لالی پاپ

ترقی کرنی چاہیے جی اور ضرور کرنی چاہیے۔ محنت کرنی چاہیے، پیسہ کمانا چاہیے اور آگے بڑھنا چاہیے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر قیمت پر؟


جوماجھا ساجا گرمیوں کے پندرہ دن یورپ گزار آتا ہے وہ ہمارےکان کھانے شروع کردیتا ہے کہ تم لوگ کبھی ترقی نہیں کرسکتے۔ یہاں سیاحوں کے لیے کوئی 'سہولت' میسر نہیں، کوئی 'تفریح' کا بندوبست نہیں، کوئی 'منورنجن' نہیں۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ کیا ترقی کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے ملک میں سیاحت کے فروغ کے نام پر قحبہ خانوں کا کلچر عام کریں؟ جو کہ الا ماشاءاللہ حضرت علامہ مولانا پیجا دہلوی پہلے کافی عام کرچکے ہیں لیکن ان شوقیہ فنکاروں کی سوکالڈ ترقی پھر بھی کہیں نظر نہیں آتی۔ کیا آپ اپنی معیشت بہتر کرنے کے لیے اپنے گھر کے کمروں کو بہترین ڈیکوریٹ کرکے اور تمام سہولیات میسر کرکے 'اچھا' وقت گزارنے والوں کو کرایہ پر دینا پسند کریں گے؟


دبئی کی مثال بہت دی جاتی ہے کہ اس نے کیسے کم وقت میں ترقی کی ہے اور وہاں ہر 'قسم' کی آزادی ہے اور کسی قسم کی 'روک ٹوک' نہیں ہے۔ اگر صاف گوئی کا مظاہرہ کیا جائے تو دبئی ایک بہت بڑے چکلے کے علاوہ کچھ بھی کہلانے کا حقدار نہیں ہے۔ اس کی ساری ترقی بلبلہ ثابت ہوئی اور وہ ایک جھٹکے کی مار نہیں سہہ پائی۔ اب پھر اس کا انحصار اسی 'قدیمی پیشے' پر ہے جس نے اسے دنیا میں اتنی 'مشہوری' عطا کی تھی۔


ترکی کی بہت بلّے بلّے ہورہی ہے کہ کیسے وہاں نماز پڑھنے والے نماز پڑھتے ہیں اور نائٹ کلب جانے والے نائٹ کلب جاتے ہیں اور کوئی ایک دوسرے کو تنگ نہیں کرتا۔ تو جی میرا سوال یہ ہے کہ اگریہی سب کچھ یہاں پاکستان میں بھی کرنا تھا تو یہ ملک 'امب' لینے کے لیے بنایا تھا؟ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس ملک کے بنانے کا مقصد معاشی تھا نہ کہ دو قومی نظریہ تو اپنی چلتی معیشتیں اور نوابیاں چھوڑ کے یہاں لٹ پٹ کے آنے والے تو کائنات کے احمق ترین باشندے ہی ہوسکتے ہیں۔ اور سائڈ نوٹ یہ کہ دو قومی نظریہ تو اب یورپ اور امریکہ کی 'اعلی سیکولر اقدار' والی قومیں بھی تسلیم کرتی ہیں بلکہ اس پر عملدرآمد کے لیے اپنی پوری قوت بروئے کار لا کر نئے ملک بنانے سے بھی نہیں چوکتیں، ریفرنس کے لیےمشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان ملاحظہ ہو۔


یہ ہماری اجتماعی بدقسمتی ہے کہ ہم نے ملک تو بدل لیا لیکن صدیوں سے قابض حکمران طبقے کو نہ بدل سکے جو کبھی مذہب اور کبھی روشن خیالی کے نام پر ہماری تشریف لال کرتا رہا ہے اور مسلسل کررہا ہے۔ یہ لوگ نہ تو عوام کو تعلیم دے سکے نہ انصاف، نہ تربیت کرسکے اور نہ ترقی دے سکے۔ لالی پاپ، البتہ بہت دیئے۔ زبان کے لالی پاپ، نسل کے لالی پاپ، برتری کے لالی پاپ، مذہب کے لالی پاپ،جمہوریت کے لالی پاپ، روشن خیالی کے لالی پاپ، نفرت کے لالی پاپ، اور ہم سب کو مجبور کیا کہ ان لالی پاپس کے چُوپے لگاتے جاؤ اور موجیں کرتے جاؤ اور اسی طرح جہنم رسید ہوتے جاؤ۔


ترقی کرنی ہے تو تعلیم دینی پڑے گی، تربیت کرنی پڑے گی نہ کہ سیاحت کے نام پر قحبہ گری کو 'گراس روٹ' لیول پر فروغ دینے کی کوششیں۔ ترکی اور دبئی کی مثالیں دینے والوں کو تھائی لینڈ کی سیاحتی بنیاد والی معیشت کے نتائج و مضمرات پر بھی روشنی ڈالنی چاہیے کہ اس سیاحتی ترقی نے وہاں کیسا سماجی ‘انقلاب’ برپا کیا ہے!۔

بُلبُل اور بی سی جیلانی!۔

آج کل تو فیشن ہے کہ این جی اوز پر تبرا کیا جائے اور یہ ثابت کیا جائے کہ یہ حرامخور ہیں، گوروں کو بے وقوف بنا کے موجیں کرتے ہیں اور ڈالر، یورو وغیرہ پیٹتے ہیں۔ جبکہ جتنی محنت، مشقت اور اپنا آپ مار کے ہم روزی کماتے ہیں شاید ہی کوئی ایسا کرتا ہو۔ مثلا آج 'سفارت خانے' میں جو گٹ ٹو گیدرہوئی، اس میں شرکت کرنے کے لیے اپنا آپ جیسے مارنا پڑا، یہ وہی جانتا ہے جسے "بلبلوں اور مالیوں" کے ساتھ لگ بھگ تین گھنٹے گزارنے پڑے ہوں۔

چند روز قبل، شہنشاہ عالی مقام نے اپنی تقریر میں ان لوگوں کے حقوق کی حفاظت کا عندیہ دیا تھا، جن کی 'ترجیحات' مختلف ہوتی ہیں۔ یہ تقریب اسی تقریر کا فالو اپ تھی۔ اس تقریب کا دعوت نامہ جب سے موصول ہوا تھا، اسی وقت سے میں اس الجھن میں تھا کہ جانا چاہیے یا نہیں لیکن نہ جانا تو آپشن تھا ہی نہیں۔۔۔۔۔ نوکر کیہ تے نخرہ کیہ۔

تقریب میں شرکت کے لیے ایک مخصوس ڈریس کوڈ بھی تھا۔ جس میں پنک رنگ آپ کے ملبوسات کا کسی نہ کسی شکل میں حصہ ہونا لازمی تھا۔ مجھے مجبورا پنک قمیص پہننی پڑی۔ وہ تو شکر ہے کہ یہ تقریب سختی سے میڈیا نان فرینڈلی تھی لہذا کسی قسم کی تصویر یا فٹیج شائع یا آن ائیر نہیں جاسکی۔ سچی بات تو یہ ہے کہ آج مجھے انسانی حقوقیا ہونے پر شرم سی آنے لگی تھی۔ اس سے مجھے یہ بھی پتہ چلا کہ میں اتنا بھی بی سی نہیں ہوں۔

