ظفر کمال اور ڈولی

آپ  ظفر کمال کو دیکھ لیں۔ آپ ان کی زندگی پر نظر دوڑائیں۔ آپ حیران رہ جائیں گے۔ یہ فلاسفر، دانشور، حکیم، شاعر، مصنف، پریمی اور منصف ہیں۔ ایک بندے میں اتنی خوبیاں شاذو نادر دیکھنے کو ملتی ہیں۔ پولینڈ کی کہاوت ہے کہ ہر صدی میں ایسے دو انسان ہوتے ہیں جن میں یہ خوبیاں موجود ہوں۔ ہم برصغیر کو دیکھیں۔ ہم جان جائیں گے کہ پچھلی صدی میں علامہ اقبال ایسی شخصیت تھے اور اس صدی میں جناب ظفر کمال۔  یہ لاہور کے مضافات میں سپاہیانوالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کی زندگی جدوجہد سے عبارت ہے۔ یہ بچپن سے ہی خوبصورت اور ذہین تھے۔ سکول میں اساتذہ ان سے بہت محبت کرتے تھے۔ ہر جماعت میں یہ بآسانی پاس ہوجاتے۔ کالج اور یونیورسٹی میں بھی ان کی ذہانت اور حسن کے چرچے تھے۔ یہ جب آنکھوں میں سُرمہ لگاتے۔ بالوں میں چنبیلی کا تیل لگا کر پٹیاں جما کر باہر نکلتے تو لوگ انگلیاں منہ میں داب لیتے۔
ایجوکیشن کمپلیٹ کرنے کے بعد یہ سرکاری افسر بن گئے۔ ان کی فرض شناسی، معاملہ فہمی نے ہر طرف دھوم مچا دی۔ یہ افسر بن کر بھی سپاہیانوالہ کو نہیں بھولے۔ یہ ہر ویک اینڈ پر وہاں جاتے۔ یہ سپاہیانوالہ کی پنچائت کے سر پنچ بھی ہوگئے۔ یہ لوگوں کے جھگڑوں اور لڑائیوں میں منصف بن گئے۔ یہ کبھی انصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے تھے۔ فریقین ان کا فیصلہ ہنسی خوشی قبول کرتے۔ یہ ہر ویک اینڈ پر واپس آتے تو ان کے سکوٹر کی ٹوکری اور پچھلی سیٹ مختلف چیزوں سے لبالب بھری ہوتی۔ کوئی ان کو مرغیاں دے جاتا۔ کوئی ہدوانے اور گنے دے جاتا۔ کوئی دیسی گھی اور کوئی پنجیری۔ لوگ ان کو نقد نذرانے بھی دیتے۔ ان کی جیب بھر جاتی۔ یہ درویش طبیعت کے تھے۔ یہ پیسے اپنے پاس نہیں رکھتے تھے۔ یہ انہیں اپنے چپراسی کے اکاؤنٹ میں جمع کرا دیتے۔ چپراسی  کا نام عنایت اللہ تھا۔ یہ میانوالی کے علاقے عیسی خیل کا رہائشی تھا۔ ظفر کمال کو اس سے خاص انسیت تھی۔ یہ اسے کبھی ماتحت نہیں سمجھتے تھے۔ یہ اسے کبھی کبھار سکوٹر پر بٹھا کر راوی کنارے بھی لے جاتے۔ یہ دونوں گھنٹوں راوی کنارے جنگلات میں چہل قدمی کرتے ۔ یہ گنے بھی چوپتے ۔ یہ چھلیاں بھی کھاتے۔
ایک دن ظفر کمال کی لائف میں ایک دم چینج آگیا۔ یہ ویک اینڈ پر سپاہیانوالہ میں پنچائت اٹینڈ کرنے گئے۔ پنچائت میں خلاف معمول رش زیادہ تھا۔ یہ سرپنچ کی کرسی پر جا کر بیٹھے تو سب خاموش ہوگئے۔  اچانک ایک جوان العمر دوشیزہ اٹھی۔ سَرو قد۔ کتابی چہرہ۔ میدہ شہاب رنگت۔ بھرے بھرے ہونٹ۔ بادامی آنکھیں۔ گولائیوں اور قوسوں میں تِرشا سراپا جسے ریشمی چادر بھی چھپانے میں ناکام تھی۔ دوشیزہ نے ظفر کمال کی طرف دیکھا اور یوں مخاطب ہوئی،
"میرا نام ڈولی جوئیہ ہے۔ میرے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے۔ دشمنوں نے میرے شوہر کو جھوٹے الزام میں پھنسا کر گرفتار کرا دیا ہے۔ تھانے میں کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ کسی نے آپ کا ذکر کیا کہ ظفر کمال کے پاس جاؤ۔ انصاف ملے گا"۔
ظفر کمال کی نظریں بے اختیار جھک گئیں۔ یہ باعزت اور شرم حیا والے انسان تھے۔ یہ کبھی کسی کی دھی بہن کو غلط نظروں سے نہیں دیکھتے تھے۔ ظفر کمال نے ڈولی جوئیہ کو تسلی دی اور کہا کہ اس کے ساتھ ضرور انصاف ہوگا۔ انہوں نے ڈولی کو اگلے منگل اپنے دفتر آنے کا کہا۔
ڈولی جوئیہ اور اس کا شوہر  طارق حفیظ فراڈئیے تھے۔ یہ مالدار ادھیڑ عمر مردوں کو ڈولی کے جال میں پھنسا کر بلیک میل کرتے تھے۔ ڈولی فون پر ان کے ساتھ گندی باتیں کرتی تھی۔ یہ ساری کالیں ریکارڈ کر لیتے تھے۔ یہ بعد میں ان لوگوں کو بدنام کرنے کی دھمکی دیتے تھے۔ یہ ان کو لوٹ لیتے تھے۔ ظفر کمال ان کا نیا شکار تھا۔ منگل والے دن ڈولی ڈیپ کٹ کی سکائی بلیو پرنٹڈ شرٹ اور بلیک ٹراؤزر میں ملبوس، ڈارک گلاسز لگائے ظفر کمال کے دفتر میں جا پہنچی۔ عنایت اللہ نے ڈولی کو دیکھا تو اس کی فوک وزڈم نے الارم بجا دیا۔ وہ سمجھ گیا کہ یہ عورت خطرناک ہے۔ وہ ظفر کمال کو خبردارکرنا چاہتا تھا لیکن اسی اثناء میں ڈولی دفتر میں داخل ہو چکی تھی۔ ظفر کمال ڈولی کو اس حلیے میں دیکھ کر حیران رہ گئے۔ یہ ڈولی اس پنچائت والی ڈولی سے بالکل مختلف تھی۔ ظفر کمال نے ڈولی کو بیٹھنے کو کہا۔ ڈولی اک ادائے ناز سے آگے کو جھکی اور ایسے کرسی پر بیٹھی کہ ظفر کمال کی نظریں ڈولی کی شرٹ میں الجھ کر رہ گئیں۔
ظفرکمال نے عنایت اللہ کو بلا کر چائے لانے کو کہا اور ڈولی کی طرف متوجہ ہو کر بولے کہ بتائیے آپ کا مسئلہ کیا ہے۔ ڈولی نے گلاسز آنکھوں سے ہٹا کر سر کے بالوں میں اٹکائے۔ کرسی کی پشت سے سر ٹکایا اور ٹھنڈی سانس لے کر سیدھی ہوئی۔ اس کی آنکھوںمیں آنسو تھے۔ اس نے کہا کہ اس  کی محبت کی شادی تھی۔ لیکن بعد میں پتہ چلا کہ اس کا شوہر ایک دھوکے باز ہے۔ یہ اس کو مالدار مردوں سے افئیر لڑانے پر مجبور کرتا ہے تاکہ ان سے پیسے اینٹھے جا سکیں۔ ڈولی کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ اس نے میز پر پڑے ٹشو باکس سے ٹشو نکالا۔ گال اور ناک صاف کیا۔ ظفر کمال کی طرف محبت بھری نظروں سے دیکھا اور کہا کہ مجھے آپ سے بہت امید ہے کہ آپ مجھے اس شیطان کے چنگل سے بچا سکتے ہیں۔ پلیز میری ہیلپ کریں۔ میں کبھی بھی آپ کا احسان نہیں بھولوں گی۔ یہ کہہ کر ڈولی بلک بلک کر رونے لگی۔ ظفر کمال بے اختیار ہو کر کرسی سے اٹھے اور ڈولی کے قریب جا کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ ڈولی نے ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہونٹوں پر رکھا اور اسے چوم کر کہنے لگی،
"ظفر مجھے اس سے بچا لو۔ میں جانتی ہوں میں تمہارے لائق نہیں لیکن میں ساری زندگی تمہاری باندی بن کے رہوں گی۔ تم جو کہو گے میں وہ کروں گی"۔
یہ کہہ کر ڈولی اٹھی اور ظفر کمال کے فراخ سینے میں سما گئی۔ وقت جیسے تھم سا گیا ہو۔ ڈولی کا گداز سراپا ظفر کمال کو کسی اور ہی دنیا میں لے گیا جو عنایت اللہ کی دنیا سے قطعی مختلف تھی۔ اسی لمحے ظفر کمال نے فیصلہ کیا کہ وہ ڈولی کے لیے کچھ بھی کرے گا۔ ظفر کمال کی زندگی میں عزت، شہرت، مرتبہ، مقام سب کچھ تھا صرف محبت نہیں تھی۔ ڈولی نے اسے محبت سے بھی آشنا کر دیا۔  ظفر کمال اور ڈولی کی ملاقاتیں ہونے لگیں۔ اب ظفر کمال راوی کنارے جنگلات میں ڈولی کو لے کر گھنٹوں گھومتے رہتے۔ یہ ڈولی کو لمبی لمبی فون کالز بھی کرتے۔ یہ اس  کے لیے شاعری بھی کرنے لگے۔ یہ ڈولی کو مجبور کرنے لگے کہ طارق حفیظ سے طلاق لے  کر ان سے شادی کرلے۔ ڈولی اس موضوع پر ظفر کمال کو طرح دے جاتی۔ یہ کہتی کہ پہلے اس کو باہر آنے دیں۔ میں اس کے بعد ہی کوئی فیصلہ کر سکتی ہوں۔ ویسے بھی میرا سب کچھ تو آپ کا ہے شادی کی کیا ضرورت ہے؟ یہ کہہ کر ڈولی ایک ادا سے ظفر کمال کی طرف دیکھتی تو وہ گھائل ہو کر رہ جاتے۔
بالآخر ظفر کمال کی کوشش سے طارق حفیظ رہا ہو گیا۔ ڈولی اس کے ساتھ ظفر کمال کے دفتر آئی۔ دونوں بہت خوش نظر آرہے تھے۔ ظفر کمال یہ دیکھ کر کٹ  کے رہ گئے۔ ان کا دل ملول ہوگیا۔ ان کو ڈولی سے یہ امید نہیں تھی۔ ڈولی نے ظفر کمال کے چہرے سے ان کے دلی حالت کا اندازہ لگا لیا۔ یہ ان کی طرف دیکھ کر طنزیہ انداز میں مسکرائی اور بولی، "ظفر صاحب! میرا پیچھا چھوڑ دیں۔ میں جو حاصل کرنا چاہتی تھی وہ مجھے مل گیا ہے۔ اگر آپ نے دوبارہ مجھے تنگ کرنے کی کوشش کی تو آپ کی فون کالز کی ریکارڈنگز میرے پاس موجود ہیں۔ راوی کنارے والی بہت سی تصاویر بھی ہیں۔ یہ سب روزنامہ 69 میں چھپ جائیں گی۔ آپ کسی کو منہ دکھانے لائق نہیں رہیں گے۔ آج کے بعد میرا آپ کا کوئی تعلق نہیں۔ آپ نے میری جو مدد کی اس کا صلہ میں آپ کو ساتھ ساتھ دیتی رہی ہوں۔ ہمارا آپ کا حساب بے باق ہوا"۔
یہ کہہ کر ڈولی اٹھی، طارق حفیظ کا ہاتھ پکڑا اور دفتر سے نکل گئی۔ ظفر کمال اپنی سیٹ پر دل شکستہ اور دم بخود حالت میں بیٹھے تھے۔ ان کی دنیا اچانک اندھیر ہوگئی تھی۔ عنایت اللہ آہستگی سے دفتر میں آیا۔ ظفر کمال کو دیکھا اور نم آنکھوں سے ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا۔
دل لگایا تھا دل لگی کے لیے
بن گیا روگ زندگی کے لیے

