ميں تھوڑی دير کے لئے ہال ميں ان اميدواروں کو ديکھنے لگا جو بڑی بے چينی کی حالت ميں اپنی باری آنے کا انتظار کر رہے تھے اور جو باری بھگتا کے باہر نکلتا تھا۔ اس سے بار بار پوچھتے تھے کہ تم سے اندر کيا پوچھا گيا ہے اور کس کس قسم کے سوال ہوئے ہيں؟ اور ان باہر بيٹھے اميدواروں کے چہروں پر تردد اور بے چينی اور اضطراب عياں تھا۔ ميں کھڑا ہو کر ان لوگوں کو ديکھتا رہا اور حيران ہوتا رہا کہ اگلے زمانے ميں تو لونڈی غلام بيچنے کے لئے منڈی ميں تاجر باہر سے لايا کرتے تھے۔ آج جب ترقی يافتہ دور ہے اور چيزيں تبديل ہو گئی ہيں، يہ نوجوان لڑکے اورلڑکياں خود اپنے آپ کو بيچنے اور غلام بنانے کے لئے يہاں تشريف لائے ہيں اور چيخيں مار مار کر اور تڑپ تڑپ کر اپنے آپ کو، اپنی ذات، وجود کو، جسم و ذہن اور روح کو فروخت کرنے آئے ہيں اور جب انٹرويو ميں ہمارے سامنے حاضر ہوتے ہيں اور کہتے ہيں، سر ميں نے يہ کمال کا کام کيا ہے، ميرے پاس يہ سرٹيفيکيٹ ہے، ميرے پرانے مالک کا جس ميں لکھا ہے کہ جناب اس سے اچھا غلام اور کوئی نہيں اور يہ لونڈی اتنے سال تک خدمت گزار رہی ہے اور ہم اس کو پورے نمبر ديتے ہيں اور اس کی کارکردگی بہت اچھی ہے اور سر اب آپ خدا کے واسطے ہميں رکھ ليں اور ہم خود کو آپ کے سامنے پيش کرتے ہيں۔ ميں سوچتا ہوں کہ کيا وقت بدل گيا؟ کيا انسان ترقی کر گيا؟ کيا آپ اور ميں اس کو ترقی کہيں گے کہ کسی معشيت کے بوجھ تلے، کسی اقتصادی وزن تلے ہم اپنے آپ کو خود بيچنے پر مجبور ہو گئے ہيں۔ اپنی اولاد کو اپنے ہاتھوں لے جا کر يہ کہتے ہيں کہ جناب اس کو رکھ لو۔ اس کو لے لو اور ہمارے ساتھ سودا کرو کہ اس کو غلامی اور اس کو لونڈی گيری کے کتنے پيسے ملتے رہيں گے۔ يہ ايک سوچ کی بات ہے اور ايک مختلف نوعيت کی سوچ کی بات ہے۔ آپ اس پر غور کيجيئے اور مجھے بالکل منع کيجيئے کہ خدا کے واسطے ايسی سوچ آئندہ ميرے آپ کے ذہن ميں نہ آيا کرے کيونکہ يہ کچھ خوشگوار سوچ نہيں ہے۔ کيا انسان اس کام کے لئے بنا ہے کہ وہ محنت و مشقت اور تردّد کرے اور پھر خود کو ايک پيکٹ ميں لپيٹ کے اس پر خوبصورت پيکنگ کر کے گوٹا لگا کے پيش کرے کہ ميں فروخت کے لئے تيار ہوں۔ يہ ايسی باتيں ہيں جو نظر کے آگے سے گزرتی رہتی ہيں اور پھر يہ خيال کرنا اور يہ سوچنا کہ انسان بہت برتر ہو گيا ہے، برتر تو وہ لوگ ہوتے ہيں جو اپنے ارد گرد کے گرے پڑے لوگوں کو سہارا دے کر اپنے ساتھ بِٹھانے کی کوشش کرتے ہيں اور وہی قوميں مضبوط اور طاقتور ہوتی ہيں جو تفريق مٹا ديتی ہيں۔ دولت، عزت، اولاد يہ سب خدا کی طرف سے عطا کردہ چيزيں ہوتی ہيں ليکن عزتِ نفس لوٹانےميں، لوگوں کو برابری عطا کرنے ميں يہ تو وہ عمل ہے جو ہمارے کرنے کا ہے اور اس سے ہم پيچھے ہٹے جاتے ہيں اور اپنی ہی ذات کو معتبر کرتے جاتے ہيں۔
(اشفاق احمد کے "زاویہ" سے ایک اقتباس)ہزاروں ۔۔۔۔۔۔ دم نکلے!
میری بڑی خواہش تھی اور دلی تمنا تھی کہ میں شاعر بن کر چار دانگ عالم میں مشہور ہو جاتا، ہر جگہ میری شاعری کا ڈنکا بجتا اور میری شخصیت میں، نقاد، وہ خوبیاں بھی ڈھونڈ نکالتے جو میں خود غور کرکے بھی نہ ڈھونڈ سکتا۔ مجھے یورپ اور امریکہ سے مشاعرے پڑھنے کے دعوت نامے، بمعہ ٹکٹ، موصول ہوتے اور میں سال کے آٹھ مہینے اپنے پرستاروں کے ساتھ دنیا بھر میں گزارتا۔ میرے اعزاز میں شامیں منعقد کی جاتیں، جن میں میرے فن اور شخصیت پر اتنی شدید روشنی ڈالی جاتی کہ میری آنکھیں چندھیا جاتیں۔ تقاریب کے اختتام پر مجھے اپنے ساتھ ٹہرانے پر محفلوں میں دنگے ہوجاتے، خواتین میرے ایک آٹوگراف کے لئے دو دو گھنٹے انتظار کرتیں، میرے کھانے اور "پینے" کا عمدہ سے عمدہ انتظام کرنے کا مقابلہ ہوتا۔ شام ڈھلے کے بعد والی محافل میں کی جانے والی میری رطب و یابس میں سے بھی معرفت کے نکتے ڈھونڈ کر ان پر سر دھنے جاتے! لیکن وائے حسرتا!
