ہیرو / ہیروئن – ادبی و تحقیقی مقالہ

فی زمانہ ادب کی صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ اس میدان میں سنجیدگی کے ساتھ تحقیقی، تنقیدی اور تعمیری کام کیا جائے، ورنہ بے ادبی فروغ پاتی جائےگی جو بنیادی اخلاقیات کے لئے سخت ضرر رساں ہے۔ اسی تناظر میں ہم نے اس میدان میں پاؤں دھرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ زیر نظر مقالہ، زنانہ ڈائجسٹوں کے ہیرو اور ہیروئن کی بنیادی کرداری خصوصیات، نفسیات، مابعد الطبیعیاتی تحلیل نفسی وغیرہم پر مشتمل ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا یہ کارنامہ ادبی دنیا میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ہر عظیم انسان کی طرح ہمیں بھی اپنے منہ میاں مٹھو بننا بالکل پسند نہیں اس لئے ہم اپنی تعریف کو مستقبل کے نقّاد پر چھوڑتے ہوئے مقالے کا آغاز کرتے ہیں۔

ہیروئن: حُور کا دنیاوی ورژن، اتنی حسین کہ روزانہ محلے کے بیس پچیس لڑکے اسے یونیورسٹی/کالج آتا جاتا دیکھ کر وفات پاتے ہوں اور یوں اس کا محلہ، وہ نازی کیمپ لگے جہاں روزانہ درجنوں کے حساب سے یہودی مارے جاتے تھے، اس سے یہ مطلب نہ نکالا جائے کہ ہیروئن یہودیوں کے محلے میں رہتی ہے۔۔۔سرو قد جبکہ اس کی سہیلیوں میں امرود قد، بیری قد، بانس قد، مالٹا قد وغیرہ شامل ہوں، رنگت جیسے شہد میں دودھ ملا ہو، جھیل (یعنی تربیلا، منگلا، راول، کاغان وغیرہ بلکہ جھیلوں کی کمی کے پیش نظر قدرت نے عطا آباد جھیل بھی بنا دی ہے!) جیسی آنکھیں جن میں صرف ہیرو ہی ڈوبتاہے اس سے پہلے کسی کو توفیق نہیں ہوتی، بال گھٹنوں سے ذرا نیچے اور زیادہ تر شاہ کالے جبکہ کبھی کبھار ہلکے براؤن اور ہیرو اکثر یہ فرمائش کرتا پایا جاتا ہو کہ اسے ان زلفوں کی چھاؤں میں زندگی بسر کرنے دی جائے، ناک ستواں نہ کہ پھینی، موتیوں جیسے دانت، گھنی پلکیں، ہنستے ہوئے گالوں میں ڈمپل، بولے تو منہ سے پھول جھڑیں جبکہ ہنسے تو موسیقی بجنے لگے (اس سے یہ نتیجہ نہ نکالا جائے کہ ہیروئن کا تعلق گانے بجانے والے گھرانے سے ہے!)، جب بھی ہیروئن اور ہیرو سامنے آئیں تو ہوائیں چلنے لگیں، سلوموشن میں دوپٹہ اڑنے لگے، پرندے گانے لگیں (چڑیاں وغیرہ، کوّے نہیں!) اور زوبی ڈُو ہونے لگے، جبکہ ولن کی آمد کی صورت میں سکُوبی ڈو۔۔۔ سگھڑاپے میں پی ایچ ڈی کی حامل، یونیورسٹی / کالج میں بوجہ حسن و اخلاق و ذہانت نہایت ہردلعزیز، آلو بتاؤں سے لے کر زعفرانی قورمے تک اور دال ماش سے ہرن کے کبابوں تک ہر ڈش پر کامل عبور، سلائی کڑہائی میں ید طولی، ہمیشہ فاختئی، کتھئی، کیلوی، سیبی، سنگتری، آمی، آڑوی، بینگنی، بھنڈوی، کدوؤی رنگ کے ملبوسات زیب تن ، ہیرو کو آخری صفحے تک بھائی جان کہنا، اکیلے بیٹھ کر فلسفے میں سوچنا (اس کی مثالیں اگلے کسی مقالے میں بیان کی جائیں گی)، والدین کی اکلوتی اولاد، امیر ہونے کی صورت میں والدین زندہ، جبکہ غریب ہونے کی صورت میں صرف باپ جس نے ماں بن کر پالا۔۔۔ عبادت گذار، محلے میں میلاد شریف کی محافل میں بطور خاص بلوائی جانے والی، نام ایسا اچھوتا کہ پتہ نہ چلے کہ یہ کسی خاتون کا نام ہے یا کسی یونانی دوا، افریقی دریا یا انڈونیشیائی بلا کا۔۔۔ مثلا فارمینہ، جسورہ، زلائنہ وغیرہم۔۔۔