اسد عمر - اصل سازش

2011 کے آغاز میں جب واضح ہوچکا تھا کہ اب عمران خان کا راستہ روکنا ناممکن ہوچکاہے تو ایک گھناؤنا کھیل رچایا گیا جس کی تفصیلات میں جانے کا یہ وقت نہیں ۔ بالآخر 2013 کے انتخابات میں دھاندلی، بدمعاشی اور عیاری سے خان کا راستہ روک دیا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ بات سب کی سمجھ میں آنے لگی کہ بہت دیر تک خان کو اسلام آباد سے دور رکھنا ممکن نہیں ہے۔ اس موقع پر ایک دوسری طویل مدتی سازش کا آغاز  کیا گیا۔

یہ کراچی کے پوش علاقے کے ایک بنگلے کا منظر تھا۔ ڈرائنگ روم میں چار افراد صوفوں پر براجمان تھے۔ چائے کا دور چل رہا تھا۔ نظر نہ آنے والے سپیکرز سے جنید جمشید کی مدھر آواز آ رہی تھی "ہم کیوں چلیں اس راہ پر"۔ ایک طویل قامت ہینڈسم بندہ اس پر فٹ ٹیپنگ کرر ہا تھا۔ سفید بالوں والے ایک شخص نے کھنکھار کر گلا صاف کیا اور کہا،
 "دیکھیں، بہتر یہی ہوگا کہ اسد کو اس کے پاس ہی رہنے دیتے ہیں۔ ابھی تک اس کو کوئی شک نہیں ہوا۔ یہ اس کو پٹّی پڑھاتا رہے کہ میں اکانومی دس دن میں ٹھیک کردوں گا۔ میرے پاس سارا پلان ہے۔ آپ فکر نہ کریں۔ جیسے وہ اسلام آباد پہنچے گا۔ اسد اپنا کام شروع کردے گا اور چند مہینوں میں ہی ہم اس کا وہ حال کریں گے کہ دنیا دیکھے گی۔"
سفید بالوں والے یہ شخص نواز شریف کے سب سے قریبی ساتھی خواجہ آصف تھے۔ ان کے ساتھ اسد عمر اور زبیر عمر تھے۔ چوتھے فرد کا ذکر کرنا مناسب نہیں۔ اسد عمر نے یہ سن کر سر اثبات میں ہلایا۔ پہلو بدلا۔ چائے کا سِپ لیا۔ بسکٹ کا چھوٹا سا بائٹ لے کر چباتے ہوئے بولے، "خواجہ صاحب۔۔ آپ اس کو اتنا لائٹلی نہ لیں۔ وہ بہت ہوشیار، ذہین، قابل اور بہادر انسان ہے۔ اگر اس کو تھوڑا سا شک بھی ہوگیا تو میری خیر نہیں۔ اس نے تو اپنے کزن ماجد خان کو ٹیم سے بزّت کرکے نکال دیا تھا۔ جمائمہ سے پیسے بھی نکلوائے اور پھر بھی اس کو طلاق دے دی۔  یہ بندہ جب کمٹمنٹ کرلے تو خود کی بھی نہیں سنتا۔ مجھے گارنٹی چاہیئے کہ اگر اس کو وقت سے پہلے پتہ چل گیا تو میری حفاظت کا کیا بندوبست ہوگا؟ وہ مجھے کبھی نہیں چھوڑے گا اور پاتال سے بھی ڈھونڈ نکالے گا۔"
خواجہ آصف کے چہرے پر مکار سی مسکراہٹ آگئی۔ کہنے لگے کہ اس کی آپ فکر نہ کریں۔ کل سے ہی آپ کو تمام چینلز پر روزانہ ائیر ٹائم ملا کرے گا۔ آپ اس میں ہماری حکومت کی رج کے بیستی کریں۔ لمبی لمبی چھوڑیں۔ ایسے دعوے کریں کہ سوائے انصافیوں کے سب ان پر ہنسیں۔ میں اٗس کو جانتا ہوں۔ لمبی لمبی چھوڑنے والے اس کو بہت پسند ہیں۔ کچھ عرصہ میں ہی وہ آپ کو پی ٹی آئی کا برین کہنا شروع کردے گا۔ آپ اس کے انر سرکل میں شامل ہوجائیں گے۔ بس وہی وقت ہوگا کہ اس کو اپنی باتوں سے شیشے میں اتارنا ہے۔ آپ نے ایم بی اے کیا ہوا ہے اس کی مشکل مشکل اصطلاحات اس کے سامنے بول کر معاشی مسائل کے خود ساختہ حل اس کو روزانہ کی بنیادوں پر سناتے رہیں۔ اس کو یقین دلا دیں کہ معیشت کا جو بھی حال ہوگا ہم اس کو چند ماہ میں ایسا کردیں گے کہ لوگ مغربی ممالک سے یہاں نوکریاں کرنے آئیں گے۔ خواجہ آصف کی اس بات پر زور کا قہقہہ گونجا۔ زبیر عمر جو اس وقت تک خاموشی سے باتیں سن رہے تھے، بولے۔۔۔ اب ایسا بھی نہیں ہے خواجہ صاحب۔ وہ بھی آکسفورڈ سے پڑھا ہوا ہے۔ اس کو اتنا چونا لگانا شاید ممکن نہ ہو۔ یہ نوکریوں والی بات تو وہ کبھی نہیں دھرائے گا۔ یہ تو بالکل بے وقوفی والی بات ہے۔ کوئی چھوٹا سا بچہ بھی اس پر ہنس دے گا۔ خواجہ آصف نے سنٹر ٹیبل پر پڑی پلیٹ سے کریم والی پیسٹری اٹھاکر منہ میں ٹھونسی اور انگلی سے انتظار کا اشارہ کیا۔ پیسٹری نگل کر ٹشو سے منہ صاف کرکے بولے۔ وہ بہت صاف دل انسان ہے۔ اگر اس کا اعتبار جیت لیا جائے تو وہ سمجھتا ہے کہ جیسا میں صاف نیّت کا ہوں ایسے ہی میرے دوست اور اعتبار والے بندے بھی صاف نیّت والے ہیں۔ یہی موقع ہوگا جب ہم اس پر وار کریں گے اور اس کی 22 سالہ جدوجہد کو مٹی میں ملا  دیں گے۔ یہ کہہ کر خواجہ آصف کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ آگئی۔
اسد عمر نے اٹھ کر خواجہ آصف سے ہاتھ ملایا اور کہا کہ ڈیل ڈَن۔ خواجہ آصف نے چوتھے بندے کو اشارہ کیا، وہ ڈرائنگ روم سے باہر چلا گیا۔ تھوڑی دیر میں بڑے سائز کے دو سوٹ کیس دھکیلتا ہوا ڈرائنگ روم میں داخل ہوا۔ اسد عمر کے چہرے پر خوشی اور حیرت کے تاثرات تھے۔ خواجہ آصف کے اشارے پر چوتھے شخص نے سوٹ کیس کھول کر دکھائے۔ ایک سوٹ کیس سونے کی اینٹوں سے لبالب بھرا ہوا تھا اور دوسرے میں ہیرے بھرے تھے۔ خواجہ آصف نے انگلی اٹھا کر کہا،
"اسد، یہ 40 کروڑ ڈالرز ہیں۔ یہ صرف بیعانہ ہے۔ تم ہمارا کام تسلّی بخش طریقے سے کردو تو اس سے چار گنا مال اور ملے گا۔ تمہاری نسلوں کو بھی کبھی کام کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ "
اس کے بعد جو ہوا وہ تاریخ ہے۔ ہر ٹاک شو میں اسد عمر پی ٹی آئی کے نمائندے کے طور پر موجود ہوتے۔ عوام کو یقین دلاتے کہ ہم ان کی تقدیر بدل دیں گے۔ پاکستان میں دنیا بھر سے لوگ کام تلاش کرنے آئیں گے۔ تعلیم، صحت سب مفت ہوں گے۔ غریبوں کے لیے ماہانہ وظیفہ ہوگا۔ پی ٹی آئی کے سپورٹرز کے لیے عمران اور اسد عمر میں کوئی فرق نہیں تھا۔ وہ دونوں کو یک جان دو قالب سمجھتے تھے۔ جولائی 2018 کے انتخابات میں شاندار کامیابی کے بعد کپتان کی حکومت بنی تو اسد عمر وزیر خزانہ کے لیے آٹومیٹک چوائس تھے۔یہی وہ موقع تھا جہاں ان کو اپنی سازش کو انجام تک پہنچانا تھا۔ 8 مہینے میں اسد عمر نے ہر وہ کام کیا جس سے کپتان نے انہیں منع کیا تھا۔ کپتان خود حیران تھا کہ آخر اسد کو ہو کیا گیا ہے۔ میں اس کو جس کام کا کہتا ہوں یہ اس سے بالکل الٹ کرتا ہے۔
آخر کار اسد عمر کی ڈینگیں مارنے کی عادت نے انہیں پکڑوا دیا۔ کوہسار مارکیٹ کے ایک ریستوران میں خواجہ آصف سے خفیہ ملاقات طے تھی۔ اسد عمر اپنی کامیابی اور مزید کروڑوں ڈالرز ملنے کے نشے میں اپنے کسی دوست سے کہہ بیٹھے کہ اس کپتان کا وہ حشر ہوگا کہ ساری دنیا اس کا تماشہ دیکھے گی۔ وہ دوست ایک سچا محب وطن اور کپتان کا ٹائیگر تھا۔ اس نے فورا جا کر نعیم الحق سے رابطہ کیا اور ساری بات بتائی۔ کوہسار مارکیٹ کے اس ریسٹورنٹ کو پوری طرح بَگ کر لیا گیا تھا۔ جب اسد عمر اور خواجہ آصف کی ملاقات جاری تھی تو اسی وقت کپتان وہاں نعیم الحق کے ساتھ پہنچ گیا اور دونوں کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ سنا گیا کہ کپتان نے خواجہ آصف کو دو تین جھانپڑ بھی لگائے۔ اسی وقت اسد کو وزیر خزانہ کی پوسٹ سے ہٹا دیا گیا۔ نعیم الحق کہتے ہیں کہ واپس بنی گالہ جاتے ہوئے کپتان نے گاڑی میں یہ گانا لگایا ہوا تھا۔۔۔
دشمن نہ کرے دوست نے وہ کام کیا ہے
عمر بھر کا غم ہمیں انعام دیا ہے

