سٹین لیس سٹیل وُضو

آپ کو یہ ماننا پڑے گا کہ  عبدالمنّان پیدائشی صُوفی بزرگ ہیں۔ یہ پیدا ہوئے تو دائی نے انہیں نہلایا۔ یہ ان کا پہلا وُضو تھا۔  یہ آج تک اس وُضو کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ یہ ایک چلتا پھرتا معجزہ ہیں۔ یہ سب کچھ کھاتے ہیں۔ ان کا ناشتہ دیکھ کے پہلوان سکتے میں رہ جاتے ہیں۔  یہ سات روغنی نان ، نہاری کی چار پلیٹیں ، دیسی گھی کے تین پراٹھے، پندرہ انڈوں کا آملیٹ ، پانچ مگ دودھ پتّی اور ادّھ رڑکے کے تین جگ  ناشتے میں ڈکار جاتے ہیں۔ ان کا لنچ گوالمنڈی کے بٹ صاحبان کو غش کھانے پر مجبور کرسکتا ہے۔ ان کی ایوننگ ٹِی ، ویری ہائی ٹِی ہوتی ہے۔ ان کا ڈنر کانٹی نینٹل ہوتا ہے۔ یہ رات کو سونے سے پہلے کھجوروں والے دودھ کے جگ میں آدھ کلو دیسی گھی ملا کے نوش کرتے ہیں۔ عبدالمنّان  کی شادی بھی ہوچکی ہے۔ یہ چار بچوں کے باپ بھی ہیں۔ یہ سب کچھ کر کے بھی ان کا وُضو نہیں ٹوٹتا۔  یہ کیسے ہوتا ہے؟ میڈیکل سائنس اس پر حیران ہے۔    یہ سب ایمان کا کرشمہ ہے۔ عقل اس کو کبھی انڈرسٹینڈ نہیں کرسکتی۔
یہ حاجی ثناءاللہ کے لنگوٹیے ہیں۔  یہ جب بھی پریشان ہوتے ہیں انکو کوئی مسئلہ تنگ کرنے لگتا ہے ان کی زندگی سے فَن ختم ہونے لگتاہے، یہ حاجی صاحب کے پاس چلے جاتے ہیں۔ یہ ان کی دکان پر دو گھنٹے گزارتے ہیں۔ ان کی بیٹری چارج ہوجاتی ہے۔ یہ دوبارہ فریش ہوجاتے ہیں۔ ان کا انرجی لیول میکسیمم ہوجاتا ہے۔  حاجی ثناءاللہ سے انہوں نے زندگی میں بہت کچھ سیکھا۔ یہ پہلے سچ نہیں بولتے تھے۔ یہ لوگوں کو گیڑے کراتے تھے۔ یہ بچوں کی کلفیاں چھین کے کھا جاتے تھے۔  یہ خواتین کو ایسے دیکھتے تھے جیسے خواتین ،لان کے نئے پرنٹ دیکھتی ہیں۔  حاجی صاحب یہ سب نوٹس کرتے رہے۔ یہ خاموشی سے عبدالمنّان کی حرکتیں دیکھتے رہے۔  ایک دن انہوں نے عبدالمنّان کو دکان پر بلایا۔ ان کو چکن شاشلک اور پھجّے کے پائے کھلائے۔ ان کو گولڈفلیک کے پکے سگریٹ پلائے۔ شیزان کی بوتل میں مرنڈا  اور ماؤنٹین ڈیو ڈال  کے پلائی۔ کسٹرڈ اور آئسکریم  مکس کر کے کھلائی۔ یہ جب فُل ہوگئے۔ ان کے ڈکار ہَمک مارنے لگے توحاجی صاحب نے انہیں سمجھانا شروع کیا۔ حاجی صاحب نے انہیں اپنی روٹین کی ڈیٹیلز بتائیں۔  یہ انہیں کہنے لگے۔ ہمیشہ سچ بولیں۔ کبھی کسی کو دھوکہ نہ دیں۔ کسی کا حق نہ ماریں۔ یہ بالکل سمپل ہے۔آپ  جو بھی بولیں اس کو  سچ سمجھیں۔ آپ جو بھی کریں اس کو درست سمجھیں۔ یہ دنیا ایک عارضی جگہ ہے۔ اس کے لوگ دھوکہ باز ہیں۔ اس سے پہلے کہ کوئی آپ کو دھوکہ دے۔ آپ اس کو دھوکہ دے دیں۔ یہ بالکل جائز ہے۔
اس دن کے بعد عبدالمنّان کی لائف چینج ہوگئی۔ ان کا وُضو جو پیدائشی ان بریک ایبل تھا، راک سالڈ ہوگیا۔ یہ بزنس میں دن دگنی رات ملک ریاضوی ترقی کرنے لگے۔ یہ اب بچوں سے کُلفیاں چھیننے کی بجائے ان میں کلفیاں بانٹنے لگے۔  یہ خواتین کو گھورنے کی بجائے ان سے نکاح کرنے لگے۔ یہ اپنی کمائی سے اللہ کی راہ میں دل کھول کر خرچ کرنے لگے۔ یہ بیواؤں  اور بے روزگاروں میں سمارٹ فون بانٹنے لگے۔ یہ فیس بک پر بھی چلے گئے۔ انہوں نے وہاں "سٹین لیس سٹیل وُضو  عرف شیطان شئیر کرنےسے روکے گا" نامی پیج بھی بنایا۔ یہ ہر لائک پر دو سو روپے نقد دینے لگے۔
