یعنی کہ میں

میں جب مشرقی یورپ اور انٹارکٹیکا کے سفر سے واپس آیا تو سفرنامہ لکھنے کا سودا میرے سر میں سمایا۔ میں نے ستّر صفحات کا مختصر سا سفر نامہ لکھا اور ٹائم کو بھیج دیا۔ میری تحریر وہ پہلی اور آخری اردو تحریر تھی جو اس میں چھپی۔ پہلی چار سو اقساط تو انہوں نے بنا کسی قطع و برید کے چھاپ دیں جبکہ آخری تین سو سینتالیس اقساط میں انہوں نے علمی خیانت کا ثبوت دیتے ہوئے بنا کسی اطلاع کے بدترین قسم کی قطع و بریدکی۔
مثلا میں نے اپنا سارا سفر اپنے ذاتی جیٹ میں کیاتھا، جو کھیت، ندی، سڑک الغرض ہرجگہ سے ٹیک آف بھی کرسکتا ہے اور اتر بھی سکتا ہے۔ لیکن ٹائم کے ادارتی عملے نے لکھ دیا کہ میں نے معمولی سے ہیلی کاپٹر میں یہ سارا سفر کیا۔ اس وقت میں نے سوچا کہ میرے سفر نامے کے قارئین کیا سوچتے ہوں گےاور میرا تاثر ان کے ذہن میں کیسا بنا ہوگا؟ اس کے علاوہ بھی بہت سی زبان و بیان کی اغلاط تھیں جو کہ شروع کی اقساط میں نہ تھیں۔ اس سے کوئی بھی یہ تاثر بھی لے سکتا ہے کہ میں نے شروع کی اقساط کسی اور سے لکھوائی ہیں۔
ان وجوہات کی بنا پر میں نے اپنے اگلے سفرنامے کو کسی بھی جریدے میں نہ چھپوانے کا تہیہ کیا۔ یہ سفر چوہڑ کانے، اگوکی، سکھیکی، کانا کاچھا وغیرہ کے تھے۔ انہی دنوں میرے ایک جاننے والے نے اس سفرنامے کے مسودے کو دیکھا اور کہا کہ اگر آپ اس کو کہیں اور چھپوانا نہیں چاہتے تو اپنا بلاگ بنالیں۔ تب تک مجھے اردو بلاگنگ کا پتہ نہیں تھا۔ ان کے اس مشورے پر میں نے اردو بلاگنگ کے کی ورڈ سے گوگل پر سرچ کیا تو پتہ چلا کہ اردو میں بھی بلاگنگ ہورہی ہے۔ لیکن مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ نہایت غیر معیاری، ناقص، گھٹیا ہے اور اردو بلاگرز میں اکثریت وچکارلے بازو کے نظریات سے تعلق رکھتےہیں۔
تب میں نے سوچا کہ میں یہاں مثبت اور انقلابی تبدیلی لاسکتاہوں۔ بس یہی سوچ کر میں نے بلاگنگ شروع کی۔

مزید قاعدہ

ہمیں احساس ہے کہ یہ قاعدہ اسی طرح آرہا ہے، جیسے اچھے دن آتے ہیں۔۔۔ یعنی ہولے ہولے، جبکہ ایکدم اور یکایک تو حادثہ ہی ہوتا ہے۔ حادثے سے یاد آیا کہ یہ خوشگوار بھی ہوتے ہیں، جیسے نظروں (نظریوں کا نہیں) کا تصادم، دلوں کا ٹکراؤ وغیرہ وغیرہ۔۔ بہرحال حادثے ہمارا موضوع نہیں ہیں۔ ہمارا موضوع ہے وچکارلا قاعدہ، تو چلیے مزید قاعدہ پڑھتے ہیں۔

ر ۔۔۔ رشتہ دار: یہ کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کے بارے کوئی دل جلا ہم سے پہلے ہی کہہ گیا ہے کہ ۔۔۔ ہوئے تم ”دوست“ جس کے، اس کا دشمن آسماں کیوں ہو۔۔ انہیں آپ اپنی ہر خوشی کے موقع پر بسورتے اور دکھ کے موقع پر کھلکھلاتے دیکھ سکتے ہیں۔ ان کے بارے جو بات سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے کہ جیتے جی یہ آپ کا پیچھا نہیں چھوڑتے! ایک بات یہ بھی ذہن میں رہے کہ اگر آپ کے رشتے دار ہیں تو آپ بھی کسی کے رشتے دار ہیں۔

ڑ۔۔۔ یہ لفظ صرف اور صرف اندرون لاہور بسنے والے باشندوں کی سہولت کے لیے اردو میں شامل کیا گیا تھا وگرنہ اس کی چنداں ضرورت نہ تھی۔ اندرون بھاٹی، جہانگیر بدر، جہانگیڑ بدڑ ہوجاتا ہے، کرارے، کڑاڑے ہوجاتا ہے، لڑائی، لرائی ہوجاتی ہے۔۔۔ علی ہذا القیاس۔۔۔

ز۔۔۔ زُہد: پرانے وقتوں میں لوگ اس سے باطنی صفائی کا کام لیا کرتے تھے اور اس پر عمل کرنےو الے کو زاہد کہتے تھے۔ آج کل کے زاہد، جدید زُہد سے دوسروں کی دھلائی کا کام لیتے ہیں۔

ژ۔۔۔ یہ لفظ صرف ہمیں شرمندہ کرنے کے لیے حروف تہجی میں داخل کیا گیا ہے۔ کچی کے قاعدے میں ژ سے ژالہ باری پڑھا تھا۔ قسم لے لیں جو آج تک ژ سے شروع ہونے والا کوئی دوسرا لفظ سنا یا پڑھا ہو، کانسپریسی پکوڑوں سے لگاؤ ہمیں یہ بات سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ دور قدیم میں ہی ہمارا کوئی حاسد پیدا ہوچکا تھا جو کسی کالے یا نیلے جادو کے زور سے یہ معلوم کرچکا تھا کہ ہم اوائل شباب میں اردو کا ایک وچکارلا قاعدہ لکھیں گے، لہذا اس نے بوجہ حسد و دشمنی یہ حرف تہجی، اردو حروف تہجی میں شامل کروادیا۔ تاکہ ہم پورے بلاگستان کے سامنے شرمندہ ہوں اور اس کا دل اس زمانی بُعد کے باوجود ٹھنڈا ہو۔ لیکن شاید اس کا طلسمی آئینہ اسے یہ بات بتانا یا دکھانا بھول گیا تھا کہ۔۔۔۔ ہم نہایت ڈھیٹ ہیں۔۔۔ ہیں جی۔۔۔۔ اور حاسد دیرینہ کے لیے ہمارا پیغام ہے کہ ۔۔۔ ہور چُوپو۔۔۔