بادشاہ اور رس گُلّے

مُلکِ فارس کے شمال میں واقع ایک چھوٹے سے ملک پر ایک نیک دل بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ عوام اپنے بادشاہ سے بہت محبت کرتی تھی۔ ملک میں ہر طرف امن و امان کا دور دورہ تھا۔ کوئی شخص بے روزگار نہیں تھا۔ جسے کام نہ ملتا اسے روزانہ شاہی محل کے لنگر سے کھانا مل جاتا تھا۔ کہیں تو شاہی محل اس دور کا داتا دربار تھا۔ بادشاہ سلامت یوں تو کھانے پینے کے بہت شوقین تھے لیکن میٹھا انہیں خاص  طور پر پسند تھا۔ ہرشام شاہی اہلکار پورے ملک میں بادشاہ سلامت کی طرف سےجھنگ بازار کے بنگالی رس گُلّے تقسیم کرتے ۔ بالغ افراد کو فی کس دو اور بچوں کو ایک  رس گُلّا ملتا ۔
رعایا ڈنر کے بعد یہ رس گُلّے تناول کرتی اور بادشاہ کی سلامتی کی دعا کرکے سو جاتی ۔رعایا میں کچھ کرپٹ لوگ بھی تھے۔ یہ اپنے بچوں کے رس گُلّے بھی ہڑپ کر جاتے ۔ زیادہ رس گُلّوں کی لالچ میں یہ زیادہ بچے بھی پیدا کرنے لگے تاکہ انہیں فی بچہ زیادہ رس گُلّے ملیں۔ جو بچہ اس کے خلاف احتجاج کرتا اس کو اپنے ابّا سے پھینٹی پڑتی ۔ بے چارے بچے چپ چاپ بغیر رس گُلّہ کھائے روتے روتے سو جاتے۔چند متاثرہ بچوں نے فیصلہ کیا کہ وہ شاہی محل جاکر بادشاہ کو اس ظلم بارے آگاہ کریں گے۔متاثرہ بچے اکٹھے ہو کر شاہی محل کے باہر پہنچ گئے۔ محل کا سیکورٹی انچارج اتنے بچوں کو دیکھ کر گھبرا گیا۔ وہ بچوں کے پاس گیا اور پوچھا کہ بیٹا کیا بات ہے، آپ یہاں کیا کرنے آئے ہیں؟ ایک لیڈر قسم کے بچے نے آگے بڑھ کر ماجرا بیان کیا کہ ہمارے ابّے ہمارے رس گُلّےبھی کھا جاتے ہیں اور ہمیں دوسرے بچے بتاتے ہیں کہ یہ بہت مزے دار ہوتے ہیں۔ ہمیں اپنے رس گُلّوں پر تصّرف چاہیئے۔
یہ سن کر سیکورٹی انچارج کی سٹّی گم ہوگئی۔ جو اس نے بڑی مشکل سے تلاش کی۔ یہ بھی اپنے 23 بچوں کے رس گُلّے روزانہ کھا جاتا تھا۔ اگرچہ اسے ذیابیطس بھی تھی لیکن یہ دل میں خود سے کہتا تھا کہ جو رات قبر میں آنی ہے وہ پلنگ پر نہیں آ سکتی اور قبر میں بغیر رس گُلّے کھائے چلے جانا بہت بدقسمتی کی بات ہے۔ اب معاملہ گھمبیر ہوچکا تھا۔ اتنے بچوں کا شاہی محل کے باہر اجتماع چھپنے والی بات نہیں تھی۔ اگر وہ بادشاہ سلامت تک یہ ماجرا نہ پہنچاتا تو خفیہ والے پہنچادیتے اوربادشاہ سلامت بدظن ہو کر اسے ملازمت اور زندگی سے نکال سکتے تھے۔ سیکورٹی انچارج لشٹم پشٹم شاہی دربار تک پہنچا تو بادشاہ سلامت ڈنر کرر ہےتھے۔ ماش کی بھنی ہوئی دال،  کڑک تندوری روٹی، پیاز، ٹماٹر، ہری مرچ، لیموں کا سلاد، آم کا اچار، پودینے اناردانے کی چٹنی اور کچّی لسّی کا جگ دستر خوان پر سجے تھے۔ بادشاہ سلامت نے سیکورٹی انچارج کو بے وقت آتے دیکھ کر کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا اور خادم کو اشارہ کیا۔ وہ فورا  ایک ڈھکی ہوئی رکابی لے آیا۔ بادشاہ سلامت نے رکابی سے رومال اٹھایا تو اس میں 6 رس گُلّے سجے تھے۔ بادشاہ سلامت نے رغبت سے رکابی خالی کی۔ سیکورٹی انچارج حیرانی سے سب دیکھ رہا تھا۔ اس نے بادشاہ سلامت سے جان کی امان چاہنے کے بعد کچھ عرض کرنے کی درخواست کی۔ بادشاہ سلامت نے طویل ڈکار لے کر اجازت دے دی۔ وہ بولا، آپ کے حصّے میں 2 رس گُلّے آتے ہیں لیکن آپ نے 6 کھا لیے؟ باقی رس گُلّے کس کے تھے؟
بادشاہ سلامت نے زیرِ لب تبسم فرمایا، شیرے والے انگلیاں چاٹیں اور یوں گویا ہوئے،  "دو میرے اور چار میرے بچوں کے۔ میں ان کے رس گُلّےبھی چھین کر کھا جاتا ہوں۔ "

ملکہ اور کریلے گوشت

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مُلکِ شام سے آگے کسی ملک میں ایک نیک دل بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ ایک دن وہ وفات پاگیا۔ اس کی کوئی نرینہ اولاد نہیں تھی کیونکہ اس ملک میں ایسا کوئی پیر یا درگاہ نہ تھی جس پر چڑھاوا چڑھانے سے بیٹا ملتا ہو۔ اس بادشاہ کی ایک خوبصورت اور نیک سیرت بیٹی تھی۔ اس کا نام مہرالشگفتہ تھا۔ بادشاہ کی وفات کے بعد وہ اس ملک کی ملکہ بن گئی۔ ملکہ یوں تو بہت سادہ اور نیک دل تھی لیکن اس کی ایک کمزوری تھی۔ اس کو کریلے گوشت بہت پسند تھے۔ ملکہ کے مرحوم اباجان جب تک زندہ رہے، محل میں کبھی کریلے گوشت نہیں پکے کیونکہ مرحوم بادشاہ کا خیال تھا کہ  "تکّہ و کباب اوّل، کریلے و ٹینڈے آخر"
مہرالشگفتہ نے ملکہ بنتے ہی حکم جاری کیا کہ جو شخص اسے مزے دار کریلے گوشت پکا کر کھلائے گا، اس کو شاہی شیف مقرر کیا جائے گا۔ 12 ہزار ڈالر ماہانہ راتب کے علاوہ ھواوے کا نیا فون اور ان لمیٹڈ ڈیٹا بھی دیا جائے گا۔ پورے ملک سے لوگ کریلے گوشت لے کر ملکہ کے دربار میں حاضر ہوئے لیکن ملکہ کو کسی کے بھی کریلے گوشت پسند نہ آئے۔ ملکہ نے طیش میں آکر مقابلے کے تمام شرکاء کی سمیں دو مہینے کے لیے بند کرا دیں اور سختی سے ہدایت کی کہ انہیں نئی سم جاری نہ کی جائے۔
ملکہ نے اگلے دن منادی کرا ئی کہ دس دن تک اگر کسی نے اسے مزے دار کریلے گوشت نہ کھلائے تو  سارے ملک کی بجلی چھ مہینے کے لیے بند کر دی جائے گی۔ موسمِ گرما کی آمد آمد تھی۔ اس اعلان سے تمام ملک میں دہشت کی لہر دوڑ گئی۔یہ خبر شکور محمد تک بھی پہنچی جو بھاگٹانوالہ سے آگے اپنے کھیتوں میں چھوٹی سی جھگّی بنا کر اکیلا رہتا تھا۔ اس نے فورا سائیکل اٹھائی، پیڈل مارا اور مارا مار استاد پیارے لال خاں کے گھر موضع لدھیانوالہ پہنچ گیا۔ استاد اس وقت ریاض میں مصروف تھے۔ انہوں نے تانپورے سے ہاتھ اٹھائے اور شکور سے  اس کے اچانک آنے کا سبب پوچھا ۔ شکور محمد نے تمام ماجرا استاد کے گوش گذار کیا۔ استاد نے شکور کو گھورتے ہوئے کہا کہ اب تم مجھ سے کیا چاہتے ہو۔ شکور نے نظریں جھکا کر لجاجت سے کہا کہ استاد! پوری زندگی میں آپ کے گھر سے مزے دار کریلے گوشت کہیں نہیں کھایا۔ اگر ممکن ہوسکے تو مجھے کریلے گوشت پکوا دیں تاکہ میں ملکہ کی خدمت میں پیش کرکے رعایا کو آنے والے عذاب سے بچا سکوں۔ استاد سوچ میں پڑ گئے۔تھوڑی دیر بعد تانپورے پر تان لگائی تو اندر سے آواز آئی، "جی سرتاج! ابھی بناتی ہوں"۔ تھوڑی دیر بعد اندر سے سٹیل کا ٹفن آیا جس میں کریلے گوشت تھا۔ شکور محمد نے تشکر سے ٹفن لیا اور استاد سے کہا کہ اگر ملکہ کو یہ کریلے گوشت پسند آگئے تو۔۔۔ شکور ابھی یہاں تک ہی پہنچا تھا کہ استاد نے تانپورہ اٹھا کر شکور کے سر پہ دے مارا اور چلاّئے۔۔۔۔ ناہنجار، ہمارے گھر کے پکے ہوئے کریلے گوشت بارے 'اگر' کا لفظ استعمال کرنے کی جرات کیسے ہوئی؟ شکور محمد نے ٹفن بغل میں دابا اور سر سہلاتا ہوا رخصت ہوا۔
شکورمحمد ملکہ کے دربار میں حاضر ہوا اور ملکہ کی خدمت میں کریلے گوشت کا ٹفن پیش کرتے ہوئے عرض کی کہ اس کو کھانے کی ایک شرط ہے۔ ملکہ نے غضب ناک نگاہوں سے شکور کی طرف دیکھا اور کہا کہ تم ملکہ سے شرطیں منواؤ گے؟ شکور محمد نے ملکہ کے سامنے کورنش بجاتے ہوئے عرض کیا کہ آپ پہلے شرط سن لیں۔ ملکہ نے سر اثبات میں ہلایا تو شکور گویا ہوا کہ یہ کریلے گوشت تندور کی تازہ اور کراری روٹی کے ساتھ تناول کیے جائیں اس کے علاوہ کوئی شرط نہیں۔ ملکہ نے غلام کو بلانے کے لیےتالی بجائی تو تمام درباری تالیاں بجانے لگے۔ ملکہ طیش میں آکر چلاّئی، "یہاں کیا عاطف اسلم کا کنسرٹ چل رہا ہے؟ بدبختو بات تو سمجھ لیا کرو"۔ تمام درباری یہ سن کر شرمندہ ہوئے اور منہ پر انگلیاں رکھ کر چپ کرکے بیٹھ گئے۔
قصّہ مختصر، تندور لگا، روٹی اتری، ملکہ نے لقمہ لیا اور خوشی سے نہال ہو کر بولی، "میں نے پا لیا، میں نے پالیا"۔ شکور محمد کو فوری طور پر شاہی شیف مقرر کردیا گیا۔ ہواوے کا فون دیا گیا تو اس نے آئی فون لینے پر اصرار کیا۔ ملکہ نے ہنستے ہوئے کہا کہ وہ تو زنانہ فون ہے۔ بہرکیف شکور محمد کو آئی فون دے دیا گیا۔ شکور محمد نے ملکہ سے درخواست کی کہ اسے پچاس روپے کا بیلنس بھی کرا دیا جائے کیونکہ اس نے اپنی بیوی سے بات کرنی ہے۔شکور محمد نے دربار سے رخصت چاہی تو ملکہ نے کہا کہ تم اب محل میں رہو کیونکہ اب تم شاہی شیف ہو۔ شکور محمد نےجواب دیا کہ وہ اپنی جھگی میں ہی خوش ہے۔ وہ روز محل آکے کریلے گوشت پکا دیا کرے گا لیکن رہائش اپنی جھگی میں ہی رکھے گا۔ کل کو اگر ملکہ کی شادی ہوگئی اور بادشاہ سلامت نے اسے محل سے نکال دیا تو وہ کیسے محل کی پر تعیش زندگی چھوڑے گا۔ اس کے لیے بہت مشکل ہو جائے گی۔ لہذا ملکہ اسے اجازت دے کہ وہ روزانہ آ ئے، کریلے گوشت پکا ئے اور اپنے گھر چلا جائے ۔
ملکہ یہ سن کر گہری سوچ میں گم ہوگئی۔ اس نے چند ثانیوں بعد سر اٹھایا اور شکور محمد سے کہا کہ وہ اسے ایسی آفر کرے گی کہ وہ انکار نہیں کرسکے گا۔ شکور محمد نے گاڈ فادر دیکھ رکھی تھی۔ اسے بہت افسوس ہوا کہ ملکہ گاڈ فادر والے ڈائیلاگ اپنے بنا کر استعمال کر رہی ہے۔ ملکہ نے شکور محمد سے کہا کہ وہ اس سے شادی کرلے۔ اس کےبعد اسے کوئی خوف نہیں رہے گا کہ کوئی اسے محل سے نکال سکتا ہے۔ شکور محمد فرطِ مسرّت سے جھوم اٹھا۔ فورا شادی کی تیاریاں شروع ہوگئیں۔ اسی دن بعد از نمازِ عشاء ملکہ اور شکور محمد کا نکاح ہوگیا۔ شبِ زفاف کی صبح شکور اور ملکہ نے غسل کیا، شاہی لباس زیبِ تن کیا اور دربار میں جا پہنچے۔ شکور محمد اب بادشاہ بن چکا تھا۔ شکور شاہی تخت پر براجمان ہوا۔ سر پر تاج رکھا۔ وزیر خاص کو اپنے پاس بلایا اور اپنا پہلا حکم نامہ لکھوایا۔
"آج سے سلطنتِ خداداد میں کوئی فرد کریلے گوشت پکاتا، کھاتا یا ان کا نام لیتا پکڑا گیا تو اس کا سر تن سے جدا کر دیا جائے گا"۔

