انتقام

کہنے کوتو طویل مُدّت گزر چکی ہے لیکن اُن دنوں کی تلخی کا احساس آج بھی اتنا ہی شدید ہے۔
شکیب جلالی نے کہا تھا۔۔
تھے حادثوں کے وار تو کاری، مگر مجھے
مرنے نہيں ديا خلشِ انتقام نے
شاعر تھا، شاید کسی کاری وار کو سہہ نہ سکا اور اپنے انتقام کی بھینٹ خود ہی چڑھ گیا۔ عام بندے کی کھال موٹی اور احساسات نسبتا کھردرے ہوتے ہیں چنانچہ بچت کا راستہ نکل آتا ہے۔ زندگی کی خوبصورتی (اور بدصورتی بھی) یہی ہے کہ کل کیا ہوگا، اس کا علم کبھی نہیں ہوپاتا۔ یکساں رفتار اور ہموار راستے پر دوڑتی گاڑی جب کسی حادثے کا شکار ہوجائے تو مسافر پر سب سے پہلا حملہ شاک کا ہوتا ہے۔ جسمانی زخم کی تکلیف تو بعد میں محسوس ہوتی ہے۔ روزانہ حادثوں کی خبریں پڑھنے اور سننے والے کبھی بھی یہ نہیں سوچتے  کہ وہ خود حادثے کا شکار ہوسکتے ہیں۔
ایسے ہی ایک حادثے کا شکار ہونے والوں میں ہم بھی شامل تھے۔ گدا سے شاہ ہو جانا تو ضرور پُرلطف چیز ہوتی ہوگی لیکن شاہ سے گدا ہوجانا نہایت اذیّت ناک عمل ہے۔ اتنا عرصہ گذر جانے کے باوجود بھی اس بارے کسی سے بات کرنا میرے لیے ممکن نہیں؛ مستقبل میں شاید کبھی ہوجائے۔ بہرحال، وہ اقوال زرّیں اور اخلاقی اسباق جودرسی ، مذہبی اور ادبی کتب میں رٹے اور پڑھے تھے ان کو حقیقی زندگی میں آزمانے کا موقع ملا۔ جان نچھاور کرنے کے دعوے کرنے والے، جان کے درپے ہوئے۔ جن کے لیے خون بہایاتھا، وہ پسینہ بہانے پربھی تیار نہ ہوئے۔ ہرقسم کے رشتوں کی پہچان ہوئی۔ تبھی پتہ چلا کہ سب سے پائیدار رشتہ، غم کا رشتہ ہوتا ہے۔ خون، دوستی، کاروبار، یہ سب رشتے انسانی جان کی طرح ہیں۔ ایک سانس کی مار۔
کسی بقراط کا کہنا ہے کہ زندگی میں ناکامی نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی، سبق ہوتے ہیں؛ جو سیکھ لئے جائیں تو ناکامی، کامیابی کی سیڑھی بن جاتی ہے۔
کچھ سبق مجھے بھی سیکھنے کو ملے۔کبھی بھی ناانصافی کے خلاف سمجھوتہ نہ کریں چاہے اس کے لیے آپ کو کچھ بھی برداشت کرنا پڑے۔ اگر انصاف کے لیے لڑنے اور حق چھین لینے کی طاقت نہ ہو تو بھی اپنے حق سے دستبردار کبھی نہ ہوں۔ انتقام بھی ایک حق ہے۔ اگر انتقام لینے کی طاقت نہ ہوتو اس طاقت کو حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کریں۔یہ جدوجہد طویل اور جسم و جاں کو نچوڑ دینے والی ہوسکتی ہے لیکن  یہ جدوجہد ہی زندگی ہے اور ایک دن ایسا آئے گا اور ضرور آئے گا جب آپ اپنا حق حاصل کرنے کی طاقت حاصل کرلیں گے۔ پھر آپ چاہیں تو انتقام لے لیں یا معاف کردیں۔
اور اصل معافی وہی ہوتی ہے جب آپ انتقام لینے کی طاقت اور قدرت رکھتے ہوں!۔ 

ٹوٹے

وہ ایک دبلا پتلا، پست قامت  شخص تھا۔ اس کے ہونٹ ،  عادی تمباکونوش ہونے کی گواہی دیتے تھے۔ ماتھا کافی وسیع و عریض تھا۔ بچے کچھے بال پیچھے کی طرف بنائے گئے تھے اور اس بناوٹ میں تیل کا وافر استعمال کیا گیا تھا۔جسم کی مناسبت سے سرکافی بڑا تھا۔ سلطان راہی کی کسی فلم میں اگر خلائی مخلوق کو دکھایا جاتا تو اس سے بہتر اداکار ملنا مشکل تھا۔   پہلی نظر میں اس کا تاثر  بیان کرنے کے کے لیے ، چلتا پُرزہ ایک مناسب ترکیب  لگتی تھی۔  اس  نے سگریٹ سلگا کر انگلیوں کے درمیان پھنسایااور  مُٹھّی بندکر کے ایک طویل کش لگایا اور اپنے ساتھ والی کرسی پر بیٹھے ایک فربہ اندام شخص سے مخاطب ہوا۔  "شیخ صاحب، آپ شاداب کالونی کے مین چوک میں جا کر کسی بھی  دکان دار سے پوچھ لیں کہ محمد حسین حرام دا کہاں رہتا ہے، وہ آپ کو میرے گھرتک چھوڑ جائے گا"۔  یہ کہہ کر اس نے داد طلب انداز میں شیخ صاحب کی طرف  دیکھا اور مُٹھّی بند کرکےکش لگانے لگا۔
 ___________________________________________________________________________________________

"اچھا! پھر کیا ہوا"۔ 
"ہونا کیا تھا،  جب ہم میچ شروع ہونے سے پہلے گراونڈ میں اترے اور وارم اپ ہونے کے لیےگراؤنڈ کا  چکر لگایا تو دوسری طرف بیٹھے ہوئے شائقین میں  مجھے دو تین انگریز نظر آئے"۔ عتیق نے منہ سے جھاگ اڑاتے ہوئے اپنا بیان جاری رکھا ۔ " میں نے  ان کو  (ہاتھ سے ایک اشارہ کرتے ہوئے) کیا"۔ حماقت کے ساتھ ساتھ اس کے چہرے پر خباثت بھی نظر آنے لگی تھی۔ "انگریزوں نے مجھے ہاتھ کے اشارے سے پاس بلایا۔ میں ان کے پاس گیا تو ایک بڈھے سے انگریز نے پوچھا کہ وٹ یو ڈد ود یور ہینڈ؟ میں نے کہا کہ  اٹ مین ویلکم ویلکم۔ وہ بابا بڑا خوش ہوا اور مجھ سے میرا  اور سکول کا نام پوچھا اور یہ بھی پوچھا کہ تمہارا کوچ کون ہے اور کہاں بیٹھا ہے۔ میں نے نواز صاحب کی نشاندھی کی تو اس نے کہا کہ جب تم اپنے کوچ کے پاس جاؤ تو اسے ہماری طرف متوجہ کرنا"۔  عتیق کے جھاگوں بھرے جملوں سے اپنے منہ بچاتے ہوئے ،رنگیلے نے   اسے ٹہوکا دیا  کہ آگے بھی بک۔  عتیق نے رنگیلے کے رنگ کو اس کے آباؤ اجداد کی خوراک  کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے اپنا بیان دوبارہ شروع کیا۔ " میں ، نواز صاحب کے پاس پہنچا اور انہیں کہا کہ وہ جو سامنے انگریز بیٹھے ہیں، وہ آپ کے بارے پوچھ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ اپنے کوچ کو ہماری طرف متوجہ کرنا۔ نواز صاحب نے دندیاں نکالیں اور  ان گوروں کی طرف دیکھ کے ہاتھ ہلایا۔ جوابا ان گوروں نے  وہی اشارے کرنے شروع کردئیے جو میں ان کو کررہا تھا۔ نواز صاحب  کی اچانک ایسی حالت ہوگئی  جیسے پی ٹی صاحب کو دیکھ کے ہماری ہوجاتی ہے۔  کہنے لگے، یہ حرامخور، بڑے ذلیل ہیں۔ بدتمیز ناں ہوں تو ۔ وڈے انگریز بنے پھردے نیں۔ٹغے دی کرتوت نئیں۔   مزے کی بات تو یہ کہ پورے میچ کے دوران جب بھی نواز صاحب کی نظر ان گوروں پر پڑتی تو وہ انہیں" ویلکم" کرنے لگتے  اور نواز صاحب انہیں خالص جٹکی گالیاں دینے لگتے"۔ عتیق ان گالیوں کو دہرا کر ان کے علم میں بے ہودہ اضافےکرنے لگا۔ان گالیوں کا مرکزی خیال،  ان گوروں کی خواتین سے اپنے ، اپنے خاندان کے مرحوم بزرگوں ، مویشیوں اور پالتو جانوروں  کے قائم کئے ہوئے تعلقات کی تفاصیل ،جزئیات  اور انکے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کا بیان تھا۔

