نیو جرسی اور پرانی قمیص

یہ سترہ سال پہلے موسم خزاں کی ایک اداس شام تھی۔ زمان پارک لاہور کے ایک گھر میں ویرانی کا ڈیرہ تھا۔ ڈرائنگ روم میں تین  افراد سر جھکائے سوچوں میں گم تھے۔ ان میں سے ایک وجیہہ و شکیل شخص نے گردن اٹھائی اور یوں گویا ہوا، "سب کچھ ختم ہوگیا۔ نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم۔ جب تک میں زندہ ہوں تب تک تو یہ کام چلتا رہے گا لیکن اس کے بعد کیا ہوگا؟ کون اس کام کو چلائے گا؟ کیسے چلائے گا؟ کیا میری محنت اور جدوجہد میری زندگی کے ساتھ ہی ختم ہوجائے گی؟ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا۔"
یہ ہینڈسم شخص عمران خان تھا۔ مشرف کے الیکشن میں وہی چہرے دوبارہ جیت گئے تھے جن کے خلاف وہ جدوجہد کرتا رہا۔ جمائما کے ساتھ عائلی زندگی بھی اسی سیاست کی وجہ سے مسائل کا شکار تھی۔ وہ بچوں کو لے کر لندن جا چکی تھی۔ عمران کی زندگی کا مقصد کینسر اسپتال تھا جس کے لئے وہ دن رات محنت کرتا تھا۔ عطیات اکٹھے کرتا تھا۔ اس کی کرشماتی شخصیت کی وجہ سے کبھی فنڈز کی کمی کا مسئلہ نہیں ہوا۔ لیکن موسم خزاں کی اس اداس شام میں شاید کپتان ہمت ہار چکا تھا۔ سیاسی اور عائلی زندگی بظاہر ختم ہوچکی تھی اور اسے لگ رہا تھا کہ اس کی زندگی کے ساتھ ہی کینسر اسپتال بھی ختم ہوجائے گا۔
عمران کے دائیں طرف کرسی پر بیٹھے ایک مدبرّ نظر آنے والے شخص نے اس کا کندھا تھپتھپایا اور کہا کہ فکر مت کرو۔ ہم کینسر اسپتال کے لئے ایسا بندوبست کریں گے کہ تا قیامت یہ منصوبہ چلتا رہے گا اور پھلتا پھولتا رہے گا۔ یہ شخص نعیم الحق تھا۔ عمران کے ہر اچھے برے وقت کا ساتھی اور جان نچھاور کرنے والا دوست۔ عمران نے حیرانی سے اس کی جانب دیکھا اور استفسار کیا کہ ایسا کیسے ممکن ہے؟ نعیم الحق نے کہا کہ اس میں کوئی مشکل نہیں۔ ہم امریکہ، یورپ اور مشرق وسطی سے کثیر فنڈز اکٹھا کرتے ہیں اور انہی سے اسپتال کا نظم ونسق چلتا ہے۔ غریبوں اور مسکینوں کا مفت علاج ہوتا ہے۔ تمہاری یہ بات درست ہے کہ تمہارے بعد فنڈز اکٹھا کرنا بہت مشکل ہوگا۔ پاکستان میں شاید ہی لوگوں کو کسی ایک شخص پر اتنا اعتبار ہو۔ عمران نے اس کی بات کاٹی اور جھلاّ کر کہا کہ یہ باتیں ہوچکی ہیں، یہ بتاؤ کہ ایسا کیسے ممکن ہے؟
نعیم الحق زیرِ لب مسکرایا اور عمران کی طرف محبت بھری نظروں سے دیکھ کر بولا کہ آج سے بیرون ملک جتنے فنڈز اکٹھے ہوں گے ان کا پچاس فیصد ہم الگ رکھیں گے۔ یہ بات سنتے ہی عمران کے چہرے کا رنگ سرخ ہوگیا، اس نے بے چین ہو کر پہلو بدلا اور کہا ، نعیم۔۔ یہ ممکن نہیں ہے۔ یہ پیسہ ہمارے پاس غریبوں اور مسکینوں کی امانت ہے۔ ہم اس میں کیسے خیانت کرسکتے ہیں؟ تمہارے ذہن میں ایسا خیال بھی کیسے آیا؟ مجھے بہت افسوس ہوا۔ آج سے تمہارے اور میرے رستے جدا ہیں۔ نکل جاؤ اس گھر سے اور دوبارہ کبھی مجھے اپنی شکل نہ دکھانا۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تم اتنی گھٹیا اور نیچ سوچ کے مالک ہو۔ میں شرمندہ ہوں کہ تمہیں اپنا دوست سمجھتا رہا۔ عمران کی آواز بھرّا چکی تھی اور اس کی آنکھوں میں ستارے چمکنے لگے تھے۔ نعیم اپنی کرسی سے اٹھا اور روتا ہوا  عمران سے لپٹ گیا۔ کہنے لگا کہ یار تو نے ایسا سوچا بھی کیسے۔ میری بات تو پوری ہونے دیتا۔ میں تمہارے لئے اپنی جان بھی دے سکتا ہوں۔ تمہیں چھوڑنے کا تصور میرے لئے موت سے بھی زیادہ بھیانک ہے۔
اس موقع پر ڈرائنگ روم میں موجود تیسرے فرد نے جو خاتون تھی، نے مداخلت کرتے ہوئے دونوں کو تسلی دی اور نعیم کو کہا کہ اپنی بات مکمل کرے۔ نعیم نے جیکٹ کی جیب سے رومال نکا ل کر آنسو پوچھے اور یوں گویا ہوا، "ہم ان آدھے فنڈز سے  مہنگے اور پوش علاقوں میں پراپرٹیز خریدیں گے۔ ان کو کرائے پر دیں گے۔ وقت کےساتھ ساتھ ان کی قیمت بھی بڑھتی رہے گی اور کرائے کی مد میں ہر سال اضافہ ہوتا رہے گا۔ پانچ سے دس سال میں ہی اس قابل ہوجائیں گے کہ اگر ہمیں بالکل فنڈز ملنے بند ہوجائیں تب بھی ہم اسپتال کو بہترین طریقے سے چلا سکیں گے۔ یہ درست ہے کہ قواعد و ضوابط کے تحت یہ ٹھیک نہیں ہوگا لیکن ہمارا خدا ہماری نیّت کا شاہد ہے۔ اور ہم خدا کے علاوہ کسی کے سامنے جوابدہ نہیں۔
عمران بغور یہ باتیں سن رہا تھا۔ نعیم نے بات مکمل کی تو عمران کے چہرے پر چمک نظر آرہی تھی۔اس نے نعیم کی کمر تھپتھپا کر ویل ڈن کہا اور پوچھا کہ یہ پراپرٹیز ہم کس کے نام پر خریدیں گے۔ میرے نام پر خریدنا تو ممکن نہیں ہوگا ۔ کوئی نہ کوئی حاسد اس کا کھوج لگا کے مجھے اور اسپتال کو بدنام کرے گا کہ یہ لوگ عطیات اور زکوٰۃ کے پیسوں سے اپنی جائیدادیں بنار ہے ہیں۔ نعیم نے متانت سے سر  ہلایا اور خاتون کی طرف دیکھ کر کہا کہ ہم ساری پراپرٹیز علیمہ باجی کے نام پر خریدیں گے۔ کسی اور کے نام پر خریدنا رسک ہوگا۔ کسی کی بھی نیّت خراب ہوسکتی ہے۔ علیمہ خانم جنہوں نے بچپن سے لے کر آج تک عمران کو اپنے بھائی کی بجائے بیٹے کی طرح پالا تھا۔ آج پھر بھائی کے خوابوں کو پورا کرنے کے لئے کمر بستہ تھیں۔ قربانی، محبّت اور ایثار کی یہ داستان افسانوی لگتی ہے۔
یہ صادق اور امین لوگوں کا قصّہ ہے جسے کچھ فاسق اور لعین غلط رنگ دے رہے ہیں۔ خدا ان کو غارت کرے۔

ناصرہ فدوی - فن اور شخصیت

ادب کے افق پر بہت سے ستارے جھلملاتے ہیں پھر غائب ہوجاتے ہیں۔ بہت کم شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی ضیاء سے آسمانِ ادب ہمیشہ منور رہتا ہے۔ فرد کی داخلی حسیّات کو اجتماعی لاشعور کی مابعد الطبیعیات سے ہم آہنگ کرنا ہر کسی کے بس کا نہیں ۔ یہ بھاری لکّڑ ہر کوئی نہیں لے سکتا۔ پچھلی چند صدیوں کے اردو ادب میں جو ستارے دائمی نور کا منبع رہے ہیں ان میں جنابِ رضی ٹھاہ کا نامِ نامی کسی تعریف کا محتاج نہیں۔ ہر شے کو ناپنے کا کوئی نہ کوئی پیمانہ ہوتا ہے۔ فاصلے میلوں میں ناپے جاتے ہیں۔ دودھ لٹروں میں اور وزن کیلو میں۔ شاعری ناپنے کا پیمانہ رضی ٹھاہ ہیں۔ کسی بھی شاعر یا شاعری کے مقام کا تعین درپیش ہو تو اس کے لیے ہمیں لا محالہ رضی ٹھاہ کو ہی معیار ٹھہرانا ہوگا۔ ان کا یہ شعر دیکھیے:
؎ اتنے خوش کیوں ہو رضی ٹھاہ
کرلیا ہے کیا اک اور ویاہ؟
مابعد جدیدیت کے داخلی انتشارکے جدلیاتی احساس فسوں کو ان کے بعد اگر کوئی سہل ممتنع میں بیان کرپایا ہے تو وہ محترمہ ناصرہ فدوی ہیں۔ نسائی مابعد الطبیعیات کے مجہول  لاشعور کی تہوں میں رینگتی کِرلیوں کے احساسِ تنہائی کو زبان دیتی یہ شاعرہ نئے دورِ شاعری کی ابتداء کا اعلان ہے۔پائمال موضوعات سے گریز، نئی زمینوں میں تازہ الفاظ کی کاشت اور ان سے یافت ہوئے معانی کے نئے جہان ناصرہ فدوی کی پہچان ہیں۔ یہ کسی بے بس فرد کی التجا نہیں بلکہ سٹرونگ انڈیپنڈنٹ وومن کا اظہارِ بغاوت ہے۔ان کی طویل نظم "حبشی حلوہ" کے چند اشعار دیکھیے:
تُم! ہاں تُم
تمہی میرے برفاب دل کی
 قلفی کا  تیلا ہو
یہ دل وہ تھا کہ انجان تھا
کسی چبھن سے
کسی لگن سے
پولکا کا ٹرک ہو جیسے
سرد خانے میں جمی خواہشات
چوکبار ہوں جیسے
بنا تیلے کے!
تپتی دوپہریں گرمیوں کی
قلفی والے کی صدا سے گونجتی تھیں
"کھوئے والی اے ملااااااائی والی اے"
من اندر تک اداس ہے
کیا میرے لیے بھی  کوئی خاص ہے؟
پھر تُم! ہاں تُم
آئے تھے میری زندگی میں
چوکبار بن کے
رنگ، خوشبو، حسن کا نام ناصرہ فدوی ہے۔ جتنی خوبصورت شاعری اس سے کہیں زیادہ خوبصورت آپ کی شخصیت ہے۔ مدہم روشنی، خوابناک ماحول ، جھیل جیسی آنکھیں نیم وا کرکے جب آپ اپنا کلام پیش کرتی ہیں تو یک بیک جیسے کائنات تھم سی جاتی ہے۔ آواز میں ایسا طلسم کہ جو سنے پتھر ہوجائے۔ انسٹاگرام سے فیس بک اور یو ٹیوب تک جیسے زندگی دوڑ جاتی ہے۔ حسن اور فن کا ایسا امتزاج شاید  اس سے پہلے اس کمال تک نہ پہنچا ہو۔بے اختیار علامہ شارق خلیل یاد آتے ہیں۔ حُورکا ہو بہو سراپا۔
معروف نقّاد حسرت جٹ لکھتے ہیں کہ ناصرہ کی شاعری قاری کو ففتھ جنریشن لٹریری ورلڈ میں لے جاتی ہے۔ خیال، بُنت، ڈکشن سب نیا اور انوکھا۔ناصرہ فدوی قاری کو بیرون سے بے خبر کرکے اندرون کے سفر پر لےجاتی ہے۔ تاریخ اور فکشن کے بیچ جو تھِن ریڈ لائن ہے اسے کراس کرکے نئی دنیاؤں کی سیر کراتی ہے۔ شعوری جدلیات کی تحلیلِ نفسی کرکے اسے قاری کے سامنے کھول کے رکھ دیتی ہے۔ جیسے اچار ماش کی دال کو زُود ہضم بنا دیتا ہے۔حسرت جٹ مزید لکھتے ہیں کہ تمہاری حسین آنکھوں کے کنول جب کھلتے ہیں تودل جلوں کے داغ سلگ اٹھتے ہیں۔ تمہاری آواز کا جلترنگ سن کر بھنورے گنگناتے ہیں۔ تمہاری کمرکے بل پر ناگن بل کھاتی ہے۔ تم ہنسو تو کائنات مسکراتی ہے۔ تمہاری اداسی شامِ غم بن جاتی ہے۔ الغرض بقول گمنام شاعر
؎کہوں کس سے میں کہ کیا ہے
ناصرہ فدوی بری بلا ہے
(مندرجہ بالا پیراگراف حسرت جٹ کے مضمون "محبت کی صورتحال" سے لیا گیا ہے جو ماہنامہ "پانچویں نسل" میں شائع ہوا۔ پیراگراف کا آخری حصہ جنابِ حسرت کے انسٹاگرام، ٹوئٹر اور فیس بکی تبصرہ جات پر مشتمل ہے جو آپ نے آنسہ ناصرہ فدوی کی ویڈیوز، فوٹوز، سٹیٹس اور ٹوئٹس پر کیے۔ ادارہ اس کا ذمّہ دار نہیں !)