ہیرو: دراز قد (کم از کم چھ فٹ)، کھلتا ہوا گندمی رنگ، مردانہ وجاہت کا کامل نمونہ کہ عمران خان بھی جس کے سامنے پانی بھرے، گہرے بھورے ، ہلکے نیلے یا 'سن وے بلوری اکھ والیا' جیسے رنگ کی آنکھیں، زیادہ تر داڑھی مونچھ منڈا لیکن کبھی کبھی ہلکی مونچھیں، ورزشی جسم، بازوؤں کی پھڑکتی ہوئی مچھلیاں، خوش لباس، ہر کھیل کا ماہر (ہر کھیل کے معاملے میں دماغ زیادہ نہ دوڑائیں، حالات اچھے نہیں چل رہے!)، یونیورسٹی / کالج کا سب سے ذہین طالبعلم، نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں سر فہرست، ہیروئن غریب ہو تو دنیا کے سب سے امیر باپ کا بیٹا اور ہیروئن کے امیر ہونے کی صورت میں اس کائنات کا سب سے مفلوک الحال انسان، جس کی بیوہ ماں کپڑے سی کرگھر چلا رہی ہو (لیکن ملبوسات دونوں صورتوں میں یکساں ہی رہیں گے)، بَلا کا خوددار (یہ بَلا بھی پتہ نہیں کون سی بَلا ہوتی ہے، چڑیل،ڈائن، اینا کونڈا، جن، بھوت۔۔ اس پر بھی ایک تحقیقی مقالہ لکھنا پڑے گا!)، دوستوں کا ایک بڑا گروپ جس میں صرف ایک ہی خاص دوست جو ہر مشکل صورتحال کو آسان بنانے کے لئےہمیشہ کمربستہ، شریف ایسا کہ بابرہ شریف کو شرمائے، لڑکیوں میں مغرور کے نام سے مشہور جبکہ حقیقت میں نہایت منکسر المزاج، نام ایسا کہ کم ازکم پڑھنے والے نے زندگی میں پہلی بار سنا ہو (از قسم روحال، صارم، یارق، زلیب وغیرہ)، ہیروئن کے ملنے سے پہلے ہر لڑکی کو بہن سمجھنے والا، بلکہ اگر ہیروئن کزن وغیرہ نکل آئے تو اس کو بھی نکاح نامے پر دستخط کرنےسے پہلے بہن ہی سمجھنے والا، بہادر، روشن خیال، نماز روزے کا پابند۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔۔۔

مندربہ بالا خصوصیات پر مشتمل انسان ان ڈائجسٹوں میں ہیرو/ہیروئن کے درجے پر فائز ہوتے ہیں۔ عام زندگی میں یہ ساری خصوصیات تلاش کرنے کے لئے کم ازکم پینتیس سال اور ڈیڑھ کروڑ افراد چاہییں۔۔۔
Comments
50 Comments

50 تبصرے:

سعد نے فرمایا ہے۔۔۔

واقعی۔ آپ کا یہ کارنامہ ادب کی دنیا میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ یہ مکالہ آپ کو ادبی دنیا میں ہمیشہ کیلیے امر کر دے گا :grin:

احمد عرفان شفقت نے فرمایا ہے۔۔۔

مثلا فارمینہ، جسورہ، زلائنہ وغیرہ۔۔۔

انتہائی محظوظ کن ہیں یہ نام بھئی :grin:

راشد کامران نے فرمایا ہے۔۔۔

:razz:
اس وقت کا شدت سے انتظار ہے جب آپ دائرہ کار ماہناموں سے بڑھاتے ہوئے سفر ناموں‌تک لائیں گے۔۔ کیونکہ میں‌یہ معمہ آج تک نا سلجھا پایا کہ "جپسیاں"‌ بینائی کی نعمت سے سرفراز کی گئیں تھیں یا محض‌ مسافر کی اس خواہش کا اظہار کہ یوں نا تھا میں نے فقط چاہا تھا ۔۔

