ایک ادبی نشست

ناظرین! آج کے پروگرام کے ساتھ حاضر خدمت ہیں۔ ہماری آج کی نشست کے معزز مہمانان گرامی میں مشہور شاعر, کالم نگار، ڈرامہ نگار، سفرنامہ نگار جناب لام میم نون اور مشہور نقاد جناب عین غین جیم شامل ہیں۔ تو آئیے گفتگو کا آغاز کرتے ہیں، جناب لام میم نون سے۔۔۔

آج کے ادبی منظر کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟

سب سے پہلے تو میں یہ کہنا چاہوں گا کہ یہ آپ لوگوں کی خوش قسمتی ہے میں آپ کے پروگرام میں شامل ہوا ہوں! جہاں تک موجودہ ادبی صورتحال کا سوال ہے تو مجھے بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ کوئی زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔ میں نے ایک دفعہ کہا تھا کہ "دیکھتا کیا ہے میرے منہ کی طرف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قائد اعظم کا پاکستان دیکھ" ۔۔۔

(میزبان بات کاٹتا ہے) لیکن جناب یہ تو کسی اور شاعر کا شعر ہے۔۔۔

تو آپ مجھ پر سرقے کا الزام دھررہے ہیں؟ یہ شعر میں نے پہلے کہا تھا، بلکہ یہ دیکھئے (ڈائری نکال کر اس کا صفحہ کھول کر دکھاتے ہیں) 21 جون 1958 کو میں نے یہ شعر کہا تھا۔ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ کسی دوسرے شاعر کا شعر ہے؟ آپ کمال شخص ہیں۔ وہ تو نہ ہوا میں غالب کے دور میں، ورنہ پتہ پڑ جاتا غالب کے بچے کو بھی۔ ڈہائی صفحے لکھ کر شاعر بنا پھرتا ہے! (سائیڈ ٹیبل سے ایک ضخیم کتاب اٹھا کر فخریہ انداز سے میزبان کو دکھاتے ہوئے) یہ دیکھئے میرا دیوان! ساڑھے چار ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔ آج کل کے شاعر تو ایک غزل لکھ کے "ہف" جاتے ہیں۔ میں اتنی شاعری کرکے بھی تازہ دم ہوں۔

(میزبان برا سا منہ بنا کر نقاد کی جانب متوجہ ہوتا ہے) جناب عین غین صاحب! آپ کیا سمجھتے ہیں کہ موجودہ ادبی منظر نامے میں لام میم نون کی کیا اہمیت ہے؟

(کھنکھار کر گلا صاف کرتے ہیں) دیکھئے! بات اتنی سادہ نہیں ہے۔ ادب، کوئی مجرد شے نہیں ہوتی بلکہ  یہ کسی بھی قوم کی لاشعوری حسیت سے جڑا ہوتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم قوم ہیں؟ اگر ہاں ! تو اس سے ایک سوال اور پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارا اجتماعی لاشعور، ادب کو قبول کرتا ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ ادب اس کا حصہ بھی ہے یا نہیں؟ اگر ہم قوم نہیں تو پھر ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ ہم کیا ہیں؟ کیوں ہیں؟ کس لئے ہیں؟ جبکہ  ۔۔۔۔۔۔

(میزبان سوچکا ہے، جبکہ شاعر اونگھ رہا ہے اور کیمرہ مین کے خراٹے پورے سٹوڈیو میں گونج رہے ہیں، جبکہ صورتحال سے یکسر لا تعلق حضرت نقاد، دھڑادھڑ دانش کے موتی بکھیرتے جارہے ہیں)

سہراب مرزا کو خراج تحسین

کل، انجمن عاشقان ثانیہ مرزا (رجسٹرڈ) کی جنرل کونسل کے ہنگامی اجلاس میں سہراب مرزا کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ اس موقعہ پر مختلف اراکین نے خطاب کرتےہوئے سہراب مرزا کے اس اقدام کی تعریف کرتے ہوئے کہا اگر وہ یہ فیصلہ نہ کرتے تو شاید شادی کے ایک ہفتہ بعدہی ہمیں ان کے لئے خراج عقیدت کی قرارداد منظور کرنی پڑتی!

کچھ اراکین نے مرزا صاحب کے اس فیصلہ کاسہرا، بادل نخواستہ، اپنے حریف کے سر باندھتے ہوئے کہا کہ اگر چہ وہ ہمارا رقیب ہے لیکن لگتا ہے کہ اسی کے خط کی وجہ سے مرزا صاحب نے یہ فیصلہ کیا ہے جو دیر سے تو ضرور ہے لیکن درست ہے۔ دیر سے فیصلہ کرنے کی وجہ ان کی بیکری بھی ہوسکتی ہے، کیونکہ بند کھا کھا کے ان کا دماغ بند ہوچکا ہے لہذا میاں صاحب کی طرح ان کو بھی بات ذرا دیر سے ہی سمجھ میں آتی ہے!

اجلاس کے اختتام پر ثانیہ مرزا کے حصول کے لئے رقت آمیز دعا کی گئی۔ جس میں ہر رکن نے سچے دل سے دوسرے تمام ارکان کی اجتماعی ہلاکت کی دعاکی تاکہ "گلیاں ہوجان سنجیاں وچ مرزا یار پھرے" (یہاں مرزا سے مراد ثانیہ تھی سہراب نہیں!!)