میں شاعر بھی ذوق جیسا بننا چاہتا تھا نہ کہ چچا غالب جیسا کہ جن کی ساری زندگی بے قدری اور نارسائی کا ماتم کرنے میں گزر گئی۔ اب اگر ان کے مختصر سے دیوان پر لوگ ہزاروں صفحے تعریف کے بھی لکھ ڈالیں، لاکھوں، کروڑوں خرچ کرکے ان پر فلمیں، ڈرامے بنا ڈالیں، تو اس کا چچا کو کیا فائدہ؟ جب ضرورت تھی تو بے چارے قرض کی مے پی کر اپنی فاقہ مستی کے رنگ لانے کا انتظار کرتے کرتے دنیا سے پدھار گئے۔ جبکہ ان کے "شریک" شہ کے مصاحب بن کر ان کے سینے پر مونگ دلتے رہے۔ان میں "دو ٹکے کی ڈومنی" کے ناز اٹھانے کی بھی سکت نہ تھی، جبکہ یار لوگ حرم کے حرم سنبھالے بیٹھے تھے!
تو بھائی! ایسی شاعری اور ایسی مشہوری مجھے قطعا نہیں چاہئے تھی۔ میں تو نونقد والے سودے کا گاہک تھا نہ کہ تیرہ ادھار والے کا۔ میں تو فیض جیسی مقبولیت اور چاہت کا دیوانہ تھا نہ کہ مجید امجد جیسی گمنامی اور بے بسی کا۔ لیکن ایک مشکل پھر درپیش ہوئی۔ شاعر ہونے کے لئے عروض کے "علم دریاؤ" کا شناور ہونا بھی ضروری تھا۔ پر میں تو اس میں غوطہ لگا کر بھی خشک ہی رہا تو دل نے سمجھایا کہ میاں صاحبزادے! تیرے بس کی نہیں یہ شاعری۔ کچھ اور کر۔ مرتا کیا نہ کرتا، کچھ الم غلم لکھنا شروع کیا۔ لیکن نثر لکھ کے مشہور ہونا تو جی بہت مشکل ہے۔ یوسفی کو دیکھ لیں، ساری عمر ہوگئی لکھتے، لکھا بھی ایسا کہ مثال مشکل ہے۔ لیکن اب جاکے ٹی وی پر آنے لگے ہیں تو لوگ کہتے ہیں کہ یار یہ بابا جو بڑی مزے کی باتیں کرتا ہے، ہے کون؟ کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا۔۔۔۔ دوسری طرف وصی شاہ صاحب ہیں، لڑکیوں کے دل کی دھڑکن (کچھ لڑکوں کے بھی دل کی دھڑکن)، ٹی وی سکرین پر ہمہ وقت موجود، کنگن گھماتے گھماتے شہرت کی سیڑھیاں ایسی چڑھے کہ ساتویں آسمان پر پہنچ گئے۔ اگرچہ ان کا کنگن بھی کسی کے بُندے کو ڈھال کے بنایا گیا تھا!
اب سوچتا ہوں کہ نثر لکھ کے تو بہت دیر میں شہرت ملے گی اور اس کنگھی کی طرح ہوگی جو گنجے ہونے کےبعد ملتی ہے یا پھر اس دنیا سے کنارہ کرنے کے بعد لوگوں کو میرے ادب پاروں کی اہمیت کا احساس ہوا تو بھلا مجھے اس کا کیا فائدہ ہوگا؟ اس لئے اپنے مداحوں سے گزارش ہے کہ جو کرنا ہے ابھی کرلیں۔ میری اعزاز میں تقاریب منعقد کرنی ہیں، قیمتی تحائف نذر کرنے ہیں، ڈالر، یورو، درہم سے بھرے لفافے دینے ہیں، امریکہ ، یورپ کے ادبی دوروں پر بلوانا ہے اور اس کے بدلے میں میری تحاریر میں اپنی تعریفیں لکھوانی ہیں، تو جلدی کریں۔۔۔۔
زندگی،گھڑی پل کا کھیل ہے۔۔۔۔!!