روحال، صارم، یارق، زلیب ۔۔۔۔ کیا صفات کی ترتیب باندھی ہے ماشاء‌اللہ۔
اچھا اچھا لکھا کریں‌ اسی طرح

عثمان نے فرمایا ہے۔۔۔

آپ کی تان ہر بار ایک ہی جگہ کیوں ٹوٹتی ہے۔ :roll:
چلو خیر ہے کہ یہ بھی ایک انداز ہے۔ :razz:

ڈفر - DuFFeR نے فرمایا ہے۔۔۔

یار یہ ٹاپک پچھلے کم از کم ساٹھ سال سے تو تحریر کا متقاضی تھا ہی۔ اور اس پوسٹ کو بلاگستان کی شاہکار تحریروں میں ضرور شمار کیا جا سکتا ہے
وکیپیڈیا پہ بھی ایک صفحہ ہونا چاہئے اس کا
26 جنوری کی پریڈ (23 مارچ والی تو اب ہوتی نہیں) میں تجھے ”چاند“ ملنا چاہیے
عطا آباد سے یاد آیا کہ کیا بنا اس جھیل کا؟
اس کو کوئی ہیرو ملا یا نہیں؟

توارش نے فرمایا ہے۔۔۔

میں تو صرف اتنا کہوں گا
دو منفیوں کی ضرب بھی مثبت جواب ہے
ظالم خدا کے واستے کہدے نہیں نہیں


:mrgreen:

دوست نے فرمایا ہے۔۔۔

:lol: :lol:
مزے دار

بدتمیز نے فرمایا ہے۔۔۔

استاد جی اتنی غور سے زنانہ ڈائجست نہ پڑھا کریں کسی دن منہ سے غلط نام نکل گیا تو چکنے بیلنے پر پوسٹ لکھنی پڑ جإے گی۔

باقی پوسٹ کی تعریف تو کر دوں مگر آجکل ویسے ہی گروپ بندی کا بڑا رولا ہے

خاور نے فرمایا ہے۔۔۔

اگرچه که ناموں کے معنی سمجھ نہیں آئے لیکن یه تحریر ایک جاندار تحریر هے
یه ناموں کا بھی عجیب سلسله ہے
یهاں جاپان میں مسلمان هونے والے کو نام کی تبدلی کا کچھ اس طرح کہا جاتا ہے که جیسے یه بھی اسلام کا ایک رکن هے
بس نام کچھ عربی سا هونا چاہیے ،
اپ کے لکھے یه نام یهاں جاپان کے پاک لوکاں میں چل سکتے هیں
یه زنانیوں کے ڈائجسٹ جب میری نظر سے گزرے تھے ان دنوں ، کهانی میں پائیں باغ مالی ، ڈرائنگ روم ، سرونٹ کواٹر وغیرھ ضرور هوتے تھے ، میں تو اس وقت هی کلپنے لگا تھا که ، ڈنگروں والی حویلی ، پڑوسیوں کا بنیرا ، نلکے کا کھرا ، اور اس طرح کے لوازمات جو هماری زندگی میں هیں یه کتابوں والے لوگوں کی زندگی میں کیوں نہیں هیں؟

منیر عباسی نے فرمایا ہے۔۔۔

بلکہ اگر ہیروئن کزن وغیرہ نکل آئے تو اس کو بھی نکاح نامے پر دستخط کرنے سے پہلے بہن ہی سمجھنے والا،

ہاہاہاہا بہت اچھا۔ ایک کہانی میں ایک ہیروئن کا نام زنجبیلا دیکھا جو کہ غالبا ادرک کو کہتے ہین عربی میں۔

یہ بھی فارغ عورتوں کے کام ہیں۔

:smile:

یاسرخوامخواہ جاپانی نے فرمایا ہے۔۔۔

وہ جی۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے آج پتہ لگا ادب اسے کہتے ہیں۔
ایک دفعہ آپ نے ڈائجسٹوں کی سائیٹ دی تھی جی۔
ایک آدھ پڑھا تو دماغ میں خناس پیدا ھونے کا خطرہ محسوس کرکے چھوڑ دیا۔
اب ایسی کہانی لکھ پڑھ کر معاشرے میں تماشہ ہی ھو گا نا جی۔
پنڈی والوں کے بچے ابا جی کو جب پا۔۔۔پا کہتے ہیں تو مجھے کچھ ایسا لگتا ھے کہ یہ بچے ابا جی کو بڑا بھائی کیوں کہتے ہیں؟ یہ سب ادبی ڈائجسٹوں کا کمال تو نہیں؟
ویسے پنڈی والے پا۔۔۔ پا کس کو کہتے سب کو معلوم ھے ناجی؟ :lol: :lol: :lol:

عمر احمد بنگش نے فرمایا ہے۔۔۔

ڈائجسٹوں‌کا چسکا ایک ہی بار لگا تھا، غالباً‌چھ ماہ تک برقرار رہا۔ اس دور میں‌تقریباً‌ کھل کر اپنی جمع پونجی یعنی جیب خرچ حرام کیا اور کوئی بھی زنانہ، مردانہ، جھوٹی، سچی، خوفناک، روحانی، خلائی، سائنسی، اطفالی ڈائجسٹ پڑھنے سے رہا نہیں۔۔۔۔ ایک بات جو میں‌نے نوٹی تھی، وہ یہ کہ یہ کیا بکواس کام ہے! :o
تحریر کا کہوں‌تو ایسی ہی شگفتہ واٹیں‌لگایا کر اور دل پر ہاتھ رکھ کر سچ کہوں‌تو کافی عرصہ بعد تیرے بلاگ پر تعفن کا احساس نہیں‌ہو رہا۔ :razz:

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

::سعد:: ادبی دنیا کو بقول انکل سرگم 'ایک دبی دنیا' پڑھاجائے ;-)
::احمد عرفان شفقت:: :cool:
::راشدکامران:: دوسرا آپشن ہی درست ہے جی میرے خیال میں ;-)
::عثمان:: کونسی تان :?:
::ڈفر:: شاہ کار تحریر :roll:
::توارش:: تشریح ؟
::دوست:: :razz:
::بدتمیز:: یعنی تیرا خیال ہے کہ میں یہ ڈائجسٹ پڑھتاہوں :evil:
::خاور:: جو لوازمات آپ نے گنوائے ہیں، وہ ان کہانیوں‌میں تو نہیں ہیں، دوسری طرح کی کہانیوں‌میں ہیں، قاسمی کی تو ساری کہانیاں‌ہی دیہات کے پس منظر میں‌ہیں۔ میرے جیسا بندہ جس نے زندگی میں ایک دو دفعہ کے علاوہ گاؤں نہیں‌دیکھا، وہ بھی پوری گاؤں کی منظر کشی کرسکتا ہے یہ کہانیاں‌پڑھنے کے بعد۔۔۔
::منیرعباسی:: شاید نہیں بلکہ یقینا عربی میں ادرک کو زنجبیل کہتے ہیں۔ اس کو مونثا کے مصنفہ نے زنجبیلہ لکھ دیا ہوگا۔۔
::یاسر:: میں‌نے آپ کو وہ لنک دیا تھا سب رنگ وغیرہ کے لئے اور آپ پڑھتے رہے، پاکیزہ وغیرہ، :grin:
::عمراحمد بنگش::‌مہربانی ہے تیری بھائی۔۔۔

کاشف نے فرمایا ہے۔۔۔

سب رنگ کا لنک کون سا ہے

haroonazam نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت اچھی تحریر ہے۔ کچھ اور باتیں بھی ہیں، جن کی طرف آپ نے اشارہ نہیں کیا۔ مثلاً ہیرو کا ہمیشہ ایک جڑواں بھائی ہوتا ہے جو بچپن میں گم ہونے کے بعد ڈاکو بن جاتا ہے، اور ہیرو اپنے فرض سے مجبور ہوکر اس کو ماردیتا ہے۔

نیز اکثر فلموں کے ولن عثمان بھائی، مصطفیٰ بھائی وغیرہ وغیرہ کیوں ہوتے ہیں؟ ;-)

عثمان نے فرمایا ہے۔۔۔

عثمان بھائی کو کس نے یاد کیا :cool:

حجاب نے فرمایا ہے۔۔۔

فارمینہ، جسورہ، زلائنہ یہ نام میری نظر سے تو نہیں گزرے آج تک کس ڈائجسٹ میں تھے جعفر :smile: اور رنگ کیا خوب لکھے ہیں آپ نے کدوؤی رنگ اور بھنڈوی رنگ واہ ۔۔

حجاب نے فرمایا ہے۔۔۔

ہیرو میں صارم کے نام سے یاد آیا ۔۔ ایک بلاگ تھا اردو ٹیک پر صارم نام کا اور بلاگ پڑھ کر میں اور ماوراء سوچ میں پڑ گئے تھے کہ اتنا اچھا لکھنے والا ہے کون ۔۔ بعد میں جب پتہ چلا تو :razz: :lol:

طالوت نے فرمایا ہے۔۔۔

شیطان ! بھلا خواتین اور خواتین ڈائجسٹ والوں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے ;-)
وسلام

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

::کاشف:: لنک میل کردیاہے۔
::ہارون اعظم:: آپ پرانی پاکستانی فلموں کی طرف چلے گئے، میں‌نے تو صرف زنانہ ڈائجسٹوں پر طبع آزمائی کی تھی۔ موضوع ویسے یہ بھی برا نہیں، ایک لاکٹ بھی ہوتا تھا اور ایک گانا بھی جو ماں بچپن میں انکو سنایا کرتی تھی، فلم کے آخر میں‌جاکے دونوں بھائی ولن کے شکنجے میں‌وہ گانا گاکر اکٹھے ہوجاتے تھے اور ولن کا مل کر بینڈ بجاتے تھے، جیسے آج کل سارے سیاہ سی راھنما اکٹھے ہوکے ہمارا بینڈ بجا رہے ہیں۔
::حجاب:::‌ہاہاہاہاہاہا تو آپ پڑھتی ہیں یہ ڈائجسٹ۔۔۔ :lol: میں‌نے تو کبھی یہ ڈائجسٹ نہیں‌ پڑھے اس لئے یہ نام خالص میری 'ایجاد' ہیں۔ اور وہ صارم صاحب بلاگ والے تھے کون؟ یاد رکھیے کہ آپ خواتین پاکیزہ وغیرہ پڑھتی ہیں، سسپنس جاسوسی نہیں، اس لئے سسپنس پھیلانے سے گریز کرکے ان حضرت کا نام بتائیے۔
::طالوت:: بگاڑا تو کچھ نہیں جی، ویسے ہی ذرا دل لگی :cool:

عادل بھیا نے فرمایا ہے۔۔۔

میں ہوں نا۔۔۔۔

کاشف نے فرمایا ہے۔۔۔

لنک کا شکریہ

سارہ نے فرمایا ہے۔۔۔

جعفر یہی سب تو بکتا ہے اگر کہانیوں میں خیالی دنیا کی رنگینیاں نہ ہوں اور صرف حقیقی دنیا کی تلخیاں ہوں تو لوگ خرید کر کب پڑھتے ؟ وہ الگ بات ہے کہ کافی لوگ میری طرح ادھار لے لے کر بھی کام چلاتے ہیں ۔۔ :razz:
لکھا بہت دلچسپ ہے جعفر۔۔۔

حجاب وہ عارم تھا نہ کہ صارم ؟

ضیاء الحسن نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت اعلی استاد جی ۔۔۔۔۔۔ آجکل تو امائیں نام بھی ڈائجسٹ پڑھ پڑھ کر رکھتی ہیں ۔۔۔۔ اور کیا کلر دیے ہیں بہت اعلیٰ ۔۔۔۔

حجاب نے فرمایا ہے۔۔۔

جعفر میں خواتین اور پاکیزہ دونوں نہیں پڑھتی ۔۔ آنچل اور شعاع مجھے فری ملتے تھے تو بس عادت ایسی ہوئی کہ جب فری ملنا بند ہوئے تو لینا شروع کردیا فروری کی ڈائجسٹ کل نکال کر دیکھی میں نے کہ اب پڑھ ہی لی جائے :razz: ہاں سارہ وہ صارم نہیں عارم تھا مجھے آج صبح یاد آیا کہ غلط نام لکھ آئی میں :smile:
جعفر ، نام کیسے بتاؤں منع کیا تھا اُس نے :razz:

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

::عادل بھیّا:: اچھا جی۔۔۔!!!
::کاشف:: ویلکم ۔۔۔ :razz:
::سارہ:: مجھے لگتا ہے کہ آپ یہاں‌پہلی دفعہ تشریف لائی ہیں، تو اسی خوشی میں‌ایک خوش آمدید قبول کریں۔
آپ نے تو کلاسک ایڈکشن کی مثال دے دی۔۔۔ پہلے مفت، ایڈکٹ ہونے پر خریدنا۔۔۔ :grin:
پسندیدگی کا بہت بہت شکریہ، آتی جاتی رہیے گا
::ضیاءالحسن:: شکریہ ۔۔۔شکریہ۔۔۔۔ حبیبی۔۔۔ :razz:
::حجاب:: عارم بھی برا نہیں‌ہے، آپ کی اجازت سے اسے اس کہانی میں‌استعمال کرلوں، جو میں بطور ٹمپلیٹ لکھنے کی سوچ رہا ہوں، اس کہانی کو آپ کسی بھی ڈائجسٹ میں فٹ کرسکتی ہیں، شرطیہ۔۔۔۔
چلیے آپ کہتی ہیں‌تو میں‌بتادوں ان کانام۔۔۔

امتیاز نے فرمایا ہے۔۔۔

جناب جعفر اپکی سوچ کی جدت اور گوناگونی دیکھ کر رشک آتا ہے
تسی تحریر نہیں تحریروں کی تسلسل لکھنے کی ایلیت رکھتے ہو

بلوُ نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت ہی اچھی تحریر ہے بہت مزہ آیا پڑھ کر
اس پر مزید لکھیں :x

حجاب نے فرمایا ہے۔۔۔

ضرور شامل کر لیں آپ یہ "عارم" نام :smile: اور نام بتانے میں حرج کوئی نہیں وہ عمار تھا عارم پاکستانی :razz:

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

::امتیاز:: یار شرمندہ کرنے کی نہیں‌ہورہی۔۔۔ :razz:
::بلو:: لگتا تو نہیں کہ مزا آیا
::حجاب:: ویسے آپس کی بات ہے مجھے نہیں‌پتہ تھا کہ عارم اصل میں‌کون ہے :grin:

یاسر خوامخواہ جاپانی نے فرمایا ہے۔۔۔

تیس کمنٹ ہو گئیں۔۔۔۔۔تو اکتیسیویں کیوں نہ ہو۔
لو ہم نے لکھے دی :lol: :lol: :lol: :lol:

حجاب نے فرمایا ہے۔۔۔

جعفر ۔۔ مجھے پتہ تھا کہ آپ کو نہیں پتہ ہو سکتا اس لیئے کہ یہ خفیہ راز تھا جو میں نے اُگل دیا اس لیئے کہ اب اردو ٹیک رہا نہیں ہاں عارم ضرور ہے مگر کافی ٹائم سے م س ن پر نظر نہیں آیا عمار ۔۔ فیس بُک پر میں جاتی نہیں تو اُس کو کیا پتہ اس لیئے بتا دیا :lol:

کاشف نصیر نے فرمایا ہے۔۔۔

آج سے کچھ سال پہلے تک زنانہ ڈائجسٹ کا رواج زوروں پر تھا لیکن اب ٹی وی نے خواتین میں یہ شوق محدود کرنا شروع کردیا ہے۔ ان ڈائجست کا میعار جیسا بھی ہو ایک بات تو تہ تھی کہ اس پاپولر ادب نے ہماری خواتین کی اردو دانی کو کافی اچھا کردیا تھا اور نئے ناموں کا فائدہ یہ ہوتا تھا کہ بچوں کے کئے نئے اور منفرد نام بھی مل جاتے تھے۔ اس پاپولر ادب نے بھی کئی لکھنے والوں نے اپنا نام بنایا جیسے عمیرا احمد، میں نے انکی تمام ہی کتابیں پڑھیں اور انکو اتنی اہمیت دی جتنا کسی سنجیدہ ادیب کو دیتا ہون کی موصوفہ بہترین موضوں پر بہرترین انداز میں لکھتی ہیں، انکا ایک ناول پیر کامل تو مجھے بہت پسند ہے۔
آج کل ڈائجسٹ کی کہانیوں کے ڈرامے بنانے اور انہیں ٹی پر چلانے کا رواج بہت بڑھ گیا ہے۔ عمیرا احمد کے بھی چھ سات ناولوں اور شارٹ اسٹوریز کی ڈرمائی تشکیل ہوچی ہے، جن میں میری زات زرہ بے نشان، لاحاحل اور میں نے خوابوں کا شجر دیکھا قابل زکر ہیں۔
جعفر صاحب میرے بلاگ کا پتہ تبدیل ہوچکا ہے براہے مہربانی آپ بلاگ رول ربط درست کرلیں۔