جب اس خبر پر رائے لینے کے لئے جعفر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے یہ بتا کر حیران کردیا کہ انہوں نے بھی ثانیہ سے قطع تعلق کرنے کا فیصلہ کیاہے کیونکہ ان کا دل ثانیہ سے کھٹا ہوگیا ہے۔ دل کھٹاہونے کی وجہ دریافت کرنے پر انہوں نے کہا کہ ان وجوہات میں سر فہرست ثانیہ کا اگلے پانچ سال تک کھٹا کھانے سے انکار کرنا ہے!وما علینا الا البلاغ۔۔۔

سانچہ = Template

وہ پریشان اور مایوس تھا اور اس کو لگتا تھا کہ اس مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ اس کے پاس موجود نہیں۔ اس کا حافظہ کمزور تھا، وہ ایک سے زیادہ مضمون یاد نہیں رکھ سکتا تھا۔ جب بھی کوئی امتحان ہوتا، کوئی ٹیسٹ ہوتا، اگر اس کا یاد کردہ مضمون، پرچے میں نہ ہوتا تو وہ سب کے منہ دیکھتا رہتا۔ وہ پرچہ خالی دے آتا۔ اس کے استاد اس سے تنگ تھے۔ اس کے والد نے فیصلہ کرلیا کہ اس کو سکول سے اٹھالیں گے۔ اسے خراد کے کام پر ڈال دیا جائے گا۔

پھر اچانک ایک دن اس کی ملاقات چوہدری علم دین سے ہوگئی! چوہدری صاحب، ٹوانہ صاحب کے منشی اور سردوگرم چشیدہ انسان تھے۔ وہ گیارہ بجے ہی سکول سے "پھٹ" کر چھپڑ کے کنارے کیکر کے نیچے مایوس بیٹھا، اپنی ناکامیوں کا ماتم کررہاتھا کہ ادھر سے چوہدری صاحب کا گزر ہوا۔ چوہدری صاحب اسے دیکھ کر رکے اور قریب آکراس سے پریشانی کا سبب پوچھا تو وہ پھٹ پڑا۔ چوہدری صاحب نے تحمل سے اس کی پوری بپتا سنی۔ ان کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ کھیلتی رہی۔ وہ کہنے لگے کہ یہ تو کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔ پھر چوہدری صاحب نے اسے اس مسئلے کا ایسا حل بتایا جو آج تک اس لڑکے کے کام آرہا ہے!

وہ لڑکا کوئی اور نہیں بلکہ میں، جنید چوہدری تھا!

اگلے ہفتے دسمبر ٹیسٹ ہونے والے تھے۔ اس میں "ایک ہوائی سفرکا آنکھوں دیکھا حال" کا مضمون تھا، لیکن میں نے "ایک کبڈی میچ کا آنکھوں دیکھا حال" یاد کیا ہوا تھا۔ میں پریشان نہیں ہوا۔ میں نے مضمون لکھنا شروع کیا کہ میں کراچی سے پشاور جانے کے لئے جہاز میں بیٹھااور باہر جھانکا تو وہاں کبڈی کا میچ ہورہا تھا، اس کے بعد میں نے کبڈی میچ کا آنکھوں دیکھا حال من و عن لکھ ڈالا۔ ہمارے اردو کے استاد نے جب یہ مضمون پڑھا تو وہ پھڑک اٹھے۔ خوشی سے ان کا بلڈ پریشر ہائی ہوگیا۔ انہوں نے مجھے گلے سے لگایا اور میرا ماتھا چوم کے بولے، یہ بچہ ایک دن پوری دنیا کو آگے لگائے گا!

وہ دن ہے اور آج کا دن ہے۔ میں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ میں نے زندگی میں بڑی بڑی کامیابیاں اسی ایک گر سے حاصل کیں۔ موضوع کوئی بھی ہو، سیاسی ہو یا مذہبی، اقتصادی ہو یا اخلاقی، ثقافتی ہو یا ادبی،میں اسے گھیر گھار کر اپنے تیار کئے ہوئے "کبڈی میچ" کے سانچے میں ٹھوک پیٹ کرفٹ کردیتا ہوں۔ ایک عالم میری تحاریر کا دیوانہ ہے۔ اخبار والے میرے آگے پیچھے گھومتے ہیں۔ میرے ناز نخرے ایسے اٹھائے جاتے ہیں جیسے چالیس سالہ بندہ شادی کے بعد اپنی ساڑھے سولہ سالہ بیوی کے اٹھاتا ہے! لیکن میں اپنی کامیابی، شہرت، ناموری اور عزت کے لئے چوہدری علم دین کا مشکور ہوں۔ وہ نہ ہوتے تو شاید آج میں خراد پر چنگ چی کے پرزے بنا رہا ہوتا!

ویل ڈن اینڈ تھینک یو چوہدری صاحب۔۔۔۔۔

اے خانہ بر انداز چمن، کچھ تو ادھر بھی

اس مصرعہ سے غلط فہمی میں مبتلا مت ہوجائیں کہ یہ کوئی ادبی یا سیاسی تحریر ہے۔ کل میں اپنے بلاگ کے کنٹرول پینل پر گیا تو "فلموفلمی" کے زمرے نے میرا دامن حریفانہ کھینچا کہ میاں! ہم سے کیا غلطی ہوئی کہ ایک ہی پوسٹ لکھ کے ہمیں فارغ کردیا۔ تس پر میں بہت شرمندہ ہوا اور اسے یقین دلایا کہ میاں، فکر نہ کرو۔ ابھی آپ کا کچھ کرتے ہیں۔۔۔

آج کل ایک فلم کا بہت چرچا ہے، اوتار عرف ایلینز کی قوالی، اس پر ہمارے ایک دوست اظہار خیال بھی کرچکے ہیں۔ میرا ایک مشورہ ہے کہ اس فلم کو تھیٹر میں ہی جاکر دیکھیں، ٹی وی پر آپ اس سے پوری طرح لطف اندوز نہیں ہوسکتے۔ یہ ایک ایسا بصری تجربہ ہوگا جو مجھے یقین ہے اس سے پہلے آپ کو کبھی نہیں ہوا ہوگا۔ جہاں تک کہانی کا تعلق ہے تو وہ کسی آٹھ آنے والے رسالے سے لی گئی ہے اور اس پر جتنا کم لکھا جائے اتنا ہی بہتر ہوگا!

میں اصل میں جس فلم کا ذکر کرنا چاہتا تھا وہ ہے "لو آج کل"۔ میں انڈین فلموں کا کوئی اتنا بڑا پرستار نہیں ہوں۔ چند ہدایتکار ہی ایسے ہیں، جن کا نام مجھے فلم دیکھنے پر مائل کرتا ہے اور امتیاز علی یقینا ان میں شامل نہیں تھے۔ اتفاقا مجھے یہ فلم اپنے دوست سے ملی جو اس نے ڈاؤن لوڈ کی تھی، اس کی پکچر کوالٹی بھی کچھ خاص نہیں تھی۔ لیکن ایک دفعہ جب میں نے اسے دیکھنا شروع کیا تو یہ ایک ایسا تجربہ ثابت ہوا جس کی امید کم از کم مجھے ایک عام ہندوستانی رومانی فلم سے نہیں تھی!

