ایسے ہوتی ہے گائیکی!

حیراں ہو دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
استاد جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کمانڈو خاں صاب
یہاں دیکھئے اور سر دھنیئے

مُنّا سلانے کے آسان طریقے

ہمارے ایک دوست نے لوڈ شیڈنگ کے نقصانات پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا ہے کہ اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ”اوپر پنکھا چلتا ہے ۔۔۔ نیچے مُنّا سوتا ہے“۔
ان کی اس فکرمندی پر یار لوگوں نے کتاب چہرہ پر اپنے اپنے لچ تلے ہیں۔ آخر میں بات مُنّے کو سلانے کے طریقوں تک آپہنچی ہے۔ تو حاضر ہیں‌ مُنّا سلانے کے آسان طریقے۔
مُنّے کو سارا دن جگائے رکھیں۔ سونا بھی چاہے تو زبردستی اٹھادیں۔ بجلی موجود بھی ہو تو مین سوئچ آف کردیں تاکہ مُنّا کسی بھی طرح سو نہ سکے۔ اسکا نتیجہ یہ نکلے گاکہ مُنّا شام ڈھلتے ہی سونے کے بہانے ڈھونڈتا پھرے گا۔ نو بجے تک کسی بھی طرح اسے جگائے رکھیں۔ اس کے لئے آئس کریم، کارٹون، ٹافیاں وغیرہ آپ کے بہترین معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ دس بجے تک یقیناً مُنّے کے حالات نہایت نازک ہوچکے ہوں گے۔ بس یہی وقت ہے اسے سلانے کا۔ اب جب مُنّا سوئے گا تو صبح کی خبر ہی لائے گا۔ چاہے پنکھا چلے یا نہ چلے، مُنّا نہیں‌ اٹھے گا۔ اب آپ اپنے تمام ”ضروری کام“ سہولت اور آسانی سے نمٹا سکتے ہیں!
دوسراطریقہ کچھ ظالمانہ ہے! مُنّے کے سونے کا وقت تو پتہ ہی ہوگا آپ کو۔ تو اس کے سونے سے 15 منٹ پہلے مُنّے کی بلاوجہ ایک پھینٹی لگائیں اور مُنّے کو اس کی اماں کے حوالے کردیں۔ رونے کے بعد بندہ ہو یا مُنّا اس کو نیند بہت گہری آتی ہے! اس کا ثبوت؟؟؟ اس کا ثبوت یہ شعر ہے۔
کل اچانک یاد وہ آیا، تو میں رویا بہت
روتے روتے سوگیا میں، اور پھر سویا بہت
مُنّے کے سونے کے بعد تو آپ کو پتہ ہی ہے کہ کیا کرنا ہے! اور اس شعر میں آپ، یاد، کی جگہ اپنی مرضی کا کوئی بھی ”موزوں“ لفظ استعمال کرسکتے ہیں۔
یہ والا طریقہ ”اشد ضرورت“ کے تحت ہی استعمال کریں۔ اس کا باقاعدہ استعمال آپ کے مُنّے کو بڑا ہو کر پائلٹ کی بجائے جہاز کے درجے پر بھی فائز کرسکتا ہے۔ تھوڑی سی افیم مُنّے کے فیڈر میں ملادیں۔ بس پھر اس کے بعد آپ آزاد ہیں!
”اشد ضرورت“ والا انتباہ یاد رکھیں!
یہ طریقے آزمانے کے بعد بھی اگر افاقہ نہ ہو تو جوابی ڈاک سے مطلع کریں۔
کچھ اور نسخے بھی ہیں لیکن ان کے لئے آپ کو اپنی جیب ڈھیلی کرنی پڑے گی۔

درج بالا تحریر کو خاندانی منصوبہ بندی والوں اور مُنّوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔
طبیعت زیادہ ”خراب“ ہو تو تیسرا نسخہ استعمال کریں۔

آٹو گراف

کھلاڑیوں کے خود نوشت دستخط کے واسطے
کتابچے لئے ہوئے
کھڑی ہیں‌ منتظر حسین لڑکیاں
ڈھلکتے آنچلوں سے بےخبر حسین لڑکیاں

مہیب پھاٹکوں کے ڈولتے کواڑ چیخ اٹھے
ابل پڑے الجھتے بازوؤں چٹختی پسلیوں کے
پُر ہراس قافلے
گرے، بڑھے، مڑے بھنور ہجوم کے