عمدہ مشروبات، بہترین باربی کیو، ایلٹن جان کے دھیمی آواز میں بجنے والوں گانوں اور عمدہ ماحول کے باوجود مجھے ایسا محسوس ہوتا رہا جیسے میں کسی بغیر سلنسر کے رکشے میں بیٹھا ہوں اور یہ رکشہ کسی کچے اور اونچے نیچے رستے پر "رواں دواں" ہے۔ ایلٹن جان کے گانے کی جگہ جارج مائیکل کا گانا بجنے پر یوں محسوس ہوتا رہا جیسے رکشے نے اچانک بریک لگا کر دوبارہ پوری رفتار سے دوڑنا شروع کردیاہو۔

تقریب کے مہمان خصوصی ایک مشہور فیشن ماڈل تھے جبکہ صدارت ایک سیاسی شخصیت نے کی۔ میری رائے میں تو بلاول بھٹو زرداری اس تقریب کے لیے بہترین مہمان خصوصی ثابت ہوتے جبکہ صدارت کے فرائض فرزانہ راجہ بخوبی انجام دے سکتی تھیں۔ لیکن وہ کیا فارسی کہاوت ہے کہ ۔۔ رموز مملکت خویش خسرواں دانند۔۔۔ ویسے بھی ان "حقوق" اور فارس کا گہرا اور تاریخی تعلق ہے۔

اس تین ساڑھے تین گھنٹے کی کُتے کھانی کا ایک فائدہ ہوا۔ تعلیمی اداروں میں "بلبل اور مالی ازم" پھیلانے کا پروجیکٹ مجھے مل گیا۔ مجھے آہستہ آہستہ پتہ چلتا جارہا ہے کہ میرے حاسدین میرے نام کے مخفف سے جو لفظ بناتے ہیں وہ کوئی اتنا غلط بھی نہیں ہے۔

پیچیدگیاں و گھمن گھیریاں

چند دن پہلے ایک مقبول اردو روزنامے کے ناٹ سو مقبول کالم نویس نے اپنی فیس بک وال پر ایک نوٹ شئیرا تھا۔ یہ کالم نویس، افسانہ نویسی کی بجائے کالم نویسی ہی کرتے ہیں اور سو میں سے ننانوے دفعہ معقول بات لکھتے ہیں، ایک آدھ دفعہ تو بندہ چول مار ہی جاتا ہے ناں جی، بندہ جو ہوا۔ بہرحال اس نوٹ میں انہوں نے فوج کی حمایت میں دلائل کی ایک لمبی فہرست دی۔ جن میں ایک دلیل یہ بھی تھی کہ افغانستان میں جاری مزاحمت کی پشتیبان ہماری فوج ہے، اسی وجہ سے امریکہ ہم سے ناراض ہے اور فوجی قیادت امریکہ نواز بالکل نہیں ہے بلکہ وہ پاکستان کے مفادات کا تحفظ کررہی ہے۔ اس پر میں نے ان سے ایک سوال پوچھا تھاکہ یہاں پاکستان سے ان کی مراد کیا ہے۔ جس کا جواب دینا انہوں نے مناسب نہیں سمجھا، حالانکہ فیس بک پر وہ اکثر سوالات کے جوابات کافی تفصیل سے دینے کے عادی ہیں۔

جڑواں میناروں کی تباہی کے بعد جب امریکی ، افغانستان میں تشریف لائے تو ان دنوں سابق سرخے، حال انسانی حقوقیے اسی طرح خوش تھے جیسے سوویت یونین کے افغانستان میں آنے پر انہوں نے بغلیں بجائی تھیں کہ بس اب سرخ سویرا آیا کہ آیا جبکہ سرخ سویرا تقریبا دس سال بعد واپس وہیں گھس گیا تھاجہاں سے نکلا تھا، امریکیوں کے آنے پر سابقہ کامریڈز نے اس خطے میں جمہوریت، انسانی حقوق (این جی او مارکہ)، مساوات اور اگر احباب معاف کرسکیں تو سیکولر ازم کی نوید سنائی تھی۔ ساتھ میں یہ چتاؤنی بھی دیتے پائے گئے تھے کہ وہ دن گئے جب خلیل خاں فاختہ اڑایاکرتے تھے، یہ افغانی، امریکیوں کے بل بوتے پر روسیوں سے لڑے تھے، اب چونکہ امریکی خود تشریف لے آئے ہیں، تواب ان جاہلوں کا بیڑہ غرق ہی سمجھو۔ امریکیوں کو اس خطے میں تقریبا دس سال ہونے کو آئے ہیں اوراب وہ بھی وہیں گھسنے کی تیاری کررہے ہیں جہاں سے نکلے تھے اور مور اوور، افغانستان میں فتح سے امریکی اتنے ہی دور ہیں جتنے ہمارے کچھ ساتھی کامن سینس سے!۔

یہاں ذہن میں چند سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ اگر افغان مزاحمت کی پشتیبانی پاکستانی فوج کرتی رہی ہے اور کررہی ہے تو پاکستانی طالبان، فوج کے خلاف کیوں ہیں؟ کیا ان پاکستانی طالبان کو امریکی مدد حاصل ہے جیسے افغان طالبان کو پاکستانی مدد حاصل ہے؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنی بڑی سپر پاور اور بقول صحافی و سیاسی بزرجمہروں کے 'ہم ان سے نہیں لڑسکتے' قسم کی طاقت کو دس سال تک دھوکے میں رکھا جائے؟ اگر یہ ممکن ہے تو امریکیوں سے بڑا گدھا اس روئے زمین پر دوسرا کون ہوسکتا ہے؟ اگر پاکستانی فوج افغان طالبان کی پشت پناہی نہیں کررہی، تو اس مزاحمت کے پیچھے کس کی مدد اور پیسہ کام کررہا ہے؟ اور اگر پاکستانی طالبان کو امریکی مدد حاصل نہیں تو ان کو پیسہ اور مدد کہاں سے مل رہی ہے؟ اور اگر پاکستانی طالبان کو امریکی مدد حاصل ہے تو ان کے کندھے پر بندوق رکھ کے مذہب اور اس کی اقدار کو نشانہ بنانے والے اور پاکستانی طالبان ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے نہیں سمجھے جائیں گے؟

اس سارے کنفیوژن سے نکلنے کا ایک آسان حل تو یہ ہے کہ انہیں سازشی نظرئیے قرار دے دیا جائے لیکن یہ سازشی نظرئیے بھی نہایت کمینے نظرئیے ہوتے ہیں اور اس سے بھی بڑی ذلالت ان میں یہ ہوتی ہے کہ یہ اکثر سچ ثابت ہوجاتے ہیں!۔

پھر قاعدہ

بہت دن الٹی سیدھی ہانکنے کے بعد ہمیں محسوس ہونا شروع ہوگیا ہے کہ اب چونکہ چل چلاؤ کا وقت آن لگا ہے تو کچھ ایسا کام کرجانا چاہیے کہ ہمارا نام تاریخ (کیلنڈر والی نہیں) میں چمپئی الفاظ سے لکھا جائے اور مؤرخین، ہمیں ایک ایسے عظیم ادیب اور مصنف کے طور پر یاد کریں جس نے اردو کا مستقبل ہمیشہ کے لیے بدل کے رکھ دیا ہو۔ بناء بریں ہماری نظر اس موئے قاعدے کی طرف ہی گئی ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ بہرحال اس دفعہ ہم اپنے تئیں سر دھڑ کی بازی لگا کر اسے ختم کرنے کی کوشش کریں گے مبادا اس سے پہلے کہیں ہم خود ہی کڑیں نہ ہوجائیں۔۔ ہیں جی!۔