جیسے غزل میں ایک شعر بھی کام کا نکل آئے تو غزل کا حق ادا ہوجاتا ہے، ویسے ہی کوئی ایک منظر پوری فلم پر حاوی ہوکر اسے معمولی سے غیر معمولی بنا دیتا ہے۔ فلم کے آخری مناظر میں جب ہیرو، ہیروئن کے پاس واپس آتا ہے تو مجھے کوفت ہونے لگی کہ اب وہی برسوں کے گھسے پٹے میلو ڈرامیٹک مکالمے ہوں گے اور ان کے آخر میں ہیرو، ہیروئن "گھٹ کے جپھی" ڈالیں گے اور کٹ ہو کے اگلا منظر سوئٹزر لینڈ کی وادیوں میں ہوگا جہاں وہ اختتامی گانا گاکر ہمارا پیچھا چھوڑ دیں گے!

لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا، اور جو ہوا، وہ دل کو اتنا چھولینے والا تھا کہ میں لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا۔ اگر آپ نے یہ فلم دیکھی ہے تو دوبارہ وہ منظر دیکھیں، اگر نہیں دیکھی تو میری درخواست پر دیکھیں، امید ہے کہ آپ مایوس نہیں ہوں گے۔۔۔

ضروری اعلان: فلم ختم ہونے کےبعد آج کل جو آئٹم نمبر کی بدعت پھیلی ہوئی ہے، یہ فلم بھی اس سے مستثنی نہیں ہے، میری یہ بھی درخواست ہے کہ براہ کرم اس گانے کو نہ ہی سنیں تو بہتر ہے، پوری فلم کے تاثر کی ایسی کی تیسی ہوجاتی ہے!!

جدید غلامی

ميں تھوڑی دير کے لئے ہال ميں ان اميدواروں کو ديکھنے لگا جو بڑی بے چينی کی حالت ميں اپنی باری آنے کا انتظار کر رہے تھے اور جو باری بھگتا کے باہر نکلتا تھا۔ اس سے بار بار پوچھتے تھے کہ تم سے اندر کيا پوچھا گيا ہے اور کس کس قسم کے سوال ہوئے ہيں؟ اور ان باہر بيٹھے اميدواروں کے چہروں پر تردد اور بے چينی اور اضطراب عياں تھا۔ ميں کھڑا ہو کر ان لوگوں کو ديکھتا رہا اور حيران ہوتا رہا کہ اگلے زمانے ميں تو لونڈی غلام بيچنے کے لئے منڈی ميں تاجر باہر سے لايا کرتے تھے۔ آج جب ترقی يافتہ دور ہے اور چيزيں تبديل ہو گئی ہيں، يہ نوجوان لڑکے اورلڑکياں خود اپنے آپ کو بيچنے اور غلام بنانے کے لئے يہاں تشريف لائے ہيں اور چيخيں مار مار کر اور تڑپ تڑپ کر اپنے آپ کو، اپنی ذات، وجود کو، جسم و ذہن اور روح کو فروخت کرنے آئے ہيں اور جب انٹرويو ميں ہمارے سامنے حاضر ہوتے ہيں اور کہتے ہيں، سر ميں نے يہ کمال کا کام کيا ہے، ميرے پاس يہ سرٹيفيکيٹ ہے، ميرے پرانے مالک کا جس ميں لکھا ہے کہ جناب اس سے اچھا غلام اور کوئی نہيں اور يہ لونڈی اتنے سال تک خدمت گزار رہی ہے اور ہم اس کو پورے نمبر ديتے ہيں اور اس کی کارکردگی بہت اچھی ہے اور سر اب آپ خدا کے واسطے ہميں رکھ ليں اور ہم خود کو آپ کے سامنے پيش کرتے ہيں۔ ميں سوچتا ہوں کہ کيا وقت بدل گيا؟ کيا انسان ترقی کر گيا؟ کيا آپ اور ميں اس کو ترقی کہيں گے کہ کسی معشيت کے بوجھ تلے، کسی اقتصادی وزن تلے ہم اپنے آپ کو خود بيچنے پر مجبور ہو گئے ہيں۔ اپنی اولاد کو اپنے ہاتھوں لے جا کر يہ کہتے ہيں کہ جناب اس کو رکھ لو۔ اس کو لے لو اور ہمارے ساتھ سودا کرو کہ اس کو غلامی اور اس کو لونڈی گيری کے کتنے پيسے ملتے رہيں گے۔ يہ ايک سوچ کی بات ہے اور ايک مختلف نوعيت کی سوچ کی بات ہے۔ آپ اس پر غور کيجيئے اور مجھے بالکل منع کيجيئے کہ خدا کے واسطے ايسی سوچ آئندہ ميرے آپ کے ذہن ميں نہ آيا کرے کيونکہ يہ کچھ خوشگوار سوچ نہيں ہے۔ کيا انسان اس کام کے لئے بنا ہے کہ وہ محنت و مشقت اور تردّد کرے اور پھر خود کو ايک پيکٹ ميں لپيٹ کے اس پر خوبصورت پيکنگ کر کے گوٹا لگا کے پيش کرے کہ ميں فروخت کے لئے تيار ہوں۔ يہ ايسی باتيں ہيں جو نظر کے آگے سے گزرتی رہتی ہيں اور پھر يہ خيال کرنا اور يہ سوچنا کہ انسان بہت برتر ہو گيا ہے، برتر تو وہ لوگ ہوتے ہيں جو اپنے ارد گرد کے گرے پڑے لوگوں کو سہارا دے کر اپنے ساتھ بِٹھانے کی کوشش کرتے ہيں اور وہی قوميں مضبوط اور طاقتور ہوتی ہيں جو تفريق مٹا ديتی ہيں۔ دولت، عزت، اولاد يہ سب خدا کی طرف سے عطا کردہ چيزيں ہوتی ہيں ليکن عزتِ نفس لوٹانےميں، لوگوں کو برابری عطا کرنے ميں يہ تو وہ عمل ہے جو ہمارے کرنے کا ہے اور اس سے ہم پيچھے ہٹے جاتے ہيں اور اپنی ہی ذات کو معتبر کرتے جاتے ہيں۔

(اشفاق احمد کے "زاویہ" سے ایک اقتباس)

ہزاروں ۔۔۔۔۔۔ دم نکلے!