لاری اور لارے

یہ طارق بشیر عرف ٹونی کی کہانی ہے۔  ڈونگا بونگا کے نواح میں پیدا ہونے والے ٹونی  کے ابا محکمہ ڈاک میں ملازم تھے۔ خاکی وردی، چمڑے کا بستہ اور سائیکل۔ گلی گلی گھومتے۔ لوگوں میں خوشی اور غم کی خبریں بانٹتے۔  باؤ بشیر کے نام سے جانے جاتے۔ زیادہ تر گھروں میں خط پڑھ کے سنانے کی ذمہ داری بھی ادا کرتے۔ اچھی خبر ہوتی تو نذرانہ بھی مل جاتا۔ کبھی گڑ، کبھی مکئی، کبھی گندم۔ زندگی اچھی گزر رہی تھی۔ کم عمری میں شادی بھی ہوگئی۔ ٹونی ان کا پہلا بچہ تھا۔ اس کے بعد پانچ بچے اور پیدا ہوئے جو سب لڑکیاں تھیں۔ فطری طور پر ٹونی بہت لاڈلا تھا۔ لاڈ پیار کی وجہ سے ہی ٹونی تعلیم میں ہمیشہ پیچھے رہا لیکن بچپن سے ہی اسے اچھے سے اچھا پہننے اور کھانے کو ملا۔ باؤ بشیر نے ٹونی کو کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔
جیسے تیسے کرکے ٹونی میٹرک تک تو پہنچ گیا لیکن وہاں جا کے اٹک گیا۔ تین سال فیل ہونے کے بعد ایک دن اس نے گھر میں اعلان کیا کہ اب وہ پڑھائی نہیں کرے گا بلکہ اپنا بزنس کرے گا۔ باؤ بشیر کی ریٹائرمنٹ بھی آن لگی تھی۔ گریجویٹی کے پیسے ملے تو ٹونی نے ایک چنگ چی خریدا اور مین بازار سے لاری اڈّے تک چلانے لگا۔ ٹونی ایک وجیہہ، خوش شکل اور صحت مند جوان تھا۔ جینز ٹی شرٹ پہن کے جب وہ عینک لگاتا اور الٹی پی کیپ پہن کے چنگ چی سٹارٹ کرتا تو کسی فلم کا ہیرو لگتا ۔
 اس زمانے میں ڈونگے بونگے  سے بہاولنگر تک لاری چلتی تھی جو دن میں دو چکر لگاتی۔ لاری کے ڈرائیورکا نام حاجی رمضان تھا۔ ادھیڑ عمر، مہندی رنگی جماعت کٹ ڈاڑھی، چوخانے کا رومال سر پر بندھا ہوا۔ حاجی نوجوانی سے ہی اس کام میں پڑ گیا تھا۔ دس بارہ سال کنڈکٹری کی۔ پھر استاد مقبول جب بوڑھا ہوگیا تو ایک دن لاری درخت میں دے ماری ۔  مالکوں نے حاجی کو ترقی دے کر ڈرائیور بنا دیا۔حاجی رمضان ڈرائیور بہت زبردست تھا۔ کسی دن دو کی بجائے تین چکر بھی لگا لیتا۔ کبھی چھوٹا موٹا ایکسیڈنٹ بھی نہیں ہوا۔ لاری میں بندے بھی گنجائش سے تین گنا بٹھاتا۔ عیدشبرات پر من مانا کرایہ بھی  وصول کرتا۔ ڈیزل، سپیر پارٹس کی مد میں بھی پیسے بناتا۔  مالک بھی خوش  اور حاجی کو بھی اچھی آمدنی ہوجاتی۔ پہلے حاجی نے اپنا گھر پکا کیا۔ پھر اپنے والدین کو حج کرایا اور خود بھی حج کیا۔ تین چار پلاٹ بھی خریدے۔ بہنوں کی شادیاں بھی کیں۔
لاری جب بہاولنگر سے ڈونگا بونگا پہنچتی تو ٹونی بھی سواری کے انتظار میں وہاں کھڑا ہوتا۔ اس کے دل میں آتا کہ کاش وہ اس لاری کا ڈرائیور ہوتا تو وارے نیارے ہوجاتے۔ سارا دن چنگ چی چلا کے بھی پورا نہیں پڑتا تھا۔ گھر کا خرچہ چلانے کے بعد اتنے پیسے بھی نہ ہوتے کہ دو سگریٹوں کی چرس ہی مہیا ہوجاتی۔ پرائز بانڈ کے نمبرلینے کے لئے بھی ہفتے دو ہفتے پیسے اکٹھے کرنے پڑتے۔ ٹونی کو اپنی وجاہت کا تھوڑا بہت فائدہ ضرور تھا۔ اس کے پاس لیڈیز سواریوں کی کبھی کمی نہیں ہوتی تھی۔ اکثر ادھیڑ عمر عورتیں اس کو کرائے سے کچھ پیسے زیادہ ہی دے جاتیں۔ ٹونی چرب زبان بھی تھا۔ لیڈیز سواریاں ہوتیں تو لچھے دار باتیں کرتا۔ چنگ چی پر ٹیپ بھی لگوالی تھی۔ کمار سانو کے گانے اس وقت لگاتا جب لیڈیز سواری ہوتی۔ مرد ہوتے تو عطاءاللہ کے گانے چلتے۔
ٹونی اب اٹھتے بیٹھے حاجی رمضان بارے باتیں کرنے لگا  کہ کیسے وہ ڈونگے بونگے کی سواریوں کو لوٹ رہا ہے۔ لاری کے حالات بھی خراب ہیں۔ سیٹیں پھٹی ہوئی  اور لاری میں گنجائش سے تین گنا زیادہ مسافر۔ کرایہ بھی زیادہ وصول کرتا ہے اور  ٹکٹ بھی نہیں دیتا ۔ لیڈیز سواریوں کے سامنے جب وہ لاری کا نقشہ کھینچتا ا ور کہتا کہ اگر وہ لاری کا ڈرائیور بن جائے تو لاری بالکل ڈائیوو بس جیسی بنا دے گا تو خواتین کے چہرے پر یقین اور محبت ہلکورے لے رہی ہوتی۔  ٹونی نے حاجی رمضان کے کنڈکٹر ریاض سے بھی یارانہ گانٹھ لیا۔ ریاض عرف جج بچپن سے ہی حاجی کے ساتھ تھا۔ حاجی رمضان اوپر کی آمدنی میں سے جج کو روپےمیں 10 پیسے دیتا تھا۔ ٹونی نے باتوں باتوں میں ایک دن جج سے کہا کہ اگر وہ لاری کا ڈرائیور بن گیا تو جج کو روپے میں پچاس پیسے دے گا۔ کھانا پینا اور نشہ پانی مفت۔
ٹونی کی باتیں رنگ لانے لگی تھیں۔ لاری میں سفر کرنے والے لوگ حاجی رمضان کے خلاف ہونے لگے۔ آئے دن لاری میں دنگا ہوتا۔ جج اور ٹونی کا یارانہ بھی بڑھتا جا رہا تھا۔ ایک دن جج مالکوں سے ملا اور ان کو ساری صورتحال بتائی اور ٹونی کی تعریفیں کرتے ہوئے زمین آسمان ایک کردیا۔ اگلے دن مالکوں نے ٹونی کو بلا لیا۔ مالک ٹونی کی وجاہت، اعتماد اور ڈرائیونگ پلان سے بہت متاثر ہوئے۔ ٹونی نے انہیں بتایا کہ وہ ڈرائیور بن گیا تو چند مہینوں میں ہی کایا پلٹ ہوجائے گی۔ برسہا برس سے حاجی رمضان ڈرائیوری کررہا ہے لیکن ابھی تک لاری وہی ہے۔ اس کو موقع دیا جائے تو وہ ایک لاری سے چند مہینوں میں ہی دو لاریاں اور خرید لے گا۔ روٹ پر تین لاریاں چلیں گی تو آمدنی میں دس گنا اضافہ ہوسکتا ہے۔  اگلے ہی دن ٹونی کو مالکوں کا پیغام ملا کہ اس کو ڈرائیور رکھ لیا گیا ہے۔ وہ لاری چلانے کی تیاری کرے۔
23 مارچ  کو ٹونی پہلی دفعہ لاری کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا۔ ڈونگے بونگے سے بہاولنگر جانے والے لوگ لاری میں ٹھنسے ہوئے تھے۔ ٹونی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تو اسے اچانک یاد آیا کہ اسے تو لاری چلانی ہی نہیں آتی۔ ڈرائیور کی ملازمت حاصل کرنے میں وہ اتنا مگن رہا کہ لاری چلانا سیکھ ہی نہ سکا۔ بہرحال اس نے اللہ کا نام لے کر سیلف مارا۔ گئیر لگایا۔ لاری دھچکا کھا کر بند ہوگئی۔ تین چار دفعہ ایسا کرنے کے بعد وہ لاری کو اڈّے سے باہر لے آیا۔ٹونی کسی نہ کسی طرح لاری کو بہاولنگر جانے والی بڑی سڑک تک لے آیا تھا۔ وہاں پہنچ کر اس نے دل میں سوچا کہ یہ تو کوئی اتنا مشکل کام نہیں ہے۔ ایکسلریٹر پر پاؤں دباتے ہوئے اس نے ٹیپ  چلا دی۔ کمار سانو کی آواز لاری میں گونجنے لگی، "دیکھا ہے پہلی بار۔۔ ساجن کی آنکھوں میں پیار"۔ لیکن وہ سامنے سے آنے والے آئل ٹینکر کو نہ دیکھ سکا۔ لاری قابو سے باہر ہوئی۔ ٹونی نے تیزی سے سٹئیرنگ وہیل گھمایا۔ لاری ٹینکر کی سائڈ سے لگ  کر کچے میں اتری اور الٹ کر درخت میں جا لگی۔
راہگیر جب زخمیوں کو لاری سے نکال رہے تھے تو ریٹائرڈ تھانیدار چوہدری رفاقت جن کی ٹانگ ٹوٹ چکی تھی، کراہتے ہوئے بولے، "جو بھی ہے، ٹونی کم از کم کرپٹ نہیں ہے"۔ ٹونی ڈرائیونگ سیٹ والی کھڑکی سے چھلانگ لگا کر فرار ہوچکا تھا۔ ڈرائیور کے پیچھے والی زنانہ سیٹ پر بیٹھی  گرلز سکول کی ہیڈ مسٹریس ثمینہ شہزادی جن کے سر سے خون بہہ کر چہرے پر آرہا تھا،  لاری کی کھڑکی سے بمشکل باہر نکلیں اور یہ کہہ کر بے ہوش ہوگئیں، "ہائے اللہ! ٹونی کتنا ہینڈسم ہے!"۔

