نشانہ بھی اس غضب کا تھا کہ سیدھا شکار کے سر پر لگتا تھا۔ بچپن میں‌ضرور ”بنٹوں“ کے بین المحلہ چیمپئین رہے ہوں گے ۔!!! اور ان کا ایک مشہور زمانہ ڈائلاگ بھی تھا، چلیں چھوڑیں اسے، پہلے ہی بیبیاں اس بلاگ پر آنے سے گریز کرنے لگی ہیں!!!

الغرض ”ہزاروں ہی شکوے ہیں کیاکیا بتاؤں“

توفرنگی محاورے کے مطابق” ایک خوشگوار صبح“ ہم سب نے فیصلہ کیا کہ اس سمسیا کا کوئی حل نکالنا چاہئے۔ حل یہ نکلا کہ ایک درخواست بنام پرنسپل لکھی جائے جس میں کیمسٹری کے لیکچرار کو تبدیل کرنے کی مانگ کی جائے اور پوری کلاس اس پر دستخط کرے۔ اب سوال اٹھ کھڑا ہوا کہ یہ درخواست پرنسپل کے حضور پیش کون‌ کرے گا؟ سب کی نظریں بیک وقت مجھ پر آکر ٹھہر گئیں کہ چل بچو! بڑا لیڈر بنتا ہے! اب پتہ چلے گا تیرا۔! میں نے بھی نعرہ مستانہ (حماقت بھی پڑھا جاسکتا ہے) بلند کیا اور کہا لکھو درخواست! میں‌لے کر جاؤں گا پرنسپل کے پاس۔! درخواست لکھی گئی، دستخط ثبت کئے گئے اور میرے ہاتھ میں تھما دی گئی۔

اب منظر ملاحظہ ہو۔ میں سب سے آگے اور میرے پیچھے چالیس، پینتالیس شیر جوان مارچ پاسٹ کرتے ہوئے پرنسپل آفس کی طرف گامزن۔ میں نے مورل سپورٹ کے لئے دو جوان ساتھ لئے اور گھس گیا سیدھا آفس میں۔ درخواست جا میز پر رکھی۔ پرنسپل صاحب نے عینک کے شیشوں میں‌سے گھورتے ہوئے فرمایا۔ ”کیا ہے یہ؟“ پھر جواب کا انتظار کئے بغیر اٹھا کر اسے پڑھنا شروع کردیا۔ ان کے چہرے کے بدلتے رنگوں سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ ” ٹھاکر تو گیو“ ۔ پڑھنے کے بعد انہوں نے وہ درخواست میرے منہ پر دے ماری۔ اور وہ بے عزتی کی کہ بس کچھ مت پوچھیں۔ مجھ سے پوچھا گیا کہ جن کے دستخط ہیں وہ کہاں‌ ہیں؟ میں نے کہا، سر! سب آفس کے باہر کھڑے ہیں۔ انہوں نے فرمایا، چلو میرے ساتھ دیکھتا ہوں ان کو بھی! یہ منظر دیکھ کر میرے ساتھ اندر آنے والے تو پہلے ہی کھسک گئے تھے۔ باہر جاکر انہوں نے باقی پلاٹون کو بیستی پروگرام کے بارے میں بریف کردیا تھا۔ تو صاحب! جب ہم پرنسپل صاحب کے ساتھ آفس سے باہر آئے تو وہاں نہ بندہ تھا نہ بندے کی ذات!

تو صاحبو! اصل بیستی پروگرام تو اگلے دن کیمسٹری کے پیریڈ میں شروع ہوا جو اگلے دو سال تک لگاتار ”سوپ سیریل“ کی طرح چلتا رہا۔ اس کی تفصیل پھر کبھی۔ اس ساری ”گھٹنا“ میں‌ صرف دو جوانوں نے میرا ساتھ دیا۔ باقی سب پورس کے ہاتھی ثابت ہوئے ۔
میرا ان دلیر جوانوں سے پکا وعدہ تھا کہ وزیر اعظم بننے کے بعد ان دونوں کو نشان حیدر عطا کروں گا!!!
اگر وہ دونوں پڑھ رہے ہوں تو سند رہے کہ میں اپنا وعدہ بھولا نہیں!