ض۔۔۔۔ ضرار۔ یہ ایک ٹینک ہے۔ پانی والا یا تیل والا ٹینک نہیں بلکہ گولہ بارود برسانے والا ٹینک۔ اسے ہماری "مُسلا" افواج نے بنفس نفیس اپنی ورکشاپ میں بنایا ہے۔ تاکہ بوقت جنگ دشمن افواج کے دانت کھٹے اور ان کی جیپیں، ٹرک ودیگر آلات حرب و ضرب تباہ و برباد کیے جاسکیں۔ مستقل دشمن سے جنگ کا چونکہ کوئی امکان نہیں، لہذا اسے آزمانے کے لیے ہم نے ایسے جزوقتی "دشمن" ڈھونڈ لیے ہیں، جن کے پیسوں سے یہ ٹینک بنایا گیا تھا۔ان ناہنجاروں کی کمر توڑنے میں یہ ٹینک بہت کار آمد ثابت ہورہے ہیں۔ ایک محاورے میں اس صورتحال کی عکاسی ایسے کی گئی ہے کہ "میریاں جُتّیاں، میرا اِی سر" ۔


ط۔۔۔۔طوطا۔ اس کا نک نیم میاں مِٹھّو ہوتا ہے اور یہ چُوری کھاتا ہے۔ جبکہ طوطا چشم چَوری کھاتے ہیں۔ اشفاق احمد یہ اصرار کرتے کرتے اللہ کو پیارے ہوگئے کہ طوطا ، ت سے ہوتا ہے۔ لیکن کسی نے ان کی بات سن کر نہیں دی۔ تھوڑا غور کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ توتا چشم، زیادہ طوطا چشم محسوس نہیں ہوتا!۔


ظ۔۔۔۔ ظُلمی۔ یہ لفظ پرانے فلمی گانوں میں کثرت سے استعمال کیا جاتا تھا۔ مثلا، ظلمی نہ موڑ موری بیّاں ، پڑوں تورے پیّاں ۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ اور اصل میں خاتون ان الفاظ کے برعکس ظُلمی کو اکسارہی ہوتی تھی کہ میری بّیاں پکڑ کے مروڑ کمبخت، مٹی کا مادھو بن کے نہ کھڑا رہ۔ اس ساری صورتحال کو وکی لیکس کے تناظر میں بخوبی سمجھا جاسکتا ہے۔


ع۔۔۔۔ عریانی و فحاشی۔ ملک عزیز میں اس کے مظاہر جابجا بکھرے نظر آتے ہیں۔ جناتی سائز کے سائن بورڈز، جہاں کوئی خاتون چارگرہ کپڑے میں پھنسی ہوئی آپ کومختلف اشیاء، جو سوڈا واٹر سے لے کر موبائیل پیکجز تک کچھ بھی ہوسکتا ہے، خریدنے کے لیے ورغلانے کی جان توڑ کوشش کرتی نظر آرہی ہوتی ہے۔ ان اشتہارات کو دیکھ کر آپ یہ فیصلہ نہیں کرسکتے کہ اشتہار سوڈا واٹر کا ہے یا خالص دودھ کا!۔ احباب اس بات پر شدید اعتراض کرسکتے ہیں کہ اس مظہر یعنی عریانی و فحاشی کی باقی علامات جو وطن عزیز میں جگہ جگہ نظر آتی ہیں، ان پر ہماری نظر کیوں نہیں پڑی؟ اس پر ہمارا جواب ایک طویل چپ ہے!۔


غ۔۔۔۔ غرارہ۔ یہ زیادہ تر ساٹھ کی دہائی کی فلموں اور فاطمہ ثریا بجیا کے ڈراموں میں پایا جاتا ہے۔ اس غبارہ نما لباس کی خاص بات، اس کی عیب پوشی کی صلاحیت ہے۔ اس لباس میں شمیم آراء اور صائمہ یکساں طور پر لحیم شحیم نظر آسکتی ہیں۔ شنید ہے کہ جب یہ لباس عام پہناوا تھا تو گھروں میں جھاڑو پونچھا لگانے کی ضرورت کم ہی پیش آیا کرتی تھی۔ کیونکہ اس کام کے لیے یہ لباس پہن کر گھومنا پھرنا ہی کافی ہوتا تھا۔ ایک غرارہ وہ بھی ہوتا ہے جو گلا خراب ہونےکی صورت میں نیم گرم پانی میں نمک ملا کے کیا جاتا ہے۔ یہاں آکے ہمارا سارا علم جواب دے جاتا ہے کہ ان دونوں غراروں میں قدر مشترک کیا ہے؟


ف۔۔۔فیصل آباد۔ یہ شہر سے زیادہ ایک حالت ہے اوراکثر و بیشتر اس شہر کے باشندوں پر ہی طاری ہوتی ہے بلکہ طاری ہی رہتی ہے۔ روایت ہے کہ ایک مشہور خطیب جمعے کے خطبے کے دوران حسب رواج و موسم حضرت موسی علیہ السلام کا قصہ بیان کررہے تھے۔ اس قصہ میں جب کوئلے کا ذکر آیا تو وہ یوں گویا ہوئے کہ "واہ اوئے کولیا، تیریاں شاناں، او جے پَخ گیا تے نورانی، تے جے بُجھ گیا تےےےےےےے۔۔۔۔۔۔ مفتی جعفر حسین"۔۔۔۔(واہ اے کوئلے، تیری کیا شان ہے۔ اگر دھک جائے تو نورانی اور اگر بجھ جائے تو مفتی جعفر حسین)۔ اس مثال سے آپ بخوبی سمجھ گئے ہوں گے کہ فیصل آبادی حالت کیسی ہوتی ہے۔


ق۔۔۔ قانون۔ یہ گنّا بیلنے والی مشین کی طرح ہوتا ہے۔ جس میں عوام کا رَس نکالا جاتا ہے۔ اس مشین کو چلانے والے، قانون نافذ کرنے والے ادارے، کے نام سے جانے جاتے ہیں اور جیسا کہ انصاف کا تقاضہ ہے، یہ ادارے قانون سے بالاتر ہوتے ہیں۔ قانون کی مزید تشریح کیلئے آپ، منٹو کی "نیا قانون" بھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔


ک۔۔۔ کُتّا۔ یہ ایک پالتو جانور ہوتا ہے۔ اقوام مغرب میں اسے افراد خانہ کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ وہاں بیوی رکھنا اتنا ضروری نہیں، جتنا کُتّارکھنا ضروری ہے۔ ہالی ووڈ فلموں کا ماچو ہیرو بھی اسی وقت غیض و غضب کی انتہا کو پہنچتا ہے جب ولن اس کے بیوی بچوں کو مارنے کے بعد اس کے کُتّے کو بھی مار دیتا ہے۔ صاحب لوگ اکثر کُتّے کو ان اقوام کی رحمدلی، جانوروں سے محبت اور تہذیب یافتہ ہونے کی دلیل کے طور پر بیان کرتے ہیں اور ہمیں شرمندہ کرتے ہیں کہ تم اب تک جاہل کے جاہل ہی رہے اور کُتّے کو اس کا اصل مقام نہ دے سکے۔ ان روز روز کے طعنوں سے تنگ آکر ہم نے بھی وہ کام کیا ہے کہ بقول شاعر۔۔ ۔جو کام ہوا ہم سے، رستم سے نہ ہوگا۔۔۔ سمجھ تو آپ گئے ہی ہوں گے!۔


