ٹویٹی انتخاب

دل سے اترجانے والے چاہے سونے کے بن جائیں، دوبارہ من موہنے نہیں بن سکتے
============================================================
کسی نے کہا تھا آپ تب مشہور ہوتے ہیں جب ایسے لوگ آپ سے نفرت کرنے لگیں جن کو آپ جانتے تک نہیں۔
=============================================================
دشمنوں کی تین اقسام ہوتی ہیں
دشمن
جانی دشمن
رشتے دار
=============================================================
کسی کو کمتر جاننا  دراصل اپنی کمتری کے احساس کو چھپانا ہوتا ہے
=============================================================
کرکے پچھتانا ، نہ کرکے پچھتانے سے بہتر ہے
=============================================================
نانا پاٹیکر، زید حامد کے ماموں ہیں۔
=============================================================
مذہب کے نام پر دنیا کمانے والے بدترین مخلوق ہیں۔
=============================================================
جو بندہ شدید غصے میں دھیمے لہجے میں بولنا شروع کردے، اس سے ڈرنا چاہیے۔
=============================================================
گالی اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ دلیل ختم ہوچکی ہے
=============================================================
سیاست، ماش کی دال اور چغلی سے پرہیز کرنا چاہیے
=============================================================
سیمسن اینڈ ڈیلائیلا
عمران اور عائلہ
=============================================================
وقت کا پہیہ الٹا نہیں چلایا جاسکتا، چلانے کی کوشش مایوسی اور پاگل پن پیدا کرتی ہے
=============================================================
ضمنی انتخاب، دوسرے ہنی مون کی طرح ہوتے ہیں۔
=============================================================
دشمن کے بغیر زندگی بے رنگ ہے
=============================================================
سونے سے پہلے اور اٹھنے کے بعد جس کا خیال آئے، وہ جانی دشمن ہو تاہے یا جان سے پیارا۔
=============================================================
پرانے دور اچھے تھے، چیزیں سستی تھیں، بندے مہنگے تھے
=============================================================
کبھی ایسی فرصت ملے کہ چاروں طرف کتابیں ہوں اور میں ۔۔۔ اور وہ۔
=============================================================
محبت رسوا کیا کرتی ہے، لاوارث نہیں۔ ماخوذ
=============================================================
کہہ دینا، من ہلکا کردیتا ہے
=============================================================
خوبصورت بڑھاپا، مطمئن باطن کی نشانی ہے
=============================================================
کامیاب بے وقوفی،  بہادری کہلاتی ہے۔
=============================================================
کامیاب بغاوت کو انقلاب کہتے ہیں۔
=============================================================
بندے سب پیارے ہوتے ہیں، کرتوتیں قابل نفرت ہوتی ہیں۔
=============================================================
شک اور پاگل پن میں دھاگے بھر کا فرق ہوتاہے
=============================================================
آسان پیسہ اور میل شاونزم – دنیا میں عذاب جہنم کی ریسیپی
=============================================================
محبت، دنیا سے بے نیاز کردیتی ہے
=============================================================
مانگنے والا کبھی بہادر نہیں ہوسکتا
=============================================================
مرد کا پیٹ اور کمان سے نکلا تیر کبھی واپس نہیں آتا