غالب کے خطوط - جدید


میرے دل کے چین مولوی خادم حسین!
بارے خبر تمہارے پکڑے جانے کی ہوئی۔ طبیعت بوجھل اور دل بے چین ہے۔ رہ رہ کے خیال آتا ہے کہ سرکاری ہرکارے کیسے تمہاری شیریں مقالی سے فیض پائیں گے۔ تم کو بولنے کی عادتِ بد ہے۔ ان کو مار پیٹ کی خُو ۔
؎ خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو
 شتابی میں تمہارا تکیہ کلام یاد آیا۔ ابلیس نے بہکایا کہ دوانے کو اس سے بدل دو۔ قلم کو لگام ڈالی۔تمہارا جملہ کانوں میں گونجا۔ کیا پوچھتے ہو؟ کونسا جملہ؟ ارے بھئی وہی "لو آیا جے فیر غوری!"۔ سچ کہیں تو تم بھی بادشہ سے کم نہیں ۔ دربار سجاتے ہو۔ جانثار رکھتے ہو۔طبیعت استوار ہو تو خلعتیں بانٹتے ہو۔ مزاج برہم ہو تو سر قلم کراتے ہو۔اقبال لاہوری کے اشعار پڑھتے ہو۔جنّوں کی حکایات سناتے ہو۔ کیسے دوست ہو کہ ایک آدھ دانہ ہمارے تصرّف میں نہ دیا۔ جنّ  میسر ہوجائے تو کچھ پینے کی سبیل بنے۔ یہ ممکن نہ ہو تو پری سے بھی کام چل جاوے گا۔
تم بہشت میں جا کے پیو گے۔ حُوروں کے ساتھ جیو گے۔ ہم یہیں پیتے ہیں۔ مر مر کے جیتے ہیں۔ امراؤ بیگم کے بعد اب کسی حُور کی حاجت نہیں رہی یا یوں کہو کہ خواہش نہیں رہی۔  ارےمولوی صاحب! بہشت میں جا کے تم جو کرنے کی تمنا رکھتے ہو۔ فقیر سبھی کچھ یہیں کرچکا۔
؎  ہم کو معلوم ہے جنّت کی حقیقت لیکن
 دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے
لڑکے بالے تمہاری میمز بناتے ہیں۔ کبھی ہم کو ہنساتے ہیں کبھی دل جلاتے ہیں۔ آخر تم ہمارے یار جانی ہو۔نصیحت کو فضیحت نہ جانو تو ایک بات کہتے ہیں۔ جب دربار سجا کے بیٹھتے ہو تو گاہے لگتا ہے کہ نشہ صرف ہمی نہیں کرتے۔کیا الٹ سلٹ بول جاتے ہو۔ بلی کو جن بنا دیتے ہو۔ گردے کو ناشدنی سناتے ہو۔ کل ہی ایک کندہءناتراش کہہ رہا تھا کہ گردے کو دھمکی دے کے ٹھیک کرلیا۔ اب ٹانگوں پر بھی ہاتھ پھیر کے اسپِ تازی ہوجاؤ۔ میاں ہم حضرت صاحبِ عالم کا دربار دیکھ چکے۔آپ کے پاپوش چومنے والے فرنگی سپاہ کے قلب میں پرچم تھامے کھڑے تھے۔ تمہارے درباری سرکار کو پکّے کاغذ پر لکھ کے دیتے ہیں۔ اس مولوی کو ہم نہیں جانتے۔ ہمارا کوئی تعلق اس سے نہیں ہے۔ جب تک ان کو بریانی، حلوے، بادام، پستے، اخروٹ کھلاتے تھے۔ تمہارا دم بھرتے تھے۔ سرکار نے ڈنڈا دکھایا تو تم کو پہچاننے سے انکاری ہیں۔
کم لکھے کو بہت جانو۔ سرکار سب کی خبر رکھتی ہے۔ کوئی پیغام چھلنی سے گزرے بغیر نہیں جاتا۔ تم مردِ مجاہد ہو۔ایمان کی طاقت رکھتے ہو۔  میں ایک ضعیف ، نحیف بوڑھا۔ اس عمر میں قیدخانہ، جوانی میں پرہیزگار ہونے جیسا ہے۔ جہاں رہو خوش رہو۔۔۔ میرے پیارے دلّے۔
نجات کا طالب
غالبؔ

باس کا المیہ

کہانی میں ہیرو اتنا ضروری نہیں جتنا ولن ضروری ہے۔ فلموں کو دیکھ لیں جس فلم کا ولن بمباٹ ہوفلم بھی سپر ہٹ ہوتی ہے۔ مشہور ولن حضرات میں ایک عادت مشترک ہے کہ سبھی احباب وفاداری کو خاص اہمیّت دیتے ہیں۔ شاید غالب کے طرفدار ہیں کہ۔۔۔ وفاداری بشرط استواری اصل ایماں ہے۔۔وفاداری کے ساتھ اس بات کو بھی یقینی بناتے ہیں کہ بندہ طاقتور اور بالکل احمق ہو۔ سوچنے والے اور ذہین لوگ ولن حضرات کو بالکل پسند نہیں ہوتے اور وہ ان سے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ مبادا کسی دن انہیں کا بولورام کرکے ان کی جگہ باس بن جائیں۔ باس کا المیہ ہے کہ اس کے پاس آگے جانے کی گنجائش نہیں ہوتی، صرف پیچھے یا اوپر جاسکتا ہے۔
ہیرو کا قریبی ساتھی ہمیشہ کوئی کامیڈین ہوتا ہے جبکہ ولن انکل کے نمبردو ایک گڈ لکنگ، طاقتور، وفادار اور احمق ڈُوڈ ہوتے ہیں۔ یہ بھائی جان صرف باس کے احکامات پر عمل کرتے ہیں ان پر کوئی اعتراض نہیں کرتے اگرچہ حکم بے وقوفانہ ہی کیوں نہ ہو۔ فلاں  خاتون کو اٹھا لاؤ، فلاں مردوئے کو ٹپکا دو۔ فلاں کی فیکٹری جلا دو۔ باس انکل کبھی ملیں تو ان کی خدمت میں گوش گذار کیا جائے کہ حضرت! اربوں کا کام آپ کرتے ہیں تو آپ کو خواتین اٹھوانے کی کیا ضرورت ہے؟ وہ بھی ہیرو بھائی جان کی کوئی قریبی رشتہ دار۔  ہیرو بھائی جان پھر کالج میں اپنی سویٹ ہارٹ کے ساتھ بارش والے گانے چھوڑ کے آپ کے پیچھے لگ جاتے ہیں اور ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد آپ اور نمبر دو کو خفیہ ہیڈکوارٹر سمیت غتربود کردیتے ہیں۔ بعینہ فیکٹری جل جائے تو اگلے ہفتے جلی ہوئی فیکٹری کا مالک ہفتہ کیسے پہنچائے گا؟ فیکٹری چلنے دیں تو ہفتہ بھی باقاعدگی سے ملتا رہے گا۔ ڈرانے کے اور ہزار طریقے ہیں۔ مرغی ذبح کرنا ضروری نہیں ہوتا الاّ یہ کہ آپ نے مرغی سے سونے کا انڈا نکالنے کے بجائے اسے بھوننا ہو۔
باس انکل کے نمبر دو بھی آخر میں اپنی ساری وفاداری، گڈلکنگ نیس، طاقت کے ساتھ اسی انجام سے دوچار ہوتے ہیں جو باس انکل کا ہوتا ہے۔ ولن حضرات کو ہمارا مفت مشورہ ہے کہ نمبر دو وفادار چاہے ہو نہ ہو، احمق نہیں ہونا چاہیئے۔ ذہین نمبر دو آپ کی جگہ تو شاید لے سکتا ہو لیکن جان نہیں لیتا۔ آپ کو ایسے بہت سے کام کرنے سے  منع کرسکتا ہے جو آخر کار آپ کی وفاتِ حسرت آیات پر منتج ہوتے ہیں ۔ احمق اور گڈ لکنگ  اور وفادار انہی کاموں کو بڑھ چڑھ کرانجام دیتا ہے اور بالآخر دونوں احباب فلم کے آخر میں کسی سریے میں پروئے پائے جاتے ہیں۔
باس حضرات کو اپنا المیہ سمجھنا چاہیئے کہ ان کے پاس آگے جانے کی جگہ نہیں ہوتی یا پیچھے جاسکتے ہیں یا اوپر۔ ذہین آپ کو پیچھے کرسکتاہے جبکہ احمق آپ کو اوپر پہنچا سکتا ہے!