گ۔۔۔ کھَوتَا۔ ہمارے برادر خورد، اردو کا الف انار ب بکری والا قاعدہ پڑھتے ہوئے ہمیشہ گ سے کھَوتَا پڑھتے تھے۔ ان کے معصوم ذہن میں یہ بات نہیں سماتی تھی کہ عام زندگی میں جسے وہ کھوتا کہتے ہیں، کاغذ پر اس کی تصویر چھپی ہو تو اسے گدھا کہنا کیوں ضروری ہے؟ اپنی مِس سے تو شاید انہیں مار نہیں پڑی ہوگی کہ شدید گُگلُو قسم کے بچے تھے، لیکن ہمارے ہاتھوں وہ غریب سخت زدوکوب ہواکرتے تھے۔ آخر تنگ آکے انہوں نے زمینی حقائق سے سمجھوتہ کرلیا اور گ سے کھوتے کی بجائے گدھا ہی پڑھنے لگے!۔

اماں سردار بیگم


اس زمانے میں بچے نوکر نہیں پالتے تھے، مائیں پالتی تھیں۔ غریب مائیں، امیر مائیں، بھونڈی مائیں، پھوہڑ مائیں، اور اپاہج مائیں، پاکباز اور طوائف مائیں سبھی اپنے بچے خود پالتی تھیں۔ ان کے پاس بچے پالنے کا سستا اور آسان نسخہ تھا کہ وہ گھر سے باہر نہیں نکلتی تھیں۔ بچے اپنی ماں سے چالیس پینتالیس گز کے ریڈیس میں کہیں بھی جاتے، کہیں بھی ہوتے، کہیں کھیلتے ان کو اچھی طرح سے معلوم ہوتا تھا کہ مشکل وقت میں ان کی پکار پر اماں بجلی کی طرح جھپٹ کر مدد کے لیے آموجود ہوگی اور وہ اپنی مشکل اپنی ماں کے گلے میں ڈال کر گھر کے اندر کسی محفوظ کونے میں پہنچ جائیں گے۔ اس زمانے کی مائیں بچوں کو اپنی عقل و دانش سے یا نفسیاتی ذرائع سے یا ڈاکٹر سپوک کی کتابیں پڑھ کر نہیں پالتی تھیں بلکہ دوسرے جانوروں کی طرح صرف ممتا کے زور پر پالتی تھیں۔ بچے بھی کھلونوں، تصویروں، ماؤں کی گودیوں اور لمبی لمبی کمیونی کیشنوں کے بغیر پروان چڑھتے تھے اور ذہنی، جسمانی اور روحانی طور پر بڑے ہی سرسبز ہوتے تھے۔ ان کے پاس یقین کی ایک ہی دولت ہوتی تھی کہ ماں گھر پر موجود ہے وہ ہر جگہ سے ہماری آواز سن سکتی تھی۔ جس طرح پکے پکے خدا پرست کو پورا پورا یقین ہوتا ہے کہ خدا اس کے حلقے میں ہر وقت موجود ہے اور وہ جب اسے پکارے گا، رگ جان سے بھی قریب پائے گا اسی طرح بچے کو بھی اپنی پکار اور ماں کے جواب پر مکمل بھروسہ ہوتا تھا!۔


___________________________________________________________



کھانے کے بعد ان اوقات میں بڑی آپا اور آفتاب بھائی فلسفے کی پیچیدہ گتھیاں سلجھا رہے ہوتے تو کبھی کبھی اماں بھی اس میں دخل دے دیا کرتیں۔ جب بھائی جان بنی نوع انسان کی زبوں حالی اور ہندوستان کے پائمال و پریشان مسلمانوں کی بے بسی اور بے آبروئی کا نقشہ کھینچتے تو سب کی آنکھوں میں آنسو آجاتے۔ اس سلسلے میں جب بے حس امیر مسلمانوں اور بدکردار مسلم رؤسا کا ذکر چلتا تو ہماری آنسوؤں سے لبریز آنکھوں میں خون اتر آتا۔ اماں ہلکے سے خوف، ذرا سی ہچکچاہٹ کے ساتھ دبی ہوئی آواز میں کہتیں، "ہمیں اپنے غریب بہن بھائیوں کی حالت زار دیکھ کر اور ان کی بے سروسامانی اور بے آبروئی پر ترس کھا کر ان کی مدد نہیں کرنی چاہیے بلکہ اللہ رسول کے حکم کی وجہ سے ان کی دستگیری کرنی چاہیے۔ ترس کھانے اور آنسو بہانے کے مقابلے میں اللہ کے رسول کا حکم زیادہ زور آور اور زیادہ ڈاڈھا ہے۔ ہم کوحکم ماننا ہے، ترس نہیں کھانا"۔


____________________________________________________________



میں نے کہا، "میں علم پھیلانا چاہتا ہوں اور لوگوں کو عقل سکھانا چاہتا ہوں۔ میں کتابیں لکھوں گا۔ تصنیف و تالیف کروں گا"۔ "اور یہ جو اتنی ساری کتابیں پہلے لکھی رکھی ہیں۔۔۔۔ !" اماں نے پوچھا "ان کا کیا بنے گا؟ ان کو کون پڑھے گا؟" مجھے اپنی اماں کی سادہ لوحی پر ہنسی آگئی اور میں یہ سن کر دنگ رہ گیا کہ میری اماں کو تصنیف و تالیف کے عمل سے بھی واقفیت نہیں ہے۔ میں نے ہنس کر کہا، "میری پیاری اماں! اب تک چھپی ہوئی کتابیں لوگوں کی لکھی ہوئی کتابیں ہیں۔ میرے حساب سے اوسط درجے کی تحریریں ہیں اس لئے میں خود نئی کتابیں لکھ کر زمانے کے سامنے پیش کروں گا اور ان کے علم میں اضافہ کروں گا۔" اماں کو میری یہ بات ٹھیک سے سمجھ آگئی۔ اس نے اپنا چہرہ میری طرف کئے بغیر نئی روٹی بیلتے ہوئے پوچھا، "تو اپنی کتابوں میں کیا پیش کرے گا؟"۔ میں نے تڑپ کر کہا، "میں سچ لکھوں گا ماں اور سچ کا پرچار کروں گا۔ لوگ سچ کہنے سے ڈرتے ہیں اور سچ سننے سے گھبراتے ہیں۔ میں انہیں سچ سناؤں گا اور سچ کی تلقین کروں گا۔" میری ماں فکرمند سی ہوگئی۔ اس نے بڑی دردمندی سے مجھے غور سے دیکھا اور کوئلوں پر پڑی ہوئی روٹی کی پروا نہ کرتے ہوئے کہا، "اگر تو نے سچ بولنا ہی ہے تو اپنے بارے میں بولنا، دوسرے لوگوں کی بابت سچ بول کر عذاب میں نہ ڈال دینا۔ ایسا فعل جھوٹ سے بھی برا ہوتا ہے"۔ مجھے اپنی ماں کی سادہ لوحی پر بہت ہنسی بھی آئی لیکن اس کے احترام کی وجہ سے میں ہنسا نہیں، آرام سے بیٹھ کر کھانا کھاتا رہا اور اس کے روٹی پکانے کی آواز سنتا رہا۔ میری ماں بے چاری یا تو کھانا پکا سکتی تھی یا گھر کے دوسرے کام کرسکتی تھی، اس میں باریک باتوں کی سمجھ مطلق نہیں تھی!۔


