اردو کی 'وِچکارلی' کتاب - دیباچہ

غالباً اسمعیل میرٹھی نے 'اردو کی پہلی کتاب' لکھی تھی اور استاد الاساتذہ ابن انشاء نے 'اردو کی آخری کتاب'۔ اگرچہ ان حضرات نے اپنے تئیں سارے دریا، جھیلیں، ندیاں، ڈیم، بحور وغیرہ کوزے میں بند کردیئے تھے لیکن اہل نظر (یعنی ہم) جانتے تھے کہ اس ضمن میں ابھی بہت سا کام کرنا باقی ہے۔ ہم نے بہت وقت اس انتظار میں گزارا کہ شاید کوئی اس کام میں ہاتھ ڈالے لیکن صد افسوس کہ کوئی مائی کا لال یا ابّا کی بنّو (محاورات میں دورجدید کے تقاضوں کے مطابق ترامیم بھی زیر نظر کتاب میں شامل ہوں گی) اس بھاری پتھّر کو نہ اٹھا سکے, بنا بریں ہمیں خود ہی ہمّت کرنی پڑی اور لنگر لنگوٹ وغیرہ کسنا پڑا۔ اگرچہ ہمارے لئے یہ کام کوئی ایسا کٹھن نہیں تھا لیکن ہم صرف یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ عصر حاضر میں شاید ایسا جواں مرد یا زنِ ذہین ہو جو ہمارا ہم عصر کہلانے کے لائق ہو، لیکن ۔۔۔ اے بسا آرزو کہ خاک شد۔۔۔ ہیں جی۔۔۔

ہم گاہے بہ گاہے یعنی کَدَی کَدَی (وہی 'مَوکَا ملے کَدَی کَدَی' والا) اس کتاب کے لئے مضامین اسی بلاگ پر تحریر کریں گے۔ جن کو بعد میں کتابی شکل میں چھاپا جائے گا(بشرطیکہ ہمیں ہی کسی چھاپے وغیرہ میں نہ اٹھا لیا جائے)۔ چونکہ ہم درویشی/ فقیری قسم کی طبیعت رکھتے ہیں اس لئے اس کتاب کی رائلٹی وغیرہ سے ہم اللہ کی شان دیکھنے بلاد یورپ و امریکہ وغیرہم جائیں گے جہاں سیر و سیاحت اور فاسق و فاجر فرنگنوں کو دیکھ کر حصولِ عبرت برائے آخرت، جیسے نیک مقاصد پورے کئے جائیں گے۔ ہم اس بات پر بھی عمیق و دقیق غور کررہے ہیں کہ ان اسفار بارے تین چار چَوندے چَوندے سفرنامے بھی پھڑکائیں جن کے ہر تیسرے صفحے پر 'وَن سَوَنِّی' فاسق و فاجر فرنگی دوشیزائیں ہم پر موسلادھار طریقے سے عاشق ہوں جیسے اپنے چاچا جی پر ہوا کرتی تھیں اور بخدا کارٹون والے معصوم سے چاچا جی کے سفرنامے جب ہم نے ذرا بڑے ہونےپر پڑھے تو ہمیں چاچا جی کے میسنے پن پر بیک وقت غصّہ اور پیار آیا۔ اس بیک وقت غصے اور پیار کی وجوہات بیان کرنے کا یہ موقع نہیں، اسے کسی اور موقع پر اٹھا رکھتے ہیں!

اس کتاب کے فلیپ پر اپنی آراء چھپوانے کے لئے دنیا کے بہت سے عظیم ادباء، شعراء و مصنفین نے ہم سے رابطہ کیا جن میں گاما بی اے، فیجا لُدّھڑ ، طافو طمنچہ، شادا پوٹھوہاری، ماجھو ٹھاہ، ببّن کراچوی، ناجا لاہوری، چاچا چُوئی، مائیکل ٹُن، جارج گھسیٹا وغیرہم شامل تھے، لیکن چونکہ ہم ایسی سستی تشہیر پر یقین نہیں رکھتے اس لئے ہم نے ان سب عظیم ہستیوں سے معذرت کرلی۔ اب سب کو دو دو ہزار اور کتاب کے پچاس مفت نسخے کون دیتا پھرے! ویسے بھی ادب عالیہ کے عظیم نثرپاروں کو کسی ریویو وغیرہ کی محتاجی نہیں ہوتی کیونکہ جادو وہ جو سرچڑھ کے بولے اور ۔۔آہو۔۔۔

کتاب کے نام کی وجہ تسمیہ فوکویاما بھائی جان کا وہ نظریہ ہے جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ تاریخ کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ لہذا اصولی طور پر اب تاریخ کو پیچھے کا سفر کرنا چاہیے تو آخری کتاب سے پیچھے جاتے ہوئے پہلے 'وچکارلی' کتاب ہی آنی چاہیے، اسی لئے ہم نے اس نام کو موزوں جانا۔ ویسےبھی چاچو شیکسپئیر نے فرمایا تھا کہ نام میں کیا رکھاہے اور گلاب (اس نکتے پر ذرا غور کریں کہ چاچو کو کیسے پتہ تھا کہ میں نے اپنا گریویٹار گلاب رکھنا ہے۔۔۔!!!! یہاں آپ (اپنے) منہ سے ۔۔ ڈھن ڈھنااااان۔۔۔ کا میوزک بھی بجا سکتے ہیں ) کو جس نام سے بھی پکاریں وہ گلاب ہی رہتا ہے۔ لہذا اگر اس کتاب کا نام 'ٹریکٹر کو 'پَینچر' کیسے لگاتے ہیں؟' یا 'برسات کے موسم میں ملیریا سے بچاؤ کی حفاظتی تدابیر اور روح افزا کے فائدے' بھی ہوتا تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑنا تھا۔

آخر میں ہم اپنا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اپنے نہایت قیمتی وقت کو خرچ کرکے آپ جیسے کم پڑھے لکھے، سطحی سوچ کے حامل اور عقل کے پورے لوگوں کے لئے اس کتاب کو لکھنے کا ارادہ کیا! جئے ہم۔۔۔۔

دُر شاباش!

سيلاب شيلاب تو آتے ہي رہتے ہيں۔ اہم بات يہ ہے کہ اپنے موقف سے انحراف کرنا، باپ بدلنے کے مترادف ہوتا ہے، کم ازکم حاجي صاحب نے تو يہي ثابت کيا ہے! اسي بات پر حاجي صاحب کے لئے دُر شاباش!

شاہي سيّد نے فرمايا ہے کہ يہ اردو بولنے والے 'بھيّا لوگ' پناہ گزين ہيں! جيسے ان کے اور ہمارے محترم باچا خان، وفات پانے کے بعد بھي جلال آباد ميں پناہ گزين ہيں۔ شاہي سيّد کے لئے بھي ايک عدد دُر شاباش!