عالمِ بے بدل

جناح کالونی  فیصل آبادکی ہوزری مارکیٹ کے دوسرے اور تیسرے بازار کے عین درمیان بخاری مسجد واقع ہے۔ ہم نے ناظرہ قرآن مجید وہیں سے پڑھا۔ دوسرے بازار کے کونے پر ہماری ہوزری کی دکان تھی۔ سکول سے واپس آکر ہم گھر نہیں جاتے تھے بلکہ سپارہ پڑھنے بخاری مسجد چلے جاتے ۔عصر کی اذان کے ساتھ چھٹی ہوتی۔ دکان پر آکر سکول سے ملا ہوا ہوم ورک کرتے ۔ اسی اثنا میں مغرب کا وقت ہوجاتا ۔اس وقت تک ہم کافی ہوم سِک محسوس کرنا شروع کردیتے تھے۔ دیکھیے، امی تو بندہ بوڑھا ہوجائےتب بھی یاد آتی ہیں تو اس وقت ہم بالکل چوتھی جماعت میں پڑھنے والے چھوٹے سے بچے تھے۔ خیر۔۔ بخاری مسجد دیوبندی مسلک کی مسجد تھی۔ جنرل ضیاءالحق کا دور تھا۔ جہاد  زوروں پر تھا۔ مسجد کے دروازے پر سفید، سیاہ جھنڈے والے پوسٹر اکثر لگے ہوتے جن میں کسی جہادی جلسے اور اس میں عظیم مجاہدین کی شرکت کی خبریں ہوا کرتیں۔ بخاری مسجد میں لیکن ایسا جلسہ کبھی نہیں ہوا۔ وجہ شاید اس کی یہ ہو کہ تجارت اور کاروبار کا کوئی مذہب، مسلک اور قومیت نہیں ہوتی۔ جس مرغی سے چندے، عطیات کے سونے کے انڈے ملتے ہوں اس کو کوئی عالم کیسے ذبح کرسکتا ہے؟
تبلیغی جماعتیں اکثر اس مسجد میں آکر ٹھہرتیں۔ جناح کالونی کی ہر دکان کا گشت ہوتا۔ لوگوں کو نیکی، نماز اور اللہ کی راہ میں محنت کرنےکا درس دیا جاتا۔ تبلیغی جماعت سے منسلک علماء اور خطیبوں کے پروگرام اکثر ہوا کرتے۔ انہی پروگروامز کے اشتہار پر ہم نے پہلی دفعہ مولانا طارق جمیل کا نام پڑھا۔ اس وقت شاید ہم نویں یا دسویں جماعت میں تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ ابو جی اکثر جمعرات کو بلال مسجد جایا کرتے جہاں تبلیغی اجتماع ہوتا تھا۔ بہت دفعہ انہوں نے ہمیں ساتھ جانے کی ترغیب دلائی لیکن ہم ذرا کافر طبیعت کے تھے اور ہیں تو کبھی نہیں گئے۔ ابو جی نے بھی کبھی زبردستی لے جانے کی کوشش نہیں کی۔ بہرکیف، ابو جی کی زبانی ہی مولانا طارق جمیل کی تعریف سنی۔ نوجوان ہیں، ڈاکٹر ہیں، ایسا بیان کرتے ہیں کہ مجمع مسحور کردیتے ہیں۔ نوجوان نسل میں خاص طور پر مقبول ہیں۔
زندگی گزرتی رہی۔ سکول سے کالج میں جا پہنچے۔ مولانا کی شہرت بھی بڑھتی رہی۔ بہت سے دوستوں نے بھی کہا کہ کسی دن چل کے سنو تو سہی کہ کیسے عالم بے بدل ہیں۔ ایک تقریر سن کے ہی دل کی حالت بدل جاتی ہے۔ لیکن ہمارا دل کبھی نہیں مانا۔ ہمیشہ یہ سوچتے تھے کہ اگر کوئی قرآن پڑھ کے نہیں بدل سکتا تو یہ مولوی وغیرہ کیا بیچتے ہیں کہ ان کو سن کے دل کی حالت بدل جائے؟ کچھ گستاخانہ خیالات بھی یلغار کرتے جن کو ہم لاحول پڑھ کے رفع کرنے کی کوشش کرتے۔ دل کی حالت تو کوئی گانا سن کے بھی بدل سکتی ہے، کوئی فلم دیکھ کے بدل سکتی ہے۔ کوئی پری چہرہ نظر آجائے تو بالکل کایا پلٹ ہوجاتی ہے۔ تو یہ مولانا بھی کیا انٹرٹینر ہیں؟ یاد رہے کہ ان فاسد خیالات کی آمد کے وقت ہم نے صرف مولانا کا نام ہی سن رکھا تھا کبھی ان کو سننے کی توفیق نہیں ہوئی تھی۔
عملی زندگی میں آمد کے بعد رولر کوسٹر کی سواری میں اتنی مصروفیت رہی کہ کوئی مولانا وغیرہ یاد نہ رہے۔ رب البتہ یاد آگیا۔ کافی سال پہلے خلیج میں مزدوری کے لئے پہنچے تو وہاں دوبارہ ان کا ذکر سنا۔ ایک جاننے والے نے مولانا کی سی ڈی بھی تھما دی کہ دل افروز بیانات ہیں۔ضرور سننا۔ ہم نے سوچا کہ اب تو مولانا چل کے ہمارے پاس آپہنچے ہیں اب تو ضرور سننا چاہیئے ورنہ کفرانِ نعمت ہوگا۔ ایک شام ان کی سی ڈی کمپیوٹر میں لگائی اور بیان شروع ہوگیا۔ دیکھیے، ہمیں قصے کہانیوں سے بہت دلچسپی ہے۔ شاید سبھی کو ہوتی ہے۔ پہلی دفعہ سننے پر ہمیں مولانا ایسے فنکار لگے جو مذہب اور قصے کہانیوں کی ایسی کاک ٹیل بناتے ہیں کہ سننے والے مدہوش ہو کے رہ جاتے ہیں۔ ہم نے یہی رائے اپنے اس جاننے والے کے گوش گذار بھی کی جو بوجوہ ان کو پسند نہیں آئی۔ کہنے لگے کہ باتیں تو اچھی کرتے ہیں۔ اچھے کام کرنے کا کہتے ہیں۔ برے کاموں سے بچنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ہم نے جواب دیا کہ کیا یہ باتیں پہلے سے آپ کے علم نہیں تھیں؟ کیا آپ کو آج تک یہ نہیں پتہ چلا کہ جھوٹ نہیں بولنا چاہیئے۔ ظلم نہیں کرنا چاہیئے۔ کسی کا مال نہیں کھانا چاہیئے۔ نماز پڑھنی چاہیئے۔ سچ بولنا چاہیئے۔ ماں باپ کی خدمت کرنی چاہیئے۔سب سے حسن سلوک کرنا چاہیئے۔کہنے لگے کہ بالکل علم ہے۔  تس پر ہم نے ہنس کے کہا کہ خدا ، رسول کی باتوں پر عمل کرنے کے لئے آپ کو مولانا کی تقریر کی ضرورت ہے؟
مولانا بڑے پیارے انسان ہیں۔ شکل سے بھی اور باتوں سے بھی۔ سوشل میڈیا کے آنے کے بعد اکثر ان کی تقاریر کے ٹکڑے سننے کا اتفاق ہوا۔ حوروں کے ایسے نقشے کھینچے کہ ہم جیسا گناہ گار بھی سنجیدگی سے نیک بننے کی سوچنے لگا۔ حاسدین کہتے ہیں کہ مولانا غلو کرتے ہیں۔ ضعیف روایات بیان کرتے ہیں۔ مداحین کہتے ہیں کہ بات تو اچھی کرتے ہیں۔ نیّت تو نیک ہے ناں۔ بس یہیں آکر ہم لاجواب ہوجاتے ہیں کہ نیّت تو نیک ہے ناں۔ دنیا میں جتنے غم، آفات اور مشکلات ہیں ان میں جو بھی شخص لوگوں کو انٹرٹین کرتا ہے، ان کو چند لمحے سب دکھ بھلا کر خوش ہونے کا موقع دیتا ہے، اس سے اچھا اور کون ہو سکتا ہے؟ اچھا شاعر، اچھا  ادیب، اچھا اداکار، اچھا گلوکار، اچھا خطیب۔۔۔ یہ سب انٹرٹینر ہیں۔ اللہ سب کو جزائے خیر دے۔

