عاصم بٹ / راجندر سنگھ بیدی

تب پہلی بار وہ مجھے محض ایک عام لڑکی نہ لگی، جیسا میں اسے سمجھتا آیا تھا۔ مجھے احساس ہوا کہ یہ یورپین بظاہر جتنے بے تکلف ہوتے ہیں اتنے ہی محتاط بھی، ایسے ہی کسی سے نہیں کھلتے۔ کسی سے اپنا دل کھولنا، ان کے لئے کسی کے ساتھ ہم بستری کرنے سے بھی زیادہ احتیاط برتنے کے لائق بات ہوتی ہے۔

(عاصم بٹ کی کہانی "بوڑھی راہبہ" سے اقتباس)

یہ بات نہیں کہ وہ سگھڑ سیانیوں کی طرح اپنا سارا کچھ ایک ہی دم نہ دے دینا چاہتی تھی، بلکہ کوئی بات تھی جو اُبٹنے، بندی، اخروٹ کی چھال اور رس بھریوں سے اوپر ہوتی ہے، جس کا تعلق عورت کی شکل و صورت سے نہیں ہوتا، نہ اس کی نسائیت جس کی انتہا ہے، جسے وہ دھیرے دھیرے سامنے لاتی ہے اور جب لاتی ہے، تب پتہ چلتا ہے، یہ بات تھی! جیسے اشٹم کا چاند اپنا آدھا چھپائے رہتا ہے، اور پھر آہستہ آہستہ، روز بہ روز، ایک ایک پردے؛ دُپٹے، چولی، انگیا، سب کو الگ ڈالتا جاتاہے اور آخر ایک دن، ایک رات، پورنیما کے روپ میں آکر کیسی بے خودی و مجبوری، کیسی ناداری و لاچاری کے ساتھ اپنا سب کچھ لٹا دیتا ہے۔ کیا علم النّساء علم النّجوم سے دور کی بات ہے؟ کوئی بھی علم دوسرے علم سے فاصلہ رکھتا ہے؟ جن لوگوں نے برسوں اور عادتا آسمانوں پر جھانکا، ستاروں کو دیکھا ہو، ان کی جھلمل کے ساتھ مرے، ہل مل کے ساتھ جیے ہوں، اماوس کے ساتھ مرجھائے، پونم کے ساتھ کھلے ہوں، وہی رجنی کی آنکھوں میں پلکوں کے نیچے زمینوں سے بڑی، آسمانوں سے بڑی، برق و مقناطیس کی وسعتوں میں جو راس رچائی جاتی ہے، جو بھنگڑے اور جھمر اور لڈّی ناچے جاتےہیں، ان کے راز سمجھتے ہیں ۔۔۔ وہی اشٹم کے چاند کا بھید بھی جانتے ہیں۔

(راجندر سنگھ بیدی کی کہانی "ایک چادر میلی سی" سے اقتباس)

فقیری ٹکڑے

بہت دن گزر گئے بلکہ عید بھی آکے چلی گئی لیکن کوئی ترکیب نہیں لکھی۔ ہمارے پرانے بادشاہ انگریز کہتے ہیں جی کہ کبھی بھی بہت دیر نہیں ہوتی، لہاذا پیش خدمت ہے "تازہ ترین" ترکیب!

شاہی ٹکڑے (یہ نام بہت کنفیوزانہ ہے، سننے پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی بادشاہ کو ٹکڑے کرکے اور ورق لگاکے پیش کیا جارہا ہو! ویسے اگر حالات نہ بدلے تو عن قریب شاہی ٹکڑے ایسے ہی تیار ہوا کریں گے!) تو آپ نے کھائے ہوں گے اور خوب لطف اندوز بھی ہوئے ہوں گے، آج آپ کی خدمت میں فقیری ٹکڑے پیش ہیں، تو اجزاء نوٹ کرلیں:

چار دن کی باسی روٹی کے ٹکڑے

پانی

نمک

مرچ

ترکیب بہت آسان ہے!

پیالہ، جگ یا گلاس (جو بھی میسر ہو) میں پانی ڈال کر نمک مرچ ملالیں اور باسی روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے اس میں بھگودیں۔ خیال رکھیں کہ ٹکڑے چھوٹے چھوٹے ہوں، ٹکڑے بڑے ہونے کی صورت میں ڈش کی لذت برقرار نہیں رہے گی!

باسی روٹی پر اگر پھپھوندی بھی لگی ہو تو یہ سونے پر سہاگہ والی بات ہے!