آپ کے اور ہمارے، ہم سب کے پيارے، الطاف انکل نے ايم پي اے رضا حيدر کے قتل پر، پرامن يوم سوگ کي اپيل کي تھي۔ ان کے پيروکاروں نے بھرپور طريقے سے اس اپيل پر عمل کيا! اس ڈسپلن اور تنظيم اور يقين محکم پيدا کرنے پر الطاف انکل کے لئے دُر شاباش! (يہ الطاف انکل کي پندرہ کروڑويں دُر شاباش ہے)

شہباز شريف عرف خادم اعلي عرف عائشہ ہني کے ڈارلنگ عرف بيٹھي ہوئي آواز نے کہا ہے کہ سيلاب زدگان کي مدد کے لئے ناجائز دولت لوٹنے والوں سے پيسہ اگلوانا چاہيے۔ ان سے پوچھنا صرف اتنا ہے کہ يہ کام مياں شريف مرحوم کريں گے۔؟ اس کے ساتھ ہي انہوں نے تين ہزار سات سو ترپن ويں دفعہ خوني انقلاب آنے سے آگاہ کيا۔ يہ انقلاب، شايد اس سيلاب کے بعد آہي جائے کہ خدا کے گھر دير ہے، اندھير نہيں! خادم اعلي کے لئے بھي ايک عدد تازہ تازہ دُر شاباش!

صدرپاکستان اينڈ کو، کو کسي دُر شاباش کي ضرورت نہيں!

سمجھ تو آپ گئے ہوں گے!

ایک دن 'اوئے' کے ساتھ

(احمقانہ پس پردہ موسیقی)۔۔۔روحیل کھڑپینچ کی آواز, پس پردہ موسیقی پر اوور لیپ کرتی ہے۔۔۔''آج ہام آپ کی ملاقات جس شخصیت سے کرووائیں گےےےے، وہ ہار فن مولا ہیںںںں۔ ڈاکٹر صابر ایوان کا نام کون نئیں جانتااااا۔(احمقانہ موسیقی اوورلیپ کرتی ہے) نامور ماہر قنون ہیںںںں۔ ججوں کے ساتھ ڈریکٹ کنکشن راکھتے ہیں۔ ان کے بارے میں ماشہور اے کہ نسواری کو بھی بری کرووالیتے ہیںںںں۔ (موسیقی اوور لیپ)۔ آپ نے یونی وسٹی آف کوکوبانگو سے اخلاقیات میں پی ایچ ڈی کی ی ی اور فوجداری مقدموں میں بڑا نام پیدا کیاااا۔آیئے ان سے ملتے ہیںںںں۔''

ڈرائنگ روم میں صابر ایوان اور روحیل کھڑپینچ آمنے سامنے بیٹھے ہیں۔ کھڑپینچ کی آواز اوور لیپ کرتی ہے۔۔۔۔'' پیلے ہم نے آنڈوں پرونٹھوں کا ناشتہ کیااااا۔۔۔ پھر ہم نے دودھ پتّی کے دو دو مگّے پیےےےے۔۔۔ اس کے بعد لسّی کا ڈُوھڑ (ڈیڑھ) گلاس پیااااا۔۔۔ پھر ہمیں نیند آگئی ی ی (خرّاٹوں کی آواز اوور لیپ) اور ہم بارہ بجے اٹھے۔۔۔احمقانہ موسیقی۔۔۔ پھر صابر ایوان سے گپ شپ شروع ہوئی ی ی ''۔۔۔

آپ پر اَلزام لگایا جاتا اے کہ آپ نے وزیر اعظم زلفی کی پھانسی پر مٹھیائیاں بانٹیں تھیںںںں، آپ اس پر کیا کہتے ہیںںںں؟

جی نہیں۔۔۔ یہ بالکل جھوٹ ہے۔ اصل ماجرا یوں ہے کہ جناب زلفی شہید، کی شہادت کے دوسرے دن میں نے ان کی غائبانہ رسم قل کا اہتمام کیا تھا، کیونکہ اس دن بوجہ چھٹی، سبزی منڈی بند تھی، لہذا پھلوں کا بندوبست نہ ہوسکا،بنابریں ختم قل شریف کے بعد حاضرین محفل میں گلاب جامنیں اور برفی وغیرہ بانٹی گئی تھی، اتنی سی بات تھی جس کا حاسدین نے بتنگڑ بنا دیاہے۔۔۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ جناب نسواری کے مخالفین یہ چاہتے ہیں کہ ان کے مخلص ساتھیوں کی کردار کشی کرکے ان کو پارٹی سے نکالا جائے اور جناب نسواری کی ساکھ مجروح کی جائے، لیکن میں یہ بتادینا چاہتا ہوں کہ ایسا صرف میری نعش پر سے گزر کر ہی ہو سکتا ہے۔ (وفور جذبات سے صابر ایوان کی داڑھی میں موجود سفید دھاری پھڑکنے لگتی ہے)

یہ بتائیں کہ ایک طرف تو آپ بی ٹی وی پر اسلامی لییکچر دیتے ہیںںںں، دوسری طرف جناب ناصف ولی نسواری کے وکیل بھی رہے ہیںںںں (آنکھیں میچ کر، ناک سکوڑ کر اور ہونٹوں کو گول کرکے) کیا یہ کھُولا تاضاد نئیں اے؟

مجھے آپ کے اس سوال سے تعصب، عناد، تنگ نظری اور انتہاپسندی کی بو آتی ہے، سو آئی آبجیکٹ اینڈ ریفیوز ٹو آنسر اٹ۔۔۔

روحیل کھڑپینچ کی آواز اوور لیپ کرتی ہے۔۔۔۔ صابر ایوان گسّے میں آگئےےےےے۔۔۔ انہوں نے لنچ کے لئے میری فرمیش پر کریلے گوشت پکوائے تھےےےے ۔۔۔لیکن انہوں نے کریلے گوشت کی ہوا بھی نہیں لگوائی ی ی ی۔۔۔۔  اور مُجے آلو اور کدّو کی بھجیا کھانے پر مجبور کردیاااا۔۔۔ جس پر ہامیں مجبورا پاروگرام مختصر کرنا پڑاااا۔۔۔

اگلے پاروگرام میں ہام آپ کی ملاقات ماشہور اداکارہ صیمہ سے کرائیں گےےےے۔۔۔ اس وقت تک کے لئے اجازت دیجیےےےے ۔۔۔ اللہ حافظ

ہیرو / ہیروئن – ادبی و تحقیقی مقالہ

فی زمانہ ادب کی صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ اس میدان میں سنجیدگی کے ساتھ تحقیقی، تنقیدی اور تعمیری کام کیا جائے، ورنہ بے ادبی فروغ پاتی جائےگی جو بنیادی اخلاقیات کے لئے سخت ضرر رساں ہے۔ اسی تناظر میں ہم نے اس میدان میں پاؤں دھرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ زیر نظر مقالہ، زنانہ ڈائجسٹوں کے ہیرو اور ہیروئن کی بنیادی کرداری خصوصیات، نفسیات، مابعد الطبیعیاتی تحلیل نفسی وغیرہم پر مشتمل ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا یہ کارنامہ ادبی دنیا میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ہر عظیم انسان کی طرح ہمیں بھی اپنے منہ میاں مٹھو بننا بالکل پسند نہیں اس لئے ہم اپنی تعریف کو مستقبل کے نقّاد پر چھوڑتے ہوئے مقالے کا آغاز کرتے ہیں۔