زہریہ ٹاؤن

میں دل شکستہ ہوچکا تھا۔  مایوسی میرے رگ و پے میں سرایت کرکے کانوں سے دھویں کی شکل میں نکل رہی تھی ۔ جس سے میری عینک کے شیشے بار بار دھندلا رہے تھے۔ میرا دل چاہ رہا تھا کہ اپنی عینک دیوار پر دے ماروں لیکن پھر خیال آتا تھا کہ یہ بھی ٹوٹ گئی تو کھمبوں سے ٹکراتے ٹکراتے کیسے گھر پہنچوں گا۔ جونہی میں کمرے سے باہر نکلنے لگا تو اشرف قصائی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔ اسے تھپتھپایا ۔ اور سرد لہجے میں یاددھانی کراتے ہوئے بولا ۔ "چوہدری صاحب، دس ہزار ہوچکے ہیں۔ اگلے ہفتے تک ادا ہوجانے چاہییں"۔
میرا جی چاہا کہ جھنگ روڈ پر جاکے این ایل سی کے ٹرالے کے سامنے کود جاؤں۔  مجھے پتہ تھا کہ اگلے ہفتے تک، دس تو کیا، میں ایک ہزا ر کا بھی بندوبست نہیں کرسکتا۔ تنخواہ ملنے میں ابھی بیس دن باقی تھے اور کوئی مجھے ادھار دینے کی غلطی نہیں کرسکتا تھا۔ مجھے اللہ دتّے کی وہ حالت یاد آگئی جو پچھلے مہینے اشرف قصائی کے بیٹوں کے ہاتھوں ہوئی تھی  اگرچہ وہ صرف پانچ سو کا ہی مقروض تھا۔ انہی سوچوں میں غلطاں میں جوئے کے اڈّے سے باہر نکلا ۔ ابھی دس قدم چلا ہوں گا کہ گلی کی نیم تاریکی سے ایک سایہ نمودار ہوا۔ یہ ملک نیاز تھے!۔
انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے تاریکی میں پارک کیے ہوئے 70 ماڈل ویسپے کے پاس لے آئے۔ کک مار کر اسے سٹارٹ کیا اور مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ میں بادل نخواستہ پچھلی سیٹ پر براجمان ہوگیا۔ ملک صاحب ، مہارت سے ویسپا ڈرائیو کرتے ہوئے منڈی کوارٹر کی طرف رواں دواں ہوگئے۔  منڈی کوارٹر کے ایک خستہ حال مکان کے سامنے جا کر انہوں نے ویسپا روکا۔ مجھے اترنے کا اشارہ کیا اور ویسپے کو سٹینڈ پر لگا کر مخصوص انداز میں دروازے پر تین بار دستک دی۔ (پینی۔۔۔پینی۔۔۔ پینی۔۔۔)٭۔ دروازہ ایک درمیانی عمر کی پختہ کار عورت نے کھولا  اور ہماری طرف دیکھ کر خوف صورت انداز میں مسکرائی۔ ملک صاحب میرا ہاتھ پکڑ کر جلدی سے اندر گھس گئے۔ مکان نیم تاریک اور پراسرار سا تھا۔ ملک صاحب نے مجھے بیٹھک میں بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود اندرونی کمرے میں گھس گئے۔ بیٹھک میں دو کرسیاں ، ایک میز جس کا ایک پایہ ٹوٹا ہوا تھا اور اس کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے اینیٹیں بھی نہیں رکھی گئی تھیں، اور ایک جھلنگا سی چارپائی تھی جس پر ایک میلا سا گدّا بچھا ہوا تھا۔ دس منٹ کے بعد ملک صاحب تشریف لائے۔ ان کے چہرے پر "نور" معمول سے کچھ زیادہ تھا۔ انہوں نے چارپائی پر نیم دراز ہوتے ہوئے سگریٹ سلگایاتو چرس کی مسحورکن خوشبو پوری بیٹھک میں پھیل گئی ۔ دو کش لگا کر انہوں نے مجھے واری لگانے کی دعوت دی جو میں نے شکریے کے ساتھ قبول کرلی۔ سگریٹ ختم ہونے کے بعد، ملک صاحب نے کھنگورا مار کر گلا صاف کیا اور یوں مخاطب ہوئے۔
"دیکھ باؤ چوہدری!۔ تو حیران ہورہاہوگا کہ میں تجھے یہاں کیوں لے کر آیاہوں۔  بات یہ ہے جگر ، کہ مجھے تیرے حالات کا پتہ چلا ہے کہ تو کافی قلّت زر کا شکار ہے اور اشرف قصائی ، آئی ایم ایف بن کر تیرا خون چوسنے کا پروگرام بنا رہا ہے اور اپنے بیٹوں کو نیٹو کی طرح تیری طبیعت صاف کرنے پر لگانے والا ہے ۔دیکھ باؤ، میں تجھے بہت پسند کرتا ہوں۔ تو ایک حق کا پرچارک اور راست گو لکھنے والا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ سر بازار تیری پھینٹی لگے اور لوگوں کو پتہ چلے کہ تو جواء کھیلتا ہے اور اتنا برا کھیلتا ہے کہ ہمیشہ ہارجاتا ہے"۔ ملک صاحب دم لینے کو ایک لحظہ کے لیے رکے اور مجھے پہلو بدلتے دیکھ کر میسنے انداز میں زیر مونچھ مسکرائے اور دوبارہ سلسلہ کلام جوڑا۔ "ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ رزق کا وعدہ تو رب نے کیا ہے لیکن جوئے، شراب اور عیاشی کا نہیں۔ لہذا یہ سب چیزیں چاہییں تو مجھ سے تعاون کر۔ تجھے جو چاہیے وہ ملے گا"۔ ملک صاحب نے بات ختم کرکے لوفرانہ انداز میں مجھے آنکھ ماری  اور نیا سگریٹ سلگانے لگے۔
میں نے  نروس انداز میں ملک صاحب کی طرف دیکھا۔ عینک اتار کر اس کے شیشوں پر پھونک ماری، قمیص کے دامن سے انہیں صاف کیا اور دوبارہ ناک پر ٹکا کر ملک صاحب سے استفسار کیا۔ "سو وٹ ایگزیکٹلی یو وانٹ می ٹو ڈُو، دین؟"۔ ملک صاحب نےایک طویل  قہقہہ لگایا۔ میز پر پڑے گندے سے جگ سے منہ لگا کر پانی پیا اور مجھے تسلی دیتے ہوئے کہنے لگے، " ڈر مت باؤ، تجھے صرف میرے حق میں خبریں لگانی ہیں۔  جس میں بتایا گیا ہو کہ میں کتنا بڑا سماجی کارکن ہوں اور غریب غرباء کا کتنا درد میرے اس متاثرہ جگر میں ہے۔ تجھے تو پتہ ہے کہ دنیا کتنی حاسد ہے۔ ایک سجن تو سو دشمن ۔ بس تو مجھے ایک دیالو، ان داتا اور لکھ لُٹ امیج دے، میں تیرے قرضے، خرچے، جوئے، سب اٹھالوں گا۔ تو ابھی ملک نیاز کو جانتا نہیں ہے۔ کسی اشرف قصائی جیسے کن ٹُٹّے کی جرات نہیں ہوگی کہ تیری ہوا وَل وی تَک جائے۔ آہو۔"
میں اٹھا، ملک صاحب کے گھٹنوں کو چھوا  ۔ اور الٹے قدموں سے چلتا ہوا کمرے سے باہر نکل آیا۔
میری دنیا بدل چکی تھی۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
٭"بگ بینگ تھیوری" کے ڈاکٹر شیلڈن کوپر کی سوغات

