سفرناک
قاعدہ خلاص
میں جعفر حسین ہوں
کھَٹ مِٹھّا شِیر خُرما
عید کے پُر کیف (پُر مسرّت اس لیے نہیں لکھا کہ ہمیں مسرّت شاہین پسند نہیں، اور کیف تو آپ سمجھ ہی گئےہوں گے) موقع پر ہم آپ کے لیے ایک خصوصی ترکیب کے ساتھ حاضر ہیں۔ چھوٹی عید اور میٹھا لازم و ملزوم بلکہ ظالم و مظلوم سمجھے جاتے ہیں۔ہماری تحقیق یہ بتاتی ہے کہ ذیابیطس کے بڑھنے کا ایک بڑا سبب، چھوٹی عید بھی ہے۔ احباب، اعتراض کرسکتے ہیں کہ یہ تحقیق اور اس کا نتیجہ، ماروں گُھٹنا پھوٹے آنکھ، کے مصداق ہے لیکن اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ نتیجہ کچھ ایسا بعید از امکان بھی نہیں ہے۔ چھوٹی عید پر جتنا میٹھا پکایا اور کھایا جاتا ہے، ہمیں خدشہ ہے کہ مستقبل قریب کی چھوٹی عیدوں پر قورمہ بھی شیرے میں پکایا جانے لگے گا۔ اس یکسانیت کو ختم کرنے کے لیے آج ہم اس ترکیب کے ساتھ حاضر ہوئے ہیں۔
یہاں برسبیل تذکرہ ہم یہ بھی کہتے چلیں کہ سویّاں (جنہیں پیار سے شِیر خُرما بھی کہا جاتا ہے، یہاں خُرما سے مراد خرم شہزاد خرم نہیں ہے) اور آم کھانے کا کوئی معقول طریقہ آج تک دریافت نہیں ہوسکا۔ ہاتھ منہ "لَبیڑے" بغیر آم اور "سُڑکے" مارے بغیر سویّاں کھانا،اتنا ہی مشکل ہے، جتنا ہمارے مدیر کا انگریزی پر عبور حاصل کرنا۔ موضوع سے انحراف کا خدشہ نہ ہوتا تو ہم ان کی انگریزی کے ٹوٹے ضرور پیش کرتے۔ بہرحال، ہم آج جو شِیر خُرما المعروف "سیویاں" بنانے جارہے ہیں، انہیں معقول طریقے سےکھانا نہایت آسان ہے۔ صرف کھانا البتہ کافی مشکل ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ "نفیس" چیزوں کا "ٹیسٹ" ڈویلپ کرنا پڑتا ہے!
تمہید کافی طویل ہوگئی ہے، اس دیباچے کی طرح جو کتاب کے متن سے بھی دو صفحے زیادہ ہو! بہرحال زیادہ دیر کبھی بھی نہیں ہوتی، لہذا اجزاء نوٹ کرلیں۔
پانچ پیکٹ سویّاں
املی کا کھٹّا- ایک جگ
سٹرپ سلز کے دو پتّے
خشک دودھ ایک کپ
گُڑ ایک پاؤ
نمک حسب توفیق
دار چینی، لونگ وغیرہ مٹّھی بھر
سرسوں کا تیل دو پکانے کے چمچ
پپیتا۔ ایک پلیٹ
کیمرے والا موبائیل ایک عدد
ڈیسک ٹاپ یا لیپ ٹاپ ہمراہ انٹر نیٹ کنکشن
پتیلی میں سرسوں کا تیل ڈال کر درمیانی آنچ پر گرم کریں اور اس میں سویّاں ڈال کر اچھی طرح فرائی کرلیں۔ جب ان کا رنگ ہلکا اوبامی ہوجائے تو املی کا کھٹّا ڈال کر آنچ ہلکی کردیں اور تین سے پونے پانچ منٹ تک پکنے دیں۔ خشک دودھ، سٹرپ سلز کا آدھے سے زیادہ پتّا، گُڑ، نمک، دارچینی لونگ وغیرہ ڈال کر کچھ بھی کرنے سے پہلے موبائیل سے اس کی دو تین تصویریں کھینچیں اور فیس بک پر اپ لوڈ کردیں۔ ایک کیپشن بھی دے دیں کہ "کھٹ مٹھا شیر خُرما تیار ہورہا ہے، جس نے کھانا ہو آجائے"۔ ظاہر ہے، کوئی نہیں آئے گا، لیکن آپ کی مہمان نوازی پلس ککنگ کی دھاک بیٹھ جائے گی۔ یہ خیال رکھیں کہ اس ساری سماجی سرگرمی کے دوران چولہا بند ہو، ورنہ فیڈ اور نوٹیفیکشنز پھرولتے، آدھا گھنٹہ لگ جائے گا اور آپ کی ڈش کا تورا بورا بن جائے گا۔ اس سماجی سرگرمی سے فارغ ہونے کے بعد دوبارہ اپنی ڈش کا رخ کریں اور ہلکی آنچ پرتب تک پکائیں جب سارے اجزاء 'یک جان' نہ ہوجائیں۔جب آپ کی چھٹی حس کہے کہ شِیر خُرما تیار ہے تو اسے فورا فریج میں رکھ دیں۔ جب اچھی طرح ٹھنڈا ہوکر جم جائے تو کٹے ہوئے پپیتے اور بچی ہوئی سڑپ سلز کی گولیوں کے ساتھ گارنش کرکے "مہمانوں" کی خدمت میں پیش کریں۔
رمضان کے آخری ایّام میں مولانا حضرات کا رقّت انگیز دعائیں مانگ مانگ کر گلا بیٹھ چکا ہوتا ہے جبکہ مقتدی حضرات و خواتین، سارا مہینہ تلی ہوئی اشیاء اور ٹھنڈے یخ مشروبات کے استعمال کے بعد گلے کی جملہ بیماریوں میں مبتلا ہوچکے ہوتے ہیں۔ ان سب کے لیے یہ شِیر خُرما خصوصی طور پر مفید ہے۔ نیز دیگر "روحانی و رومانی" فوائد الگ ہیں۔
اگر آپ مندرجہ ذیل شعر کے حقیقی معنی سے ابھی تک آشنا نہیں ہیں تو وہ بھی آپ پر ظاہر و باہر ہوسکنے کا پورا امکان ہے۔ شعر کچھ یوں ہے کہ۔۔۔
عید کا موقع ہے، آج تو گلے "مَل" لے ظالم
رسم دنیا بھی ہے، موقع بھی ہے، دستور بھی ہے
ہیں جی!۔
توند اور تقوی