ہیروئن: حُور کا دنیاوی ورژن، اتنی حسین کہ روزانہ محلے کے بیس پچیس لڑکے اسے یونیورسٹی/کالج آتا جاتا دیکھ کر وفات پاتے ہوں اور یوں اس کا محلہ، وہ نازی کیمپ لگے جہاں روزانہ درجنوں کے حساب سے یہودی مارے جاتے تھے، اس سے یہ مطلب نہ نکالا جائے کہ ہیروئن یہودیوں کے محلے میں رہتی ہے۔۔۔سرو قد جبکہ اس کی سہیلیوں میں امرود قد، بیری قد، بانس قد، مالٹا قد وغیرہ شامل ہوں، رنگت جیسے شہد میں دودھ ملا ہو، جھیل (یعنی تربیلا، منگلا، راول، کاغان وغیرہ بلکہ جھیلوں کی کمی کے پیش نظر قدرت نے عطا آباد جھیل بھی بنا دی ہے!) جیسی آنکھیں جن میں صرف ہیرو ہی ڈوبتاہے اس سے پہلے کسی کو توفیق نہیں ہوتی، بال گھٹنوں سے ذرا نیچے اور زیادہ تر شاہ کالے جبکہ کبھی کبھار ہلکے براؤن اور ہیرو اکثر یہ فرمائش کرتا پایا جاتا ہو کہ اسے ان زلفوں کی چھاؤں میں زندگی بسر کرنے دی جائے، ناک ستواں نہ کہ پھینی، موتیوں جیسے دانت، گھنی پلکیں، ہنستے ہوئے گالوں میں ڈمپل، بولے تو منہ سے پھول جھڑیں جبکہ ہنسے تو موسیقی بجنے لگے (اس سے یہ نتیجہ نہ نکالا جائے کہ ہیروئن کا تعلق گانے بجانے والے گھرانے سے ہے!)، جب بھی ہیروئن اور ہیرو سامنے آئیں تو ہوائیں چلنے لگیں، سلوموشن میں دوپٹہ اڑنے لگے، پرندے گانے لگیں (چڑیاں وغیرہ، کوّے نہیں!) اور زوبی ڈُو ہونے لگے، جبکہ ولن کی آمد کی صورت میں سکُوبی ڈو۔۔۔ سگھڑاپے میں پی ایچ ڈی کی حامل، یونیورسٹی / کالج میں بوجہ حسن و اخلاق و ذہانت نہایت ہردلعزیز، آلو بتاؤں سے لے کر زعفرانی قورمے تک اور دال ماش سے ہرن کے کبابوں تک ہر ڈش پر کامل عبور، سلائی کڑہائی میں ید طولی، ہمیشہ فاختئی، کتھئی، کیلوی، سیبی، سنگتری، آمی، آڑوی، بینگنی، بھنڈوی، کدوؤی رنگ کے ملبوسات زیب تن ، ہیرو کو آخری صفحے تک بھائی جان کہنا، اکیلے بیٹھ کر فلسفے میں سوچنا (اس کی مثالیں اگلے کسی مقالے میں بیان کی جائیں گی)، والدین کی اکلوتی اولاد، امیر ہونے کی صورت میں والدین زندہ، جبکہ غریب ہونے کی صورت میں صرف باپ جس نے ماں بن کر پالا۔۔۔ عبادت گذار، محلے میں میلاد شریف کی محافل میں بطور خاص بلوائی جانے والی، نام ایسا اچھوتا کہ پتہ نہ چلے کہ یہ کسی خاتون کا نام ہے یا کسی یونانی دوا، افریقی دریا یا انڈونیشیائی بلا کا۔۔۔ مثلا فارمینہ، جسورہ، زلائنہ وغیرہم۔۔۔

ہیرو: دراز قد (کم از کم چھ فٹ)، کھلتا ہوا گندمی رنگ، مردانہ وجاہت کا کامل نمونہ کہ عمران خان بھی جس کے سامنے پانی بھرے، گہرے بھورے ، ہلکے نیلے یا 'سن وے بلوری اکھ والیا' جیسے رنگ کی آنکھیں، زیادہ تر داڑھی مونچھ منڈا لیکن کبھی کبھی ہلکی مونچھیں، ورزشی جسم، بازوؤں کی پھڑکتی ہوئی مچھلیاں، خوش لباس، ہر کھیل کا ماہر (ہر کھیل کے معاملے میں دماغ زیادہ نہ دوڑائیں، حالات اچھے نہیں چل رہے!)، یونیورسٹی / کالج کا سب سے ذہین طالبعلم، نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں سر فہرست، ہیروئن غریب ہو تو دنیا کے سب سے امیر باپ کا بیٹا اور ہیروئن کے امیر ہونے کی صورت میں اس کائنات کا سب سے مفلوک الحال انسان، جس کی بیوہ ماں کپڑے سی کرگھر چلا رہی ہو (لیکن ملبوسات دونوں صورتوں میں یکساں ہی رہیں گے)، بَلا کا خوددار (یہ بَلا بھی پتہ نہیں کون سی بَلا ہوتی ہے، چڑیل،ڈائن، اینا کونڈا، جن، بھوت۔۔ اس پر بھی ایک تحقیقی مقالہ لکھنا پڑے گا!)، دوستوں کا ایک بڑا گروپ جس میں صرف ایک ہی خاص دوست جو ہر مشکل صورتحال کو آسان بنانے کے لئےہمیشہ کمربستہ، شریف ایسا کہ بابرہ شریف کو شرمائے، لڑکیوں میں مغرور کے نام سے مشہور جبکہ حقیقت میں نہایت منکسر المزاج، نام ایسا کہ کم ازکم پڑھنے والے نے زندگی میں پہلی بار سنا ہو (از قسم روحال، صارم، یارق، زلیب وغیرہ)، ہیروئن کے ملنے سے پہلے ہر لڑکی کو بہن سمجھنے والا، بلکہ اگر ہیروئن کزن وغیرہ نکل آئے تو اس کو بھی نکاح نامے پر دستخط کرنےسے پہلے بہن ہی سمجھنے والا، بہادر، روشن خیال، نماز روزے کا پابند۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔۔۔

مندربہ بالا خصوصیات پر مشتمل انسان ان ڈائجسٹوں میں ہیرو/ہیروئن کے درجے پر فائز ہوتے ہیں۔ عام زندگی میں یہ ساری خصوصیات تلاش کرنے کے لئے کم ازکم پینتیس سال اور ڈیڑھ کروڑ افراد چاہییں۔۔۔

چکّر

(شاہ زاد کے قلم سے)