کھڑی ہیں‌یہ بھی راستے پہ اک طرف
بیاضِ آرزو بکف
نظر نظر میں نارسا پرستشوں کی داستاں
لرز رہا ہے دم بہ دم
کمان ابرواں کا خم
کوئی جب ایک نازِ بے نیاز سے
کتابچوں پہ کھینچتا چلا گیا
حروفِ کج تراش کی لکیر سی
تو تھم گئیں لبوں پہ مسکراہٹیں شریر سی
کسی عظیم شخصیت کی تمکنت
حنائی انگلیوں میں کانپتے ورق پہ جھک گئی
تو زرنگار پلوؤں سے جھانکتی کلائیوں کی تیز
نبض رک گئی!
وہ باؤلر ایک مہ وشوں کی جمگھٹوں میں گھر
گیا
وہ صفحہء بیاض پر بصد غرور کلکِ گوہریں
پھری
حسین کھلکھلاہٹوں کے درمیاں وکٹ گری
میں اجنبی میں بے نشاں
میں پابہ گل!
نہ رفعتِ مقام ہے نہ شہرتِ دوام ہے
یہ لوحِ دل ۔۔۔ یہ لوحِ دل!
نہ اس پر کوئی نقش ہے نہ اس پر کوئی نام ہے
مجید امجد

پان گوشت

نئی ترکیب کے ساتھ پھر حاضر خدمت ہوں!
بے پناہ شہرت اور پسندیدگی کے باوجود میں نے کبھی غرور نہیں کیا، کیونکہ چھٹی جماعت میں ہی میں نے پڑھ لیا تھا کہ غرور کا سر نیچا ہوتا ہے، اگرچہ میں نے ہمیشہ لمبے قد والے کا سر ہی نیچا دیکھا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ لمبے بندے کی عقل گٹوں میں ہوتی ہے اور وہ اپنی عقل سے مشورہ کرنے کے لئے نیچے دیکھتا ہو!
بہرحال یہ تو جملہ معترضہ تھا۔ آج کی ترکیب کی طرف آتے ہیں۔ یہ ترکیب بین الثقافتی ہم آہنگی پیدا کرنے میں‌ بڑا اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ اس دعوی کا ثبوت اس کے اجزاء ہیں، جو درج ذیل ہیں:
پان کے پتے سوا سات عدد
کتھّا حسب ذائقہ
چونا حسب ہمت
سپاری آدھ کلو
راجہ جانی 1 ڈبیا
پیلی پتی 1 ڈبیا
ملٹھی 2 چمچ
الائچی 10 عدد
گوشت ایک پاؤ
لسّی ایک جگ
ہرڑ کا مربہ آدھ چھٹانک
نسوار ایک پُڑا
اور
جو آپ کا دل چاہے!
لسّی کو ہلکی آنچ پر پکنے دیں جب آدھی رہ جائے تو اس میں گوشت اور ہرڑ کا مربہ شامل کردیں۔ پانچ سے سات منٹ درمیانی آنچ پر پکنے دیں۔ گوشت کے گلنے پر اس میں نسوار، راجہ جانی اور پیلی پتی ملادیں۔ ملٹھی، سپاری اور الائچی کے ساتھ ہی آدھا گلاس پیپسی بھی ملادیں اور دس منٹ پکنے دیں۔ پان کے پتے حسب خواہش کاٹ لیں۔ چونا اور کتھا لگا کر ترتیب سے گوشت کے اوپر رکھ دیں اور ہلکی آنچ پر دم لگا دیں۔ دم کا دورانیہ اتنا ہو جس میں آپ دو دفعہ ”نگوڑی کیسی جوانی ہے“ سن سکیں۔ دوسری دفعہ گانا ختم ہوتے ہی چولہا بند کردیں۔ ڈھکن اٹھاتے ہی ایک ایسی خوشبو آپ کا استقبال کرے گی، جس کا تجربہ آپ کو زندگی میں پہلے کبھی نہ ہوا ہوگا!
یہ ڈش، ملٹی پرپز اور ملٹی ڈائمنشنل ہے۔ ایک تو یہ آپ کی پروٹین کی ضروریات پورا کرے گی، دوسرا آپ کی گائیکی کی صلاحیتوں کو چار چاند لگائے گی۔ جبکہ نسوار، راجہ جانی اور پیلی پتی آپ کی نکوٹین کی ضروریات بحسن و خوبی پورا کریں گی۔
باقاعدگی سے استعمال کرنے پر آپ اس فانی اور رنج و الم سے بھری دنیا سے نجات پا کر ابدی زندگی کی راحت بھی حاصل کرسکتے ہیں!