رزقِ حلال، سلائی مشین اور الحذر


معاشی حرکیات سے نابلد، آتشِ حسد میں جلتے لوگ اس کے سوا کیا کہیں؟رزقِ حلال ہے یہ رزقِ حلال۔ ہزار الزام کپتان کو دئیے جاسکتے ہیں کرپٹ  مگر وہ نہیں۔ کوئی دن میں ہاتف چیخ کر پکارے گا۔۔۔۔ فاعتبرو یا اولی الابصار
پون صدی ہوتی ہے۔ لائلپور کہ تَر دماغ و ہنرمند نفوس کا گڑھ ہے، ایک مردِ جفاکش کندھے پر چادریں رکھے گھنٹہ گھر گول میں کھڑا بیچتا تھا۔ پنجاب کے وسط میں موسم کی شدّت۔۔ الحذر۔۔ جون ، جولائی کی گرمی  کہ چیل انڈے چھوڑ دے مگر یہ ہنرمند اپنے کام میں جُتا رہتا۔ رزقِ حلال حضورِ والا رزقِ حلال۔ برکت اس کام میں اتنی ہوئی کہ کندھے پر چادریں رکھ کے بیچنے والا ستارہ مل کا مالک بنا۔ دنیا اسے حاجی بشیر کے نام سے جانتی ہے۔ پارچہ بافی کی صنعت کا سٹیوجابز۔ زبانِ طعن دراز کرنا آسان ہے۔ محنت سے یافت کرنا دشوار۔ لوگ مگر سمجھتے نہیں۔ سیاست کو نفرت بنا دیا اور اختلاف کو دشمنی۔ اگلے وقتوں کی مروت اور وضعداری تمام ہوئی کہ مائیں بہنیں سانجھی ہوتی تھیں۔ ان کی عزت و احترام میں کوئی فرق آتا نہیں تھا۔ سب ختم ہوا۔ نفرت و حسد کا زہر معاشرے کی رگوں میں اتر چکا۔ خدا مگر اپنی دنیا سے بے نیاز نہیں۔  لازم ہے کہ بدباطنوں پر عذاب نازل ہو۔ لازم ہے۔
کندھے پر چادریں رکھ کے بیچنے والا گروپ آف انڈسٹریز کا بانی ہوسکتا ہے تو کیا سلائی مشین کی یافت اتنی کم ہے کہ دو چار چھوٹے موٹے فلیٹ نہ خریدے جاسکیں؟ حسد و انتقام میں اندھے لوگ۔ سامنے کی بات نظر انداز کرتے ہیں۔ محترمہ علیمہ خانم کہ متمول والدین کی اولاد۔ ترکے میں دادا  اور نانا سے اربوں کی جائیداد۔ ربع صدی سے سلائی مشینوں کا کاروبار۔ چاہیں تو آدھا پاکستان خرید لیں ۔ اعتراض ہے تو چند معمولی فلیٹس پر۔ ارے بھائی، اندر کی کہانی معلوم ہے لیکن سخت تنبیہ کپتان کی ہے کہ ہرگز اس کا ذکر نہ کیا جائے۔ طالبعلم اشارہ دیتا ہے۔ ہر سال پوری دنیا سے جتنا چندہ اکٹھا ہو، اتنا ہی محترمہ علیمہ اپنے پاس سے دیتی ہیں۔ بیس لاکھ بیوہ خواتین کو ایک لاکھ ماہانہ خرچ اس کے ماسوا۔ ایسی ہزاروں روشن کہانیاں ہیں کہ قلب و نظر کو نور سے بھر دیں۔ چراغ سے چراغ۔
بغداد کے شیخ احمد الاغانی کی داستان مثلِ شمس تاریخ میں جگمگاتی ہے۔ ملک شام و عراق کے بڑے تاجر۔ سامانِ تجارت سے لدے قافلے بلادِ شرق و غرب میں  سارا سال چلتے ۔ کل یوم ان کی حویلی میں لنگر کا بندوبست ہوتا۔ سبھی کو دعوتِ عام۔ سونے کے برتنوں میں کھانا پروسا جاتا ۔ کھانے کے بعد وہی برتن مہمان کو ہدیہ کر دئیے جاتے۔ مال و اسبا ب کا یہ عالم کہ خلیفہ ہارون الرشید ایک دن دربار میں کہنے لگے کہ میں مفلس ہوسکتا ہوں مگر شیخ احمد الاغانی کی دولت کم نہیں ہوسکتی۔ خدا نے جتنا فضل کیا اتنا ہی غرباء و مساکین پر خرچ کرتے۔ ایک دن خلوت میں شیخ کی اہلیہ نے دریافت کیا، یا شیخ! کیسے آپ نے اتنا مال کمایا؟ ۔ آپ فرمانے لگے کہ کپڑے سینے سے کام شروع کیا تھا۔ اللہ تعالی نے برکت ڈالی۔ آج جو کچھ بھی ہوں اسی "الاغانی خیاطہ للرجال و النساء " والی دکان کی برکت ہے۔ سبحان اللہ۔ رزقِ حلال حضورِ والا رزقِ حلال۔
معاشی حرکیات سے نابلد، آتشِ حسد میں جلتے لوگ اس کے سوا کیا کہیں؟رزقِ حلال ہے یہ رزقِ حلال۔ ہزار الزام کپتان کو دئیے جاسکتے ہیں کرپٹ  مگر وہ نہیں۔ کوئی دن میں ہاتف چیخ کر پکارے گا۔۔۔۔ فاعتبرو یا اولی الابصار

نیو جرسی اور پرانی قمیص

یہ سترہ سال پہلے موسم خزاں کی ایک اداس شام تھی۔ زمان پارک لاہور کے ایک گھر میں ویرانی کا ڈیرہ تھا۔ ڈرائنگ روم میں تین  افراد سر جھکائے سوچوں میں گم تھے۔ ان میں سے ایک وجیہہ و شکیل شخص نے گردن اٹھائی اور یوں گویا ہوا، "سب کچھ ختم ہوگیا۔ نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم۔ جب تک میں زندہ ہوں تب تک تو یہ کام چلتا رہے گا لیکن اس کے بعد کیا ہوگا؟ کون اس کام کو چلائے گا؟ کیسے چلائے گا؟ کیا میری محنت اور جدوجہد میری زندگی کے ساتھ ہی ختم ہوجائے گی؟ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا۔"
یہ ہینڈسم شخص عمران خان تھا۔ مشرف کے الیکشن میں وہی چہرے دوبارہ جیت گئے تھے جن کے خلاف وہ جدوجہد کرتا رہا۔ جمائما کے ساتھ عائلی زندگی بھی اسی سیاست کی وجہ سے مسائل کا شکار تھی۔ وہ بچوں کو لے کر لندن جا چکی تھی۔ عمران کی زندگی کا مقصد کینسر اسپتال تھا جس کے لئے وہ دن رات محنت کرتا تھا۔ عطیات اکٹھے کرتا تھا۔ اس کی کرشماتی شخصیت کی وجہ سے کبھی فنڈز کی کمی کا مسئلہ نہیں ہوا۔ لیکن موسم خزاں کی اس اداس شام میں شاید کپتان ہمت ہار چکا تھا۔ سیاسی اور عائلی زندگی بظاہر ختم ہوچکی تھی اور اسے لگ رہا تھا کہ اس کی زندگی کے ساتھ ہی کینسر اسپتال بھی ختم ہوجائے گا۔
عمران کے دائیں طرف کرسی پر بیٹھے ایک مدبرّ نظر آنے والے شخص نے اس کا کندھا تھپتھپایا اور کہا کہ فکر مت کرو۔ ہم کینسر اسپتال کے لئے ایسا بندوبست کریں گے کہ تا قیامت یہ منصوبہ چلتا رہے گا اور پھلتا پھولتا رہے گا۔ یہ شخص نعیم الحق تھا۔ عمران کے ہر اچھے برے وقت کا ساتھی اور جان نچھاور کرنے والا دوست۔ عمران نے حیرانی سے اس کی جانب دیکھا اور استفسار کیا کہ ایسا کیسے ممکن ہے؟ نعیم الحق نے کہا کہ اس میں کوئی مشکل نہیں۔ ہم امریکہ، یورپ اور مشرق وسطی سے کثیر فنڈز اکٹھا کرتے ہیں اور انہی سے اسپتال کا نظم ونسق چلتا ہے۔ غریبوں اور مسکینوں کا مفت علاج ہوتا ہے۔ تمہاری یہ بات درست ہے کہ تمہارے بعد فنڈز اکٹھا کرنا بہت مشکل ہوگا۔ پاکستان میں شاید ہی لوگوں کو کسی ایک شخص پر اتنا اعتبار ہو۔ عمران نے اس کی بات کاٹی اور جھلاّ کر کہا کہ یہ باتیں ہوچکی ہیں، یہ بتاؤ کہ ایسا کیسے ممکن ہے؟
نعیم الحق زیرِ لب مسکرایا اور عمران کی طرف محبت بھری نظروں سے دیکھ کر بولا کہ آج سے بیرون ملک جتنے فنڈز اکٹھے ہوں گے ان کا پچاس فیصد ہم الگ رکھیں گے۔ یہ بات سنتے ہی عمران کے چہرے کا رنگ سرخ ہوگیا، اس نے بے چین ہو کر پہلو بدلا اور کہا ، نعیم۔۔ یہ ممکن نہیں ہے۔ یہ پیسہ ہمارے پاس غریبوں اور مسکینوں کی امانت ہے۔ ہم اس میں کیسے خیانت کرسکتے ہیں؟ تمہارے ذہن میں ایسا خیال بھی کیسے آیا؟ مجھے بہت افسوس ہوا۔ آج سے تمہارے اور میرے رستے جدا ہیں۔ نکل جاؤ اس گھر سے اور دوبارہ کبھی مجھے اپنی شکل نہ دکھانا۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تم اتنی گھٹیا اور نیچ سوچ کے مالک ہو۔ میں شرمندہ ہوں کہ تمہیں اپنا دوست سمجھتا رہا۔ عمران کی آواز بھرّا چکی تھی اور اس کی آنکھوں میں ستارے چمکنے لگے تھے۔ نعیم اپنی کرسی سے اٹھا اور روتا ہوا  عمران سے لپٹ گیا۔ کہنے لگا کہ یار تو نے ایسا سوچا بھی کیسے۔ میری بات تو پوری ہونے دیتا۔ میں تمہارے لئے اپنی جان بھی دے سکتا ہوں۔ تمہیں چھوڑنے کا تصور میرے لئے موت سے بھی زیادہ بھیانک ہے۔
اس موقع پر ڈرائنگ روم میں موجود تیسرے فرد نے جو خاتون تھی، نے مداخلت کرتے ہوئے دونوں کو تسلی دی اور نعیم کو کہا کہ اپنی بات مکمل کرے۔ نعیم نے جیکٹ کی جیب سے رومال نکا ل کر آنسو پوچھے اور یوں گویا ہوا، "ہم ان آدھے فنڈز سے  مہنگے اور پوش علاقوں میں پراپرٹیز خریدیں گے۔ ان کو کرائے پر دیں گے۔ وقت کےساتھ ساتھ ان کی قیمت بھی بڑھتی رہے گی اور کرائے کی مد میں ہر سال اضافہ ہوتا رہے گا۔ پانچ سے دس سال میں ہی اس قابل ہوجائیں گے کہ اگر ہمیں بالکل فنڈز ملنے بند ہوجائیں تب بھی ہم اسپتال کو بہترین طریقے سے چلا سکیں گے۔ یہ درست ہے کہ قواعد و ضوابط کے تحت یہ ٹھیک نہیں ہوگا لیکن ہمارا خدا ہماری نیّت کا شاہد ہے۔ اور ہم خدا کے علاوہ کسی کے سامنے جوابدہ نہیں۔
عمران بغور یہ باتیں سن رہا تھا۔ نعیم نے بات مکمل کی تو عمران کے چہرے پر چمک نظر آرہی تھی۔اس نے نعیم کی کمر تھپتھپا کر ویل ڈن کہا اور پوچھا کہ یہ پراپرٹیز ہم کس کے نام پر خریدیں گے۔ میرے نام پر خریدنا تو ممکن نہیں ہوگا ۔ کوئی نہ کوئی حاسد اس کا کھوج لگا کے مجھے اور اسپتال کو بدنام کرے گا کہ یہ لوگ عطیات اور زکوٰۃ کے پیسوں سے اپنی جائیدادیں بنار ہے ہیں۔ نعیم نے متانت سے سر  ہلایا اور خاتون کی طرف دیکھ کر کہا کہ ہم ساری پراپرٹیز علیمہ باجی کے نام پر خریدیں گے۔ کسی اور کے نام پر خریدنا رسک ہوگا۔ کسی کی بھی نیّت خراب ہوسکتی ہے۔ علیمہ خانم جنہوں نے بچپن سے لے کر آج تک عمران کو اپنے بھائی کی بجائے بیٹے کی طرح پالا تھا۔ آج پھر بھائی کے خوابوں کو پورا کرنے کے لئے کمر بستہ تھیں۔ قربانی، محبّت اور ایثار کی یہ داستان افسانوی لگتی ہے۔
یہ صادق اور امین لوگوں کا قصّہ ہے جسے کچھ فاسق اور لعین غلط رنگ دے رہے ہیں۔ خدا ان کو غارت کرے۔