س۔۔۔ سیب: زمانہ قدیم کے حکماء و اطباء کہا کرتے تھے کہ ایک سیب روزانہ کھانے سے بیماریاں دور رہتی ہیں۔ آج کل ریڑھی والے سے سیب کے دام پوچھے جائیں تو سمجھ میں نہیں آتا کہ اس نے ایک کیلو کے دام بتائے ہیں یا ریڑھی پر پڑے سارے سیبوں کے۔ مزید استفسار پر ریڑھی والا، آپ کو ایسی نظروں سے دیکھتا ہے، جیسے مل اونر کی بیٹی کا رشتہ مانگنے والے کلرک کو مل اونر دیکھتا ہے۔

ش ۔۔۔ شاعر: ان حضرات کا پول انہی کے ایک بھائی بند نے ایسے کھولا ہے کہ ۔۔ پاپوش میں لگادی، کرن آفتاب کی ۔۔۔ جو بات کی، خدا کی قسم لاجواب کی۔ شاعری، فنون لطیفہ کی اماں جان کہی جاتی ہے۔ جبکہ ہمارے خیال میں تو شاعری، سائنس اور اس میں بھی ریاضی اور فزکس کی مشترکہ شاخ ہے۔ جس میں وزن پورا کرتے کرتے بندے کا وزن کم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ شاعر حضرات کو رکشہ ، رشتہ اور ملازمت بڑی تگ ودو کے بعد ملتے ہیں۔ جن کو پھر بھی نہ ملیں، وہ مزید شاعر ہوجاتے ہیں۔

ص۔۔۔ صراحی: خواتین کے رسالوں میں صراحی دار گردنوں کا اتنا ذکر ہوتا ہے کہ یہ کہانیاں، کمہاروں کی لکھی لگتی ہیں۔ صراحی کی گردن تک تو بات قابل فہم ہے لیکن ہم یہ سمجھنے سے ہمیشہ قاصر رہے کہ اس کے نچلے حصے سے مصنف حضرات کی کیا دشمنی ہے کہ اس سے کسی کو تشبیہ نہیں دیتے؟ جبکہ حضرات و خواتین کی اکثریت تیس کے بعد صراحی جیسی ہی نظر آنے لگتی ہے۔ صراحی زیادہ تر مغل آرٹ کے فن پاروں میں نظر آتی ہے، جہاں سٹارپلس کے ڈراموں کی ساڑھیوں سے بنے ہوئے لباس پہنے ایک عجیب الخلقت شخص، صراحی سامنے رکھے، عورت نما چیزوں کو گھورتا پایا جاتا ہے۔

کرارے

میری رائے میں تو فلموں کی صرف دو اقسام ہوتی ہیں۔ اچھی اور بری! باقی صرف تفصیل ہوتی ہے کہ لڑائی مارکٹائی، پیار محبت، سنسنی وغیرہ وغیرہ کس تناسب سے شامل ہیں۔ فلموں کی ایک تیسری اور نادر قسم ہوتی ہے، کراری فلم۔ جیسے لڈو پیٹھیاں والے، گول گپے، تیز مصالحے والے آلو چھولے، املی وغیرہ، جس سے سوائے چٹخارے کے کچھ حاصل ہونے کی امید نہیں ہوتی۔ جس فلم بارے، آپ اب پڑھیں گے، وہ اسی نادر قسم سے تعلق رکھتی ہے۔

گائے رچی کے بارے، پہلے پہل میں صرف اتنا جانتا تھا کہ اس نے میڈونا سے شادی کرنے کا ”کارنامہ“ انجام دیا ہے۔ اس حرکت سے میرے ذہن میں اس کا کوئی اچھاتاثر نہیں بنا تھا۔ لیکن اتفاق سے ایک دن کسی چینل پر ‘سنیچ’ کے کچھ مناظر دیکھے اور فلم میکنگ کا یہ انداز، مجھے نیا، اچھوتا اور مزے دار لگا۔اس پر میں نے اس کی تازہ ترین (اس وقت کے حساب سے) فلم بارے پڑھا تو مجھے روک این رولا کاپتہ چلا۔

فلم کی ہدایتکاری اور مصنفی کی ذمہ داریاں انہی حضرت نے انجام دی ہیں۔ کہانی کا تانا بانا لندن کی رئیل اسٹیٹ مافیا کے گرد بنا گیا ہے اور اپنی سابقہ فلموں کی طرح اس فلم میں بھی گائے رچی کے تمام کردار، جرم کی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ مافیا ڈان سے لے کر معمولی اچکوں تک ہر قسم اور نسل کا جرائم پیشہ کردار آپ کو نظر آئے گا۔ فلم کا آغاز پیچیدہ اور ذرا سست ہے۔ لیکن پلاٹ کے مرکزی نکات اور کرداروں کے تعارف کے بعد جب فلم رفتار پکڑتی ہے تو دیکھنے والے کو بہا کے لے جاتی ہے۔

گائے رچی، اس فلم میں آپ کو ایسے کرداروں اور ماحول سے متعارف کرواتے ہیں، جو ہالی ووڈ کی فلموں کے عادی ناظرین کے لیے ایک انوکھا پن لئے ہوئے ہے۔ برطانوی پس منظر کی وجہ فلم میں ایک انفرادیت ہے (یا صرف مجھے محسوس ہوئی)۔ اس فلم کی ایک اور خاص بات یہ کہ اس کا چھوٹے سے چھوٹا کردار بھی بھرتی کا نہیں ہے، بلکہ کہانی کو آگے لے کے جانے والا اور اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے۔ مکالمے مزے دار بلکہ لذیذ ہیں اور سونے پر سہاگہ برطانوی تلفظ۔ میری رائے میں اس فلم کا سکرپٹ ان چند فلم سکرپٹس میں شامل ہے جنہیں مکمل ترین کہا جاسکتا ہے۔

فلم کی بیشتر کاسٹ برطانوی اداکاروں پر مشتمل ہے، جن میں جیرارڈ بٹلر ، مارک سٹرونگ، ادریس البا، ٹام ہارڈی ، ٹام ولکونسن ، ٹوبی کیبل وغیرہ شامل ہیں۔ اداکاری اعلی معیار کی ہے۔ خاص طور پر مارک سٹرونگ بطور ”آرچی“ اور جیرارڈ بٹلر بطور ”ون ٹو“ کے زبردست ہیں۔ منشیات کے عادی راک سٹار جونی کوئیڈ کے کردار میں ٹوبی کیبل نے بھی زبردست پرفارمنس دی ہے۔

آخری بات یہ کہ یہ جائزہ جتنا پھسپھسا ہے، فلم اتنی ہی مزے دار ہے۔ لہذا آپ کا جب بھی فلم دیکھنے کا پروگرام بنے تو سب سے پہلے اسے ہی بھگتائیے گا، اس جائزے کو پڑھنے کی بوریت دور ہوجائے گی۔