کمینہ

ٹرین پنڈی سے روانہ ہوئی تو سہ پہر نے اپنے سفر کا آغاز کیا ہی تھا۔ اس بوگی میں معمول سے رش کم ، لیکن شور زیادہ تھا۔ اس شور کا منبع تین نوجوان تھے، جو ریل کے وسل دیتے ہی اپنی نشستوں‌ پر جم گئے تھے اور تاش نکال کر کھیلنے کے نام پر جھگڑنے لگے تھے۔ اس جھگڑے کا حاصل وہ فلک شگاف قہقہے تھے جو وقتا فوقتا ان کے دہانوں سے توپ کے گولوں کی طرح برآمد ہورہے تھے۔ رش کم ہونے کی وجہ سے انہوں نے آمنے سامنے دو بڑی سیٹوں پر قبضہ جما رکھا تھا۔ ان کے ساتھ والے حصے میں ایک خاندان سفر کررہا تھا۔ جوتقریبا 14، 15 افراد پر مشتمل تھا۔ بزرگ خواتین اس شور شرابے پر زیادہ خوش نہیں تھیں۔ لیکن نوجوان پود ان تینوں‌کے ہاؤ ہو میں‌پوری دلچسپی لے رہی تھی۔ ان نوجوانوں کا دھیان بھی تاش سے زیادہ ہمسایوں کی دلچسپی میں تھا۔
گاڑی جیسے ہی شہر سے نکلی اور کھلے علاقے میں آئی، وہ تینوں سب چھوڑ چھاڑ کر دروازے میں جا کھڑے ہوئے۔ ان میں‌ایک جو دبلا پتلا اور معنک تھا، اس نے سگریٹ سلگالیا۔ اس سارے ہنگامے میں‌ ان کا سرپنچ، اس حرکت پر معنک کو خونریز نظروں‌ سے گھورتا ہوا دوسرے دروازے میں جاکر کھڑا ہوگیا اور پہاڑی علاقے کے مناظر سے لطف اندوز ہونے لگا۔ سوہاوہ پار کرنے کے بعد یا شاید پہلے پہاڑی علاقے کے ایک چھوٹے سے سٹیشن پر گاڑی رکی، شاید کسی دوسری گاڑی کا کراس تھا۔ گاڑی کے رکتے ہی تینوں چھلانگیں مار کر نیچے اتر آئے، پانچ دس منٹ پلیٹ فارم نما چبوترے پر گھومنے کے باوجود بھی جب گاڑی کی روانگی کے آثار نظر نہ آئے تو وہ اپنے سامان سے بیٹ اور ٹینس بال نکال لائے اور پلیٹ فارم پر کرکٹ کھیلنے لگے۔ دیکھا دیکھی ان کے ساتھ پانچ چھ مسافر اور مل گئے۔ تقریبا آدھ گھنٹے کے بعد گاڑی نے وسل دی اور روانہ ہوئی۔ مغرب کا وقت ہونے والا تھا۔ وہ تینوں‌بھی شاید مسلسل بولنے اور رنگبازیاں کرنے کی وجہ سے تھک چکے تھے اور اب کھڑکیوں‌سے لگے پیچھے کو دوڑتے مناظر میں‌گم تھے۔ اپنی حرکتوں اور باتوں سے ان کا غیر اعلانیہ لیڈر لگنے والا سائیڈ والی سنگل سیٹ پر براجمان ہوچکا تھا۔ اس کے ہاتھ میں‌اب ایک ڈائجسٹ تھا اور وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر اس میں‌گم تھا۔ ان کے ساتھ سفر کرنے والی فیملی کو بھوک نے ستایا اور انہوں نے اپنے ٹفن وغیرہ کھولے تو پوری بوگی مرغن کھانوں کی خوشبو سے مہک اٹھی۔ ایک خاتون نے مروتاً اس سے کھانے کو پوچھا تو اس نے بہت معصومیت سے جواب دیاکہ ”جی شکریہ! مجھے ڈاکٹر نے چکنائی والے کھانوں سے منع کیا ہے۔“ خاتون نے اپنی لہجے میں‌بے یقینی سموتے ہوئے کہا، ”کیوں؟“ اس پر وہ بولا، ”بس جی کیا کریں گی پوچھ کر؟ چھوڑیں“۔ نوجوان کے لہجے کی اداسی اور چہرے پر چھائی افسردگی آمیز مسکراہٹ نے خاتون کے شوق تجسس کو بڑھاوا دیا اور انہوں نے اصرار سے پوچھا ”بیٹا! بتاؤ تو سہی کیا بات ہے؟“
”میرے دل میں سوراخ ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اگر احتیاط کی تو ایک سال تک اور جی سکتے ہو۔ آپ یقینا ہمارے شور شرابے سے تنگ آگئے ہوں گے۔ لیکن میری جتنی بھی زندگی باقی ہے اسے مرنے کے خوف میں ضائع نہیں‌ کرنا چاہتا، اسی لئے میں‌اپنے کزنز کے ساتھ مری آیا تھا، اگلے سال تک پتہ نہیں میں‌ رہوں گا یا نہیں! میں‌ آپ سے اس شور شرابے کی معافی چاہتاہوں“۔ یہ کہہ کر نوجوان افسردہ سے انداز میں‌ مسکرایا اور کھڑکی سے باہر جھانکنے لگا۔
خاتون کا تو وہ حال تھا کہ کاٹو تو بدن میں‌ لہو نہیں۔ ان کی آنکھیں بھر آئیں۔ وہ نوجوان کے پاس آئیں‌اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اصرار کرکے اسے اپنے ساتھ والی سیٹ پر بٹھا لیا۔ تھوڑی دیر بعد نقشہ ہی بدلا ہوا تھا۔ ان تینوں کو کھانا، چائے ، ڈرائی فروٹ ہر چیز مہیا کی جارہی تھی۔ باقی کے دونوں اس معنک سمیت حیران تھے کہ آخر کیا قیامت آگئی ہے کہ جو خواتین ہمیں‌ تھوڑی دیر پہلے کچا چبانے والی نگاہوں سے گھور رہی تھیں اب وہی اتنے پیار سے تواضع کررہی ہیں۔ وہ بار بار سوالیہ نظروں سے اپنے لیڈر کو گھورتے تھے لیکن اس کے چہرے پر لگے ”بکواس بند کرو اور آرام سے کھاؤ“ کا بینر پڑھ کر پھر چپ چاپ پیٹ پوجا میں‌ مصروف ہوجاتے تھے۔
باقی سفر میں بھی ان کا ہنگامہ جاری رہا، لیکن اب ان خواتین کی نگاہوں سے غصے کی بجائے ہمدردی جھلک رہی تھی۔ آدھی رات کے بعد جب گاڑی اپنی منزل پر پہنچی تو رخصت ہوتے ہوئے بزرگ خواتین ، اس نوجوان کو گلے لگا کر ایسے دعائیں دے رہی تھیں کہ جیسے وہ محاذ جنگ پر جارہا ہو!
سٹیشن سے باہر آتے ہی دونوں نےمل کر لیڈر نما کو دبوچ لیا اور اس رام کہانی کی وجہ دریافت کی۔ پورا ماجرا سننے پر دونوں نے بیک وقت فلک شگاف نعرہ لگایا!!
کمینہ!!