ایسا نہ سمجھیے کہ توند سے ہماری کوئی ذاتی دشمنی یا رنجش ہے، نظریاتی اختلافات، البتہ ہیں اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ایسے اختلافات صحت مند معاشرے کے لیے بہت ضروری ہوتے ہیں۔ یہاں ایک بات ملحوظ خاطر رہے کہ توند اور دہرے جسم (یعنی موٹاپا) میں ایک بنیادی فرق ہوتا ہے۔ دہرے جسم والی خاصیت زیادہ تر نسلی ہوتی ہے، میں چند ایسے احباب کو جانتا ہوں کہ بے چارے، چاہے سارا سال ابلی سبزیاں کھاتے رہیں لیکن ان کے جسم پر یہ سبزیاں بھی قورمے، بریانی جیسا اثر کرتی ہیں ۔ لہذا یہ ایک جینیاتی مسئلہ ہے اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ سائنس پر کسی کا اجارہ نہیں ہے اور ہم بھی سائنس سے کھلواڑ کرنے میں آزاد ہیں۔ دوسرے طرف توند والے احباب نے یہ مٹکہ بطور خاص خود بنایا ہوتا ہے۔ جس کی وجوہات خاصی زیادہ ہیں اور ان میں سےاکثر ناگفتنی اور باقی دل دکھانے والی ہیں لہذا ہم ان خصوصیات سے صرف نظر کرتے ہیں۔
دہرے جسم والے افراد المعروف موٹوں کے بارے ہمارا مشاہدہ ہے کہ ایسے افراد شدید قسم کے خوشگوار لوگ ہوتے ہیں اور صرف اس وقت طیش میں آتے ہیں جب انہیں موٹا کہا جائے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حقیقت ہمیشہ تلخ ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، خود کردہ را علاجے نیست، کے مصداق توند پال اصحاب نہایت چڑچڑے اور زود رنج ہوتے ہیں اور صرف اسی وقت ہنستے ہیں جب کسی کو چونا لگانے میں کامیاب ہوجائیں۔
یہاں تک پہنچنے کے بعد ہمیں یاد آیا کہ ہم نے تو، توند اور تقوی کے باہمی تعلق پر لکھنا تھا لیکن اس کے بجائے یہاں موازنہء انیس و دبیر کی طرز پر موازنہء موٹے و توندیل شروع ہوگیا ہے۔ ادب میں ایسے مظہر کے لیے ضرور کوئی نہ کوئی اصطلاح ہوگی جو آپ کی خوش قسمتی کی وجہ سے اس وقت ہمیں یاد نہیں آرہی۔ بہرحال مشاہدات کا ذکر ہورہا تھا تو ایک مشاہدہ یہ بھی ہے کہ جیسے جیسے توند کا حجم اور وزن بڑھتا ہے ویسے ویسے ہی معیاری انسانی صفات کم ہوتی جاتی ہیں۔ جسے مولوی لوگ تقوی کا نام دیتے ہیں۔ ہماری سمجھ میں تو یہ آیا ہے کہ پیٹ کو آخری حد تک خوراک سے بھرنے کے بعد ذہن میں جو خیالات آتے ہیں ان کی اکثریت سفلے پن پر ہی مشتمل ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے ہمیں حکم دیا گیا تھا کہ ایک حصہ خوراک، ایک حصہ پانی اور ایک حصہ خالی رکھو۔ پر جی "اندھا اعتقاد" رکھنے والے ہی ان پر عمل کرتے ہیں۔ عقل کے ترازو پر ناپنے سے تو پھر توندیں ہی نکلتی ہیں۔
ہماری سمجھ میں تو یہی آیا ہے کہ توند اور تقوی بالعکس متناسب ہوتے ہیں۔ ایک کے بڑھنے پر دوسرا گھٹنا شروع کردیتا ہے۔ لہذا فیصلہ ہمارے اپنے ہاتھوں میں ہے کہ دل یا شکم؟
وارداتِ انہدامِ قلبی
کل ہمارے دل کو ایسا دھچکا لگا، جس کی توقع ہم بالکل نہیں کررہے تھے۔ ایک بہت اہم ہستی نے ہمیں کہا کہ تم اب کچھ زیادہ ہی سنجیدہ نہیں لکھنے لگے؟ اگرچہ کچھ احباب اشارتا اس بات کی طرف ہمیں پچھلے کچھ عرصے سےمتوجہ کرنے کی کوششیں کرتے رہے ہیں لیکن اپنی روایتی لاپرواہی اور چول وادی کی وجہ سے ہم نے یہ پندونصائح، دو،کانوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بغیر کسی رکاوٹ کے گزرنے دئیے اور ان پر غور کرنے کی مطلق کوشش نہیں کی۔ کل کی اس 'ہارٹ بریک' واردات کے بعد ہم نے اپنی پچھلی کچھ تحاریر کا طائرانہ جائزہ لیا اور خود کو اس بات سے متفق پایا کہ خلق خدا کچھ اتنا غلط بھی نہیں کہتی۔
قسمیہ بیان کیاجاتا ہے کہ کچھ بھی لکھنے سے پہلے ہمارا ارادہ ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ اگر کسی ایک دوست کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آگئی تو سمجھیے کہ بیڑا پار ہوا لیکن پچھلے کچھ عرصے سے ہماری کوشش تو شوّال کا استقبال کرنے کی ہوتی ہے لیکن لکھنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ محرّم شروع ہوگئے ہیں۔
ایک وجہ تو یہ سمجھ میں آتی ہے کہ ہم خود کو بزعم خود بڑا تیس مار خاں قسم کا ادیب و مصنّف و دانشور سمجھنے لگے ہیں حالانکہ کیا پّدی اور کیا پدّی کا شوربہ۔ دوسرا، ہمارے ذہن میں یہ خنّاس بھی سما گیا ہے کہ اس قوم کی اصلاح کرنا ہمارا اخلاقی فریضہ ہے اور ہم خدائی فوجدار قسم کے پاٹے خاں بن چکے ہیں لہذا بات بے بات ہم اپنا اخلاقی لتّر نکال کر قوم کی تشریف لال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک خیرخواہ نے بہت عرصہ پہلے ہمیں متنبّہ کیا تھا کہ شادی شدہ خواتین اور فلسفے سے ہمیشہ دور رہنے کی کوشش کرنا۔ استاد محترم قبلہ ابن انشاء کے کینسر کی وجہ بھی ایک شادی شدہ خاتون ہی تھیں جو ساری زندگی ان کا جذباتی استحصال کرتی رہیں، حوالے کے لیے ملاحظہ ہو ان کی وہ نظم جس میں وہ یہ دہائی دیتے پائے جاتے ہیں کہ یہ ساری جھوٹی باتیں ہیں جو لوگوں نے پھیلائی ہیں لہذا ان کا نام نہ لیا جائے کیونکہ مابدولت سودائی نہیں ہیں۔ اس سکینڈل بارے ہمیں حمید اخترسے پتہ چلا تھا۔ انہوں نے اس خاتون کی عیّاریوں اور ہمارے گرو کی بے اختیاریوں کا ذکر بھی کیا تھا۔ ہماری شدید خوش قسمتی ہے کہ خواتین سے دور رہنے کی کبھی ضرورت ہی پیش نہیں آئی کہ وہ خود ہی ہم سے بارہ کوس دور رہتی ہیں، البتّہ فلسفے والی بات نے ہمیں برباد کیا ہے۔ ہمارے چند بلاگی و فیس بکی احباب، جن کا نام لینا ہم مناسب تو سمجھتے ہیں لیکن ان کی مفت میں مشہوری کرنا ہماری کمینگی سے مطابقت نہیں رکھتا، اکثر ہمیں آن لائن پاکر فلسفے کے 'کھُنڈے' استرے سے ہمارے دماغ پر جمی ہوئی کائی کھرچنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اس حرکت سے وہ تو اپنا اپھّارہ ختم کرلیتے ہیں لیکن ان کی اس انٹلکچوئل دراندازی سے ہمیں جو فلسفیانہ بدہضمی ہوجاتی ہے، وہ ماضی قریب کی تحاریر میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔
ہماری برداشت کی داد دی جانی چاہیے کہ آج نہ تو ہم نے زیرو میٹر وزیر خارجہ پر کچھ لکھا اور نہ ہی صدر مملکت کی دو مسلمان مملکتوں، جو ہمیشہ اپنا اپنا اسلامی برانڈ برآمد کرنے کے چکروں میں رہتی ہیں، کے درمیان مفاہمتی کوششوں کو موضوع سخن بنایا۔ حالانکہ اس موضوع پر ہمارے دل میں جو مُغلّضات کا طوفان برپا ہوا تھا اس نے خود ہمیں ہی شرمندہ کردیا تھا کہ ۔۔۔ یارب! ایسی چنگاری بھی اپنی خاکستر میں تھی۔۔۔ چونکہ بقول نورجہاں، میرا دل چنّاں، کچ دا کھڈونا (اے 'محبوب' میرا دل کانچ کا کھلوناہے)۔۔۔ اور اس کھڈونے کو کل جو ٹھیس لگی ہے، اس نے ہمیں ان تمام موضوعات پر لکھنے سے باز رکھا جو ہمیں کھڑوس پنے کے اور قریب کردیتے۔
ہم اگر شاعر ہوتے(جو الحمد للہ نہیں ہیں) تو کبھی ن م راشد کی طرح اپنے خواب سرعام بیان نہ کرسکتے کیونکہ ایسے رنگین و سنگین خواب اگر ریکارڈ کیے جاسکتے تو ہم ان کی فروخت سے کم ازکم سٹیو جابز سے تو زیادہ امیر اور تندرست ہوتے! یہ خواب فروشی بھی تقریبا بے ضرر ہی ہوتی کیونکہ ہم کسی کو سبز باغ کے خواب دکھانے کی بجائے اپنے خوابوں سے انٹرٹین کرتے۔ حالیہ یبوست زدگی کا اثر ہمارے خوابوں پر بھی پڑا ہے اور ہم اپنی زندگی کی اکلوتی عیّاشی سے بھی محروم ہوگئے ہیں۔ کہاں وہ دور تھا کہ ہمارے خواب، پہاڑی وادیوں، جھرنوں، سبزہ زاروں، ساحلوں، بادبانی کشتیوں اور رومانی دوگانوں پر مشتمل ہوتے تھے۔ بچپن اور نوجوانی کے 'کرش' ہمارے خوابوں میں جلوہ افروز ہوکر ہمیں وہ سب کچھ کہتے تھے، جس کا الٹ وہ ہمیں حقیقی زندگی میں کہتے رہے تھے۔ ان میں کچھ مناظر "سختی سے بالغوں کے لیے" والے زمرے میں بھی آتے تھے، جوکہ ظاہر ہے، ریکارڈنگ کی صورت میں مناسب حد تک قطع و برید کے بعد ہی فروخت کے لیے پیش کیے جاتے۔ البتہ 'ڈریمرز کٹ' کے نام پر بغیر کٹ کے بھی یہ خواب دستیاب ہوتے لیکن ان کی قیمت 'تھوڑی' سی زیادہ ہوتی۔ اصل سانحہ یہ ہے کہ یہ سارے منصوبے اور خواب چکناچور ہوگئے ہیں اورہمارے یہ سنگین و رنگین و دلنشین خواب ، خواب ہوئے اور آج کل کے تازہ ترین خواب، انتظار حسین کے افسانوں کی طرح ہوگئے ہیں کہ جن کی سمجھ چاہے نہ آئے لیکن ڈر ضرور لگتا ہے۔
کل کی وارداتِ انہدامِ قلبی کے بعد ہم نے یہ ارادہ باندھ لیا ہے کہ آئندہ فلسفے، اخبار اور ماش کی دال سے بالکل اجتناب کریں گے۔ فلسفیانہ مسائل وہی مردان باصفا سلجھا سکتے ہیں جو بقول شاعر۔۔۔ انہی کا کام ہے جن کے حوصلے ہیں 'ابن' زیاد۔۔۔۔ اوریہ کام ہمارے بس کا نہیں ہے لہذا آج سے معمول کی نشریات وقتی خلل اور دماغی خرابی کے بعد دوبارہ شروع سمجھی جائیں۔
لالی پاپ
ترقی کرنی چاہیے جی اور ضرور کرنی چاہیے۔ محنت کرنی چاہیے، پیسہ کمانا چاہیے اور آگے بڑھنا چاہیے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر قیمت پر؟