خالہ امبالو

گیند ایک دفعہ پھر خالہ کے صحن میں جاگری تھی۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو خالہ نے اندر سے آواز دی۔ "کون اے"؟۔ "گیند آئی ہے آپ کے صحن میں"۔۔۔ میں نے جواب دیا۔ درّانہ وار باہر آتی ہوئی خالہ نے اپنا لاؤڈ سپیکر کھولا اور گلی والوں کی تفنّن طبع کےلئے فری چینل نشر کرنا شروع کردیا۔ "ہائے ہائے گیند سیدھی ہانڈی میں گری ہے جاکے، کوئی ان شیطانوں کو روکتا بھی نہیں کہ گلی میں نہ کھیلو، میں بے چاری غریب کہاں سے پکاؤں گی دوبارہ ہانڈی۔۔۔ ہائے میں لٹ گئی، برباد ہوگئی، ان کا بیڑہ غرق ہو، غریبوں کا جینا دوبھر کردیا۔۔۔ ہائےےےےے۔۔۔"۔

خالہ نے واویلے کے ساتھ بیَن کرنے بھی شروع کردیئےتھے۔ میں نے صورتحال سے بالکل بھی متاثر نہ ہوتے ہوئے ڈھیٹ پن سے کام لیا اور کہا کہ ''خالہ! ذرا دکھاؤ تو وہ ہانڈی جس میں گیند گری ہے۔۔۔۔"۔ اسی دوران گلی کے اکثر گھروں کے دروازوں کی چوکھٹیں آباد ہوچکی تھیں۔ خواتین گھر کے کام کاج چھوڑ چھاڑ، مفت کاتھیٹر دیکھنے، دروازوں میں جم چکی تھیں۔ استاد پونکے نے بھی ڈیک بند کرکے سگریٹ سلگالیا تھا اور بنچ پر گلی کی طرف منہ کرکے بیٹھ گیا تھا اور بھنویں اچکا اچکا کر مجھے اکسانے اور ہلاشیری دینے کی کوشش کررہا تھا تاکہ یہ ڈرامہ جاری رہے اور اس کی شام اچھی گزر جائے۔

خالہ نے میری طرف قہر آلود نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا، " ہانڈی کے بالکل پاس ہی گری ہے، اگر بیچ میں گر جاتی تو۔۔۔۔۔؟"

اس انٹی(آنٹی نہیں) کلائمکس پر گلی کی خواتین اور استاد پونکے کی مایوسی اور اداسی قابل دید تھی۔

ان کے چہرے دسمبر کی آخری تاریخیں لگ رہے تھے۔۔۔۔

یار دوست

دوست بڑی کمینی چیزیں ہوتے ہیں نہ ان کے بغیر گزارا ہوتا ہے نہ ان کے ساتھ!

آن لائن دوستیاں اگر جنس مخالف سے نہ ہوں تو خوب پھلتی پھولتی ہیں۔ پھلتی پھولتی تو وہ بھی ہیں لیکن کسی اور سمت میں ۔۔۔ آہو!۔ بلاگنگ شروع کرنے کے بعد طبقہ بلاگراں کے کچھ ارکان سے بڑی بے تکلفیاں ہوئیں جو اب بڑھ کر دوستی تک پہنچ رہی ہیں۔ اگرچہ کچھ لوگوں کو ان دوستیوں پر اعتراضات بھی بہت ہیں لیکن جی ہر مزےدار چیز متنازعہ ضرور ہوتی ہے۔ لہذا اس پر پریشان ہونے کی ضرورت نشتہ!

ذیل کی سطور میں ایسے ہی چند دوستوں کا نام لیے بغیر 'بوجھو تو جانیں' ٹائپ ذکر کیا جائے گا۔ نام نہ لکھنے کو کوئی میری بزدلی پر محمول نہ کرے اگرچہ اصل وجہ یہی ہے! انیس نے بہت پہلے خبردار کردیا تھا کہ آبگینوں کو ٹھیس لگنے سے بچانے کے لئے دوستوں سے سچ مت بولو اور اس کے لیے انہوں نے 'خیال خاطر احباب' جیسی اصطلاح گھڑی تھی، لیکن جیسا کہ آپ جانتے ہیں اور اگر نہیں جانتے تو جان لیں کہ میرے جیسا صداقت شعار، راست گو، بے باک انسان ایسی خبرداریوں کو خاطر میں نہیں لاتا اور وہی کہتا ہے ۔۔۔ جو نہیں کہنا چاہیے!

ایک بھائی جان ایسے ہیں، جن کے بلاگ اور ان کی فیس بک وال پر ہمیشہ وہ کچھ لکھا ہوتا ہے کہ چنگا بھلا مٹن کڑاہی کھاتا ہوا بندہ، خودکشی بارے سوچنے لگتا ہے!۔ ہزار دفعہ سمجھایا ہے کہ یار! لک ایٹ دا برائٹ سائڈ۔ یعنی کہ بلب (آج کل انرجی سیور) کی طرف دیکھ۔ تاکہ تیری آنکھوں میں بھی جلن ہو اور تمہیں پتہ چلے کہ تکلیف ہوتی کیا ہے؟ اور مجھے شدید شک ہے کہ یہ ایسی باتیں خوب پیٹ بھر کے کھانا کھانے کے بعد ہاضمہ بہتر کرنے کے لیے کرتا ہے۔ لیکن ہمیں یہ سب پڑھ کے جو السر ہوجانا ہے، اس کی اسے کوئی پروا نہیں!۔ بندہ بن اوئے۔۔

دوسرے پائین، صرف تب لکھتے ہیں، جب کسی کی واٹ لگانی مقصود ہو۔ ورنہ برفانی ریچھ (ھاھاھاھاھاھا) کی طرح، لمبی نیند سو جاتے ہیں۔ بہت دفعہ کہا ان کو آف دی ریکارڈ کہ اوئے (ان کا لقب لکھنے کو دل تو کررہا ہے، پر، آئی ول پاس) لکھا کر تیرے جیسا لکھنے والے کم ہیں بلکہ ہیں ہی نہیں اور، کوئی اور نہیں ملتا تو میری ہی واٹ لگا لیا کر۔ لیکن پائین ہیں کہ بس۔۔۔آہو۔

ایک اور صاحب ہیں جو فیس بک سٹیٹسوں پر ایسے فقرے چست کرتے ہیں کہ بندہ پھڑک کر رہ جاتا ہے۔ پر جب اپنے بلاگ پر لکھتے ہیں تو ان میں پروفیسر اشفاق علی خان کی روح حلول کرجاتی ہے۔ 'روسی ٹریکٹر اور بکریوں کا بانجھ پن' جیسے موضوعات پر لکھتے ہیں اورایسی فلسفیانہ باتیں کہ بندے کا دیوار میں ٹکریں مارنے کو دل کرنے لگتا ہے۔ لکھیں جی، ایسی باتیں بھی لکھیں اور جم جم لکھیں، لیکن کبھی اپنا دوسرا ٹیلنٹ بھی آزمائیں، جس کی روز مشق کرتے ہیں۔ مہربانی ہوگی!

