مانے بھائی


رولر کوسٹر تو آپ نے دیکھی ہوگی اور کچھ احباب نے تو اس پرسواری بھی کی ہوگی، مدعا یہ کہ زندگی بھی کم یا زیادہ رولر کوسٹر ہی ہے۔ گاہے، اونچ نیچ اتنی زیادہ اور اتنے کم عرصے میں آجاتی ہے کہ ہوش گم اور حواس ٹھکانے پر نہیں رہتے۔ اتنی طولانی تمہید ہم نے اس لیے باندھی کہ ہماری رولر کوسٹر بھی گزشتہ کچھ عرصہ سے زیادہ ہی رول کررہی ہے۔ ۔۔نے ہاتھ باگ پرہے نہ پا ہے رکاب میں۔۔۔ 
ہم نے تو یہ جانا کہ جانیز کی ضرورت کبھی ہموار سفر میں نہیں پڑتی، اس وقت تو ہوا کا گھوڑا ہوتا ہے اور ہم ہوتے ہیں اور بگٹٹ بھاگتے چلے جاتے ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ زندگی تو ہماری باندی ہے اور ہماری خدمت کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ پر جب یہ مہربان اور خدمت گزار باندی، تلخ اور سخت گیر آقا کی صورت اختیار کرتی ہے تو وہ وقت ہوتا ہے جب آپ کو "جانیز" کی ضرورت پڑتی ہے۔
ہر وقت کے رنڈی رونے اور انسانی فطرت کو ایک طرف کرکے دیکھیں تو ہماری خوش بختی ہے کہ ہمیں ہمیشہ ایسے یار جانی میسر آتے رہے جو اس وقت کی تلخی اور ترشی کو کم کرنے میں معاون رہے۔  انہی دنوں میں  ہمارا ٹاکرا ایک ایسے بندے سے ہوا کہ رب جانتا ہے کہ ہم انہیں  جو سمجھتے تھے وہ اس کے بالکل برعکس نکلے۔  اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ  خود کو زیادہ پاٹے خاں اور سقراط وغیرہ سمجھنے والے ہمارے جیسے ۔۔۔ ہی ہوتے ہیں۔
ان سے پہلی ہی ملاقات کے بعد ہماری ایک مشترکہ دوست سے بات ہوئی تو میں نے ان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ  یار، یہ بندہ تو بے وقوفانہ حد تک مخلص ہے۔  اور یقین جانیے کہ اخلاص جیسی صفت آج کل تو کیا ہمیشہ سے ہی نایاب رہی ہے۔ سادگی اور بھولپن اس پر مستزاد ۔ چہرے پر ایسی چمک کہ  سوائے صاف دل بندے کے کہیں نظر نہ آئے۔ ہمارے ابّا کہا کرتے ہیں کہ پُتّر ، بندے کا دل صاف ہو تو چہرے سے پتہ چلتا ہے۔ ہم ہمیشہ ان کی یہ بات سن کر حُجّت  کرتے  کہ مجھے تو آج تک کوئی ایسا بندہ نہیں ملا۔ تو ابّا ہنس کے کہتے کہ پہلےاپنا دل صاف کر۔ پھر نظر آئیں گے۔  اس سے یہ نتیجہ نہ اخذ کیا جائے کہ ہمارا دل صاف ہوگیا ہے،  شک ہے کہ شاید اس کام کی ابتداء ہوئی ہے  ، رب مہربان رہا تو تکمیل تک بھی پہنچ جائے گا۔
کسی کی تعریف کرنا ہمارے لیے کتنا مشکل ہے اس کا اندازہ تو اب تک آ پکو بخوبی ہوگیا ہوگا کہ "مُڑ کِڑ" کے ہم اپنی ہی بات کرنے لگتے ہیں۔  اتنے مختصر عرصے میں ہی ہمیں ایسے لگتا کہ شاید یہ یار ی بہت قدیم  ہے۔ یا شاید یہ بندے کی صفت پر منحصر ہوتا ہے۔ ہم نے ایک طویل مدت ایسے بھائی جان کے ساتھ بھی گزاری ہے کہ جو ہر جگہ ہمیں اپنا جگری بتاتے پھرتے ہیں لیکن ہمیں آج بھی وہ ۔۔۔لگتے ہیں۔  بہرحال آپ صاحبان کو یہ جاننے کی خواہش تو ضرور ہوگی کہ یہ کس ہستی کا ذکر کیا جارہا ہے تو یہ ہمارے مانے بھائی ہیں۔ مخلص، محبتی اور یاروں کے یار۔
انہی دنوں ، ایک اور جانی بھی ہم سے ملے ہیں۔ ان کا ذکر پھر کبھی۔۔۔۔۔