جوماجھا ساجا گرمیوں کے پندرہ دن یورپ گزار آتا ہے وہ ہمارےکان کھانے شروع کردیتا ہے کہ تم لوگ کبھی ترقی نہیں کرسکتے۔ یہاں سیاحوں کے لیے کوئی 'سہولت' میسر نہیں، کوئی 'تفریح' کا بندوبست نہیں، کوئی 'منورنجن' نہیں۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ کیا ترقی کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے ملک میں سیاحت کے فروغ کے نام پر قحبہ خانوں کا کلچر عام کریں؟ جو کہ الا ماشاءاللہ حضرت علامہ مولانا پیجا دہلوی پہلے کافی عام کرچکے ہیں لیکن ان شوقیہ فنکاروں کی سوکالڈ ترقی پھر بھی کہیں نظر نہیں آتی۔ کیا آپ اپنی معیشت بہتر کرنے کے لیے اپنے گھر کے کمروں کو بہترین ڈیکوریٹ کرکے اور تمام سہولیات میسر کرکے 'اچھا' وقت گزارنے والوں کو کرایہ پر دینا پسند کریں گے؟
دبئی کی مثال بہت دی جاتی ہے کہ اس نے کیسے کم وقت میں ترقی کی ہے اور وہاں ہر 'قسم' کی آزادی ہے اور کسی قسم کی 'روک ٹوک' نہیں ہے۔ اگر صاف گوئی کا مظاہرہ کیا جائے تو دبئی ایک بہت بڑے چکلے کے علاوہ کچھ بھی کہلانے کا حقدار نہیں ہے۔ اس کی ساری ترقی بلبلہ ثابت ہوئی اور وہ ایک جھٹکے کی مار نہیں سہہ پائی۔ اب پھر اس کا انحصار اسی 'قدیمی پیشے' پر ہے جس نے اسے دنیا میں اتنی 'مشہوری' عطا کی تھی۔
ترکی کی بہت بلّے بلّے ہورہی ہے کہ کیسے وہاں نماز پڑھنے والے نماز پڑھتے ہیں اور نائٹ کلب جانے والے نائٹ کلب جاتے ہیں اور کوئی ایک دوسرے کو تنگ نہیں کرتا۔ تو جی میرا سوال یہ ہے کہ اگریہی سب کچھ یہاں پاکستان میں بھی کرنا تھا تو یہ ملک 'امب' لینے کے لیے بنایا تھا؟ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس ملک کے بنانے کا مقصد معاشی تھا نہ کہ دو قومی نظریہ تو اپنی چلتی معیشتیں اور نوابیاں چھوڑ کے یہاں لٹ پٹ کے آنے والے تو کائنات کے احمق ترین باشندے ہی ہوسکتے ہیں۔ اور سائڈ نوٹ یہ کہ دو قومی نظریہ تو اب یورپ اور امریکہ کی 'اعلی سیکولر اقدار' والی قومیں بھی تسلیم کرتی ہیں بلکہ اس پر عملدرآمد کے لیے اپنی پوری قوت بروئے کار لا کر نئے ملک بنانے سے بھی نہیں چوکتیں، ریفرنس کے لیےمشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان ملاحظہ ہو۔
یہ ہماری اجتماعی بدقسمتی ہے کہ ہم نے ملک تو بدل لیا لیکن صدیوں سے قابض حکمران طبقے کو نہ بدل سکے جو کبھی مذہب اور کبھی روشن خیالی کے نام پر ہماری تشریف لال کرتا رہا ہے اور مسلسل کررہا ہے۔ یہ لوگ نہ تو عوام کو تعلیم دے سکے نہ انصاف، نہ تربیت کرسکے اور نہ ترقی دے سکے۔ لالی پاپ، البتہ بہت دیئے۔ زبان کے لالی پاپ، نسل کے لالی پاپ، برتری کے لالی پاپ، مذہب کے لالی پاپ،جمہوریت کے لالی پاپ، روشن خیالی کے لالی پاپ، نفرت کے لالی پاپ، اور ہم سب کو مجبور کیا کہ ان لالی پاپس کے چُوپے لگاتے جاؤ اور موجیں کرتے جاؤ اور اسی طرح جہنم رسید ہوتے جاؤ۔
ترقی کرنی ہے تو تعلیم دینی پڑے گی، تربیت کرنی پڑے گی نہ کہ سیاحت کے نام پر قحبہ گری کو 'گراس روٹ' لیول پر فروغ دینے کی کوششیں۔ ترکی اور دبئی کی مثالیں دینے والوں کو تھائی لینڈ کی سیاحتی بنیاد والی معیشت کے نتائج و مضمرات پر بھی روشنی ڈالنی چاہیے کہ اس سیاحتی ترقی نے وہاں کیسا سماجی ‘انقلاب’ برپا کیا ہے!۔
بُلبُل اور بی سی جیلانی!۔
آج کل تو فیشن ہے کہ این جی اوز پر تبرا کیا جائے اور یہ ثابت کیا جائے کہ یہ حرامخور ہیں، گوروں کو بے وقوف بنا کے موجیں کرتے ہیں اور ڈالر، یورو وغیرہ پیٹتے ہیں۔ جبکہ جتنی محنت، مشقت اور اپنا آپ مار کے ہم روزی کماتے ہیں شاید ہی کوئی ایسا کرتا ہو۔ مثلا آج 'سفارت خانے' میں جو گٹ ٹو گیدرہوئی، اس میں شرکت کرنے کے لیے اپنا آپ جیسے مارنا پڑا، یہ وہی جانتا ہے جسے "بلبلوں اور مالیوں" کے ساتھ لگ بھگ تین گھنٹے گزارنے پڑے ہوں۔
چند روز قبل، شہنشاہ عالی مقام نے اپنی تقریر میں ان لوگوں کے حقوق کی حفاظت کا عندیہ دیا تھا، جن کی 'ترجیحات' مختلف ہوتی ہیں۔ یہ تقریب اسی تقریر کا فالو اپ تھی۔ اس تقریب کا دعوت نامہ جب سے موصول ہوا تھا، اسی وقت سے میں اس الجھن میں تھا کہ جانا چاہیے یا نہیں لیکن نہ جانا تو آپشن تھا ہی نہیں۔۔۔۔۔ نوکر کیہ تے نخرہ کیہ۔
تقریب میں شرکت کے لیے ایک مخصوس ڈریس کوڈ بھی تھا۔ جس میں پنک رنگ آپ کے ملبوسات کا کسی نہ کسی شکل میں حصہ ہونا لازمی تھا۔ مجھے مجبورا پنک قمیص پہننی پڑی۔ وہ تو شکر ہے کہ یہ تقریب سختی سے میڈیا نان فرینڈلی تھی لہذا کسی قسم کی تصویر یا فٹیج شائع یا آن ائیر نہیں جاسکی۔ سچی بات تو یہ ہے کہ آج مجھے انسانی حقوقیا ہونے پر شرم سی آنے لگی تھی۔ اس سے مجھے یہ بھی پتہ چلا کہ میں اتنا بھی بی سی نہیں ہوں۔