چکّر باز دنیا۔۔۔۔ آخر میں اتنا چکرایا ہوا کیوں ہوں؟۔۔۔ لوگ کہتے ہیں جو چکّر دنیا کو دیئے ہیں، وہ واپس آرہے ہیں۔ میں کہتا ہوں ، چلو اچھا ہے۔۔۔ دنیا میں دیا چکّر دنیا میں واپس مل جائے۔ پر خود یہ دنیا چکّر کھا رہی ہے سورج کے گرد۔۔۔ پھر یہ کیا چکّر ہے؟ یہ سمجھنے کی کوشش کرتے کرتے کم ازکم میں تو چکرا گیا ہوں۔۔۔
شیطان نے امّاں حوّا کو چکّر دیا تو یہ چکّر شروع ہوا، جو آج تک بس چکّر پہ چکّر کھا رہا ہے۔۔۔
چکّر شاید کسی گول چیز کو کہتے ہیں جس کا کوئی سرا نہ ہو، پھر تو سارا مسئلہ ہی ختم ہوگیا، جس کا سرا کوئی نہیں تو اس کا اختتام کیا ہوگا۔۔۔ میں سوچتا ہوں کہ شاید سوال حل ہوگیا پر پھر بھی سوال وہی رہے گا کہ یہ چکّر آخر ہے کیا۔۔!
زندگی ایک بہت بڑا چکّر ہے، شاید پینسٹھ سال کا یا ساٹھ سال کا۔ اس کے اندر تین چکّر ہیں، بچپن، جوانی اور بڑھاپا۔ پھر ان چکّروں میں کچھ اور چکّر ہیں، جیسے بچپن میں معصومیت کا چکّر۔۔ اپنی معصومیت دکھا کے ایک روپیہ لینے کا چکّر۔۔۔ اور نرم گالوں پر پیاری پیاری آنٹیوں کی پپّیوں کا چکّر۔۔۔ یہ چکّروں میں سب سے بادشاہ چکّر ہے!
پھر جوانی کا چکّر شروع ہوجاتا ہے۔ یعنی آپ چھوٹے چکّر سے اور بڑے چکّر میں آگئے، جیسے فزکس میں ایک الیکٹران اپنے مدار کو چھوڑ کر بڑے مدار میں جاتاہے تو بہت انرجی ضائع کرتا ہے۔۔ بس۔۔۔ آپ بھی ان چکّروں میں بہت سی انرجی ضائع کرنے والے ہیں کیونکہ اس چکّرمیں آپ کے چکّر الجھنے والے ہیں۔ جی چکّر ہی چکّر۔۔۔ پہلے محبت کا چکّر۔۔۔ پھر لڑکی کے گھر کے چکّر۔۔ پھر شادی کا چکّر۔۔۔پھر اس کے بعد بچوں کے پیمپر لانے کے چکّر۔۔۔ ان کو سکول چھوڑنے کے چکّر۔۔۔ ان کی دیکھ بھال کے چکّر۔۔۔ اتنے چکّر کہ بس آپ کو ایک دو بار خود اسپتال کے چکّر لگانے پڑ جاتے ہیں۔۔۔
اور پھر آخری قبرستان کا چکّر۔۔۔ جو صرف وہاں آپ کو چھوڑنے جانے والوں کے لئے ہے۔۔۔ کیونکہ آپ کا چکّر تو وہاں ختم ہوجاتا ہے۔۔۔۔!

فیرہُن؟

ہمارے یہاں، پچاس کے بعد، جب اولاد جوان ہوجاتی ہے، بیوی، ماں کا روپ دھار لیتی ہے، بہن بھائی اپنی اپنی زندگیوں میں مگن ہوجاتے ہیں، والدین یا تو گزر چکے ہوتے ہیں یا اس کی تیاریوں میں ہوتے ہیں تو بڑا مشکل وقت شروع ہوجاتا ہے جی عمر کے اس حصے میں۔ بچّے، جو اب بڑے ہوچکے ہوتے ہیں، اپنی ساری کمیوں اور ناآسودگیوں کا ذمہ دار باپ کو ٹھہراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ نے آج تک ہمارے لئے کِیا ہی کَیا ہے ؟؟؟۔۔۔ اور وہ جو پوری زندگی، دن رات محنت کرکےاور اپنا آپ مار کے ان کی خواہشیں ہر ممکن حد تک پوری کرنے کی کوشش کرتا رہا تھا، اس کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔۔۔۔!

بیوی کو بھی وہ سارے ظلم اور زیادتیاں یاد آنی شروع ہوجاتی ہیں جو بقول اس کے، شوہر نے ساری زندگی اس پر روا رکھیں۔ 'مُنّے کے ابّا' پکارنے والی محترمہ اب اپنا ہر جملہ یہاں سے شروع کرتی ہیں کہ 'اجی کبھی زندگی میں کوئی کام ڈھنگ سے بھی کر لیا کرو'۔۔ اور یہ بات وہ اپنی اولاد کے جھرمٹ میں ملکہ کی طرح بیٹھ کر ارشاد کرتی ہیں اور وہ یہ بھی کہہ نہیںسکتا کہ جن کے بل پر آپ یوں اکڑ رہی ہیں، یہ ڈھنگ کے کام بھی اسی نے کیے تھے!

مرے پر سو دُرّے۔۔۔۔۔کسی بھی مسئلے ،معاملے، جھگڑے، خوشی، غمی میں باپ ہمیشہ ایک طرف اور ماں اور اولاد دوسری طرف ہوتی ہے۔ باپ ہمیشہ غلط ہوتا ہے، ماں چاہے جتنی بھی غلط بات کررہی ہو، اولاد کی نظر میں وہ ٹھیک ہوتی ہے۔ تھوڑے بہت فرق کے ساتھ یہ کہانی تقریبا ہر گھر کی کہانی ہے۔

میرے نزدیک تو جی اس مسئلے کا ایک ہی حل ہے کہ بندہ عین جوانی میں ہی مرجائے، یہی کوئی پینتیس چالیس کے آس پاس، اس وقت بچے چھوٹے ہوتے ہیں اور چھوٹے بچوں کے لئے ان کے باپ سے زیادہ کوئی چیز اہم نہیں ہوتی اس دنیامیں۔ بچوں کے لئے باپ، دنیا کا سب سے بہادر، امیر اور اچھا انسان ہوتا ہے۔ وہ تو جب بچّے بڑے ہوجاتے ہیں تو ان پر باپ کی خامیاں اجاگر ہوتی ہیں کہ ان کا باپ کیسا غیر ذمہ دار، ظالم، عیّاش، ان کی ماں کی زندگی برباد کرنے والا اور لفنگا انسان تھا۔۔۔ جوانی میں مرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بچوں کے ذہن میں تاعمر باپ کا وہی تاثر رہتاہے جو ان کی بچپن کی یادداشت میں محفوظ تھا۔ اور بیوی کو متوفی خاوند میں وہ خوبیاں بھی نظر آنی شروع ہوجاتی ہیں جو کبھی موجود ہی نہ تھیں۔ مرنے کے بعد سب محفلوں میں اس کا ذکر ایسے ہوتاہے جیسے اس جیسا نیک، پارسا، ذمہ دار، بات کا پکا، بیوی بچوں کا خیال رکھنے والا انسان شاید ہی کوئی اور ہو۔۔۔۔ اور یہ فقرہ بھی کہ بس جی اللہ اپنے اچھے بندوں کو جلدی اپنے پاس بلالیتا ہے۔۔۔۔۔اوروہ رشتے دار جو زندہ ہوتے ہوئے منہ لگانا بھی پسند نہ کرتے ہوں، وہ بھی ایسے تعریفوں کے پل باندھتےہیں کہ ۔۔۔ حق مغفرت کرے، عجب آزاد مرد تھا۔۔۔۔

تو جی بات یہ ہے کہ ہمارے خطّے کے لوگوں کی اوسط عمر ساٹھ سے کم ہی ہے، تو پندرہ بیس بدذائقہ سالوں کے لئے پوری زندگی کی 'کیتی کرائی کھوہ' میں ڈالنے کا کیا فائدہ؟ میرا تو مفت مشورہ ہے کہ یہی وقت ہے مرنے کا، اس عمر تک پہنچتے پہنچتے دعا کریں کہ اوپر پہنچ جائیں، ورنہ آگے بڑی بدمزگی ہے!!