دو اقتباس

۔۔۔۔ میں تمہیں الف لیلہ کی کہانی نہیں سنا رہی، یہ ہمارے ملک کا دستور ہے۔ یہاں فرد تباہ ہوجاتا ہے اور سوسائٹی مضبوط تر ہوتی جاتی ہے۔ سال کے آخر پر اعدادوشمار شائع ہوتے ہیں، اور ہمیں پتہ چلتا ہے کہ آج ہم دنیا کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک میں رہ رہے ہیں، اور دنیا میں فی کس سب سے زیادہ کما رہے ہیں، اور اپنے جسموں کو دنیا کی عمدہ ترین غذا پر پال رہے ہیں، اور بھاگ رہے ہیں، اور بھاگ رہے ہیں، اور بھاگ رہے ہیں، اور پتہ نہیں کہ کدھر جارہے ہیں۔ ہماری روحوں کو دن بھر میں کتنی کیلوریز کی ضرورت ہے، اس کے اعداد و شمار ابھی تک شائع نہیں ہوئے۔
عبداللہ حسین کی کہانی ”ندی“ سے
================================================
۔۔۔۔ میری چپ حویلی کے صدر دروازے کے قدموں میں گرے ہوئے اس قفل کی مانند ہے، جسے چور پچھلی رات دروازے کے کنڈے سے اتار کر پھینک گئے ہوں۔ ایسا تالا بہت کچھ کہتا ہے، لیکن کوئی تفصیل بیان کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ وہ ساری واردات سے آگاہ ہوتا ہے، لیکن اپنی صفائی میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ حفاظت نہ کرسکنے کا غم، اپنی ہیچ مدانی کا احساس، اپنے مالکوں سے گہری دغابازی کا حیرت انگیز انکشاف اسے گم سم کردیتا ہے۔
بانو قدسیہ کی کہانی ”انتر ہوت اداسی“ سے