عمدہ مشروبات، بہترین باربی کیو، ایلٹن جان کے دھیمی آواز میں بجنے والوں گانوں اور عمدہ ماحول کے باوجود مجھے ایسا محسوس ہوتا رہا جیسے میں کسی بغیر سلنسر کے رکشے میں بیٹھا ہوں اور یہ رکشہ کسی کچے اور اونچے نیچے رستے پر "رواں دواں" ہے۔ ایلٹن جان کے گانے کی جگہ جارج مائیکل کا گانا بجنے پر یوں محسوس ہوتا رہا جیسے رکشے نے اچانک بریک لگا کر دوبارہ پوری رفتار سے دوڑنا شروع کردیاہو۔
تقریب کے مہمان خصوصی ایک مشہور فیشن ماڈل تھے جبکہ صدارت ایک سیاسی شخصیت نے کی۔ میری رائے میں تو بلاول بھٹو زرداری اس تقریب کے لیے بہترین مہمان خصوصی ثابت ہوتے جبکہ صدارت کے فرائض فرزانہ راجہ بخوبی انجام دے سکتی تھیں۔ لیکن وہ کیا فارسی کہاوت ہے کہ ۔۔ رموز مملکت خویش خسرواں دانند۔۔۔ ویسے بھی ان "حقوق" اور فارس کا گہرا اور تاریخی تعلق ہے۔
اس تین ساڑھے تین گھنٹے کی کُتے کھانی کا ایک فائدہ ہوا۔ تعلیمی اداروں میں "بلبل اور مالی ازم" پھیلانے کا پروجیکٹ مجھے مل گیا۔ مجھے آہستہ آہستہ پتہ چلتا جارہا ہے کہ میرے حاسدین میرے نام کے مخفف سے جو لفظ بناتے ہیں وہ کوئی اتنا غلط بھی نہیں ہے۔
پیچیدگیاں و گھمن گھیریاں
چند دن پہلے ایک مقبول اردو روزنامے کے ناٹ سو مقبول کالم نویس نے اپنی فیس بک وال پر ایک نوٹ شئیرا تھا۔ یہ کالم نویس، افسانہ نویسی کی بجائے کالم نویسی ہی کرتے ہیں اور سو میں سے ننانوے دفعہ معقول بات لکھتے ہیں، ایک آدھ دفعہ تو بندہ چول مار ہی جاتا ہے ناں جی، بندہ جو ہوا۔ بہرحال اس نوٹ میں انہوں نے فوج کی حمایت میں دلائل کی ایک لمبی فہرست دی۔ جن میں ایک دلیل یہ بھی تھی کہ افغانستان میں جاری مزاحمت کی پشتیبان ہماری فوج ہے، اسی وجہ سے امریکہ ہم سے ناراض ہے اور فوجی قیادت امریکہ نواز بالکل نہیں ہے بلکہ وہ پاکستان کے مفادات کا تحفظ کررہی ہے۔ اس پر میں نے ان سے ایک سوال پوچھا تھاکہ یہاں پاکستان سے ان کی مراد کیا ہے۔ جس کا جواب دینا انہوں نے مناسب نہیں سمجھا، حالانکہ فیس بک پر وہ اکثر سوالات کے جوابات کافی تفصیل سے دینے کے عادی ہیں۔
جڑواں میناروں کی تباہی کے بعد جب امریکی ، افغانستان میں تشریف لائے تو ان دنوں سابق سرخے، حال انسانی حقوقیے اسی طرح خوش تھے جیسے سوویت یونین کے افغانستان میں آنے پر انہوں نے بغلیں بجائی تھیں کہ بس اب سرخ سویرا آیا کہ آیا جبکہ سرخ سویرا تقریبا دس سال بعد واپس وہیں گھس گیا تھاجہاں سے نکلا تھا، امریکیوں کے آنے پر سابقہ کامریڈز نے اس خطے میں جمہوریت، انسانی حقوق (این جی او مارکہ)، مساوات اور اگر احباب معاف کرسکیں تو سیکولر ازم کی نوید سنائی تھی۔ ساتھ میں یہ چتاؤنی بھی دیتے پائے گئے تھے کہ وہ دن گئے جب خلیل خاں فاختہ اڑایاکرتے تھے، یہ افغانی، امریکیوں کے بل بوتے پر روسیوں سے لڑے تھے، اب چونکہ امریکی خود تشریف لے آئے ہیں، تواب ان جاہلوں کا بیڑہ غرق ہی سمجھو۔ امریکیوں کو اس خطے میں تقریبا دس سال ہونے کو آئے ہیں اوراب وہ بھی وہیں گھسنے کی تیاری کررہے ہیں جہاں سے نکلے تھے اور مور اوور، افغانستان میں فتح سے امریکی اتنے ہی دور ہیں جتنے ہمارے کچھ ساتھی کامن سینس سے!۔
یہاں ذہن میں چند سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ اگر افغان مزاحمت کی پشتیبانی پاکستانی فوج کرتی رہی ہے اور کررہی ہے تو پاکستانی طالبان، فوج کے خلاف کیوں ہیں؟ کیا ان پاکستانی طالبان کو امریکی مدد حاصل ہے جیسے افغان طالبان کو پاکستانی مدد حاصل ہے؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنی بڑی سپر پاور اور بقول صحافی و سیاسی بزرجمہروں کے 'ہم ان سے نہیں لڑسکتے' قسم کی طاقت کو دس سال تک دھوکے میں رکھا جائے؟ اگر یہ ممکن ہے تو امریکیوں سے بڑا گدھا اس روئے زمین پر دوسرا کون ہوسکتا ہے؟ اگر پاکستانی فوج افغان طالبان کی پشت پناہی نہیں کررہی، تو اس مزاحمت کے پیچھے کس کی مدد اور پیسہ کام کررہا ہے؟ اور اگر پاکستانی طالبان کو امریکی مدد حاصل نہیں تو ان کو پیسہ اور مدد کہاں سے مل رہی ہے؟ اور اگر پاکستانی طالبان کو امریکی مدد حاصل ہے تو ان کے کندھے پر بندوق رکھ کے مذہب اور اس کی اقدار کو نشانہ بنانے والے اور پاکستانی طالبان ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے نہیں سمجھے جائیں گے؟
اس سارے کنفیوژن سے نکلنے کا ایک آسان حل تو یہ ہے کہ انہیں سازشی نظرئیے قرار دے دیا جائے لیکن یہ سازشی نظرئیے بھی نہایت کمینے نظرئیے ہوتے ہیں اور اس سے بھی بڑی ذلالت ان میں یہ ہوتی ہے کہ یہ اکثر سچ ثابت ہوجاتے ہیں!۔