سنیل حسرت کے ساتھ ایک دن

آپ دنیا کا چکر لگا لیں۔ آپ یورپ چلے جائیں۔ امریکہ چلے جائیں۔ روس چلے جائیں۔ برازیل چلے جائیں۔ کولمبیا چلے جائیں۔ نیوزی لینڈ چلے جائیں آپ کو ہر جگہ پاکستانی مل جائیں گے۔ یہ دنیا پر چھائے ہوئے ہیں۔ یہ ذہین ہیں۔ یہ محنتی  اور خوش اخلاق ہیں۔ یہ لوگوں کو اپنے اخلاق اور کام سے گرویدہ کر لیتے ہیں۔ بابا جی کی دعا سے میں نے تقریبا ساری دنیا وزٹ کی ہوئی ہے۔ بابا جی کی کہانی بھی دلچسپ ہے۔ یہ گگّو منڈی کے نواحی گاؤں میں رہتے تھے۔ یہ پرانی جوتیوں، کپڑوں، ٹین ڈبے کے عوض مرونڈا اور لاہوری پُوڑا دیتے تھے۔ یہ بالکل ان پڑھ تھے۔ میں ان سے گگّو منڈی میں ملا جب اپنی کلاس فیلو نسرین کا پیچھا کرتے ہوئے اس کے گھر تک پہنچا تھا۔ وہاں نسرین کے بھائیوں نے مجھے کافی کُوٹا۔
اسی وقت بابا جی اپنی ریڑھی کے ساتھ گلی میں وارد ہوئے۔ انہوں نے مجھے چھڑایا، لہوری پُوڑا  اور پانی کا گلاس دیا۔ میرے حواس قائم ہوئے تو بابا جی کہنے لگے، "پُتّر، تیرے ماتھے پر مجھے حرام لکھا ہوا نظر آرہا ہے۔ تو بہت ترقی کرے گا۔اپنی دو خواہشیں بتا، جو تو اپنی زندگی میں پوری کرنا چاہتا ہے۔" یہ حیران کردینے والا واقعہ تھا۔ ابھی بابا جی نے اپنا جملہ مکمل ہی کیا   تھاکہ چاروں طرف سے ہلکے بادل آگئے۔ ٹھنڈی ہوا چلنے لگی۔ فضا میں خوشبو سی پھیلنے لگی۔ بابا جی کا قد بلند ہوتا ہوا نسرین کے گھر کے کوٹھے تک جا پہنچا۔ میں فرطِ عقیدت سے بابا جی کے پیروں میں جا گرا۔ میں نے کہا، میری بس دو خواہشیں ہیں۔ ایک تو شاہزیب خانزادے کو پھینٹی لگانی ہے دوسری پوری دنیا وزٹ کرنی ہے۔ بابا جی نے مجھے اپنے قدموں سے اٹھایا اور ٹانگوں سے لپٹا کے بولے، "جا بچّہ۔۔۔ دونوں خواہشیں پوری"۔
یہ میٹا فزکس ہے۔ یہ روحانیت ہے۔ یہ پیرالل یونیورس ہے جسے بد عقیدہ لوگ نہیں مانتے۔ آپ مجھے دیکھ لیں۔ میری دونوں خواہشیں پوری ہوئیں۔ میں نے خانزادے کو چپیڑیں بھی کرائیں، میں نے دنیا بھی گھومی۔ دنیا میں ہر جگہ جہاں میں گیا وہاں مجھےکوئی  نہ کوئی پاکستانی بابا جی ضرور ملے۔ ان بابوں نے مجھے بہت سی آکورڈ سچویئشنز اور پوزیشنز سے نکالا۔ پچھلی گرمیوں میں یورپ کا ٹُور لیٹ ہورہا تھا۔ پِت میری کمر سے ہوتی ہوئی گردن تک پہنچ گئی تھی۔ میں نے اپنے پروڈیوسر سے کہا کہ اب میں اور کام نہیں کرسکتا۔ یہ کہہ کر میں نے پاسپورٹ نکالا اور ائیرپورٹ جا پہنچا۔ پہلی فلائٹ لندن کی تھی۔ میں نے سوچے بغیر ٹکٹ لیا اور لندن پہنچ گیا۔ لندن کا موسم بہت ٹھنڈا، حسین اور لَسٹ آمیز تھا۔ شام کا کھانا  ملک تاجور نذیر نے کھلایا۔ یہ میرے فین ہیں۔ یہ ہر اس جگہ پہنچ جاتے ہیں جہاں میں جاتا ہوں۔ انہوں نے مجھے بیف کباب، نہاری، پاستا، پاوے، کھدیں، نان، پیزا اور وڈّی بوتل  گورمے کی پلائی۔ کھانا کھا کے باہر نکلے تو حسین صورتیں دیکھ کر دل میں ہلچل مچنی شروع ہوگئی۔ ملک صاحب سے ایک دو دفعہ اسی للک میں بغلگیر ہوا تو وہ بے چارے ڈر کے رخصت ہوگئے۔
پیکاڈلی سرکس کی گلیوں میں گھومتے ہوئے ایک حسینۂ نازنین میری طرف دیکھ کر مسکرائی تو میں فورا جا کر اس سے بغلگیر ہوگیا۔ ابھی جپھی سنبھلی بھی نہیں تھی کہ چٹاخ سے دائیں کان پر کسی نے لپّڑ دے مارا۔ طیش کے عالم میں گھوم کے دیکھا تو ایک صورت حرام گورا جو کم از کم ڈیڑھ سو کلو کاہوگا، موجود تھا۔ کہنے لگا کہ یہ حسینہ موسوم بہ کیتھی میری لُگائی ہے اور میری طرف دیکھ کر مسکرائی  تھی، تو اس سے پپّیاں جپھّیاں کس چکر میں کر رہا ہے؟۔ میں سنبھلا اور بھاگ کر دس قدم دور چلا گیا اور کہا، دیکھیں  پیٹر۔۔۔ میں اَنسان ہوں۔ اَنسان سے غلطی ہوجاتی ہے۔ اس کو معاف کر دینا چاہیئے۔ گورا گھورتے ہوئے میری طرف بڑھا آرہا تھا کہ اچانک غیبی امدا د آئی۔ یہ معنّک کوجک نما انسان تھے ۔ انہوں نے پیٹر کو انوکی لاک لگایا۔ پیٹر منہ کے بل زمین بوس ہو گیا۔ انہوں  نے میرا ہاتھ تھاما اور پاس کھڑی لیمبرگینی میں گھس گئے۔
کارمیں بیٹھنے کے تھوڑی دیر بعد حواس بجا ہوئے تو میں نے ان سے کہا، اے رحم دل ٹَکلے، میں کس زبان سے تمہارا شکریہ ادا کروں۔ آج تم نے جیسے میری جان بچائی ہے مجھے سالوں پہلے گگّو منڈی کا واقعہ یاد آگیا جہاں ایک بابا جی نے میری سہائتا فرمائی تھی۔ رحم دل انسان نے عینک اتاری۔ پینٹ میں اڑسی ہوئی شرٹ باہر نکال کر اس کے دامن سے عینک کے شیشے صاف کئے۔ میرے مفلر سے اپنے سر کو صاف کیا۔ عینک کو آنکھوں پر جمایا اور بولا، "میرا نام سنیل حسرت ہے۔ میں گگّو منڈی والے اولڈ مین کا گرینڈ سَن ہوں۔ میرے فادر نے مجھے بتایا تھاکہ تمہارے گرینڈ پا بہت عظیم بم کیچر تھے۔ کفّار کے ساتھ اجناگ میں نے انہوں نے سبز چولا پہن کربہت سے ابوام کیچ کئے۔ آخری عمر میں عشّاق کو پھینٹی سے بچانے کے مشن میں منہمک ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ میرے گرینڈ سَن کو بتانا کہ ایک رات لندن کی پیکاڈلی سرکس میں ایک پاکستانی حسین نوجوان کو پیٹر گورے سے بچانا ہے۔ یہ نوجوان آگے چل کر کچھ بھی نہیں بنے گا لیکن مجھے اس میں اپنی آخرت نظر آتی ہے۔ یہ کہہ کر سنیل حسرت کی آنکھیں بھرآئیں اور ناک چَونے لگی۔یہ اپنی قیمتی قمیص کے دامن سے دونوں اشیاء صاف کرنے لگے۔ ان میں کوئی امیروں والی بَو  نہیں تھی۔ انہوں نے جیکٹ کی جیب سے ادھ کھایا برگر نکالا اور کھانے لگے۔
لیمبرگینی اتنی دیر میں ایک قلعہ نما عمارت کے دیو ہیکل دروازے پر پہنچ کے رک گئی تھی۔ ڈرائیور نے دو  تین دفعہ ہارن بجایا لیکن گیٹ نہیں کھلا۔ اس پر مسٹر حسرت نے انہماک سے دروازے کی طر ف دیکھا۔ دروازہ خود بخود کھل گیا۔ قلعہ کے اندر کی دنیا بھی کسی شاہی محل سے کم نہیں تھی۔ سنیل حسرت نے مجھے سجے سجائے بیڈروم میں پہنچایا اور آرام کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کل صبح ملاقات ہوگی۔ جاتے ہوئے انہوں مُڑ کر دیکھا اور آنکھ مارتے ہوئے پوچھا، "کسے ہور چیز دی لوَڑ تے نئیں؟"۔ میں نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔ سنیل حسرت کے جانے کے چند ہی منٹ بعد دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو ایک حسینہ ریشم و کمخواب میں لپٹی کھڑی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی پگھل کر میری بانہوں میں آگئی۔ کمرے میں چاروں طرف سے ہلکے میوزک کی آواز آنے لگی۔۔۔
"آکے تیری بانہوں میں۔۔۔ ہر شام لگے سندوری"
رات کا جانے کون سا پہر تھا کہ دروازے پر پھر دستک ہوئی۔ لشٹم پشٹم اٹھ کر دروازہ کھولا تو سنیل حسرت کرتا پاجامہ پہنے، سر پر کروشیے کی ٹوپی ڈاٹے، ہاتھ میں تسبیح پکڑے کھڑے تھے۔ کہنے لگے جلدی کریں تہجّد کا وقت نکلا جارہا ہے۔قلعہ کے پائیں باغ میں باجماعت نمازِ تہجّد اداکی۔ ان کی برٹش ایکسنٹ میں عربی تلاوت نے سماں باندھ دیا۔ تہجد، فجر اور ذکر اذکار سے فارغ ہونے کے بعد سنیل حسرت نے کہا کہ آپ بھی تھوڑی دیر آرام کرلیں یہ وقت میں اپنی وائف کے ساتھ گزارتا ہوں۔ اس کے بعد بریک فاسٹ کریں گے۔
ناشتے کی میز پر سنیل حسرت نے اپنی زندگی کے کچھ اورپہلودکھائے۔ یہ بہت ہارڈ ورکر تھے۔ انہوں نے دن رات محنت کرکے اربوں پاؤنڈز کمائے۔ انہوں نے ہر اس چیز کی تجارت کی جس میں انہیں منافع نظر آیا۔ یہ زندگی بارے ایک زبردست نظریہ رکھتے ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ حرام، حلال پیسہ کچھ نہیں ہوتا۔ پیسہ یا  ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کم عمری میں ہی فیصلہ کرلیا  کہ پیسہ ہوگا۔ لہذا آج ان کے پاس پیسے کی ریل پیل ہے۔ یہ کہنے لگے کہ ان کا دل اپنے گرینڈ فادر کے کنٹری کے لئے دھڑکتا ہے ۔ یہ چاہتے ہیں کہ پُور پیپل کے لئے کچھ کر جائیں۔ یہ ایسا پروگرام بنا رہے ہیں کہ پاکستان کے ہر غریب آدمی کے پاس اپنا موٹرسائیکل، سمارٹ فون اور ٹی ٹی ہوگا۔ کسی کو ملازمت کی ضرورت نہیں رہے گی اور سب اپنا کام کرکے پیسہ کما سکیں گے۔
یہ میری زندگی کا ان بیلیو ایبل وقت تھا۔ میں نے اپنی لائف میں کبھی ایسا گریٹ اور آنسٹ پرسن نہیں دیکھا۔ عقیدت و احترام سے میری آنکھیں بھر آئیں۔ اچانک ڈائننگ روم ایسی ملکوتی خوشبو سے بھر گیا جو اس سے پہلے میں نے کبھی محسوس نہیں کی تھی۔ کمرے کی فضا میں تجلّیاں چمکنے لگیں۔ اس خوابناک ماحول میں سنیل حسرت کی آواز گونجی، "میں ذرا وضو کر آواں، ہوا سَر گئی سِی"۔

پابی کی ڈائری


تہجّد کی ادائیگی کے دوران آنکھ لگ گئی۔ کشف کا وقت تھا۔ خواب میں کیا دیکھتی ہوں کہ اردوان پاکستان کے دورے پر آئے ہیں۔ ہوائی مستقر پر گارڈ آف آنر کے بعد انہوں نے گھٹنوں کے بَل جھک کر خاں صاحب کی بیعت کی اور اعلان کیا کہ آج سے پاکستان کے سارے قرضے ترکی کے ہوئے اور ترکی کے سارے وسائل پاکستان کے۔ اردوان نے نَم آنکھوں اور رُندھی آواز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عثمانی خلافت کے خاتمے کے بعد آج کا دن اُمّت مسلمہ کی نشاۃ ثانیہ کا دن ہے۔ آج سے میں نیازی خلافت کی شروعات کا اعلان کرتا ہوں۔ خاں صاحب ہی وہ بطلِ جلیل ہیں جن کا وعدہ  حضرت اوریا  مقبول جان کے پیشگوئیوں والے بزرگ ذکر کرتے رہے ہیں۔اردوان 8 فٹ کی تلوار اور لعل و گہر جڑا تاج لے کر خاں صاحب کی طرف بڑھ رہے تھے کہ کسی نے جھنجھوڑ کر جگایا۔ دیکھا تو خاں صاحب جناح کیپ ، تہبند اور کُرتے میں ملبوس مجھے جگا رہے تھے۔ "اٹھ جاؤ!!  فجر کا وقت ہوگیا ہے۔"
امامت خاں صاحب نے کی۔ دوسری رکعت میں التحیات کے بعد پھر اللہ اکبر کہہ کر قیام کے لئے کھڑے ہونے لگے تو میں نے کھنگورا مارا، "اہممم۔۔ بے جاؤ۔" جلدی سے بیٹھ گئے۔ نماز کے بعد ورزش کرنے باہر باغ میں چلے گئے۔ میں نے لاکھ کہا کہ ٹراؤزر پہن لیں  لیکن خاں صاحب نے کہا کہ جناح کیپ سے قائد  اور تہبند سے شاعرِ مشرق والی فِیل آتی ہے۔ ویسے بھی اس وقت سب سوئے ہوئے ہیں تو پردہ کا بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ ماشاءاللہ خاں صاحب شرعی پردے  کا بہت خیال رکھتے ہیں۔
نماز کے بعد جائے نماز پر ہی وظائف شروع کردئیے۔ میں چھوٹی سی تھی جب پی ٹی وی پر الف لیلی ڈرامہ آتا تھا۔ اس میں اڑنے والے قالین ہوتے تھے۔ میں سوچتی تھی کہ کاش میرے پاس بھی ایک اڑنے والا قالین ہوتا۔ لڑکپن سے ہی روحانیت کی طرف رجحان ہوگیا۔ سالوں کی منزلیں مہینوں میں طے ہوگئیں۔ زیادہ تر وقت جائے نماز پر ہی گزرتا تھا۔ ایک دن وظائف پڑھتے ہوئے پیاس محسوس ہوئی لیکن اٹھنے کو دل نہ کیا۔ کبھی کسی ملازم سے ذاتی کام کا بھی نہیں کہا تھا۔ اچانک دل میں خیال آیا کہ کیا ہی اچھا ہو اگر یہ جائے نماز اڑنے لگے اور میں فریج تک جا کر پانی پی لوں۔ یہ خیال آنا ہی تھا کہ جائے نماز زمین سے تین فٹ بلند ہوگیا اور آہستگی سے فریج کی طرف جانے لگا۔میں  روحانی دنیا کے ایسے کمالات دیکھ چکی تھی اس لئے حیرت نہ  ہوئی۔ اللہ کا شکر ادا کیا۔ جائے نمازمیری سوچ سے کنٹرول ہورہا تھا۔ فریج کے عین سامنے جائے نماز  رک گیا۔ میں نے فریج کھولا، پانی پیا اور دوبارہ اپنے کمرے میں آگئی۔ اس کے بعد یہ معمول ہوگیا۔ ہانڈی روٹی کرتے ہوئے بھی میں جائے نماز پر ہی ہوتی تھی۔ اسی دوران نماز کا وقت ہوتا تو جائے نماز ازخود قبلہ رُو ہوجاتا۔ ہانڈی دَم پر لگا کر میں نماز پڑھ لیتی۔ اس معمولی سی کرامت کا سوائے گھر والوں کے کسی کو علم نہ تھا۔
وظائف سے فارغ ہو کر ناشتہ تیار کرنے کچن میں پہنچی تو فریج میں انڈے ختم تھے۔ میں نے فورا ہرقلاطوس کو بلایا اور ڈانٹا کہ رات کو دس انڈے تھے اب ایک بھی نہیں ہے۔ وہ بے چارا شرمندہ ہوا۔ کہنے لگا کہ رات میرے کزن پاپارینا اور جموراتون آگئے تھے۔ ٹیرس والا گوشت ختم ہوچکا تھا تو ان کے لئے ایگ سیلڈ سینڈوچ بنانے پڑے۔ جملہ ختم کرتے ہی اس کی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے۔ میں نے ہرقلاطوس کر پچکار کر کہا کہ کوئی بات نہیں۔ یہ لو 100 روپیہ اور لڈّن جنرل سٹور سے بھاگ کے انڈے پکڑ لاؤ۔ ہرقلاطوس کے انڈے لانے تک میں نے شہد (اصلی!)، پنیر، آم، دہی، خشک میوہ جات، کھجوریں ایک ٹرے میں سجائیں۔ خاں صاحب نے ایک اہم میٹنگ اٹینڈ کرنی تھی۔ ڈائننگ ٹیبل پر وہی پھٹی ہوئی قمیص والا سوٹ پہن کے بیٹھے تھے۔ میں نے جائے نماز کو زمین پر لینڈ کیا اور جا کر قمیص کا دامن اٹھا کر ان کو دکھایا کہ یہ کپڑے پہن کر میٹنگ میں جائیں گے؟ خاں صاحب نے تسبیح سے سر اٹھا کر میری طرف نگاہِ غلط انداز سے دیکھا اور ہلکا سا تبسم فرما کر دوبارہ تسبیح رولنے لگے۔ میرے ذہن میں جھماکا سا ہوا اور ساری بات سمجھ آگئی۔ روحانیت کی پیاسی دو روحوں کا ملاپ اسی لئے ہوا کہ دونوں کے درجاتِ تصوّف بلند تھے۔ فقر، استغنا، رحمدلی، انکساری، مہمان نوازی جیسی صفات نے ہی ہم دونوں کو ایک کیا۔ ۔۔۔۔ اللہ نے رَلائی جوڑی۔۔۔
دوپہر کو ہرقلاطوس پھر مسمسی سی صورت بنا کر ایک دم حاضر ہوگیا۔ لجاجت سے بولا، "باجی، دو تِن دوست فیر آگئے نیں۔ میں فریج چیک کیتا، تھوڑی جئی مٹھیائی پئی اے۔ جے کہوو تے لے لواں؟"یہ کہتے ہوئے اس کے سینگ بھی جھکے ہوئے لگ رہے تھے۔ میں نے مصنوعی غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیا روز روز کی مہمان نوازی شروع ہوگئی ہے؟ یہ سنتے ہی ہرقلاطوس الٹے پیروں گھوم کر واپس جانے لگا۔ میں نے آواز دی تو بھرّائی ہوئی آواز میں بولا، "ہاں جی باجی"۔ میں نے اسے مٹھائی لے جانےکی اجازت دی تو خوشی سے پورے شہر کے تین چکر ایک ثانیے میں لگا آیا۔ دوپہر کے کھانے میں دیسی مرغی کا سادہ سا سالن بنایا۔ میری خوراک تو معمولی سی ہے۔ خاں صاحب بہت شوق سے یہ سالن تناول کرتے ہیں۔ کچن سے فراغت کے بعد لیونگ روم میں آئی تو موتی دروازے سے گِچّی نکال کر دیکھ رہا تھا جیسے اندر آنے کی اجازت مانگ رہا ہو۔ میری طرف دیکھ کر گردن جھکالی۔ میں نے کہا کہ اندر آجاؤ لیکن وہ پرلے کونے میں جو چھوٹی میز ہے اس کے نیچے بیٹھنا، ادھر ادھر نہ گھومنا۔ اس نے گردن اوپر نیچے ہلائی اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا مقررہ جگہ پر جا براجمان ہوا۔
شام ہونے لگی تھی۔ خاں صاحب ابھی تک واپس نہیں آئے تھے۔ میں نے ان کے آنے سے پہلے ہلکی آنچ پر سالن گرم کرنے کے لئے رکھ دیا ۔ خاں صاحب کسی میٹنگ میں کچھ نہیں کھاتے نہ کسی کو کھانے دیتے ہیں۔ گھر آتے ہیں ان کو سخت بھوک لگی ہوتی ہے۔ سالن گرم ہونے میں وقت تھا تو میں نے سوچا کہ کچھ نوافل ہی ادا کرلوں۔ نوافل ادا کرکے وظائف میں مشغول تھی کہ خاں صاحب کی آواز آئی، "شگفتہ! شگفتہ!"۔ میں نے ہاتھ کے اشارہ سے ان کو چُپ رہنے کا کہا تاکہ وظیفہ مکمل ہوسکے۔ وظیفہ مکمل کرکے جائے نمازکو ٹیک آف کیا۔ خاں صاحب کہیں نظر نہ آئے۔ لیونگ روم میں نظر دوڑائی تو موتی کی ٹانگیں کاؤچ کے پیچھے نظر آئیں۔ وہاں جا کر دیکھا تو خاں صاحب کاؤچ کے پیچھے بیٹھے تھے۔ آنکھوں میں آنسو۔ موتی بھی ان کو دیکھ کر آبدیدہ تھا۔ میں نے کہا، میں صدقے، کیا ہوا؟ کسی نے کچھ کہا ہے؟ خاں صاحب نے مسمساتے ہوئے اپنا دائیں کان دکھایا، سرخ ہورہا تھا۔
 "اتنی زور سے میرا کان مروڑا ہے۔" خاں صاحب نے میٹنگ کی روداد ایک جملے میں بیان کرکے موتی کو گلے لگا لیا اور پھوٹ پھوٹ کے رونے لگے۔

