ڈی ایمی پُونڈ


آپ ٹوئٹر کو دیکھ لیں۔ دنیا میں پُونڈی کرنا ایک بنیادی انسانی حق ہے لیکن ہمارے بیک ورڈ  اور کنزرویٹو ماحول میں اس کو نہایت معیوب سمجھا جاتا ہے الاّ یہ کہ آپ خود کررہے ہوں۔لوگ آپ کو ٹھرکی کہتے ہیں۔ عیّاش اور پلے بوائے سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ نہایت افسوسناک صورتحال ہے۔ انسانی حقوق کی وائلیشن ہے۔ لیکن یہ چیز بھی گوروں نے سارٹ آوٹ کرلی ہے۔
اب، آپ ٹوئٹر کو دیکھ لیں۔ گوروں نے کیا کمال کی انوینشن کی ہے۔ آپ جتنے بھی عظیم پُونڈ ہوں۔ آپ شدید ٹھرکی ہوں۔ آپ کی آنکھیں گھور گھور کے گھُورا بن چکی ہوں، آپ کا چہرہ بگیاڑ جیسا ہوچکا ہو۔ آپ کے زائد بال بھی سفید ہونے شروع ہوگئے ہوں، ان سب کے  باوجود بھی آپ یہاں ود آوٹ اینی فِئیر پُونڈی کرسکتے ہیں۔ اپنے ہمسائے کے کالج جاتے بچے کی تصویر کھینچ کے ڈی پی لگا سکتے ہیں۔ خود کو چھیانوے کی پیدائش ظاہر کرکے بچیوں اور آنٹیوں کے دلوں میں بیک وقت آتش شوق بھڑکا سکتے ہیں۔ ماش کی دال کھا کے بھی کے ایف سی کے ڈکار مار سکتے ہیں۔ ڈرائیور ہوٹل کی دودھ پتّی پی کے گلوریا جین کی کافی کی شو مار سکتے ہیں۔ لنڈے کے کوٹ کو ارمانی کا بتا سکتے ہیں۔ چائنا کے آئی فون کو سٹیو جابز پر ڈال سکتے ہیں۔ بیس روپے کی عینک کو رے بان کہہ سکتے ہیں۔ کے ٹو فلٹرکو مارلبرو کی ڈبّی میں ڈال کر ڈی پی والی فوٹو میں واضح کرسکتے ہیں۔ ملوک کھا کے سٹرابیری ود کریم کھانے کی ٹویٹ کرسکتے ہیں۔ ابلی ہوئی چھلّی کھا کے چکن تکّے  کی فوٹو ٹکا سکتے ہیں ۔  کامونکی جانے پر ہوائی جانے کی ہوائی اڑا سکتے ہیں۔ کسی ماما کے برگر یا پاپا  کی جلفریزی  کی جرات نہیں ہوسکتی کہ آپ کو چیلنج کرسکے۔
اس کے علاوہ آپ چاہے ساتویں جماعت سے بھاگے ہوئے ہوں، اپنے نام کے ہجّے سوچنے میں آپ کو سات منٹ لگ جاتے ہوں، اردو کو  اُڑدو کہتے ہوں۔ شیشی بھری گلاب کی پتھر پہ توڑ دوں ۔۔ کو شاعری کی معراج سمجھتے ہوں پھر بھی آپ ایک سخن فہم ، ادب نواز ،  شاعری کا مثالی ذوق رکھنے والے نفیس انسان کے طور پر بچیوں اور بچیوں کی اماوں کو متاثر کرسکتے ہیں۔ بابا گوگل سائیں سرکار پر سرچ ماریں اور شاعری کی تین چار سائٹیں بک مارک کرکے رکھ لیں۔  اب ایک مشکل اور پیش آسکتی ہے کہ آپ کو اردو میں ٹائپ کرنا نہیں آتا،  تو ایسی سائٹیں سرچیں جن پر یونی کوڈ میں شاعری موجود ہو۔ بس اس کے آگے منزل آسان ہے۔ روزانہ کسی نہ کسی شاعر کو سدّھا کرلیں اور دے مار ساڈے چار۔ کاپی پیسٹ کرکے دھڑا دھڑ  شعر ٹویٹنے شروع کردیں۔  آپ دیکھیں گے کہ آپ کا پیچھا کرنے والوں میں زنانہ آئی ڈیوں کی کثرت ہوجائے گی۔ کوشش کریں کہ شعر انتہائی دردیلے ہوں اور چیزی ہوں۔  آپ خوش ہوجائیں گے۔ آپ کے من کی مراد پوری ہوجائے گی۔ بچیاں آپ کو دھڑا دھڑ فیورٹ اور ری ٹویٹ کرنے لگیں گی۔ آپ کی چوّلوں پر بھی ہی ہی ہی کرنے لگیں گی۔ زیادہ تھُڑی ہوئی آنٹیاں آپ کو ڈی ایم نامی ویپن آف ماس پوُنڈی کے ذریعے بھی لُبھانے لگیں گی۔آپ کی زندگی میں رنگ بھر جائیں گے ۔ آپ خود کو  شاہ رخ خان اور جانی لیور کا مرکب سمجھنے لگیں گے۔ آپ کا سیلف کانفیڈنس آسمان کو چھونے لگے لگا۔ یہ سب آسانیاں اور سہولتیں  ہیومن ریس کو کس نے دیں؟ گوروں نے۔ ورنہ  یہ آسانیاں اور موجیں اس پسماندہ سوچ والے قدیم ملک میں کون پرووائڈ کرسکتا ہے؟
آپ خود کو دانشور بھی کہلوانا چاہتے ہوں اور ساتھ ہی ساتھ پُونڈی کے مزے بھی لینا چاہتے ہوں تو یہ کام بھی کوئی اتنا ڈفیکلٹ نہیں ہے ۔ سیدھی سادی باتو ں کو مشکل الفاظ میں بیانیں اور ٹویٹ دیں۔ لوگ آپ پر ٹوٹے پڑیں گے۔ آپ کو شوپنہار، کنفیوشس، سارتر، برٹرینڈ رسل  کے پائے یا سری کا فلسفی اور دانشور سمجھنے لگیں گے۔  اس ریپوٹیشن کے ساتھ آپ سرعام پُونڈی کرتے نہایت چیپ اور غلیظ لگیں گے۔ لہذا آپ کو چاہیے کہ آپ ڈی ایم کا سہار ا لیں۔ جس خاتونہ کی ڈی پی پر آپ کا دل آئے اس کو بے دھڑک ڈی ایم میں جو دل چاہے میسج بھیجیں۔ یہاں کسی کا بھائی، بیٹا، ابا، شوہر یا عاشق آپ کی پھینٹی نہیں لگا سکتا ۔
 یہی ٹوئٹر کی خوبصورتی ہے۔ 
Comments
19 Comments