کام تمام

کوئی جائے اور جاکر علی عظمت کو بتلائے کہ وقت نکلا جاتا ہے ۔ زندگی خوابوں پر بسر نہیں ہوتی، نئے گانوں پر ہوتی ہے!!

چند سال ہوتے ہیں جب کل کے لونڈے نے اٹھ کر اس کو چیلنج کیا تھا وہ مگر اپنی ہی دنیا میں مگن رہا اب یہ حال ہے کہ کوئی اس کا نام لیوا باقی نہیں۔ وائے افسوس!

کارواں‌کے دل سے احساس زیاں‌جاتا رہا

کیا کیا گہر تھے جو نرگسیت کے ہاتھوں تاریخ کی خاک ہوئے۔ کل کا مورخ جب یہ داستاں لکھے گا تو اس کے قلم سے خون بہے گا۔ وقت رکتا نہیں اور رکنے والوں‌کو بہا کر لے جاتا ہے ، کاش کہ کوئی اسے بتائے! اتنی زیاں کاری، ایسی سود فراموشی۔۔۔۔ کیا دور تھا کہ مہ جبینیں اس کی موسیقی پر مدہوش ہو کر رقص کیا کرتی تھیں اور اب۔۔۔۔ گڑوی والیاں بھی شادیوں‌ پر اس کے گانے نہیں گاتیں۔

دو صدیاں‌ ہوتی ہیں جب محمد شاہ رنگیلا بھرے دربار میں‌ داد فن (اور عیش بھی) دیا کرتا تھا۔ فنکار اور موسیقار دور دور سے آتے اور اپنے من کی مراد پاتے۔ مگر افسوس کہ بھرے بڑھاپے میں اسے موت کا منہ دیکھنا پڑا۔ سب اہل فن جیسے یتیم و یسیر ہوگئے تھے۔ پھر دو صدیوں کے بعد ایک اور فن کا قدردان تخت نشین ہوا، اہل فن جیسے دوبارہ جی اٹھے ہوں۔ مورخ، اہل فن کی قدردانی میں‌محمد شاہ رنگیلے سے پہلے مشرف شاہ سریلے کا نام لکھے گا۔ مگر افسوس اس کو بھی جیتے جی مار دیا گیا۔ تو کیا یہی وہ غم ہے جو ہمارے گلوکار کو لے بیٹھا!!

تو کوئی جائے اور جاکر علی عظمت کو بتلائے کہ وقت نکلا جاتا ہے ۔ زندگی خوابوں پر بسر نہیں ہوتی، نئے گانوں پر ہوتی ہے!!
(ایک اور پیروڈی۔۔۔ کس کی ہے۔۔۔ بتانے والے کو انعام میں‌ 10 کوڑے لگائے جائیں گے۔۔۔ پہلے آئیں، پہلے کھائیں!!)

اک بدماش عورت (منیر نیازی)

بڑا ای مان سی مینوں وی
کجھ اپنی طاقت اُتے
اپنے حسن جمال تے
اپنے دل دی ہمت اُتے
پَر جدوں اوس نوں ملیا
تے مینوں اگوں ہو کے پئی
عورتاں ورگا جسم سی اوس دا
اکھ سی مرداں جئی
قسم خدا دی میرے کولوں تے گل نئیں کیتی گئی!