انصاف کا ترازو


یہ اکابرینِ ملّت اوربزرگانِ دین کا عکس ہیں۔ یہ ہارڈ ورک اور تقوی پر بیلیو کرتے ہیں۔ ان کی ساری لائف اونسٹی، پرہیزگاری، باکرداری اور رزقِ حلال پر بَیس ہے۔ یہ ورلڈ کپ جیت گئے۔ انہوں نے ہسپتال بنا دیا۔ یہ حمید گل سے ملے۔ وہ ایک جوہری تھے۔ انہوں نے پہچان لیا کہ یہی وہ شہسوار ہے جس کا ملّت اسلامیہ کو انتظار ہے۔ یہ سیاست میں آگئے۔ انہوں نے 22 سال سٹرگل کی۔ یہ آخر کار کامیاب ہوگئے۔ ان کی کامیابی کی داستان کسی ہالی ووڈ بلاک بسٹر سے کم نہیں۔ یہ داستان کسی اور وقت بیان کی جائے گی۔ آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ یہ کیسے اپنے وعدے پورے کرتے ہیں۔
کچھ سال پہلے ازلی دشمن انڈیا کا ایک جاسوس کلبھوشن جادھو بلوچستان سے پکڑا گیا۔ یہ بہت ظالم اور مکار تھا۔ یہ وطن پاک میں دہشت گردی کراتا تھا۔ یہ معصوم پاکستانیوں کو قتل کردیتا تھا۔ یہ دھماکے کرکے پُل اور تنصیبات تباہ کردیتا تھا۔ بہت جدوجہد کے بعد اس کو گرفتار کرلیا گیا۔ اس کے بعد وہ ہوا جو نہایت دردناک ہے۔ اس وقت کی حکومت اور وزیر اعظم اس کو چھوڑنا چاہتے تھے۔ یہ پاکستانیوں کے خون کو بیچ کر انڈیا سے دوستی کرنا چاہتے تھے۔ یہ انڈیا کے سامنے سرنڈر کرنا چاہتے تھے۔ یہ کسی انٹرنیشنل فورم پر کلبھوشن جادھو کا نام نہیں لیتے تھے۔ یہ چاہتے تھے کہ اس سنگدل ، سفاک اور مکار دشمن کو رہا کردیا جائے۔ یہ سب مودی کے یار تھے۔ یہ پاکستان کے غدّار تھے۔ اس کڑے وقت پر جس نے آواز بلند کی وہ ہمارے موجودہ قائد ہیں۔ انہوں نے اس دشمن کو سنگین ترین سزا دینے کا مطالبہ کیا لیکن مودی کے یاروں میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ یہ جرات مندانہ کام کرسکیں۔ یہ دشمن اتنے سال پاکستانیوں کے پیسوں پر پَلتا رہا۔ یہ جیل میں مفت کی روٹیاں توڑتا رہا۔ یہ خالص غذا کھا کے موٹا بھی ہوگیا۔ اس کے چہرے پر روپ بھی آگیا۔
آخرکار جنرل حمید گل کی پیشگوئی 25 جولائی کو پوری ہوئی۔ وہ شہسوار جس کا انتظار پوری ملّت اسلامیہ کو تھا وہ اسلام کے قلعے کا کماندار بن گیا۔ فرش و عرش پر اس فتح کا جشن منایا گیا۔ قدسی نفوس اس جشن میں پیش پیش تھے۔ قلعے کی کمان سنبھالتے ہی اس رات قائد جیل میں پہنچے۔یہ شام کو جاگنگ کا بہانہ کرکے نکلے۔ پی کیپ الٹی کرکے پہنی، کالی عینک لگائی اور بھیس بدل کر جیلر کے کمرے میں پہنچ گئے۔ وہاں پہنچ کر آپ نے کیپ اور عینک اتاری تو جیلر کو پتہ چلا کہ یہ قائد ہیں۔ وہ آپ کی اس سادگی پر مبہوت رہ گیا۔ اس نے دریافت کیا کہ میں آپ کی کیا خدمت کرسکتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے کلبھوشن کی کوٹھڑی تک لے جاؤ۔ اس وقت تک جیل میں خبر پھیل گئی کہ قائد تشریف لائے ہیں۔ پوری جیل نعرۂ تکبیر سے گونج اٹھی۔ آپ جیل میں جہاں جہاں سے گزرے وہاں قیدیوں نے  "مَانَا آیا، مَانَا آیا"کے نعروں سے آپ کا استقبال کیا۔
اللہ اکبر کے فلک شگاف نعروں سے کلبھوشن کو پتہ چل گیا کہ وہ ہوگیا ہے جس اندیشہ پوری دنیا کے کفّار کو تھا۔قائد اسلامی قلعے کے کماندار بن گئے ہیں۔ یہ ڈر گیا۔ یہ خوف سے تھر تھر کانپنے لگا۔ اسی اثناء میں قائد، جیلر کے ساتھ کلبھوشن کے کوٹھڑی کے سامنے پہنچ گئے۔ آپ نے جیلر سے کہا کہ کوٹھڑی کا دروازہ کھولو۔ دروازہ کھلا، آپ اندر داخل ہوئے ۔ دروازہ بند کیا اور جیلر کو لاک کرنے کا کہا۔ کلبھوشن جان گیا تھا کہ اب اس کی زندگی چند ثانیوں کی مہمان ہے۔ آپ نے کلبھوشن کو للکارا، "اوئے۔۔۔ دشمنِ اسلام و پاکستان، کھڑا ہوجا، تیری موت کا وقت آگیا ہے۔"
کلبھوشن ایک اعلی تربیت یافتہ جاسوس اور کمانڈو تھا۔ اس نے دیکھا کہ دروازہ لاک ہے اور قائد اکیلے ہیں۔ اس نے ایک دم چھلانگ لگائی۔ ہوا میں 180 ڈگری  گھوم کر فلائنگ کِک لگائی۔ قائد نے بائیں ہاتھ کی جنبش سے فلائنگ کِک بلاک کی۔ اوپری جسم کو دائیں طرف جھکایا اور دائیں ہاتھ کی کھڑی ہتھیلی سے کلبھوشن کی ٹانگ پر وار کیا۔ کڑک کی آواز آئی اور کلبھوشن کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ وہ کراہتا ہوا اٹھا اور ایک ٹانگ پر گھوم کربائیں طرف جھکائی دی تاکہ دائیں طرف سے قائد کی پسلیوں پر کھڑی ہتھیلی کا وار کرکے دل کو جانے والی مرکزی شریان کو بلاک کردے۔ یہ مارشل آرٹس کا خطرناک ترین داؤ ہے جسے سنگ ہی سپیشل کہتے ہیں۔ پوری دنیا میں اس داؤ کو لگانے والے صرف تین افراد ہیں۔ کلبھوشن یہ نہیں جانتا تھا کہ قائد بھی اس داؤ سے واقف ہیں۔ قائدتھوڑا سا دائیں طرف جھکے، کلبھوشن کے دائیں ہاتھ کو بلاک کیا اور اس کی بغل کے نیچے ہاتھ دے کر اسے سامنے والی دیوار پر دے مارا۔ کلبھوشن کا چہرہ اور سر دائیں طرف سے پچک گیا۔ مغز کے ٹکڑے اچھل کر دیوار پر چپک گئے۔ کلبھوشن میں ابھی جان باقی تھی۔ قائد نے کلبھوشن کی گردن کے گرد آرم لاک لگاکے جھٹکا دیا۔ کڑک کی آواز آئی اور گردن کی ہڈّی ٹوٹ گئی۔ اس کے ساتھ کلبھوشن جادھو جہنم رسید ہوگیا۔  قائد نے ٹی شرٹ کے دامن سے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کیا۔ دروازہ کھٹکھٹایا۔ جیلر نے دروازہ کھولا اور کلبھوشن کو مردہ حالت میں دیکھ کر نعرۂ تکبیر بلند کیا۔ قائد نے جیلر کو ہدایت کی کہ اس کی نعش یہیں پڑی رہنے دے۔
اگلی صبح قائد، خاتونِ اوّل کے ساتھ دوبارہ جیل آئے۔ کلبھوشن کی کوٹھڑی میں گئے۔ خاتونِ اوّل نے چند عملیات پڑھ کے کلبھوشن جادھو کی طرف پھونک ماری تو وہ کھانستا ہوا اٹھ بیٹھا۔ قائد نے کلبھوشن کو گردن سے پکڑ کر کھڑا کیا۔ اس کے منہ پر الٹے ہاتھ کا تھپّڑ رسید کیا اور کہا، "تم نے سینکڑوں معصوم پاکستانیوں کا خون کیا ہے۔ تمہیں اتنی آسان موت نہیں ملے گی۔ ہر رات میں تمہیں اپنے ہاتھوں سے جہنم رسید کروں گا اور اگلی صبح خاتونِ اوّل تمہیں زندہ کریں گی۔ پانچ سال تمہیں ہر روز جینا اور ہرروز مرنا پڑے گا۔ یہ میرا انصاف ہے۔ "