دماغ کی دہی المشہور بہ میمنٹو

ایک بہترین سا، زیادہ سارے تلوں والا ،کرارا ، کلچہ لیں۔ پھر یہ فلم دیکھیں، فلم ختم ہونے کے بعد دماغ کی دہی بن چکی ہوگی بس اسے کلچے کے ساتھ تناول کرکے زندگی کے مزے لوٹیں!!

ہدایتکار کرسٹوفر نولان کی یہ پہلی فلم تھی جو میں نے دیکھی اور پھر اس کے بعد اس کی ساری فلمیں دیکھ ڈالیں، ڈارک نائٹ بھی، حالانکہ کامک بک کرداروں پر بنی ہوئی فلمیں میں نے کبھی شوق سے نہیں دیکھیں۔ جوناتھن نولان کی لکھی مختصر کہانی 'میمنٹو موری ' ماخوذ  اس فلم میں منظرنامہ کرسٹوفر نولان کا ہے۔ انسانی دماغ اور اس کی پیچیدگیاں اور ان پیچیدگیوں سے بُنے گئے کھیل، یادداشت، حقائق، دھوکہ، حقیقت، گھڑی گئی حقیقت اور بہت سے ڈفانگ آپ اس میں ملاحظہ کرکے اپنے دماغ کو سخت ورزش کرواسکتے ہیں۔ فکشن کا رسیا ہونے کے ناتے، میں اکثر کوئی کہانی پڑھ کے سوچا کرتا تھا کہ اس پر فلم یا ڈرامہ بنانا ناممکن ہے۔ لیکن اس فلم کو دیکھ کے بعد، میں اپنے ایسے بے ہودہ خیالات سے تائب ہوچکا ہوں۔ اگر اس پیچیدہ کہانی پر ایسی فلم بنانا ممکن ہے تو ہر کہانی کو فلمایا جا سکتا ہے!

گائے پیرز کی پہلی فلم جو میں نے دیکھی تھی، وہ 'ایل اے کانفیڈنشل' تھی۔ اس فلم میں سپرسٹارز بھرے ہوئے تھے اور ان کے درمیان جس طرح اس نے اپنی اداکاری کا لوہا منوایا، اس سے میں شدید متاثر ہوا تھا۔ اور اس فلم کے بعد تو میں اس کا سخت فین ہوچکا ہوں۔ کیری این موس (وہی میٹرکس والی!) اور جو پینٹالانو اس کے دوسرے اہم اداکاروں میں شامل ہیں۔ میرے خیال میں اس فلم کو فلم انسٹی ٹیوٹس میں ہدایتکاری کے سلیبس میں شامل ہونا چاہیے (شاید ہو بھی)۔ کہانی سنانے کی جو تکنیک اس میں استعمال کی گئی ہے وہ نہ تو اس سے پہلے میں نے کبھی دیکھی اور نہ اس کے بعد۔ یہ ایک ایسی فلم ہے جس کا پہلا منظر، کہانی کا آخری منظر ہے! گھوم گیا ناں بھیجہ۔۔۔ بس اس سے زیادہ میں کچھ اور نہیں کہوں گا کہ پھر فلم دیکھنے کا کیا 'فیدہ' اگر آپ نے مجھ سے ہی کہانی سننی ہے۔۔۔ ہیں جی۔۔۔

اور ایک اور چیلنج بھی ہے، ایک دفعہ دیکھ کے آپ اس فلم کو نہ تو پوری طرح سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی لطف اندوز ہوسکتے ہیں لہذا دوسری دفعہ دیکھنی ہی پڑے گی اور دوسری دفعہ دیکھنے پر جو لطف آئے گا اس کی مثال میں دینا نہیں چاہتا۔۔۔۔

انتباہ صرف اتنا ہے کہ اسے جم کیری، آرنلڈ شوارزینگر، بروس ولس، جیکی چن وغیرہ وغیرہ کی فلم سمجھ کر نہ دیکھیں، کہ فلم بھی دیکھ رہے ہیں ساتھ میں گپ شپ بھی جاری ہے، اور بعد میں میرے اوپر گرم ہوجائیں کہ یہ کیسی عجیب فلم ریکمنڈ کی ہے، نہ سر نہ پیر۔۔۔۔۔

اور ایک آخری بات اور کیونکہ اس کے بعد پروگرام کا وقت ختم ہوجائے گا۔ یہ ایک ایسی فلم ہے جس کے انجام کو دیکھنے والے کے ذہن اور سوچ پر چھوڑدیا گیا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ تقریبا ہر انجام، جو سوچا جاسکتا ہے، منطقی ہے۔۔۔۔ کیسا!!!!!


(بشکریہ فلمستان)

کھولنا اپنے ہی پولوں کا

دوسروں کے پول کھولنا شاید اس کائنات کا سب سے آسان اور۔۔۔۔ لذیذ کام ہے۔ وہ گنجا ہے، وہ کالی ہے، وہ توندیل ہے، وہ بالکل سیدھی ہے جیسے اسے کوئلے والی بڑی استری سے پریس کیا گیا ہے وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ لیکن آج میں اپنے ہی پول کھولنے پر اتر آیا ہوں۔ آپ کو شاید بلکہ یقینا مزا آئے گا، پر مجھ کو خاطر خواہ بدمزگی ہوگی جس سے چند احباب کے محظوط ہونے کا امکان یقینی ہے۔۔۔

چلیے شروع کرتے ہیں ۔۔۔مثلا نمبر ایک، میرا جیسا کنجوس اس کائنات میں شاید ہی کوئی دوسرا ہو۔ میری ٹوتھ پیسٹ کی ٹیوب جب تک مجھے ۹۹۹ ڈائل کرنے کی دھمکی نہیں دیتی، میں اسے دبا دبا کراور پچکا پچکا کر اور جھٹک جھٹک کر اس میں سے پیسٹ نکالتا رہتا ہوں،اور ۸۰ گرام کی ٹیوب میں سے میں تقریبا 7۔۷۹ گرام پیسٹ استعمال کرلیتا ہوں اور باقی بچنے والے اعشاریہ تین گرام کو نہ استعمال کرنے پر میری جو افسوسناک اور کربناک حالت ہوتی ہے، وہ قابل دید ہی ہوسکتی ہے، لفظ اس کو بیان کرنے سے قاصر ہیں۔