میری بڑی خواہش تھی اور دلی تمنا تھی کہ میں شاعر بن کر چار دانگ عالم میں مشہور ہو جاتا، ہر جگہ میری شاعری کا ڈنکا بجتا اور میری شخصیت میں، نقاد، وہ خوبیاں بھی ڈھونڈ نکالتے جو میں خود غور کرکے بھی نہ ڈھونڈ سکتا۔ مجھے یورپ اور امریکہ سے مشاعرے پڑھنے کے دعوت نامے، بمعہ ٹکٹ، موصول ہوتے اور میں سال کے آٹھ مہینے اپنے پرستاروں کے ساتھ دنیا بھر میں گزارتا۔ میرے اعزاز میں شامیں منعقد کی جاتیں، جن میں میرے فن اور شخصیت پر اتنی شدید روشنی ڈالی جاتی کہ میری آنکھیں چندھیا جاتیں۔ تقاریب کے اختتام پر مجھے اپنے ساتھ ٹہرانے پر محفلوں میں دنگے ہوجاتے، خواتین میرے ایک آٹوگراف کے لئے دو دو گھنٹے انتظار کرتیں، میرے کھانے اور "پینے" کا عمدہ سے عمدہ انتظام کرنے کا مقابلہ ہوتا۔ شام ڈھلے کے بعد والی محافل میں کی جانے والی میری رطب و یابس میں سے بھی معرفت کے نکتے ڈھونڈ کر ان پر سر دھنے جاتے! لیکن وائے حسرتا!

میں شاعر بھی ذوق جیسا بننا چاہتا تھا نہ کہ چچا غالب جیسا کہ جن کی ساری زندگی بے قدری اور نارسائی کا ماتم کرنے میں گزر گئی۔ اب اگر ان کے مختصر سے دیوان پر لوگ ہزاروں صفحے تعریف کے بھی لکھ ڈالیں، لاکھوں، کروڑوں خرچ کرکے ان پر فلمیں، ڈرامے بنا ڈالیں، تو اس کا چچا کو کیا فائدہ؟ جب ضرورت تھی تو بے چارے قرض کی مے پی کر اپنی فاقہ مستی کے رنگ لانے کا انتظار کرتے کرتے دنیا سے پدھار گئے۔ جبکہ ان کے "شریک" شہ کے مصاحب بن کر ان کے سینے پر مونگ دلتے رہے۔ان میں  "دو ٹکے کی ڈومنی" کے ناز اٹھانے کی بھی سکت نہ تھی، جبکہ یار لوگ حرم کے حرم سنبھالے بیٹھے تھے!

تو بھائی! ایسی شاعری اور ایسی مشہوری مجھے قطعا نہیں چاہئے تھی۔ میں تو نونقد والے سودے کا گاہک تھا نہ کہ تیرہ ادھار والے کا۔ میں تو فیض جیسی مقبولیت اور چاہت کا دیوانہ تھا نہ کہ مجید امجد جیسی گمنامی اور بے بسی کا۔ لیکن ایک مشکل پھر درپیش ہوئی۔ شاعر ہونے کے لئے عروض کے "علم دریاؤ" کا شناور ہونا بھی ضروری تھا۔ پر میں تو اس میں غوطہ لگا کر بھی خشک ہی رہا تو دل نے سمجھایا کہ میاں صاحبزادے! تیرے بس کی نہیں یہ شاعری۔ کچھ اور کر۔ مرتا کیا نہ کرتا، کچھ الم غلم لکھنا شروع کیا۔ لیکن نثر لکھ کے مشہور ہونا تو جی بہت مشکل ہے۔ یوسفی کو دیکھ لیں، ساری عمر ہوگئی لکھتے، لکھا بھی ایسا کہ مثال مشکل ہے۔ لیکن اب جاکے ٹی وی پر آنے لگے ہیں تو لوگ کہتے ہیں کہ یار یہ بابا جو بڑی مزے کی باتیں کرتا ہے، ہے کون؟ کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا۔۔۔۔ دوسری طرف وصی شاہ صاحب ہیں، لڑکیوں کے دل کی دھڑکن (کچھ لڑکوں کے بھی دل کی دھڑکن)، ٹی وی سکرین پر ہمہ وقت موجود، کنگن گھماتے گھماتے شہرت کی سیڑھیاں ایسی چڑھے کہ ساتویں آسمان پر پہنچ گئے۔ اگرچہ ان کا کنگن بھی کسی کے بُندے کو ڈھال کے بنایا گیا تھا!

اب سوچتا ہوں کہ نثر لکھ کے تو بہت دیر میں شہرت ملے گی اور اس کنگھی کی طرح ہوگی جو گنجے ہونے کےبعد ملتی ہے یا پھر اس دنیا سے کنارہ کرنے کے بعد لوگوں کو میرے ادب پاروں کی اہمیت کا احساس ہوا تو بھلا مجھے اس کا کیا فائدہ ہوگا؟ اس لئے اپنے مداحوں سے گزارش ہے کہ جو کرنا ہے ابھی کرلیں۔ میری اعزاز میں تقاریب منعقد کرنی ہیں، قیمتی تحائف نذر کرنے ہیں، ڈالر، یورو، درہم سے بھرے لفافے دینے ہیں، امریکہ ، یورپ کے ادبی دوروں پر بلوانا ہے اور اس کے بدلے میں میری تحاریر میں اپنی تعریفیں لکھوانی ہیں، تو جلدی کریں۔۔۔۔

زندگی،گھڑی پل کا کھیل ہے۔۔۔۔!!