مزید پیروڈی

اس نے میری طرف دیکھا۔ سر جھکایا، ناک میں انگلی گھمائی اورپھر اسے اپنے کندھے پر رکھے ہوئے صافے سے صاف کیا۔ کھنکھار کر ایک طرف تھوکا۔ میں‌ سمجھ گیا کہ اب یہ ضرور کوئی چول مارے گا۔ چول مارنے سے پہلے یہ اس کا سٹینڈرڈ پروسیجر ہے۔ میں‌ نے فورا اپنے دونوں کانوں کے دروازے کھول دئیے تاکہ ایک سے سن کر دوسرے سے نکال سکوں۔ اس نے سگریٹ سلگایا اور مجھ سے مخاطب ہوا۔ ”باؤ! یار ایک بات تو بتا۔ یہ مون لائٹ والا آخری شو کی ٹکٹ کیوں‌ بلیک کرتاہے؟۔“ اس نے سگریٹ کا دھواں میری طرف پھینکتے ہوئے سوال کیا۔ میں‌ نے خشمگیں نظروں سے اسے گھورا اور جواب دیا۔ ”مجھے کیا پتہ“۔ اس پر اس نے میرے کندھے پر ہاتھ مار کر قہقہہ لگایا اور کہنے لگا۔ ”میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اب تو گھر گھر کیبل کی صورت میں مون لائٹ کھل گیا ہے تو پھر کیوں ٹکٹ بلیک ہوتاہے؟ کوئی پاگل کا پتر ہی ہوگا جو بلیک ٹکٹ لے کر گرمی میں‌ بیٹھ کر ”گرماگرم پروگرام“ دیکھے جبکہ یہی سہولت اسے اپنے گھر میں 200 روپے ماہوار پر دستیاب ہو؟ کیوں باؤ! کیا خیال ہے تمہارا؟“

بے لاگ بلاگر - خاور کھوکھر

سب سے پہلے ڈفر کا بلاگ وزٹا تھا میں نے اور وہ بھی اتفاق سے۔ ڈھونڈنے کچھ اور نکلا تھا، پہنچ کہیں اور گیا۔ لیکن اب سوچتا ہوں کہ ٹھیک جگہ پہنچا تھا۔ اسی کے بلاگ رول سے خاور کھوکھر کے بلاگ کا پتہ ملا۔ پہلی دفعہ وہاں گیا تو تصویر دیکھ کر لگا کہ کوئی منڈا کھنڈا ہے اور گانے شانے پوسٹ کردیتا ہوگا موج میلہ کرنے کے لئے۔
لیکن پوسٹ پڑھنی شروع کی تو آخری سطر تک پڑھتا ہی چلا گیا۔ انوکھا انداز تحریر اور قاری کو برچھی سے ”کتکتاریاں“ کرتے ہوئے خاور صاحب۔
دو قسم کے بندے ہوتے ہیں پہلے جو خود کو تجربہ کار کہتے ہیں لیکن اصل میں پڑے پڑے پرانے ہوگئے ہوتے ہیں اور جو ہر بات پر اپنا باجا نکال کر بجانا شروع کردیتے ہیں۔ دوسری قسم کے یہ ہمارے خاور کھوکھر جیسے ہوتے ہیں کہ ایسی باتیں وہی لکھ سکتا ہے جس کو زندگی نے چنگا رگڑا دیا ہو اور خوب دھو کر نیل دے کر سکھایا ہو۔چمک جاتا ہے پھر بندہ، تو اپنے خاور صاحب بھی چمک گئے ہیں۔ سیدھے انداز میں نوکیلی باتیں۔ کاٹ دار ایسی کہ بندہ پڑھنے کے بعد بھی چبھن محسوس کرتا رہے۔ لگی لپٹی رکھے بغیر لیکن کسی کو طعنے اور مہنے دیئے بغیر۔
تبصرے بھی کم کم کرتے ہیں، لیکن تبصرے بھی پڑھنے لائق ہوتے ہیں۔ ایک اقتباس دیکھئے

طالبان کے اسلام کا ورژن ہو گا جی
خواہ مخواہ
شلوار کو اونچا کروانے کے لیے گٹوں پر چھڑیاں برسیں گی
داڑھی کے سائیز پر سزا ہو گي
لیکن جی فکر ناں کریں
ان لوگوں کی نیت ٹھیک ہو گي اس لیے ان کو سنوارنا آسان ہو گا