وکّی پرنس، سموسے اور ساجدہ

یہ زندگی سے مایوس ہوچکے تھے۔ ان کی لائف ڈپریسنگ اور پین فُل ہوچکی تھی۔ ایک ایک کرکے ان کی زندگی کی تمام خوشیاں، غموں میں بدل گئی تھیں۔ یہ جس کام میں ہاتھ ڈالتے، وہ کَم سے کَڑم بن  جاتا۔ ان کا سموسوں کا بزنس تباہ ہوگیا۔ ان کی ریڑھی کے بالکل سامنے ایک اور بندے نے ریڑھی لگا لی۔ وہ آدھی قیمت پر سموسے بیچنے لگا۔ اس کے سموسوں میں آلو بھی زیادہ ہوتے۔ وہ چٹنی بھی زیادہ ڈال کے دیتا۔ دوسری دفعہ چٹنی مانگنے پر بھی منہ نہ بناتا۔ وہ سموسوں پر چھولے بھی ڈالتا۔ اس کی ریڑھی چل گئی۔ وکّی پرنس کی ریڑھی کا ریڑھ نکل گیا۔
یہ وکّی پرنس کی کہانی ہے۔ یہ فلمی ہیرو بننا چاہتے تھے۔ یہ کترینہ کیف کے ساتھ ڈانَس کرنا چاہتے تھے۔ یہ ان کی پَپیاں لینا چاہتے تھے۔ ان کے ساتھ گانے پکچرائز کرانا چاہتے تھے لیکن یہ بیس سال کی عمر میں ہی گنجے ہوگئے۔ ہیرو بننے کی چکر میں اعلی تعلیم بھی حاصل نہ کرسکے اور گورنمنٹ مڈل سکول، کھوتیانوالہ سے ساتویں جماعت تک اعلی تعلیم حاصل کی۔ ان کے فادر بہت سخت انسان تھے۔ یہ ان کو ہاکیوں، ڈنڈوں اور جوتوں سے پھینٹا لگاتے تھے۔ یہ ان کو ہڈ حرام، نکمّا، کام چور کہتے تھے۔ ایک صبح وکّی پرنس سوکے اٹھے تو ان کی لائف بدل چکی تھی۔ انہوں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ دنیا اور اپنے فادر کو کچھ بن کے دکھائیں گے۔ انہوں نے ریسرچ کی۔ انہیں پتہ چلا کہ کھوتیانوالہ میں اچھے سموسے نہیں ملتے۔ لوگ سموسے لینے بیس کلو میٹر دور جاتے ہیں۔ واپس آنے تک سموسے ٹھنڈے ہوجاتے ہیں۔ ان کا مزا نہیں آتا۔ وکّی پرنس نے سموسوں کی ریڑھی لگانے کا فیصلہ کرلیا۔
تین دن بعد کھوتیانوالہ کے مین بازار میں ' وکّی پرنس سموسہ مارٹ' کے نام سے انہوں نے بزنس شروع کیا۔ پہلے دن ہی 347 سموسے بِک گئے۔ ان کو دو ہزار روپیہ بچ گیا۔ پرنس خوش ہوگئے۔ انہوں نے  گھر جاتے ہوئے اللہ ہو سویٹ شاپ سے دو کلو جلیبیاں اور ساقے وڑائچ سے سو گرام چرس  خریدی۔ پرنس کے فادر شام ڈھلتے ہی چرس کا جوڑا بناکر نوش کرتے تھے۔ یہ جب گھر پہنچے تو ان کا ہیرو کی طرح استقبال کیا گیا۔ پرنس کے فادر چرس دیکھ کے نہال ہوگئے۔ یہ پرنس کی محنت اور ڈیڈیکیشن کے قائل ہوگئے۔ انہوں نے عہد کیا کہ آئندہ کبھی وکّی پرنس کو 'سن آف آ بِچ' نہیں کہیں گے۔ یہ پرنس کی عزت کریں گے۔ یہ ان سے پیار بھی کرنے کی کوشش کریں گے۔
وکّی پرنس کی دن رات کی محنت رنگ لائی۔ یہ روزانہ سات، آٹھ سو تک سموسے بیچنے لگے۔ انہوں نے اچھی سی وگ بھی لے لی۔ یہ کاٹن کا مائع والا سوٹ بھی پہننے لگے۔ یہ جمعے والے دن میٹھا پان بھی کھانے لگے۔ ساجدہ  ان کی ہمسائی تھی۔ یہ ان کو بالکل لفٹ نہیں کراتی تھی۔ یہ ان کو گنجا  گنجا کہتی تھی۔ چھٹی جماعت سے ہی پرنس، ساجدہ پر فدا تھے لیکن آج تک ساجدہ نے پرنس سے سیدھے منہ بات نہیں کی تھی۔ سموسوں کا کرشمہ ایسا ہوا کہ ساجدہ  ان کو وٹس ایپ پر دل بنا کر بھیجنے لگی۔ ساجدہ نے پرنس کو بغیر دوپٹے والی سیلفیاں بھی بھیجیں۔ یہ پرنس پر فدا ہوگئی۔ اس نے پرنس کو فیس بک پر بھی ایڈ کرلیا۔ ساجدہ کی فیس بک آئی ڈی سحر یار خان تھی۔ پرنس دو سال سے اس کو فرینڈ ریکویسٹ بھیج رہے تھے لیکن یہ ایکسپٹ نہیں کرتی تھیں۔ اب یہ رات کو دیر تک ویڈیو چیٹ بھی کرنے لگے۔ پرنس کی زندگی ایک آئیڈیل لائف بن چکی تھی۔ یہ ماضی کی تلخیاں بھلا کر حال میں زندگی کو انجائے کر رہے تھے کہ
اچانک
سموسوں کی نئی ریڑھی آگئی۔ یہ ان کی زندگی میں المیے اور سیڈ نیس کی ابتداء تھی۔ بزنس ٹھپ ہوا تو ساجدہ دوبارہ ان کو گنجا کہنے لگی۔ فادر نے پڑچھتی پر پڑی ہوئی ہاکی دوبارہ نکال لی اور ہر دوسرے دن پرنس کے آلریڈی سِکے ہوئے کُھنّے سیکنے لگے۔ وکّی پرنس کی لائف میں سوائے ڈپریشن، مِزری اور سیڈ نیس کے کچھ باقی نہ رہا۔ ایک صبح وہ اٹھے اور فیصلہ کیا کہ آج ان کی لائف کا فائنل ڈے ہوگا۔ یہ آج  سوسائیڈ کرلیں گے۔ یہ مین بازار سے نان چھولوں کا ناشتہ کرکے کھیتوں کی طرف نکل گئے۔ یہ کافی دیر بے خودی کے عالم میں چلتے رہے۔ اچانک انہیں ایک درخت کے نیچے سبز پوش بزرگ بیٹھے نظر آئے۔ بزرگ نے اشارے سے پرنس کو اپنی طرف بلایا۔ پرنس سے انکار نہ ہوسکا۔ یہ بے اختیار بزرگ کی طرف کھنچتے چلے گئے۔ یہ ان کے پاس جا کے بیٹھ گئے۔ بزرگ نے اپنے چولے میں ہاتھ ڈالا اور چرس کا جوڑا نکال کے سلگایا ۔ ایک طویل کش لے کر اسے وکّی پرنس کی طرف بڑھادیا۔ پرنس نے بسم اللہ کہہ کے پکڑا ۔ کش لگایا۔ دھواں بابا جی کے چہرے پر چھوڑا۔ بابا جی ہولے سے مسکرائے اور یوں مخاطب ہوئے۔
'میرے بچے! مجھے علم ہے تم بہت پریشان ہو۔ تم بہت ڈپریس ہو۔ تم آج آتم ہتّیا کرنے یہاں آئے ہو۔ میں تمہیں روکوں گا نہیں۔ سوسائیڈ کرنے سے پہلے میری ایک بات سن لو۔'
وکّی پرنس نے اثبات میں سرہلایا۔ بزرگ دوبارہ گویا ہوئے۔ یہ کہنے لگے۔ایک سادہ سا عمل ہے لیکن اس کے اثرات اور فوائد مجرّب ہیں۔ عمل یوں ہے کہ غسل کرکے صاف کپڑے پہنیں۔ قبلہ رخ ہو کے دو زانو بیٹھ جائیں۔ اپنا موبائیل نکالیں۔ ڈیٹا آن کریں۔ یو ٹیوب کھولیں۔ '92 ورلڈ کپ فائنل ہائی لائٹس' سرچ کریں اور جھلکیاں دیکھنی شروع کردیں۔ جھلکیاں پوری ختم نہیں ہوں گی کہ آپ کا ڈپریشن، سیڈنیس سب ختم ہوجائے گا۔ آپ دوبارہ سے اس لائف اور اس کی دلچسپیوں کو انجائے کرنے لگیں گے۔ آپ کے اندر مشکلات اور مصائب کا مقابلہ کرنے کی ہمّت آجائے گی۔ آپ دوبارہ کامیاب ہوجائیں گے۔ ساجدہ دوبارہ آپ کو وٹس ایپ پر دل اور بغیر دوپٹے والی سیلفیاں بھیجنے لگے گی۔ آپ بس ایک دفعہ اس کو ٹرائی ضرور کریں۔
وکّی پرنس اٹھے۔ بزرگ  کا ہا تھ چوما۔ چرس کے جوڑے کا شکریہ ادا کیا اور واپس کھوتیانوالے کی طرف چل دئیے۔ ان کی چال میں ایک عزم، حوصلہ اور ڈیڈیکیشن تھی!

