زہریہ ٹاؤن

میں دل شکستہ ہوچکا تھا۔  مایوسی میرے رگ و پے میں سرایت کرکے کانوں سے دھویں کی شکل میں نکل رہی تھی ۔ جس سے میری عینک کے شیشے بار بار دھندلا رہے تھے۔ میرا دل چاہ رہا تھا کہ اپنی عینک دیوار پر دے ماروں لیکن پھر خیال آتا تھا کہ یہ بھی ٹوٹ گئی تو کھمبوں سے ٹکراتے ٹکراتے کیسے گھر پہنچوں گا۔ جونہی میں کمرے سے باہر نکلنے لگا تو اشرف قصائی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔ اسے تھپتھپایا ۔ اور سرد لہجے میں یاددھانی کراتے ہوئے بولا ۔ "چوہدری صاحب، دس ہزار ہوچکے ہیں۔ اگلے ہفتے تک ادا ہوجانے چاہییں"۔
میرا جی چاہا کہ جھنگ روڈ پر جاکے این ایل سی کے ٹرالے کے سامنے کود جاؤں۔  مجھے پتہ تھا کہ اگلے ہفتے تک، دس تو کیا، میں ایک ہزا ر کا بھی بندوبست نہیں کرسکتا۔ تنخواہ ملنے میں ابھی بیس دن باقی تھے اور کوئی مجھے ادھار دینے کی غلطی نہیں کرسکتا تھا۔ مجھے اللہ دتّے کی وہ حالت یاد آگئی جو پچھلے مہینے اشرف قصائی کے بیٹوں کے ہاتھوں ہوئی تھی  اگرچہ وہ صرف پانچ سو کا ہی مقروض تھا۔ انہی سوچوں میں غلطاں میں جوئے کے اڈّے سے باہر نکلا ۔ ابھی دس قدم چلا ہوں گا کہ گلی کی نیم تاریکی سے ایک سایہ نمودار ہوا۔ یہ ملک نیاز تھے!۔
انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے تاریکی میں پارک کیے ہوئے ستر ماڈل ویسپے کے پاس لے آئے۔ کک مار کر اسے سٹارٹ کیا اور مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ میں بادل نخواستہ پچھلی سیٹ پر براجمان ہوگیا۔ ملک صاحب ، مہارت سے ویسپا ڈرائیو کرتے ہوئے منڈی کوارٹر کی طرف رواں دواں ہوگئے۔  منڈی کوارٹر کے ایک خستہ حال مکان کے سامنے جا کر انہوں نے ویسپا روکا۔ مجھے اترنے کا اشارہ کیا اور ویسپے کو سٹینڈ پر لگا کر مخصوص انداز میں دروازے پر تین بار دستک دی۔ (پینی۔۔۔پینی۔۔۔ پینی۔۔۔)٭۔ دروازہ ایک درمیانی عمر کی پختہ کار عورت نے کھولا  اور ہماری طرف دیکھ کر خوف صورت انداز میں مسکرائی۔ ملک صاحب میرا ہاتھ پکڑ کر جلدی سے اندر گھس گئے۔ مکان نیم تاریک اور پراسرار سا تھا۔ ملک صاحب نے مجھے بیٹھک میں بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود اندرونی کمرے میں گھس گئے۔ بیٹھک میں دو کرسیاں ، ایک میز جس کا ایک پایہ ٹوٹا ہوا تھا اور اس کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے اینیٹیں بھی نہیں رکھی گئی تھیں، اور ایک جھلنگا سی چارپائی تھی جس پر ایک میلا سا گدّا بچھا ہوا تھا۔ دس منٹ کے بعد ملک صاحب تشریف لائے۔ ان کے چہرے پر "نور" معمول سے کچھ زیادہ تھا۔ انہوں نے چارپائی پر نیم دراز ہوتے ہوئے سگریٹ سلگایاتو چرس کی مسحورکن خوشبو پوری بیٹھک میں پھیل گئی ۔ دو کش لگا کر انہوں نے مجھے واری لگانے کی دعوت دی جو میں نے شکریے کے ساتھ قبول کرلی۔ سگریٹ ختم ہونے کے بعد، ملک صاحب نے کھنگورا مار کر گلا صاف کیا اور یوں مخاطب ہوئے۔
"دیکھ باؤ چوہدری!۔ تو حیران ہورہاہوگا کہ میں تجھے یہاں کیوں لے کر آیاہوں۔  بات یہ ہے جگر ، کہ مجھے تیرے حالات کا پتہ چلا ہے کہ تو کافی قلّت زر کا شکار ہے اور اشرف قصائی ، آئی ایم ایف بن کر تیرا خون چوسنے کا پروگرام بنا رہا ہے اور اپنے بیٹوں کو نیٹو کی طرح تیری طبیعت صاف کرنے پر لگانے والا ہے ۔ باؤ، میں تجھے بہت پسند کرتا ہوں۔ تو ایک حق کا پرچارک اور راست گو لکھنے والا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ سر بازار تیری پھینٹی لگے اور لوگوں کو پتہ چلے کہ تو جواء کھیلتا ہے اور اتنا برا کھیلتا ہے کہ ہمیشہ ہارجاتا ہے"۔ ملک صاحب دم لینے کو ایک لحظہ کے لیے رکے اور مجھے پہلو بدلتے دیکھ کر میسنے انداز میں زیر مونچھ مسکرائے اور دوبارہ سلسلہ کلام جوڑا۔ "ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ رزق کا وعدہ تو رب نے کیا ہے لیکن جوئے، شراب اور عیاشی کا نہیں۔ لہذا یہ سب چیزیں چاہییں تو مجھ سے تعاون کر۔ تجھے جو چاہیے وہ ملے گا"۔ ملک صاحب نے بات ختم کرکے لوفرانہ انداز میں مجھے آنکھ ماری  اور نیا سگریٹ سلگانے لگے۔
میں نے  نروس انداز میں ملک صاحب کی طرف دیکھا۔ عینک اتار کر اس کے شیشوں پر پھونک ماری، قمیص کے دامن سے انہیں صاف کیا اور دوبارہ ناک پر ٹکا کر ملک صاحب سے استفسار کیا۔ "سو وٹ ایگزیکٹلی یو وانٹ می ٹو ڈُو، دین؟"۔ ملک صاحب نےایک طویل  قہقہہ لگایا۔ میز پر پڑے گندے سے جگ سے منہ لگا کر پانی پیا اور مجھے تسلی دیتے ہوئے کہنے لگے، " ڈر مت باؤ، تجھے صرف میرے حق میں خبریں لگانی ہیں۔  جس میں بتایا گیا ہو کہ میں کتنا بڑا سماجی کارکن ہوں اور غریب غرباء کا کتنا درد میرے اس متاثرہ جگر میں ہے۔ تجھے تو پتہ ہے کہ دنیا کتنی حاسد ہے۔ ایک سجن تو سو دشمن ۔ بس تو مجھے ایک دیالو، ان داتا اور لکھ لُٹ امیج دے، میں تیرے قرضے، خرچے، جوئے، سب اٹھالوں گا۔ تو ابھی ملک نیاز کو جانتا نہیں ہے۔ کسی اشرف قصائی جیسے کن ٹُٹّے کی جرات نہیں ہوگی کہ تیری ہوا وَل وی تَک جائے۔ آہو۔"
میں اٹھا، ملک صاحب کے گھٹنوں کو چھوا  ۔ اور الٹے قدموں سے چلتا ہوا کمرے سے باہر نکل آیا۔
میری دنیا بدل چکی تھی۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
٭مقبول عام انگریزی شو "بگ بینگ تھیوری" کے کردار ڈاکٹر شیلڈن کوپر کا حوالہ
Comments
14 Comments