ان کے نقطہ نظر سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ سوچی سمجھی رائے کے مالک ہیں اور اس پر دلیل سے بات کرتے ہیں۔ پوری قوم کی طرح بلاگروں میں بھی جذباتیت پسندوں (جن میں خود بھی شامل ہوں) کی بھرمار ہے لیکن یہ بھی ان کی خوبی ہے کہ جذباتیت سے کوسوں دور ہیں۔ سیاست، مزاح، معاشرت ہر موضوع پر قلم برداشتہ لکھتے ہیں۔ قاری سے مکالمہ کرتا ہوا لکھنے کا انداز اور اپنی رائے بغیر ٹھونسے ہوئے بیان کرنے کا فن۔



آخر میں ان کے بے لاگ بلاگ سے ایک اقتباس۔۔۔
اب یہ حال ہے کہ حکومتی لوگ ڈرے ہوئے ہیں اور میڈیا ان کے ھاتھ ہے
اور یہ لوگ بچوں کی طرح کہہ رہے ہیں وہ دیکھو جی طالبان آ رہے ہیں یہ ہم لوگوں کو ماریں گے
نہیں جی یہ ہم لوگوں کو نہیں تم لوگوں کو ماریں گے
بس میرے لوگوں کو عام لوگوں کو اس بات کا معلوم ہونے تک کی دیر ہے کہ ہم لوگ ہم ہیں
اورحکومتی لوگ
ہم نہیں ہیں!!

ڈائیلاگ بازی

پچھلے کچھ برسوں میں جو چند اچھی فلمیں بنی ہیں ”اومکارہ“ ان میں‌ سے ایک ہے۔ یہ فلم شیکسپئر کے ڈرامے ”اوتھیلو“ سے ماخوذ ہے۔ اور اس کو دیہی اتر پردیش کے پس منظر میں فلمایا گیا ہے۔ فلم میں‌ استعمال کی گئی زبان بہت ہی عوامی ہے لہذا کمزور دل حضرات دیکھنے سے پرہیز کریں۔ فلم کے اوپننگ کریڈٹس کے فوراً بعد یہ ڈایلاگ ہے ، جو بہت سی وجوہات کی بناء پر میرا پسندیدہ ہے۔

(سیف علی خان بطور لنگڑا تیاگی)
”بے وقوف اور ۔۔۔۔ میں‌ دھاگے بھر کا پھرک ہوتا ہیگا بھیّا
دھاگے کے ہینگے بے وقوف اور ہونگے ۔۔۔۔۔۔۔
اور جو دھاگہ ہینچ لو تو کون ہے بےوقوف اور کون ہے ۔۔۔۔۔، کروڑ روپے کا پَرَسَن ہے بھیا
!

خالی جگہ میں استعمال ہونے والا لفظ لکھنے کی ہمت نہیں‌ ہوئی۔ جنہوں نے فلم دیکھی ہے ان کو پتہ چل گیا ہوگا کہ کونسا لفظ ہے!

برسبیل تذکرہ ایک بات یاد آئی ہے وہ بھی سن لیجئے۔ ایک انڈین دوست سے میری کرکٹ پر بحث ہورہی تھی کہ وہ اچانک بولا۔ ”یار، تم پاکستانی انڈیا کے اتنے مخالف ہو لیکن فلمیں اور گانے ہمارے ہی دیکھتے اور سنتے ہو۔ یہ کیا منافقت ہے؟“
میں نے جواب دیا کہ جب کوئی بندہ تماشبینی کے لئے بازار میں جاتا ہے تو وہ طوائف سے اس کی قومیت نہیں‌ پوچھتا۔ پیسے خرچ کرتا ہے اور تماشبینی کرتا ہے۔ اس میں منافقت کہاں‌ سے آگئی۔
وہ اٹھا، میرے گھٹنوں‌ کو ہاتھ لگایا اور ہاتھ جوڑ کر بولا۔ ”تو مہان ہے میرے باپ، معاف کر مجھے“۔

آخر میں تبرک کے طور پر الحاج سلطان راہی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی ایک ڈائلاگ سن لیجئے:
سلطان راہی:‌ ”اوئے چاچا! میرے پیو نوں کنے کنے رل کے ماریا اے“۔
چاچا: ”او پترا، اونہوں ساریاں رل کے ماریا سی“۔
سلطان راہی: ”اوئے میں سارے ماردیاں گا“۔

تبصروں میں اپنے پسندیدہ ڈایلاگ لکھنے کی کھلی آزادی ہے!

کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

سچ بولنا نہیں، سچ سننا، مشکل ہے۔ وہ بھی اپنے بارے میں !
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کسی کو یاد کرنے کے لئے پہلے اسے بھولنا ضروری ہے !
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انسان فطرتاً کمینہ ہے!! اس کے اچھا یا براہونے کا انحصار، کمینگی کی مقدار اور معیار پر ہوتا ہے!
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کنوارا ہونے کا کیا فائدہ ہے؟ بندہ بیڈ کی دونوں اطراف سے نیچے اتر سکتا ہے!
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
شادی شدہ ہونے کا کیا فائدہ ہے؟ پتہ چل جاتا ہے کہ منکر نکیر حساب کیسے لیں گے!
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عالم اور جاہل میں فرق:- عالم: ”آپ کے والد تشریف لائے تھے“۔ جاہل: ”تیری ماں دا کھسم آیا سی“۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عشق اور محبت میں وہی فرق ہے جو آقا اور غلام میں ہوتا ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
”چوّل“ اور بلاگ میں کیا فرق ہے، بلاگ اپنے لیئے اور چوّل دوسروں کو نصیحت کیلیے ماری جاتی ہے!

ہوشیار باش!
درج بالا چوّلوں میں‌ سے کچھ تو میری ذاتی ہیں اور کچھ اتنی استعمال کرچکا ہوں کہ ذاتی لگنے لگی ہیں!
ان کے جملہ حقوق غیر محفوظ ہیں‌اور کوئی بھی اپنی ذمہ داری پر اپنے نام سے استعمال کرسکتاہے۔
حامل ہذا تحریر کو کوئی اعتراض نہ ہوگا۔

ٹوتھ پیسٹ ملی بریانی

انتباہ: کمزور دل خواتین و حضرات کھانے سے تو کیا پڑھنے سے بھی گریز کریں !!!



قارئین کے پرزور اصرار پر (اور مختلف بلاگز پر کھانوں کی ترکیبیں‌دیکھ دیکھ کر) میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں ‌اپنا ترکیبوں کا لچ تلوں گا۔ تو اس سلسلے کی پہلی ترکیب حاضر ہے ۔ اجزاء درج ذیل ہیں
1- خوش ذائقہ ٹوتھ پیسٹ کی بڑی ٹیوب
2- چاٹ مصالحے کے 5 ڈبے
3- بھنڈیاں
4- دو دانے چاول (اچھی طرح صاف کئے ہوئے!)
5- کاسٹک سوڈا (حسب ذائقہ)
6- نمک (15 بڑے چمچ)
7- مرچیں (جتنی آسانی سے لگ جائیں)
8- کریلوں کا جوس (دو چائے کے چمچ)
ٹوتھ پیسٹ کو ایک بڑے پتیلے میں نکال لیں اور اس پر چاٹ مصالحہ چھڑک کر اچھی طرح ملا لیں، خیال رکھیں کہ پیسٹ کا پانی نہ نکلے۔ پھر بھنڈیاں بغیر دھوئے اور بغیر کاٹے ایک جگ میں ڈالیں‌اور اس میں‌ پونے دو گلاس پانی ڈال دیں ۔ کاسٹک سوڈا حسب ذائقہ شامل کریں اور پلیٹ سے ڈھانپ کر دھوپ میں رکھ دیں‌۔ چاول اچھی طرح بھگو کر ابال لیں اور نمک مرچ ابالنے کے دوران ہی ڈال دیں۔ کریلوں‌ کا جوس شامل کرکے چاولوں‌ کودم دے دیں۔ چاولوں کو دم آنے کے بعد، دھوپ میں رکھی ہوئی کاسٹک سوڈا ملی بھنڈیاں بھی شامل کردیں۔ اور ان سب کو اچھی طرح ہلا لیں۔ آخر میں چاٹ مصالحے والا ٹوتھ پیسٹ چاولوں‌ کے اوپر برابر پھیلا کر 40 منٹ کے لئے تیز آنچ پر دم دے دیں۔
بس مزیدار ٹوتھ پیسٹ ملی بریانی تیار ہے۔