پسران بوم

اس وقت ہمارے ساتھ ٹیلی فون لائن پر موجود ہیں، ٹی ٹی آباد کے ناظم جناب مرتضی جلال، جن کا تعلق ایم بی ایم (میرا بھائی موومنٹ) سے ہے۔

"السلام علیکم! مرتضی صاحب۔۔۔"

"وعلیکم السلام"۔۔۔

ہم آپ سے پوچھنا چاہیں گے کہ سوختن بازار میں لگنے والی آگ اتنی جلدی کیسے بجھا لی گئی؟

دیکھئے۔۔۔ مرتضی جلال جب کام کرتا ہے تو دن رات کی پرواہ نہیں کرتا، مرتضی جلال پچھلے ایک سو چوالیس گھنٹوں، ون ہنڈرڈ اینڈ فارٹی فور آورز، اٹس اے لاٹس آف ٹایم یو نو! ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ مرتضی جلال وہاں خود موجود رہا۔ فائر فائٹرز کی ہیلپ کرنے کے لئے، ان کو گائیڈ کرنے کے لئے۔ پانی ختم ہوجاتا تھا تو میں ان کو ہائیڈروجن اور آکسیجن مکس کرکے پانی بنا کے دیتا تھا۔ آپ لائیں کوئی ایسی مثال، فرام دی ہسٹری آف مین کائنڈ۔۔۔ آئی ایم شیور، یو کانٹ۔۔۔۔۔

لیکن کچھ تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ آپ اتنے عرصے سے نظامت کے فرائض انجام دے رہے ہیں، لیکن پھر بھی آپ کوئی ایسا نظام کیوں نہیں بنا سکے جس میں ناظم کو بذات خود موجود نہ رہنا پڑے اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں میں پانی بھی موجود رہے؟

دیکھئےےےےے۔۔۔ تنقید کرنا بہت آسان ہے۔ اینی ون کین کریٹی سائز۔۔۔ ان الو کے پٹھوں کو کہیں، خود آکے ذرا کام کرکے دیکھیں ۔۔۔ ان کی ۔۔۔۔ ٹوں ٹوں ٹوں۔۔۔ یہ سمجھتے کیا ہیں خود کو۔۔۔ یہ سارے ۔۔۔ ٹوں ٹوں ٹوں۔۔۔۔ ہیں۔۔۔ اس سے پہلے ٹی ٹی آباد کے ناظمین کا ریکارڈ اٹھا کے دیکھیں۔۔۔ کسی ۔۔۔ ٹوں ٹوں ٹوں۔۔۔ نے کوئی کام کیا ہو تو مجھے بتائیں۔۔۔

لیکن مرتضی صاحب، ایک ٹرم کے سوا تو آپ کی پارٹی کی ہی سربراہی رہی ہے۔ انجنیئر مقصود جبار، مہتاب شیخ وغیرہ۔۔۔۔ اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ اور صبغت اللہ خاں نے کام کرنے کا کلچر یہاں متعارف کروایا تھا، اس تاثر پر آپ کی رائے؟

یہ صبغت اللہ اور اس کی پارٹی،دہشت گرد ہیں۔ دے آر سمپلی ٹیررسٹ۔ یو گو وزٹ سی آئی اے ویب سائٹ۔ یو ول فائنڈ آؤٹ ہاؤ ڈینجرس دے آر۔۔۔ ابھی کل ہی مادام ایمبیسڈر مجھ سے ملی ہیں۔ شی آلسو ٹولڈ می دیٹ دیز پیپل آر ویری ڈینجرس۔۔۔

(قطع کلامی کرتے ہوئے) لیکن مرتضی صاحب میرا سوال تو کچھ اور تھا۔۔۔

آپ مجھے بات نہیں کرنے دیتے، میں جب بول رہا ہوں تو آپ کیوں بیچ میں اینٹرپٹ کرتے ہیں۔۔۔ ہماری آواز کو کیوں دبایا جاتا ہے۔ اپنی آنکھوں سے تعصب کی پٹی اتاریں۔ ہمیں ہمارا حق دیں۔ وی وانٹ آور رائٹس۔۔۔۔

آپ پر چند لوگ یہ بھی الزام لگاتے ہیں کہ آپ غصہ بہت کرتے ہیں اور گالیاں بھی دیتے ہیں؟

(چلاتے ہوئے) کون ۔۔۔ٹوں ٹوں ٹوں ٹوں۔۔۔۔ کہتا ہے کہ میں غصے کا تیز ہوں۔۔۔ کس ۔۔۔۔ ٹوں ٹوں ٹوں ۔۔۔۔ کو گالیاں دی ہیں میں نے؟؟ ٹیل می ہو دیز ۔۔۔۔۔۔ٹوں ٹوں ٹوں۔۔۔ آر۔۔۔ آئی ول سی دم ۔۔۔۔

پچھلے چند دنوں سے ٹی ٹی آباد میں ٹارگٹ کلنگ کی وارداتیں زور پکڑ چکی ہیں، تجزیہ نگار ان کو اتحادی جماعتوں کی آپسی لڑائی قرار دے رہے ہیں، آپ اس پر کیا کہتے ہیں؟

دیکھئے، وی ڈو ناٹ بیلیو ان ٹارگٹ کلنگ، کیونکہ ٹارگٹ تو خطا بھی ہوسکتا ہے۔ وی بیلیو ان سلیکٹڈ کلنگ۔ اس میں غلطی کی گنجائش نہیں رہتی اور بے گناہ لوگ جان سے نہیں جاتے۔۔۔۔۔

آپ کا بہت بہت شکریہ مرتضی جلال صاحب ۔۔۔۔

یہ تھے مرتضی جلال ، ٹی ٹی آباد کے ناظم جو شہر کی تازہ ترین صورتحال بیان کررہے تھے!!!!!!

من چلے کا سودا ۔ ایک اقتباس

سراج: میں تو کہتا ہوں کہ اس دنیا میں کوئی اصلی آدمی، کوئی اصلی رہبر، اصلی ہادی ہے ہی نہیں۔

ارشاد: آپ اپنی طلب درست کرلیجئے، اصل آدمی مل جائے گا۔ خود بخود آجائے گا آپ کے پاس۔۔۔ کرایہ خرچ کرکے، ٹکٹ خرید کے!

