رحم كرو


باتوں سے نہ تو پیٹ بھرتا ہے اور نہ زخم مندمل ہوتے ہیں چاہے یہ باتیں کتنی ہی اچھی، عمدہ، دینی، اصلاحی، وطن پرستانہ، اخلاقی کیوں نہ ہوں۔ کسی پیاسے کو پانی پلانے کی بجائے پانی کے خواص اور اس کی کیمیائی ترکیب پر لیکچر، پیاسے کے دل میں ایسے خیالات کو جنم دیتا ہے جو بیان کے قابل نہیں ہوسکتے۔ یہ خیالات ہمارے دل میں یونہی نہیں آئے بلکہ اس کی وجہ امریکی کانگرس میں پیش کی جانے والی وہ قرارداد ہے جس میں بلوچستان کے حق خودارادی کی بات کی گئی ہے۔ بجا طور پر اس سے ہمارے حکمران طبقے اور ان کے حواریوں کو تشویش اور مرچیں لگی ہیں۔ مجھے تو حیرانی اپنے جیسے عام لوگوں کے ردعمل پر ہوئی ہے۔ جو اس کو پاکستان کی سالمیت، خودمختاری اور پتہ نہیں کیا کیا کے خلاف سازش سمجھ کر اپنے سارے کلیشے الفاظ کے ساتھ میدان میں اتر آئے ہیں۔ آپ کے اپنے ہوائی اڈوں سے امریکی طیارے اڑ کر آپ کے ہی ملک میں بنا کسی مقدمے، صفائی اور گواہی کے لوگوں کو قتل کرتے ہیں۔ اس پر کسی کو پاکستان کی سالمیت، خودمختاری اور غیرت خطرے میں نظر نہیں آتی؟ یا اس کے بدلے ڈالر ملتے ہیں جس سے چھاونیوں کے میس چلتے ہیں۔ کینٹ کے بنگلے بنتے ہیں۔ بڑے بڑے سودوں میں کروڑوں ڈالر کے کمیشن ملتے ہیں۔ ہمیں کیا ملتا ہے؟ ڈنڈا۔۔۔
یہ بات بہت تلخ سہی لیکن سن لیجیے کہ مجھے اس بات سے کوئی غرض نہیں رہی کہ پاکستان بچتا ہے یا ٹوٹتا ہے۔ آپ چاہیں تو مجھے نوائے وقتانہ انداز میں یہ طعنے دے سکتے ہیں کہ آج پاکستان نہ ہوتا تو تم کسی ہندو کے منشی ہوتے یا کسی سکھ کے ملازم ہوتے اور پاکستان تمہاری شناخت ہے اور ایسی ہی کئی اور مثالیں۔ پاکستان بننے کے اتنے عرصے بعد تیسری نسل کو بھی ہم نے اگر پاکستان سے جوڑے رکھنے کے لیے یہی دلیلیں استعمال کرنی ہیں تو یقین کریں ایسے ملک سے ہم لنڈورے ہی بھلے۔
یہ بات لکھ لیں اور آج کی تاریخ ڈال کے محفوظ کرلیں تا کہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے کہ جس نظام یا بد انتظامی کے ساتھ یہ ملک اتنی دیر سے چل رہا ہے اس کا وقت پورا ہوگیا ہے اب یا تو اس بدانتظامی کو بچایا جاسکتا ہے یا ملک کو۔ اور میرا خدشہ یا اندازہ، کچھ بھی کہہ لیں، وہ یہی ہے کہ ہمارے ان داتا، نظام ہی بچائیں گے کہ یہی ان کے طبقاتی مفاد کا تقاضہ ہے اس کے لیے وہ ہمارے قومی اور مذھبی جذبات کو بھڑکائیں گے اور ہم اتنے "سادہ" ہیں کہ گلے پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگائیں گے اور تاریخ کے کوڑے دان میں اوندھے منہ جاگریں گے۔
ملک بچانا ہے تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے۔ انصاف کرو اور سب کو ان کا جائز حق دو۔ اور تین نسلیں برباد کرنے کے بعد اب چوتھی نسل کو تباہ نہ کرو۔ اپنے بینک کھاتوں کے لیے ہمارے منہ کا لقمہ، بخار کی گولی اور سکول کی کتاب نہ چھینو۔ رحم کرو، رحم کرو۔
Comments
6 Comments

6 تبصرے:

DuFFeR - ڈفر نے فرمایا ہے۔۔۔

یار میں تیرے موجودہ ملکی حالات اور جاری یکیوں پہ لکھے گئے "ریویو" سے سو فیصد متفق ہوں۔
اور آئیندہ کبھی اردو ب کے پرچے میں متفق ہونا یا سولہ آنے سچی بات پہ محاورہ لکھنا پڑا تو بڑی آسانی ہو گئی
:D :D :D

ali نے فرمایا ہے۔۔۔

جعفر بھائی وہ فرمائشیں کریں جو مانی بھی جا سکیں۔
مثلاً انصاف کرو کہ ہر سیاسی پالٹی کو یکساں کھانے کا حق ہو
اپنی نسلیں برباد ہونے سے بچانے کے لیےاسمبلی کی سیٹیں بڑھائو کہ تین تین چار چار بچے ہیں ایک ایک سیٹ باقی بیچارے کیا کریں گے
ملک پر رحم کرو اور ایک ہی جھٹکے میں بیچارے کو پار کر دو روز روز کے درد زہ سے نجات دے دو۔

Waseem Habib نے فرمایا ہے۔۔۔

محترم ٹھیک فرمایا آپ نے۔۔۔۔۔۔۔اب تو بس کسی چنگاری کی دیر ہے اور پھر دیکھیے کیسے بدلتا ہے میرا پاکستان۔۔

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

ڈفر: :ڈ
علی: ان کی اگلی نسل کا ایک آدھ ہی بچہ ہے۔ نیا زمانہ ہے۔ بیوی سے زیادہ ، دبئی، بنکاک والی کے ساتھ زیادہ رہتے ہیں۔ لہذا اسمبلی کی اتنی ہی سیٹیں کافی ہیں
وسیم حبیب: بلاگ پر خوش آمدید۔ چنگاری کی امید نہ رکھیں۔ ٹھس قوم ہے یہ۔ سیلابی ہوئی۔

Dohra Hai نے فرمایا ہے۔۔۔

اپنے بینک کھاتوں کے لیے ہمارے منہ کا لقمہ، بخار کی گولی اور سکول کی کتاب نہ چھینو۔ رحم کرو، رحم کرو۔
کیا خوبصورت بات کہی میرے بھائی نے ۔ اللہ کرے کوئی سمجھے

saeed irshad نے فرمایا ہے۔۔۔

Good one bitter reality...

تبصرہ کیجیے