ناصرہ فدوی - فن اور شخصیت

ادب کے افق پر بہت سے ستارے جھلملاتے ہیں پھر غائب ہوجاتے ہیں۔ بہت کم شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی ضیاء سے آسمانِ ادب ہمیشہ منور رہتا ہے۔ فرد کی داخلی حسیّات کو اجتماعی لاشعور کی مابعد الطبیعیات سے ہم آہنگ کرنا ہر کسی کے بس کا نہیں ۔ یہ بھاری لکّڑ ہر کوئی نہیں لے سکتا۔ پچھلی چند صدیوں کے اردو ادب میں جو ستارے دائمی نور کا منبع رہے ہیں ان میں جنابِ رضی ٹھاہ کا نامِ نامی کسی تعریف کا محتاج نہیں۔ ہر شے کو ناپنے کا کوئی نہ کوئی پیمانہ ہوتا ہے۔ فاصلے میلوں میں ناپے جاتے ہیں۔ دودھ لٹروں میں اور وزن کیلو میں۔ شاعری ناپنے کا پیمانہ رضی ٹھاہ ہیں۔ کسی بھی شاعر یا شاعری کے مقام کا تعین درپیش ہو تو اس کے لیے ہمیں لا محالہ رضی ٹھاہ کو ہی معیار ٹھہرانا ہوگا۔ ان کا یہ شعر دیکھیے:
؎ اتنے خوش کیوں ہو رضی ٹھاہ
کرلیا ہے کیا اک اور ویاہ؟
مابعد جدیدیت کے داخلی انتشارکے جدلیاتی احساس فسوں کو ان کے بعد اگر کوئی سہل ممتنع میں بیان کرپایا ہے تو وہ محترمہ ناصرہ فدوی ہیں۔ نسائی مابعد الطبیعیات کے مجہول  لاشعور کی تہوں میں رینگتی کِرلیوں کے احساسِ تنہائی کو زبان دیتی یہ شاعرہ نئے دورِ شاعری کی ابتداء کا اعلان ہے۔پائمال موضوعات سے گریز، نئی زمینوں میں تازہ الفاظ کی کاشت اور ان سے یافت ہوئے معانی کے نئے جہان ناصرہ فدوی کی پہچان ہیں۔ یہ کسی بے بس فرد کی التجا نہیں بلکہ سٹرونگ انڈیپنڈنٹ وومن کا اظہارِ بغاوت ہے۔ان کی طویل نظم "حبشی حلوہ" کے چند اشعار دیکھیے:
تُم! ہاں تُم
تمہی میرے برفاب دل کی
 قلفی کا  تیلا ہو
یہ دل وہ تھا کہ انجان تھا
کسی چبھن سے
کسی لگن سے
پولکا کا ٹرک ہو جیسے
سرد خانے میں جمی خواہشات
چوکبار ہوں جیسے
بنا تیلے کے!
تپتی دوپہریں گرمیوں کی
قلفی والے کی صدا سے گونجتی تھیں
"کھوئے والی اے ملااااااائی والی اے"
من اندر تک اداس ہے
کیا میرے لیے بھی  کوئی خاص ہے؟
پھر تُم! ہاں تُم
آئے تھے میری زندگی میں
چوکبار بن کے
رنگ، خوشبو، حسن کا نام ناصرہ فدوی ہے۔ جتنی خوبصورت شاعری اس سے کہیں زیادہ خوبصورت آپ کی شخصیت ہے۔ مدہم روشنی، خوابناک ماحول ، جھیل جیسی آنکھیں نیم وا کرکے جب آپ اپنا کلام پیش کرتی ہیں تو یک بیک جیسے کائنات تھم سی جاتی ہے۔ آواز میں ایسا طلسم کہ جو سنے پتھر ہوجائے۔ انسٹاگرام سے فیس بک اور یو ٹیوب تک جیسے زندگی دوڑ جاتی ہے۔ حسن اور فن کا ایسا امتزاج شاید  اس سے پہلے اس کمال تک نہ پہنچا ہو۔بے اختیار علامہ شارق خلیل یاد آتے ہیں۔ حُورکا ہو بہو سراپا۔
معروف نقّاد حسرت جٹ لکھتے ہیں کہ ناصرہ کی شاعری قاری کو ففتھ جنریشن لٹریری ورلڈ میں لے جاتی ہے۔ خیال، بُنت، ڈکشن سب نیا اور انوکھا۔ناصرہ فدوی قاری کو بیرون سے بے خبر کرکے اندرون کے سفر پر لےجاتی ہے۔ تاریخ اور فکشن کے بیچ جو تھِن ریڈ لائن ہے اسے کراس کرکے نئی دنیاؤں کی سیر کراتی ہے۔ شعوری جدلیات کی تحلیلِ نفسی کرکے اسے قاری کے سامنے کھول کے رکھ دیتی ہے۔ جیسے اچار ماش کی دال کو زُود ہضم بنا دیتا ہے۔حسرت جٹ مزید لکھتے ہیں کہ تمہاری حسین آنکھوں کے کنول جب کھلتے ہیں تودل جلوں کے داغ سلگ اٹھتے ہیں۔ تمہاری آواز کا جلترنگ سن کر بھنورے گنگناتے ہیں۔ تمہاری کمرکے بل پر ناگن بل کھاتی ہے۔ تم ہنسو تو کائنات مسکراتی ہے۔ تمہاری اداسی شامِ غم بن جاتی ہے۔ الغرض بقول گمنام شاعر
؎کہوں کس سے میں کہ کیا ہے
ناصرہ فدوی بری بلا ہے
(مندرجہ بالا پیراگراف حسرت جٹ کے مضمون "محبت کی صورتحال" سے لیا گیا ہے جو ماہنامہ "پانچویں نسل" میں شائع ہوا۔ پیراگراف کا آخری حصہ جنابِ حسرت کے انسٹاگرام، ٹوئٹر اور فیس بکی تبصرہ جات پر مشتمل ہے جو آپ نے آنسہ ناصرہ فدوی کی ویڈیوز، فوٹوز، سٹیٹس اور ٹوئٹس پر کیے۔ ادارہ اس کا ذمّہ دار نہیں !)


غالب کے خطوط - جدید


میرے دل کے چین مولوی خادم حسین!
بارے خبر تمہارے پکڑے جانے کی ہوئی۔ طبیعت بوجھل اور دل بے چین ہے۔ رہ رہ کے خیال آتا ہے کہ سرکاری ہرکارے کیسے تمہاری شیریں مقالی سے فیض پائیں گے۔ تم کو بولنے کی عادتِ بد ہے۔ ان کو مار پیٹ کی خُو ۔
؎ خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو
 شتابی میں تمہارا تکیہ کلام یاد آیا۔ ابلیس نے بہکایا کہ دوانے کو اس سے بدل دو۔ قلم کو لگام ڈالی۔تمہارا جملہ کانوں میں گونجا۔ کیا پوچھتے ہو؟ کونسا جملہ؟ ارے بھئی وہی "لو آیا جے فیر غوری!"۔ سچ کہیں تو تم بھی بادشہ سے کم نہیں ۔ دربار سجاتے ہو۔ جانثار رکھتے ہو۔طبیعت استوار ہو تو خلعتیں بانٹتے ہو۔ مزاج برہم ہو تو سر قلم کراتے ہو۔اقبال لاہوری کے اشعار پڑھتے ہو۔جنّوں کی حکایات سناتے ہو۔ کیسے دوست ہو کہ ایک آدھ دانہ ہمارے تصرّف میں نہ دیا۔ جنّ  میسر ہوجائے تو کچھ پینے کی سبیل بنے۔ یہ ممکن نہ ہو تو پری سے بھی کام چل جاوے گا۔
تم بہشت میں جا کے پیو گے۔ حُوروں کے ساتھ جیو گے۔ ہم یہیں پیتے ہیں۔ مر مر کے جیتے ہیں۔ امراؤ بیگم کے بعد اب کسی حُور کی حاجت نہیں رہی یا یوں کہو کہ خواہش نہیں رہی۔  ارےمولوی صاحب! بہشت میں جا کے تم جو کرنے کی تمنا رکھتے ہو۔ فقیر سبھی کچھ یہیں کرچکا۔
؎  ہم کو معلوم ہے جنّت کی حقیقت لیکن
 دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے
لڑکے بالے تمہاری میمز بناتے ہیں۔ کبھی ہم کو ہنساتے ہیں کبھی دل جلاتے ہیں۔ آخر تم ہمارے یار جانی ہو۔نصیحت کو فضیحت نہ جانو تو ایک بات کہتے ہیں۔ جب دربار سجا کے بیٹھتے ہو تو گاہے لگتا ہے کہ نشہ صرف ہمی نہیں کرتے۔کیا الٹ سلٹ بول جاتے ہو۔ بلی کو جن بنا دیتے ہو۔ گردے کو ناشدنی سناتے ہو۔ کل ہی ایک کندہءناتراش کہہ رہا تھا کہ گردے کو دھمکی دے کے ٹھیک کرلیا۔ اب ٹانگوں پر بھی ہاتھ پھیر کے اسپِ تازی ہوجاؤ۔ میاں ہم حضرت صاحبِ عالم کا دربار دیکھ چکے۔آپ کے پاپوش چومنے والے فرنگی سپاہ کے قلب میں پرچم تھامے کھڑے تھے۔ تمہارے درباری سرکار کو پکّے کاغذ پر لکھ کے دیتے ہیں۔ اس مولوی کو ہم نہیں جانتے۔ ہمارا کوئی تعلق اس سے نہیں ہے۔ جب تک ان کو بریانی، حلوے، بادام، پستے، اخروٹ کھلاتے تھے۔ تمہارا دم بھرتے تھے۔ سرکار نے ڈنڈا دکھایا تو تم کو پہچاننے سے انکاری ہیں۔
کم لکھے کو بہت جانو۔ سرکار سب کی خبر رکھتی ہے۔ کوئی پیغام چھلنی سے گزرے بغیر نہیں جاتا۔ تم مردِ مجاہد ہو۔ایمان کی طاقت رکھتے ہو۔  میں ایک ضعیف ، نحیف بوڑھا۔ اس عمر میں قیدخانہ، جوانی میں پرہیزگار ہونے جیسا ہے۔ جہاں رہو خوش رہو۔۔۔ میرے پیارے دلّے۔
نجات کا طالب
غالبؔ