دوگھنٹے کے بعد یہ ڈش کھانے کے لئے تیار ہوجائے گی۔ اسے چکھیں! اگر اسے کھانے کے بعد آپ کو خدا یاد نہ آجائے تو پیسے واپس!

یہ ماحضر تناول کرنے کے بعد اپنے بادشاہوں کے "حق" میں "دعائے خیر" کرنا نہ بھولئے، جن کی مہربانیوں اور لطف و کرم کے صدقے ، ملک خداداد کے غیور عوام کی اکثریت ایسا "من و سلوی" دن رات کھا رہی ہے!

امرود

ہندی فلموں میں آپ نے اکثر ہیروئن کو ہوشربا ملبوسات میں توبہ شکن ڈانس کرتے تو دیکھا ہی ہوگا۔ جسے دیکھ کر آپ کا اوپر کا سانس نیچے اور نیچے کا اوپر رہ گیا ہوگا !!!
آپ یہ سوچنے میں خود کو حق بجانب محسوس کرتے گے کہ ہندوستان میں ایسی ناریاں عام چلتے پھرتے نظر آتی ہوں‌ گی تو ہندوستانیوں کی تو موجیں ہی موجیں ہیں!
بس یہیں آپ مار کھا گئے!
آپ کو کبھی پھیکے خربوزے، پلپلے امرود، سوکھے ہوئے مالٹے، اندر سے سفید تربوز کھانے کا اتفاق ہوا ہے؟
بس یہی حال ہندوستانی عورتوں کا ہے!!

مجبوری ہے!

دل تو بہت چاہتا ہے
پر لکھوں‌ گانہیں ۔۔۔
کہ نواز شریف ”اللہ کے فضل و کرم سے“ منہ میں‌گھنگھنیاں ڈال کے کیوں‌بیٹھے ہوئے ہیں؟ چینی سے لوڈشیڈنگ تک اور بلیک واٹر سے زی تک، سبھی کچھ تخم لنگاں کا شربت سمجھ کر نوش کئے جارہے ہیں۔ ہیں جی! روز نئی واسکٹ زیب تن کرکے کسی نہ کسی سفیر کے ساتھ ملاقات پھڑکانے کے علاوہ بھی سیاست میں بہت کام ہوتا ہے!
پیپلز پارٹی یک سالہ جشن صدارت پر بھنگڑے اور جھومر ڈال ڈال کر بے حال ہوئی جارہی ہے اور اسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ عوام کا کیا حال ہے!
صدر مملکت اپنی مشہور زمانہ بتیسی اور تھکی ہوئی لائن ”جمہوریت بہترین انتقام ہے“ کے زور پر ہی پاکستان کو چلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ جبکہ یہ جمہوری انتقام لیا بھی عوام سے ہی جارہا ہے ۔۔۔ ہور چوپو!
جناب وزیر اعظم جون جولائی میں بھی ڈیزائنر سوٹ زیب تن کرکے ”تاریخ“ رقم کرنے کے دعوے کررہے ہیں۔ شاید یہ رقم کمانے کی تاریخ ہو!
الطاف بھائی نے اپنی پٹاری سے اب قادیانی سانپ نکالا ہے اور چینلز پر اس کا تماشہ دکھا رہے ہیں! جبکہ ان کی بین کی آواز پر سانپ کی بجائے صاحبان جبہ و دستار مست ہوئے جارہے ہیں۔ ہمیں‌ہر جمعے قیامت اور قبر کے عذاب سے ڈرانے والوں کو خود مرنا یاد نہیں؟
یادش بخیر، ریٹارٹڈ کمانڈو، بادشاہ سلامت کے حضور “سب سے پہلے پاکستان کے لئے رحم کی درخواست کرتے ہوئے بالکل “بھاگ لگے رہن، دوارے وسدے رہن“ کی تصویر بنے بیٹھے ہیں! اگر آپ بھول چکے ہوں‌ تو یاد کرائے دیتا ہوں کہ یہ وہی عظیم شخصیت ہیں جو فرعون کے سگے برادر نسبتی کے لہجے میں ٹی وی پر تین تین گھنٹے ”مجے ڈر نئیں لگتا اے“ کی گردان کیا کرتے تھے!
اور پھر ”شباز ساب“ ہیں! جو دن رات کھجل ہوتے پھرتے ہیں، ون مین شو کا اتنا شوق بھی اچھا نہیں‌ہوتا! اپنی پروجیکشن کے چکر میں سارے سسٹم کا بیڑہ غرق بھی ہوجائے تو کوئی بات نہیں، اگلا الیکشن تو جیت جائیں‌گے ناں! وزیر اعلی کا کام سستے آٹے کی لائنیں سیدھی کروانا ہے یا ایک ایسا نظام تشکیل دینا ہے جو میرٹ اور انصاف کو یقینی بنائے!
اور پھر اپنے مشہور زمانہ ”جسٹس کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ نشانہ“ ہیں۔ بحالی کے بعد مزے سے ٹھنڈے کورٹ روم میں بیٹھ کے عزت کا کلچہ کھا رہے ہیں۔ لاپتہ افراد کیس، پٹرول، چینی، این آر او، آٹا، بجلی، ۔۔۔۔۔۔۔ چپ کر جا۔۔۔ توہین عدالت میں اندر ہونا ہے۔۔۔
لکھنا تو اور بھی بہت کچھ چاہتا ہوں لیکن
مجبور ہوں‌کہ
میرے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں!!!