14 تبصرے:

عمران اقبال نے فرمایا ہے۔۔۔

زبردست۔۔۔ اعلیٰ۔۔۔ بہترین۔۔۔ کمال کر دیا استاد۔۔۔ چوہدری صیب کی اتنی صاف ستھری بستی، کہ انہوں نے محسوس تک نا کی۔۔۔ اعلیٰ لکھا ہے ہمیشہ کی طرح۔۔۔

یاسر خوامخواہ جاپانی نے فرمایا ہے۔۔۔

او۔۔۔استاد جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔دل خوش کیتا اے۔۔
لیکن ملک ساب میں شیلڈن جیسے معصومیت کیسے گھسیڑ دی؟۔۔۔کہ پینی ،پینی ،پینی کر دے ۔۔پینی پینی پینی کا حساب کر رے ہیں؟

نان حلیم نے فرمایا ہے۔۔۔

بکاؤ چہروں کی اعلیٰ، عمدہ، نفیس، جامع اور مکمل بے پردگی۔۔۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

خرم ابن شبیر نے فرمایا ہے۔۔۔

ہمممم کیا بات ہے بہت خوب ایسی عزت تو کم کم ہی سمجھ آئے گی یار لوگوں کو

Rashid Idrees Rana نے فرمایا ہے۔۔۔

جعفر بھائی، ہاتھ چومنے کا دل کر رہا ہے، کیا اعلٰی لکھا ہے،،،،،،، دھویا بھی خوب اور سوکھنے بھی نہیں دیا!!!!!!!