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

::حجاب:: فیس بک پر نہیں‌ہوتا عمار؟ :shock:
آپ نے کس چیز کا نام فیس بک رکھا ہوا ہے۔۔۔ وہیں پائے جاتے ہیں حضرت اکثر اوقات۔۔۔
::کاشف نصیر:: آپ میں‌صحافی بننے کے جراثیم کثیر مقدار میں‌موجود ہیں۔

حجاب نے فرمایا ہے۔۔۔

فیس بک پر میں نہیں ہوتی ناں ۔۔ اب آپ بتائیں عمار کو تو مجھے کیا میں تو وہاں نہیں ہونگی :smile:

جہالستان سے جاہل اور سنکی ۔ نے فرمایا ہے۔۔۔

استاد صاحب، آداب ۔
یہ ہوئی نا بات ۔ آپ کے زبردست لکھاری ہونے پر ہمیں تو پہلے بھی کوئی شک نہیں تھا ۔ ہم نے بھی ایک نیا احمقانہ سا آرٹیکل لکھ مارا ہے اور آپکے تبصرے کا وہاں انتظار کیا جا رہا ہے ۔

عمار ابنِ ضیاء نے فرمایا ہے۔۔۔

اتفاق دیکھیے کہ ہم یہاں حاضر ہوگئے۔۔۔ ہمارا راز افشا کردیا :cool: حجاب :x :razz:
حجاب! م۔س۔ن استعمال کرنا قریب قریب چھوڑا ہوا ہے۔ مصروفیت کے ساتھ ساتھ بجلی کی آنکھ مچولی بھی اس کی اجازت نہیں دیتی۔ :smile:
عارم بے چارے پر اردو ٹیک نے فاتحہ پڑھوادی۔ :oops:

عمار ابنِ ضیاء نے فرمایا ہے۔۔۔

@جعفر!
میں اکثر اوقات فیس بک پر کب پایا جاتا ہوں جی؟ اننا وڈا الزام :sad: یہ تو بلاگز کی فیڈ ہے جو فیس بک از خود اپڈیٹ کرکے لوگوں کو میرے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا کردیتی ہے۔ :smile:

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

::حجاب:: آگئے ہیں حضرت :grin:
::جاہل:: وعلیکم آداب۔ تحریر کی پسندیدگی کا بہت شکریہ
::عمار:: یار، فیس بک پر جانا اتنی بری بات بھی نہیں‌ہے :grin:

عین لام میم نے فرمایا ہے۔۔۔

جعفر کمال کا لکھا ہے۔۔۔۔۔۔ تباہی! (یہ اچھی والی تباہی ہے یعنی کہ زبردست) :razz:
شروع سے لیکر آخر تک تحریر میں جان ہی جان اور ہاسا ہی ہاسا ہے۔۔ خاص کر نام اور رنگ۔۔۔ توباہ!! (یہ بھی وہ والی توبہ نہیں!)
یہ تحریر میں اپنے گھر جا کر گھر والوں کو بھی پڑھاؤں گا۔۔۔ صرف یہ تحریر!! ;-)

عین لام میم نے فرمایا ہے۔۔۔

اور میرے بلاگ کا لنک بھی اپڈیٹ کر دیں۔ شکریہ۔

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

::عین لام میم:: شکریہ :smile:
لنک بھی اپڈیٹ دیا ہے۔

ابوشامل نے فرمایا ہے۔۔۔

تقریبا ایک ماہ بعد بلاگستان پر واپسی ہوئی اور پہلی تحریر ہی یہ پڑھنے کو ملی ہے۔ میں اپنی ہنسی پر قابو نہيں رکھ پا رہا۔ بہت ہی اعلی جعفر میاں!
ایک طرف یہ ڈائجسٹ اور دوسری طرف ٹی وی چینلوں کے ڈرامے، لوگوں کو خوب خیالی دنیاؤں میں رکھ رہے ہیں۔ ویسے موجودہ حالات دیکھ کر تو یہی مناسب لگتا ہے کہ لوگ خیالی دنیا میں رہیں۔ کم از کم اس سے کسی کا نقصان تو نہیں ہوگا :(
@راشد کامران! ہاہاہاہا ۔۔۔۔ بہت زبردست۔