ہونے کی گواہی کے لئے ۔۔۔

ہونے کی گواہی کے لئے خاک بہت ہے
یا کچھ بھی نہیں ہونے کا ادراک بہت ہے
اک بھولی ہوئی بات ہے اک ٹوٹا ہوا خواب
ہم اہل محبت کو یہ املاک بہت ہے
کچھ دربدری راس بہت آئی ہے مجھ کو
کچھ خانہ خرابوں میں مری دھاک بہت ہے
پرواز کو پر کھول نہیں پاتا ہوں اپنے
اور دیکھنے میں وسعت افلاک بہت ہے
کیا اس سے ملاقات کا امکاں‌ بھی نہیں اب
کیوں ان دنوں میلی تری پوشاک بہت ہے
آنکھوں میں ہیں محفوظ ترے عشق کے لمحات
دریا کو خیال خس و خاشاک بہت ہے
نادم ہے بہت تو بھی جمال اپنے کئے پر
اور دیکھ لے وہ آنکھ بھی نمناک بہت ہے
(جمال احسانی)

چیخوف کی چیخیں اور پکوڑے

”ڈارلنگ! کیا بات ہے! آج تو بڑی خوبصورت لگ رہی ہو“۔ شوہر نے بیوی کے ملگجے لباس، الجھے ہوئے بالوں اور وحشت زدہ چہرے پر پیار بھری نظر ڈالتے ہو کہا۔
اس تعریف کا منبع، شوہر کی بیوی سے والہانہ محبت کی بجائے، فطری تقاضوں سے وہ محرومی تھی، جس کا وہ اکثر اپنی زوجہ کی مصروفیات، بقراطیات اور افلاطونیات کی وجہ سے شکار رہتا تھا۔
بیوی نے شوہر پر ایک نگاہ غلط انداز ڈالی اور یوں مخاطب ہوئی۔ ”کل رات میں روسو کی ”جنگ اور امن“ کا مطالعہ کررہی تھی۔ کیا تمہارے علم میں ہے کہ اس نے ”کساد بازاری اور ادب کے جدلیاتی عمل کی حسیت“ پر کتنا عمدہ لکھا ہے؟ چیخوف کی ”جنت گم گشتہ“ بھی اس کے سامنے پانی بھرتی نظر آتی ہے۔ والٹئیر نے ”بادشاہت کی مفصل تاریخ“ میں‌ اس چیز پر روشنی ڈالی ہے کہ انسان اور پکوڑے کس طرح جدلیاتی عمل اور داخلی حسیت کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ تب سے یہی سوچ رہی ہوں کہ شعوری رو، لاشعور کی طرف بہتے ہوئے اپنے ساتھ کیا کیا بہا کر لے جاتی ہے! کساد بازاری نے ادب کو جس طرح متاثر کیا ہے، عنقریب میری لکھی ہوئی کتاب کے اوراق کو لوگ پکوڑے لپیٹنے کے لئے استعمال کیا کریں گے“۔ یہ کہہ کر اس نے ٹھنڈی سانس بھری اور دوبارہ ضخیم ڈکشنری کے مطالعے میں غرق ہوگئی!
شوہر کے چہرے کے تاثرات چغلی کھا رہے تھے کہ وہ انتہائی سنجیدگی سے اپنے بال نوچنے کے آپشن پر غور کررہاہے! لیکن فی الوقت اس نے اس آپشن کو التوا میں ڈالا اور ایک کوشش اور کے مصداق تھوڑا سا کھسک کر اپنی بیوی کے ذرا اور پاس ہوگیا۔ بیوی اس سے بالکل بے خبر ڈکشنری میں گم تھی! شوہر نے اپنے لہجے میں 55 روپے کلو والی چینی کی تمام تر شیرینی سموتے ہوئے بیوی کے کان میں سرگوشی کی۔ ”جان! چلو آج کہیں باہر چلیں، کھانا کھائیں گے، انجوائے کریں گے، فلم دیکھیں گے“۔ تس پر بیوی نے غضب ناک ہوکر جواب دیا۔ ”تو کان میں پھونکیں مارنے کی کیا ضرورت ہے؟ سیدھی طرح منہ سے نہیں پھوٹ سکتے؟ دانت بھی صاف نہیں کرتے، کیسی مہک آرہی ہے منہ سے۔۔۔ اونہہہ۔۔۔۔“۔ شوہر کھسیانا سا ہوکر ہنسنے لگا۔ بیوی کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے اس نے ایک بار پھر اس کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن بیوی نے جب اسے یہ کہا کہ ”ذرا سر کے بائیں جانب کھجاؤ، لگتا ہے جوئیں پڑ گئی ہیں!“
تو مجازی خدا کے تمام رومانی جذبات، اس پر تین حرف بھیج کر دفان ہوگئے!!!