پسران بوم
اس وقت ہمارے ساتھ ٹیلی فون لائن پر موجود ہیں، ٹی ٹی آباد کے ناظم جناب مرتضی جلال، جن کا تعلق ایم بی ایم (میرا بھائی موومنٹ) سے ہے۔
"السلام علیکم! مرتضی صاحب۔۔۔"
"وعلیکم السلام"۔۔۔
ہم آپ سے پوچھنا چاہیں گے کہ سوختن بازار میں لگنے والی آگ اتنی جلدی کیسے بجھا لی گئی؟
دیکھئے۔۔۔ مرتضی جلال جب کام کرتا ہے تو دن رات کی پرواہ نہیں کرتا، مرتضی جلال پچھلے ایک سو چوالیس گھنٹوں، ون ہنڈرڈ اینڈ فارٹی فور آورز، اٹس اے لاٹس آف ٹایم یو نو! ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ مرتضی جلال وہاں خود موجود رہا۔ فائر فائٹرز کی ہیلپ کرنے کے لئے، ان کو گائیڈ کرنے کے لئے۔ پانی ختم ہوجاتا تھا تو میں ان کو ہائیڈروجن اور آکسیجن مکس کرکے پانی بنا کے دیتا تھا۔ آپ لائیں کوئی ایسی مثال، فرام دی ہسٹری آف مین کائنڈ۔۔۔ آئی ایم شیور، یو کانٹ۔۔۔۔۔
لیکن کچھ تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ آپ اتنے عرصے سے نظامت کے فرائض انجام دے رہے ہیں، لیکن پھر بھی آپ کوئی ایسا نظام کیوں نہیں بنا سکے جس میں ناظم کو بذات خود موجود نہ رہنا پڑے اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں میں پانی بھی موجود رہے؟
دیکھئےےےےے۔۔۔ تنقید کرنا بہت آسان ہے۔ اینی ون کین کریٹی سائز۔۔۔ ان الو کے پٹھوں کو کہیں، خود آکے ذرا کام کرکے دیکھیں ۔۔۔ ان کی ۔۔۔۔ ٹوں ٹوں ٹوں۔۔۔ یہ سمجھتے کیا ہیں خود کو۔۔۔ یہ سارے ۔۔۔ ٹوں ٹوں ٹوں۔۔۔۔ ہیں۔۔۔ اس سے پہلے ٹی ٹی آباد کے ناظمین کا ریکارڈ اٹھا کے دیکھیں۔۔۔ کسی ۔۔۔ ٹوں ٹوں ٹوں۔۔۔ نے کوئی کام کیا ہو تو مجھے بتائیں۔۔۔
لیکن مرتضی صاحب، ایک ٹرم کے سوا تو آپ کی پارٹی کی ہی سربراہی رہی ہے۔ انجنیئر مقصود جبار، مہتاب شیخ وغیرہ۔۔۔۔ اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ اور صبغت اللہ خاں نے کام کرنے کا کلچر یہاں متعارف کروایا تھا، اس تاثر پر آپ کی رائے؟
یہ صبغت اللہ اور اس کی پارٹی،دہشت گرد ہیں۔ دے آر سمپلی ٹیررسٹ۔ یو گو وزٹ سی آئی اے ویب سائٹ۔ یو ول فائنڈ آؤٹ ہاؤ ڈینجرس دے آر۔۔۔ ابھی کل ہی مادام ایمبیسڈر مجھ سے ملی ہیں۔ شی آلسو ٹولڈ می دیٹ دیز پیپل آر ویری ڈینجرس۔۔۔
(قطع کلامی کرتے ہوئے) لیکن مرتضی صاحب میرا سوال تو کچھ اور تھا۔۔۔
آپ مجھے بات نہیں کرنے دیتے، میں جب بول رہا ہوں تو آپ کیوں بیچ میں اینٹرپٹ کرتے ہیں۔۔۔ ہماری آواز کو کیوں دبایا جاتا ہے۔ اپنی آنکھوں سے تعصب کی پٹی اتاریں۔ ہمیں ہمارا حق دیں۔ وی وانٹ آور رائٹس۔۔۔۔
آپ پر چند لوگ یہ بھی الزام لگاتے ہیں کہ آپ غصہ بہت کرتے ہیں اور گالیاں بھی دیتے ہیں؟
(چلاتے ہوئے) کون ۔۔۔ٹوں ٹوں ٹوں ٹوں۔۔۔۔ کہتا ہے کہ میں غصے کا تیز ہوں۔۔۔ کس ۔۔۔۔ ٹوں ٹوں ٹوں ۔۔۔۔ کو گالیاں دی ہیں میں نے؟؟ ٹیل می ہو دیز ۔۔۔۔۔۔ٹوں ٹوں ٹوں۔۔۔ آر۔۔۔ آئی ول سی دم ۔۔۔۔
پچھلے چند دنوں سے ٹی ٹی آباد میں ٹارگٹ کلنگ کی وارداتیں زور پکڑ چکی ہیں، تجزیہ نگار ان کو اتحادی جماعتوں کی آپسی لڑائی قرار دے رہے ہیں، آپ اس پر کیا کہتے ہیں؟
دیکھئے، وی ڈو ناٹ بیلیو ان ٹارگٹ کلنگ، کیونکہ ٹارگٹ تو خطا بھی ہوسکتا ہے۔ وی بیلیو ان سلیکٹڈ کلنگ۔ اس میں غلطی کی گنجائش نہیں رہتی اور بے گناہ لوگ جان سے نہیں جاتے۔۔۔۔۔
آپ کا بہت بہت شکریہ مرتضی جلال صاحب ۔۔۔۔
یہ تھے مرتضی جلال ، ٹی ٹی آباد کے ناظم جو شہر کی تازہ ترین صورتحال بیان کررہے تھے!!!!!!
من چلے کا سودا ۔ ایک اقتباس
سراج: میں تو کہتا ہوں کہ اس دنیا میں کوئی اصلی آدمی، کوئی اصلی رہبر، اصلی ہادی ہے ہی نہیں۔
ارشاد: آپ اپنی طلب درست کرلیجئے، اصل آدمی مل جائے گا۔ خود بخود آجائے گا آپ کے پاس۔۔۔ کرایہ خرچ کرکے، ٹکٹ خرید کے!
سراج: چلئے پھر ٹھیک ہے ارشاد صاحب میں دنیا سے منہ موڑتا ہوں آج سے، اسی لمحے سے ۔۔۔ دکان چھوڑتا ہوں، گھر میں نے چھوڑا ہے۔ آپ مجھے اپنا غلام بنا لیں، اپنا خلیفہ بنا لیں، یہاں ڈیرا چلائیں۔
ارشاد: مبتدی کے لیے ضروری ہے کہ وہ رزق حلال کمائے اور اپنی اور اپنے گھر والوں کی کفالت کرے۔ آگے چل کر وہ کام تو اسی طرح سے کرتا رہے گا لیکن آہستہ آہستہ اس سے علائق دنیا جدا ہوتے جائیں گے ۔۔۔ فکر اہل و عیال، اندیشہ مال و زر، حب جاہ و تمکنت سے چھٹکارا ہونے لگے گا۔ جب تعلق اور جگہ ہوجائے گا تو یہ کام فروعی رہ جائیں گے اور فروعی کاموں کا عمر بھر کوئی بوجھ نہیں ہوتا۔
سراج: اصل میں بات یہ ہے ارشاد صاحب کہ میں کرامت کی تلاش میں آپ کے پاس آیا تھا اور عامر صاحب نے مجھے یہی امپریشن دیا تھا۔ لیکن افسوس مجھے آپ سے وہ حاصل نہیں ہوا جو میری آرزو تھی۔ آپ تو مجھے پھر میری دلدل میں واپس بھیج رہے ہیں، گہری اور گوڈے گوڈے کھوبو دلدل میں!