حاصل گھاٹ سے اقتباسات

امریکہ پہنچ کر کسی نووارد نے پڑتا لگایا کہ کسی ملک میں نوشہری ہونے کے معنی یہ ہیں کہ زیادہ سوال نہ پوچھے جائیں ورنہ لوگ آپ کو انجان سمجھ کر کمتر جانیں گے۔ لوگوں کو اشیاء کی طرح سمجھیں، استعمال کریں اور پھر آزاد چھوڑ دیں۔ اپنے آبائی وطن کو پہلی بیوی کی مانند کہیں اندر سینت کر رکھیں لیکن اس کی خوبیوں خرابیوں کا قطعا ذکر نہ کریں۔ پتہ نہیں سننے والے پر اس ذکر کا کیا اثر ہو۔۔۔۔۔ ایک ہی شخص کو دو مرتبہ دھوکا نہ دیں۔ آپ کے وطن کی شہرت کا سوال ہے ۔۔۔۔۔ پس ماندہ ترقی پذیر ملکوں کے نادار لوگوں کی مدد کرنے والے اداروں کو چندہ نہ دیں۔نہ جانے ان کے پیچھے سیاسی گٹھ جوڑ کیا ہو۔۔۔۔ ہمیشہ ایسی تحریکوں میں شامل ہوں جو گلہریوں، Flamingoes اور Skunks کے لیے پریشان ہیں۔ وائلڈ لائف میں دلچسپی لینے سے انسان زیادہ کلچرڈ، لبرل اور انسان دوست شمار ہوتا ہے۔
______________________________________________________________________
پینڈو، روزی کی خاطر شہر کا رخ کرے تو وہ اپنی ذہانت ساتھ لاتا ہے، لیکن شہر میں آتے ہی اسے احساس کمتری ہونے لگتا ہے۔ سب سے پہلے تو اسے وہ زبان ششدر کرتی ہے جس کا ماخذ کتابیں، ابلاغ کے جملہ وسائل اور مارکیٹ جنم دیتے ہیں۔۔۔۔۔ لباس تو وہ جلد ترک کردیتا ہے لیکن زبان سیکھنے کے لیے اسے کچھ مدت درکار ہوتی ہے، لیکن جسے پینڈو سمجھ کر شہری لوگ برخاست کرنا چاہتے ہیں، وہ اپنے تروتازہ دماغ کے باعث تجربے سے سیکھی ہوئی فہم و فراست کے باعث بہت جلد شہری کے سامنے سیڑھیاں چڑھنے لگتا ہے۔ اسے آداب محفل سیکھنے میں دیر لگتی ہے کیونکہ یہ وہ پانی نہیں جن میں اس نے تیرنا سیکھا لیکن مجلسوں میں زندہ دلی، پینڈو ہی کے دم قدم سے ہوتی ہے۔ شہری انہیں ان پڑھ سمجھتے ہیں لیکن پھر اسی کی گھڑت کے ٹوٹم اور Taboos شہری معاشرے میں لہو کی طرح دوڑنے پھرنے لگتے ہیں۔ دیہاتی کی ترقی شہر میں اور بھی تیز ہوتی ہے جب یہ تعلیم کی سان پر چڑھے الفاظ کا جنتر منتر سمجھ پائے اور گفتگو کے اتار چڑھاؤ میں دیہاتی تجربے سمونے لگے تو شہری اس کا مقابلہ نہیں کرپاتے۔
______________________________________________________________________
امریکہ میں لوگ ڈالر نہیں بچاتے، وقت بچاتے ہیں۔ پھر جب وقت کا صحیح مصرف ہونے لگتا ہے تو ڈالر خود ہی پس انداز ہونے لگتے ہیں۔ اس طرح ایک خاص قسم کی Frustration جنم لیتی ہے۔ مایاداس پر دولت کا بوجھ خودبخود بڑھتا ہے۔ دولت اپنی مشغولیات خود بڑھاتی ہے۔ محل نما گھر، ان گھروں کے انتظامات، بیرونی ممالک کے سفر، Designer کپڑوں او رجوتوں کی تلاش، دولت کی بناء پر شہرت کی ہوس۔۔۔۔ پارٹیاں، پی آر، پرسنیلٹی پرابلمز، نفسیاتی بیماریوں کا لاینحل سلسلہ جاری ہوجاتا ہے۔ جب ڈالر بچنے لگتے ہیں تو پھر ایک اور قسم کا Stress شروع ہوجاتا ہے۔ دراصل یہاں انسان پوری کوشش کرتا ہے کہ وہ ذہنی دباؤ سے نکلے۔ طمانیت قلب، سکون اور شانتی ملے۔ ۔۔۔ لیکن شاید معیشت اور معاشیات کو یہ کچھ درکار نہیں۔ زندگی کا اصل راز اسی  Stress میں ہے ۔۔۔ یہ اور بات ہے کہ فلاح کے راستے پر چلنے والے دباؤ کی گھڑی سر سے اتار کر ملکوتی مسکراہٹ کے ساتھ گردوپیش میں ٹھنڈی چاندنی کی طرح پھرتے ہیں۔ نہ جہاں سوزی کا باعث بنتے ہیں نہ خود سوزی کا۔۔۔ لیکن اس سکون کے نسخے کا Patent  وہ ایسی جگہ کراتے ہیں، جہاں سے نبیوں کا نسخہ سکون میسر آتا ہے اور اسے کسی اور زبان میں لکھا جاتا ہے۔
                                                                                                                                                     بانو قدسیہ/حاصل گھاٹ