اور جو آخری ہے اس پر مجھے بڑی تپ ہے! آپ پوچھیں گے کیوں؟ اس کی ایک بڑی ٹھوس وجہ ہے۔ جو بندہ پریکٹس میں ہی ساری توانائی لگا دے اور میچ کھیلنے کے لیے ان فٹ ہوجائے، اس کے بارے آپ کا کیا خیال ہے؟ جی! بالکل۔۔ میرا بھی یہی خیال ہے کہ ۔۔۔فیس بک کھاگئی زن و جواں کیسے کیسے۔۔۔۔ سیانے صحیح کہتے تھے، نام کا اثر آخر کار ہوہی جاتا ہے!

کیا بنے گا؟

انہوں نے مخصوص رازدارانہ انداز میں گردن آگے کرکے اور آہستہ سی آواز میں پوچھا، 'جعفر بھائی!۔۔ یار کیا بنے گا؟'۔

میرے ہونٹوں پر خباثت بھری مسکراہٹ نمودار ہوئی اور میں نے ان کا کندھا ہولے سے دبا کر کہا، 'پہلے کیا بنا تھا؟'

انہوں نے جواب دیا، 'کچھ نہیں'۔ میں نے کہا تو اب بھی کچھ نہیں بنے گا۔ انہوں نے اس مسخرے پن پر نظروں ہی نظروں میں مجھے سخت سست کہا، دل ہی دل میرا شجرہ 'دانش' کی علامت پرندے سے ملایا اور بزبان اردو مجھ سے کہاکہ حالات بڑے خراب ہیں بھیّا۔ تم ٹی وی نہیں دیکھتے؟

یہ صاحب میرے جاننے والے ہیں۔ ایک کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں۔ 'ڈرائیور کم پی آر او' ہیں۔ کراچی کے رہنے والے ہیں۔ ہفتے میں ایک دو دفعہ ان کا ہمارے دفتر، کام کے سلسلے میں آنا ہوتا ہے اور سلام دعا/گپ شپ ہوجاتی ہے۔ ہردفعہ ملنے پر ان کے ابتدائی جملے ہمیشہ یہی ہوتے ہیں کہ کیا بنے گا۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ کسی خاص چیز یا واقعہ پر پریشان ہوتے ہیں بلکہ ان کی پریشانی اور اس 'کیا بنےگا' ماخذ کسی نہ کسی ٹاک شو کے میزبان کی پچھلی رات کو چھوڑی ہوئی درفنطنی ہوتی ہے!

وہ اس نیوز چینلی ثم ٹاک شو یلغار کے کلاسک شکار ہیں جس نے اچھے بھلے سمجھدار بندوں کی پچھلے چند سالوں سے مت ماری ہوئی ہے۔

بہرحال میں نے 'چیزے' لینے کے لیے ان کو ایک دفعہ پھر اکسایا کہ قبلہ! آخر بولیے (بولیے کی جگہ جو لفظ میں نے سوچا تھا، وہ کہنے سے 'منی' فساد ہونے کا اندیشہ تھا) تو سہی کہ ہوا کیا؟۔ کیا 'بھائی' پھر دلہا بننے پر تیار ہوگئے؟۔ 'بھائی' ان کی چھیڑ ہیں اور ان کے ذکر پر وہ ایسے تپتے ہیں جیسے بھائی اور ان کے ہمنوا، بھتّے کے ذکر پر!

پہلے تو انہوں نے بھائی کی شان میں تئیس بند کا 'قصیدہ' پڑھا جس کی تاب نہ لاکر میرے جیسے بے شرم کے کان بھی لال ہوئے پھر انہوں نے چچ چچ کی آواز نکالتے ہوئے کہا کہ آپ نے وکی لیکس (اور لیکس کا تلفظ انہوں نے جھیل والے لیک سے مستعار لیا!) کے انکشافات نہیں سنے؟۔ میں نے جواب دیا کہ حضور والا، پڑھے تو ہیں، سنے نہیں لیکن ان میں، مجھے انکشاف تو کوئی نظر نہیں آیا۔ اگر کوئی ان کو انکشاف سمجھتا ہے تو یہ میرے لیے اس کی ذہانت کے بارے ایک انکشاف ہے۔

وہ بھنّا کر اٹھے اور الوداعی مصافحہ کرتے ہوئے مجھے ایسی نظروں سے گھورا جیسے میرے استاد مجھے زمانہ طالب علمی میں گھورا کرتے تھے کہ بچّہ! تو نہیں سدھر سکتا اور تیرا کیا بنے گا؟ وغیرہ وغیرہ۔۔۔

باقی قاعدہ

حضرات، خواتین اس لیے نہیں لکھا کہ مدت مدید سے اس بلاگ پر خواتین کی آمد آٹے میں نمک کے برابر رہ گئی ہے، ہمارا وچکارلا قاعدہ جو 'ج' تک پہنچ چکا تھا، ہم آج اس کو مکمل کرنے کی کوشش کریں گے۔ بہت سے احباب نے ہمیں لارے لگائے تھے کہ وہ بھی اس 'کار خیر' میں، ہماری مدد کریں گے لیکن یہ وعدے بھی محبوب اور حکومتی وعدوں کی طرح ایفا نہ ہوسکے۔ ویسے بھی ٹاٹ میں مخمل کا پیوند چنداں مناسب نہ ہوتا۔

چلیے، قاعدے کی طرف چلتے ہیں۔

چ۔۔۔۔ چینی: یہ جادو کی چیز ہوتی ہے۔ ۱۲۷ روپے من گنے سے بننے والی چینی ۱۳۰ روپے کیلو تک بکتی ہے۔ شنید ہے کہ دوران عمل برائے چینی سازی اس میں زعفران، یورینیم، اریڈیم، پلوٹونیم جیسے قیمتی اجزاء بھی ملائے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس کی قیمت تھوڑی سی زیادہ ہوجاتی ہے۔ جس پر ناشکرے لوگ ، مہنگائی مہنگائی کا شور مچا کر آسمان سر پر اٹھالیتے ہیں لیکن اسے ایک مہینے کے لیے استعمال کرنا بند نہیں کرتے کیونکہ ۔۔۔ اس ملک خداداد میں سوائے چینی کے کوئی میٹھی چیز جو باقی نہیں رہی۔