ارشاد: (حیرانی، خوشدلی اور خوش اسلوبی سے مسکراتے ہوئے اسے دیکھتا ہے)
سراج: یہ عامر صاحب بھی بڑے بھولے آدمی ہیں۔ کہتے تھے کہ سارے جالے اتر جائیں گے، بات شیشہ ہوجائے گی ارشاد صاحب سے مل کر۔ یہاں تو سواہ بھی نہیں!
ارشاد: میل جول رکھیں سراج صاحب، آتے جاتے رہیں۔ کیا پتہ آپ سے ہمیں کچھ فائدہ ہی پہنچ جائے ۔۔۔ کوئی راہ ہی سیدھی ہوجائے ہماری۔
سراج: خدا نہ کرے میں اب یہاں قدم رکھوں یا پھر کبھی آؤں اس طرف۔ وہ تو قصہ ہی ختم ہوگیا۔ میری تو خواہش تھی کہ آپ مجھے یہاں رکھتے، اپنا خلیفہ بناتے۔ ہم یہ ڈیرا چلاتے، لوگوں کی مدد کرتے۔ لیکن آپ تو مجھے رزق حلال کمانے کو کہہ رہے ہیں۔ حد ہوگئی! میں دنیا چھوڑنی چاہ رہا ہوں، آپ وہی پکڑا رہے ہیں۔
ارشاد: میں آپ کو کلہاڑی اور رسی سے زیادہ اور کیا دے سکتا ہوں سراج صاحب!
سراج: (غصے سے) او جی میں نے کیا کرنی ہے کلہاڑی اور رسی! سر میں مارنی ہے؟
(غصے کے ساتھ اٹھتا ہے اور "ہونہہ" کہہ کر باہر نکل جاتا ہے)۔
ایک انتخابی تقریر
میرے بزرگو، دوستو، ساتھیو، تائیو، چاچئیو، پھپھڑو، خالوؤ ۔۔۔ (یہاں ایک وقفہ لے کر لمبا سانس لیں) السلام علیکم۔ (مجمع کے وعلیکم السلام کہنے کا انتظار کریں، اگر مجمع چپ رہے تو ان کو خود ہی گناہ ہوگا!) میں آج آپ کی خدمت میں پھر حاضر ہوا ہوں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ منظر نامہ کے بہترین نئے بلاگ کے لئے ووٹنگ کی کل آخری تاریخ ہے۔ اس تاریخی موقع پر میں آپ کی خدمت میں چند ہوش ربا انکشافات کے ساتھ حاضر ہوا ہوں۔ (یہاں ایک چھوٹا سا وقفہ لے کر گلے کا والیم فل کھول دیں) میرے بھائیو، آپ جانتے ہیں کہ یہ (سینے پر ہاتھ مار کر) بک تو سکتاہے، جھک بھی سکتا ہے، لیکن کٹ نہیں سکتا! میری ہی قربانیوں سے آج بلاگستان کا نام پوری دنیا میں روشن ہے۔ (یہاں لہجے میں تھوڑی سی رقت لائیں) پوسٹیں لکھ لکھ کر میری انگلیاں سوا سوا انچ گھس چکی ہیں۔ مسلسل جاگنے کے سبب میرا منہ, فٹے منہ ہوچکا ہے۔ لیکن میرے دوستو! مجھے اپنی کوئی پرواہ نہیں، میں اس بلاگستان کے لئے اپنی جان بھی قربان کرسکتا ہوں (اپنی شرٹ کے بٹن جھٹکے سے توڑ ڈالیں، اگر تالیاں بجیں اور نعرے لگنے لگیں تو مکے لہرانا شروع کردیں ورنہ ٹھنڈ رکھیں!)۔
میرے مقابلے میں جن بلاگرز نے الیکشن لڑنے کی ٹھانی ہے، میں نہایت احترام سے ان کے کرتوت بھی آپ کے سامنے لانا چاہتاہوں (لہجے میں پراسراریت سی پیدا کریں)۔ ایک بی بی ہیں، عنیقہ ناز۔ آج میں آپ کو بتادینا چاہتاہوں کہ یہ بی بی اپنی تحاریر مجھ سے ٹھیکے پر لکھواتی تھیں اور فی تحریر پونے تیرہ روپے دیتی تھیں۔ میں بھی زیادہ پیسے کمانے کی چکر میں دھڑا دھڑ ان کو تحاریر لکھ کر دیتا رہا ، اسی لئے ہر روز دو دو پوسٹیں ان کے بلاگ پر لگتی رہی ہیں (داد طلب انداز سے مجمع کی طرف دیکھیں)۔ جب میں نے ان سے کہا کہ حق محنت میں کچھ اضافہ کریں تو انہوں نے مجھے لندن سے دھمکی آمیز فون کروائے (مظلومیت طاری کریں)۔ میرے چھوٹے چھوٹے دوست ہیں(دھیان رکھیں کہیں چھوٹے چھوٹے بچے نہ کہہ دیں) لیکن میں ڈرا نہیں۔ اب انہوں نے میرے خلاف ایک اور سازش کی ہے (ایک کاغذ لہرائیں) یہ دیکھئے رابطہ کمیٹی کا سرکلر، جس میں کارکنان کو کہا گیا ہے کہ ایک ایک بندہ ۲۰ ای میل ایڈریس بنائے اور عنیقہ ناز کو ووٹ دے۔ لیکن میں بتا دینا چاہتا ہوں، اگر اس الیکشن میں، میرا بلاگ کامیاب نہ ہوا تو ہم نتائج تسلیم نہیں کریں گے۔ اصلی جمہوریت وہی ہوگی جس میں ہم کامیاب ہوں (والیم پھر فل کردیں)۔