19 تبصرے:

فضل دین نے فرمایا ہے۔۔۔

ہاہاہا۔۔۔ بجا فرمایا جناب۔

عمیر ملک نے فرمایا ہے۔۔۔

نہیت ای آلا۔۔۔ کیسی روانی پائی ہے آپ نے پچیدہ مسیل کے حل بلاگنے میں۔
میں تو ان تشبیہات و استعارات میں کھو سا گیا تھا۔ کاش آپ ہمارے اڑدو بے کے استاد ہوتے!۔
اور اتنا اعلیٰ شعر ادھورا کیوں چھوڑا۔ دوسرا مصرع عنیت کریں۔

باکستانی مافیا نے فرمایا ہے۔۔۔

استاد جی۔۔۔ پتا نہیں کیوں یہ تحریر پر اپنے مولبی صیب یاد آ گئے۔۔۔ :ڈ

دوسرا، سیلف کانفیڈنس والی بات تو بڑی مثبت ہے۔۔۔ اتنا تو ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔۔۔ چاہے کسی بھی طرح مل جائے۔۔۔

DuFFeR - ڈفر نے فرمایا ہے۔۔۔

لول زززززززززززز
آنٹی کی فیس بکی پوسٹ کے بعد ٹویٹر کا ادھار باقی تھا
سوشل میڈئے اور میڈیائیوں کی اس سے زیادہ کلاسیک اور سدا بہار تعریف نی ھو سکتی
اور ہمیں تو پہلے ہی پتہ تھا تو اور آنٹی ایک ہیں :ڈ

DuFFeR - ڈفر نے فرمایا ہے۔۔۔

اور اگر آنٹیاں ڈی ایم ٹویٹ کر دیں تو؟

خاور کھوکھر نے فرمایا ہے۔۔۔

تویٹر اتنا کار امد بھی ہوسکتا ہے مجھے تو علم ہی نہیں تھا
کاش یہ چیز ہماری جوانی میں ہوتی