مچلکہ برائے نیک چلنی

منکہ مسمی جعفر، حال مقیم حال دل، بقائمی ہوش وحواس اقرار کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی کسی سیاسی موضوع پر لکھنے کا پاپ نہیں‌کروں گا۔ کبھی کسی پر تنقید نہیں‌ کروں گا۔ سب کی تعریف کروں گا۔ تمام نقطہ ہائے نظر کو درست مانوں گا چاہے ایک دوسرے کی ضد ہی کیوں نہ ہوں! بھٹو کو بھی شہید سمجھوں گا اور ضیاء الحق کو بھی۔ بے نظیر کو دختر مشرق اور نواز شریف کو قائد اعظم ثانی سمجھوں‌گا۔ پرویز مشرف کو پاکستان بچانے والا اور اسلام کا سپاہی سمجھوں گا۔الطاف حسین کو اپنے زمانے کا سب سے ذہین، راستباز، حق پرست اور بے باک لیڈر سمجھوں‌گا۔ منظور وٹو کو پاکستان کا سب سے دیانتدار شخص سمجھوں‌گا (اگر چہ صدرپاکستان اس اعزاز کے زیادہ مستحق ہیں لیکن وہ کچھ 14 سال قید کا چکر ہے، اس لئے ان کا نام نہیں لکھا)۔ بریگیڈئیر بلے کو نشان حیدر دینے کی پرزور سفارش کروں‌گا۔
اور بھی لوگ جو کہیں اور لکھیں‌گے، میں‌پیشگی ان سے متفق ہونے کا اعلان کرتا ہوں!
فدوی
جعفر