دوسرے بلاگر خرم بھٹی صاحب ہیں۔ ان کے بارے میں تو ہر بات اظہر من الشمس ہے۔ ساتھیو (لہجے میں طنزیہ انداز لائیں) جو امریکہ میں رہتا ہو اور وہیں کام بھی کرے تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ وہ کس لابی کے زیر اثر ہوگا؟؟؟؟ ہیں جی۔۔۔۔ یہ کالا پانی اور اے بی سی ڈی ایف وغیرہ جتنی بھی ایجنسیاں ہیں، انہی صاحب کی مخبری پر میرے خلاف پاکستان میں لائی گئی ہیں، تاکہ میرا بلاگ ہیک کرکے اس پر اعجاز حشمت خان، نذیر ڈھوکی، ظہیر اختر بیدری اور خوشنود علی خان وغیرہ کے کالم چھاپے جائیں، طالبان کا نام تو ایک سموک سکرین ہے، ایک دھوکہ ہے، ایک فراڈ ہے۔ اصل میں تو یہ لوگ اس الیکشن کو انجینئرڈ کرنے آئے ہیں۔ لیکن میں ایک بات واضح کردینا چاہتا ہوں، جتنی چاہے سازشیں کرو، جعلی ووٹ بناؤ، دھمکیاں دلواؤ، چاہے میرا بلاگ ہیک ہوجائے لیکن آپ کا یہ بھائی (چھاتی پر ہاتھ ماریں) میدان نہیں چھوڑے گا۔ لڑے گا، لڑے گا، لڑے گا۔۔۔۔ (نعرے لگاتے ہوئے سٹیج سے اتریں) جیوے جیوے بلاگستان ، جیوے جیوے بلاگستان، جیوے جیوے ۔۔۔۔۔
(پیروڈی نما مزاح لکھنے کی کوشش کی گئی ہے، اسے اسی جذبے سے پڑھا جائے، کسی کی ہتک, واللہ, مقصود نہیں!!!)سینکڑا!
اگر میں کہوں کہ پچھلے دس مہینے میں، میں نے بہت کچھ سیکھا، نئے دوست بنائے، بہت سے معاملات کو نئے زاویے سے دیکھا، تو یہ غلط نہ ہوگا۔ یہ بلاگ جو بغیر کسی منصوبے اور اونچی توقعات کے شروع کیا گیا تھا، آج منظر نامہ کے بہترین نئے بلاگ کے زمرے میں نامزد ہے۔ اسی سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ فی زمانہ قحط الرجال کی صورتحال کتنی تشویش ناک ہے!
میں ایک دفعہ پھر اپنے دوستوں کا دل کی "اونچائیوں" سے شکر گزار ہوں کہ جن کی حوصلہ افزائی کے پٹرول کے بغیر اس بلاگ کی گاڑی بہت پہلے ہی بند ہو چکی ہوتی! جئے بلاگستان۔۔۔۔
(یہ انکساری بالکل مصنوعی ہے، ورنہ میرے خیال میں، مجھ سے اچھا لکھاری اس دنیائے فانی میں نہ آیا ہے اور نہ ہی آنے کی امید ہے۔ وما علینا الا البلاغ)
دودھ کا جلا
تب مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آئی تھی کہ ایسا انہوں نے کیوں کیا، ویسے سمجھ تو اب بھی نہیں آئی! کالج سے فراغت کے بعد عملی زندگی میں کودا تو پتہ چلا کہ جو کچھ میں نے بچپن سے لے کر آج تک پڑھا تھا، اسے تو میں استعمال ہی نہیں کرسکتا۔ وہ کتابیں اور اساتذہ کی باتیں تو صرف امتحان میں کامیاب ہونے کے لئے ہوتی ہیں۔ عملی زندگی میں اس کا اطلاق کرنے والوں کو "احمق" کے نام سے لکھا اور پکارا جاتا ہے!
ہوش سنبھالنے کے بعد پہلی دفعہ انتخابات کے میلے میں بڑے بڑے رہنما دیکھے اور ان کے حسین و رنگین وعدے سنے۔ تب میں نے سوچا کہ اب تو میری اور اس ملک کی قسمت بدلے ہی بدلے! لیکن نہ قسمت بدلی نہ دن۔ پھر ایک فوجی وردی میں ملبوس صاف گو سا شخص ٹیلی وژن پر نمودار ہوا اور اس نے بتایا کہ آج تک جو ہوا ہے، اسے بھول جاؤ۔ میں وہ تمام غلطیاں درست کردوں گا جو آج تک ہوئی ہیں۔ میرے دل نے کہا کہ لے بھائی! تیری اور اس ملک کی سنی گئی۔ اب تو زندگی سے لطف اندوز ہونے کی تیاری پکڑ! اللہ نے خیر کردی ہے۔ اس کے بعد کی کہانی کہنے کا حوصلہ مجھ میں نہیں!
اب کوئی اخباری کالم یا خبر یا بیان میں یاکسی ٹی وی چینل کے (لوز) ٹاک شو میں این ایف سی ایوارڈ پر داد کے ڈونگرے برسائے یا عدلیہ کے ذریعے بے رحم احتساب کےخواب دکھا کرمجھے بے وقوف بنانے کی کوشش کرے تو بھائی سن لو! میں اور بے وقوف بننے کے لئے تیار نہیں!
ڈائجسٹ، جگت اور ڈاکٹر اقبال!