تریموں ہیڈ کا کوبرا

ایسا نہیں ہے کہ ہم استاد خالد کوبھول چکے ہوں اور اپنا وعدہ فراموش کردیاہو لیکن مسئلہ کچھ اور ہے۔ سال کے سال ہمیں واپس فیصل آباد جانا ہوتا ہے اور اگرچہ اس کا امکان ون ان آ ملین ہے کہ استاد کی نظر ہمارے بلاگ پر پڑجائے، لیکن پرہیز علاج سے بہرحال بہتر ہے کہ استاد کا ہاتھ کسی ہتھوڑے سے کم نہیں ہے۔ پورے گلبرگ، گلشن کالونی، محمدپورے وغیرہ کے گھروں میں لوہے کے دروازے، کھڑکیاں اور ریلنگ وغیرہ استاد کے مبارک ہاتھوں سے ہی پایہ تکمیل کو پہنچے ہیں اور اس عمل کے دوران ان کے ہاتھ "آہنی ہاتھ" بن چکے ہیں۔ اور یہ قانون کے آہنی ہاتھ بھی نہیں کہ ان کو ہر با رسوخ آدمی گرم بھٹّی کی طرح لگے۔
بہرحال ہم "تُزک استاد پونکوی" سے آپ کے لیے ایک سبق آموز واقعہ ضرور پیش کریں گے۔ چاہے اس میں ہمار ےہاتھ ہی کیوں نہ قلم اور منہ بلم ہوجائے۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان چکے ہیں کہ استاد کو مچھلی کے شکار کا ہوکا تھا۔ اور بقول ان کے کائنات میں ان سے بڑا مچھلی کا شکاری نہ کبھی پیدا ہوا اور نہ ہی وہ پیدا ہونے دیں گے۔اس بات کا مطلب نہ توہمیں اس وقت سمجھ آتا تھا اور نہ ہی  اب آتا ہے جبکہ ہم قابل شرم حد تک لفنگے اور واہیات بھی ہوچکےہیں۔
گرمیوں کی ایک "خوشگوار دوپہر" کو ہم اپنے لنگوٹیے کے ساتھ استاد کی دکان کے باہر رکھے تاریخی پھٹّے پر براجمان تھے اور استاد منہ میں کے ٹو کا سگریٹ دبائے دبادب ہتھوڑے کو لوہے پر بجا رہے تھے۔ اس سے تنگ آکر ہم نے اپنے شریک ناکار کو آنکھ ماری اور استاد سے مخاطب ہوکر کہا کہ "استاجی، وہ ہیڈ تریموں والا کیا قصہ تھا؟" استاد ہوراں ایک دم گردن موڑ کر ہماری جانب گھورا۔ ہتھوڑا پھینکا۔ ڈبی سے نیا سگریٹ سلگا کر سٹول کھینچا اور ہمارے قریب آبیٹھے۔ چھوٹے کو ڈیک کی آواز آہستہ کرنے اور چائے لانے کا آرڈر دیا اور مخصوص سسکاری سی بھر کر چھ سو ستانوے دفعہ کا سنایا ہوا قصہ، اس جوش و خروش سے سنانا شروع کیا جیسے پہلی دفعہ ہی ہو۔
"میں، حیدر گنجا، دینا کلفیاں والا، چھیدا اور مولوی رفیق، ہم پانچ مُنڈے تھے"۔ استاد نے گہرا کش لے کر ناک سے دھواں خارج کیا۔ سڑک کے پار خلیل بیکری والے کو بآواز بلند گالی دی اور جوابی گالی سن کر زیرلب تبسم کیا۔ اور دوبارہ کہانی شروع کی۔ "سردی بہت تھی۔ ہم شام کو وہاں پہنچے اور ٹینٹ وغیرہ لگاتے رات ہوچکی تھی۔ ڈوریاں پانی میں ڈال کر ہم نے کھانا کھایا اور تاش کھیلنی شروع کردی۔ گیارہ بجے تک سب سونے کے لیے لیٹ چکے تھے۔ میں نے ان کو کہا بھی کہ ڈوریاں تمہارے باپ نے تازہ کرنی ہیں۔ لیکن سب کے سب ہی کمینے اور ۔۔۔۔ تھے۔ میں نے جا کر ڈوریاں چیک کیں اور انہیں تازہ کیا اور اپنے ٹینٹ میں آکر لیٹ کر ڈائجسٹ پڑھنے لگا۔ ایک ڈیڑھ گھنٹے کے بعد میں دوبارہ ڈوریاں چیک کرنے کے لیے ٹینٹ سے باہر آیا ہی تھا کہ"۔
استاد نے ایک ڈرامائی وقفہ لیا، مخصوص سسکاری بھری اور سلسلہ یوں جوڑا۔
"میرے سامنے پانچ چھ فٹ کی دوری پر ایک کوبرا ناگ پھن پھیلائے شُوکریں مار رہا تھا۔ میں نے دل میں کہا کہ  لے بئی خالد، اج تو نئیں یا فیر ایہہ نئیں۔ وہ ناگ کم از کم بیس فٹ لمبا تھا اور کنڈلی مار کے اس کی تقریبا تین منزلیں بن گئی تھیں۔"
یعنی تین منزلہ ناگ، استاجی؟ میں نے دخل در معقولات کیا۔ استاد نے میری طرف گھورا۔ اسی اثناء میں دوسرا کمینہ بولا کہ استاجی اتنا لمباسانپ ہوتا ہی نہیں، اژدھا ہوتا ہے۔ استاد نے سگریٹ کی راکھ جھاڑی اور اسے مخاطب کر کے کہا کہ تینوں میرے ۔۔۔ دا پتہ؟ چپ کرکے سن۔ میں نے اسے کہنی ماری۔ اس نے جوابا ٹھڈا مارا۔ لہذا ہماری بے اختیار ہنسی جو ابلنے کو آئی تھی اسے تکلیف نے دبا لیا۔ استاد نے دوبارہ سلسلہ جوڑتے ہوئے کہا۔ "میں بالکل ساکت ہوگیا کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ میں نے ذرا سی بھی حرکت کی تو اس نےحملہ کردینا ہے اور اس کا ڈسا پانی نہیں مانگتا"۔ چائے مانگتا ہوگا شاید۔ ہم نے لقمہ دیا۔  استاد نے اس واہیاتی کو اگنورا اور کہانی جاری رکھتے ہوئے کہا۔
" تمہیں شاید پتہ نہ ہو کہ کوبرے ناگ کی آنکھوں میں ایسی کشش ہوتی ہے کہ وہ بندے کو ہپناٹائز کردیتی ہے۔ لیکن میں اس کی آنکھوں کی بجائے ، آنکھوں کے درمیان میں دیکھنے لگا تھاورنہ میرے والا کام ہوجانا تھا۔ میرے بائیں ہاتھ میں شکار والی ڈوری تھی جس کے ساتھ مچھلی پکڑنے والا کانٹا لگا ہوا تھا۔ میں نے آہستہ آہستہ ڈوری کو دائرے میں گھمانا شروع کیا"۔ پر استاجی، آپ تو کہہ رہے تھے حرکت کرنے پر کوبرا، حملہ کردیتاہے؟۔ میں نے پھر آبجیکشن می لارڈ کی صدا بلند کی۔ " تجھے منہ کی بواسیر ہے"۔ استاد نے گھورتے ہوئے میری بیماری کی تشخیص کی، فلٹر تک پہنچتے ہوئے سگریٹ کو زمین پر پھینکا اور اسے پاؤں سے ایسے مسلا جیسے میری گردن ہو۔ "چپ کرکے سن۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ میں نے ڈوری کو تیزی سے گھماتے ہوئے سوچا کہ یہ زندگی موت کا کھیل ہے خالد۔ تیری ایک غلطی تجھے نیلا کرسکتی ہے۔ اللہ کانام لے کر میں نے ڈوری کو کوبرے کی طرف پھینکا"۔ استاد نے پھر وقفہ کرکے ڈبی سے سگریٹ نکالا، سلگایا، کش لگایا۔ دوسرا کمینہ بولا کہ استاجی، کانوں سے دھواں نکال کے دکھائیں۔ استاد نے جواب دیا،  "پھر تو کہے گا کہ اب ۔۔۔ میں سے دھواں نکال کے دکھا۔ بکواس بند کر اور آگے سن۔ ڈوری کو کوبرے تک پہنچنے میں سیکنڈ کا ہزاروں حصہ لگا ہوگا کیونکہ میں نے پھینکی ہی اتنی رفتار سے تھی، کانٹا سیدھا جا کے کوبرے کے حلق میں پیوست ہوگیا اور اس کی زہر کی تھیلی پنکچر کردی اور اس کا سارا زہر بہہ گیا"۔
استاجی،  سانپ کا زہر تو اس کے دانتوں میں نہیں ہوتا؟ میں نے پھر سوال داغا۔ "اوئے کھوتے، وہ عام سانپ کا ہوتا ہے، کوبرے کا زہر اس کے حلق میں ہی ہوتا ہے"۔ استاد نے اپنے علم دریاؤ سے ہمارے بنجر ذہن سیراب کرتے ہوئے کہا۔ اور دوبارہ گویا ہوئے۔ "اب مجھے اطمینان ہوگیا کہ یہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ پھر میں نے اس کو گچّی سے پکڑا اور اس کی گردن میں رسی ڈال کر اسے قریبی درخت سے باندھ دیا۔ شکار سے واپس آتے ہوئے میں نے کوبرے کو دوبارہ کھول دیا تاکہ وہ واپس چلاجائے"۔
استاجی، اس کو مارا کیوں نہیں؟۔
 " اوئے کم عقلا، اس کو ماردیتا تو اس کی ناگن نے ہمیں چھوڑنا تھا بھلا؟
 ناگن فلم نئیں دیکھی تو نے؟ "