خیالاتِ پریشاں

یہ کیسا انصاف اے؟
مجھے نوٹس دیا اے۔ میں نے کیا کِیا اے؟
سب سے پَیلے پاکستان اے۔ پھر لندن اے۔ مزے ایں۔ رنگ میں بھنگ ڈالا اے۔ مجھے ڈر نئیں لگتا اے۔
نواز شریف اے۔ بے ایمان اے۔ لوٹ کے کھا گیا اے پاکستان کو۔ میری اونسٹی اے، ڈگنیٹی اے۔ صرف 24 کروڑ کا فلیٹ اے۔ ایجویئر روڈ اے، اچھااے۔ رونق میلہ اے۔ میمیں‌ ایں۔ پھرتی ایں۔ مزا آتا اے۔
زرداری اے، اچھا آدمی اے۔ مجبور اے۔ پھس گیا اے۔ نواز شریف نے دھوکہ دیا اے، مکر گیا اے۔
رانی مکر جی اے، وہ بِی مکر گئی تھی، میں‌ گیا اوں، وہ نئیں آئی اے، میں نے ویٹ کیا اے، پھر بِی نئیں‌ آئی اے۔ دل توڑا اے۔ محفلیں یاد آتی ایں۔ شوکت عزیز تھا، عبداللہ یوسف بی تھا، گانے ہوتے تھے، ڈانس ہوتا تھا، مزا آتا تھا۔ اب کچھ بی نئیں‌ اے۔ ظلم اے۔ زیادتی اے۔ اس پر کوئی سووموٹو نوٹس نئیں‌اے۔ میرا کوئی حق نئیں اے؟؟ خدمت کی اے، ملک کی، عوام کی۔
مجھے جسٹس چوہدری سے ڈر نئیں لگتا اے۔ صرف اس کی آنکھوں سے ڈر لگتا اے۔ خون اے، اترا ہوا اے۔ ساری نواز شریف کی سازش اے۔ اس کے پاس پیسہ اے۔ لگاتا اے۔ وکیلوں کو لگاتا اے۔ جلوس نکلواتا اے۔ صحافیوں کو کھلاتا اے۔ مکار اے۔ جھوٹا اے۔ ہائی جیکر اے۔ اب لارڈ نذیر کو میرے پیچھے لگادیا اے۔
امریکہ اے۔ بے وفا اے۔ نظریں‌ نئیں ملاتا اے۔ کہتا اے، عدالت کا معاملہ اے۔ اتنے بندے پکڑ کے دئیے ایں، پھر بھی کوئی مدد نئیں کی اے۔ ظلم اے۔
میں‌ بہادر اوں، میں نے جنگیں لڑیں‌ ایں۔ مجھے ڈر نئیں لگتا اے۔ (سوں‌سوں سوں) رو نئیں را اوں۔ نزلہ اے۔ ناک صاف کی اے، رویا نئیں اوں، مجھے ڈر نئیں‌ لگتا اے۔۔۔

7ند سوال

آپ ”لوگ“ اتنے بد تہذیب اور بد تمیز کیوں‌ ہوتے ہیں؟
جہالت آپ میں کوٹ کوٹ کر کیوں بھری ہوئی ہے؟
آپ قتل و غارت اور خونریزی کے کیوں‌ اتنے شوقین ہیں؟
علم سے دشمنی آپ کی گھٹی میں کیوں پڑی ہوئی ہے؟
دوسروں کی حق تلفی کرنا، آپ اپنا پیدائشی حق کیوں سمجھتے ہیں؟
آپ خود کو انسان کہلانے پر کیوں بضد ہیں؟
آپ اتنے تنگ نظر اور چھوٹے دل کے کیوں ہیں؟
نفرت، منافقت اور مکاری، آپ کی فطرت کیوں ہے؟
آپ لوگ ”ڈھگے“ کیوں مشہور ہیں؟
آپ کے لہجے اور برتاؤ سے ہر وقت تعصب کیوں چھلکتا رہتا ہے؟


کیا کہا؟
نہیں نہیں، نفرت اور تعصب کی وجہ سے یہ سوال نہیں پوچھے۔۔۔
صرف اپنی معلومات میں اضافہ کرنا چاہتا ہوں!