ح۔۔۔۔حشر: واعظ حضرات، عوام کالانعام کو اس سے ڈراتے رہتے ہیں۔ خود، البتہ، وہ سمجھتے ہیں کہ ایسی کوئی چیز ہے ہی نہیں، اور اگر ہے بھی تو ان کے لئے نہیں ہے، انہیں گھگو گھوڑوں کے لئے ہے۔ سرکار بھی اس کی تیاری کے لئے 'طاقت کے سرچشمے' کو مسلسل حشر کی ریہرسل کرواتی رہتی ہے تاکہ آخری سٹیج پر عوام کو کوئی پریشانی نہ ہو۔ واللہ اعلم بالصواب۔

خ۔۔۔۔خرگوش: یہ ایسے بندے کو کہتے ہیں جس کے کان، کھوتے جیسے ہوں۔ مثلا اظہر محمود، میرا بھانجا ولید وغیرہ وغیرہ۔ اس کے علاوہ یہ لفظ اہل فارس کی تہذیبی روایت، اور ذخیرہ الفاظ پر بھی دلالت کرتا ہے۔ جس میں 'کھڑکنّوں' کے لیے بھی خرگوش جیسا پیارا لفظ موجود ہے۔

د۔۔۔۔دلال: انگریزی میں اس کو بروکر وغیرہ کہتے ہیں۔ وطن عزیز اس جنس میں خود کفیل سے بھی چھ درجے آگے ہے۔ ہر نوع، سائز اور قیمت کے دلال، اس اسلامی جمہوریہ میں میسر ہیں۔ سیاسی سے صحافتی، عسکری سے معاشی، کھیل کے میدان سے یونیورسٹی کے لان تک ہرجگہ یہ جنس بافراط دستیاب ہے۔ پنجابی میں اس کا مترادف لفظ  اگرنستعلیق حضرات کے سامنے دھرایا جائے تو ان کو کراہت کا احساس ہوتا ہے۔

ڈ۔۔۔۔ڈڈّو: یہ خواجے کا گواہ ہوتا ہے۔ البتہ اس گواہی کی نوعیت ذرا پیچیدہ قسم کی ہوتی ہے۔ یہ ڈڈّو زیادہ تر ٹاک شوز میں اپنے اپنے خواجوں کی گواہیاں دیتے نظر آتے ہیں۔ آج کل جو ڈڈّو سب سے 'ان' ہے، اس کا خواجہ، سگ پرست نہیں، بلکہ خلق خدا نے اسے ہی سگ کے مرتبے پر فائز کیا ہوا ہے۔

ذ۔۔۔۔ذلالت: یہ ایک حالت ہوتی ہے۔ جو کمزور پر طاقتور مسلط کرتا ہے اور اس کے لیے رنگ برنگے جواز ڈھونڈنے کا کام دانشوروں پر چھوڑدیتا ہے۔ جو ٹیکنی کلر اصطلاحات، تھری ڈی استدلال اور ڈیجیٹل دانش کو بروئے کار لا کر ان ذلیلوں کو اور ذلیل کرنے اور ذلیل ہی رکھنے کا کام سرانجام دیتے ہیں۔

ایک اداس شام

پَتّوکِی کے لاری اڈّے سے باہر نکلتے ہی اداسی نے مجھے گھیر لیا۔ شام کے جھٹپٹے میں قریبی چھپّر ہوٹل سے سموسوں کے حیوانی چربی میں تلے جانے کی خوشبو، بسوں کے ڈیزل کی مہک، سڑک سے مٹی کی ٹرالی گزرنے کے بعد اڑنے والے غبار، تانگوں اور کھوتا ریڑھیوں کے 'انجنوں' کے خشک فضلے کے فضا میں تیرتے ذرات نے مل جل ایک طلسمی اور پرفسوں ماحول تخلیق کیاہوا تھا۔ میں مبہوت سا ہو کر رہ گیا۔ مجھے ایسا لگا کہ جیسے میرے دل میں میٹھا میٹھا درد جاگ اٹھا ہو۔ حاجی ثناءاللہ نے میرے کندھے پر نرمی سے اپنا ہاتھ رکھا تو جیسے میں ہوش میں آگیا۔ اور مجھے یاد آیا کہ یہ درد دل نہیں بلکہ دمے کا پرانا مریض ہونے کی وجہ سے سانس بند ہورہا ہے۔۔۔!

حاجی ثناءاللہ، انجمن قومی تاجران (رجسٹرڈ) پَتّوکِی، کے تاحیات صدر ہیں۔ یہ پَتّوکِی کے روح رواں ہیں، کیونکہ پَتّوکِی کے تینوں پٹرول پمپ ان کی ملکیت ہیں۔ یہ جب چاہیں پَتّوکِی کو بے جان کردیتے ہیں۔ اس کی روح کھینچ لیتے ہیں۔ یہ میرے مدّاح ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میری تحاریر نے ان کی زندگی میں مشعل راہ کا کام کیا ہے۔ یہ معمولی چوری چکاری کرتے تھے۔ پھر انہوں نے میری تحاریر کا مطالعہ شروع کردیا۔ یہ کہتے ہیں کہ ان کی زندگی کا دھارا ہی بدل گیااور انہوں نے معمولی چوری چکاری کی زندگی کو خیرباد کہہ دیا اور اب یہ اس عظیم شہر کے قابل فخر سپوت ہیں۔

میں جب تھک جاتا ہوں۔ اپنے معمولات زندگی سے اکتا جاتا ہوں۔ میرا ذہن بنجر ہوجاتا ہے تو میں اپنے جسم اور ذہن کو ڈھیلا چھوڑدیتا ہوں۔ اور جو دس پندرہ دعوت نامے بمعہ ٹکٹ موصول ہوئے ہوتے ہیں ان پر ایک سے دس تک گنتا ہوں۔ جس دعوت نامے پر دس آجائے میں اسی شہر چھٹی گزارنے چلا جاتا ہوں۔ اس دفعہ پَتّوکِی، کی باری آگئی۔ حاجی ثناءاللہ، بہت برسوں سے اصرار کررہے تھے کہ میں ان کو شرف میزبانی بخشوں۔ انہوں نے میرے اعزاز میں ایک تقریب کا بھی اہتمام کیا ہوا تھا۔ مجھے اس تقریب کی صدارت کرنی تھی۔

لاری اڈّے سے میں اور حاجی صاحب ہونڈا سیونٹی پر ان کے گھر روانہ ہوئے جہاں میری رہائش کا انتظام کیا گیا تھا۔ حاجی صاحب سیونٹی ایسے چلارہے تھے جیسے سلطان گولڈن کے استاد ہوں۔ میرا سانس خشک ہونے لگا۔ میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا (یاشاید سٹریٹ لائٹس بند تھیں)۔ اچانک موٹر سائیکل ایک جھٹکے سے رک گئی۔ میں نے چونک کر دیکھا تو ہم گول گپوں کی ریڑھی کے پاس کھڑے تھے۔ حاجی صاحب نے پَتّوکِی کے مشہور عالم گول گپوں سے میری تواضع کی۔ پَتّوکِی آکر گول گپے نہ کھانا ایسا ہی ہے جیسے دبئی جاکر بھی بندہ۔۔۔۔۔ چلو مٹی پاؤ۔۔۔