سراج: چلئے پھر ٹھیک ہے ارشاد صاحب میں دنیا سے منہ موڑتا ہوں آج سے، اسی لمحے سے ۔۔۔ دکان چھوڑتا ہوں، گھر میں نے چھوڑا ہے۔ آپ مجھے اپنا غلام بنا لیں، اپنا خلیفہ بنا لیں، یہاں ڈیرا چلائیں۔

ارشاد: مبتدی کے لیے ضروری ہے کہ وہ رزق حلال کمائے اور اپنی اور اپنے گھر والوں کی کفالت کرے۔ آگے چل کر وہ کام تو اسی طرح سے کرتا رہے گا لیکن آہستہ آہستہ اس سے علائق دنیا جدا ہوتے جائیں گے ۔۔۔ فکر اہل و عیال، اندیشہ مال و زر، حب جاہ و تمکنت سے چھٹکارا ہونے لگے گا۔ جب تعلق اور جگہ ہوجائے گا تو یہ کام فروعی رہ جائیں گے اور فروعی کاموں کا عمر بھر کوئی بوجھ نہیں ہوتا۔

سراج: اصل میں بات یہ ہے ارشاد صاحب کہ میں کرامت کی تلاش میں آپ کے پاس آیا تھا اور عامر صاحب نے مجھے یہی امپریشن دیا تھا۔ لیکن افسوس مجھے آپ سے وہ حاصل نہیں ہوا جو میری آرزو تھی۔ آپ تو مجھے پھر میری دلدل میں واپس بھیج رہے ہیں، گہری اور گوڈے گوڈے کھوبو دلدل میں!

ارشاد: (حیرانی، خوشدلی اور خوش اسلوبی سے مسکراتے ہوئے اسے دیکھتا ہے)

سراج: یہ عامر صاحب بھی بڑے بھولے آدمی ہیں۔ کہتے تھے کہ سارے جالے اتر جائیں گے، بات شیشہ ہوجائے گی ارشاد صاحب سے مل کر۔ یہاں تو سواہ بھی نہیں!

ارشاد: میل جول رکھیں سراج صاحب، آتے جاتے رہیں۔ کیا پتہ آپ سے ہمیں کچھ فائدہ ہی پہنچ جائے ۔۔۔ کوئی راہ ہی سیدھی ہوجائے ہماری۔

سراج: خدا نہ کرے میں اب یہاں قدم رکھوں یا پھر کبھی آؤں اس طرف۔ وہ تو قصہ ہی ختم ہوگیا۔ میری تو خواہش تھی کہ آپ مجھے یہاں رکھتے، اپنا خلیفہ بناتے۔ ہم یہ ڈیرا چلاتے، لوگوں کی مدد کرتے۔ لیکن آپ تو مجھے رزق حلال کمانے کو کہہ رہے ہیں۔ حد ہوگئی! میں دنیا چھوڑنی چاہ رہا ہوں، آپ وہی پکڑا رہے ہیں۔

ارشاد: میں آپ کو کلہاڑی اور رسی سے زیادہ اور کیا دے سکتا ہوں سراج صاحب!

سراج: (غصے سے) او جی میں نے کیا کرنی ہے کلہاڑی اور رسی! سر میں مارنی ہے؟

(غصے کے ساتھ اٹھتا ہے اور "ہونہہ" کہہ کر باہر نکل جاتا ہے)۔

ایک انتخابی تقریر

میرے بزرگو، دوستو، ساتھیو، تائیو، چاچئیو، پھپھڑو، خالوؤ ۔۔۔ (یہاں ایک وقفہ لے کر لمبا سانس لیں) السلام علیکم۔ (مجمع کے وعلیکم السلام کہنے کا انتظار کریں، اگر مجمع چپ رہے تو ان کو خود ہی گناہ ہوگا!) میں آج آپ کی خدمت میں پھر حاضر ہوا ہوں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ منظر نامہ کے بہترین نئے بلاگ کے لئے ووٹنگ کی کل آخری تاریخ ہے۔ اس تاریخی موقع پر میں آپ کی خدمت میں چند ہوش ربا انکشافات کے ساتھ حاضر ہوا ہوں۔ (یہاں ایک چھوٹا سا وقفہ لے کر گلے کا والیم فل کھول دیں) میرے بھائیو، آپ جانتے ہیں کہ یہ (سینے پر ہاتھ مار کر) بک تو سکتاہے، جھک بھی سکتا ہے، لیکن کٹ نہیں سکتا! میری ہی قربانیوں سے آج بلاگستان کا نام پوری دنیا میں روشن ہے۔ (یہاں لہجے میں تھوڑی سی رقت لائیں) پوسٹیں لکھ لکھ کر میری انگلیاں سوا سوا انچ گھس چکی ہیں۔ مسلسل جاگنے کے سبب میرا منہ, فٹے منہ ہوچکا ہے۔ لیکن میرے دوستو! مجھے اپنی کوئی پرواہ نہیں، میں اس بلاگستان کے لئے اپنی جان بھی قربان کرسکتا ہوں (اپنی شرٹ کے بٹن جھٹکے سے توڑ ڈالیں، اگر تالیاں بجیں اور نعرے لگنے لگیں تو مکے لہرانا شروع کردیں ورنہ ٹھنڈ رکھیں!)۔