خالدہ؛ کوئی نئیں تیرے نال دا!۔


چند ماہ قبل جب ہم وطن مالوف کے سالانہ دورے پر تھے تو ہمیں چند ٹی وی ڈرامے دیکھنے کا موقع ملا۔ ہرچند کہ ہمارا ارادہ ہرگز ایسا کوئی کام کرنے کا نہیں تھا لیکن تدبیر کند بندہ، تقدیر کند خندہ۔ سب سے پہلے تو ہم ان ڈراموں کے عنوانات سے نہایت متاثر ہوئے؛ مثال کے طور پر "خالدہ کی والدہ"، "نزاکت علی کی بچیاں" وغیرہ۔ یادداشت کمزور ہوجانے کے باعث شاید ناموں میں کچھ گڑ بڑ ہو لیکن مفہوم تقریبا یہی تھا۔ ایک اور قابل تعریف بات جو ہم نے نوٹ کی، وہ ہر ڈرامے میں ایک جیسے واقعات، حادثات،  رومانویات، بکواسیات وغیرہ کا ہونا تھا، ہماری رائے میں ڈرامہ پروڈیوسرز اپنے ناظرین کو کسی بھی قسم کی ذہنی کوفت سے بچانے کے لیے یہ سب کرتے ہیں تاکہ کسی بھی ڈرامے کو کہیں سے بھی دیکھنا شروع کریں تو ایسا لگتا ہے کہ ۔۔ یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے ۔۔
ہماری بدبختی کہہ لیں کہ ڈراموں کے نام پر ہم نے جو کچھ دیکھ رکھا ہے اس میں اور کچھ ہو نہ ہو، کہانی نام کی ایک چیز ضرور ہوتی تھی۔ اور کہانی میں خرابی یہ ہوتی ہے کہ شروع ہونے کے بعد اس کو ختم بھی ہونا ہوتا ہے۔ جبکہ ان ڈراموں میں ایسا کوئی تکلف سرے سے برتا ہی نہیں جاتا۔ ان کی خاصیت ہے کہ یہ کہیں سے بھی شروع ہوسکتے ہیں اور کبھی ختم نہیں ہوتے۔
 کھانے کی تراکیب والے پروگرامز، جن میں مختلف عمر کے خواتین و حضرات جناتی قسم کے کھانوں کی تراکیب رٹانے کی سرتوڑ کوششیں کرتے ہیں،  اسی طرح ہر نسل اور کَو نسل   ڈرامے بنانے کی ایک  ہر فن مولا قسم کی  ترکیب ہم آ پ کے گوش گذار کرنا چاہتے ہیں ۔بیان کردہ  سارے اجزاء مناسب مقدار میں ڈالیں اور ایک سپر ہٹ ڈرامہ تیار۔ ان اجزاء میں سب سے اہم جز، کسی نہ کسی دوشیزہ ، چار شیزہ   ڈائجسٹ  وغیرہ کی مشہور مصنفین ہیں جن میں سے کسی ایک  کا نام بطورڈرامہ نویس، ضرور ی ہے ۔ اس کے بعد تین چار ہاٹ ماڈلز، شبیر جان، عدنان صدیقی، اسد، فیصل قریشی وغیرہ میں سے جو میسر ہو۔ بشری انصاری، عتیقہ اوڈھو (وائن فیم اور ہمارے لڑکپن کا کرش) وغیرہ میں سے کوئی ایک یا دونوں ہی، ڈرامے کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے۔ دبئی، ملائشیا، سنگاپور، برطانیہ، آئر لینڈ ، سکاٹ لینڈ وغیرہ کی لوکیشنز، بجٹ کے حساب سے جو سوٹ کرے۔ ان سارے اجزاء کو ایک فینسی ڈریس شو قسم کے پروگرام میں ڈال کر اچھی طرح ہلالیں، ساس بہو کا رنڈی رونا بھی مناسب مقدار میں ڈال لیں۔ دوسری عورت اور "مجھے سچی محبت نہیں ملی" وغیرہ بھی حسب ذائقہ شامل کرلیں۔ ڈرامے کے ٹریلرز اور پوسٹرز بناتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ ہیروئنز کے سائڈ پوز کو ایکسپوز کیا جائے اور یہ پوز صرف چہرے کا نہیں ہونا چاہیے!۔ اور ہاں سب سے اہم چیز، ڈرامے کا تھیم سانگ ہے۔ فراز جیسے کسی ٹین ایج شاعر کی کوئی "چیزی" سی غزل، راحت فتح علی یا سجاد علی سے انتہائی غمگین لے میں گوائیں اور ڈرامے کے ہر ٹریلر میں ناظرین کو پوری سنوائیں۔
جہاں تک ڈرامے کے نام کا تعلق ہے تو ہم نے کچھ نام سوچ رکھے  ہیں۔ گر قبول افتد زہے عزو شرف۔
رفیق نوں پے گئی نویں  پھٹیک۔ سسرال میں دھمال۔ نذیر کی نور نظر۔ کم ظرف بشیراں۔ ہم دل والوں کو بہت کچھ ہوتا ہے صنم۔ دل پر پڑی چماٹ۔ حسینہ کا مہینہ اور لاسٹ بٹ ناٹ لیسٹ۔۔۔
خالدہ؛ کوئی نئیں تیرے نال دا! ۔

کُکّڑ، بانگ اور گڈ مارننگ


اس نے کرسی پر پہلو بدلا۔ پتلون کی جیب سے پان پراگ  کا پیکٹ برآمد کیا۔ اسے دانتوں سے کھول کر ہتھیلی پر انڈیلا اور ایک جھٹکے سے  پھکّا مار لیا۔  پان پراگ کے اجزاء کو منہ میں ایڈجسٹ کرنے کے بعد اس نے کرسی کی پشت پر سر ٹکایا ایک گہرا سانس لیا اور یوں مخاطب ہوا۔ "ہمیں ہمیشہ تعصّب ، ظلم ، ناانصافی اور تشدّد کا نشانہ بنایا گیا۔ ہمارے آباؤ اجداد اس ملک کے بانی تھے۔ اس کے باجود ہمیں یہاں دوسرے درجے کا شہری سمجھا گیا۔ ہم اپنے بسے بسائے گھر اور جمے جمائے کاروبار چھوڑ کر یہاں آئے۔ لیکن ہمیں اس قربانی کی کوئی صلہ نہیں ملا۔ ہم نے اس قصبہ نما شہر کو نئے ملک کی معاشی حب بنادیا لیکن اس کے باوجود ہمیں  اس کا کریڈٹ نہیں دیا جاتا۔ یہ شہر پورے ملک کا 70 فیصد ریونیو اکٹھا کرکے دیتا ہے لیکن ہمیں ہمارے جائز حصے سے ہمیشہ محروم رکھا گیا۔ مرے پہ سو دُرّے ہماری محنت سے جب یہ شہر اس مقام پر پہنچ گیا تو پورے ملک سے لوگ اس پکی پکائی پر پہنچ گئے اور ہماری محنت کے پھل میں اپنا حصہ جتانےلگے۔ کیا ہم نے اس شہر کو اس لیے اپنا خون پسینہ دیا تھا کہ کوئی اور اس کا فائدہ اٹھائے؟  جس کو دیکھو، منہ اٹھائے یہاں گھسا چلا آتا ہے،  ہم اس ظلم اور ناانصافی کو اور برداشت نہیں کرسکتے۔ یہ تعصّب کا رویّہ جو ہم سے روا رکھا جاتا ہے اب ختم ہونا چاہیے اور ہمیں ہماری شناخت اور حق ملنا چاہیے"۔   میرے اس دوست نے یہاں رک کر پان پراگ کے ملغوبے کا ایک گھونٹ بھرا اور منہ میں باقی ماندہ کی پوزیشن بدلی اور چائے ، جو اسی اثنا میں آچکی تھی، کا کپ اٹھا کر ایک گھونٹ بھرا اور میری طرف شکایتی اور جوابیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔
میں نے میز  پر رکھی پلیٹ سے گلاب جامن اٹھا کر منہ میں رکھی ، نمکو کی پلیٹ سے ایک مُٹّھی بھری اور کرسی پر پہلو بدل کر اپنے دوست کی طرف متوجہ ہو کر یوں مخاطب ہوا۔ " میں تمہاری شکایتیں اور ہر وقت کے رونے سن سن کے تنگ آگیا ہوں۔ پاکستان کے سب سے بڑے اور ترقی یافتہ شہر میں رہنے کے باوجود تم خود کو مظلوم اور بے بس اور پتہ نہیں کیا کیا سمجھتے ہو تو یہ تمہارے دماغ کی کوئی چُول ڈھیلی ہونے کاثبوت ہے۔ کراچی کے شہریوں کو جو سہولتیں میسر ہیں وہ پاکستان کی 70 فیصد آبادی کے خواب و خیال سے بھی باہر ہیں۔ جہاں تک پاکستان بنانے والوں کی اولاد ہونے کا تعلق ہے تو یقینا پاکستان کی تحریک کا زور یوپی میں بہت زیادہ تھا۔ لیکن یہ امر بھی ملحوظ خاطر رکھو کہ کراچی میں 70کی دہائی تک لوگ ہندوستان سے آکے آباد ہوتے رہے ہیں۔ اس کی وجہ پاکستان سے محبت یا اسلام کے قلعے کو مضبوط کرنا نہیں تھی بلکہ اس کی وجہ پاکستان اور کراچی میں روشن مستقبل تھا جو انہیں ہندوستان میں نظر نہیں آتا تھا۔ جہاں تک گھر اور چلتے کاروبار چھوڑ کے آنے کا تعلق ہے تو یوپی والوں کو کسی نے مجبور نہیں کیا تھا جیسے مشرقی پنجاب میں سب کو مجبورا ہجرت کرنا پڑی تھی ورنہ جان اور عزت کا کوئی ضامن نہیں تھا۔ کیاتم نے کبھی سنا کہ کسی لاہوری  مہاجر نے اپنے کسی بیٹے کی شادی لدھیانہ میں مقیم کسی مسلمان خاندان میں کی ہو؟ نہیں سنا ہوگا کیونکہ وہاں کوئی مسلمان باقی ہی نہیں رہا تھا۔ اور کراچی میں آج تک دلہنیں ہندوستان بیاہ کر جاتی ہیں اور وہاں سے یہاں آتی ہیں۔  اور جہاں تک معاشی حب اور کراچی کو یہاں تک پہنچانے کی بات ہے تو میاں صاحبزادے، اس پر تو میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ  ایک کُکّڑ جینوئنلی یہ سمجھتا تھا کہ جب تک وہ بانگ نہیں دے گا تو سورج نہیں نکلے گا اور گڈ مارننگ نہیں ہوگی۔ اس کُکّڑذہنیت سے نکلو  پیارے بھائی۔ خود کو برتر ثابت کرنے کےلیے کسی کو کمتر سمجھنا، احساس کمتری کی بدترین شکل ہوتی ہے۔ اور اگر 47 سے70 تک لوگوں کاکسی اور ملک سے آکر کراچی میں آباد ہونا جائز تھا تو آج اسی ملک کے باشندے کراچی میں غیر مقامی کیسے ہوگئے؟ یہی سوچ اگر 47 سے پہلے کے مقامیوں کی ہوتی تو سوچیے کہ آج آپ کہاں ہوتے؟"