اشفاق احمد کی کہانی ”اماں سردار بیگم” سے اقتباسات

عبدالشکور، آنکھیں کھول

آپ عبدالشکور کو دیکھ لیں۔ یہ فیصل آباد میں پیدا ہوا۔ یہ اپنے آبائی گھر واقع منڈی کوارٹر میں رہتا ہے۔ یہ بچپن سے ہی پڑھاکو تھا۔ اس نے پرائمری ، مڈل اور میٹرک کے امتحان ہائی تھرڈ ڈویژن میں پاس کیے۔ یہ اعلی تعلیم کے لیے ملت 'یونیورسٹی' غلام محمد آباد (گلاما باد) میں داخل ہوگیا۔ ایف اے امتیازی نمبروں سے پاس کرنے کے بعد، عبدالشکور، حاجی ثناءاللہ کی کپڑے کی دکان پر منشی لگ گیا۔ حاجی صاحب کے دیکھا دیکھی اس نے داڑھی بھی رکھ لی اور تبلیغی اجتماعات میں بھی جانا شروع کردیا۔


عبدالشکور کی زندگی ناکامی کی اعلی مثال ہے۔ یہ سائیکل پر گھومتا ہے۔ اس کی شادی کا دور دور تک کوئی امکان نہیں۔ اس کی شلوار ٹخنوں سے اونچی ہوتی ہے۔ لوگ اسے مولوی مولوی کہہ کر اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ جب بھی خود کش بمباروں کی فیصل آباد میں داخلے کی اطلاع آتی ہے، پولیس اسے پکڑ کر لے جاتی ہے اور ہفتے دس دن تک حوالات میں بند رکھتی ہے۔ حاجی ثناءاللہ بھی ان دنوں کی تنخواہ کاٹ لیتے ہیں۔ یہ جب بھی لاہور جاتا ہے، بس میں چیکنگ کرنے والی پولیس پارٹی سب سے پہلے اسے کہتی ہے کہ 'اوئے مولبی، چل باہر آ"۔ عبدالشکور کی زندگی، شرمندگی کی شرمناک مثال ہے۔ عبدالشکور کا امیج دنیا کی نظروں میں نہایت خراب ہے۔ لوگ اسے دہشت گرد، بنیاد پرست، مولوی، تقلیدیا اور نہ جانے کیا کیا سمجھتے ہیں۔


اگر عبدالشکور، شلوار ٹخنوں سے نیچی کرلے، کلین شیو ہوجائے۔ منڈی کوارٹر کے مشٹنڈوں کے ساتھ گھومنا پھرنا شروع کردے۔ چرس نہ سہی، سگریٹ ہی پینا شروع کردے۔ 'بروکری' چاہے نہ کرے، لیکن 'خریداری' ہی شروع کردے۔ اور سب سے بڑھ کر اگر وہ 'منگ پتہ' کھیلنا شروع کردے۔ اس کا اچھا کھلاڑی بن جائے۔ تو اس کا امیج اور تاثر ڈرامائی طور پر بدل جائے گا۔ لوگ اسے زندہ دل، خوش باش اور اعلی انسان سمجھنے لگیں گے۔ پولیس اسے تنگ کرنا چھوڑ دے گی۔ خاندان میں اس کی عزت بڑھ جائے گی۔ یہ حاجی ثناءاللہ کی دکان پر کام کرنے کی بجائے اس جیسی کئی دکانیں خود کھولنے کی قابل ہوجائے گا۔


آپ وارث پورے چلے جائیں، افغان آباد، اشرف قصائی کے اڈے پر چلے جائیں، یا کسی بھی ڈیرے کا چکر لگالیں تو آپ دیکھیں گے کہ یہ لوگ منگ پتے کے اچھے کھلاڑی کی کتنی عزت کرتے ہیں۔ عبدالشکور کو اپنا تاثر بدلنے کے لیے کم ازکم یہ کام ضرور کرنا پڑے گا، ورنہ دنیا اسے قدامت پرست اور جاہل قرار دے کر مسترد کردے گی۔ اس کا مستقبل جو پہلے ہی لوڈ شیڈنگ کا مارا ہے، بالکل ہی تاریک ہوجائے گا۔


فیصلہ ترا، ترے ہاتھوں میں ہے ۔۔۔۔۔عبدالشکور!۔

باقی فنڈا

محبت کے دورے یوں تو اوائل عمری سے ہی پڑنے شروع ہوجاتے ہیں لیکن کچھ حضرات و خواتین کو یہ دورے درمیانی عمر کے آغاز میں شروع ہوتے ہیں اور ان دوروں کی نوعیت، شدید قسم کی ہوتی ہے۔ اکثر حضرات کو یہ دورے زیادہ سے زیادہ دو بچوں اور کم سے کم ایک بچے کا اباجان بننے کے بعد شروع ہوتے ہیں۔ ایک دن نیند سے بیدار ہونے پر انہیں اچانک محسوس ہونے لگتا ہے کہ یہ جو عورت ان کے بچے یا بچوں کی اماں جان ہے، اس سے تو ان کی 'ذہنی ہم آہنگی' ہی نہیں ہے اور اس کے ساتھ تو زندگی کزارنا بڑا ظلم ہے اور یہ ظلم ان پر مسلسل ہورہا ہے۔ لہذا یہ حضرات، اپنی کام کی جگہ جو آفس سے لے کر ہسپتال اور تعلیمی اداروں سے لے کر ثقافتی اداروں تک کہیں بھی ہوسکتی ہے، خوبصورت، قبول صورت یا کم صورت کولیگ کے سامنے اپنی مظلومیت کی داستان، بانداز علامہ راشد الخیری، سنانا شروع کردیتے ہیں۔ جس میں بتایا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ تو بڑا ہاتھ ہوگیا ہے اوران کی بیوی کم ازکم ایریل شیرون جتنی ظالم تو ہے ہی اگر زیادہ نہیں۔


حالانکہ یہی حضرات شادی کے پہلے تین مہینے اپنی زوجہ کو یہ یقین دلاتے پائےجاتے ہیں کہ 'جانم! اگرتم نہ ملتیں، تو میرا کیا ہوتا؟' اوراسےمحمد رفیع کے گانے عطاءاللہ عیسی خیلوی کی آواز میں سنا کے مرنے کی حد تک بور کرتے رہے ہوتے ہیں۔ اس اچانک کایا پلٹ کی وجوہات نا گفتنی ہیں۔ جن کے ڈانڈے کمینگی سے شروع ہو کر رذالت سے جا ملتے ہیں۔


اس داستان ظلم ہائے زوجہ کے سامعین کی اکثریت بھی اس جال میں پھنس جاتی ہے اور اس سو کالڈ مظلوم کی کہانی پر آٹھ آٹھ آنسو بہاتی ہے۔ اور یہ سمجھتی ہے کہ اتنا اچھا انسان کیسے ایک ظالم عورت کے ہاتھوں برباد ہورہا ہے۔ اس سے آگے تو آپ جانتے ہی ہیں کہ اس کہانی کا رخ کدھر کو مڑتا ہے۔


ایسا نہیں ہے کہ اس حمام میں صرف حضرات ہی دھمال ڈالتےہیں۔ خواتین بھی اس میدان میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ اگر تین چار بچوں کے بعد اماں جان، ونیزہ احمد کی بجائے دردانہ بٹ لگنے لگتی ہیں تو ابا محترم بھی سلمان خان کی بجائے قادرخان ہوجاتے ہیں اور اپنی زوجہ کو ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ تب پھران خواتین کو اپنے زمانہ 'طفولیت' کے کزن، کلاس فیلو یا محلے دار یاد آنے لگتے ہیں۔ اور ان سے رابطہ کرنے کی خواہش پیدا ہونے لگتی ہے۔ ایس ایم ایس، ایمیل، فیس بک، ٹوئٹر، چیٹنگ یا سادہ فون کال ہی اس مقصد کو پورا کردیتی ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ انہیں چار، پانچ بچے تو مل گئے ہیں، محبت نہیں ملی۔ اس 'سوکالڈ' محبت میں پھر وہ کتنا خجل ہوتی ہیں، یہ ایک الگ کہانی ہے۔