"اس کے اندر کیا ہے؟" اے ایس ایف کے اہلکار نے سفری بیگ سے ایک شاپنگ بیگ برآمد کرتے ہوئے استفسار کیا۔ میں جو بورڈنگ شروع ہونے کا اعلان ہوتے ہی فورا اندر گھس گیا تھا تاکہ مجھے اس تکلیف کا اور سامنا نہ کرنا پڑے جو مجھے اپنے والد کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر ہر سال ہوتی ہے! اب پچھتا رہا تھا کہ آدھ گھنٹہ اور انتظار کرلیتا اور یہ وقت باہر گزار لیتا تاکہ تازہ دم اہلکار آدھ پون گھنٹے کے بعد ذرا تھک بھی جاتے اور اکتاہٹ کا شکار بھی ہو جاتے۔ بہرحال میں نے جواب دیا کہ جی یہ فریز کئے ہوئے کھانے ہیں۔ اس پر "فرض شناس" اور "مستعد" اہلکار نے اپنی عقابی نظریں مجھ پر جماتے ہوئے گھرکا، "ہمیں کیا پتہ اس کے اندر آپ نے کیا بھرا ہوا ہے؟" اس کے ساتھ ہی اس نے کہیں سے برف توڑنے والا ایک سوا برآمد کیا اور اپنے توندیل باس سے مخاطب ہوا کہ "سر! اسے تو چیک کرنا پڑے گا"۔ اسی دوران اس کے باس نے دوسرے بیگ کو بھی کھول لیا۔
اندر بھرے ڈائجسٹوں کے انبار کو دیکھ کر اس کے چہرے پر تمسخر آمیز مسکراہٹ آگئی۔ "کیوں جی دبئی چ تسی ایہو کم کرن جاندے او، ایہہ کم تے تسی ایتھے وی کرسکدے او"۔ باس کے اندر چھپے فیصل آباد نے انگڑائی لیتے ہوئے فقرہ اچھالا۔ ایک تو واپس جانے کی ٹینشن، پھر یہ سارا فضیحتا اوراوپر سے ڈاکٹر اقبال کی یہ نصیحت بھی کہ دل کے ساتھ عقل کا چوکیدار ضرور رکھو لیکن کبھی کبھار دل کو دل پشوری بھی کرلینے دیا کرو، ان سارے عوامل نے مل جل کر ایسی کیفیت پیدا کی جو میرے دو ہفتے کے تیار راشن کو ان اہلکاروں کے شکم میں لے جانے پر منتج ہوسکتی تھی!
اس مبینہ نتیجے کے اندوہناک اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے چہرے پرمسکینی طاری کی اوران کی جگت پر داد آمیز ہنسی نذر کرتے ہوئےدل ہی دل میں ان کو وہ کہا جو میں اصل میں کہنا چاہتا تھا! باس کو اپنی جگت کی قدرافزائی اس قدر بھائی کہ انہوں نے سر کی اثباتی جنبش سے مجھے سامان لے جانے کا پروانہ عطا کردیا۔ اور میں یہ سوچتے ہوئے بورڈنگ کاؤنٹر کی طرف چل پڑا کہ ہاں یار! واقعی اس طرح تو میں "کچھ" بھی لے جاسکتا ہوں! چلو کوئی نہیں، اگلے سال سہی!!
غیرت کا ڈھکوسلہ
صاحب نے اپنے گاؤن کی ڈوری ذرا ڈھیلی کی؛ آرام کرسی کی پشت سے سر اٹھایا اور میری طرف ایسی نظروں سے دیکھا جن میں حقارت، ترس، غصہ، افسوس، دکھ سب شامل تھے؛ پھر چنیوٹ کی بنی ہوئی منقش سائڈ ٹیبل پر دھری چاندی کی ٹرے سے کیوبن سگار اٹھایااوراسے منہ میں ڈال کر ایسے چبانا شروع کردیا، جیسے میری گردن ہو! چند ثانیے گزرنے پر سگار کو طلائی لائٹر سے سلگایا جس پر سٹڈی قیمتی تمباکو کی بو سے بھرگئی۔ اس تمام کاروائی کے دوران ان کی نگاہیں لگاتار مجھ پر جمی رہیں۔ مجھے خدشہ محسوس ہونے لگا کہ شاید آج میں اس قیمتی افریقی کافی کے مگ سے بھی محروم رہ جاؤں؛ جس سے صاحب ہر دفعہ میری تواضع کیا کرتے ہیں۔
صاحب کی ناراضگی کی وجہ وہ سوال تھا جو میں نے آتے ہی ان سے پوچھ لیا تھا کہ غیرت مند کا متضاد کیا ہوتا ہے؟ صاحب نے سگار کے پانچ چھ گہرے کش لے کر اپنے فشار خون کو نارمل سطح پر پہنچایا اور مجھ سے یوں مخاطب ہوئے۔ "کیاتم جانتے ہوکہ تمہارے جیسے مڈل کلاسیوں کا پرابلم کیا ہے؟ عزت، غیرت، اخلاقی اقدار، ایمانداری۔۔۔۔۔ مائی فٹ!!! تم لوگ اگر کسی وجہ سے اپنی کلاس سے نکل بھی آؤ تو یہ ربش مڈل کلاس مینٹیلٹی تمہارا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ اکنامکس، مائی ڈئیر اکنامکس۔ اس دنیا کی سب سے بڑی حقیقت اکنامکس ہے۔ یہ عزت، غیرت، قومی وقار، خودی سب مڈل کلاسیوں کے ڈھکوسلے ہیں۔ ان سے باہر نکلو۔ اپنے ذہن کو آزاد کرو۔ لبرل سوچ اپناؤ۔ یہی وہ طریقہ ہے جس سے ہم ترقی کرسکتےہیں"۔