بارے کچھ ذکر سوئی اٹکنے کا

”بات 1992 کے آپریشن سے شروع ہوتی ہے“۔ یہ کہہ کر اس نے گہرا سانس لیا، پہلو بدلا اور یوں گویا ہوا۔ ” جدید انسانی تاریخ میں اس سے بڑا ظلم ، اس سے بڑی زیادتی کسی قوم نے کسی کے ساتھ نہیں کی ہوگی۔ قائد تحریک کے مطابق 15 ہزار افراد نے جام شہادت نوش کیا، لاکھوں افراد زخمی ہوئے، کروڑوں کو قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں، اربوں ۔۔ اوہو ۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ لوگوں کی بہت بڑی تعداد کو روزگار سے محروم ہونا پڑا۔ مرے پر سودرّے کے مصداق، ہمیں غدار بھی ٹھہرایا گیا اور جناح‌پورکے نام سے نئی ریاست بنانے کا الزام لگایا گیا۔ اس سارے ظلم کا ذمہ دار کون تھا؟ نواز شریف! اس نے ہمیں دھوکہ دیا، اسی کے ہاتھ پر معصوموں کا خون ہے، وہی ہے جو ہزاروں عورتوں کے بیوہ ہونے اور بچوں کے یتیم ہونے کا سبب ہے۔ اگر قائد تحریک بروقت ایجنسیوں کے ارادے بھانپ کر فرار ۔۔ نہیں ۔۔ نہیں ۔۔ میرا مطلب ہے، ہجرت نہ کرجاتے تو ان کو شہید کردیا جاتا اور ان کا مزار عظیم احمد طارق کے پہلو میں بنایا جاتا“۔
یہاں تک پہنچتے پہنچتے اس کا سانس پھول چکا تھا۔ شدت جذبات سے اس کا رنگ قرمزی جھلک دینے لگا تھا۔ میں نے اپنے دوست کو پانی کا گلاس پیش کیا۔ پانی پی کر جب اس کے اوسان بحال ہوئے تو میں نے عرض کی۔ ”آپ کی باتیں دل پر اثر کرتی ہیں، ہولو کاسٹ کے بعد 1992 کا آپریشن انسانی تاریخ کا بدترین المیہ ہے۔ اس کے ذمہ داروں کو کڑی سے کڑی سزا دی جانی چاہئے۔ اگرچہ جانے والے واپس نہیں آیا کرتے، لیکن ان کے پسماندگان کو یہ سکون تو ہوگا کہ ان کے پیاروں پر ظلم کرنے والے کیفر کردار کو پہنچ گئے ہیں“۔ یہ کہہ کر میں نے پہلو بدلا، سگریٹ سلگایا، گہرا کش لے کر نتھنوں سے دھواں نکالتے ہوئے دوبارہ اپنی بات شروع کی۔ ”لیکن یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ وہی قائد تحریک ہیں، وہی نواز شریف ہے، لیکن اب 1997 ہے! اب دونوں پھر شیروشکر ہوچکے ہیں۔ کیاصرف پانچ سالوں میں‌ہی قائد تحریک تاریخ کے اس سب سے سے بڑے ظلم پر بقول شجاعت حسین ”مٹی پاء“ چکے تھے؟؟؟ آگے چلتے ہیں! 1994 میں‌نصیر اللہ بابر کے دور میں‌جو کچھ ہوا، اس کے نوحے ابھی تک پڑھے جاتے ہیں۔ کراچی میں‌ باقاعدہ دو فوجوں کی جنگ ہوئی جس میں‌جنگی قیدیوں کے تبادلے بھی ہوئے۔ اللہ بخشے بے نظیر نے قائد تحریک کو چوہے کے لقب سے بھی نوازا۔ کیا صرف قبرستان میں فاتحہ پڑھنے سے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں؟ یا یہ کسی گرینڈ ماسٹر کی سکیم آف تھنگز ہے؟‌یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کربلا کے مجرموں میں سے شمر تو ملعون ہو اور ابن زیاد، مفاہمت کے این آر او کے بعد دوست اور رحمۃ اللہ علیہ ہوجائے؟“
میرے دوست کا رنگ بدل گیا، اس کے چہرے پر غیظ و غضب کے آثار نظر آنے لگے۔ اس نے میز پر مکا مارا اور چلاتے ہوئے کہنے لگا۔ ”بات 1992 کے آپریشن سے شروع ہوتی ہے۔ جدید انسانی تاریخ میں اس سے بڑا ظلم ، اس سے بڑی زیادتی کسی قوم نے کسی کے ساتھ نہیں کی ہوگی۔ قائد تحریک کے مطابق 15 ہزار افراد نے جام شہادت نوش کیا، لاکھوں ۔۔۔۔

ٹیگو ٹیگ - (ہفتہء بلاگستان - 6)