ڈیم، چندہ اور لعنتی


ارض و سما کے فیصلے گاہے اتنے سہل ہوتے ہیں کہ درویش تو کیا عامی بھی ظاہری آنکھ سے ان کو دیکھ سکتے ہیں۔ کوئی جائے اور قنوطیت پرستوں کو امیّد دلائے۔
ربع صدی کا قصّہ ہے۔ درویش کے آستانے پر حاضری کا وقت ابھی دورتھا۔ چیچو کی مَلیاں وہ دھرتی جس نے خالو خلیل جیسے بطلِ جلیل کو جنم دیا۔ جھلستی جولائی کی ایک سہ پہر طالبعلم وہاں پہنچا تو چیل، ماس اور کتا، ہڈّی چھوڑ چکا تھا۔ خالو کا دَر کھٹکھٹایا، چوخانے کا تہہ بند ڈاٹے، کندہ ناتراش جس کو تہوتی کہتے ہیں، خالو باہر آئے۔ طالبعلم کو سامنے پایا۔ فرطِ مسرّت سے گلے لگانے کو بڑھے تو تہہ بند ڈھیلا ہو کر کششِ ثقل کو سچ ثابت کرنے لگا تھا کہ ہوش غالب آیا۔ تہہ بند سنبھالا۔ اور طالبعلم کو وہ سبق دیا جو آج بھی اس کا ذہن روشن اور دل منوّر کرتا ہے۔ "چھیدے! گل کردے  ہوئے زبان تے جوش اچ جسم قابوچ ناں رہوے تے بندہ ننگ پڑنگ ہوجانداای"۔ باقی تاریخ ہے۔
مردِ جری جنرل ایّوب کہ دشمن جس سے تھر تھر کانپتا تھا۔ امریکہ کے دورے پر گئے تو امریکہ کا صدر تاریخ میں پہلی دفعہ ہوائی مستقر پر ان کے استقبال کو پہنچا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ امریکہ کی خاتون اوّل، مردِ وجیہہ کو دیکھتے ہی دل ہار گئیں۔ ایسی خوبصورتی، ایسی وجاہت، ایسا دبدبہ۔ اقبالؔ کا مثالی مردِ مومن، دو نیِم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا۔۔۔سمٹ کر  حیا سے اپسرا یوں لجائی۔۔۔ اللہ اکبر۔ مغرب کے دریوزہ گر آج اس قلندر پہ زبانِ طعن دراز کرتے ہیں۔ فاطمہ جناح میں سوائے قائدِ اعظم کی ہمشیرہ ہونے کے کیا خوبی تھی؟ غفار خان،  مجیب الرحمن جیسے وطن دشمنوں کے ساتھ ان کا اتحاد۔ قائد بھی بی ڈی ممبر ہوتے تو ہمشیرہ کی بجائے جنرل ایّوب کو ووٹ دیتے۔وہ شخص کہ پچھلے دوسو سال میں مسلم دنیا اس کا ہمسَر پیدا نہ کرسکی، کیا وہ موروثی سیاست کا حامی ہوتا؟ الحذر۔۔ الحذر۔۔۔ بہتان ہے یہ صریح بہتان۔۔ کذب و ریا جن کا شیوہ ہے، ایسی دریدہ دہنی انہیں کو مبارک۔
جنرل ایّوب کی فراست، مردِ مومن کی فراست تھی۔ صدیوں کا منظر نامہ ان کے سامنے کھلی کتاب کی طرح تھا۔ اس وقت ڈیم بنانے کا بِیڑا اٹھایا جب کوتاہ بین فاؤنڈریاں لگانے میں مشغول تھے۔ این جی اوز مافیا آج چلاّتی ہے کہ پنجاب کے تین دریا ہندوستان کو بیچ دئیے۔ جھوٹ حضورِ والا، سفید جھوٹ۔ تین بیچے نہیں بلکہ تین دریا ہندوستان سے حاصل کرلئے۔ بڑے اور زیادہ پانی والے دریا۔ راوی میں تو کبھی آج تک پانی دیکھا نہیں۔ یہی حال ستلج اور بیاس کا ہے۔ تو کیا یہ خشک دریا لے کر پانی والے ہندوستان کو دے دیتے؟ لوگ مگر غور نہیں کرتے۔ تعصّب و نفرت سے ذہن و دل کو آلودہ رکھتے ہیں۔ سامنے کی بات وہ سمجھ نہیں سکتے، دیکھ نہیں سکتے۔ جیسا باری تعالی فرماتے ہیں ، مفہوم کہ دلوں پر مہُریں لگ جاتی ہیں۔
کیا اس قوم کی مناجات کا کبھی جواب نہیں آئے گا؟ کیا خالق اپنی مخلوق سے بے نیاز ہوگیا ہے۔ ہرگز نہیں۔ خدائے لم یزل ہم پر مہربان ہے۔ جنرل ایوّب جیسے مردِ جری کے بعد اب اس نے ہمیں جسٹس صاحب جیسا مردِ ذکی عطا کیا ہے۔ کیا وہ وقت آن لگا ہے جس کا وعدہ کیا گیا تھا؟ کیا یہی وہ شہسوار ہے جو قرنوں بعد کسی قوم کو عطا ہوتا ہے؟قرائن بتاتے ہیں کہ ہاں! یہی وہ شہسوار ہے جس کا درویشوں اور اللہ کے نیک لوگوں کو انتظار تھا۔ یہی ہے وہ مردِ شجیع جس کے آنے کی خبر اہلِ نظر صدیوں سے دیتے آئے ہیں۔ ادبار کے دن لَد چکے۔ ایک روشن صبح ہماری منتظر ہے۔
ایک ہفتہ ادھر کپتان سے ملاقات رہی۔ ہمیشہ کی طرح بشّاش۔ دیسی گھی میں پکی دیسی مرغی کی ٹانگ بھنبھوڑتے ہوئے ، قرونِ وسطی کا کوئی جنگجو لگ رہا تھا۔ اس کا جدّ اعلی چنگیز خان، جو ایک صحرا سے اٹھا اور پوری دنیا پر بگولے کی طرح چھا گیا ،  اس کی طبیعت بھی ایسی ہی سادہ تھی۔ اسی کی نسل سے رب کریم نے اسلام کو چار دانگِ عالم پھیلانے کا کام لیا۔ طعام سے فراغت کے بعد قہوے کا دَور چلا۔ موضوع وہی پانی کی کمیابی اور جسٹس صاحب کا ڈیم بنانے کا عزم تھا۔ طالبعلم متجسس تھا کہ کپتان نے اس عظیم کام میں کتنا حصہ ڈالا ہے، جسٹس صاحب کے ڈیم اکاؤنٹ میں کتنے پیسے عطیہ کئے۔ دریافت کیا تو کپتان مخصوص انداز میں دھیمے سے مسکرایا  اور بولا، "چھیدے۔۔۔ منگتیاں کولوں منگنا لعنتیاں دا کَم اے۔" فئیر اینف حضورِ والا، فئیر اینف۔
ارض و سما کے فیصلے گاہے اتنے سہل ہوتے ہیں کہ درویش تو کیا عامی بھی ظاہری آنکھ سے ان کو دیکھ سکتے ہیں۔ کوئی جائے اور قنوطیت پرستوں کو امیّد دلائے۔

منشور بلا فصل

 روزگار کی یقینی فراہمی:-
اقتدار میں آنے کے ایک ہفتے کے اندر اندر ایک کروڑ نوکریاں دی جائیں گی۔ایک مومن 70 کفار پر بھاری ہوتا ہے تو ایک کروڑ مومنین کی نیٹ پاور ستّر کروڑ کافروں کے برابر ہوگی۔ ان سے جو کام لیا جائے گا وہ بھی دورِ جدید کا ایک سائنسی /ایمانی معجزہ ہوگا۔ یہ سب ملازمین مل کر پاکستان کو دھکا لگائیں گے اور  کینیڈا کے پاس لے جائیں گے۔ ہمارے سائنسی ماہرین کے مطابق اس کام میں تقریبا سترہ گھنٹے، چوّن منٹ اور بتّیس سیکنڈ لگیں گے۔ دو سے تین سیکنڈز کا فرق پڑ سکتا ہے۔
جناب چئیرمین صاحب پہلے ہی کینیڈین پی ایم سے بات کر چکے ہیں اور چونکہ وہ بھی چئیرمین صاحب کے پرستار ہیں لہذا انہوں نے بخوشی اجازت دے دی ہے کہ پاکستان کو کینیڈا کا پڑوسی بنا لیا جائے۔ پاکستان کو درپیش مسائل میں سب سے سنگین بے روزگاری، پانی کی کمی اور ماحولیاتی آلودگی  ہیں۔ گرمی بھی بہت ہوتی ہے۔ جس سے سب لوگ پنکھے، اے سی وغیرہ چلاتے ہیں۔ بجلی زیادہ استعمال ہوتی ہے۔ اس کے لئے نئے پاور پلانٹس لگانے پڑتے ہیں۔ جن میں کرپٹ لوگ کمیشن کھاتے ہیں۔ اس ایک فیصلے سے یہ سارے مسائل چشم زدن میں حل ہوجائیں گے۔ یہ ہوتا ہے لیڈر اور یہ ہوتا ہے وژن۔
انصاف پیالے میں:-
پاکستان اسلام کے نام پر بنایا گیا تھا لیکن اس میں آج تک کوئی بھی مومن/مجاہد حکمران نہیں بنا۔ ہم اقتدار میں آئیں گے تو یہ پہلی جماعت ہوگی جو پاکستان کو صحیح معنوں میں اسلام کا قلعہ بنائے گی۔ قیامِ پاکستان کے وقت مسلم جنّوں نے بھی تحریک پاکستان میں حصہ لیا تھا لیکن بعد میں کرپٹ حکمرانوں کی وجہ سے سارے مسلم جن بددل ہو کر سائیڈ پر ہوگئے۔ جیسا آپ جانتے ہیں کہ چئیرمین صاحب کے گھروالے روحانی/اجنانی معاملات میں ولایت کے مقام پر فائز ہیں تو پاکستان کو جدید ترقی یافتہ اسلامی قلعہ بنانے میں مسلم پاکستانی جنّوں کا کردار بھی بہت اہمیت کا حامل ہوگا۔ تجویز ہے کہ تمام عدالتوں میں جنّ حضرات و خواتین کو جج مقرر کیا جائے۔ جو بھی عدالت میں جھوٹ بولے گا محترم جج اس کو چمڑّ جائیں گے۔ لہذا کسی کی جرات نہیں ہوگی کہ غلط بیانی کرسکے۔اس سے انصاف کی جلد اور بالکل مفت فراہمی یقینی ہوگی۔ ایک اور بڑا مسئلہ  دہشت گردی  ہے۔ اس پر قابو پانے کے لئے ہر شہر میں اربوں خرچ کرکے کیمرے لگانے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ چئیر مین صاحب اس پیالے کی کلوننگ کروالیں گے جو گھر والے اپنے ساتھ لائے تھے۔ اس پیالے سے پوری دنیا کی مانیٹرنگ آسانی سے کی جاسکتی ہے۔ بعض کیسز میں نیّت کا کھوٹ بھی اس پیالے میں ظاہر ہوجاتا ہے۔ یہ پیالے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حوالے کردئیے جائیں گے جس سےواردات سے پہلے ہی مجرم پکڑے جائیں گے۔
رہائشی سہولیات اور بیرونی قرضے سے نجات:-
پاکستان کے ہر شہری کے لئے گھر فراہم کیا جائے گا۔ وژن سے عاری لوگ تنقید کررہے ہیں کہ اس کے لئے فنڈز کہاں سے آئیں گے۔ یہ اعتراض بے وزن  ہے۔ ہماری معاشی ماہرین کی ٹیم آؤٹ آف دا باکس سلیوشنز پر یقین رکھتی ہے۔ پاکستان کی آبادی 22 کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔ ہر شہری روزانہ ایک روپیہ حکومت کو چندہ دے گا۔ بیرون ملک پاکستانی اور مخیّر حضرات ظاہر ہے ایک روپے کی بجائے ہزار یا لاکھ روپیہ دیں گے کیونکہ ان کو حکومت پر اعتماد ہوگا۔ لہذا روزانہ تقریبا 5 ارب روپیہ اکٹھا ہوگا۔ پانچ مرلے کے ایک مکان کی لاگت 50 لاکھ بھی لگائی جائے توروزانہ ایک ہزار گھر تعمیر ہوں گے۔ جن لوگوں کو گھر مل جائیں گے وہ ان کا کوئی پورشن کرائے پر اٹھا کر آمدنی میں اضافہ کرسکیں گے اور روزانہ چندے کی مَد میں زیادہ رقم دیں گے۔ ہمارے معاشی ماہرین کے مطابق چھ مہینے بعد روزانہ 70 ارب روپیہ اس مَد میں اکٹھا ہوگا۔ سب شہریوں کو رہائش کی سہولیات فراہم کرنے کے بعد اس چندے کا سلسلہ جاری رہے گا اوراس  سے چند مہینوں میں ہی بیرونی قرضے سے نجات مل جائے گی۔
تعلیمی انقلاب:-
تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی۔ جدید سائنسی تحقیق (حوالے کے لئے 'انسپشن' ملاحظہ ہو) ثابت کرچکی ہے کہ عالمِ رویاء (خوابوں کی دنیا) کا ایک منٹ بیداری کے دس دن کے برابر ہوتا ہے۔ دنیاوی تعلیم میں برسوں لگ جاتے ہیں۔ ایک ڈاکٹر بننے میں پندرہ بیس سال لگتے ہیں ۔ ہماری حکومت اس ضمن میں انقلابی اقدامات کرے گی۔ سکول، کالجز، یونیورسٹیز وغیرہ پر پیسہ اور وقت ضائع کرنے کی بجائے عالمِ رویاء میں تعلیم دی جائے گی۔ اس کے لئے مؤکلین کی کثیر تعداد ہمارے پاس موجود ہے۔ جو ڈاکٹر بیس سال میں بنتا ہے وہ صرف ایک مہینے میں بن جائے گا۔پاکستان کا ہر شہری تمام دنیاوی علوم کا ماہر ہوگا کیونکہ عالمِ رویاء میں وقت اور علم کی حد کی کوئی قید نہیں ہوگی۔  وہ آپریشن بھی کرسکے گا اور پُل بھی بناسکے گا۔ روحانی مکاشفے بھی کرسکے گا اور پنکچر بھی لگا سکے گا۔ خلائی جہاز بھی بنا سکے گا اور تانگہ بھی چلا سکے گا۔ ہالی ووڈ والے جو سُپر ہیروز اپنی فلموں میں دکھاتے ہیں وہ پاکستان میں حقیقی صورت میں نظر آئیں گے۔اقبالؔ کے مردِ مومن اور شاہین کا تصور بھی ایسا ہی انسان تھا۔ ہم انشاءاللہ اس تصور کو عملی جامہ پہنائیں گے۔