صوبے اُنا لوووو

مدت مدید کی بات ہے جب ہم کافی چھوٹے تھےتو ہمارے محلے میں منجی پیڑھی بُننے والے آیا کرتے تھے۔ یہ حضرات اکثر و بیشتر پٹھان ہوتے تھے اور ایک مخصوص لَے اور لہجے میں آواز لگایا کرتے تھے کہ منجی پیڑھی ٹھُکا لووووو، منجی اُنا لوووو۔ اب منجی آؤٹ آف فیشن سمجھی جاتی ہے کیونکہ اس میں نئی نسل کے تجربات برداشت کرنے کی صلاحیت ذراکم ہے۔ آپ میں سے ذرا قدیم احباب نے منجی بُنی جاتی ضرور دیکھی ہوگی۔ اس کے نچلی طرف ایک ڈنڈا دیا جاتا تھا اور کاریگر اسی ڈنڈے کے زور پر منجی بُنا کرتا تھا۔ ہمیں لگتا ہے کہ یہ سارے کاری گر اب صوبے بُننے کے کام میں لگ گئے ہیں۔ ملک کو ڈنڈا دے کر اس کے زور پر صوبے بُننے کی کوشش زور و شور سے جاری ہے۔ حاشا و کلا، ہم اس عمل کے مخالف نہیں ہیں اور نہ ہی ہمیں کاریگروں کے فن اور ان کی نیّت پر شک ہے۔ ان صوبے بُننے والوں کاریگروں میں ایک سے ایک ماہر فن اور باریک کام کا فنکار ہے۔ ہزارے کے لاکھوں عوام کا قائد بابا حیدر زمان ہو، جن کے بارے ہمیں یقین کی حد تک پہنچتا ہوا شک ہے کہ ان کا شجرہ نسب کہیں نہ کہیں امان اللہ سے ضرور جاملتا ہے۔ یا ملتان شریف کے مرشد پاک ہوں، جو وزیر اعظم ہوکے بھی دہائیاں دیتے پھرتے ہیں کہ ساہڈے کُوں اپنا صوبہ چاہیدا اے۔ محمد علی درانی ہوں، جنہیں یکایک احساس ہوا ہے کہ بہاولپور صوبہ نہ بنا تو ان کی پیدائش کا مقصد ہی فوت ہوجائے گا۔ اور لاسٹ بٹ ناٹ لیسٹ، ہمارے کراچی کے احباب ہیں جنہیں یکایک احساس ہوا ہے کہ کراچی کے سارے مسائل کا حل کراچی کا صوبہ بُن دینا ہے اور اگر اس میں حیدر آباد بھی شامل ہو تو پاکستان کے سارے مسائل بھی حل ہونے کی واثق امید ہے۔
ان حضرات کے فرمودات نے ہمارے دماغ کے وہ حصے بھی روشن کردئیے ہیں جو ہماری نااہلی کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ کا شکار تھے اور ہمیں اب ہر چیز صاف اور واضح سمجھ میں آنا شروع ہوگئی ہے۔ اگرچہ کچھ احباب اس بُننے کے عمل کے جزوی مخالف ہیں۔ یعنی وہ پنجاب اور کے پی، کے تو زیادہ سے زیادہ صوبے بُننے کے قائل ہیں۔ لیکن جب کوئی ناہنجار سندھ کے مزید صوبے بُننے کی بات کرتا ہے تو بجا طور پر انہیں دھرتی ماتا وغیرہ کی تقسیم کے ہولناک خواب آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ جن کے رد کے طور پر وہ آزادی، حریّت وغیرہ کی باتیں کرنا شروع کردیتے ہیں۔ یہ لوگ بھی انتہائی شدید درجے کے عقلمند ہیں اور ہم ان کی راست فکری کے سخت قائل ہوچکے ہیں۔
اب جبکہ یہ صوبے بُنے ہی جارہے ہیں تو ہم چاہتے ہیں کہ اس گرم تندور میں ہم بھی اپنی روٹیاں لگالیں۔ ہماری تجویز ہے کہ صوبے بُننے کا عمل پہلے زبان کی بنیاد پر کیا جائے۔ ہمارا اندازہ ہے کہ پاکستان میں کم ازکم بیس تیس زبانیں تو بولی ہی جاتی ہوں گی۔ ہم سہولت کے لیے پچیس فرض کرلیتے ہیں۔ لہذا پچیس صوبے تو یہ ہوگئے۔ اس کے بعد ذات کی بنیاد پر صوبے بُنے جائیں۔ جاٹوں کا صوبہ، ارائیوں کا صوبہ، شیخوں کا صوبہ، اور آف کورس جُلاہوں کا صوبہ، وغیرہ وغیرہ۔ یہ کوئی  تین سو کے قریب صوبے ہوں گے کم و بیش۔ اگلے قدم کے طور پر مختلف پیشوں کے صوبے، ڈاکٹروں کا صوبہ، انجینیروں کا صوبہ، نائیوں کا صوبہ (گورنر رحمان ملک)، قصائیوں کا صوبہ وغیرہ وغیرہ۔ یہ بھی کوئی کُل ملا کے پچاس کے قریب ہوجائیں گے۔ کراچی میں بھی کم ازکم چالیس صوبے بُننے چاہییں، دہلویوں کا صوبہ، بہاریوں کا صوبہ، الہ آبادیوں کا صوبہ، رام پوریوں کا صوبہ، سہارنپوریوں کا صوبہ علی ہذا القیاس۔ جب ملک، صوبوں سے مکمل طور پر بُنا جائے گا تو عملی طور پر ہر محلہ ایک صوبہ بن جائے گا۔ اور یہی عمل اختیارات اور جمہوریت کوگراس روٹ لیول تک پہنچائے گا اور پاکستان روشنی کی رفتار سے ترقی کی منزلیں طے کرتا ہوا آفاق کی وسعتوں میں گم ہوجائے گا۔ 