فلرٹیشن کا مرض (پنجابی میں لکھیں تو۔۔۔ ہونا ٹھرکی کسی بندے کا) زمانہ طفولیت سے ہی لاحق ہے۔ پہلی جماعت میں تھا تواپنی مس پر عاشق ہوگیا تھا۔۔۔ اور اسے جھوٹ نہ سمجھیں۔ پانچویں جماعت تک پہنچتے پہنچتے میں نے کوئی سات خیالی معاشقے پھڑکاڈالے تھے۔ چچا نے شاید یہ مصرعہ میرے لئے ہی کہا تھا کہ

مرا مزاج بچپن سے عاشقانہ ہے۔۔۔

جوانی کے حقیقی معاشقے سنانے کی غلطی تو میں ہرگز نہیں کرسکتا، کہ میں یملا تو ہوں پر اتنا بھی یملا نہیں! ہیں جی۔۔۔

اب مجھے احساس ہوتا ہے کہ بڈّھا ہونے پر تو میری شدید واٹ لگے گی کہ بابے تو ویسے ہی ٹھرکی ہوجاتے ہیں اور میرے جیسے متوقع بابے، جو زمانہ قبل از تاریخ سے ہی ٹھرکی واقع ہوئے ہوں، تو وہ تو ٹھرکی کی بھی تیسری فارم یعنی ٹھرکیئسٹ ہوجائیں گے۔۔۔ اللہ میرے حال پر رحم فرمائے۔۔۔ اور مجھے جوانی میں ہی ۔۔۔ آہو۔۔۔

بزدلی مجھ میں ایسے کُوٹ کُوٹ کر بھری ہوئی ہے جیسے میرا میں انگلش۔ عورتیں بےچاریاں تو ویسے ہی مشہور ہوگئی ہیں چھپکلیوں، کاکروچوں، چوہوں وغیرہ سے ڈرنے میں، جبکہ اس کام میں جو یدطولی مجھے حاصل ہے، وہ کسی عورت کے بس کی بات نہیں۔ ویسے یہ عورتیں جب لڑکیاں ہوتی ہیں تو ان کے کالج ویمن کالج کہلاتے ہیں اور جب حسب توفیق چار پانچ چاند سے بچوں کی اماں جاتی بن جاتی ہیں تو ان کا اصرار ہوتا ہے کہ انہیں لڑکی سمجھا اور پکارا جائے۔۔۔ ساری دوسری سائنسوں کی طرح یہ سائنس بھی مجھے کبھی سمجھ نہیں آئی۔۔۔

کہیں آپ یہ نہ سمجھنا شروع کردیں کہ میں ہرکام میں ہی کنجوس ہوں اس لئے وضاحت کیے دیتا ہوں کہ لفظ خرچ کرنے کے معاملے میں، میرا ایک ہی ثانی ہے (بلکہ وہ اول ہے میں ثانی ہوں)۔ میں اتنی فضول خرچی سے لفظ بولتا اور لکھتا ہوں جیسے ہمارے حکمران قومی خزانے سے کبھی عمرے کرتے ہیں اور کبھی مجرے سنتے ہیں۔ 'الفاظوں' کے معاملے میں کوئی ایسی مثال نہیں کہ میں نے کبھی جزرسی کی ہو، جو بات ایک فقرے میں کہی یا لکھی جاسکتی ہو، میں اس پر تین تین گھنٹے اور چھ چھ دستے کاغذوں کے لگا دیتا ہوں۔ اور جب بات ختم ہوتی ہے تو کوئی مائی کا لعل یا ابا کی بنّو یہ اندازہ نہیں لگاسکتے کہ اصل بات کیا تھی۔۔۔ ایک دفعہ پھر۔۔۔۔ ہیں جی۔۔۔۔

فوٹوسٹیٹی دانش

میں ایک بلاگر ہوں۔ میں ایک دن میں تین دفعہ کھانا کھاتا ہوں اور چار پوسٹیں بلاگ پر پوسٹتا ہوں۔ اس کائنات کا کوئی ایسا موضوع باقی نہیں بچا جس پر میں نے کوئی پوسٹ نہ کی ہو۔ چکن جلفریزی سے نظریہ اضافت تک میں نے ہر موضوع پر ‘دے مار ساڈھے چار' قسم کی دھانسو پوسٹیں ٹھوک کر لکھیں۔ اور تبصرہ نگاروں کی ایسی دھلائی بزعم خود کی، جیسے پچھلی پیڑھی کی عورتیں کپڑوں کی 'تھاپی' سے دھلائی کرتی تھیں۔ میں نے ہمیشہ اور ہر بندے کی ہر بات کی مخالفت اپنا علمی، دینی، اخلاقی، مذہبی، معاشرتی، سیاسی، نامیاتی، معاشی، اقتصادی، تحقیقی اور مابعد الطبیعاتی فریضہ سمجھ کر کی۔ میرا 'کاں' ہمیشہ 'چٹّا' ہی رہا اور میرا سورج رات کے ساڑھے بارہ بجے ہی طلوع ہوتا رہا۔ میں نے یونیورسٹی کی سب سے حسین لڑکی کو بھی آئی ہیٹ یو اس لئے کہا کہ اس نے مجھے آئی لو یو کہا تھا!!

ایک دن جب میں صبح اٹھا تو مجھے محسوس ہوا کہ میرے پاس لکھنے کو کچھ باقی نہیں۔ میں پریشان ہوگیا، میری سٹّی گم ہوگئی۔ میرے ہاتھوں کے طوطے، کبوتر، کاں سب اڑ گئے۔ میں نے خود کو ایسا محسوس کیا، جیسے میں کرپشن کے بغیر زرداری ہوں یعنی کچھ نہیں ہوں۔ میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میرا دل درد سے بھر گیا۔ میں دنیا سے مایوس ہوگیا۔ میری راتوں کی نیندیں حرام ہوگئیں۔ مجھے خوابوں میں ورڈ پریس کے بھوت ڈرانے لگے۔ میرے بلاگ کے تبصرہ نگار بھوتوں کی شکل میں مجھے آس پاس نظر آنے لگے۔ میں ذہنی مریض بننے لگا۔