بُندا

کاش میں تیرے بُنِ گوش میں بُندا ہوتا!
رات کو بے خبری میں جو مچل جاتا میں
تو ترے کان سے چپ چاپ نکل جاتا میں
صبح کو گرتے جو ترے زلفوں سے باسی پھول
میرے کھوجانے پہ ہوتا تیرا دل کتنا ملول
تو مجھے ڈھونڈتی کس شوق سے گھبراہٹ میں
اپنے مہکے ہوئے بستر کی ہر ایک سلوٹ میں
جونہی کرتیں تری نرم انگلیاں محسوس مجھے
ملتا اس گوش کا پھر گوشہء مانوس مجھے
کان سے تو مجھے ہرگز نہ اتارا کرتی
تو کبھی میری جدائی نہ گوارا کرتی
یوں تری قربتِ رنگین کے نشے میں مدہوش
عمر بھر رہتا مری جاں میں ترا حلقہ بگوش
کاش میں تیرے بُنِ گوش میں بُندا ہوتا!
(مجید امجد)

وصی شاہ کی نظم ”کاش میں ترے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا“ بہت الگ اور انوکھی لگتی تھی لیکن جب مجید امجد کو پڑھا تو پتہ چلا کہ شاہ جی کی انسپریشن کدھر سے آئی تھی۔۔۔
موازنہ مقصود نہیں لیکن پھر بھی فرق صاف ظاہر ہے۔۔۔

میں بہت دکھی ہوں!

اس کی آنکھوں میں پانی اتر آیا۔ اس نے قیمتی ریشمی رومال سے آنکھوں کو پونچھا اور بھرائی ہوئی آواز میں مجھ سے مخاطب ہوا۔ ” میں بہت دکھی ہوں، زندگی میں ایسے ایسے غم دیکھے ہیں کہ بیان کرتے ہوئے میرا کلیجہ منہ کو آتاہے۔ سکول میں تھا تو کبھی فرسٹ نہیں آیا، نوجوانی میں جس لڑکی سے بھی اظہار محبت کیا اس نے اپنے بھائیوں‌ سے مجھے پٹوا دیا ۔ کزن کے ساتھ شادی کی خواہش کی تو گھر والوں نے انکار کردیا۔“ وہ سانس لینے کو رکا، سونے کے سگریٹ کیس سے مارلبرو کا سگریٹ نکال کر سلگایا اور پھر یوں گویا ہوا۔ ” شادی ہوئی تو برات والے دن طوفان آگیا، اتنی بارش ہوئی کہ بارات کشتیوں میں‌لے جانی پڑی، ولیمے کے کھانے میں نمک زیادہ پڑگیا۔ سارے خاندان اور دوستوں میں شرمندگی اٹھانی پڑی۔ جہیز میں مرسیڈیز کی بجائے کرولا ملی۔ ہنی مون بھی سوات میں ہی منانا پڑا۔“ اس نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور پھر مخاطب ہوا۔ ” میرے دوست کیا کیا بتاوں تمہیں۔۔۔ زندگی کیسی کیسی مشکلات میں گزری ہے“۔ یہ کہہ کر اس نے ادھ جلے سگریٹ کو پھینکا اور ایک دفعہ پھر اپنی آنکھوں میں آنے والے آنسو ریشمی رومال سے صاف کئے۔
اس کے خاموش ہونے پر میں اٹھا اور اپنے دوست کو گلے سے لگا کر دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