آٹو گراف

کھلاڑیوں کے خود نوشت دستخط کے واسطے
کتابچے لئے ہوئے
کھڑی ہیں‌ منتظر حسین لڑکیاں
ڈھلکتے آنچلوں سے بےخبر حسین لڑکیاں

مہیب پھاٹکوں کے ڈولتے کواڑ چیخ اٹھے
ابل پڑے الجھتے بازوؤں چٹختی پسلیوں کے
پُر ہراس قافلے
گرے، بڑھے، مڑے بھنور ہجوم کے

کھڑی ہیں‌یہ بھی راستے پہ اک طرف
بیاضِ آرزو بکف
نظر نظر میں نارسا پرستشوں کی داستاں
لرز رہا ہے دم بہ دم
کمان ابرواں کا خم
کوئی جب ایک نازِ بے نیاز سے
کتابچوں پہ کھینچتا چلا گیا
حروفِ کج تراش کی لکیر سی
تو تھم گئیں لبوں پہ مسکراہٹیں شریر سی
کسی عظیم شخصیت کی تمکنت
حنائی انگلیوں میں کانپتے ورق پہ جھک گئی
تو زرنگار پلوؤں سے جھانکتی کلائیوں کی تیز
نبض رک گئی!

وہ باؤلر ایک مہ وشوں کی جمگھٹوں میں گھر
گیا
وہ صفحہء بیاض پر بصد غرور کلکِ گوہریں
پھری
حسین کھلکھلاہٹوں کے درمیاں وکٹ گری

میں اجنبی میں بے نشاں
میں پابہ گل!
نہ رفعتِ مقام ہے نہ شہرتِ دوام ہے
یہ لوحِ دل ۔۔۔ یہ لوحِ دل!
نہ اس پر کوئی نقش ہے نہ اس پر کوئی نام ہے

مجید امجد

Comments
11 Comments

11 تبصرے:

خرم نے فرمایا ہے۔۔۔

اللہ کا شکر ہے ایسے معاملات سے محفوظ ہی رکھا۔ نہ کبھی کسی کے ایسے دیوانے ہوئے سوہمارے تو سر کے بہت اوپرسے گزر گئی یہ نظم۔ :grin:

عمر احمد بنگش نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت خوب۔۔۔۔۔۔۔۔
مبارک ہو بھائی تیری پوسٹیں‌پھر سے ظاہر ہونا شروع ہوگئی ہیں‌اردو سیارہ پربالکل ایسے جیسے برسات میں‌کھمبیاں‌ظاہر ہوتی ہیں :mrgreen:
اس کو تعریف سمجھا جائے، کیونکہ کھمبیاں‌جو ہمارے یہاں‌ظاہر ہوتی ہیں، بڑی انمول ہوتی ہیں۔

محمد احمد نے فرمایا ہے۔۔۔

مجید امجد کی بہت خوبصورت نظم کا انتخاب کیا ہے آپ نے۔

یہ معاشرے سے شکوے کا ایک انداز ہے کہ شعراء کو معاشرے میں‌وہ اہمیت حاصل نہیں‌ہے جو اور دوسرے لوگوں کو میسر ہے۔ اور شکوے سے بھی کہیں آگے یہ ایک حساس دل کی کیفیت کا منظر نامہ ہے۔

خوش رہیے۔

فائزہ نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت خوب :smile:

عبداللہ نے فرمایا ہے۔۔۔

عمر بھائی خیال رکھیئے گا کھمبیاں زہریلی بھی ہوتی ہیں ;-)
نظم آجکل کی دیوانگی کی عکاس ہے :!:

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین نے فرمایا ہے۔۔۔

یار! ہو نہ ہو ۔ کرکٹ ٹیم بنانی ہی پڑے گی۔

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

::خرم:: شکر ہے اللہ کریم کا کہ سر کے اوپر سے گزر گئی۔۔۔ کہیں ٹکرا جاتی تو بہت نقصان ہوجاتا۔۔۔ :mrgreen:
::عمر بنگش:: آداب عرض ہے :smile:
ٹچکریں کرنا سختی سے ممنوع ہے۔ خلاف ورزی کرنے والے کو کراچی سٹائل ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنوایا جاسکتا ہے بھائی سے فرمائش کرکے ۔۔۔ :mrgreen:
::محمد احمد:: واہ صاحب، کیا عمدہ تجزیہ ہے! بہترین۔ :smile:
::فائزہ:: شکریہ۔۔۔ :razz:
::جاوید گوندل:: دیکھئے آپ بھی اتنی اچھی نظم کو چٹکیوں‌ میں‌ اڑا گئے۔ :oops:
مجید امجد پی آر کے ہاتھوں مارکھا گئے۔ ورنہ اس دور کے سب بڑے شاعر ان کے آگے پانی بھرتے نظر آتے! میرا یقین نہیں تو وارث صاحب سے پوچھ لیں!

عبداللہ نے فرمایا ہے۔۔۔

:mrgreen: :lol:

عبداللہ نے فرمایا ہے۔۔۔

جعفر اسے کہتے ہیں مرچیں لگنا:)
اچھا تو کراچی میں ٹارگٹ کلنگ جناب کے بھائی صاحب کا کارنامہ ہے،ویسے لاہور کے اسٹائل میں خود کش بم دھماکے میں بھی اڑوا سکتے ہیں آپ لوگ :(
بس اللہ بچائے آپ جیسوں سے!

علی حسان نے فرمایا ہے۔۔۔

کیا خوبصورت نطم ہے، افسوس میں اب تک مجید امجد کی نظموں کی کتب نہیں لے سکا

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

خوش آمدید جناب علی حسان۔۔۔
انتخاب کی پسندیدگی کا شکریہ
امید ہے آئندہ بھی رونق بخشتے رہیں گے۔۔

تبصرہ کیجیے