یہاں تک پہنچتے پہنچتے صاحب کا سانس پھول چکا تھا؛ جذبات کی شدت سے گلے کی رگیں پھول گئی تھیں اور ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار ہوچکے تھے۔ صاحب سانس لینے کو رکے تو میں نے ہاتھ اٹھا کر قطع کلامی کی معافی چاہی اور یہ کہہ کر اجازت مانگے بغیر باہر نکل آیا۔ "اگر آپ اس سوال کا ایک لفظی جواب نہیں دے سکتے تو دومیں سے ایک کام ضرور کریں؛ لفظ "غیرت" پر پابندی لگادیں یا حروف تہجی میں سے "ب" کا حرف خارج کردیں"۔
مزید خیالات پریشاں
زرداری اے۔ فراڈ اے۔ کرمنل بی اے۔
میں اوں، ولی اللہ اوں۔ قطب اوں؛ ابدال بی اوں۔ خدمت اے، کی اے۔ پاکستانی ایں، احسان فراموش ایں۔ باوے قید یازم کے بعد ایک ای لیڈر اے؛ وہ میں اوں۔ بلکہ باوا بی کوئی اتنا بڑا لیڈر نئیں اے؛ جو بی اے میں ای اوں! زرداری اے۔ لٹیرا اے۔ قومی خزانہ اے، لوٹ لیا اے۔ میں اوں؛ ایماندار اوں۔ پنشن اے۔ ملتی اے۔ بیٹا اے۔ بڑا لیق اے۔ پیسہ اے۔ کماتا اے۔ مجے بی دیتا اے۔ مزا آتااے۔
مجے امریکہ کا ایک کالا کل ملا اے؛ کہتا اے کہ اگر میرا جیسا لیڈر ان کے ملک میں ہوتا تو ہم اس کا زندہ مجسمہ بنا دیتے! میں نے اس سے پوچھا اے۔ زندہ مجسمہ کیسے بنتا اے۔ اس نے بتایا اے کہ کنکریٹ مکسر میں ڈال کے ایک منٹ اس کو چلانا اے پھر لیڈر باہر نکال کر سکھا لینا اے۔ ایسے بنتا اے۔ میں نے بہوت سوچا اے لیکن سمجھ نئیں آئی اے!
آپ سبوں کو پتہ ہونا چائیے! میرے مرنے کے بعد باوے قید یازم کے مزار میں میری قور (قبر) ہونی چائیے۔ باوے کو نکال کر کھارادر میں بی دفنا دیں تو مشکل نئیں اے۔ اصل باوائے قوم تو میں اوں۔ باوے کی تو ایویں ہوا بنی ہوئی اے! پھر ہر سال میرے عرس پر شہزاد رائے کی قوالی اونی چائیے؛ جس پر رانی مکر جی کو دھمال بی ڈالنی چائیے! بلیک لیبل اور تکے کبابوں کا لنگر اونا چائیے۔ عرس کی سیریمونی کے آخر میں شکیرا کا کنسرٹ اونا چائیے؛ اس کے بعد میرے ایصال ثواب کے لئے عائشہ ثنا سے اجتماعی دعا کرانی چائیے!
پی ٹی وی کے خبرنامے سے پیلے جو "باوائےقوم نے فرمایا" آتا اے؛ اس میں میرے "گولڈن کوٹس" ہونے چائیں۔ مثلاً دوباتیں ایں، ایک تو میری ڈگنیٹی اے، دوسری پاکستان (سب سے پیلے پاکستان والا) کی ملک کی، ترقی اے۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ اور یہ ہونے بی میری آواز میں چائییں۔ میں آٹھ سالوں میں اتنا بولا اوں کہ اگلے دس ہزار سال تک بی یہ گولڈن کوٹس کھتم نئیں ہوں گے۔
پر مجے مالوم اے۔ ایسا نئیں ہوگا۔ یہ قوم نئیں اے؛ جانور ایں۔ اسی لئے میرے جیسا گریٹ لیڈر ملک سے باہر اے۔ ووٹ ایں۔ گنجے کو دئیے ایں، زرداری کو بی دئیے ایں۔
اور مجے صرف آرٹیکل سکس کے ڈراوے دئیے ایں!
نسوار بھرے پراٹھے
میں آج کل اگرچہ جنت میں ہوں کہ جنت میں ملنے والی نعمتیں جو ہمیں آج تک بتائی گئی ہیں، میں کم و بیش ان سے متمتع (واہ ! کیا لفظ استعمال کیا ہے) ہورہاہوں۔ لیکن میں اپنے دوستوں کو بھولا نہیں۔ اسی سلسلے میں یہ تازہ ترکیب آپ کے "اعلی" ذوق کی تسکین کے لئے پیش خدمت ہے!
ہوسکتا ہے کچھ حاسدین اس ترکیب میں سے تعصب اور نسلی و لسانی منافرت برآمد کرنے کی کوشش کریں، لیکن میرا خدا جانتا ہے کہ میں بہت نیک، پرہیز گار، غیر متعصب، قومی یکجہتی پر یقین رکھنے والا نہایت ہی عمدہ انسان ہوں! اس لئے ایسے لوگوں کے کہے پر کان نہ دھریں اور اجزاء نوٹ کرکے عنداللہ ماجور ہوں۔
اجزاء مندرجہ ذیل ہیں:
1- اعلی قسم کی نسوار
2- سبز مرچ (کافی ساری)
3- کالی مرچ (5 چمچے۔۔۔جی ہاں! وہی چمچے)
4- نمک (بالکل نہیں!)
5- بھنگ کے تازہ پتے
6- موبل آئل (اگر میسر نہ ہو تو کھانے کے تیل سے بھی کام چل جائے گا کہ زیادہ فرق تو ہوتا نہیں دونوں میں!)
7- اور ہاں! آٹا (کہ اس کے بغیر پراٹھا کیسے بنے گا۔۔۔ ہیں جی!)