Mohsinshah نے فرمایا ہے۔۔۔

گویا آپ میرے کل حالات سے واقفیت رکھتے:ڈ

Zeeshan Ahmad نے فرمایا ہے۔۔۔

هاهاهاهاهاهاهاها. اآج سے آپ کے مشوروں پر عمل شروع پر

علی نے فرمایا ہے۔۔۔

میں تو اویں ہی ٹوئیٹر چھوڑ گیا تھا آج سے دعبارہ چالو :)

Anonymous نے فرمایا ہے۔۔۔

. پورا پوسٹ ہی لشکر تھا. پر دے مار ساڑھے چار والا جملے نے حد کردی

Rai Azlan نے فرمایا ہے۔۔۔

ماما کا برگر بابا کی جلفریزی واہ مرشد محفل لوٹ لی لیکن اگر کسی کو ان تمام "نصخوں" پر عمل کرنے سے کوئی افاقہ نہ ہوا ہو تو اس کے لئے آپ ہا چوری صیب کیا فرماتے ہیں۔
ویسے جتنا کو مجھے وٹ ان چوری صیب پر ہے وہ یہ تحریر پڑھ کے کچھ کم ہو گیا ہے۔

یا سر خوامخواہ جاپانی نے فرمایا ہے۔۔۔

فیس بک پر تو کسی بچی نے فالو نی کیا۔
ٹوئیٹر پر اڑدو لکھنے سے بچی فالو کر ے گی؟
کوئی گارنٹی؟
اور بچی کے بھائی ابا شوہر کا گھونسہ
سکرین کے اس پار نا آنے کی کوئی گارنٹی؟
گوروں کا کیا پتہ جی گھونسا مارنے تک کی ایجادی کرکے سب پونڈیوں کی بجوا دیں۔؛ڈڈ

افتخار اجمل بھوپال نے فرمایا ہے۔۔۔

مجھے صرف اتنا معلوم ہے کہ ٹویٹر ایک پرندہ ہوتا ہے جو میں نے بچوں کیلئے بنائے گئے کارٹون میں دیکھا تھا ۔
آپ سنا ہے استاد ہیں ۔ مجھے بھی کوئی تعلیم شیم دے ڈالئے ۔ چند مہربان تقاضہ کرتے ہیں کہ میں اپنے بلاگ میں ایسی آپشن ڈالوں کہ وہ فیس بک سے تبصرہ کر سکیں ۔ میرا خیال ہے کہ وہ جو کہہ رہے ہیں وہ آپ نے کیا ہوا ہے ۔ اس کا طریقہ مجھے بذریعہ ای میل بھیج دیجئے ۔ مشکور ہوں گا

Anonymous نے فرمایا ہے۔۔۔

kya aap bhi DM poond hain ?

افتخار راجہ نے فرمایا ہے۔۔۔

احتیاط ہی رکھیں جی، ماشٹر جی کی باتوں پر نہ ہی جائیں تو چلیں، کوئی علم نہیں یہ فیس بک اور ٹیوٹر والے بابے کی جملہ معلومات بعوض پچیس ڈالر اغلی کے بھائی باپ کو سینڈ دے تو پھر، کیا علم

Anonymous نے فرمایا ہے۔۔۔

آپ کی علمی قابلیت پر ناقدانہ نظر ڈالنے کے باوجود نتیجہ یہی نکلا مجموعی طور پر آپ واقعی استاد ہیں تمام پہلوؤں سے کوئی جھول نظر نہیں آئی یہ اور بات ہے غلطیوں سے ماورا نہیں آپ اور آپ کے ہم عصر اور بھی ہیں :)

خیر دوسرے پیرائے کی تمام باتیں انفرادیت اور اقلیت تو ہو سکتی ہیں مگر حقیقت یہی ہے کہ امرا و طبقہ اشرفیہ وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں ٹویٹر پر-
اور اک بات بتانا بھول گئے کہ " غیر جانبدار اور آزاد خیال نوجوان ادھیڑ عمر بزرگ حضرات " بھی پونڈی کرتے ہیں ؟ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ؟ خواہش رکھتے ہیں ؟ کس طرح کرتے ہیں ؟

جواب کو فرض سمجھ لیں یا قرض کبھی نا کبھی ادا کرنا یا دینا پڑے گا : P

Abdul Mannan نے فرمایا ہے۔۔۔

آپ کو میرے بارے میں کیسے پتہ چلا:ڈ تقریبا آدھی باتیں ہم پر لکھی لگتی ہیں ویسے پونڈی سے ہم دور ہیں

mina نے فرمایا ہے۔۔۔

Nice 1 n true

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

مینا: شکریہ۔
:)

تبصرہ کیجیے