دل تو میرا بہت کررہا ہے کہ یہاں میں ایک اخلاقی سبق قسم کی چیزآپ کے سامنے پیش کروں تاکہ ان تمام 'بگڑے' ہوئے حضرات بمعہ خواتین کو کان ہوں اور وہ 'راہ راست' پر آجائیں۔ پر جی سانوں کیہ۔۔۔


جنہاں کھادیاں گاجراں ٹڈھ انہاں دے پیڑ

میرے سوالوں کا جواب دو۔۔۔ دو ناں

الطاف انکل عرف قائد تحریک مزید عرف قائد انقلاب عرف شدید موٹے نے عوامی ریفرنڈم میں سترہ سوال پوچھے ہیں۔ ہم ان سوالوں کے جوابات کے ساتھ حاضر ہیں۔ ان سوالات میں موٹے انکل نے کچھ ایسی ہینکی پینکی بھی کی ہے جو ہم سکول کے دور میں مطالعہ پاکستان کے پرچے میں کیا کرتے تھے۔ مثلا ایک دفعہ ہم نے قائد اعظم کے چودہ نکات کو تئیس نکتوں تک پھیلا دیا تھا۔ ایسا ہی کچھ ان سترہ سوالات میں بھی کیا گیا ہے۔ اس ریفرنڈم میں الطاف انکل کی تحریک کے فاؤنڈنگ فادر عرف مرد مومن مرد حق کے ریفرنڈم کی جھلک بھی نظر آتی ہے کہ اگر آپ اسلامی نظام چاہتے ہیں تو میں اگلے پانچ سال کے لیے صدر ہوں۔۔۔ہیں جی؟

پہلا اور دوسرا سوال اصل میں ایک ہی ہے، جو ہماری چودہ نکات والی تکنیک سے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے کہ فلاں فلاں فلاں ملک میں دہشت گردی کے بعد وہاں کی عوام نے اتحاد وغیرہ کا مظاہرہ کیا تھا جبکہ ہم لڑ وغیرہ رہے ہیں اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ کررہے ہیں، جبکہ انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

اصل میں تو یہ سوال ہے ہی نہیں، موٹے انکل کا معمول کا سیاسی پوائنٹ سکورنگ والا بیان ہے۔ جسے وہ ہر واقعہ، سانحے، حادثے پر مقام، نام وغیرہ بدل کے استعمال لیتے ہیں۔ لہذا ہم اس سیاسی بیان پر تو کوئی جواب دے نہیں سکتے۔ صرف شاباش دے سکتے ہیں۔۔۔۔ در شاباش۔۔

تیسرا اور چوتھا سوال بھی ایک بیان ہی ہے جس میں دہشت گردی کے شکار ممالک کے حکمرانوں کے بارے پوچھا گیا ہے کہ کیا انہوں نے ایسے واقعات کے فورا بعد غیر ملکی دورے کئے؟ یا اگر دوروں پر تھے تو منسوخ کرکے واپس آگئے؟

پتہ نہیں جی۔ ہمیں تو یہ پتہ ہے کہ آپ تقریبا بیس سالوں سے غیرملکی دورے پر ہیں۔ جس دن آپ یہاں سے گئے تھے اس دن پیدا ہونے والے بچے آج ماسٹرز کررہے ہیں۔ جبکہ آپ۔۔ زمین جنبد نہ جنبد گل محمد۔۔ بنے ہوئے، وہیں ٹکے ہوئے ہیں۔ اور ہمیں انقلاب کی اشکل دیتے جارہے ہیں۔ خود کھا کھا کے غبارے کی طرح پھول گئے ہیں جبکہ آپ کی انقلابی عوام بھوک سے خود کشیاں کررہی ہے۔ اس کا جواب کون دے گا؟

اگلے سوال میں انہی ممالک کا حوالہ دے کر فوج سے جاری رومانس پر مہر تصدیق ثبت کی گئی ہے کہ کیا انہوں نے فوج کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا تھا؟

اس معاملے پر ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ کم ازکم ایک فریق تو ایسا ہے جو کہہ سکتا ہے کہ آپ نے آج تک انہیں لمبا گیڑا نہیں کرایا۔ ایک دفعہ کوشش کی تھی تو ابھی تک ٹکور کررہے ہیں۔ اس کے بعد ماشاءاللہ آپ کا ٹریک ریکارڈ قابل رشک ہے۔ ہمیں تو یہ بھی شک ہورہا ہے کہ بعد از انقلاب، آپ جنرل یحیی خان کو نشان حیدر دینے کی سفارش بھی کریں گے۔ وفاداری بشرط استواری اصل ایماں ہے۔۔۔ آہو۔۔

اگلا سوال پھر وہی اٹھانوے فیصد اور دوفیصد کا رنڈی رونا ہے اور فوج سے دست بستہ گذارش ہے کہ انہیں اٹھانوے فیصد کا نمائندہ جانتے ہوئے، دوفیصد کا سربراہ بنادے۔

چند دن پہلے سہ بارہ دو فیصدیوں کے ساتھ وزارتوں کا حلف اٹھا کے ایسا سوال کرنا، موٹے انکل کا ہی حوصلہ ہے۔ لگے رہو موٹا بھائی

یہاں تک آکے میری بس ہوگئی ہے۔ اگلے سارے سوال بھی وہی کروڑوں دفعہ کے دہرائے ہوئے ٹیلیفونک، ٹیلی ویژنک اور اخباری بل شٹ بیانات ہیں۔ جن کو سن سن کے کان پک گئے ہیں بلکہ اب تو رسنے بھی لگے ہیں۔

ہوئے کیوں نہ غرق دریا

دو مئی کو ریڈار بند نہیں تھے۔ پاک فضائیہ


پاک فضائیہ کے ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو مئی کو ریڈاد بند نہیں تھے بلکہ ہماری آنکھیں بند تھیں۔ کیونکہ 'دوستوں' کی لغزشوں سے چشم پوشی بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ ویسے بھی آج کل آئی پی ایل جاری ہے تو ریڈار بند کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس موقع پر انہوں نے ریڈار سے براہ راست آئی پی ایل میچ کی جھلکیاں رپورٹرز کو دکھائیں۔


پاکستان کی طرف اٹھنے والی میلی آنکھ نکال دیں گے۔ فردوس عاشق اعوان


وزیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کی طرف اٹھنے والی میلی آنکھ نکال دیں گی۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی چونکہ روزانہ منرل واٹر سے منہ دھوتے ہیں لہذا ان کی آنکھیں بالکل صاف ہوتی ہیں تو ان کو نکالنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں آنکھیں نکالنے کا تیس سالہ تجربہ ہے۔ میڈیکل کالج میں بھی انہوں نے چار ڈاکٹرز اور تین پروفیسرز کو کانا کیا تھا۔ آپ اگلے روز پریس کانفرنس سے خطاب کررہی تھیں۔


چھوٹی موٹی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ رحمن ملک


وزیر داخلہ رحمن ملک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایبٹ آباد کے واقعہ جیسی چھوٹی موٹی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ قائد عوام نے بھی مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن شروع ہونے پر کہا تھاکہ خدا کا شکر ہے، پاکستان بچا لیا گیا۔ لہذا بھٹو ازم کا تقاضہ ہے کہ ایسی چھوٹی موٹی باتوں پر پریشان نہ ہواجائے۔ ویسے بھی پریشان تو انہیں ہوناچاہیے جنہیں یہاں مستقل رہنا ہے!۔۔