فرائنگ پین میں تھوڑا سا موبل آئل ڈال کر گرم کرلیں۔ پھر اس میں نسوار ملا کر اچھی طرح بھون لیں۔ سبز مرچیں باریک کاٹ کر ملالیں۔ نسوار اچھی طرح بھوننے کے بعد چولہے سے اتار لیں۔ اگلا مرحلہ نہایت اہم ہے۔ یہ ہے آٹا گوندھنے کا۔ امید ہے کہ آپ کو آٹا گوندھنا نہیں آتا ہوگا، مجھے بھی نہیں آتا! یہ تو بڑا مسئلہ ہوگیا، اب کیا کریں؟ ایک حل تو اس سمسیا کا یہ ہےکہ آپ کسی نزدیکی تندور پر جائیں اور خشک آٹا دے کر گوندھا ہوا آٹا لے آئیں یا پھر کسی ہمسائے کا منت ترلہ کرکے اس سے آٹا گوندھوا لیں۔ بہرحال یہ آپ کا سردرد ہے۔ میں آپ کو آٹا گوندھنے کی ترکیب بتانے کا مکلف نہیں! الجبرے کی طرح فرض کرلیں کہ آٹا گوندھا ہوا ہے۔ اب پیڑے بنا کر ان کے درمیان بھنی ہوئی نسوار برابر پھیلادیں اور پیڑے کو بیلنے سے پہلے فی پراٹھا ایک چمچہ کالی مرچ کا ملانا نہ بھولیں! پراٹھے تیار کرنے کے بعد بھنگ کے تازہ پتے بلینڈر میں ڈال کر بلینڈ کرلیں اور اسے حقے کے پانی میں ملا کر "مزیدار چٹنی" تیار کرلیں۔
گرماگرم نسوار ملے پراٹھوں کو بھنگ کی چٹنی کے ساتھ پیش کریں۔ زندگی کا لطف آجائے گا!!!
بی سی جیلانی کی ڈائری کا ایک ورق
صبح جلدی اٹھنا پڑا۔ رات ناروے کے قومی دن کی پارٹی میں ناں ناں کرتے بھی پانچ چھ لگاگیاتھا۔ صبح سر درد کے مارے پھوڑا بنا ہوا تھا، اٹھتے ہی بلیک کافی سے دو اسپرین نگلنی پڑیں۔ دس بجے ہالیڈے ان میں "چائلڈ لیبر اور انسانی حقوق کی تقدیس" پر ایک سیمینار تھا۔ جس کے مہمان خصوصی کیچوؤں کے تحفظ کی وزارت پر نئے آنے والے وزیر محترم تھے۔ مجھے اپنی این جی او "آؤ سبق سکھائیں" کی نمائندگی کرنا تھی اور پیپر بھی پڑھنا تھا۔ دیو ہیکل امریکی قونصل جنرل اس تقریب کی صدارت کرنے والے تھے، لہاذا میرا وقت سے پہلے پہنچنا ازحد ضروری تھا!
فیکے کو ہزار دفعہ سمجھایا ہے کہ جوتے رات کو ہی پالش کرکے رکھا کرو، آٹھ سال کا پلا پلایا سانڈ بن چکا ہے لیکن کام کرتے ہوئے موت پڑتی ہے۔ جبکہ اس کی ماں روز آکر اس کی تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ کرتی ہے۔ ان غریبوں نے بھی ناک میں دم کرکے رکھا ہوا ہے۔ ادھر بشیر بھی ہر روز گاڑی سٹارٹ کرنے سے پہلے دو ہزار ایڈوانس مانگنا نہیں بھولتا۔ اس کی ماں بیمار ہے تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟ میں تو اسے تنخواہ وقت پر دیتا ہوں۔ میں نے کیا ساری دنیا کا ٹھیکا لیا ہوا ہے؟
آج گھر میں ایک نیا چہرہ دیکھ کر میں دل پکڑ کر رہ گیا۔ کل ماسی حنیفاں بیمار تھی اور چھٹی مانگ رہی تھی لیکن مسز جیلانی نے کہا کہ اگر چھٹی کی تو پھر پکی چھٹی کرادوں گی، شاید اسی لئے آج اس نے اپنی بیٹی کو کام پر بھیجا تھا۔ کیا مال ہے!! میں تو سوچ رہا ہوں کہ آئندہ حقوق نسواں والی واک میں اس کو "پھٹے پرانے" کپڑے پہنوا کر اس کی تصویر بنواؤں اور اس کا پوسٹر بنے گا تو بہہ جا بہہ جا ہو جائے گی۔ یہ لڑکی میرے بڑے بڑے پھنسے ہوئے کام نکلوا سکتی ہے۔ ماسی کو دس ہزار بھی دے دیا تو وہ خوش ہوجائے گی!
ڈھائی بجے سیمینار سے فارغ ہوکر گالف کلب گیا۔ کلب کے مینیجر نےفون کیا تھا کہ ایس اے فاروقی آئے ہوئے ہیں، پچھلے تین سیمینارز کے بل پھنسے ہوئے تھے۔ ایس اے فاروقی سے مل کر گزارش کی کہ حضور ۳۰ فیصد کافی سے زیادہ ہے، آدھا آپ کو دے دیں گے تو خود گنجی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا!
گرانٹ ملے بھی ایک مہینہ ہوگیاہے۔ پچھلی گرانٹ تو ساری ڈیفنس والے بنگلے کی انٹیرئیر ڈیکوریشن میں لگ گئی تھی۔ اب کیری لوگر بل سے میری بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔سننے میں آیا ہے کہ یہ گرانٹ این جی اوز کے ذریعے خرچ ہوگی۔ بس وارے نیارے ہوجائیں گے۔ پتہ نہیں کون بے غیرت لوگ غیرت غیرت کا شور مچا کر ہمارا چھابہ الٹانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان پر اللہ کی مار ہو!
آج شام کو جلدی گھر واپس آگیا، مسز جیلانی ایک کاک ٹیل پارٹی پر جانے کی تیاری کررہی تھیں، انہوں نے مجھے ساتھ چلنے کے لئے نہیں کہا، میں بھی یہی چاہتا تھا۔
ماسی حنیفاں کی بیٹی ابھی واپس نہیں گئی تھی!!!!!