انہی دنوں میں نے نمازیں بھی شروع کردیں۔ میں ایک دن جمعہ کی نماز پڑھ کے مسجد سے باہر نکلا تو مجھے مسجد کے دروازے پر دس بارہ سال کے بچے نے ایک فوٹو سٹیٹ کیا ہوا کاغذ تھما دیا۔ یہ کاغذ وہ ہر نمازی کو تھما رہا تھا۔ میں نے اس کاغذ پر نظر ڈالی اور میرے دل کی کلی کھل گئی۔ میں بھاگا بھاگا گھر پہنچا، کمپیوٹر آن کیا اور اس کاغذ کو سکین کرکے بلاگ پر لگادیا۔ میرے بلاگ پر وہ گھمسان کا گھڑمس مچا کہ میرا دل گاندھی گارڈن ہوگیا۔ میں ہواؤں میں اڑنے لگا۔ مجھے اپنی زندگی سے دوبارہ پیار ہوگیا۔ میں رفیع کے پیار بھرے گیت گنگنانے لگا۔ لیکن یہ بہار صرف دو دن قائم رہی۔ میں پھراگلے جمعے کا انتظار کرنے لگا۔ لیکن اس دن مجھے مسجد کے باہر کوئی کاغذ نہیں ملا۔ میں دھوپ میں دو گھنٹے کھڑا رہا کہ شاید کسی پوسٹ کا مصالحہ مل جائے لیکن ایسا نہ ہوا۔ اگلے تین چار جمعے بھی یہی کچھ ہوا۔ دھوپ میں کھڑا رہ رہ کے میرا رنگ ایسا ہوگیا کہ ایک ویسٹ انڈین نے بھی مجھے 'اوئے کالے اوئے' کہہ کے پکارا۔ میں جمعہ سے مایوس ہو کر فالسے اور گنڈیریوں کی ریڑھی سے خوامخوہ چیزیں خرید لیتا کہ شاید کوئی فوٹو اسٹیٹ ہو۔ حتی کہ شام کو پکوڑے کھا کھا کر میں نے اپنا پیٹ پانی پت کا میدان بنا لیا کہ شاید کسی دن اخبار کی بجائے فوٹو اسٹیٹ پیپر پر پکوڑے مل جائیں۔ یہاں تک کہ رات گئے میں فوٹو اسٹیٹ کی دکانوں کے چکر لگاتا رہتا کہ شائد کوئی کسی پرچے کی فوٹو اسٹیٹ کروا رہا ہو اور میں ایک آدھ اچک لوں۔ میں نے ساری دنیا میں اپنے جاننے والوں سے درخواست کی پر ان سب نے مجھے رنگین اور اجلے پیپرز پر چھپے پمفلٹ بھیج چھوڑے جبکہ مجھے تو تلاش تھی اسی مٹی کے تیل والی فوٹو اسٹیٹ کی۔۔۔

میری زندگی، میرا کیرئیر، میری بلاگنگ اب ایک دوراہے پر آن پہنچی ہے۔ میں آپ سے پرسوز اور دردمندانہ اپیل کرتاہوں کہ براہ کرم جہاں بھی کسی کو کوئی فوٹوسٹیٹی دانش ملے، مجھے بذریعہ ڈاک، یا ایمیل یا دستی (جمشید دستی نہیں) پہنچادے اور اس دکھی اور جھلسے ہوئے دل (اورچہرے) کی دعائیں لے!!!!

ذلّت لیگ

میں نے پالٹی بنائی اے۔ بڑی مشور ہورئی اے۔ لوگ ایں، شامل ہورئے ایں۔ الیکشن اے، میں نے جیتنا اے۔ نوایشریف اے، جلتا اے۔ میری پاپولیرٹی اے، فیش بک اے، فین ایں، مزے ایں۔ پالٹی کے تین لاکھ رکن ایں، فیش بک پر آتے ایں، میرا پیج وِییَٹ کارتے ایں۔ کومنٹ کارتے ایں۔ لائک کارتے ایں۔ اور پاپولیرٹی کیا ہوتی اے؟

کرشٹینا لیمب اے۔ بڈھی اے۔ پیسے کھاتی اے، میرے خلاف رپوٹیں چھاپتی اے۔ کہتی اے، میں شراب پیتا اوں، ویلیں دیتا اوں۔ میرے پیسے ایں، اس کو کیا تکلیف اے؟ مجے سب پتہ اے۔ اسلام میں نشہ حارام اے، میں شراب پیتا اوں۔۔۔مجے نشہ نئیں اوتا اے۔۔۔۔ اس لئے مجے شراب حلال اے۔۔۔۔

میرے پاس آئی اے، میں نے لفٹ نئیں کرائی اے۔ گصہ اے، کیا اے۔ مجے ڈر نئیں لاگتا اے۔ دو باتیں ایں۔ فیش بک اے، پالٹی اے۔ راشد قاریشی اے۔ اچھا آدمی اے۔ لوگ اس کو چھیڑتے ایں، دو نمبر جرنل اے۔ ایسی بات نئیں اے۔ میں نے اس کو جرنل بنایا اے۔ ۔۔۔۔یہ باتیں جھوٹی باتیں ایں، یہ نون لیگیوں نے پھیلائی ایں۔ تم شاہ جی کا نام نہ لو، کیا شاہ جی شدائی ایں۔۔۔

لوگ مجھ کو یاد کارتے ایں۔ آہیں بھارتے ایں۔ میں ایک دن لُوٹ کر آؤں گا۔۔۔۔ میرا انتظار کارنا۔۔۔ہچچ ہچچچ۔۔۔ ہچکی اے ۔۔۔آتی اے۔۔ عوام یاد کارتی اے، نشہ نئیں اے۔۔۔ مجے سب پتہ اے۔ اسلام کا پتہ اے، نظام کا پتہ اے، عوام کا بی پتہ اے، میں نے جنگیں لڑیں ایں، میں بہادر اوں، مجے ڈر نئیں لاگتا اے۔۔ ہچچ ہچچچ ہچچچ۔۔۔

دو دفعہ کا ذکر ہے۔۔۔

کہ ایک بادشاہ تھا، ایک ملکہ تھی، ملکہ وزیر کی بیوی تھی، جبکہ بادشاہ نے نرگس سے شادی کرلی تھی۔ نرگس، ہزاروں سال رونے کی وجہ سے بے نور ہوئی تھی یا بے نور ہونے کی وجہ سے ہزاروں سال روئی تھی، یہ بادشاہ نے کبھی اس سے پوچھا نہیں تھا۔ ایک دفعہ پوچھنے کی کوشش کی تھی تو نرگس ساری رات 'مینوں دھرتی قلعی کرادے میں نچّاں ساری رات' پر ناچ ناچ کے پاگل ہوگئی تھی۔ محل کے سارے ملازموں اور نوکروں اور غلاموں اور خواجہ سراؤں (کبھی بندے کا نہانے کو نہیں بھی دل کرتا) نے بھی یہ غصیلا مجرا مفت دیکھاتھا اور بادشاہ کی درازی عمر کی دعائیں کیں تھیں۔ لہذا بادشاہ کو آئندہ کے لئے 'کَن' ہوگئے تھے۔

نور، بچپن میں چائلڈ آرٹسٹ تھی، اور بڑی ہو کے بھی 'بچوں' والے کام ہی کرتی تھی، نور اور نرگس 'سہیلی بوجھ پہیلی' تھیں، بادشاہ کا تہترواں شہزادہ، جونور کے کمرشل اور نرگس کے ڈانس نما مجرے یا مجرے نما ڈانس دیکھ دیکھ کے بڑا ہوا تھا، اس کو شکار کا بہت شوق تھا۔ وزیر کی بیوی جو ملکہ تھی، وہ خفیہ طور پر گھر میں اسلحہ بناتی تھی اور پینٹ شرٹ اور موٹر سائیکل والے روشن خیالوں کو بیچتی تھی جن کی نہ داڑھیاں تھیں اور نہ ہی وہ امریکہ کو گالیاں دیتے تھے، اچھے بچے۔۔۔ بس یہ اچھے بچے سڑکوں اور گلیوں میں لوگوں کو ملکہ سے خریدا ہوااسلحہ دکھاتے تھے کہ دیکھو کیا شاندار چیز ہے۔۔۔ پر پتہ نہیں کیوں لوگ ان کو اپنے فون، پرس ، گھڑیاں وغیرہ دے دیتے تھے، حالانکہ انہوں نے کبھی خودداری کی وجہ سے ان سے کوئی چیز مانگی نہیں تھی شاید بلکہ یقینا تحفتا دیتے ہوں گے۔ شہزادی اور ملکہ کی چچیری بہن کی نند کے دیور کی بڑی بہن کی بیٹی بہت اچھی دوست تھیں۔ وہ دونوں کالج سے سیدھی جوس کارنر پر ڈیٹ مارنے جاتی تھیں، جہاں شہزادہ بھی شکار کھیلتا تھا۔

