دیکھا ایک خواب تو یہ سلسلے ہوئے

خوابوں پر ہمارا یقین کوئی ایسا نہیں رہا کہ ہم انہیں سنجیدہ لیں۔ خواب ہمارے نزدیک وہ فلمیں ہوتی ہیں جو ہم بنانا چاہتے ہیں لیکن بوجوہ بنا نہیں سکتے۔ حاشا و کلا اس سے ہماری مراد علامہ اقبال کا پاکستانی خواب نہیں ہے۔ ویسے بھی وہ جاگتے میں دیکھا جانے والا خواب تھا جسے نیند والے خوابوں کے زمرے میں نہیں رکھا جاسکتا۔ بچپن سے ہی ہم خواب دیکھتے آئے ہیں اور ڈراؤنے، رنگین، سنگین اور غمگین خواب بکثرت دیکھ چکے ہیں۔ ان خوابوں کا مگر ہماری زندگی میں کوئی کردار نہیں رہا اور نہ ہی ہم نے خوابوں کو اجازت دی کہ ہماری زندگی میں دخل اندازی کرسکیں۔  اس تمہید کے بعد یقینا آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ہم آپ کو فرائڈ وغیرہ کے نظریات ِ رنگین و سنگین خواب جات بارے بریف کریں گے تو آپ کا خیال درست نہیں ہے۔اس کے برعکس ہم آپ کو ایک ایسے خواب کی روداد سنانے جارہے ہیں جس نے ہماری زندگی، آدرش، نظریات اور افعال سب بدل کے رکھ دئیے ہیں۔
خواب میں خود کوایک وسیع و عریض سرسبز وادی میں پایا جس کو چاروں اطراف سے بلند و بالا پہاڑوں نے گھیر رکھا تھا۔ وادی کے مشرقی پہاڑ کی  ترائی پر ایک عظیم الشان قلعہ تھا جس تک پہنچنا ناممکن نظر آتا تھا۔ قلعہ کی فصیل پر لاتعداد بُرجیاں تھیں اور اس کے پیچھے قلعے کی مرکزی عظیم الشان عمارت ، جس کا گنبد اور مینار طویل فاصلے سے بھی نمایاں نظر آتے تھے۔ وادی میں گہرے بادل چھائے ہوئے تھے۔آسمانی  بجلی کی کڑک سے دل دہل دہل جاتا تھا۔ وادی کے عین درمیان میں ایک منہ زور ندی بہہ رہی تھی جس کا بہاؤ اتنا تیز تھا کہ اس کو عبور کرنا ناممکن نظر آتا تھا۔ اچانک شمالی  پہاڑ کے جنگلات سے گھوڑوں کے سُموں کی آوازیں قریب آتی محسوس ہوئیں۔ ہم چونک کر اس طرف متوجہ ہوئے  تو کیا دیکھتے ہیں کہ سفید عربی النسل گھوڑوں پر سوار افراد تیز رفتاری سے ہماری طرف بڑھتے  چلےآتے ہیں۔ ان کی فارمیشن ایرو ہیڈ جیسی تھی اور دونوں سروں پر موجود سواروں کے ہاتھ میں پرچم تھے۔ تقریبا بیس فٹ کے فاصلے پرسواروں نے یکدم لگامیں کھینچیں، گھوڑوں نے اگلی ٹانگیں اٹھائیں اور جگر پاش آواز میں ہنہنا کر وہیں رک گئے۔
سواروں کے امیر نے چہرے پر لپٹا ہوا سبز پگڑی کا پلّوہٹایا ۔  سرخ و سفید چہرہ، مہندی رنگی خوبصورت داڑھی میں جگمگا رہا تھا۔  آنکھوں سے شعاعیں نکلتی ہوئی محسوس ہورہی تھیں۔ ہم مبہوت کھڑے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔امیر نے اپنے ہاتھ میں موجود لٹھ کو زور سے زمین پر مارا اورگونجتی ہوئی پروقار آواز میں اپنا نام بتایا  (یہ نام ناگزیر وجوہات کی بنا پر نہیں لکھا جارہا)۔ ہم نے تعظیما ان کو جھک کے سلام کیا اور ان کا ہاتھ چومنے کے ارادے سے آگے بڑھے تو انہوں نے کڑک کر فرمایا۔
