ہوئے کیوں نہ غرق دریا

دو مئی کو ریڈار بند نہیں تھے۔ پاک فضائیہ


پاک فضائیہ کے ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو مئی کو ریڈاد بند نہیں تھے بلکہ ہماری آنکھیں بند تھیں۔ کیونکہ 'دوستوں' کی لغزشوں سے چشم پوشی بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ ویسے بھی آج کل آئی پی ایل جاری ہے تو ریڈار بند کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس موقع پر انہوں نے ریڈار سے براہ راست آئی پی ایل میچ کی جھلکیاں رپورٹرز کو دکھائیں۔


پاکستان کی طرف اٹھنے والی میلی آنکھ نکال دیں گے۔ فردوس عاشق اعوان


وزیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کی طرف اٹھنے والی میلی آنکھ نکال دیں گی۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی چونکہ روزانہ منرل واٹر سے منہ دھوتے ہیں لہذا ان کی آنکھیں بالکل صاف ہوتی ہیں تو ان کو نکالنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں آنکھیں نکالنے کا تیس سالہ تجربہ ہے۔ میڈیکل کالج میں بھی انہوں نے چار ڈاکٹرز اور تین پروفیسرز کو کانا کیا تھا۔ آپ اگلے روز پریس کانفرنس سے خطاب کررہی تھیں۔


چھوٹی موٹی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ رحمن ملک


وزیر داخلہ رحمن ملک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایبٹ آباد کے واقعہ جیسی چھوٹی موٹی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ قائد عوام نے بھی مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن شروع ہونے پر کہا تھاکہ خدا کا شکر ہے، پاکستان بچا لیا گیا۔ لہذا بھٹو ازم کا تقاضہ ہے کہ ایسی چھوٹی موٹی باتوں پر پریشان نہ ہواجائے۔ ویسے بھی پریشان تو انہیں ہوناچاہیے جنہیں یہاں مستقل رہنا ہے!۔۔


نواز شریف پرسوں سے ایبٹ آباد واقعے پر غور کریں گے۔


مسلم لیگ ن کے ترجمان نے کہا ہے کہ نواز شریف پرسوں سے شروع ہونے والے مسلم لیگ کے اجلاس میں ایبٹ آباد واقعہ پر غور کریں گے اور یہ غور اگلے تین سال جاری رہے گا۔ اس کے بعد پالیسی بیان جاری کیا جائے گا۔


بلا اجازت امریکی آپریشن بری بات ہے۔ پرویز مشرف


مسلم لیگ (۔۔۔۔) کے قائد پرویز مشرف نے کہا ہے کہ امریکیوں کا بلااجازت آپریشن کرنا بری بات ہے۔ اچھے بچے ایسے نہیں کرتے۔ جبکہ ہمارے دور حکومت میں تو ہم ایسے آپریشن کی ذمہ داری خود لےلیا کرتے تھے۔ تاکہ ہمارے دوست شرمندہ نہ ہوں۔ جبکہ موجودہ حکومت میں اتنی اخلاقی جرات ہی موجود نہیں جو ہمارا خاصہ ہے۔ آپ لندن میں طبلے کی کلاس سے فارغ ہونے کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔

Comments
13 Comments

13 تبصرے:

saadblog نے فرمایا ہے۔۔۔

دلچسپ۔

یاسر خومخواہ جاپانی نے فرمایا ہے۔۔۔

شووووووووووں
کچھ سمجھ ہی نہیں آئی۔
بس سورووءں کا قصیدہ ہی لگے ہے۔

افتخار اجمل بھوپال نے فرمایا ہے۔۔۔

اسی لئے امريکی کہتے ہيں کہ اُسامہ کی لاش سمندر ميں پھينک دی ہے کہ وہ مر کے رسوا نہ ہو

میرا پاکستان نے فرمایا ہے۔۔۔

اس طرح کی خبریں سکول کے دنوں میں جلسوں میں پڑھی جایا کرتی تھیں۔ اچھا لکھا ہے۔

خرم ابن شبیر نے فرمایا ہے۔۔۔

اس میں دریا کا کیا قصور ہے

عین لام میم نے فرمایا ہے۔۔۔

::لائک::

Dr Jawwad Khan نے فرمایا ہے۔۔۔

اپنے تو پاکستان کے المیے کو خبروں کی ہیڈ لائن میں سمو دیا ہے....بہت اعلیٰ جناب .

UncleTom نے فرمایا ہے۔۔۔

اگر وہ بیان طبلہ بجاتے ہوے دیتے قوالی کے انداز میں تو انکا بیان کیسا ہوتا ؟

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

شکریہ سعد
یاسر پائی، یار میں کوئی ڈاکٹر انور سجاد تو ہوں نہیں کہ جس کا لکھا سمجھ نہ آئے
جی نہیں افتخار صاحب، رسوا تو مارنے والے ہورہے ہیں۔
شکریہ افضل صاحب
خرم کاکے، سارا قصور سواں دریا والوں کا ہے، سمجھا کچھ ؟
عمیر::تھینکس::
جی ڈاکٹر ساحب، یہی کوشش کی تھی۔
جی انکل جی، وہ بیان بھی جلد پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی

محمد عاصم نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت خوب بھائی جان
چنگی جوتی ماری جے۔
شاباش

بلاامتیاز نے فرمایا ہے۔۔۔

چویدری صاحب کو چھوڑ کر اب خبروں تک آن پہنچا ہے استاز۔۔
خوب لکھی ہیں ویسے

درویش خُراسانی نے فرمایا ہے۔۔۔

پڑھ کر مزا آگیا ۔ خبروں پر خوبصورت اور جاندار تجزئے کا شکریہ ۔جو میرے دل میں تھا بس آپ نے کہہ دیا۔

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

محمد عاصم اور درویش خراسانی صاحبان کو بلاگ پر خوش آمدید
عاصم صاحب تحریر پسند کرنے کا شکریہ
جناب صاحب بلاگ بلا امتیاز(نہ بلا، نہ شاہ جی، نہ امتیاز)۔ حضور کب تک کالم نویسوں کی نقلیں مارتا رہوں گا، سوچا ہے کہ اب اصلی صحافت سیکھ ہی لوں۔
درویش خراسانی صاحب، بہت شکریہ کہ آپ کو تحریر پسند آئیِ۔

تبصرہ کیجیے