یہ جو دھرنا ہے۔۔ چاہت ہے ہماری

دھرنے کی طبیعت میں
یہ کیسا  لَوٹنا سیاست نے رکھا ہے
کہ یہ جتنا پرانا، جتنا بھی معتوب ہوجائے
اسے تائید تازہ کی ضرورت پھر بھی رہتی ہے
سڑک کی آخری حد تک سروں سے لہلہاتا ہو
نگاہوں سے ٹپکتا ہو، لہو میں جگمگاتا ہو
ہزاروں طرح سے دلکش، حسیں جوڑے بناتا ہو
اسے چند نوجوانوں کی تو حاجت پھر بھی رہتی ہے!
یہ دھرنا مانگتا ہے یوں گواہی اپنے ہونے کی
کہ جیسے رہنما سادہ، شام کو درزی بٹھائے
اور شب میں بارہا اٹھے
کھڑکی کھول کر دیکھے
شیروانی اب کہاں تک ہے!
دھرنے کی طبیعت میں عجب تکرار کی خُو ہے
یہ ڈی جے کے گانوں کو سننے سے نہیں تھکتا
الیکشن کی گھڑی ہو یا ووٹ گنتی کی ساعت ہو
اسے بس ایک ہی دُھن ہے
"کہو میں دھرنوی ہی تھا!"
"کہو میں دھرنوی ہی ہوں!"
"تم بھی دھرنوی ہی ہو نا؟؟!"
کچھ ایسی بے سکونی ہے سیاست کی زمینوں میں
کہ جو اہلِ دھرنا کو سدا بے چین رکھتی ہے
کہ جیسے ریس کا گھوڑا
کہ پہلی شام کا دُلہا
کہ جیسے بِیڑی کا آخری ڈنڈا!
کہ دھرنے والوں کی سحر راتوں میں رہتی ہے
حسرت کی شاخ پر آشیاں ہے وزارت کا
عینِ حکومت میں بھی الیکشن کے خوابوں میں رہتا ہے
دھرنے کے مسافر شب جب کاٹ چکتے ہیں
ٹینٹ کی کرسیاں چُنتے، سیور کی تھیلیاں تھامے
سمے کی راہگزر کی آخری سرحد پہ رکتے ہیں
تو کوئی گرتی قناتوں کی ڈوری تھام کر
دھیرے سے یہ کہتا
"یہ سچ ہے ناں!
ہماری قنات اک دوسرے کے نام لکھی تھی
یہ دھندلکا جو آنسو گیس کا قریب و دور پھیلا ہے
اسی کا نام دھرنا ہے!
تم بھی دھرنوی تھے نا؟؟!
تم بھی دھرنوی ہو نا؟؟!"
کہ دھرنے کی طبیعت میں

یہ کیسا لَوٹنا سیاست نے رکھا ہے

٭٭شاعر نامعلوم٭٭
Comments
2 Comments

2 تبصرے:

Kashif Anwer نے فرمایا ہے۔۔۔

اب اس شاعر کو ڈھونڈنے دھرنے میں جانا پڑے گا.

آم اچار نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت اعلیٰ
اب کی بار دھرنے میں ضرور شامل ہونا ہے، صرف اس نظم کی کیفیت محسوس کرنے کو

تبصرہ کیجیے