بہت زبردست، میری کم عقلی دیکھیں کے ٹائٹل سے بھی نا سمجھا کہ کیا ہے، میں یہ سمجھ کر پڑھ رہا تھا کہ کوئی واقعہ کسی کی زبانی بیان ہو رہا ہے۔ آخر میں سے پھر دوبارہ اوپر ٹائٹل دیکھا تو بے اختیار ہنسی چھوٹ گئی۔

اب میں کاپی پیسٹ کرنے کی اجازت مانگوں گا تو اگلے پوسٹ میں میری دھلائی ہوگی اس لیئے رہنے دیں۔

شکریہ!!!!!!!!

اللہ حق گوئی کی ہمت دے اور اپنی حفاظت میں رکھے۔

آمین ثم آمین

Faisal نے فرمایا ہے۔۔۔

بھائی لنک یہ رھا

http://www.javed-chaudhry.com/wp-content/uploads/2012/06/Sahabzadee.gif

عدنان مسعود نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت خوب محترم، کمال کی تحریر ہے۔ پینی سے لیکر زہریہ اور نیٹو سے
سو وٹ ایگزیکٹلی یو وانٹ می ٹو ڈُو، دین؟ نے بار بار پڑھنے پر مجبور کیا۔

آپ کی تشبیہات، استعارات اور قلم کی چابکدستی کے تو ہم قتیل ٹہرے، اب کے تو تنوع موضوع بھی خوب تھا۔

اخلاق نے فرمایا ہے۔۔۔

واه صوفى جى واه!اعلىٰ و ارفع هے اورعمده بهـى،بس ذرا سى عجلت ميں لكهـا گيا هے شايد -

ڈفر نے فرمایا ہے۔۔۔

چوہدری تو سوٹے پہ سوٹا لگا را ہو گا اور کراہ را ہو گا
دیکھا جو تیر کھا کے کمینوں کی گاہ کی طرف ۔ ۔ ۔ :D

Farhan نے فرمایا ہے۔۔۔

مزا آگیا صاحب، خاص طور پر 'بگ بینگ تھیوری' کا ٹچ۔۔۔
بہت عمدہ
بلکہ
ROFL :D

Abdul Qadoos نے فرمایا ہے۔۔۔

چھاگیا باو

عادل بھیا نے فرمایا ہے۔۔۔

:) آپکے درد کو سمجھ سکتا ہوں۔ مُجھے بھی حد سے ذیادہ افسوس ہوا۔ ہر آئے دِن تاریخ کا سب سے بڑا ڈرامہ ہو رہا ہوتا ہے۔
ہمیشہ کی طرح اچھا لکھا ماشاءاللہ۔ دِل چاہتا ہے چودھری کو جعفر کی تحریریں پڑھاؤں :)

عمیر ملک نے فرمایا ہے۔۔۔

میں نے آج پڑھا یہ، اور مجھے یقین ہو گیا ہے کہ آپ ہی کالم لکھ لکھ کے دیتے ہیں اس کو۔ افواہ تو بہت پہلے سن لی تھی۔
آپ کو تھوڑے "بوسٹ" کی ضرورت ہے، ان سب سے زیادہ "کمائیں" گے۔۔۔:)))

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

عمران اقبال: چوہدری صاحب اگر دیکھ لیں تو آئی ایم شیور کہ ضرور محسوس کریں گے۔ :ڈ
یاسر شاہ: ناں ناں شاہ جی، چوہدری صاحب بھی اپنے شیلڈن کی طرح مسوم ہی ہیں۔ اپنے علاوہ انہیں بھی کچھ نظر نہیں آتا
نان حلیم: شکریہ جناب۔
خرم ابن شبیر: کونسے یاروں کی بات کررا کاکے؟
راشد ادریس رانا: نہ یار، ہاتھ نہ چومیں، لائف بوائے کی مہک آتی ہے ان سے :ڈ۔ پسند کرنے کا بہت شکریہ۔
عدنان مسعود: حضور، آپ کی سند تو ہمارے لیے پی ایچ ڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ :ڈ
اخلاق: بلاگ پر جی آیاں نوں۔ ذرا نہیں، بہت جلدی میں لکھا گیا ہے۔ میں جو کام سہولت اور آرام سے کرتا ہوں ،لکھنا ان میں سے نہیں ہے۔
ڈفر: تو خود کمینہ ہوگا :ڈ
فرحان: جی آیاں نوں بھائیا جی۔ پسندیدگی کا بہت شکریہ۔ آتے جاتے رہا کریں۔
بٹ: کتھے چھا گیا؟
عادل بھیا: تیری پہنچ ہے اس تک تو پڑھادے یار۔ شاید نوکری ہی مل جائے گھوسٹ رائٹر کی :ڈ

تبصرہ کیجیے