. آپ کا نام یا نک؟ اگر اصل نام شیئر کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔
جعفر
2. آپ کے بلاگ کا ربط اور بلاگ کا نام یا عنوان؟ بلاگ کا عنوان رکھنے کی کوئی وجہ تسمیہ ہو تو وہ بھی شیئر کر سکتے ہیں۔
نام یہی ہے جہاں‌ آپ اسے پڑھ رہے ہیں اور ربط بھی یہی ہے۔ وجہ تسمیہ کا مطلب پتہ نہیں مجھے، تو جب تک مطلب پتہ نہ ہو تو کیسے جواب دے سکتا ہوں
3. آپ کا بلاگ کب شروع ہوا؟
اسی سال شاید فروری میں۔
4. آپ اپنے گھر سے کون سے ایک ، دو یا زائد لوگوں کو بلاگنگ کا مشورہ دیں گے یا دے چکے ہیں؟ ربط پلیز
اتنا بے وقوف نہیں ہوں میں۔
5. کوئی ایک ، تین یا پانچ یا زائد ایسے موضوعات جن پر لکھنے کی خواہش ہے مگر ابھی تک نہیں لکھ سکے یا آئندہ لکھنا چاہیں ؟
میں موضوعات پر لکھ ہی نہیں سکتا، یاویاں ہی مارسکتا ہوں لہذا ہر طرح کے موضوع پر لکھنے کی خواہش ہے جو پوری ہونا ممکن نہیں۔
6. آپ کا بلاگ اب تک کس کی بدولت فعال یا زندہ ہے ؟ آپ خود یا کوئی دوسرا نام ؟ (مؤخرالذکر کی صورت میں نام بھی لکھ دیں۔ اگر ربط دیا جا سکتا ہے تو ربط بھی)
قارئین کی وجہ سے۔
7. اپنے موبائل سے کم از کم کوئی ایک ، تین یا پانچ اچھے ایس ایم ایس شیئر کریں
پچھلے پانچ ایس ایم ایس نہایت ذاتی قسم کے ہیں، انہیں شئیر کرکے چھتر کھانے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا!
8. آپ کی اردو زبان سے دلچسپی کس نام کے سبب سے ہے ؟ (استاد ؟ گھر کا کوئی فرد؟ یا کوئی دوسرا نام؟ یا کوئی الگ وجہ ؟)
مجبوری ہے، کسی اور زبان میں لکھ نہیں‌سکتا!
9. کیا آپ اردو بلاگ دنیا روزانہ وزٹ کرتے ہیں اور مختلف بلاگز کسی ترتیب سے وزٹ کرتے ہیں یا جو بھی بلاگ سامنے آ جائے؟ اپنا بلاگنگ روٹ شیئر کریں ۔
جی ہاں، سب سے پہلے اپنا بلاگ، ڈفر، عمر بنگش، خاور کھوکھر، راشد کامران، اردو سیارہ، وہاں سے پھر جو بھی نئی پوسٹ ہو۔
10. آپ کے بلاگ پر پہلے پانچ یا دس تبصرہ نگار کون سے تھے؟
عدیل، بلو بلا، ڈفر، تانیہ رحمان، شعیب سعید شوبی
11. ہفتہ بلاگستان یا اردو بلاگ دنیا سے مختلف تحریروں پر ہونے والے تبصروں میں سے چند دلچسپ یا مفید تبصرے شیئر کیجیے۔ ربط دینا نہ بھولیں ۔
یہ سوال بلاگنگ پر پی ایچ ڈی کروں گا تو ہی اس کا جواب لکھ سکتا ہوں۔ اتنی تحقیق ابھی کرنے کا وقت نہیں!
12۔ ہفتہ بلاگستان کے بعد اب ہم “یوم بلاگستان” منایا کریں گے آپ کے خیال میں “یوم بلاگستان” ہر ہفتہ میں ایک دن منایا جائے یا ہر ماہ میں ایک دن منایا جائے؟
جیسا آپ کا دل چاہے!
14. مختلف بلاگرز کو کوئی شعر یا جملہ انہیں ٹائٹل کے طور پر منسوب کریں۔
ڈفر: بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالب
خاور: لوک دانش
راشد کامران: ادیب
میرا پاکستان: سیاستدان (اچھے معنوں میں!)
عمر بنگش: یاراں دا یار
آپی: آپا وڈی
بدتمیز: انتہائی میسنا!
خرم بھٹی: دانشور
اسماء: یکے والی
انیقہ ناز: بھیجہ فرائی
14۔ ہفتہ بلاگستان اور بلاگ دنیا میں شامل تحریریں جو آپ کو پسند آئی ہوں؟
راشد کامران کی تمام تحاریر، ڈفر کی اکثر تحاریر، خاور کھوکھر کی تمام تحاریر مگر خاص طور پر ”پیجا حرام دا“، عمر بنگش کی چوٹی پرت۔ اور بھی بہت سی جو ابھی ذہن میں‌نہیں۔
15۔. کن بلاگرز کو آپ کے خیال میں باقاعدگی سے لکھنا چاہیے ؟
مجھے!
16. بلاگ دنیا میں آپ اپنا کردار کس انداز میں ادا کرنا چاہتے ہیں یا کر رہے ہیں؟
میرا کردار تو سائیڈئیے کا ہے جو میں بخوبی ادا کررہا ہوں۔
17۔ ہفتہ بلاگستان کے بارے میں آپ کے تاثرات
زبردست
اب میں ٹیگ کرتا ہوں
راشد کامران
عمر بنگش
خاور کھوکھر
غفران
آپی

کھلا خط بنام سہراب مرزا - (ہفتہء بلاگستان - 5)