نواز شریف پرسوں سے ایبٹ آباد واقعے پر غور کریں گے۔


مسلم لیگ ن کے ترجمان نے کہا ہے کہ نواز شریف پرسوں سے شروع ہونے والے مسلم لیگ کے اجلاس میں ایبٹ آباد واقعہ پر غور کریں گے اور یہ غور اگلے تین سال جاری رہے گا۔ اس کے بعد پالیسی بیان جاری کیا جائے گا۔


بلا اجازت امریکی آپریشن بری بات ہے۔ پرویز مشرف


مسلم لیگ (۔۔۔۔) کے قائد پرویز مشرف نے کہا ہے کہ امریکیوں کا بلااجازت آپریشن کرنا بری بات ہے۔ اچھے بچے ایسے نہیں کرتے۔ جبکہ ہمارے دور حکومت میں تو ہم ایسے آپریشن کی ذمہ داری خود لےلیا کرتے تھے۔ تاکہ ہمارے دوست شرمندہ نہ ہوں۔ جبکہ موجودہ حکومت میں اتنی اخلاقی جرات ہی موجود نہیں جو ہمارا خاصہ ہے۔ آپ لندن میں طبلے کی کلاس سے فارغ ہونے کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔

بی سی جیلانی اور سرداراں تائی

آج کا دن بہت سی اچھی خبریں لایا۔ میڈم نفیسہ کے فون نے صبح جلد بیدار کردیاتھا۔ انہوں نے خوشخبری سنائی کہ سرداراں تائی کیس کے مردے میں دوبارہ جان پڑگئی ہے۔ 'سفارتخانے' والوں نے آج سہ پہر بریفنگ کے لیے بلایا ہے۔ مزید تفصیلات بارے دریافت کرنے پر میڈم نے فورا اپنے آفس پہنچنے کو کہا۔ بیگم رات پتہ نہیں کس وقت آئی تھیں، لہذا دھت سورہی تھیں۔ میں تیار ہوا، کافی پی اور میڈم نفیسہ کی طرف جانے کے لیے نکل کھڑا ہوا۔

میڈم کے آفس میں رپورٹرز کا جھمگٹا لگا ہوا تھا۔ چینلز والے اپنے مائیک ان کے منہ میں گھسیڑنے کی لگاتار کوشش کررہے تھے۔ میڈم، حقوق نسواں پر دھواں دھار تقریر کررہی تھیں جو لائیو ٹیلی کاسٹ ہورہی تھی۔ انہوں نے مولویوں، سپریم کورٹ، مردوں، اسلام، غرض سب کو حسب توفیق کھری کھری سنائیں۔ میں چپکا ہوکے ایک کونے میں کھڑاہو گیا۔ آدھ پون گھنٹے کے بعد جب سب رپورٹرز سموسے، پیسٹریاں، پیٹیز اڑانے کے بعد انٹا غفیل ہوئے پڑے تھے تو میڈم نے مجھے اشارے سے ریسٹ روم میں آنے کو کہا۔

ریسٹ روم کا دروازہ اندر سے بند کرکے میڈم نے ایک گہری سانس لی اور آرام کرسی پر نیم دراز ہوتےہوئے مجھ سے کہا کہ الماری سے بوتل اور گلاس نکالوں۔ میں نے دو گلاس بنائے اور میڈم کی کرسی کے سامنے دھری کاؤچ پر بیٹھ گیا۔

۔۔"جیلانی، ہماری ایک دفعہ پھر لاٹری لگ گئی ہے"۔ میڈم نے اپنی بھینگی آنکھوں کو نشیلی بنانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہا۔ "بہت عرصے سے ڈرائی سپل چل رہا تھا۔ لگتا ہے خدا نے ہماری سن لی ہے۔ سفارتخانے والے بھی بڑے اتاؤلے ہورہے ہیں۔ کل سے یاددھانی کے دس فون آچکے ہیں۔ جیلانی ۔۔۔۔ وی ول میک آ فارچون آؤٹ آف اٹ۔۔۔"۔ میڈم نے ایک سسکاری لی اور آنکھیں موند لیں۔

خوشی کے مارے میری تو بھوک ہی اڑگئی تھی۔ لنچ بھی ہلکا پھلکا کیا۔ یعنی دو بگ میک پلس لارج فرائز۔ تین بجے ہم سفارتخانے جانے کے لیے نکلے۔ اب تو "سفارتخانے" جانا ایسا لگتا ہے جیسےہم محاذ جنگ پر جارہے ہوں۔ جگہ جگہ مورچے اور ان سے جھانکتی بندوقوں کی نالیاں۔ سکیورٹی کے نام پر آدھا گھنٹہ پہلے کتوں نے اور پھر بندوں نے ہمیں سونگھ کر کلیر کیا۔ کانفرنس روم میں شہر کی تمام نیک نام این جی اوز کے نمائندے موجود تھے۔ عالی پناہ نے بریفنگ کا آغاز کرتے ہوئے سرداراں تائی کیس کے فیصلے کا حوالہ دیا اور اس امر پر گہری خوشی اور مسرت کا اظہار کیا کہ خداوند کی مہربانی سے ایسا فیصلہ آیا ہے جس پر ہم اپنا لُچ بآسانی تل سکتے ہیں۔

انہوں نے فردا فردا سب کو ٹاسک سونپے۔ میڈم اور میں چونکہ یک جان دو قالب سمجھے جاتے ہیں۔ لہذا ہم دونوں کے سپرد ایک ہی ٹاسک کیا گیا۔ جس میں اس فیصلے کی آڑ لے کر مستقل اہداف پر گولہ باری جاری رکھنا شامل تھا ۔ میرے ذمے پرنٹ میڈیا آیا اور میڈم کے حصے الیکٹرانک۔ عالی پناہ نے گائیڈ لائن دیتے ہوئے فرمایا کہ جیسے چائلڈ لیبر صرف وہ ہوتی ہے، جہاں پندرہ سولہ سال کے بچے کسی فٹ بال بنانے والی فیکٹری میں کام کریں اور اچھے پیسے کمائیں۔ جو سات آٹھ سالہ بچے ہمارے گھروں میں چوبیس گھنٹے کام کرتے ہیں اور روٹی کپڑے کے علاوہ کبھی کبھار دو تین سو روپے ترس کھا کے انہیں دئیے جاتے ہیں، وہ چائلڈ لیبر میں نہیں آتے، بلکہ ان کا شمار صلہ رحمی اور انسانیت کے احترام وغیرہ میں ہوتا ہے۔ اسی طرح سزائے موت اگر قاتل کو ملے تو غیر انسانی اور وحشیانہ سزا ہے اور اگر سرداراں تائی کیس میں ملوث ملزمان کو نہ ملے تو یہ ناانصافی اور انصاف کا قتل سمجھا جائے گا۔

بریفنگ کے اختتام پر سب کو حفط مراتب اور خدمات کے لحاظ سے گرانٹس کے چیک دئیے گئے۔ عالی پناہ کے سیکرٹری نے مجھے بلجیم میں ہونے والی کانفرنس کا دعوت نامہ اور ریٹرن ٹکٹ بھی دئیے۔ یہ کانفرنس، اسلامی معاشرے میں عورت کا کردار اور مردوں کی بے کرداری کے موضوع پر ہورہی ہے۔

بریفنگ سے واپسی پر شام ڈھل چکی تھی۔ میں نے گاڑی کلب کی طرف موڑلی۔ آخر اتنے اچھے دن کے اختتام پر جشن تو ہونا ہی چاہیے تھا۔