ہر کامیاب انسان کی طرح ان کے بھی حاسد پیدا ہوگئے۔ یہ ان پر الزام لگانے لگے۔ یہ کہنے لگے کہ عبدالمنّان ایک فراڈئیے ہیں۔ یہ لوگوں کو  ٹوپی کراتے ہیں۔ یہ شعبدے باز ہیں۔ ان کا وُضو نہ ٹوٹنا ایک جھوٹ ہے۔  عبدالمنّان کو ان کی کوئی پرواہ نہیں تھی لیکن حاجی صاحب نے ان کوسمجھایا۔  جب لوگ آپ کے بارے سچ بولیں تو آپ ان کے بارے جھوٹ بولیں۔ یہ آپ کا سچ ہوگا۔ کسی کو اپنے بارے سچ پھیلانے کی اجازت نہ دیں۔ ان کے ساتھ آہنی عزم کے ساتھ نمٹیں۔ عبدالمنّان نے یہ بات گرہ سے باندھ لی اور فورا مجھے فون کیا۔ یہ اخبار کے سنڈے میگزین میں اپنا فیچر چھپوانا چاہتے تھے۔ میں نے حامی بھرلی۔
اس کے بعد جو ہوا وہ آپ کے سامنے ہے۔ کیا کسی ان بریک ایبل وُضو والے پیدائشی صوفی بزرگ کا فیچر چھاپنا اتنا بڑا گناہ  ہے کہ لوگ مجھے گالیاں دیں؟ میرا کیا قصور ہے؟ میں اس وقت سے صحافی ہوں جب اخبار  چھپتا نہیں تھا بلکہ صحافی گھر گھر جا کے لوگوں کو زبانی خبریں سناتے تھے ۔  میں دسویں جماعت میں تھا جب چاٹ کی اُنیس پلیٹیں کھاکے دس روپے والی شرط جیتی۔ ایف اے  کے امتحان میں میری جوابی شیٹس کا اتنا وزن تھا کہ اس کے بدلے ردّی والے نے پندرہ کلو مرونڈا اور لاہوری پُوڑا دیا تھا۔  بی اے کی ڈگری مجھے امتحان میں شرکت کئے بغیر ہی دے دی گئی کیونکہ بورڈ والوں کے پاس  اتنے فنڈز نہیں تھے کہ میری جوابی شیٹس کا خرچہ برداشت کرسکیں۔ میں ہیومن ہسٹری میں وہ واحد شخص ہوں جس نے گریجویشن کے امتحان میں شرکت کئے بغیر ٹاپ کیا۔ اس زمانے میں ٹاپ پوزیشن والوں کو لیپ ٹاپ کی بجائے لُڈّو ملتی تھی۔وہ  لُڈّو آج بھی محفوظ ہے۔ میرے بچوں نے اسی پر لُڈّو کھیلنا سیکھا۔  میں نے جب صحافت شروع کی تو ایڈیٹر کی سائیکل صاف کرنے سے لے کر ان کی گھر کا سودا سلف لانے تک ہر کام کیا۔ سودے سلف کے پیسوں میں سے بچت کرکرکے میں نے ایک کریانے کی دکان کھول لی۔ آپ میرے وژن کو داد دیں۔ میرے ہارڈ ورک کو اپریشئیٹ کریں۔ میں ان پیسوں سے گرماگرم سائیڈ پروگرام والی انگلش فلم بھی دیکھ سکتا تھا۔ میں  اس  سے گولڈ لیف کے سگریٹ بھی پی سکتا تھا۔ میں راجہ جانی والا پان بھی کھا سکتا تھا۔ میں نے یہ سب نہیں کیا۔ میں نے فیوچر کو ذہن میں رکھا۔ میں نے پلاننگ کی۔  وہ کریانے کی دکان آج ایک بڑے جنرل سٹور میں بدل چکی ہے۔ لیور برادرز والے مجھے سپیشل کراچی بلا کے لکس صابن اور ڈالڈا کوکنگ آئل فری میں دیتے ہیں۔ یہ مجھے ایکسی لینس سرٹیفکیٹ بھی دیتے ہیں جس میں گولڈن فونٹ سے میرا نام بڑا کرکے لکھا ہوتا ہے۔ چوہدری جنرل سٹور آج لالے موسے کا سب سے بڑا اور قابل اعتماد نام ہے۔ میں نے ساری زندگی صحافت کے نام کر دی ہے۔۔ کیا یہ میرا قصور ہے؟ مجھے کیوں ماں بہن کی گالیاں دی جاتی ہیں؟ میں نے کیا کِیا ہے؟
Comments
11 Comments