عزیزی!
بمشکل پہلے اندوہناک سانحہ سے جاں بر ہوا ہی تھا کہ آپ کی تصویر دیکھ لی!
واللہ اگر آپ میری دسترس میں‌ ہوتے تو آپ کا وہ ”حالاں“ کرتا کہ آپ کی ”چیکاں“ نکل جاتیں! اس طرح کی صحت پر آپ نے جتنی بڑی چوٹی سر کرنے کی ٹھانی ہے اس پر آپ کو کالے پانی کی سزا دی جانی چاہئے! اور آپ کے والدین کی سمجھداری کی بھی داد دینے کو جی چاہتا ہے کہ جانتے بوجھتے (شاید) اکلوتے بیٹے کو موت کے منہ میں‌ دھکیل رہے ہیں۔
آپ کی صحت سے لگتا ہے کہ آپ آج تک اپنی بیکری سے صرف بند ہی کھاتے رہے ہیں۔ بندے کو کبھی کھلا بھی کھا لینا چاہئے!
آپ کے نام پر بھی یہاں لوگوں کو بہت اعتراض ہیں اور وہ آپ کا نام لے کر معنی خیز انداز میں ہنستے رہتے ہیں۔ ہنسنے کی وجہ دریافت کرنے پر سہراب سائیکل فیکٹری شاہدرہ لاہور کا حوالہ دے کر دوبارہ واہیات انداز میں قہقہے لگانے لگتے ہیں! مجھے سمجھ تو نہیں آئی لیکن یقینا کوئی بےہودہ بات ہوگی!
سب سے اہم بات یہ ہے کہ شادی کے بعد (اگر ہوئی تو) آپ کی زوجہ کیک، پیسٹریاں اور کریم رول وغیرہ کھا کھا کر وزن اور حجم میں ہیبت ناک اضافہ کرسکتی ہیں، جس سے آپ کا دل تو کھٹا ہوگا ہی، میرے جیسے عشّاق کا دل بھی کرچی کرچی ہوجائے گا!
آخر میں آپ سے دردمندانہ اپیل ہے کہ اپنی نہ ہونے کے برابر جوانی پر ترس کھائیں اور اس کام میں‌ ہاتھ نہ ڈالیں جس میں شرمندگی کے علاوہ جان جانے کا بھی خدشہ ہو!
فدوی
آپ کی ہونے والی زوجہ کا عاشق زار
(چاہیں تو اس فقرے پر بھی غیرت کھا سکتے ہیں آپ!)

اصلی والی ترکیب - (ہفتہء بلاگستان - 4)

میں تمام احباب سے ان کی مایوسی پر پیشگی معافی چاہتا ہوں!
یہ ایک واقعی کھانے کی ترکیب ہے جس کی ایجاد کا سہرا ضرورت اور مجبوری کے سر جاتاہے۔ خاور صاحب نے بھی ایک ”چھڑا سٹائل“ فٹافٹ کھانے کی ترکیب لکھی ہے جو مجھے بہت پسند آئی ہے لہذا آج شام وہ ڈش بنے ہی بنے!
بہرحال کھانے کی جو ترکیب میں آپ کو بتانے جارہاہوں یہ بالکل میرے بھیجے کی پیداوار ہے۔ لہذا پکانے سے پہلے یقین کرلیں کہ آپ واقعی یہ کام کرنا چاہتے ہیں!
اس کے اجزاء میں ایک پیاز، ایک ٹماٹر، چند سبز مرچیں، تھوڑی سی بند گوبھی، دو درمیانے سائز کے آلو، تھوڑے سے مٹر، دو گاجریں، ایک شملہ مرچ، چھ انڈے، نمک، کالی مرچ، کوکنگ آئل اور سویا ساس شامل ہیں۔
ساری سبزیاں باریک باریک کاٹ لیں۔ آلو ایسے کاٹیں‌جیسے چپس بنانے کے لئے کاٹے جاتے ہیں۔ سبزیاں ایک پتیلی میں ڈال کر ساتھ ہی کوکنگ آئل ملادیں اور پتیلی پر ڈھکن دے کر ہلکی آنچ پر پکنے دیں۔ سبزیاں گلنے پر نمک، کالی مرچ اور سویا ساس حسب ذائقہ ملادیں۔ ساتھ ہی انڈے بھی ملادیں۔ انڈے ملانے کے بعد زیادہ چمچ نہ چلائیں۔ جب سفیدی اور زردی دونوں پک جائیں تو آپ کی ڈش تیار ہے۔
اس ڈش کو آپ چاول، روٹی یا میکرونی کے ساتھ کھا سکتے ہیں۔
اگر مزیدار ہو تو یہ میرا کمال ہے اور نہ ہو تو آپ کا قصور!
دوستوں نے مختلف بلاگز پر میری تراکیب کے بارے میں جو حسن ظن ظاہر کیا، میں اس پر ان کا مشکور ہوں۔ بلکہ چند دوستوں نے تو اسی انداز میں چند تراکیب لکھ بھی ڈالیں ہیں، اس پر میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ
میں ہوا کافر تو وہ کافر مسلماں ہوگیا!!!