محبت کا فنڈا

اپنے فیض صاحب نے فرمایا تھا کہ ؂ اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا۔۔۔۔ لیکن ان کی اس گذارش پر لوگوں نے کوئی دھیان نہیں دیا بالکل ویسے ہی جیسے ان کے انقلاب کو یار لوگ گویوں کے حوالے کرکے مطمئن ہوگئے تھے۔بچپن سے پچپن بلکہ اب توستر پچھترتک بھی ہر دوسرا بندہ اس مرض کا شکار ہے۔ اگلے وقتوں میں یہ بیماری، دوسرے امراض مخصوصہ کے ساتھ صرف جوانی سے مخصوص سمجھی جاتی تھی، یا کم ازکم بیان ایسا ہی کیا جاتا تھا۔ لیکن اب یہ حال ہے کہ بغیر نیکر کے گھومنے والے صاحبزادے بھی محبت محبت کی گردان کرتے ہیں اور محبوب نہ ملنے پر زندگی برباد ہونے کی چتاونی دیتے پائے جاتے ہیں۔


ہماری ناقص سمجھ میں تو یہ آیا ہے کہ ہم نے محبت اور ضرورت کو گڈ مڈ کردیا ہے۔ جسے آج کل محبت کے نام سے پروموٹ کیا جارہا ہے اور اس کا باجا، پرانے زمانے کی باراتوں میں بجنے والے بینڈ باجے کی طرح بجایا جاتا ہے، وہ ضرورت ہی ہے۔ جیسے کھانا ضرورت ہے، پینا ضرورت ہے، سونا ضرورت ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اب جو حضرات و خواتین، محبت میں ملاپ نہ ہونے پر زندہ نہ رہنے کے ارادے ظاہر کرتے ہیں، بقول خاور، انہوں نے شجر ممنوعہ کا پھل نہیں چکھا ہوتا اور اس فرسٹریشن یا ضرورت پوری نہ ہونے پر وہ مایوسی کے عالم میں ایسی درفنطنیاں چھوڑتے رہتے ہیں۔ اور ویسے بھی "محبت"کی شادی میں محبت، ولیمے کے تنبو اکھڑنے تک ہی رہتی ہے۔


اس سارے ڈفانگ میں شاعروں کا کردار کسی بی جمالو سے کم نہیں ہے۔ انہوں نے جدائی، فراق، وفا، جفا، نا رسائی وغیرہ کے ایسے ایسے مضمون باندھے ہیں اور انہیں ایسے گلوری فائی کیا ہے کہ ہر دوسرا ضرورت کا مارا، خود کو محبت کی کلاسیکی مثال سمجھ کر آہیں بھرتا اور تارے گنتا پھرتا ہے۔ جبکہ بات بڑی سادہ اور سیدھی ہے جو ہمیں پرائمری میں ہی سمجھا دی گئی تھی کہ انگور کھٹے ہیں۔ ایسے تمام حضرات جو "محبت" میں ناکامی یا "سادہ" لفظوں میں نارسائی کے ڈسے ہوئے ہیں ۔ ان کو ہمارا مفت مشورہ ہے کہ جتنی جلد ہوسکے، ضرورت پوری کرنے کا بست وبند کرلیں۔ ہمارا ووٹ قانونی اور شرعی طریقے کے حق میں ہی ہے۔ انشاءاللہ ولیمے کا کھانا لگنے سے پہلے ہی ان کے مرض "محبت"کا شافی و کافی علاج ہوجائے گا۔


آج تک محبت کا لفظ اتنی دفعہ لکھا نہیں گیا ہوگا ، جتنی اس کی تعریفیں یا ڈیفی نیشنز کی گئی ہیں۔ ان میں ایک ہماری تعریف بھی ہے جس کے مطابق ۔۔"اصلی تے سُچی محبت وہ ہوتی ہے، جو ضرورت پوری ہونے کے بعد ہو"۔ اب اس کی تشریح آپ خود کرتے رہیں!۔۔

ظلمی قورمہ

ایک دوست کی پرزور اور کھڑکی توڑ فرمائش پر آج ایک اور ترکیب حاضر خدمت ہے۔ اگرچہ ہم نے اپنے دسترخوان کو بند کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا کہ اپنے تئیں ہم ایک عظیم ادیب اور مصنف ہوچکے ہیں لہذا ایسی تحریروں کو ہم اپنے شایان شان نہیں سمجھتے تھے، خیر چھوڑئیے، یہ تو ایک جملہ معترضہ ہے، جو ہم نے اپنی شان میں بیان کیا ہے۔


یہ ترکیب، آریاؤں سے ایک تاریخی انتقام کی حیثیت بھی رکھتی ہے کیونکہ دروغ بر گردن راوی، انہی حضرات نے ہم دراوڑوں کو پلاؤ، قورمے کی علتیں لگائی تھیں۔ جبکہ عیش کوش والے بابر نے ہم پر یہ پھبتی کسی تھی کہ یہ عجیب لوگ ہیں، جو اناج کے ساتھ اناج کھاتے ہیں۔ کیونکہ اعلی حضرت نے کسی کو دال کے ساتھ روٹی کھاتے دیکھ لیا تھا۔ اس واقعے سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عام لوگوں کی قسمت میں ہمیشہ دال روٹی ہی ہوتی ہے۔ چاہے جتنے مرضی انقلاب آجائیں۔۔۔ ہیں جی۔


ترکیب کے اجزاء نوٹ کرلیں۔


کھیرے (تین پاؤ، دو چھٹانک)۔


کدو (ساڑھے تین کلو)۔


مولی (ایک کلو)۔۔


کریلے نیم چڑھے (دو کلو)۔


مونگ کی دال (حسب ذائقہ)۔


پانی (حسب ضرورت)۔


یہ قورمہ، بہت آسانی سے تیار ہوجاتا ہے۔ روایتی قورمے کی طرح اسے پکانے کے لیے راکٹ سائنس سیکھنے کی ضرورت نہیں۔ بڑے سارے پتیلے کو پانی سے بھرلیں اور چولہے پر چڑھادیں۔ سارے اجزاء بھی پتیلے میں ڈال دیں۔ ایک ابال آنے پر آنچ ہلکی کردیں اور ساری رات اسی آنچ پر پکنے دیں۔ نمک مرچ اور کسی بھی قسم کا مصالحہ ڈالنے کی جرات نہ کریں۔ صبح دم پتیلے کا ڈھکن اٹھائیں گے تو ایسی خوشبو استقبال کرے گی کہ ۔۔۔ آہو۔


یہ ڈش متنوع خصوصیات کی حامل ہے۔ لیچڑ مہمانوں سے چول سسرالیوں تک سب کو کفایت کرتی ہے۔ اگر کہیں سے کوئی خالص آرین پیس مل جائے تو اسے بھی یہ کھانے پر مجبور کرکے اس کے آباؤ اجداد کے ظلم و ستم کا بدلہ کسی حد تک لیا جاسکتا ہے۔


وہ خواتین، جو بھینسوں کو شرماتی ہیں اور سلمنگ سنٹرز والوں کے وارے نیارے کرواتی ہیں، ان کے شوہروں کے لیے بھی یہ تیر بہدف نسخہ ہے۔ اس ڈش کو ایک دفعہ کھانے کے بعد کم ازکم چھ دن تک کچھ اور کھانے کی حاجت یا خواہش نہیں رہتی۔ تو ڈبل فائدہ ہوسکتا ہے۔ ایک تو خاتون دوبارہ بھینس سے بکری کی صورت میں آجائیں گی اور سلمنگ سینٹرز پر برباد کیا جانے والا پیسہ، بھی بچنے کا واضح امکان ہے۔ آم کے آم گٹھلیوں کے دام۔۔۔