11 تبصرے:

آم اچار نے فرمایا ہے۔۔۔

اس تحریر نے چوہدری صاحب کی سوانح کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ عبدالمنان سے لالےموسے تک ایک ایک جملہ زور دار قہقہے کا موجب
اللہ کرے زورِ فن اور زیادہ

Umar Kashif نے فرمایا ہے۔۔۔

ہاہاہاہا
استادجی بس کر جاو اینا ہنسیاں واں کہ ہُن اکھاں چوں پانی نکل آیا اے،
تے بُرا ای حال ہو گیا جے ۔
سواد آ گیا پڑھ کے اعلی طنز لِخیا جے جنابو ہسدے وسدے رہوو

zia shahzad نے فرمایا ہے۔۔۔

جعفر صاحب طنز و مزاح کی دنیا کے بے تاج بادشاہ ہیں. اتنا راک سالڈ مزاح لکھنا انہی کے قلم کا کمال ہے.

Raja Iftikhar Khan نے فرمایا ہے۔۔۔

یہ کردار ہمارے ہاں عام پایا جاتا ہے، آپ نے ایک معاشرتی المیہ کو طنزیہ انداز میں بیان کردیا۔

Abduallah Ali نے فرمایا ہے۔۔۔

چوہدری جنرل سٹور ھاھاھاھاھاھاھاھاھا

منیر عباسی نے فرمایا ہے۔۔۔

استاجی
بہت عرصے بعد آپ کی کسی تحریر پر تبصرہ کرنے کی بے ادبی کر رہا ہوں۔

جوید چوہدری سیریز کی یہ اب تک کی سب سے بہتری تحریر لگی مجھے، یہاں تک کہ اس نے زہریہ ٹاون والی تحریر کو پیچھے ہٹا دیا۔ بہت خوب لکھا آپ نے ۔

ان بریکیبل وضو کی میتھ کو اسی طرح کی تحاریر سے توڑا جا سکتا ہے، کیونکہ ڈریکٹ کنفرنٹیشن والا میرا طریقہ جو ہے، وہ اکثر مخاطب کو اپنے موقف پر زیادہ مضبوطی سے جمے رہنے کی ترغیب دیتا ہے۔

میرا خیال ہے ان بریکیبل وضو کی میتھ کا کسی نہ کسی طریقے سے سُپر ہیرو کے تصور سے کوئی تعلق ہے۔
ہمارا معاشرہ ہمہ وقت سُپر ہیروز کی تلاش میں رہتا ہے۔ یہ سُپر ہیروز انھیں اپنے مسائل سے نکالنے، دوسروں کے لئے مسائل بنانے اور کسی مسئلے کی صورت میں قربانی کا بکرا بننے کے لئے چاہئے ہوتے ہیں۔

ہر ایک یا تو خود سُپر ہیرو بننا چاہتا ہے ، یا کسی سُپر ہیرو کا آسرا لینا چاہتا ہے اور اس طرح سُپر ہیومن کی تلاش میں ہم اپنے اندر کے اور آس پاس کے ہیومنز کو بھول گئے ہیں۔

شائد اسی لئے مرحوم اشفاق احمد صاحب نے بابوں کو تلاشنے والوں سے مخاطب ہو کر بہت کچھ کہا ہے۔

Jawad Maqsood نے فرمایا ہے۔۔۔

تُتا تمینہ۔

Sufyan Ahmad Sufi نے فرمایا ہے۔۔۔

هاهاهاهاهاهاه آوٹ سٹینڈنگ بلاگ....میں دن میں ایک بار استاد جی کا کوئی نہ کوئی ایک بلاگ ضرور پڑهتا ہوں کئی بلاگ تو اتنی بار پڑهے ہیں کہ بس ...پهر بهی ہر بار پرانا بلاگ پڑهنے پر بهی اک نیا لطف آتا ہے

AQIB نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت خوب استادم۔

Asim Ikram نے فرمایا ہے۔۔۔

کمال کردیا صاحب، خدا جانے کہاں بیٹھ کر سوچتے ہیں آپ، ایسے بے ساختہ استعارے اور ایسی دامن گیر اصطلاحات کہ کیا کہنے، چوہدری صاحب کی جو کامیابیاں آپ نے بیان کی ہیں اس کے سامنے ان کی اپنی بیان کردہ کامیابیاں نہایت بودی معلوم ہوتی ہیں، کاش اپنا کالم لکھنے سے پہلے انہوں نے آپ سے مشاورت کی ہوتی۔ مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ اردو بلاگ نگاری کا تذکرہ آپ کی تحریروں کے بغیر بالکل ادھورا ہے

wisal ahmad نے فرمایا ہے۔۔۔

بہترین لکھا ھے . میں نہ تو لکھاری ھو اور بلاگر
لیکن ایک اچھے تحریر کی تعریف نہ کرنا خیانت اور بخل ہی ھے ..
ڈھیروں داد

تبصرہ کیجیے