الحمرا سے بگھی والے نے جب بادشاہ سے محل جانے کے زیادہ پیسے مانگے تو بادشاہ نے غصے میں آکر اسے وزیر اعظم بنا دیا۔ جس پر بگھی والے کو اپنی بگھی بیچنی پڑی تاکہ اچھے اچھے سوٹ اور چمکیلی چمکیلی ٹائیاں خرید سکے۔ بگھی میں لگے ہوئے خچروں نے اپنے مالک کی اس بے وفائی پر عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ دائرکردیا۔ عالمی عدالت انصاف نے ترنت بگھی والے کو غاصب قرار دے دیا لیکن چونکہ بگھی والے کو استثناء حاصل تھا اس لئے خچروں نے جنیوا کے مشہور چوک میں اجتماعی خود کشی کی یرکانوے لگائی جس پراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے وزیر اعظم کو انسداد بے رحمی حیوانات کے آرٹیکل تیرہ سو پینٹھ بٹا ساڑھے چتالی سو کی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھہراتے ہوئے انہیں ساڑھے اٹھونجہ دفعہ پھانسی اور بادشاہ کی تین لگاتارچُمّیوں کی سزادی۔ بادشاہ اور وزیر اعظم اور وزیر کی بیوی یعنی ملکہ اور شہزادی، جو بادشاہ کی وجہ سے شہزادی نہیں تھی بلکہ ملکہ کی وجہ سے شہزادی تھی اور شہزادے (تہترویں) اور نرگس اور سہیلی بوجھ پہیلی نے اعلی سطحی یعنی چھت پر منعقد اجلاس میں آم چوستے ہوئے اقوام متحدہ کو جی بھر کر کوسنے دیئے اور بادشاہ نے اپنے باقی بہتّر شہزادوں کو ٹرائی سائیکل دلوانے کے لئے آئی ایم ایف سے قرضے کی درمندانہ اپیل وزیر یعنی ملکہ کے شوہرکو 'رات بھر کرو اب کھل کہ بات' والے پیکج پر املا کرائی۔

اگر کسی کو اس کی سمجھ آئے تو براہ کرم مجھے بھی سمجھائے ۔۔ اوراس تحریر سے، میری آجکل جو ذہنی حالت ہے اس کا اندازہ 'ارام ناں' لگایا جاسکتا ہے۔۔

حقیقت / افسانہ

اس دنیا کی سب سے قیمتی چیز نیا اور اچھوتا خیال ہوتا ہے، ان خیالات کو پیش کرنے والے لوگ تاریخ میں زندہ رہتے ہیں۔ ویسے بندہ مرجائے (اور مرجاتا ہے) تو تاریخ میں زندہ رہنےکا کیا فائدہ؟ اور اگر کہیں سے آب حیات مل جائے اور موت سے چھٹکارا پالیاجائے توپھر یہ زندگی مسلسل عذاب بنی رہے گی، بہرحال یہ ایک علیحدہ بحث ہے، جس پر پھر کبھی اپنی زرّیں چوّلیں پیش کروں گا۔

میں نے جب 'سٹرینجر دین فکشن' دیکھی تھی تو میرے ذہن میں اس کے مصنف کے لئے ایسے ہی خیالات ابھرے تھے کہ کیا ہی زبردست آئیڈیا ہے۔ بالکل اچھوتا! یا شاید مجھے اپنی جہالت اور کم علمی کی وجہ سےاچھوتا لگا ہو، میں نے آج تک اس موضوع پر نہ تو کبھی پڑھا اور نہ اس پر کوئی فلم یا ڈرامہ دیکھا۔

اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اب شاید میں فلم کی کہانی اور پلاٹ (ویسے اس فلم کا پلاٹ تو کارنر پلاٹ ہے، یعنی کافی قیمتی ہے) بیان کرنا شروع کروں گا۔ ایسی کوئی بات نہیں، ٹھنڈ رکھیں۔ اس فلم کوکسی خاص زمرے میں فٹ کرنا کافی مشکل ہے۔ رومان، تھوڑی بہت سنسنی، ڈرامہ، ہلکا پھلکا مزاح، فینٹسی (اس لفظ کی اردو نہیں آتی مجھے) سب موجود ہے۔

جیسا پہلے لکھا ہے کہ اس فلم کا سب سے بڑا مثبت نکتہ (پلس پوائنٹ، اتنی اردو توآتی ہے مجھے) اس کا بنیادی خیال ہے۔ منظرنامہ بھی زبردست ہے۔ مکالمے برجستہ اور کچھ مقامات پر نہایت شگفتہ ہیں۔ مارک فورسٹر اس فلم کے ہدایتکار ہیں۔ جن کے کریڈٹ پر مونسٹرز بال، فائنڈنگ نیور لینڈ اور سٹے جیسی فلمیں ہیں۔ فلم کی کاسٹ  ڈسٹن ہوفمین، ایما تھامپسن، ول فیرل، میگی جیلنہال، کوئین لطیفہ جیسے ہیوی ویٹس پر مشتمل ہے۔ بور، یکسانیت کا شکار اور تھوڑے سے خبطی آئی آر ایس آفیسر کا مرکزی کردار ول فیرل نے ادا کیا ہے اور اپنی معمول کی اوور دی ٹاپ اداکاری سے گریز کرتے ہوئے بہت عمدہ پرفارمنس دی ہے۔ ایما تھامپسن نے ناول نگار کے کردار میں جان بھر دی ہے جبکہ ڈسٹن ہوفمین حسب معمول شاندار ہیں۔ میگی جیلنہال کی یہ پہلی فلم تھی جو میں نے دیکھی اور دیکھتے ہی اس کا پرستار ہوگیا، اداکاری کا، خوبصورتی کا نہیں!

سوچنے والے ذہن رکھنے والوں کے لئے یہ فلم دیکھنا لازمی ہے۔ باقی جو میرے جیسے ہیں وہ بھی اس سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ میں تو صرف اس کے بنیادی خیال کے سحر میں مبتلا رہا لیکن دوسرے لوگ اس میں سے کچھ اور بھی برآمد کرسکتے ہیں جو میں اپنی سطحی سوچ کی وجہ سے نہ کرسکا۔

(یہ تحریر آپ فلمستان پر بھی ملاحظہ کرکے مزید بور ہوسکتےہیں)