"یہیں رُک جا، مُورکھ۔ ہمارے قریب آنے کی جرات مت کرنا۔ تم ایک زبان دراز، بے ہودہ اور بے ادب انسان ہو۔ تمہاری گز بھر لمبی زبان سے ہم کو اتنی تکلیف پہنچی ہے کہ آج ہم تمہاری گوشمالی کو آئے ہیں۔"
خوف سے ہماری گھگھّی بندھ گئی۔ ہم گھٹنوں کے بل جھکے اور عاجزی سے کہا کہ یہ درست ہے کہ ہم زبان دراز اور بے ادب ہیں لیکن آج تک اکابرین و بزرگان بارے کوئی زبان درازی نہیں کی۔ یہ  سن کر امیر کا چہرہ متغیر ہوا انہوں نے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور ہمارے قریب آکر زور سے لٹھ ہماری کمر پر جمائی۔ ہم قلابازیاں کھا کر کئی فٹ دور جاگرے۔ کراہتے ہوئے اٹھے اور عرض کی کہ ہماری خطا تو بتائی جائے۔ امیر نے اپنے ساتھیوں کو ہاتھ کے اشارے سے چہروں سے پگڑیوں کے پلو ہٹانے کا اشارہ کیا۔ دائیں طرف والے  خوبصورت نوجوان نے بلند آواز میں اپنا نام بتایا، "میں محمد بن قاسم ہوں"۔ ہم حیرت سے وہیں جم کر رہ گئے۔ اگلے درمیانی عمر کے سخت جان سوار نے بلند آہنگ سے کہا ، "ہم صلاح الدین ایوبی ہیں"۔ درمیان والے سوار نے جو امیر کے عین پیچھے تھے انہوں نے بتایا کہ وہ قاضی شریح ہیں۔ اگلے دونوں افراد کے چہروں پر غور کیا تو ہم انہیں پہچان گئے۔ وہ قائد اعظم محمد علی جناح اور شاعر مشرق حضرتِ علامہ محمد اقبال تھے۔ دونوں بزرگوں کے چہرے خوبصورت جماعت کَٹ داڑھیوں سے سجے تھے۔ قائد بے نیازی سے بولے،" وَیل۔۔ ینگ مین، یو نوء ہُو آئی ایم"۔ ہم نے عقیدت سے اثبات میں سر ہلا یا۔ حضرت علاّ مہ نے مسکرا کر ہماری طرف دیکھا اور غالب کا مصرع گنگنایا۔۔
 کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا
ہم نے جوابا چھٹی جماعت میں یاد کی گئی نظم کا ایک شعر ان کی نذر کیا
یوں تو چھوٹی ہے ذات بکری کی | دل کو لگتی ہے بات بکری کی
امیر نے اس شعرو شاعری پر اپنی ناگواری کا اظہار دوبارہ لٹھ ہماری کمر پر جما کر کیا۔ ہم کراہتے ہوئے اٹھے اور ہاتھ باندھ کر امیر سے التجا کی کہ ہماری خطا سے آگاہ کیا جائے۔ ابھی ہماری بات ختم ہی ہوئی تھی کہ آسمانی بجلی کی زبردست کڑک سے پوری وادی روشن ہوگئی۔ اسی روشنی میں مغرب کی سمت سے ایک شہسوار تیز رفتاری سے ہماری طرف بڑھتا نظر آیا۔  جوں ہی وہ سوار ہمارے قریب پہنچا تو بادل چھٹ گئے اور چہار سُو شمس کی ضیاء پھیل گئی۔سوار نے اسپِ سیاہ کی لگام کھینچی اور چہرے سے سرخ اور سبز رنگ کا کپڑا ہٹایا تو ہم دم بخود رہ گئے۔ یہ عمران خان تھے!
