مُودے کی کہانی، بِلّو کی زبانی

عرش  سے نالوں کا جواب آتا ہے۔ آہیں دل پگھلا دیتی ہیں مگر انجام سے بے خبر یہ سرپٹ دوڑتے ہرکارے۔حیف اس قوم پر جو سیٹیاں مارنے کا الزام لگائے۔۔۔ مُودا  دھیں پٹاس بے قصور ہے حضورِ والا۔۔۔
ربع صدی  ہوتی ہے؛ طالبعلم ساتویں درجے میں فیل ہوا تو دل خون ہوا ، تشریف ابّا جی خلد آشیانی نے خونم خون کی۔طیش اور مایوسی۔ کوئی راہ سجھائی نہ دیتی تھی۔
۔ ہیولیٰ برقِ خرمن کا ہے خونِ گرم دہقاں کا
جی میں آیا کہ یہ جہاں ترک کیا جاوے اور کہیں دور بستی بسائی جائے۔ فقیر گلی میں نکلا تو بِلّو پر نگاہ پڑی۔ روپ اور  رنگ کی پُڑیا۔ واٹ 69 کی بظاہر سر بمہر بوتل۔ چشمِ پُر فتن۔ جدھر نظر اٹھائے، کشتوں کے پشتے لگائے۔ریشمی لاچے سے جھانکتی روپہلی پنڈلیاں۔ چال ایسی کہ بقول یوسفی، دو مٹکے مٹک رہے ہوں۔ چاچے جیرے کے تھڑے پر فدوی ڈھیر ہوا۔ سانس بے قابو، جذبات میں ہنگام۔ ہمت مجتمع کی اور گویا ہوا ، "اے حسینہء خوش اندام، کدھر کا قصد ہے؟"۔ بِلّو نے ایک نگاہِ غلط انداز فقیر پہ ڈالی اور بزبان مادر ہم سے ایسا سوال کیا جس میں ہماری عمر کا طعنہ تھا اور حسّاس اعضاء کی جبلّی حرکات بارے شکوک ۔طالب علم شرم سے پانی پانی ہوا۔ خاموشی شعار کی۔ تِس پرحُسن کی اُوزی نے موڈا مارا اور چمک کے فرمایا، "مُودے کول چلّی آں۔ کوئی تکلیف؟"۔
مُودا دھیں پٹاس، وہ مرِد جری کہ جس کی پہنچ سے  ماجھے کاکوئی ڈنگر محفوظ نہ تھا۔ ایسی آہو چشم بھینسیں چشمِ زدن میں کھول لیتا جیسے بنارسی ٹھگ آنکھ سے سُرمہ چرا  لیا کرتے تھے۔ مردِ خود دار و خُود بیں۔اقبال کا شاہیں۔ کبھی کسی کے سامنے دستِ سوال درا ز نہ کیا۔ ہمیشہ چھین لیا۔  شجاعت کا جوہر بس چند جواں مردوں کا زیور ہوا کرتا ہے۔ لوگ مگر سمجھتے نہیں۔دل مگر مُودے کا گداز تھا۔ شبِ بھینس کھلوائی مناکے آتا تو عجب ہی ترنگ ہوتی۔ چال میں نرالا بانکپن ، آواز ایسی کہ دلوں کو چیر دے۔
شام کو ٹھنڈی ہوا ان کے لئے بہتی ہے | جن کے محبوب بہت دور کہیں رہتے ہیں
حاسد پیٹھ پیچھے زبان طعن دراز کرتے کہ مُودے کا محبوب بھینس ہے۔ ۔حذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریں۔۔۔نگہ پاکباز اور لنگوٹ آہنی۔ شورہ پشت بِلّو جو کسی کو پٹھے پر ہاتھ دھرنے نہیں دیتی تھی؛ مُودے پر دھیں پٹاس تھی۔ مُودا مگر راہِ سلوک کا مسافر۔ دنیاوی لذائذ سے کنارہ کش۔ نظر جھکا کے بِلّوکے سب وار سہہ جاتا۔ عورت کی انا، حضورِ والا، عورت کی انا۔ زخمی ناگن،  بِلّو بن چکی تھی۔ وہ دوشیزہ کہ 12 سے 72 تک سب مرد جس کے لئے مرے جارہے ہوں اور ایک جواں مرد اسے پرِ کاہ جیسی اہمیت نہ دے؟  توہین ہے یہ حُسن کی توہین۔
ساون کی ایک حبس بھری صبح چوپال کے سامنے بِلّوفریاد کرتی پائی گئی۔ تریا چلتر۔ ہجوم اکٹھا کرلیا گیا۔ چلاّ چلاّ کر مُودے پر بہتان باندھے گئے۔ تان اس پر ٹوٹی کہ آتے جاتے مجھے سیٹیاں مارتا ہے۔ حضورِ والا مُودے کی تو سیٹی نکلتی ہی نہیں؛ وہ کیسے سیٹیاں مار سکتا ہے؟  بہتان ہے، صریح بہتان۔ جھوٹ ہے ، سفید جھوٹ۔
عرش  سے نالوں کا جواب آتا ہے۔ آہیں دل پگھلا دیتی ہیں مگر انجام سے بے خبر یہ سرپٹ دوڑتے ہرکارے۔حیف اس قوم پر جو سیٹیاں مارنے کا الزام لگائے۔۔۔ مُودا  دھیں پٹاس بے قصور ہے حضورِ والا
Comments
4 Comments

4 تبصرے:

khawaja abubaker نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت خوب استاد محترم

Javed نے فرمایا ہے۔۔۔

ایک بہترین تحریر

shahzad ahmad نے فرمایا ہے۔۔۔

😁😁
بہت اعلی ہے جناب بہت اعلی
واقعی سیٹی والے معاملے میں مودا بے قصور ہے جس کا عشق ہی بھینس ہے اس پر ایسا الزام کیسے قبول کر لیا جائے
لیکن بلو تو اسے قصور وار ٹھہرا رہی ہے یہ کہانی بلو کی زبانی تو نہ ہوئی
بہر حال بہترین اشارے و کنایے استعمال کیے ہیں
بہت خوب

Unknown نے فرمایا ہے۔۔۔

جعفربھائ کھاں سے اترتے ہیں یہ کمال کے استعارے آپ پر۔ بہت اعلی تحریر ۔

تبصرہ کیجیے