باس کا المیہ

کہانی میں ہیرو اتنا ضروری نہیں جتنا ولن ضروری ہے۔ فلموں کو دیکھ لیں جس فلم کا ولن بمباٹ ہوفلم بھی سپر ہٹ ہوتی ہے۔ مشہور ولن حضرات میں ایک عادت مشترک ہے کہ سبھی احباب وفاداری کو خاص اہمیّت دیتے ہیں۔ شاید غالب کے طرفدار ہیں کہ۔۔۔ وفاداری بشرط استواری اصل ایماں ہے۔۔وفاداری کے ساتھ اس بات کو بھی یقینی بناتے ہیں کہ بندہ طاقتور اور بالکل احمق ہو۔ سوچنے والے اور ذہین لوگ ولن حضرات کو بالکل پسند نہیں ہوتے اور وہ ان سے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ مبادا کسی دن انہیں کا بولورام کرکے ان کی جگہ باس بن جائیں۔ باس کا المیہ ہے کہ اس کے پاس آگے جانے کی گنجائش نہیں ہوتی، صرف پیچھے یا اوپر جاسکتا ہے۔
ہیرو کا قریبی ساتھی ہمیشہ کوئی کامیڈین ہوتا ہے جبکہ ولن انکل کے نمبردو ایک گڈ لکنگ، طاقتور، وفادار اور احمق ڈُوڈ ہوتے ہیں۔ یہ بھائی جان صرف باس کے احکامات پر عمل کرتے ہیں ان پر کوئی اعتراض نہیں کرتے اگرچہ حکم بے وقوفانہ ہی کیوں نہ ہو۔ فلاں  خاتون کو اٹھا لاؤ، فلاں مردوئے کو ٹپکا دو۔ فلاں کی فیکٹری جلا دو۔ باس انکل کبھی ملیں تو ان کی خدمت میں گوش گذار کیا جائے کہ حضرت! اربوں کا کام آپ کرتے ہیں تو آپ کو خواتین اٹھوانے کی کیا ضرورت ہے؟ وہ بھی ہیرو بھائی جان کی کوئی قریبی رشتہ دار۔  ہیرو بھائی جان پھر کالج میں اپنی سویٹ ہارٹ کے ساتھ بارش والے گانے چھوڑ کے آپ کے پیچھے لگ جاتے ہیں اور ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد آپ اور نمبر دو کو خفیہ ہیڈکوارٹر سمیت غتربود کردیتے ہیں۔ بعینہ فیکٹری جل جائے تو اگلے ہفتے جلی ہوئی فیکٹری کا مالک ہفتہ کیسے پہنچائے گا؟ فیکٹری چلنے دیں تو ہفتہ بھی باقاعدگی سے ملتا رہے گا۔ ڈرانے کے اور ہزار طریقے ہیں۔ مرغی ذبح کرنا ضروری نہیں ہوتا الاّ یہ کہ آپ نے مرغی سے سونے کا انڈا نکالنے کے بجائے اسے بھوننا ہو۔
باس انکل کے نمبر دو بھی آخر میں اپنی ساری وفاداری، گڈلکنگ نیس، طاقت کے ساتھ اسی انجام سے دوچار ہوتے ہیں جو باس انکل کا ہوتا ہے۔ ولن حضرات کو ہمارا مفت مشورہ ہے کہ نمبر دو وفادار چاہے ہو نہ ہو، احمق نہیں ہونا چاہیئے۔ ذہین نمبر دو آپ کی جگہ تو شاید لے سکتا ہو لیکن جان نہیں لیتا۔ آپ کو ایسے بہت سے کام کرنے سے  منع کرسکتا ہے جو آخر کار آپ کی وفاتِ حسرت آیات پر منتج ہوتے ہیں ۔ احمق اور گڈ لکنگ  اور وفادار انہی کاموں کو بڑھ چڑھ کرانجام دیتا ہے اور بالآخر دونوں احباب فلم کے آخر میں کسی سریے میں پروئے پائے جاتے ہیں۔
باس حضرات کو اپنا المیہ سمجھنا چاہیئے کہ ان کے پاس آگے جانے کی جگہ نہیں ہوتی یا پیچھے جاسکتے ہیں یا اوپر۔ ذہین آپ کو پیچھے کرسکتاہے جبکہ احمق آپ کو اوپر پہنچا سکتا ہے!

عالمِ بے بدل

جناح کالونی  فیصل آبادکی ہوزری مارکیٹ کے دوسرے اور تیسرے بازار کے عین درمیان بخاری مسجد واقع ہے۔ ہم نے ناظرہ قرآن مجید وہیں سے پڑھا۔ دوسرے بازار کے کونے پر ہماری ہوزری کی دکان تھی۔ سکول سے واپس آکر ہم گھر نہیں جاتے تھے بلکہ سپارہ پڑھنے بخاری مسجد چلے جاتے ۔عصر کی اذان کے ساتھ چھٹی ہوتی۔ دکان پر آکر سکول سے ملا ہوا ہوم ورک کرتے ۔ اسی اثنا میں مغرب کا وقت ہوجاتا ۔اس وقت تک ہم کافی ہوم سِک محسوس کرنا شروع کردیتے تھے۔ دیکھیے، امی تو بندہ بوڑھا ہوجائےتب بھی یاد آتی ہیں تو اس وقت ہم بالکل چوتھی جماعت میں پڑھنے والے چھوٹے سے بچے تھے۔ خیر۔۔ بخاری مسجد دیوبندی مسلک کی مسجد تھی۔ جنرل ضیاءالحق کا دور تھا۔ جہاد  زوروں پر تھا۔ مسجد کے دروازے پر سفید، سیاہ جھنڈے والے پوسٹر اکثر لگے ہوتے جن میں کسی جہادی جلسے اور اس میں عظیم مجاہدین کی شرکت کی خبریں ہوا کرتیں۔ بخاری مسجد میں لیکن ایسا جلسہ کبھی نہیں ہوا۔ وجہ شاید اس کی یہ ہو کہ تجارت اور کاروبار کا کوئی مذہب، مسلک اور قومیت نہیں ہوتی۔ جس مرغی سے چندے، عطیات کے سونے کے انڈے ملتے ہوں اس کو کوئی عالم کیسے ذبح کرسکتا ہے؟
تبلیغی جماعتیں اکثر اس مسجد میں آکر ٹھہرتیں۔ جناح کالونی کی ہر دکان کا گشت ہوتا۔ لوگوں کو نیکی، نماز اور اللہ کی راہ میں محنت کرنےکا درس دیا جاتا۔ تبلیغی جماعت سے منسلک علماء اور خطیبوں کے پروگرام اکثر ہوا کرتے۔ انہی پروگروامز کے اشتہار پر ہم نے پہلی دفعہ مولانا طارق جمیل کا نام پڑھا۔ اس وقت شاید ہم نویں یا دسویں جماعت میں تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ ابو جی اکثر جمعرات کو بلال مسجد جایا کرتے جہاں تبلیغی اجتماع ہوتا تھا۔ بہت دفعہ انہوں نے ہمیں ساتھ جانے کی ترغیب دلائی لیکن ہم ذرا کافر طبیعت کے تھے اور ہیں تو کبھی نہیں گئے۔ ابو جی نے بھی کبھی زبردستی لے جانے کی کوشش نہیں کی۔ بہرکیف، ابو جی کی زبانی ہی مولانا طارق جمیل کی تعریف سنی۔ نوجوان ہیں، ڈاکٹر ہیں، ایسا بیان کرتے ہیں کہ مجمع مسحور کردیتے ہیں۔ نوجوان نسل میں خاص طور پر مقبول ہیں۔
زندگی گزرتی رہی۔ سکول سے کالج میں جا پہنچے۔ مولانا کی شہرت بھی بڑھتی رہی۔ بہت سے دوستوں نے بھی کہا کہ کسی دن چل کے سنو تو سہی کہ کیسے عالم بے بدل ہیں۔ ایک تقریر سن کے ہی دل کی حالت بدل جاتی ہے۔ لیکن ہمارا دل کبھی نہیں مانا۔ ہمیشہ یہ سوچتے تھے کہ اگر کوئی قرآن پڑھ کے نہیں بدل سکتا تو یہ مولوی وغیرہ کیا بیچتے ہیں کہ ان کو سن کے دل کی حالت بدل جائے؟ کچھ گستاخانہ خیالات بھی یلغار کرتے جن کو ہم لاحول پڑھ کے رفع کرنے کی کوشش کرتے۔ دل کی حالت تو کوئی گانا سن کے بھی بدل سکتی ہے، کوئی فلم دیکھ کے بدل سکتی ہے۔ کوئی پری چہرہ نظر آجائے تو بالکل کایا پلٹ ہوجاتی ہے۔ تو یہ مولانا بھی کیا انٹرٹینر ہیں؟ یاد رہے کہ ان فاسد خیالات کی آمد کے وقت ہم نے صرف مولانا کا نام ہی سن رکھا تھا کبھی ان کو سننے کی توفیق نہیں ہوئی تھی۔
عملی زندگی میں آمد کے بعد رولر کوسٹر کی سواری میں اتنی مصروفیت رہی کہ کوئی مولانا وغیرہ یاد نہ رہے۔ رب البتہ یاد آگیا۔ کافی سال پہلے خلیج میں مزدوری کے لئے پہنچے تو وہاں دوبارہ ان کا ذکر سنا۔ ایک جاننے والے نے مولانا کی سی ڈی بھی تھما دی کہ دل افروز بیانات ہیں۔ضرور سننا۔ ہم نے سوچا کہ اب تو مولانا چل کے ہمارے پاس آپہنچے ہیں اب تو ضرور سننا چاہیئے ورنہ کفرانِ نعمت ہوگا۔ ایک شام ان کی سی ڈی کمپیوٹر میں لگائی اور بیان شروع ہوگیا۔ دیکھیے، ہمیں قصے کہانیوں سے بہت دلچسپی ہے۔ شاید سبھی کو ہوتی ہے۔ پہلی دفعہ سننے پر ہمیں مولانا ایسے فنکار لگے جو مذہب اور قصے کہانیوں کی ایسی کاک ٹیل بناتے ہیں کہ سننے والے مدہوش ہو کے رہ جاتے ہیں۔ ہم نے یہی رائے اپنے اس جاننے والے کے گوش گذار بھی کی جو بوجوہ ان کو پسند نہیں آئی۔ کہنے لگے کہ باتیں تو اچھی کرتے ہیں۔ اچھے کام کرنے کا کہتے ہیں۔ برے کاموں سے بچنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ہم نے جواب دیا کہ کیا یہ باتیں پہلے سے آپ کے علم نہیں تھیں؟ کیا آپ کو آج تک یہ نہیں پتہ چلا کہ جھوٹ نہیں بولنا چاہیئے۔ ظلم نہیں کرنا چاہیئے۔ کسی کا مال نہیں کھانا چاہیئے۔ نماز پڑھنی چاہیئے۔ سچ بولنا چاہیئے۔ ماں باپ کی خدمت کرنی چاہیئے۔سب سے حسن سلوک کرنا چاہیئے۔کہنے لگے کہ بالکل علم ہے۔  تس پر ہم نے ہنس کے کہا کہ خدا ، رسول کی باتوں پر عمل کرنے کے لئے آپ کو مولانا کی تقریر کی ضرورت ہے؟
مولانا بڑے پیارے انسان ہیں۔ شکل سے بھی اور باتوں سے بھی۔ سوشل میڈیا کے آنے کے بعد اکثر ان کی تقاریر کے ٹکڑے سننے کا اتفاق ہوا۔ حوروں کے ایسے نقشے کھینچے کہ ہم جیسا گناہ گار بھی سنجیدگی سے نیک بننے کی سوچنے لگا۔ حاسدین کہتے ہیں کہ مولانا غلو کرتے ہیں۔ ضعیف روایات بیان کرتے ہیں۔ مداحین کہتے ہیں کہ بات تو اچھی کرتے ہیں۔ نیّت تو نیک ہے ناں۔ بس یہیں آکر ہم لاجواب ہوجاتے ہیں کہ نیّت تو نیک ہے ناں۔ دنیا میں جتنے غم، آفات اور مشکلات ہیں ان میں جو بھی شخص لوگوں کو انٹرٹین کرتا ہے، ان کو چند لمحے سب دکھ بھلا کر خوش ہونے کا موقع دیتا ہے، اس سے اچھا اور کون ہو سکتا ہے؟ اچھا شاعر، اچھا  ادیب، اچھا اداکار، اچھا گلوکار، اچھا خطیب۔۔۔ یہ سب انٹرٹینر ہیں۔ اللہ سب کو جزائے خیر دے۔