بلاگ شلاگ - (ہفتہء بلاگستان - 3)

اردو بلاگنگ سے میرا تعارف ایک اتفاق تھا۔ یہ اتفاق حسین و رنگین تھا یا غمگین و سنگین، اس کا اندازہ آپ خود لگائیں!
گوگل پر کچھ تلاشتے ہوئے نظر ڈفرستان کے نام پر پڑی تو میں چونکا کہ ہیںںںں۔۔۔ یہ کیا؟ وہاں پہنچا تو پہلے تو سمجھنے میں‌ کچھ وقت لگا کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔ تحریر مزیدار لگی۔ عنوان پر کلک کیا تو تبصروں پر نظر پڑی، ان کو پڑھتے ہوئے آخر تک پہنچا تو ایک دھچکا نما خوشی ہوئی کہ میں بھی اس تحریر پر اپنا لچ تل سکتا ہوں۔ اپنا کچھ لکھا ہوا، شائع ہوا دیکھ کر کتنی خوشی ہوتی ہے، پہلی دفعہ علم ہوا!
باقی بلاگروں کا علم بھی وہیں سے ہوا۔ بس پھر چل سو چل۔ ڈفر نے ہی شاید کسی تبصرے کے جواب میں مجھے بلاگ بنانے کی ”اشکل“ دی تھی۔ یہاں پر آکر پاک نیٹ والے عبدالقدوس اس کہانی میں داخل ہوتے ہیں۔ ورڈپریس ڈاٹ پی کے، کے بلاگ پر ”اپنا بلاگ حاصل کریں“ لکھا دیکھا اور بس پھر اللہ دے اور بندہ لے۔
شروع میں میرا خیال تھا کہ شاید یہ سلسلہ زیادہ دیر نہ چل سکے کہ میں‌نے زندہ رہنے کے سوا مستقل مزاجی سےکوئی کام نہیں‌کیا۔ بقول منیر نیازی ”جس شہر میں بھی رہنا، اکتائے ہوئے رہنا“ لیکن اس شہر میں‌ دل ابھی تک لگا ہوا ہے! اس کی وجہ شہر کے رنگ برنگے مکین ہیں، جو آپ کو تپا تو سکتے ہیں لیکن آپ ان سے اکتا نہیں سکتے!
میری بچپن سے منڈلی جمانے کی عادت تھی۔ ملک چھوڑا تو منڈلیاں بھی وہیں‌ رہ گئیں۔ ملک سے باہر، غم روزگار سے ہی فرصت نہیں ملتی، کہ بندہ، غم جاناں کا کچھ بندوبست کرسکے۔ میری یہ کمی بلاگستان نے پوری کردی۔ یہاں آپ جیسی منڈلی چاہیں، جما سکتے ہیں۔ آئنسٹائن کے نظریہ اضافیت کی منڈلی سے استاد مام دین گجراتی کے مشاعرے تک جہاں آپ کا دل چاہے ٹھہر جائیں اور جب آپ کا دل چاہے نو دو گیارہ ہوجائیں۔
میرا بلاگنگ میں آنا کسی عظیم مقصد، نصب العین اور ایسے ہی دوسرے بھاری بھرکم الفاظ جو مجھے اس وقت یاد نہیں آرہے، کی وجہ سے نہیں ہوا۔ اس کی وجہ صرف اپنے ”ساڑ“ نکالنا تھا، جو اگر بندے کے اندر رہیں تو اسے اندر سے ”ساڑ“ دیتے ہیں، اور اندر سے سڑا ہوا بندہ، نہایت خطرناک ہوتاہے! تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں نے معاشرے کو ایک خطرناک بندے سے پاک کردیا ہے اور یہ بھی کوئی ایسا برا مقصد نہیں!
آخر میں میری دعا ہے کہ اللہ کسی اور بلاگر کو مشہور کرے نہ کرے
مجھے ضرور کردے
مجھے مشہور ہونے کا بہت شوق ہے!