پھر قاعدہ
بہت دن الٹی سیدھی ہانکنے کے بعد ہمیں محسوس ہونا شروع ہوگیا ہے کہ اب چونکہ چل چلاؤ کا وقت آن لگا ہے تو کچھ ایسا کام کرجانا چاہیے کہ ہمارا نام تاریخ (کیلنڈر والی نہیں) میں چمپئی الفاظ سے لکھا جائے اور مؤرخین، ہمیں ایک ایسے عظیم ادیب اور مصنف کے طور پر یاد کریں جس نے اردو کا مستقبل ہمیشہ کے لیے بدل کے رکھ دیا ہو۔ بناء بریں ہماری نظر اس موئے قاعدے کی طرف ہی گئی ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ بہرحال اس دفعہ ہم اپنے تئیں سر دھڑ کی بازی لگا کر اسے ختم کرنے کی کوشش کریں گے مبادا اس سے پہلے کہیں ہم خود ہی کڑیں نہ ہوجائیں۔۔ ہیں جی!۔
ض۔۔۔۔ ضرار۔ یہ ایک ٹینک ہے۔ پانی والا یا تیل والا ٹینک نہیں بلکہ گولہ بارود برسانے والا ٹینک۔ اسے ہماری "مُسلا" افواج نے بنفس نفیس اپنی ورکشاپ میں بنایا ہے۔ تاکہ بوقت جنگ دشمن افواج کے دانت کھٹے اور ان کی جیپیں، ٹرک ودیگر آلات حرب و ضرب تباہ و برباد کیے جاسکیں۔ مستقل دشمن سے جنگ کا چونکہ کوئی امکان نہیں، لہذا اسے آزمانے کے لیے ہم نے ایسے جزوقتی "دشمن" ڈھونڈ لیے ہیں، جن کے پیسوں سے یہ ٹینک بنایا گیا تھا۔ان ناہنجاروں کی کمر توڑنے میں یہ ٹینک بہت کار آمد ثابت ہورہے ہیں۔ ایک محاورے میں اس صورتحال کی عکاسی ایسے کی گئی ہے کہ "میریاں جُتّیاں، میرا اِی سر" ۔
ط۔۔۔۔طوطا۔ اس کا نک نیم میاں مِٹھّو ہوتا ہے اور یہ چُوری کھاتا ہے۔ جبکہ طوطا چشم چَوری کھاتے ہیں۔ اشفاق احمد یہ اصرار کرتے کرتے اللہ کو پیارے ہوگئے کہ طوطا ، ت سے ہوتا ہے۔ لیکن کسی نے ان کی بات سن کر نہیں دی۔ تھوڑا غور کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ توتا چشم، زیادہ طوطا چشم محسوس نہیں ہوتا!۔
ظ۔۔۔۔ ظُلمی۔ یہ لفظ پرانے فلمی گانوں میں کثرت سے استعمال کیا جاتا تھا۔ مثلا، ظلمی نہ موڑ موری بیّاں ، پڑوں تورے پیّاں ۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ اور اصل میں خاتون ان الفاظ کے برعکس ظُلمی کو اکسارہی ہوتی تھی کہ میری بّیاں پکڑ کے مروڑ کمبخت، مٹی کا مادھو بن کے نہ کھڑا رہ۔ اس ساری صورتحال کو وکی لیکس کے تناظر میں بخوبی سمجھا جاسکتا ہے۔
ع۔۔۔۔ عریانی و فحاشی۔ ملک عزیز میں اس کے مظاہر جابجا بکھرے نظر آتے ہیں۔ جناتی سائز کے سائن بورڈز، جہاں کوئی خاتون چارگرہ کپڑے میں پھنسی ہوئی آپ کومختلف اشیاء، جو سوڈا واٹر سے لے کر موبائیل پیکجز تک کچھ بھی ہوسکتا ہے، خریدنے کے لیے ورغلانے کی جان توڑ کوشش کرتی نظر آرہی ہوتی ہے۔ ان اشتہارات کو دیکھ کر آپ یہ فیصلہ نہیں کرسکتے کہ اشتہار سوڈا واٹر کا ہے یا خالص دودھ کا!۔ احباب اس بات پر شدید اعتراض کرسکتے ہیں کہ اس مظہر یعنی عریانی و فحاشی کی باقی علامات جو وطن عزیز میں جگہ جگہ نظر آتی ہیں، ان پر ہماری نظر کیوں نہیں پڑی؟ اس پر ہمارا جواب ایک طویل چپ ہے!۔
غ۔۔۔۔ غرارہ۔ یہ زیادہ تر ساٹھ کی دہائی کی فلموں اور فاطمہ ثریا بجیا کے ڈراموں میں پایا جاتا ہے۔ اس غبارہ نما لباس کی خاص بات، اس کی عیب پوشی کی صلاحیت ہے۔ اس لباس میں شمیم آراء اور صائمہ یکساں طور پر لحیم شحیم نظر آسکتی ہیں۔ شنید ہے کہ جب یہ لباس عام پہناوا تھا تو گھروں میں جھاڑو پونچھا لگانے کی ضرورت کم ہی پیش آیا کرتی تھی۔ کیونکہ اس کام کے لیے یہ لباس پہن کر گھومنا پھرنا ہی کافی ہوتا تھا۔ ایک غرارہ وہ بھی ہوتا ہے جو گلا خراب ہونےکی صورت میں نیم گرم پانی میں نمک ملا کے کیا جاتا ہے۔ یہاں آکے ہمارا سارا علم جواب دے جاتا ہے کہ ان دونوں غراروں میں قدر مشترک کیا ہے؟
ف۔۔۔فیصل آباد۔ یہ شہر سے زیادہ ایک حالت ہے اوراکثر و بیشتر اس شہر کے باشندوں پر ہی طاری ہوتی ہے بلکہ طاری ہی رہتی ہے۔ روایت ہے کہ ایک مشہور خطیب جمعے کے خطبے کے دوران حسب رواج و موسم حضرت موسی علیہ السلام کا قصہ بیان کررہے تھے۔ اس قصہ میں جب کوئلے کا ذکر آیا تو وہ یوں گویا ہوئے کہ "واہ اوئے کولیا، تیریاں شاناں، او جے پَخ گیا تے نورانی، تے جے بُجھ گیا تےےےےےےے۔۔۔۔۔۔ مفتی جعفر حسین"۔۔۔۔(واہ اے کوئلے، تیری کیا شان ہے۔ اگر دھک جائے تو نورانی اور اگر بجھ جائے تو مفتی جعفر حسین)۔ اس مثال سے آپ بخوبی سمجھ گئے ہوں گے کہ فیصل آبادی حالت کیسی ہوتی ہے۔