ایمان اور خاتمہ


جھنگ بازار کے آبائی مکان سے ہجرت کرکے طارق روڈ (فیصل آباد میں بھی طارق روڈ ہے!) پر شفٹ ہوئے تو فدوی بہت کم عمر تھا۔ سکول جانا شروع ہی کیا تھا۔ ابو جی صبح تڑکے اٹھنے کے عادی ہیں۔ ہمیں بھی اسی وقت اٹھنا پڑتا۔ فجر کی نماز مسجد میں ان کے ساتھ جا کے پڑھتے۔ پھر صبح کی سیر کے لئے زرعی یونیورسٹی جاتے۔ سردی ہو یا گرمی اس معمول میں خلل نہیں آتا تھا۔  جمعہ کی نماز کے لئے خاص اہتمام ہوتا۔ ڈی ٹائپ کالونی میں مولوی یوسف کی مسجد میں بھی جانا یاد ہے۔ مسجد میں  تقریر شروع ہونے سے پہلے پہنچتے تھے۔ اس عمر میں زیادہ باتیں سمجھ تو نہیں آتی تھیں لیکن حاضرین کے جوش و خروش سے اندازہ ہوتا تھا کہ ضرور کوئی بہت اچھی باتیں ہورہی ہیں۔
پرائمری سے ہائی سکول میں پہنچے تو جمعہ کی نماز کے لئے جامع مسجد جناح کالونی میں جانا معمول ہوگیا۔ مولانا اشرف ہمدانی وہاں جمعہ کا خطبہ دیا کرتے۔ دور و نزدیک سے لوگ ان کی تقریر سننے آتے۔ ان کا تعلق شاید ملتان سے تھا۔ بہت عمدہ تلاوت کرتے تھے۔ گرج دار آواز، فصیح اردو  جس میں کبھی کبھار رواں سرائیکی تڑکے والی پنجابی بھی شامل ہوجاتی تھی۔ پونے ایک جماعت کھڑی ہوتی جبکہ عین ساڑھے گیارہ مولانا منبر سنبھال لیتے تھے۔ خطیب حضرات کے موضوعات سارا سال بدلتے رہتے ہیں لیکن کچھ موضوعات مستقل ہوتے ہیں۔ مولانا اشرف ہمدانی کے بھی دو موضوعات مستقل تھے۔ ختم نبوت اور ناموس صحابہ۔ جس جمعہ کو ان کا خطبہ ان میں سے کسی پر مشتمل ہوتا اس دن نمازیوں کا جوش و خروش دیکھنے لائق ہوتا۔ پوری مسجد نعرۂ تکبیر سے گونجتی رہتی۔ مولانا کی زبان سے ہی پہلی دفعہ ہم نے سنا کہ شیعہ حضرات اس تمام کائنات کے بدترین کافر ہیں۔ اس سے پہلے ہم انہیں عام سا کافر ہی سمجھتے تھے۔ محرّم کے دنوں میں مولانا کا جذبہ فزوں تر ہوتا۔ شیعہ حضرات کے صحابہ سے متعلق مبینہ عقائد بیان کرکے خود بھی روتے، حاضرین کو بھی رلاتے ۔
احمدی/قادیانی احباب سے متعلق ان کا مؤقف یہی ہوتاکہ ان کو کلیدی آسامیوں سے ہٹایا جائے۔ سچی بات ہے اس وقت ہمیں کلیدی آسامی ٹریفک کانسٹیبل کی ہی لگتی تھی  جو کسی بھی وقت کسی کو بھی روک سکتا تھا اور اس کا چالان کرسکتا تھا۔ ہم کافی حیران ہوتے تھے کہ یہ احباب آخر ٹریفک کانسٹیبل ہی کیوں بھرتی ہوتے ہیں اور مولانا کی ٹویوٹا کرولا مارک ٹُو کا چالان کیوں کرتے ہیں؟ اس سوال کا جواب ہمیں کبھی نہیں مل سکا۔ مولانا ایک ہستی کا نام لے کے خصوصی ذکر کیا کرتے جو شاید ڈی ایس پی تھے اور ان کا نام حمید اللہ قریشی تھا۔ ان کے خلاف امت مسلمہ میں تفرقہ ڈالنے، ظلم کرنے اور رشوت خوری کے الزامات لگاتے تھے اور حکام بالا سے ان کو برطرف کرنے کا مطالبہ کرتے تھے۔ دسویں جماعت تک ہم ان کا یہ مطالبہ سنتے رہے۔ شاید حکام بالا بھی ٹریفک کانسٹیبلز سے ڈرتے تھے کہ کہیں ان کا چالان نہ کردیں اس لئے کبھی ان کی برطرفی کی خبر نہیں آئی۔
سچی بات ہے کہ ہم شیعہ احباب کو شدید قسم کا کافر سمجھتے تھے لیکن ان میں سے اپنے دو دوستوں اور ان کے اماں ابا اور بہن بھائیوں کو مستثنی سمجھتے۔ ہمارا خیال تھا کہ ایک دن وہ ہمارے نسیم حجازیانہ مردِ مومن والے کردار سے متاثر ہو کر اصلی اور سچے، سعودی مُہر والے مسلمان بن جائیں گے ویسے بھی ہم سوچتے تھے کہ شانی کی امی اتنی اچھی ہیں تو وہ کیسے کافر ہوسکتی ہیں؟ اس معاملے پر پھر ہم زیادہ غور نہیں کرتے تھے کہ اس سے ہمارے بنیادی عقائد کے مقابل بہت سے سوال کھڑے ہوجاتے تھے اور ہم نے مولانا اشرف ہمدانی کی رقّت آمیز دعاؤں میں یہ دعا خاص طور پر نوٹ کی ہوئی تھی کہ یااللہ! خاتمہ ایمان پر کرنا۔ تو ہم ان سوالوں پر غور کرکے اپنا عقیدہ خراب نہیں کرنا چاہتے تھے کہ مبادا خاتمہ ایمان پر نہ ہو۔
فلموں ، رسالوں، ڈائجسٹوں، اخباروں، کتابوں سے ہماری دلچسپی اتنی ہی پرانی ہے جتنی پرانی ہماری یادداشت ہے۔ پہلے پہل جب ہم نے انجمن سپاہ صحابہ کا نام سنا تو ہمارے ذہن میں سلطان راہی والی انجمن ہی آئیں۔ اس عمر میں ہمیں ان دونوں اقسام کی انجمنوں کے خصائل کا علم نہیں تھا۔ وہ تو بڑے ہونے پر پتہ چلا کہ دونوں ہی دین و ایمان کے لئے مہلک ہیں۔ عنفوان شباب میں جب ہم صائمہ (سیّد نور والی) کی محبّت میں مبتلا ہوئے تو ہمیں انجمن کی قدر اور مقدار کا پتہ چلا اور یہ بھی علم ہوا کہ عنایت اللہ کے تاریخی ناولز موسوم بہ "داستان ایمان فروشوں کی" میں ہیرو کو آخر خوبصورت اور پُر شباب خواتین کے ذریعے ہی کیوں زیر کیا جاتا تھا۔ معصوم زمانے تھے، پُرشباب کو ہم پُر باش قسم کی چیز سمجھتے تھے اگرچہ اس سے تفہیم میں کافی اشکال پیدا ہوجاتے تھے۔
جناح کالونی کی ہوزری مارکیٹ میں ابوجی کی دکان تھی۔ پہلے بازار میں نلکی بٹن کی دکان ہوا کرتی تھی، سردیوں کی ایک دھند آلود شام کو پتہ چلا کہ اس کے مالک کو کسی نے گولی مار  دی ہے۔ یہ قتل ہماری ہوش کی زندگی میں  'کافر کافر شیعہ کافر 'کے بیانیے کا پہلا ٹھوس ثبوت تھا۔ اس کے بعد تو چل سو چل۔۔۔ گوگی شاہ، جن کا جناح کالونی میں ہی پرنٹنگ پریس تھا، ایک شام اپنے دفتر میں بیٹھے تھے کہ ایک نقاب پوش نے ان کے سر میں گولی اتار کے اپنے لئے جنت میں تین سو کنال کا فارم ہاؤس پکا کرلیا۔ برادرز ہوزری کے مالک کے شاید چھ بیٹے ایک ساتھ قتل ہوئے۔ چنیوٹ بازار میں جعفری پان شاپ ہوا کرتی تھی جس کے میٹھے پان کا ذائقہ آج بھی ہماری زبان پر ہے۔ اس کے پروپرائٹر کو بھی ایسے ہی رونق بھری شام میں سب کے سامنے قتل کیا گیا۔
سچ پوچھیے، تو اس وقت ہمیں ان اموات کا رتی بھر بھی افسوس نہیں تھا، کائنات کے بدترین کافر مررہے ہوں تو افسوس ظاہر کرکے ایمان ضائع ہونے کا خطرہ کون مول لے؟ بس ایسے ہی کبھی کبھار دل میں خیال آتا تھا کہ اگر شانی کو بھی کسی نے گولی مار دی تو ؟ اس خیال کو ہم لاحول ولا پڑھ کے شیطان کے کھاتے میں ڈال کے نچنت ہو رہتے تھے۔ بہرحال کافی عرصہ بعد یہ خیال بھی مجسم صورت میں سامنے آگیا۔ نیّر بخاری کے والد کو ایّوب ریسرچ کے احاطے میں صبح کی سیر کرتے ہوئے قتل کردیا گیا۔ ہمیں تو جنازے پر جانے کی بھی ہمت نہ ہوئی۔ ذہن میں مولانا اشرف ہمدانی کی آواز گونجتی تھی، "شیعہ کائنات کے بدترین کافر ہیں"۔ ایک سچے پکے مسلم ہوتے ہوئے ہم کسی بدترین کافر کے جنازے میں کیسے جاسکتے تھے؟
سنتے آئے ہیں کہ بارہ سال بعد رُوڑی کی قسمت بھی بدل جاتی ہے لیکن ہماری قسمت شاید رُوڑی سے بھی اعلٰی ہے۔ عمر کا آخری حصہ شروع ہونے کو ہے اور ہم خود کو وہیں پاتے ہیں جہاں ہوش سنبھالنے کے وقت تھے۔ کوئٹہ ہم زندگی میں کبھی نہیں گئے، کہانیاں بہت سنی ہیں۔ ہمارے کچھ دور پار اور کچھ نزدیک کے رشتے دار وہاں رہتے تھے۔ وہاں کی سردی، ڈرائی فروٹ، پھل، صفائی ستھرائی، سمگل شدہ سستی اشیاء۔۔۔ یہ سب قصّے بچپن سے ہی سنتے آئے ہیں۔ اب وہاں سے کائنات کے بدترین کافروں کی موت کی خبر آتی ہے۔ 
شیعے ابھی بھی  مر رہے ہیں۔ مولانا اشرف ہمدانی زندہ ہیں۔