حاجی غلام دین نمازی زکاتی

”تمہاری سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ تم چوّل ہو“۔ یہ کہہ کر انہوں نے اپنے کھیسے سے کے ٹو کی ڈبی نکالی، سگریٹ سلگایا اور لمبا کش لگا کر ناک سے دھواں نکالتے ہوئے سر ہلانے لگے۔
ٹھہرئیے ! پہلے میں ان سے آپ کا تعارف کروادوں۔
ان کا نام حاجی غلام دین نمازی زکاتی ہے۔ چونکئے مت۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حج کرنے کے بعد بندہ اپنے نام کے ساتھ حاجی لگا سکتا ہے تو نماز پڑھنے کے بعد اسے نمازی لکھنے اور زکوۃ دینے کے بعد زکاتی لکھنے کا بھی پورا حق ہے۔ اگرچہ خود انہوں نے صرف اس وقت ہی زکوۃ دی تھی جب حکومت بینک کھاتوں سے زبردستی زکوۃ کاٹ لیا کرتی تھی۔ آج کل کے حالات میں‌جہاد کا ذکر کرنا وہ مصلحت کے منافی گردانتے ہیں‌، اس لئے جہادی لکھنے پر آمادہ نہیں اگرچہ ان کا کہنا ہے کہ وہ ہر وقت اپنے نفس امارہ کے ساتھ جہاد میں مصروف رہتے ہیں۔ میں جب بھی بہت خوش ہوتا ہوں، میرا کوئی کالم ہٹ ہوتا ہے، میرے پروگرام کو اشتہارات زیادہ ملتے ہیں اور نتیجے کے طور پر میرا کمیشن بھی بڑھ جاتا ہے، جب بھی کسی نئے اعلی عہدیدار سے میرے ”دوستانہ“ تعلقات پنپتے ہیں۔ غرض جب بھی میری زندگی میں خوشی کا کوئی موقع آتا ہے میں‌ان کے پاس حاضری ضرور دیتا ہوں۔
میری ان سے ملاقات انجمن تاجران غلہ منڈی کی تقریب حلف برداری میں‌اتفاقا ہوئی اور پہلی ہی ملاقات میں انہوں نے مجھے اپنی شخصیت کا گرویدہ کرلیا۔ ان کی شخصیت کی سادگی حیران کن ہے۔ بے تحاشا دولتمند ہونے کے باوجود غربت ان کے چہرے اور باتوں‌سے ٹپکتی ہے۔ سادہ خوراک استعمال کرتے ہیں۔ ایک دفعہ تو میں نے انہیں کیک رس، پیپسی میں ڈبو کر کھاتے ہوئے بھی دیکھا ہے!
اس کے بعد میری ان سے ملاقاتیں جاری رہیں۔ مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں جتنی بھی کامیابیاں حاصل کی ہیں ان کے پیچھے ان کا ہی ذہن کام کرتا رہا ہے۔ آپ اعلی درجے کے عیار، چوٹی کے دھوکے باز اور بے حد عمدہ بے ایمان ہیں۔ ان سے ملنے سے پہلے میں بھی نام نہاد ایمانداری، راست گوئی، اور قلم کی عصمت وغیرہ کا قائل ہوا کرتا تھا۔ لیکن ان کی صحبت میں، مجھے پتہ چلا کہ زندگی میں کامیابی کے گُر کیا ہوتے ہیں!
لیکن آج ان کی بات نے مجھے حیرت زدہ اور غمگین کردیا۔ میرے چہرے کے تاثرات دیکھ کر انہوں نے ایک قہقہہ لگایا اور میرے کندھے پر ہاتھ مار کر بولے۔ ”دل چھوٹا نہ کرو۔ چوّل ہونا فی زمانہ ایک خوبی ہے، اس میں بیستی کی کوئی بات نہیں۔ یقین نہیں‌ آتا تو رحمن ملک سے لے کر سلمان تاثیر اور فوزیہ وہاب سے لے کر شیخ رشید تک کسی کو بھی دیکھ لو۔ ایک سے بڑھ کر ایک چوّل ہے۔ اور ان سب کے سردار کا نام تو پوری دنیا جانتی ہے“۔ یہاں‌ تک پہنچتے پہنچتے ان کی آواز بھرّا گئی تھی اور آنکھوں میں فرط عقیدت سے آنسو آگئےتھے۔ میں نے اٹھ کر ان کے گھٹنوں‌ کو چھوا اور کمرے سے باہر نکل آیا۔

سوال گندم ۔۔۔ جواب چنا

سوال: آپ کسی کچے انڈے کو کنکریٹ کے فرش پر اسے توڑے بغیر کیسے گرا سکتے ہیں؟
جواب:‌کنکریٹ کا فرش بے حد مضبوط ہوتا ہے، اس کا ٹوٹنا مشکل ہے۔
سوال: اگر آٹھ آدمی دس گھنٹے میں ایک دیوار بناتے ہیں تو چار آدمی اسے بنانے میں کتنا وقت لگائیں گے؟
جواب: کوئی وقت نہیں لگائیں گے، وہ پہلے ہی بنی ہوئی ہے۔
سوال:‌ اگر آپ کے دائیں ہاتھ میں‌تین سیب اور چار نارنگیاں اور بائیں ہاتھ میں چار سیب اور تین نارنگیاں ہوں تو آپ کے پاس کیا ہوگا؟
جواب: بے حد بڑے ہاتھ۔
سوال: کوئی شخص آٹھ دن تک بغیر سوئے کیسے رہ سکتا ہے؟
جواب:‌ وہ رات میں سو سکتا ہے۔
سوال:‌ اگر کسی نیلے سمندر میں سرخ پتھر پھینکا جائے تو کیا ہوگا؟
جواب: پتھر یا تو صرف گیلا ہوگا، یا ڈوب جائے گا۔
سوال:‌ کس چیز کی شکل نصف سیب جیسی ہوتی ہے؟
جواب:‌ سیب کے دوسرے نصف حصے کی۔
سوال: آپ ظہرانے میں کیا چیز نہیں کھا سکتے؟
جواب: عشائیہ۔
(سب رنگ ڈائجسٹ سے انتخاب)