رات کے پھیلتے اندھیرے، نیم تاریک بازار، بھونکتے ہوئے آوارہ کتّوں، سڑک کے دونوں اطراف کھلی نالیوں سے آنے والی مہک اور ریڑھی کے پاس کھڑے ہو کرگول گپے کھانے کا ایسا لطف آیاکہ میری ساری ناسٹیلجک فیلنگز بیدار ہوگئیں۔ مجھے لالہ موسی یاد آگیا جہاں میرا بچپن گزرا تھا۔ جہاں میں اپنے دوستوں کے ساتھ دو گول گپے کھا کر کھٹّے کے چار پیالے مفت پی جاتا تھا۔ اور دو دو مہینے کھانسی اور اباجی کا جوتا میرا پیچھا نہیں چھوڑتا تھا۔ میں اداس ہوگیا۔ اداسی کی وجہ ناسٹیلجیا یا بچپن کی یادیں نہیں تھیں بلکہ مجھے پتہ چل گیا تھا کہ حاجی صاحب، شیخ ہیں لہذاڈنر پر بھی مونگ کی دال ہی ہوگی۔۔۔!

گول گپوں کے بعد مونگ کی دال کے ڈنر کا خیال کسی بھی شریف انسان بلکہ لکھاری کو بھی اداس بلکہ مرنے کی حد تک رنجیدہ کرسکتا ہے۔

نقاب اور آفتاب

یہ کوئی دو ڈھائی سال پہلے کی بات ہے، اب ”خبرناک“ اور اس سے پہلے ”حسب حال“ کے میزبان آفتاب اقبال نوائے وقت میں حسب حال ہی کے عنوان سے کالم لکھا کرتے تھے۔ میں بھی اس کالم کے متاثرین میں شامل تھا اور اکثر صاحب کو بذریعہ برقی خط کالم بارے اپنے تاثرات پہنچایا کرتا تھا۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ انہوں نے میرے پیغام کا جواب دینے میں تاخیر کی ہو۔ میں نے ان کے کالم کے مشہور اور مستقل کردار ”عزیزی“ کے بارے بھی دریافت کیا تھا کہ کیا واقعی یہ حقیقی کردار ہے یا گھڑا گیا ہے۔ اس پر انہوں نے مجھے یقین دلایا تھا کہ عزیزی واقعی موجود ہے اور ان کا بہت اچھا جاننے والا ہے، نام بتانے پر البتہ وہ راضی نہیں ہوئے تھے۔

اگر آپ اجازت دیں تو میں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ ان پیغامات اور تبادلہ خیالات میں سے بہت سے نکات کو انہوں نے اپنے کالمز کا حصہ بنایا، میری کچھ 'تراکیب' جو میں نے ان پیغامات میں استعمال کی تھیں، وہ بھی انہوں نے استعمال کیں۔ بلکہ ایک دو کالم تو خالصتا میری فرمائش پر بھی لکھے۔

وہ تو ایک دن انہوں نے ٹی وی کی حالت زار پر ایک کالم لکھتے ہوئے اپنے بنائے ہوئے ڈرامے ”نقاب“ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ٹی وی کی تاریخ میں یہ ڈرامہ ٹرینڈ سیٹر تھا۔ اس سے پہلے کوئی تھرلر پاکستان میں نہیں بنایا گیا۔ اس پر میں نے انہیں لکھا کہ جناب! جان دیو۔۔۔ اگر نقاب تھرلر ہے تو مولا جٹ تو پھر ٹرمینیٹر سے بڑی ایکشن فلم ہے۔ بس اسی بات پر صاحب غصہ کھاگئے اور مجھے اس انداز کا پیغام بھیجا جیسے آج کل وہ بے چارے سٹیج کے مسکین فنکاروں کو "دبکے" مارتے ہیں!۔۔۔

انہوں نے لکھا تھا کہ " پاکستان میں پہلی دفعہ ڈرامے میں باڈی بلاسٹ تیکنیک استعمال کی گئی تھی اور یہ پاکستان کا پہلا تھرلر تھا اب یہ مت پوچھنا کہ تھرلر کیا ہوتا ہے"۔۔۔۔۔

یہ پیغام پڑھنے کے بعد میں نے خودسے ایک سوال کیاتھا (جناب بدتمیزوالا سوال نہیں، حالانکہ اصولی طور پر وہی سوال پوچھنا بنتا تھا) اور ایک طعنہ دیا تھا۔ سوال تیکنیک کے متعلق تھا، جو یہاں دہرانے کے لائق نہیں اور طعنہ تھا ۔۔۔