وچکارلی کتاب کاحساب

حساب، جسے نامعلوم وجوہات کی بناء پر ریاضی بھی کہاجاتا ہے، ہمارا آج کا موضوع ہے۔ برسبیل تذکرہ، بچپن میں ہم ریاضی کو ریاض کی مونث سمجھا کرتے تھے، ملک ریاض کی مثال سامنے رکھیں تو یہ اندازہ کچھ ایسا بعید از قیاس بھی نہیں ہے ۔ بہرحال، حساب کی اہمیت اس لحاظ سے شدید ہے کہ ساری بے حسابیوں میں اس کی ضرورت پڑتی ہے۔ لہذا آج ہم آپ کو حساب چُکتا کرنا سکھائیں گے۔
تفریق: عمومی طور پر حساب، جمع سے شروع ہوتا ہے لیکن وچکارلا حساب، تفریق سے آغاز ہوتا ہے۔ تفریق سے شروع کرنے پر آپ بہت کچھ جمع کرسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر پولیس میں سپاہی بھرتی ہونے کے بعد "کچھ" چیزیں تفریق کردی جائیں تو حاصل جمع وزیر داخلہ کے منصب تک پہنچ جاتا ہے۔ اسی طرح عام کھلاڑی سے سپورٹسمین سپرٹ، غیرت، خودداری وغیرہ تفریق کردینے سے حاصل جمع لیجنڈ تک پہنچ جایا کرتا ہے۔
تقسیم: تفریق سے ہونے والے حاصل جمع کو مناسب مقدار سے تقسیم کیا جائے تو وہ ضرب کھا کر کئی گنا ہوجایا کرتا ہے۔ یہاں پھر ملک ریاض کی مثال، اس مظہر(مجید نہیں) کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
جمع: بہت سی چیزوں کو تفریق کرنے اور ان سے دوسروں کو ضرب دینے (یا لگانے) سے بہت سا حاصل جمع، اکٹھا کیا جاسکتاہے۔ مثلا بہت سے لوگ جمع کرکے ان میں سے کامن سنس تفریق کردی جائے تو جوحاصل جمع آتا ہے اسے سیاسی جماعت کہتے ہیں ۔ پھر اس حاصل جمع کو فرشتوں سے ضرب دی جائے تو "مساوات" مکمل ہوجاتی ہے۔ اس مساوات کا حاصل ضرب ،آپ ہاتھ لگا کر خود بھی "محسوس" کرسکتے ہیں۔
ضرب: یہ بہت خطرناک اور دودھاری عمل ہوتا ہے۔ ضرب دیتے ہوئے بہت احتیاط کرنی چاہیے اور ہمیشہ ضرب ،دوسروں کو دینی چاہیے۔ کسی کو دینے والی ضرب کی زد میں آنے سے آپ کا سارا حاصل جمع، صفر سے ضرب کھاجایا کرتا ہے۔ اور حاصل ضرب ایک انڈا رہ جایا کرتا ہے جو اکثر و بیشتر گندا ہوتا ہے۔

"کام" یاب


اس نے قہقہہ لگایا۔ گلاس سے ایک چسکی لی۔ بواسیر والا پیڈ درست کیا اور مجھ سے مخاطب ہوا۔ دیکھ چوہدری! میں آج کہاں پہنچ گیا اور تم؟ وہیں کے وہیں۔ اس نے استہزائیہ انداز میں ہاتھ سے ایک فحش اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ میں نے جھلاّ کر جواب دیا، "تم بواسیر کے ہاتھوں کرسی پر بیٹھنے سے بھی عاجز ہو، بلڈ پریشر تمہارا ہائی رہتا ہے، دو دفعہ دل کا دورہ تمہیں پڑ چکا ہے۔ شوگر تمہاری کنٹرول نہیں ہوتی۔ اور شوگر کی وجہ سے تمہیں کُرہ ارض کی ساری خواتین، بشمول تمہاری بیوی اور "سیکرٹری"، بہنیں محسوس ہونی شروع ہوگئیں ہیں۔ اگر یہ سب کامیابی ہے تو اپنی کامیابی اپنے پاس سنبھال کے رکھ۔ مجھے ایسی کامیابی نہیں چاہیے"۔
اس نے ایک بار پھر قہقہہ لگایا۔ کرسی پر سسکاری بھرتے ہوئے پہلو بدلا۔ خالی گلاس میں ارغوانی مشروب انڈیلا۔ پلیٹ سے ایک چکن تکّہ اٹھا کے منہ میں ڈالا اور منہ چلاتے ہوئے کہنے لگا، "تم ہمیشہ کہتے رہے کہ سادہ غذا کھاؤ۔ پاکیزہ زندگی گزارو۔ رزق حلال کماؤ۔ یہ سب کرکے تمہیں کیا ملا؟ دس تاریخ آتے آتےتمہاری جیب میں پیسوں کی بجائے بل نظر آنے لگتے ہیں۔ تمہارے بچّے سرکاری سکولوں میں تعلیم کے نام پر وقت ضائع کرتے ہیں۔ تمہاری بیوی آج بھی اپنے جہیز کے کپڑے کھلے کرکر کے پہننے پر مجبور ہے۔ کیا فائدہ ہوا تجھے اعلی تعلیم حاصل کرکے؟ دو ٹکے کے ماسٹر؟ جس کا دل چاہے تیرے  منہ پر تھپڑ ماردے یا ٹانگوں پر گولیاں۔۔۔ہنہہ۔۔۔ مجھے دیکھ۔ میں نے جیسے میٹرک کیا تھا، تجھے بھی یاد ہوگا۔ میں اگر تیری طرح بے وقوف ہوتا تو پڑھتا رہتا اور آج تک تیری طرح کُڑھتا رہتا۔میں نے عقلمندی کی اور آج۔۔۔"، اس نے اپنے عالیشان دفتر پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے کہا، " میں تیرے جیسے اعلی تعلیم یافتہ لوگوں کی قسمتوں کے فیصلے کرتا ہوں۔ اب تو خود ہی بتا، کامیاب کون ہے؟ تو یا میں"۔