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

::ابوشامل:: واقعی خیالی دنیا میں رہنے سے کسی کا نقصان نہیں‌ہوگا، سوائے اس دنیا میں‌رہنے والے کے۔۔۔
تحریر کی بلاوجہ پسندیدگی کا شکریہ :grin:

حیدرآبادی نے فرمایا ہے۔۔۔

زبردست لکھا ہے پاشا بھائی آپ نے۔
آج سے کوئی دس پندرہ سال پہلے تو بالکل یہی ماحول تھا ہندوستانی خواتین اردو ڈائجسٹوں میں بھی ۔ بعد کو انکشاف ہوا کہ کوئی نوے فیصد کاپی پیسٹ ہوتا تھا پاکستانی ڈائجسٹوں سے ورنہ تو ہم منہ میں گھنگیاں ڈال کر سوچا کرتے تھے کہ ایسا اپنے پاس کس ریاست یا شہر میں ہوتا ہے؟ پھر دیکھا دیکھی ہمارے ہاں کی کالج کی زنانیوں نے بھی مکھی پہ مکھی مارنا شروع کی ۔۔۔۔۔ اس کے بعد ۔۔۔ اس کے بعد حوصلہ نہ رہا۔ ہندوستان چھوڑ آئے ہم۔
ہر سال مہینہ بھر کے لئے بھی اگر جاتے ہیں تو ان زنانی ڈائجسٹوں کو پڑھنے کا موقع نہیں نکالتے۔ ویسے پتا چلا ہے کہ ڈائجسٹوں کی تعداد میں کمی آ‌گئی ہے۔ اردو پڑھنے والے ہی دن بہ دن کم ہوتے جا رہے ہیں۔ اردو دینی مدارس کے چند نفوس بقائے حیات ہیں جو بار اٹھائے ہوئے ہیں‌اردو کا۔ ورنہ تو زنانیاں کہاں پڑھتی ہیں دینی مدرسوں میں؟ اگر پڑھ لیں تو تمام ہیروئینوں کے نام اسلامی یا صحابیات کے نام پر ہوں گے اور بچاری ہیروئین ہمیشہ گھر میں پوشیدہ کشیدہ کاری کرتے نظر آئے۔

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

::حیدرآبادی:: شکریہ صاحب :smile:

کتاب اور میں – ہفتہ کتب | پانچواں درویش نے فرمایا ہے۔۔۔

[...] بننے تو دو پہلے!) ایک دور وہ بھی آیا کہ گھر میں آنے والے زنانہ ڈائجسٹ پڑھنے کا چسکا لگا۔ سب سے چھپ چھپ کے بہت پڑھے۔ اب بھی [...]

Anonymous نے فرمایا ہے۔۔۔

رشک آ رہا ہے اتنے زیادہ ببصرے دیکھ کر، بہت عمدہ لکھتے ہیں۔ اللہ آپکو خوش رکھے اور لوگوں میں مسکراہٹے بکھیرنے کا زریعہ بنائے رکھے آمین۔
anonymous کی آپشن رکھنے کا بہت بہت شکریہ، بکواس کرنے کا اصل مزہ تب ہی آتا ہے جب گمنامی میں کی جائے

زینب بٹ نے فرمایا ہے۔۔۔

اب تو منظر نگاری میں موجودہ دور کی ساری اشیاء لکھاری یہ سوچ کر استعمال کرتی ہیں کہ اسی کہیڑے اپنے پلوں پیسے پاۓ نیں
اس طرح کے نام اور مافوق الفطرت ہیرو ہیروئین بس ایک رائیٹر کے ناولز میں ہوتے ہیں اور وہ ہیں آنسہ نایاب جیلانی کھوۓ والی ملائ والی

Paarsa نے فرمایا ہے۔۔۔

واہ جعفر بھائی میں نے تو یہ تحریر اب پڑھی بہت عمدہ.....

تبصرہ کیجیے