قائد اعظم نے دایاں ہاتھ اٹھا کر فلک شگاف آواز میں  نعرہء تکبیر بلند کیا اور باقی بزرگوں کے ساتھ ہم نے بھی پھیپھڑوں کی پوری طاقت سے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا۔ خاں صاحب نے زرہ بکتر کے کھیسے سے کالی عینک نکال کر لگائی اور سب بزرگوں کو ہاتھ ہلا کر سلام کیا۔ شہسواروں کے امیر، گھوڑے سے اترے اور ہمارے قریب آکر لٹھ سے ہمیں ٹہوکا دیا اور یوں مخاطب ہوئے۔۔
"اے ناہنجار، بے شعور انسان!تمہاری زبانِ دراز ہمارے سپہ سالار کے خلاف برسوں سے زہر اگل رہی ہے۔عمران خان اس دور میں اسلام اور مسلمانوں کا سپہ سالار ہے۔ یہ وہی بطلِ حریت ہے جو مسلمانوں کو ادبار سے نجات دلانے کے لیے مامور کیا گیا ہے۔ ہم سب (انہوں نے بازو لہرا کر تمام بزرگان کی طرف اشارہ کیا) اس معرکے میں اس کے ساتھ ہیں۔ تم اور تمہارے جیسے عاقبت نااندیش اس عبقری کا ٹھٹھا اڑاتے ہیں۔ اس پر زبانِ طعن دراز کرتے ہیں۔ تمہارے جیسے بے ہودگانِ ملّت یہ نہیں جانتے کہ خان کو اُس عظیم مشن میں پر مامور کیا گیاہے جس پر اس سے پہلے محمد بن قاسم، صلاح الدین ایوبی جیسے مجاہدینِ ملّت فائز رہ چکے ہیں۔ پاکستان کو کس سمت میں لے کر جانا ہے یہ قائد اعظم اور شاعر مشرق سے بہتر کوئی نہیں جانتا اور تم دیکھ سکتے ہو کہ آج وہ کس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کیا اب بھی تم جہالت اور بے شعوری پر قائم رہو گے؟ کیا اب بھی تم اس عظیم انسان کے خلاف زبان اور قلم سے جھوٹ پھیلاؤ گے؟"
یہ کہہ کر انہوں نے ایک دفعہ پھر زور سے لٹھ ہماری پشت پر جمائی۔ ہم اوئی اوئی کرتے کافی دیر اچھلتے رہے۔ جب تکلیف  ذرا کم ہوئی تو ہم بصد ادب عمران خان کی طرف بڑھے ۔ ان کا دایاں ہاتھ تھام کر چُوما۔ ان کے گھوڑے کی گردن پر ہاتھ پھیرا اور اپنی زبان درازیوں کی معافی مانگ کر اپنی بیعت میں قبول کرنے کی درخواست کی۔ خان صاحب نے بصد مہربانی ہمیں اپنی بیعت میں قبول کیا اور لالے عطاءاللہ کا "بنے گا نیا پاکستان" گا کر سنانے کا کہا۔ تین ضرباتِ لٹھ کے بعد ہماری آواز میں لالے جتنا ہی سوز آچکا تھا۔ ہم نے مکھڑا ہی گایا تھا کہ سب بزرگان آبدیدہ ہوگئے۔ پگڑی کے پلو سے آنکھیں  پونچھتے ہوئے ہمیں گانا بند کرنے کا اشارہ کیا۔
بزرگان کے امیر نے واپس جانے سے پہلے ہمیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ صرف خواب نہیں ہے۔ تنبیہ ہے۔ ایسا نہ ہو کہ بیدار ہونے کے بعد تم اسے بھول جاؤ اور اپنی پرانی حرکات پر اتر آؤ۔ یہ کہہ کر انہوں نے لٹھ بلند کی ہی تھی کہ ہم نے ہاتھ جوڑ دئیے کہ انشاءاللہ ہم دوبارہ کبھی ایسی شنیع حرکات کا ارتکاب نہیں کریں گے۔ تس پر سب بزرگان بشمول خان صاحب نے اپنے اسپانِ تازہ دم کو ایڑیں لگائیں اور چشم زَدن میں پہاڑی جنگلات میں گم ہوگئے۔
اس موقع پر ہماری آنکھ کھلی۔ ہم نے اس خواب کو بھی آج تک دیکھے گئے باقی خواب جات کی طرح اہمیت نہیں دی۔ بستر سے اٹھے تو ایک دم کمر اور پشت پر ٹیسیں محسوس ہوئیں۔ سائیڈ ٹیبل پرنظر پڑی تو وہاں ایک خوبصورت سرخ اور سبز رنگ کا چھوٹا سا باکس دیکھ کر حیرانی ہوئی۔ اسے کھول کر دیکھا تو اس میں چھوہارے، بادام اور لڈو موجود تھے۔ یہ بِد کا ڈبّا لگ رہا تھا۔ ہمارے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ فورا  قمیص اتار کے آئینے کے سامنے گردن موڑ کر کمر کو دیکھنے کی کوشش کی۔ کمر پر نیل نظر آرہے تھے۔
بزرگ جاتے ہوئے دو نشانیاں چھوڑ گئے تھے!
Comments
0 Comments

0 تبصرے:

تبصرہ کیجیے