میرے مقابلے میں جن بلاگرز نے الیکشن لڑنے کی ٹھانی ہے، میں نہایت احترام سے ان کے کرتوت بھی آپ کے سامنے لانا چاہتاہوں (لہجے میں پراسراریت سی پیدا کریں)۔ ایک بی بی ہیں، عنیقہ ناز۔ آج میں آپ کو بتادینا چاہتاہوں کہ یہ بی بی اپنی تحاریر مجھ سے ٹھیکے پر لکھواتی تھیں اور فی تحریر پونے تیرہ روپے دیتی تھیں۔ میں بھی زیادہ پیسے کمانے کی چکر میں دھڑا دھڑ ان کو تحاریر لکھ کر دیتا رہا ، اسی لئے ہر روز دو دو پوسٹیں ان کے بلاگ پر لگتی رہی ہیں (داد طلب انداز سے مجمع کی طرف دیکھیں)۔ جب میں نے ان سے کہا کہ حق محنت میں کچھ اضافہ کریں تو انہوں نے مجھے لندن سے دھمکی آمیز فون کروائے (مظلومیت طاری کریں)۔ میرے چھوٹے چھوٹے دوست ہیں(دھیان رکھیں کہیں چھوٹے چھوٹے بچے نہ کہہ دیں) لیکن میں ڈرا نہیں۔ اب انہوں نے میرے خلاف ایک اور سازش کی ہے (ایک کاغذ لہرائیں) یہ دیکھئے رابطہ کمیٹی کا سرکلر، جس میں کارکنان کو کہا گیا ہے کہ ایک ایک بندہ ۲۰ ای میل ایڈریس بنائے اور عنیقہ ناز کو ووٹ دے۔ لیکن میں بتا دینا چاہتا ہوں، اگر اس الیکشن میں، میرا بلاگ کامیاب نہ ہوا تو ہم نتائج تسلیم نہیں کریں گے۔ اصلی جمہوریت وہی ہوگی جس میں ہم کامیاب ہوں (والیم پھر فل کردیں)۔

دوسرے بلاگر خرم بھٹی صاحب ہیں۔ ان کے بارے میں تو ہر بات اظہر من الشمس ہے۔ ساتھیو (لہجے میں طنزیہ انداز لائیں) جو امریکہ میں رہتا ہو اور وہیں کام بھی کرے تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ وہ کس لابی کے زیر اثر ہوگا؟؟؟؟ ہیں جی۔۔۔۔ یہ کالا پانی اور اے بی سی ڈی ایف وغیرہ جتنی بھی ایجنسیاں ہیں، انہی صاحب کی مخبری پر میرے خلاف پاکستان میں لائی گئی ہیں، تاکہ میرا بلاگ ہیک کرکے اس پر اعجاز حشمت خان، نذیر ڈھوکی، ظہیر اختر بیدری اور خوشنود علی خان وغیرہ کے کالم چھاپے جائیں، طالبان کا نام تو ایک سموک سکرین ہے، ایک دھوکہ ہے، ایک فراڈ ہے۔ اصل میں تو یہ لوگ اس الیکشن کو انجینئرڈ کرنے آئے ہیں۔ لیکن میں ایک بات واضح کردینا چاہتا ہوں، جتنی چاہے سازشیں کرو، جعلی ووٹ بناؤ، دھمکیاں دلواؤ، چاہے میرا بلاگ ہیک ہوجائے لیکن آپ کا یہ بھائی (چھاتی پر ہاتھ ماریں) میدان نہیں چھوڑے گا۔ لڑے گا، لڑے گا، لڑے گا۔۔۔۔ (نعرے لگاتے ہوئے سٹیج سے اتریں) جیوے جیوے بلاگستان ، جیوے جیوے بلاگستان، جیوے جیوے ۔۔۔۔۔

(پیروڈی نما مزاح لکھنے کی کوشش کی گئی ہے، اسے اسی جذبے سے پڑھا جائے، کسی کی ہتک, واللہ, مقصود نہیں!!!)

سینکڑا!

اس تصویر ( اشتہار بھی کہہ سکتے ہیں) کو دیکھ کر حیرت میں مبتلا نہ ہوں! یہ میں نے سوویں پوسٹ کی خوشی میں اپنے آپ کو تحفہ دیا ہے۔ جی ہاں یہ سوویں پوسٹ ہی ہے نصف جس کے پچاس اور چوتھائی پچیس ہوتے ہیں۔ میں خاص طور پر اپنا اور عمومی طور پر اپنے ساتھی بلاگرز اور قارئین کا شکر گزار ہوں، اپنا اس لئے کہ میں لکھنا ہی بند کردیتا تو سوویں پوسٹ کی نوبت کیسے آتی۔۔۔ ہیں جی!اور دوستوں کا اس لئے کہ انہوں نے مجھے دس مہینے تک برداشت کیا اور میری رطب ویابس کی حوصلہ افزائی بھی کرتے رہے، جس سے شہ پا کر میں کھل کھیلتا رہا۔

اگر میں کہوں کہ پچھلے دس مہینے میں، میں نے بہت کچھ سیکھا، نئے دوست بنائے، بہت سے معاملات کو نئے زاویے سے دیکھا، تو یہ غلط نہ ہوگا۔ یہ بلاگ جو بغیر کسی منصوبے اور اونچی توقعات کے شروع کیا گیا تھا، آج منظر نامہ کے بہترین نئے بلاگ کے زمرے میں نامزد ہے۔ اسی سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ فی زمانہ قحط الرجال کی صورتحال کتنی تشویش ناک ہے!

میں ایک دفعہ پھر اپنے دوستوں کا دل کی "اونچائیوں" سے شکر گزار ہوں کہ جن کی حوصلہ افزائی کے پٹرول کے بغیر اس بلاگ کی گاڑی بہت پہلے ہی بند ہو چکی ہوتی! جئے بلاگستان۔۔۔۔
(یہ انکساری بالکل مصنوعی ہے، ورنہ میرے خیال میں، مجھ سے اچھا لکھاری اس دنیائے فانی میں نہ آیا ہے اور نہ ہی آنے کی امید ہے۔ وما علینا الا البلاغ)

دودھ کا جلا

کسی بھی اچھی خبر، امید افزا بات یا خوشگوار واقعہ سے بدترین توقعات وابستہ کرلینا یا ہولناک نتائج برآمد کرلینا میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے! نجانے کیا مسئلہ ہے کہ میں ہر چیز کو شک کی نظر سے دیکھتا ہوں۔ مجھ سے کوئی خوش اخلاقی سے ملے تو میرے دل میں خیال آتا ہے کہ یقینا اسے مجھ سے کوئی کام ہے یا اس کے دل میں تو میرے خلاف بڑے منصوبے ہیں، یہ خوش اخلاقی تو ایک دھوکہ اور منافقت ہے۔ پکا یاد نہیں کہ میری یہ حالت کب سے ہے، لیکن جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے شاید اس کی ابتداء تب ہوئی تھی، جب میرے ہم جماعت اور بہت پیارے دوست کے پروفیسر والد نے دسمبر ٹیسٹ کے نتیجے میں ردوبدل کروایا اور میں جو کلاس میں اول آرہا تھا، اسے دوسری بھی نہیں بلکہ تیسری پوزیشن پر دھکیل دیا گیا!