معصوم بسنت


پتنگ بازی سے ہمیں کبھی ایسا شغف نہیں رہا جسے شوق کا درجہ دیا جاسکے البتہ بچپن میں جیسے ہر چیز کا موسم ہوا کرتا تھا، کرکٹ کا موسم، ہاکی کا موسم، بنٹوں کا موسم ویسے ہی پتنگ بازی کا بھی موسم ہوتا تھا۔ چونکہ اس وقت ٹی وی، بچوں کی جان کو ایسے نہیں چمٹا تھا کہ وہ ہر قسم کی سرگرمی سے دور ہوکے کارٹونوں کے ہی ہوکر رہ جائیں لہذا ہم ان تمام موسموں سے حتی المقدور لطف اندوز ہونے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ کوشش ان معنوں میں کہ ہاکی اور کرکٹ پر تو کوئی قدغن نہیں تھی البتہ بنٹے یعنی کنچے اور پتنگ بازی ایسے شوق تھے جو سختی سے ممنوع تھے۔ اور یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ ممنوع کام کرنے میں کتنا لطف ہوتا ہے۔ جیسے ہی ابو گھر سے نکلتے، ہم اماں کی ان تمام دھمکیوں کے باوجود، جن میں وہ یہ کہا کرتی تھیں کہ آج اگر تو نے پتنگ بازی کی تو تیری کھال اتروادوں گی تیرے باپ سے، ہم اپنا رنگ برنگا پِنّا اور لوٹی ہوئی گڈیاں نکال کے چھت پر چڑھ جایا کرتے تھے۔ ہمیں یہ بات کبھی سمجھ میں نہ آسکی کہ بیٹے بچپن میں باپ اور بڑے ہونے کے بعد ماں کے اتنے تابعدار کیوں ہوجاتے ہیں۔
ہماری پتنگ بازی کی تاریخ زیادہ قابل ذکر نہیں ہے۔ اس فن کی باریکیوں سے ہم کبھی واقف نہ ہوسکے اور نہ ہی کبھی گُڈی یا ڈور خرید کے یہ شوق پورا کیا۔ ہماری ساری پتنگ بازی لوٹی ہوئی گڈیوں اور ڈور پر مشتمل ہوا کرتی تھی۔ لوٹی ہوئی ڈور سے بنایا ہوا رنگ برنگ پِنّا عین اس وقت دھوکہ دے جاتا تھا جب کبھی ہم پیچے کو دو منٹ سے زیادہ طول دینے میں کامیاب ہوتے تھے۔ ہمارے ایک کزن البتہ اس کام میں ماہر فن کا درجہ رکھتے تھے۔ جب وہ نیا نکور ڈور کا پِنّا اور بڑے بڑے گُڈّے اور تُکلیں خرید کر لاتے تو ہم ان کے اسسٹنٹ کے طور پر ان کے ساتھ ساتھ چھت پر جا چڑھتے اور ان کو پیچے لڑاتے دیکھ کر سیکھنے کی کوشش کرتے۔ لیکن ہماری یہ کوشش کبھی کامیاب نہ ہوسکی اور ہم پتنگ بازی میں پھسڈی ہی رہے۔ پیچے وغیرہ لڑانے پر تو ہمیں کبھی عبور حاصل نہ ہوسکا۔ ہماری ساری مہارت پِنّے کا دھیان رکھنے اور گڈی کٹ جانے پر ڈور لپیٹنے تک ہی محدود رہی۔
لاہور میں منائی جانی والی بسنت کی کہانیاں ہم اپنے ایک دورپار کے کزن سے اکثر سنا کرتے تھے جو لہوریے تھے اور گرمیوں کی چھٹیوں میں ہمیں شرف ملاقات بخشنے آیا کرتے تھے۔ ان کے بڑے بھائی پتنگ بازی میں بقول ان کے "لیجنڈ" کا درجہ رکھتے تھے اور ہمیشہ "تُکّل" اڑایا کرتے تھے، ان کے بقول اصل پتنگ بازی تُکّل اڑانا ہی ہوتی ہے، گڈیاں وغیرہ تو عورتیں اڑاتی ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب ۔ ان سے یہ بات بھی منسوب تھی کہ اگر یپچے میں ان کی گُڈّی کٹ جاتی تھی تو وہ اس پِنّے کو پھینک دیا کرتے تھے اور اگلے پیچے کے لیے نیا پِنّا استعمال کرتے تھے۔ بسنت کی ان کہانیوں میں ایسے پیچوں کی کہانیاں ہوتی تھی جو پوری پوری رات چلتے رہتے تھے اور ان میں چار چار پِنّے لگ جاتے تھے۔ اب جا کے ہمیں پتہ چلا ہے کہ لہوریوں کی ہر بات پر من و عن یقین نہیں کرنا چاہیے کہ "بڑھا بھی دیتے ہیں کچھ زیب داستاں کے لیے"۔
ہمارے شہر میں بسنت ذرا دیر سے آئی تھی۔ اور ہمیں یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ ہم اس سے بہت لطف اندوز ہوا کرتے تھے۔ جیّد پتنگ بازوں کے پیچے، کھِچ مارنے پر دھمکیاں اور گڈی کٹ جانے پر ڈور نہ پکڑنے کی درخواستیں اور دوسروں کی گڈیوں پر گاٹیاں۔ چند چھتوں پر ڈیک وغیرہ لگا کر پورے محلے کو تازہ ترین ہندوستانی موسیقی سے بھی محظوظ کرنے کا بندوبست ہوتا تھا۔ سکول سے کالج پہنچنے تک یہ بسنت باقاعدہ ایک تہوار کی صورت اختیارکرنے لگی تھی۔ چھتوں پر سرچ لائٹیں لگنی شروع ہوگئی تھیں۔ کہیں کہیں پریشر ہارن بھی استعمال ہونا شروع ہوگئے تھے اور اکا دکا جگہ ہوائی فائرنگ بھی ہونے لگی تھی۔ اس وقت تک ہم نے دھاتی ڈور نامی کسی چیز کا ذکر نہیں سنا تھا اور نہ کبھی یہ سننے میں آیا تھا کہ ڈور سے کسی کی گردن کٹ گئی ہے۔
کافی وقت گزر گیا ہے، نہ بسنت کبھی دیکھی اور نہ منائی۔ البتہ ہر سال بسنت کی خبریں ضرور پڑھتے رہے۔ فائرنگ سے اتنے ہلاک اور ڈور پھرنے سے اتنے۔ پھر بسنت پر مجروں اور شراب کا فیشن شروع ہوگیا۔ ہمارے ایک کزن جو لاہور کی ایک ملٹی نیشنل فرم میں نوکر ہیں۔ چند سال ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کی فرم نے ایک زیر تعمیر پلازے کی چھت، بسنت کے لیے ڈھائی لاکھ روپے کرایے پر حاصل کی اور اپنے غیر ملکی مہمانوں کو "پاکستانی ثقافت" کا مظاہرہ دکھانے کا بندوبست کیا۔ اس بندوبست میں شراب اور ساقی دونوں کا اہتمام تھا۔ میں حیران ہو کر اس کے منہ کی طرف دیکھتا رہا اور سوچتا رہا کہ اتنی معصوم سی بسنت کو ہم نے قاتل اور کوٹھے کی چیز کیسے بنادیا؟

رحم كرو


باتوں سے نہ تو پیٹ بھرتا ہے اور نہ زخم مندمل ہوتے ہیں چاہے یہ باتیں کتنی ہی اچھی، عمدہ، دینی، اصلاحی، وطن پرستانہ، اخلاقی کیوں نہ ہوں۔ کسی پیاسے کو پانی پلانے کی بجائے پانی کے خواص اور اس کی کیمیائی ترکیب پر لیکچر، پیاسے کے دل میں ایسے خیالات کو جنم دیتا ہے جو بیان کے قابل نہیں ہوسکتے۔ یہ خیالات ہمارے دل میں یونہی نہیں آئے بلکہ اس کی وجہ امریکی کانگرس میں پیش کی جانے والی وہ قرارداد ہے جس میں بلوچستان کے حق خودارادی کی بات کی گئی ہے۔ بجا طور پر اس سے ہمارے حکمران طبقے اور ان کے حواریوں کو تشویش اور مرچیں لگی ہیں۔ مجھے تو حیرانی اپنے جیسے عام لوگوں کے ردعمل پر ہوئی ہے۔ جو اس کو پاکستان کی سالمیت، خودمختاری اور پتہ نہیں کیا کیا کے خلاف سازش سمجھ کر اپنے سارے کلیشے الفاظ کے ساتھ میدان میں اتر آئے ہیں۔ آپ کے اپنے ہوائی اڈوں سے امریکی طیارے اڑ کر آپ کے ہی ملک میں بنا کسی مقدمے، صفائی اور گواہی کے لوگوں کو قتل کرتے ہیں۔ اس پر کسی کو پاکستان کی سالمیت، خودمختاری اور غیرت خطرے میں نظر نہیں آتی؟ یا اس کے بدلے ڈالر ملتے ہیں جس سے چھاونیوں کے میس چلتے ہیں۔ کینٹ کے بنگلے بنتے ہیں۔ بڑے بڑے سودوں میں کروڑوں ڈالر کے کمیشن ملتے ہیں۔ ہمیں کیا ملتا ہے؟ ڈنڈا۔۔۔
یہ بات بہت تلخ سہی لیکن سن لیجیے کہ مجھے اس بات سے کوئی غرض نہیں رہی کہ پاکستان بچتا ہے یا ٹوٹتا ہے۔ آپ چاہیں تو مجھے نوائے وقتانہ انداز میں یہ طعنے دے سکتے ہیں کہ آج پاکستان نہ ہوتا تو تم کسی ہندو کے منشی ہوتے یا کسی سکھ کے ملازم ہوتے اور پاکستان تمہاری شناخت ہے اور ایسی ہی کئی اور مثالیں۔ پاکستان بننے کے اتنے عرصے بعد تیسری نسل کو بھی ہم نے اگر پاکستان سے جوڑے رکھنے کے لیے یہی دلیلیں استعمال کرنی ہیں تو یقین کریں ایسے ملک سے ہم لنڈورے ہی بھلے۔
یہ بات لکھ لیں اور آج کی تاریخ ڈال کے محفوظ کرلیں تا کہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے کہ جس نظام یا بد انتظامی کے ساتھ یہ ملک اتنی دیر سے چل رہا ہے اس کا وقت پورا ہوگیا ہے اب یا تو اس بدانتظامی کو بچایا جاسکتا ہے یا ملک کو۔ اور میرا خدشہ یا اندازہ، کچھ بھی کہہ لیں، وہ یہی ہے کہ ہمارے ان داتا، نظام ہی بچائیں گے کہ یہی ان کے طبقاتی مفاد کا تقاضہ ہے اس کے لیے وہ ہمارے قومی اور مذھبی جذبات کو بھڑکائیں گے اور ہم اتنے "سادہ" ہیں کہ گلے پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگائیں گے اور تاریخ کے کوڑے دان میں اوندھے منہ جاگریں گے۔
ملک بچانا ہے تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے۔ انصاف کرو اور سب کو ان کا جائز حق دو۔ اور تین نسلیں برباد کرنے کے بعد اب چوتھی نسل کو تباہ نہ کرو۔ اپنے بینک کھاتوں کے لیے ہمارے منہ کا لقمہ، بخار کی گولی اور سکول کی کتاب نہ چھینو۔ رحم کرو، رحم کرو۔