ہور چوپو۔۔۔۔

الف امریکہ، ب بھیڑیا

اردو کے ابتدائی قاعدے (القاعدے نہیں) جو ہم نے اپنے اپنے بچپنوں میں پڑھے تھے، ازکار رفتہ ہوگئے ہیں اور فی زمانہ، زمینی حقیقتوں سے بالکل متصادم ہیں۔ مثال کے طور پر الف انار، ب بکری، پ پنکھا، ت تختی وغیرہ وغیرہ۔۔۔ اردو میں تعلیم حاصل کرنے والے اطفال تو اب انار کے نام سے بھی واقف نہیں، کھانا تو دور کی بات ہے۔ یہی حال بکری اور اس کے گوشت کا ہے۔ بھلا ہو شیر کا اور اس محاورے کا جس میں یہ دونوں ایک ہی گھاٹ پر مبینہ طور پانی پیتے ہیں، کیونکہ اگر یہ محاورہ نہ ہوتا بکری کا ذکر بھی معدوم ہوچکاہوتا۔ پنکھا بھی معدوم ہونے کی سرحد پر ہی کھڑا ہے۔ جن کو بجلی میسر ہے وہ اس کی ضرورت سے بے نیاز ہیں کیونکہ وہ پنکھے کے برادر نسبتی ائیر کنڈیشنر سے تعلقات گانٹھ چکے ہیں اور ہما شما کو تو یہ نعمت موسوم بہ بجلی میسر ہی نہیں۔ اس لئے وہ پنکھے کی حاجت سے بھی بے نیاز ہیں۔ تختی بھی آثار قدیمہ میں شمار ہونے لگی ہے۔ کسی زمانے میں تختی والے سکول”کھوتی سکول“ کہلاتے تھے۔ سرکار نے یہ تفریق ختم کرکے اب سارے سکول ”کھوتے سکول“ کردیئے ہیں! جبکہ ہمارے ایک دوست عرصہ تک مُصر رہے کہ تختی، تختے کی بیوی ہوتی ہے، وہی تختہ جو الٹایا جاتا ہے! واللہ اعلم بالصواب۔۔۔
قصہ مختصریہ کہ ہم نے اردو کا ایک وچکارلا قاعدہ بنایا ہے۔ جو بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ روشن خیال اور ۔۔۔۔۔۔۔۔ مزید روشن خیال بنائے گا۔ آئیے ابتدا کرتے ہیں۔
الف ۔۔۔۔۔۔ امریکہ : اصولی طور پر تو آجکل ہر حرف تہجی سے امریکہ ہی بننا چاہیے کیونکہ جتنی انسان دوستی، علم سے محبت، اعلی ترین اخلاقی و آفاقی اقدار، رواداری، مذہبی یگانگت، عدل و انصاف، امن پسندی، رحمدلی، سچ سے لگاو اور جھوٹ سے نفرت اس عظیم الشان ملک کی ہیئت مقتدرہ میں پائی جاتی ہے، انسانی تاریخ اس کی مثال کسی ایک دور میں پیش کرنے سے معذور ہے!
ب ۔۔۔۔ بھیڑیا: یہ ایک جانور ہوتا ہے۔ خونخوار۔۔۔ وحشی۔۔۔۔ میمنے اور اس کی کہانی بڑی مشہور ہے۔ یہ اتنی عمدہ کہانی ہے کہ تاریخ کے ہردور میں اس کی ڈرامائی بلکہ حقیقیاتی تشکیل کی جاتی ہے۔ بھیڑیے اور میمنے کا کردار ہمیشہ بدلتا رہتا ہے۔ آخری مشہور میمنے اور بھیڑیے کی مڈبھیڑ ۲۰۰۲ میں ہوئی تھی۔ آٹھ سال بعد اب بھیڑیا شور مچا رہا ہے کہ میمنا اسے پھاڑ کھائےگا! ہور چوپو۔۔۔
(ب سے ایک اور مشہور جانور بھی ہوتا ہے۔۔۔ سمجھ تو آپ گئے ہوں گے!)
پ ۔۔۔۔۔ پیٹ: ہر جاندار کے ساتھ لگا ہوتا ہے۔ اسے بھرنا بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ اکثریت تو اسے روکھی سوکھی سے بھرتی ہے، جبکہ کئیوں کے پیٹ قبر کی مٹی ہی بھرتی ہے۔ ضرورت سے زیادہ بھر جائے تومستی چڑھتی ہے جسے ”رج کھان دی مستی“ کہتے ہیں اور اسی کے زیر اثر بھیڑیا، میمنا اور میمنا، بھیڑیا نظر آنے لگتا ہے۔
ت۔۔۔۔۔۔ترقی: یہ بڑی اچھی چیز ہوتی ہے۔ اس سے دنیا کی آبادی قابو رکھنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔ جب انسان غیر ترقی یافتہ تھا تو لڑائی میں سینکڑوں لوگ مرتے تھے۔ ترقی کرنےکے بعد اب وہ لاکھوں، کروڑوں انسان ماردیتا ہے اور اسے کولیٹرل ڈیمیج کا دانشورانہ اور فلسفیانہ نام دیتا ہے!
ٹ ۔۔۔۔۔ ٹی سی: بچّو! اس کے بارے آپ بڑے ہو کر خود ہی جان جائیں گے کیونکہ یا تو آپ کو یہ کرنا پڑے گی یا کوئی آپ کی کرے گا۔ دعا ہے کہ آپ دوسرے آپشن سے ہی دوچار ہوں۔۔۔
ث۔۔۔۔۔ثانیہ: یہ پاکستانیوں کی مشہور زمانہ بھابھی (ہائے۔۔۔ کس دل سے یہ لفظ لکھا ہے۔۔۔ میرا دل ہی جانتا ہے) اور کچھ کم مشہور زمانہ ٹینس کی کھلاڑی ہے۔ اس کے متعلق جتنا کم لکھوں اتنا ہی اچھا ہے ۔۔۔۔ آہو۔۔۔
ج۔۔۔۔جعفر: خود دیکھ لیں کہ ثانیہ کا صحیح جوڑ کس کے ساتھ بنتا تھا؟

انقلاب زندہ باد

گنبد جیسے پیٹ، چربی میں غائب گردن، پھولی ہوئی گالوں اور ڈکراتی ہوئی آواز سے انقلاب آنے لگتے تو ساری دنیا میں ایسے انقلاب آتے جیسے برسات کے موسم میں پتنگے آتےہیں۔ عوام سے مطالبہ یہ ہے کہ تم انقلاب لے آؤ، پھر میں واپس آکر تمہاری قیادت کروں گا۔ ہشکے بئی ہشکے۔۔۔ ایڈا تو چی گویرے دا برادر نسبتی۔۔۔ کھیر پکائی جتن سے، چرخا دیا جلا، آیا کتا کھاگیا تو بیٹھی ڈھول بجا۔۔۔ جاگیرداروں کو پھانسیاں دینی ہیں لبرٹی چوک میں۔ اور جاگیردار وہ ہوں گے جو پانچ پانچ مرلے کی جاگیروں کے مالک ہوں گے اور بھتًہ دینے سےانکاری ہوں گے۔ جن کے ساتھ جنموں کا ساتھ ہے وہ تو بے چارے چھوٹے موٹے کسان ہیں۔ جن کی صرف دو دوچار چار لاکھ ایکڑ زمینیں ہیں۔ ان بے چاروں کی تو پہلے ہی دال روٹی نہیں چلتی تو ان کو کیوں تنگ کریں ؟

ماوزے تنگ، لینن، کاسترو، چی گویرا اور اگر نیک پاک لوگ معاف کرسکیں تو ملا عمر جیسے لوگ انقلابی ہوتےہیں۔ جن کو اپنے نظریے پر ایمان کی حد تک یقین ہوتا ہے اوروہ اس کے لئے ہر قسم کی قربانی دیتے ہیں اور سب سے آگے رہ کے قائد ہونے کا حق ادا کرتےہیں۔ انگریزکوئی کھوتے دے پتًر نہیں ہیں کہ انہوں نے لیڈنگ فرام دی فرنٹ کا محاورہ بنایا ہوا ہے۔ جبکہ سننے میں یہ آتاہے کہ تازہ انقلابی ”فرنٹ“ سے لیڈ کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔

یہ سارے بھی اوورسیز انقلابی ہوتے تو لینن برازیل میں بیٹھ کے انقلاب کی قیادت کرتے، چی گویرا جزیرہ ہوائی سے انقلاب کی کمان کرتے، کاسترو موزمبیق سے ٹیلیفونی انقلاب کا بھاشن دیتے، ماوزے تنگ اہرام مصر کو انقلابی کمان کا ہیڈکوارٹر بنا کر گراں خواب چینیوں کو انقلاب کی میٹھی لوریاں سناتے۔ ان سارے انقلابیوں کی ایسی کی تیسی، پاگل خانے۔۔۔ اپنا بھی بیڑا غرق کیااور اپنی قوم کا بھی۔ اور ان کی قوموں کی بھی ایسی کی تیسی کہ اپنے جان سے پیارے انقلابی لیڈروں کو آگے لگائے رکھا اور ان کی جان کی ذرا پروا نہیں کی۔ لیڈر کی جان بہت قیمتی ہوتی ہے، ناکتخدا کی عصمت کی طرح۔۔۔ اس کی طرف کوئی میلی آنکھ سے بھی دیکھے تو اس کو خطرہ ہوجاتا ہے۔۔۔ ہیں جی۔۔۔

ضروری نوٹ: یہ”بیستی“ نہیں، ”بیستی جیسا اقدام“ہے۔

 

اشرف سٹیل مارٹ

اس دنیا میں سب سے بڑی ہیکڑی علم کی ہیکڑی ہے۔ صاحبِ علم فرد اور صاحبِ علم گروہ بے علم لوگوں کو صرف حیوان ہی نہیں سمجھتا، بلکہ ہر وقت انہیں اپنے علم کے ”بھؤو “ سے ڈراتا بھی رہتا ہے۔ وہ اپنے علم کے تکبّر کا باز اپنی مضبوط کلائی پربٹھا کے دن بھر بھرے بازار میں گھومتا ہے اور ہر ایک کو دھڑکا کے اور ڈرا کے رکھتا ہے۔ اس ظالم سفّاک اور بے درد کی سب سے بڑی خرابی یہ ہوتی ہے کہ اگر کوئی اس کے پھل دار علمی احاطے سے ایک بیر بھی توڑنا چاہے تو یہ اس پر اپنی نخوت کے کتّے چھوڑ دیتا ہے۔ یہ اپنے بردوں کو اچھّا غلام بننے کا علم تو عطا کرسکتا ہے۔ لیکن انہیں باعزّت زندگی گزارنے کے رموز سے آگاہ نہیں ہونے دیتا۔ زمانہ گزرتا رہتا ہے اور اپنے اپنے دور کا ہر ذی علم برہمن، اپنے دور کے شودر کے کان پگھلتے ہوئے سیسے سے بھرتا چلا جارہا ہے۔

=====================================================================

علم کی ہیکڑی بڑی ظالم ہیکڑی ہے۔ یہ علم کے پردے میں بے علم اور معصوم روحوں پر بڑےخوفناک حملے کرتی ہے۔ علم اور جان کاری کا حصول اپنے قریبی لوگوں کو خوفزدہ کرنے اور ان کے شبے میں اضافہ کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔ ایک جان کار ایک ان جان سے صرف اس لیے ارفع، اعلا اور سپیرئیر ہوتا ہے کہ وہ جانتا ہے۔ اس نے واقفیت، معلومات، خبر، گُن اور ابلاغ کے بہت سے کالے اپنی دانش کے پٹارے میں ایک ساتھ جمع کررکھےہوتے ہیں۔ وہ جس بستی، جس آبادی اور جس نگری میں بھی جاتا ہے، اپنے پٹارے کھولے بغیر وہاں کے لوگوں کو سیس نوانے اور دو زانو ہونے پر مجبور کردیتا ہے۔ ڈاکٹر، وکیل، ملاّ، پریچر، سیاست دان، معلّم، مقرر، کالم نگار، مندوب، اپنے نالج اور اپنی جان کاری کے پگھلے ہوئے سیسے کو نہ جاننے والے لوگوں کے کانوں میں ڈال کر انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے گنگ اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ماؤف کردیتا ہے۔ علم والا یہ نہیں چاہتا کہ اس کے علم کا کوڑیالا کسی اور کے پاس جائے اور اس کی پٹاری خالی کرجائے۔ البتہ وہ یہ ضرور چاہتا ہے کہ اس کے علم کا کالا ہر بے علم کو ڈس کر واپس اس کے پاس پہنچے، تاکہ وہ اگلے  آپریشن کی تیاری کرسکے۔ سچ تو یہ ہے کہ علم والا بے علم کوسوائے شرمندگی، بے چارگی، کم تری اور لجاجت کے اور کچھ نہیں دے سکتا۔ اور کسی شرمندہ، بے چارے، کم تر اور ہیٹے شخص کو درماندگی کے سوا اور دیا بھی کیا جاسکتا ہے۔ لیکن لوگوں کے درد کا درماں کرنے کےلیے انہیں علم کی بجائے اس یقین، اعتماد اور اطمینان کی ضرورت ہوتی ہے جو اُمّی پیغمبر پریشان اور خوارو زبوں لوگوں کے کندھے پر ہاتھ دھر کر عطا کرتے رہے ہیں۔

======================================================================

علم کی ہیکڑی بھی عجیب ہیکڑی ہے۔ شہسوار کے پاس گھوڑا بھگانے کا علم ہوتا ہے تو وہ اسے چابک بنا کر استعمال کرتا ہے۔ مہاوت اپنا علم آنکس کی زبان میں ادا کرتا ہے۔ دانش ور، عالم، مفکر، گیانی، دوان اپنے علم کی تکّل جھپ کھلا کر لوگوں کے باطن میں اترتا ہے اور ان کی بے پردگی کا نظارہ کرکے اوپر اٹھ جاتا ہے۔ علم والا آپ کو کچھ دیتا نہیں، آپ کی ذلتّوں کا معائنہ کرکے آپ کو سندِ خفّت عطاکرجاتا ہے۔ آپ اس کے علم سے حصہ نہیں بٹا سکتے جو اصلی ہے، جو اس کا ہے، جو نافع ہے۔ البتہ وہ علم جو پرانی گرگابی کی طرح ڈھیلا اور لکرچلا ہوجاتا ہے، اسے ضرور پس ماندہ گروہوں کو عطا کردیا جاتا ہے۔ جیسے پرانے لیر ے بڑی محبت سے خاندانی نوکر کو دے دیئے جاتے ہیں۔ ہاں بس ایک اُمّی ہوتے ہیں جو اپنا سب کچھ بلا امتیاز سبھوں کو دے دیتے ہیں اور اس کی کوئی قیمت طلب نہیں کرتے۔ وہ اپنا سارا وجود، پورے کا پورا وجود لوگوں کو عطا کردیتے ہیں اور ان کے باغ وجود سے علم نافع کی نہریں ابد تک رواں دواں رہتی ہیں۔ لیکن ہمارے علم کی نخوت بڑی ڈاہڈی نخوت ہے۔ یہ رعونت تو انسان کو انسان نہیں سمجھتی، البتہ اس کے ڈے ضرور مناتی رہتی ہے۔

اشفاق احمد کی کہانی “اشرف سٹیل مارٹ” سے اقتباسات