حق گوئی و بے باکی

آپ گھمًن صاحب کو دیکھ لیں۔ کل رات انہوں نے مجھے کال کیا۔ گھمًن صاحب کی آواز بھرًائی ہوئی تھی۔ انہوں نے گلہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ تو میرے دوست ہیں۔ آپ کو میرے خلاف پروپیگنڈے کا حصہ نہیں بننا چاہیے تھا۔ اور اس دوستی کا لحاظ رکھنا چاہیے تھا۔


میں نے ایک گہرا سانس لیا۔ فون دائیں کان سے ہٹا کر بائیں کان پر رکھا اور کھنکھار کرگلا صاف کیا اور یوں گویا ہواکہ یہ ٹھیک ہے، آپ میرے دوست ہیں۔ آپ نے ہر موقعہ پر میرا ساتھ دیاہے۔ مجھے وہ دن بھی نہیں بھولا جب آپ نے میرے بڑے بیٹے کے ختنوں پر بہترین مجرے اور سائیڈ پروگرام کا اہتمام کیاتھا۔ ہر ہفتے آپ کی طرف سے بکرے کی سالم ران، مرغ، پلا مچھلی کی فراہمی بھی کبھی بند نہیں ہوئی۔ یہ سب احسان اپنی جگہ، لیکن گھمًن صاحب، ہم سب کی دوستیاں، یاریاں، تعلق یہ سارے پیٹ کے دم سے ہیں۔ اگر پیٹ میں ہی کچھ نہیں جائے گا تو کہاں کی دوستی اور کہاں کا تعلق؟ گھوڑا، گھاس سے دوستی کرے گا تو کھائے گا کیا؟ یہاں پہنچ کر میں نے ذرا دم لیا۔ پانی کا گلاس اٹھا کر دو گھونٹ لیے اور دوبارہ یوں گویا ہوا۔


اس واقعہ کے بعد آپ نے پہلے کی طرح مجھ سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ نہ کوئی سیبوں کی پیٹی، نہ کیلوں کا لونگر، نہ دیسی گھی کے ٹین اور نہ بکرے کی رانیں۔ آپ نے بالکل مجھے بھلادیا۔ حتی کہ پچھلے مہینے آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ جب بھی کوئی نئی گاڑی پکڑی گئی، وہ سپردداری پر مجھے دیں گے۔ میں نے یاددھانی کے کتنے فون کیے لیکن ہمیشہ یہی سننے کو ملا کہ صاحب مصروف ہیں۔ گھمًن صاحب، آخر کب تک یہ میں یہ یک طرفہ ٹریفک چلاتا رہوں گا۔ میرے بھی چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ جو ایک عدد بیوی نے پیدا کئے ہیں۔ جن کی ضروریات پوری کرنا مجھ پر فرض ہے۔ اگر میں پھوکے تعلق ہی نبھاتا رہا تو آپ خود ہی بتائیے، کہ بیوی کو کیا منہ دکھاوں گا؟ یہاں تک پہنچتے پہنچتے میری سانس پھول چکی تھی۔ غصے سے میرا رنگ آتشی گلابی ہوچکا تھا۔ میں نے پانی کا ایک گھونٹ پیا، دس تک الٹی گنتی گنی جو چار پر جا کر بھول گیا لہذا دوبارہ گنی۔


گھمًن صاحب نے میری بات کاٹی اور کہنے لگے کہ آپ کے سارے گلے بجا ہیں۔ میں آپ سے معذرت خواہ ہوں۔ اس واقعے میں میرا کوئی قصور نہیں ہے۔ تاجے حوالدار کو لاکھ دفعہ سمجھایا ہے کہ چھوٹے موٹے ریڑھی والوں سے مفت بری نہ کیا کر۔ لیکن وہ سمجھتا ہی نہیں۔ اور میرا نام لے کر ان کی گنڈیریاں چوپ جاتا ہے اور گول گپے کھا جاتا ہے۔ اور نام میرا بدنام ہوتا ہے۔ آپ تو مجھے جانتے ہی ہیں کہ میں کبھی چھوٹا ہاتھ نہیں مارتا۔ آج تک اللہ کے فضل سے کبھی دس ہزار سے کم رقم نہیں پکڑی۔ لہذا اس واقعے میں، میں بالکل بے قصور ہوں۔ جو بھی ہوا، میری لاعلمی میں ہوا اور میں اس کی شدید مذمت کرتا ہوں۔


گھمًن صاحب کی آواز میں مجھے سچائی محسوس ہوئی۔ مجھے ایسا لگا کہ یہ سارا وقوعہ ان کی لاعلمی میں پیش آیاہے اور وہ بالکل بے قصور ہیں۔ اس لیے ان کے خلاف جو بھی پروپیگنڈہ کیا جارہاہے، بالکل غلط اور بے بنیاد ہے!۔

Comments
11 Comments

11 تبصرے:

UncleTom نے فرمایا ہے۔۔۔

اسکے بعد مجھے گھمن صاحب کی طرف سے ایک جدید قسم کی گاڑی ملی اور ہر ہفتے رانیں آنا شروع ہو گئیں

وقاراعظم نے فرمایا ہے۔۔۔

گھمن صاحب نے اگلی بار لندن ساتھ لے جانے کا وعدہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ دونوں مل کر ہسپتال کی نرسوں سے جگتیں کریں گے۔

عمار ابنِ ضیا نے فرمایا ہے۔۔۔

پہلے پیرا سے مجھے گمان ہوا کہ یہ شعیب صفدر گھمن ایڈووکیٹ صاحب کی بات ہورہی ہے۔ :P

یاسر خوامخواہ جاپانی نے فرمایا ہے۔۔۔

گھمن صاحب کے خلاف کہاں پر کس نے پروپیگنڈہ کیا ہے؟
بیچارے معشوم گھمن سائیں۔

شعیب صفدر نے فرمایا ہے۔۔۔

اوئے کیا یہ اکہانی ہے؟؟؟ کوئی مجھے سمجھائے؟؟؟؟

عمر احمد بنگش نے فرمایا ہے۔۔۔

جعفر واٹو نام پڑ جانا استاز تیرا۔۔۔۔۔۔۔۔ بس کر دے

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

انکل ٹام ۔۔اور اس کے بعد آپ کی آنکھ کھل گئی۔۔۔
وقار اعظم ۔۔۔ اگر ڈاکٹروں نے اجازت دی تو
عمار۔۔۔ انہیں بھی یہی گمان ہوا تھا
یاسر۔۔۔۔ سادے مشوم نہیں۔۔۔ سخت مشوم
گھمن۔۔۔ اب وکلاء بھی ہم سے کہانیاں سمجھیں گے؟
عمر۔۔۔۔ ٹرک نہ کردوں؟

عثمان نے فرمایا ہے۔۔۔

چودھری صاب کے کالم کا لنک بھی لگایا کریں نا.. اب میں پرانے کالم کہاں پھولتا رہوں.

حجاب نے فرمایا ہے۔۔۔

جعفر ، مجھے صرف ایک بات پر ہنسی آئی جو میں نہیں بتا رہی ۔۔۔

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

عثمان ۔۔۔۔تو میں کہاں پھولتا رہوں۔۔۔ :ڈ
حجاب ۔۔۔۔ مجھے ایسے تین مقامات بارے شک ہے، جن پر آپ ہنسیں اور بتایا نہیں۔۔

جہالستان سے جاہل اور سنکی ۔ نے فرمایا ہے۔۔۔

سانوں پہلے دا پتا جے کے تسی انقلاب نہیں چاہندے ۔

تبصرہ کیجیے