تب مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آئی تھی کہ ایسا انہوں نے کیوں کیا، ویسے سمجھ تو اب بھی نہیں آئی! کالج سے فراغت کے بعد عملی زندگی میں کودا تو پتہ چلا کہ جو کچھ میں نے بچپن سے لے کر آج تک پڑھا تھا، اسے تو میں استعمال ہی نہیں کرسکتا۔ وہ کتابیں اور اساتذہ کی باتیں تو صرف امتحان میں کامیاب ہونے کے لئے ہوتی ہیں۔ عملی زندگی میں اس کا اطلاق کرنے والوں کو "احمق" کے نام سے لکھا اور پکارا جاتا ہے!

ہوش سنبھالنے کے بعد پہلی دفعہ انتخابات کے میلے میں بڑے بڑے رہنما دیکھے اور ان کے حسین و رنگین وعدے سنے۔ تب میں نے سوچا کہ اب تو میری اور اس ملک کی قسمت بدلے ہی بدلے! لیکن نہ قسمت بدلی نہ دن۔ پھر ایک فوجی وردی میں ملبوس صاف گو سا شخص ٹیلی وژن پر نمودار ہوا اور اس نے بتایا کہ آج تک جو ہوا ہے، اسے بھول جاؤ۔ میں وہ تمام غلطیاں درست کردوں گا جو آج تک ہوئی ہیں۔ میرے دل نے کہا کہ لے بھائی! تیری اور اس ملک کی سنی گئی۔ اب تو زندگی سے لطف اندوز ہونے کی تیاری پکڑ! اللہ نے خیر کردی ہے۔ اس کے بعد کی کہانی کہنے کا حوصلہ مجھ میں نہیں!

اب کوئی اخباری کالم یا خبر یا بیان میں یاکسی ٹی وی چینل کے (لوز) ٹاک شو میں این ایف سی ایوارڈ پر داد کے ڈونگرے برسائے یا عدلیہ کے ذریعے بے رحم احتساب کےخواب دکھا کرمجھے بے وقوف بنانے کی کوشش کرے تو بھائی سن لو! میں اور بے وقوف بننے کے لئے تیار نہیں!

ڈائجسٹ، جگت اور ڈاکٹر اقبال!

"اس کے اندر کیا ہے؟" اے ایس ایف کے اہلکار نے سفری بیگ سے ایک شاپنگ بیگ برآمد کرتے ہوئے استفسار کیا۔ میں جو بورڈنگ شروع ہونے کا اعلان ہوتے ہی فورا اندر گھس گیا تھا تاکہ مجھے اس تکلیف کا اور سامنا نہ کرنا پڑے جو مجھے اپنے والد کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر ہر سال ہوتی ہے! اب پچھتا رہا تھا کہ آدھ گھنٹہ اور انتظار کرلیتا اور یہ وقت باہر گزار لیتا تاکہ تازہ دم اہلکار آدھ پون گھنٹے کے بعد ذرا تھک بھی جاتے اور اکتاہٹ کا شکار بھی ہو جاتے۔ بہرحال میں نے جواب دیا کہ جی یہ فریز کئے ہوئے کھانے ہیں۔ اس پر "فرض شناس" اور "مستعد" اہلکار نے اپنی عقابی نظریں مجھ پر جماتے ہوئے گھرکا، "ہمیں کیا پتہ اس کے اندر آپ نے کیا بھرا ہوا ہے؟" اس کے ساتھ ہی اس نے کہیں سے برف توڑنے والا ایک سوا برآمد کیا اور اپنے توندیل باس سے مخاطب ہوا کہ "سر! اسے تو چیک کرنا پڑے گا"۔ اسی دوران اس کے باس نے دوسرے بیگ کو بھی کھول لیا۔

اندر بھرے ڈائجسٹوں کے انبار کو دیکھ کر اس کے چہرے پر تمسخر آمیز مسکراہٹ آگئی۔ "کیوں جی دبئی چ تسی ایہو کم کرن جاندے او، ایہہ کم تے تسی ایتھے وی کرسکدے او"۔ باس کے اندر چھپے فیصل آباد نے انگڑائی لیتے ہوئے فقرہ اچھالا۔ ایک تو واپس جانے کی ٹینشن، پھر یہ سارا فضیحتا اوراوپر سے ڈاکٹر اقبال کی یہ نصیحت بھی کہ دل کے ساتھ عقل کا چوکیدار ضرور رکھو لیکن کبھی کبھار دل کو دل پشوری بھی کرلینے دیا کرو، ان سارے عوامل نے مل جل کر ایسی کیفیت پیدا کی جو میرے دو ہفتے کے تیار راشن کو ان اہلکاروں کے شکم میں لے جانے پر منتج ہوسکتی تھی!

اس مبینہ نتیجے کے اندوہناک اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے چہرے پرمسکینی طاری کی اوران کی جگت پر داد آمیز ہنسی نذر کرتے ہوئےدل ہی دل میں ان کو وہ کہا جو میں اصل میں کہنا چاہتا تھا! باس کو اپنی جگت کی قدرافزائی اس قدر بھائی کہ انہوں نے سر کی اثباتی جنبش سے مجھے سامان لے جانے کا پروانہ عطا کردیا۔ اور میں یہ سوچتے ہوئے بورڈنگ کاؤنٹر کی طرف چل پڑا کہ ہاں یار! واقعی اس طرح تو میں "کچھ" بھی لے جاسکتا ہوں! چلو کوئی نہیں، اگلے سال سہی!!