رس(؟) ملائی

اگرچہ آج تک ہم رس ملائی شوق سے کھاتے رہے ہیں لیکن اس کے نام سے ہم کبھی متفق نہ ہوسکے۔ہمارے خیال میں‌ تو اس کا نام ”میٹھے شوربے والی گلاب جامن“ ہونا چاہئے۔ویسے بھی ہمیں تو کبھی اس میں رس (بیکری والا) نظرنہیں آیا۔اور اگر اس رس سے مراد جوس ہے تو ملائی کا جوس کیسے نکل سکتا ہے؟ رس تو ہمیشہ ٹھوس چیز کا نکلتا ہے جیسے گنے کا رس، سیب کا رس، آم کا رس، حکومت پاکستان کے ہاتھوں عوام کا رس۔
اس مسئلے پر ہم نے بہت غوروخوض کرنے کے بعد ایک ترکیب ایجاد کی ہے جو واقعی رس ملائی کہلائے جانے کے قابل ہے۔ اس کے اجزاء زیادہ نہیں لیکن ان کو حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ لہذا جو خواتین و حضرات سہل پسند اور عیش کوش ہوں، ان سے درخواست ہے کہ اس ترکیب پر طبع آزمائی نہ کرنا ہی ان کی صحت وسلامتی کے لئے بہتر ہے۔
سب سے پہلے تو ہمیں خالص ملائی کی ضرورت ہوگی۔ اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ یہ ملائی آپ اس دودھ نما چیز سے کشید کرسکتے ہیں جو گوالہ فراہم کرتا ہے تو یقیناً آپ احمقوں کی جنت کے آس پاس کہیں رہائش پذیر ہیں۔ اس دودھ نما سے آپ جگر کو جلانے والی چائے اور خراب معدے کے علاوہ کچھ حاصل نہیں کرسکتے۔ خالص ملائی حاصل کرنے کے لئے آپ کو کچھ اور آپشنز پر غور کرنا ہوگا۔ مثلاً کسی گاؤں وغیرہ کا سفر۔ لیکن جب سے ہم نے جعلی کرنسی چھاپنے والے کا ایک عبرت ناک واقعہ سنا ہے جو غلطی سے پندرہ روپے کا نوٹ چھاپ بیٹھا تھا اور گاؤں‌کے لوگوں کی سادگی کا فائدہ اٹھانے کے لئے اس نے یہ نوٹ گاؤں میں‌چلانے کا فیصلہ کیا تھا۔ گھر کی بیٹھک میں کھلی ایک کریانے کی دکان سے جہاں ایک بڑی بی تشریف فرما تھیں وہاں اس مرد شریف نے پندرہ روپے کے نوٹ کا کھلا کروایا تو بڑی بی نے اسے ساڑھے سات کے دو نوٹ لوٹادئیےتھے، تب سے ہم اس آپشن سے بھی کچھ ناامید سے ہوگئے ہیں۔
دیکھا، ہم نے شروع میں ہی کہہ دیا تھا کہ اس ڈش کے اجزاء ملنے بہت مشکل ہیں!
ایک آخری آپشن بچا ہے کہ آپ ایک بھینس خریدیں، اور اس کے دودھ سے خالص ملائی حاصل کرلیں۔ اب دوسرے جز کی باری ہے۔ کسی اچھی سی بیکری سے تازہ رس لائیں۔ برسات کا موسم ہے لہذا اچھی طرح چیک کرلیں کہ رس ”سیلابے“ نہ ہوں۔ لیجئے، اب ترکیب اپنے اختتامی مرحلے تک پہنچا چاہتی ہے۔ ایک رس لے کر اس پر ملائی کا اچھی طرح لیپ کریں اور اس کے اوپر دوسرا رس رکھ دیں۔
مزیدار رس ملائی تیار ہے!