ق۔۔۔ قانون۔ یہ گنّا بیلنے والی مشین کی طرح ہوتا ہے۔ جس میں عوام کا رَس نکالا جاتا ہے۔ اس مشین کو چلانے والے، قانون نافذ کرنے والے ادارے، کے نام سے جانے جاتے ہیں اور جیسا کہ انصاف کا تقاضہ ہے، یہ ادارے قانون سے بالاتر ہوتے ہیں۔ قانون کی مزید تشریح کیلئے آپ، منٹو کی "نیا قانون" بھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔
ک۔۔۔ کُتّا۔ یہ ایک پالتو جانور ہوتا ہے۔ اقوام مغرب میں اسے افراد خانہ کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ وہاں بیوی رکھنا اتنا ضروری نہیں، جتنا کُتّارکھنا ضروری ہے۔ ہالی ووڈ فلموں کا ماچو ہیرو بھی اسی وقت غیض و غضب کی انتہا کو پہنچتا ہے جب ولن اس کے بیوی بچوں کو مارنے کے بعد اس کے کُتّے کو بھی مار دیتا ہے۔ صاحب لوگ اکثر کُتّے کو ان اقوام کی رحمدلی، جانوروں سے محبت اور تہذیب یافتہ ہونے کی دلیل کے طور پر بیان کرتے ہیں اور ہمیں شرمندہ کرتے ہیں کہ تم اب تک جاہل کے جاہل ہی رہے اور کُتّے کو اس کا اصل مقام نہ دے سکے۔ ان روز روز کے طعنوں سے تنگ آکر ہم نے بھی وہ کام کیا ہے کہ بقول شاعر۔۔ ۔جو کام ہوا ہم سے، رستم سے نہ ہوگا۔۔۔ سمجھ تو آپ گئے ہی ہوں گے!۔
گ۔۔۔ کھَوتَا۔ ہمارے برادر خورد، اردو کا الف انار ب بکری والا قاعدہ پڑھتے ہوئے ہمیشہ گ سے کھَوتَا پڑھتے تھے۔ ان کے معصوم ذہن میں یہ بات نہیں سماتی تھی کہ عام زندگی میں جسے وہ کھوتا کہتے ہیں، کاغذ پر اس کی تصویر چھپی ہو تو اسے گدھا کہنا کیوں ضروری ہے؟ اپنی مِس سے تو شاید انہیں مار نہیں پڑی ہوگی کہ شدید گُگلُو قسم کے بچے تھے، لیکن ہمارے ہاتھوں وہ غریب سخت زدوکوب ہواکرتے تھے۔ آخر تنگ آکے انہوں نے زمینی حقائق سے سمجھوتہ کرلیا اور گ سے کھوتے کی بجائے گدھا ہی پڑھنے لگے!۔
اماں سردار بیگم
اس زمانے میں بچے نوکر نہیں پالتے تھے، مائیں پالتی تھیں۔ غریب مائیں، امیر مائیں، بھونڈی مائیں، پھوہڑ مائیں، اور اپاہج مائیں، پاکباز اور طوائف مائیں سبھی اپنے بچے خود پالتی تھیں۔ ان کے پاس بچے پالنے کا سستا اور آسان نسخہ تھا کہ وہ گھر سے باہر نہیں نکلتی تھیں۔ بچے اپنی ماں سے چالیس پینتالیس گز کے ریڈیس میں کہیں بھی جاتے، کہیں بھی ہوتے، کہیں کھیلتے ان کو اچھی طرح سے معلوم ہوتا تھا کہ مشکل وقت میں ان کی پکار پر اماں بجلی کی طرح جھپٹ کر مدد کے لیے آموجود ہوگی اور وہ اپنی مشکل اپنی ماں کے گلے میں ڈال کر گھر کے اندر کسی محفوظ کونے میں پہنچ جائیں گے۔ اس زمانے کی مائیں بچوں کو اپنی عقل و دانش سے یا نفسیاتی ذرائع سے یا ڈاکٹر سپوک کی کتابیں پڑھ کر نہیں پالتی تھیں بلکہ دوسرے جانوروں کی طرح صرف ممتا کے زور پر پالتی تھیں۔ بچے بھی کھلونوں، تصویروں، ماؤں کی گودیوں اور لمبی لمبی کمیونی کیشنوں کے بغیر پروان چڑھتے تھے اور ذہنی، جسمانی اور روحانی طور پر بڑے ہی سرسبز ہوتے تھے۔ ان کے پاس یقین کی ایک ہی دولت ہوتی تھی کہ ماں گھر پر موجود ہے وہ ہر جگہ سے ہماری آواز سن سکتی تھی۔ جس طرح پکے پکے خدا پرست کو پورا پورا یقین ہوتا ہے کہ خدا اس کے حلقے میں ہر وقت موجود ہے اور وہ جب اسے پکارے گا، رگ جان سے بھی قریب پائے گا اسی طرح بچے کو بھی اپنی پکار اور ماں کے جواب پر مکمل بھروسہ ہوتا تھا!۔
___________________________________________________________
کھانے کے بعد ان اوقات میں بڑی آپا اور آفتاب بھائی فلسفے کی پیچیدہ گتھیاں سلجھا رہے ہوتے تو کبھی کبھی اماں بھی اس میں دخل دے دیا کرتیں۔ جب بھائی جان بنی نوع انسان کی زبوں حالی اور ہندوستان کے پائمال و پریشان مسلمانوں کی بے بسی اور بے آبروئی کا نقشہ کھینچتے تو سب کی آنکھوں میں آنسو آجاتے۔ اس سلسلے میں جب بے حس امیر مسلمانوں اور بدکردار مسلم رؤسا کا ذکر چلتا تو ہماری آنسوؤں سے لبریز آنکھوں میں خون اتر آتا۔ اماں ہلکے سے خوف، ذرا سی ہچکچاہٹ کے ساتھ دبی ہوئی آواز میں کہتیں، "ہمیں اپنے غریب بہن بھائیوں کی حالت زار دیکھ کر اور ان کی بے سروسامانی اور بے آبروئی پر ترس کھا کر ان کی مدد نہیں کرنی چاہیے بلکہ اللہ رسول کے حکم کی وجہ سے ان کی دستگیری کرنی چاہیے۔ ترس کھانے اور آنسو بہانے کے مقابلے میں اللہ کے رسول کا حکم زیادہ زور آور اور زیادہ ڈاڈھا ہے۔ ہم کوحکم ماننا ہے، ترس نہیں کھانا"۔