سنیل حسرت کے ساتھ ایک دن

آپ دنیا کا چکر لگا لیں۔ آپ یورپ چلے جائیں۔ امریکہ چلے جائیں۔ روس چلے جائیں۔ برازیل چلے جائیں۔ کولمبیا چلے جائیں۔ نیوزی لینڈ چلے جائیں آپ کو ہر جگہ پاکستانی مل جائیں گے۔ یہ دنیا پر چھائے ہوئے ہیں۔ یہ ذہین ہیں۔ یہ محنتی  اور خوش اخلاق ہیں۔ یہ لوگوں کو اپنے اخلاق اور کام سے گرویدہ کر لیتے ہیں۔ بابا جی کی دعا سے میں نے تقریبا ساری دنیا وزٹ کی ہوئی ہے۔ بابا جی کی کہانی بھی دلچسپ ہے۔ یہ گگّو منڈی کے نواحی گاؤں میں رہتے تھے۔ یہ پرانی جوتیوں، کپڑوں، ٹین ڈبے کے عوض مرونڈا اور لاہوری پُوڑا دیتے تھے۔ یہ بالکل ان پڑھ تھے۔ میں ان سے گگّو منڈی میں ملا جب اپنی کلاس فیلو نسرین کا پیچھا کرتے ہوئے اس کے گھر تک پہنچا تھا۔ وہاں نسرین کے بھائیوں نے مجھے کافی کُوٹا۔
اسی وقت بابا جی اپنی ریڑھی کے ساتھ گلی میں وارد ہوئے۔ انہوں نے مجھے چھڑایا، لہوری پُوڑا  اور پانی کا گلاس دیا۔ میرے حواس قائم ہوئے تو بابا جی کہنے لگے، "پُتّر، تیرے ماتھے پر مجھے حرام لکھا ہوا نظر آرہا ہے۔ تو بہت ترقی کرے گا۔اپنی دو خواہشیں بتا، جو تو اپنی زندگی میں پوری کرنا چاہتا ہے۔" یہ حیران کردینے والا واقعہ تھا۔ ابھی بابا جی نے اپنا جملہ مکمل ہی کیا   تھاکہ چاروں طرف سے ہلکے بادل آگئے۔ ٹھنڈی ہوا چلنے لگی۔ فضا میں خوشبو سی پھیلنے لگی۔ بابا جی کا قد بلند ہوتا ہوا نسرین کے گھر کے کوٹھے تک جا پہنچا۔ میں فرطِ عقیدت سے بابا جی کے پیروں میں جا گرا۔ میں نے کہا، میری بس دو خواہشیں ہیں۔ ایک تو شاہزیب خانزادے کو پھینٹی لگانی ہے دوسری پوری دنیا وزٹ کرنی ہے۔ بابا جی نے مجھے اپنے قدموں سے اٹھایا اور ٹانگوں سے لپٹا کے بولے، "جا بچّہ۔۔۔ دونوں خواہشیں پوری"۔
یہ میٹا فزکس ہے۔ یہ روحانیت ہے۔ یہ پیرالل یونیورس ہے جسے بد عقیدہ لوگ نہیں مانتے۔ آپ مجھے دیکھ لیں۔ میری دونوں خواہشیں پوری ہوئیں۔ میں نے خانزادے کو چپیڑیں بھی کرائیں، میں نے دنیا بھی گھومی۔ دنیا میں ہر جگہ جہاں میں گیا وہاں مجھےکوئی  نہ کوئی پاکستانی بابا جی ضرور ملے۔ ان بابوں نے مجھے بہت سی آکورڈ سچویئشنز اور پوزیشنز سے نکالا۔ پچھلی گرمیوں میں یورپ کا ٹُور لیٹ ہورہا تھا۔ پِت میری کمر سے ہوتی ہوئی گردن تک پہنچ گئی تھی۔ میں نے اپنے پروڈیوسر سے کہا کہ اب میں اور کام نہیں کرسکتا۔ یہ کہہ کر میں نے پاسپورٹ نکالا اور ائیرپورٹ جا پہنچا۔ پہلی فلائٹ لندن کی تھی۔ میں نے سوچے بغیر ٹکٹ لیا اور لندن پہنچ گیا۔ لندن کا موسم بہت ٹھنڈا، حسین اور لَسٹ آمیز تھا۔ شام کا کھانا  ملک تاجور نذیر نے کھلایا۔ یہ میرے فین ہیں۔ یہ ہر اس جگہ پہنچ جاتے ہیں جہاں میں جاتا ہوں۔ انہوں نے مجھے بیف کباب، نہاری، پاستا، پاوے، کھدیں، نان، پیزا اور وڈّی بوتل  گورمے کی پلائی۔ کھانا کھا کے باہر نکلے تو حسین صورتیں دیکھ کر دل میں ہلچل مچنی شروع ہوگئی۔ ملک صاحب سے ایک دو دفعہ اسی للک میں بغلگیر ہوا تو وہ بے چارے ڈر کے رخصت ہوگئے۔
پیکاڈلی سرکس کی گلیوں میں گھومتے ہوئے ایک حسینۂ نازنین میری طرف دیکھ کر مسکرائی تو میں فورا جا کر اس سے بغلگیر ہوگیا۔ ابھی جپھی سنبھلی بھی نہیں تھی کہ چٹاخ سے دائیں کان پر کسی نے لپّڑ دے مارا۔ طیش کے عالم میں گھوم کے دیکھا تو ایک صورت حرام گورا جو کم از کم ڈیڑھ سو کلو کاہوگا، موجود تھا۔ کہنے لگا کہ یہ حسینہ موسوم بہ کیتھی میری لُگائی ہے اور میری طرف دیکھ کر مسکرائی  تھی، تو اس سے پپّیاں جپھّیاں کس چکر میں کر رہا ہے؟۔ میں سنبھلا اور بھاگ کر دس قدم دور چلا گیا اور کہا، دیکھیں  پیٹر۔۔۔ میں اَنسان ہوں۔ اَنسان سے غلطی ہوجاتی ہے۔ اس کو معاف کر دینا چاہیئے۔ گورا گھورتے ہوئے میری طرف بڑھا آرہا تھا کہ اچانک غیبی امدا د آئی۔ یہ معنّک کوجک نما انسان تھے ۔ انہوں نے پیٹر کو انوکی لاک لگایا۔ پیٹر منہ کے بل زمین بوس ہو گیا۔ انہوں  نے میرا ہاتھ تھاما اور پاس کھڑی لیمبرگینی میں گھس گئے۔
کارمیں بیٹھنے کے تھوڑی دیر بعد حواس بجا ہوئے تو میں نے ان سے کہا، اے رحم دل ٹَکلے، میں کس زبان سے تمہارا شکریہ ادا کروں۔ آج تم نے جیسے میری جان بچائی ہے مجھے سالوں پہلے گگّو منڈی کا واقعہ یاد آگیا جہاں ایک بابا جی نے میری سہائتا فرمائی تھی۔ رحم دل انسان نے عینک اتاری۔ پینٹ میں اڑسی ہوئی شرٹ باہر نکال کر اس کے دامن سے عینک کے شیشے صاف کئے۔ میرے مفلر سے اپنے سر کو صاف کیا۔ عینک کو آنکھوں پر جمایا اور بولا، "میرا نام سنیل حسرت ہے۔ میں گگّو منڈی والے اولڈ مین کا گرینڈ سَن ہوں۔ میرے فادر نے مجھے بتایا تھاکہ تمہارے گرینڈ پا بہت عظیم بم کیچر تھے۔ کفّار کے ساتھ اجناگ میں نے انہوں نے سبز چولا پہن کربہت سے ابوام کیچ کئے۔ آخری عمر میں عشّاق کو پھینٹی سے بچانے کے مشن میں منہمک ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ میرے گرینڈ سَن کو بتانا کہ ایک رات لندن کی پیکاڈلی سرکس میں ایک پاکستانی حسین نوجوان کو پیٹر گورے سے بچانا ہے۔ یہ نوجوان آگے چل کر کچھ بھی نہیں بنے گا لیکن مجھے اس میں اپنی آخرت نظر آتی ہے۔ یہ کہہ کر سنیل حسرت کی آنکھیں بھرآئیں اور ناک چَونے لگی۔یہ اپنی قیمتی قمیص کے دامن سے دونوں اشیاء صاف کرنے لگے۔ ان میں کوئی امیروں والی بَو  نہیں تھی۔ انہوں نے جیکٹ کی جیب سے ادھ کھایا برگر نکالا اور کھانے لگے۔
لیمبرگینی اتنی دیر میں ایک قلعہ نما عمارت کے دیو ہیکل دروازے پر پہنچ کے رک گئی تھی۔ ڈرائیور نے دو  تین دفعہ ہارن بجایا لیکن گیٹ نہیں کھلا۔ اس پر مسٹر حسرت نے انہماک سے دروازے کی طر ف دیکھا۔ دروازہ خود بخود کھل گیا۔ قلعہ کے اندر کی دنیا بھی کسی شاہی محل سے کم نہیں تھی۔ سنیل حسرت نے مجھے سجے سجائے بیڈروم میں پہنچایا اور آرام کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کل صبح ملاقات ہوگی۔ جاتے ہوئے انہوں مُڑ کر دیکھا اور آنکھ مارتے ہوئے پوچھا، "کسے ہور چیز دی لوَڑ تے نئیں؟"۔ میں نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔ سنیل حسرت کے جانے کے چند ہی منٹ بعد دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو ایک حسینہ ریشم و کمخواب میں لپٹی کھڑی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی پگھل کر میری بانہوں میں آگئی۔ کمرے میں چاروں طرف سے ہلکے میوزک کی آواز آنے لگی۔۔۔
"آکے تیری بانہوں میں۔۔۔ ہر شام لگے سندوری"
رات کا جانے کون سا پہر تھا کہ دروازے پر پھر دستک ہوئی۔ لشٹم پشٹم اٹھ کر دروازہ کھولا تو سنیل حسرت کرتا پاجامہ پہنے، سر پر کروشیے کی ٹوپی ڈاٹے، ہاتھ میں تسبیح پکڑے کھڑے تھے۔ کہنے لگے جلدی کریں تہجّد کا وقت نکلا جارہا ہے۔قلعہ کے پائیں باغ میں باجماعت نمازِ تہجّد اداکی۔ ان کی برٹش ایکسنٹ میں عربی تلاوت نے سماں باندھ دیا۔ تہجد، فجر اور ذکر اذکار سے فارغ ہونے کے بعد سنیل حسرت نے کہا کہ آپ بھی تھوڑی دیر آرام کرلیں یہ وقت میں اپنی وائف کے ساتھ گزارتا ہوں۔ اس کے بعد بریک فاسٹ کریں گے۔
ناشتے کی میز پر سنیل حسرت نے اپنی زندگی کے کچھ اورپہلودکھائے۔ یہ بہت ہارڈ ورکر تھے۔ انہوں نے دن رات محنت کرکے اربوں پاؤنڈز کمائے۔ انہوں نے ہر اس چیز کی تجارت کی جس میں انہیں منافع نظر آیا۔ یہ زندگی بارے ایک زبردست نظریہ رکھتے ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ حرام، حلال پیسہ کچھ نہیں ہوتا۔ پیسہ یا  ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کم عمری میں ہی فیصلہ کرلیا  کہ پیسہ ہوگا۔ لہذا آج ان کے پاس پیسے کی ریل پیل ہے۔ یہ کہنے لگے کہ ان کا دل اپنے گرینڈ فادر کے کنٹری کے لئے دھڑکتا ہے ۔ یہ چاہتے ہیں کہ پُور پیپل کے لئے کچھ کر جائیں۔ یہ ایسا پروگرام بنا رہے ہیں کہ پاکستان کے ہر غریب آدمی کے پاس اپنا موٹرسائیکل، سمارٹ فون اور ٹی ٹی ہوگا۔ کسی کو ملازمت کی ضرورت نہیں رہے گی اور سب اپنا کام کرکے پیسہ کما سکیں گے۔
یہ میری زندگی کا ان بیلیو ایبل وقت تھا۔ میں نے اپنی لائف میں کبھی ایسا گریٹ اور آنسٹ پرسن نہیں دیکھا۔ عقیدت و احترام سے میری آنکھیں بھر آئیں۔ اچانک ڈائننگ روم ایسی ملکوتی خوشبو سے بھر گیا جو اس سے پہلے میں نے کبھی محسوس نہیں کی تھی۔ کمرے کی فضا میں تجلّیاں چمکنے لگیں۔ اس خوابناک ماحول میں سنیل حسرت کی آواز گونجی، "میں ذرا وضو کر آواں، ہوا سَر گئی سِی"۔