دیر

”آپ کی والدہ حیات ہیں؟“ لا ابالی نظر آنے والے اس شخص نے ڈرائیور سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔
”کیوں؟“ ڈرائیور کے لہجے میں حیرت آمیز برہمی تھی۔
ٹھہریئے!
میرے خیال میں‌ ، ابتداء سے یہ قصہ شروع کرتے ہیں۔
وہ شخص شہر کے مرکزی علاقے سے ویگن میں‌ سوار ہوا تھا۔ اس کو آخری سٹاپ تک جانا تھا۔ خوش قسمتی یا بد قسمتی سے، اسے فرنٹ سیٹ مل گئی۔ جینز ، ٹی شرٹ میں ملبوس وہ شخص اپنے ارد گرد سے لا تعلق نظر آتا تھا۔ حرکات و سکنات اور بدن بولی سے وہ اپنے اندر کی دنیا میں گم رہنے والا لگتا تھا جسے دوڑتی بھاگتی، چیختی چلاتی، پرشور، انسانوں سے لبالب بھری دنیا سے کوئی دلچسپی نہ ہو۔
ویگن کے چلتے ہی ڈرائیور کا سگریٹ بھی سلگ اٹھا۔ نصیبو لعل کی آواز بھی مقناطیسی فیتے میں‌ سے انگڑائی لے کر جاگ اٹھی۔ اوسطا ہر تیس سیکنڈ کے بعد پریشر ہارن بھی کانوں میں‌ رس گھولتا رہا۔ ڈرائیور نے بھی شاید سوچ رکھا تھا کہ اپنی مہارت کے سارے گر وہ آج ہی آزمائے گا۔ بسوں، ٹرکوں، رکشوں، گدھا گاڑیوں کو اوور ٹیک کرتا، کسی کو گالی دیتا اور کسی سے گالی سنتا ہوا وہ اپنی منزل کی جانب گامزن رہا۔ کنڈیکٹر کی ”روک کے استاد جی“ کی آواز پر وہ سڑک کے عین درمیان بریک لگاکر مسافر اتارتا، چڑھاتا رہا تھا۔
اس سارے ہنگامے کے باوصف، وہ شخص بالکل پرسکون بیٹھا تھا۔ جیسے وہ کوئی تماشائی ہو اور تھیٹر میں‌بیٹھا، اداکاروں کی پرفارمنس سے لطف اندوز ہورہا ہو۔ بالآخر منزل آگئی۔ ویگن مسافروں سے خالی ہوگئی۔ لیکن وہ شخص بدستور گاڑی میں بیٹھا رہا۔ ڈرائیور نے سوالیہ نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا۔ اس پر اس شخص نے مندرجہ بالا سوال ڈرائیور سے کیا!
ڈرائیور کی برہمی آمیز ”کیوں“ کے جواب میں وہ یوں گویا ہوا۔
”بھائی صاحب، جب آپ صبح کام پر جانے کے لئے گھر سے نکلتے ہیں تو آپ کی والدہ گھر میں سارا دن آپ کی خیریت اور سلامتی کی دعائیں کرتی ہوں گی کہ میرا بیٹا شام کو خیر خیریت سے گھر کو لوٹ کر آئے۔ اسے اللہ پاک اپنے حفظ وامان میں رکھے۔ سوچیں، اگر خدانخواستہ آپ کو کوئی حادثہ پیش آجاتا ہے، آپ زخمی ہوجاتے ہیں یا اس سے بھی بدتر صورتحال سے دوچار ہوکر جاں بحق ہوجاتے ہیں تو آپ کی والدہ کا کیا حال ہوگا؟ اب آپ اس عورت کے دکھ کا اندازہ کریں جو اپنے بیٹے، بھائی، شوہر کے انتظار میں بیٹھی ہے اور اسے پتہ چلے کہ اس کا انتظار ساری زندگی جاری رہے گا اور اس کا پیارا نہیں‌ آئے گا۔“ وہ سانس لینے کو رکا۔ ڈرائیور کے چہرے کے بدلتے رنگوں سےاندازہ ہورہا تھا کہ بات اس کی سمجھ میں آرہی ہے۔
”تو میرے بھائی!“ وہ پھر گویا ہوا، ”اگر آپ کو کسی مسافر کا یا اس کے گھروالوں کا خیال نہیں، تو کم از کم اپنی والدہ کا ہی احساس کریں۔ جو ہر شام آپ کی راہ تکتی ہیں۔ سوچیں کہ صرف پانچ، دس منٹ جلدی منزل پر پہنچنے کے لئے کہیں آپ کو ہمیشہ کے لئے دیر نہ ہوجائے“۔
یہ کہہ کر اس نے دروازہ کھولا اور ویگن سے اتر گیا!