____________________________________________________________
میں نے کہا، "میں علم پھیلانا چاہتا ہوں اور لوگوں کو عقل سکھانا چاہتا ہوں۔ میں کتابیں لکھوں گا۔ تصنیف و تالیف کروں گا"۔ "اور یہ جو اتنی ساری کتابیں پہلے لکھی رکھی ہیں۔۔۔۔ !" اماں نے پوچھا "ان کا کیا بنے گا؟ ان کو کون پڑھے گا؟" مجھے اپنی اماں کی سادہ لوحی پر ہنسی آگئی اور میں یہ سن کر دنگ رہ گیا کہ میری اماں کو تصنیف و تالیف کے عمل سے بھی واقفیت نہیں ہے۔ میں نے ہنس کر کہا، "میری پیاری اماں! اب تک چھپی ہوئی کتابیں لوگوں کی لکھی ہوئی کتابیں ہیں۔ میرے حساب سے اوسط درجے کی تحریریں ہیں اس لئے میں خود نئی کتابیں لکھ کر زمانے کے سامنے پیش کروں گا اور ان کے علم میں اضافہ کروں گا۔" اماں کو میری یہ بات ٹھیک سے سمجھ آگئی۔ اس نے اپنا چہرہ میری طرف کئے بغیر نئی روٹی بیلتے ہوئے پوچھا، "تو اپنی کتابوں میں کیا پیش کرے گا؟"۔ میں نے تڑپ کر کہا، "میں سچ لکھوں گا ماں اور سچ کا پرچار کروں گا۔ لوگ سچ کہنے سے ڈرتے ہیں اور سچ سننے سے گھبراتے ہیں۔ میں انہیں سچ سناؤں گا اور سچ کی تلقین کروں گا۔" میری ماں فکرمند سی ہوگئی۔ اس نے بڑی دردمندی سے مجھے غور سے دیکھا اور کوئلوں پر پڑی ہوئی روٹی کی پروا نہ کرتے ہوئے کہا، "اگر تو نے سچ بولنا ہی ہے تو اپنے بارے میں بولنا، دوسرے لوگوں کی بابت سچ بول کر عذاب میں نہ ڈال دینا۔ ایسا فعل جھوٹ سے بھی برا ہوتا ہے"۔ مجھے اپنی ماں کی سادہ لوحی پر بہت ہنسی بھی آئی لیکن اس کے احترام کی وجہ سے میں ہنسا نہیں، آرام سے بیٹھ کر کھانا کھاتا رہا اور اس کے روٹی پکانے کی آواز سنتا رہا۔ میری ماں بے چاری یا تو کھانا پکا سکتی تھی یا گھر کے دوسرے کام کرسکتی تھی، اس میں باریک باتوں کی سمجھ مطلق نہیں تھی!۔
اشفاق احمد کی کہانی ”اماں سردار بیگم” سے اقتباسات
عبدالشکور، آنکھیں کھول
آپ عبدالشکور کو دیکھ لیں۔ یہ فیصل آباد میں پیدا ہوا۔ یہ اپنے آبائی گھر واقع منڈی کوارٹر میں رہتا ہے۔ یہ بچپن سے ہی پڑھاکو تھا۔ اس نے پرائمری ، مڈل اور میٹرک کے امتحان ہائی تھرڈ ڈویژن میں پاس کیے۔ یہ اعلی تعلیم کے لیے ملت 'یونیورسٹی' غلام محمد آباد (گلاما باد) میں داخل ہوگیا۔ ایف اے امتیازی نمبروں سے پاس کرنے کے بعد، عبدالشکور، حاجی ثناءاللہ کی کپڑے کی دکان پر منشی لگ گیا۔ حاجی صاحب کے دیکھا دیکھی اس نے داڑھی بھی رکھ لی اور تبلیغی اجتماعات میں بھی جانا شروع کردیا۔
عبدالشکور کی زندگی ناکامی کی اعلی مثال ہے۔ یہ سائیکل پر گھومتا ہے۔ اس کی شادی کا دور دور تک کوئی امکان نہیں۔ اس کی شلوار ٹخنوں سے اونچی ہوتی ہے۔ لوگ اسے مولوی مولوی کہہ کر اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ جب بھی خود کش بمباروں کی فیصل آباد میں داخلے کی اطلاع آتی ہے، پولیس اسے پکڑ کر لے جاتی ہے اور ہفتے دس دن تک حوالات میں بند رکھتی ہے۔ حاجی ثناءاللہ بھی ان دنوں کی تنخواہ کاٹ لیتے ہیں۔ یہ جب بھی لاہور جاتا ہے، بس میں چیکنگ کرنے والی پولیس پارٹی سب سے پہلے اسے کہتی ہے کہ 'اوئے مولبی، چل باہر آ"۔ عبدالشکور کی زندگی، شرمندگی کی شرمناک مثال ہے۔ عبدالشکور کا امیج دنیا کی نظروں میں نہایت خراب ہے۔ لوگ اسے دہشت گرد، بنیاد پرست، مولوی، تقلیدیا اور نہ جانے کیا کیا سمجھتے ہیں۔
اگر عبدالشکور، شلوار ٹخنوں سے نیچی کرلے، کلین شیو ہوجائے۔ منڈی کوارٹر کے مشٹنڈوں کے ساتھ گھومنا پھرنا شروع کردے۔ چرس نہ سہی، سگریٹ ہی پینا شروع کردے۔ 'بروکری' چاہے نہ کرے، لیکن 'خریداری' ہی شروع کردے۔ اور سب سے بڑھ کر اگر وہ 'منگ پتہ' کھیلنا شروع کردے۔ اس کا اچھا کھلاڑی بن جائے۔ تو اس کا امیج اور تاثر ڈرامائی طور پر بدل جائے گا۔ لوگ اسے زندہ دل، خوش باش اور اعلی انسان سمجھنے لگیں گے۔ پولیس اسے تنگ کرنا چھوڑ دے گی۔ خاندان میں اس کی عزت بڑھ جائے گی۔ یہ حاجی ثناءاللہ کی دکان پر کام کرنے کی بجائے اس جیسی کئی دکانیں خود کھولنے کی قابل ہوجائے گا۔
آپ وارث پورے چلے جائیں، افغان آباد، اشرف قصائی کے اڈے پر چلے جائیں، یا کسی بھی ڈیرے کا چکر لگالیں تو آپ دیکھیں گے کہ یہ لوگ منگ پتے کے اچھے کھلاڑی کی کتنی عزت کرتے ہیں۔ عبدالشکور کو اپنا تاثر بدلنے کے لیے کم ازکم یہ کام ضرور کرنا پڑے گا، ورنہ دنیا اسے قدامت پرست اور جاہل قرار دے کر مسترد کردے گی۔ اس کا مستقبل جو پہلے ہی لوڈ شیڈنگ کا مارا ہے، بالکل ہی تاریک ہوجائے گا۔
فیصلہ ترا، ترے ہاتھوں میں ہے ۔۔۔۔۔عبدالشکور!۔