جولائی میں دھلائی

دسمبر میں اٹھنے والے درد  بارے ہم نے کچھ عرصہ پہلے  روشنی ڈالی تھی۔ جس میں ان تکالیف کا کما حقہ جائزہ لیا گیا تھا جو دسمبر میں دردیلی شاعری اور رومانٹک ناسٹلجیا  کا باعث بنتی ہیں۔ یہ وجوہات اگر بالکل درست نہ بھی ہوں تو پھربھی  کسی نہ کسی درجے پر ان کو حق بجانب سمجھا جاسکتا ہے۔   دسمبر تو تک بات قابل برداشت تھی لیکن ہم نے کچھ ایسی شاعری بھی دیکھی جس میں جولائی کو بھی اسی درجے میں گھسانے کی کوشش کی گئی تھی جو دسمبر کے ساتھ مخصوص ہے۔ برصغیر پاک وہند میں جولائی نام کا مہینہ ایسا ہے کہ محبوب تو ایک طرف رہا ، جسم پر موجود کپڑوں سے نفرت ہونے لگتی ہے۔ جولائی میں اگر کسی چیز سے رومانس لڑایا جاسکتا ہے تو وہ صرف شکنجوی ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آپ فحش حد تک مالدار ہوں اور پورا گھر سینٹرلی ائیرکنڈیشنڈ ہو اور بجلی کے لیے واپڈا کی محتاجی نہ ہو۔ لیکن ایسے ماحول میں یقین کریں کہ مڈل کلاسیوں والی محبت کا خیال بھولے سے بھی نہیں آتا۔ بلکہ جو خیالات آتے ہیں وہ بیان کرنے کی صورت میں یہ تحریر "پلے بوائے" میں چھپنے کے لائق ہوسکتی ہے۔
ہم شعراء کا یہ حق تسلیم کرتے ہیں کہ وہ جو کہنا چاہیں بلکہ جو آمد ہو اس کا اظہار کرنا ان کا حق ہے۔ لیکن شعراء کرام کو بھی  رب دا واسطہ ہے کہ جولائی جیسے مہینے کو رومانس سے جوڑ کے جو ظلم وہ کررہے ہیں اس کا خمیازہ آنے والی نسلیں بھگتیں گی۔ اس پر کہا جاسکتا ہے کہ  "اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی" پر  ذرا سوچیں تو سہی کہ جولائی کی حبس زدہ رات کو آپ چھپ چھپا کے محبوب سے ملنے نہر کے بنَے پر جاتے ہیں ۔ پسینہ دھاروں بلکہ تیز دھاروں کی شکل میں جسم کے ہر حصے سے نکل کر ہر جگہ پھیل رہا ہے۔  ایسی حالت میں محبوب سے جو زیادہ سے زیادہ رومانٹک گفتگو ممکن  ہے وہ یہی ہوسکتی ہے کہ ۔۔۔ ذرا اپنی چُنّی نال چل تے مار۔۔۔۔ یا پھر محبوب کو سوئمنگ آتی ہو تو نہر کے بنّے کے بجائے ملاقات نہر میں ہو تو زیادہ بہتر ہے۔ اس کے لیے پھر آپ کو ایک جوڑا کپڑے اضافی لے کے آنے پڑیں گے۔  لیکن اس میں خطرہ یہ ہے کہ اگرآپ  نہر میں ڈیٹ مارتے پھڑے گئے تو آپ کی پھولی ہوئی لاش چھ سات کلومیٹر کے بعد کسی پل کے نیچے پھنسی ہوئی ملے گی۔۔ ہم نیک و بد حضور سمجھائے دیتے ہیں۔۔۔
جولائی میں رومانس ، فیصل آباد یا ملتان کی گرمی میں  اوورکوٹ پہن کے دوپہر کے وقت چہل قدمی کے مصداق ہے اور اس کے جو نتائج و عواقب ہوسکتے ہیں وہ کسی بھی متوسط ذہانت والے سے پوشیدہ نہیں ہیں۔  آپ کا بھیجہ الٹ سکتا ہے۔ لوگ آپ کو روڑے مارسکتے ہیں۔ آپ عامر لیاقت کو واقعی مذہبی سکالر تسلیم کرسکتے ہیں۔ مبشرلقمان میں آپ کو سقراط بولتا نظر آسکتا ہے۔  ذاکر نائیک کا خطاب سن کے آپ پر وجد طاری ہوسکتا ہے ۔  شاہد آفریدی کو اصلی والا کرکٹر سمجھ سکتےہیں۔  عمران خان کو سیاستدان سمجھ سکتے ہیں۔   شیخ رشید کا ٹاک شو سن سکتے ہیں۔  زید حامد کا خطاب  ہنسے بغیر دیکھ سکتے ہیں اور ایسی ہی بے شمار چوّلیں جو الا ماشاءاللہ آپ بھی بخوبی جانتےہوں گے۔
جولائی کو رومانٹسائز کرنےکا  نقصان یہ ہے کہ نوجوان نسل رومانس سے ہی متنفر ہوجائے گی اور اس کا نتیجہ تو آپ سمجھتے ہی ہیں کہ کیا ہوسکتا ہے۔ بنی نوع انسان کا مستقبل خطرے میں پڑجائے گا۔ لو گ رومانس کرنے کی بجائے لُڈّو کھیلنے کو ترجیح دینے لگیں گے اور لُڈّو میں تو آپ کو پتہ ہی ہےکہ  زیادہ سے زیادہ "چھکاّ" ہی مل سکتا ہے۔ بہرکیف، جولائی میں نوجوان نسل کو رومانس کی جانب ورغلانے سے بہتر ہے کہ ان کو کچھ ایسے کاموں کی اُشکل دی جائے جو جولائی سے مطابقت رکھتے ہوں۔
مثلا ہدوانے سمیت نہر میں نہانا، اور جب ہدوانے اور باقی اعضاء یخ ٹھنڈے ہوجائیں تو کنارے پر بیٹھ کر ہدوانا نوش جاں کرنا۔  برف والے پھٹّے کے قریب  بلکہ اس کے نیچے بیٹھ کر تاش کھیلنا۔   فل اے سی والے سینمے میں فلم دیکھنا ۔۔ علی ہذا القیاس۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔

بابوں کا المیہ

آپ مجید نظامی کود یکھ لیں۔ یہ ایک عظیم جرنلسٹ ہیں۔ یہ بہت بہادر اور آؤٹ سپوکن پرسنیلٹی ہیں۔ یہ کبھی کسی سے نہیں ڈرے۔ یہ اس وقت سے جرنلزم میں ہیں جب  دنیا تک بلیک اینڈ وائٹ ہوتی تھی۔  یہ ہمیشہ جابر اور صابر ہر قسم کے سلطان کے سامنے کلمہءحق کہتے آئے ہیں۔   یہ نظریہ ء پاکستان اور پاکستان کے اکلوتے  ماموں ہیں اور دونوں سے بیوہ بہنوں کی اولاد جیسا سلوک کرتے ہیں۔ ان سب  خوبیوں کے باوجود جب سے یہ بابے ہوئے ہیں۔ یہ سڑیل ہوگئے ہیں۔ یہ چڑچڑے ہو جاتے ہیں۔ یہ جلی کٹی سنانے لگتے ہیں۔  یہ جب جوان تھے تو خوش مزاج ہوتے تھے۔ یہ گندے لطیفے بھی انجائے کرتے تھے۔ یہ جگتیں بھی کرلیتے تھے۔  لیکن بابے پن کی دہلیز تک پہنچتے ہی ان کی ساری خوبیاں جون کی دھوپ میں رکھے ہوئے میٹریس کے کھٹملوں کی طرح ختم ہوتی گئیں۔ یہ کیوں ہوا؟ اس کی کیا وجوہات ہیں؟ یہ جاننے کے لیے آپ کو ایک کہانی سننی پڑے گی۔
عبدالمنان ایک دکاندا ر تھا۔ یہ کپڑے کی دکان کر تا تھا۔ یہ ایک متوسط درجے کا خوشحال انسان تھا۔ اس کی شادی اوائل جوانی میں ہی  ہوگئی تھی۔ یہ چونکہ فکر معاش سے آزاد تھا لہذا ہرسال ایک برانڈ نیو بچہ اس دنیا میں لانا اس نے اپنا شرعی، اخلاقی، قومی اور خاندانی فریضہ سمجھ لیا تھا۔  عبدالمنان کی زندگی  ایک خوشگوار معمول کے مطابق گزرتی رہی۔ یہ اپنے بچوں اور بیوی سے بڑی محبت کرتاتھا۔ یہ ان کی ہر ضرورت کا خیال رکھتا تھا۔ یہ ایک خوش مزاج اور جولی طبیعت کا انسان تھا۔ یہ کبھی غصے میں نہیں آتا تھا۔ اس کے چہرے پر ہر وقت مسکراہٹ رہتی تھی  جو اس کی فطرت بھی تھی اور دکانداری مجبور ی بھی۔ کیونکہ غصیلے دکاندار کے تو آئی فون بھی نہیں بکتے۔ وقت گزرتا گیا۔ عبدالمنان کے بچے بڑے ہوگئے یہ نویں دسویں کلاس تک پہنچ گئے۔ یہ چونکہ کم عمری میں ہی شادی کرچکا تھا لہذا اس کی عمر ابھی  کھیلنے کھانے کی تھی۔ یہ وہ اہم مقام تھا جہاں سے عبدالمنان کی زندگی نے  ٹریجک ٹرن  لیا۔
یہ جب بھی اپنی بیوی کے پاس بیٹھتا ، یہ جب بھی اس سے کوئی رومانوی چھیڑ چھاڑ کرتا ۔ اس کی زوجہ اسے ڈانٹ دیتی۔یہ اسے شٹ اپ کہہ دیتی ۔  یہ اسے کہتی " حیاکرو، بچے وڈّے ہوگئے نیں، تہانوں اپنے ای شوق چڑھے  رہندے نیں"۔  عبدالمنان کی زندگی کے معمولات درہم برہم ہوگئے۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر  ہائپر ہونے  لگا۔ اس کا بلڈ پریشر ہائی رہنے لگا۔ اس کے بچّے اس  سے ڈرنے لگے۔  اس کی دکانداری پر بھی اثر پڑنے لگا۔ یہ گاہکوں سے الجھنے لگا۔ یہ معمولی باتوں پر تو تکار کرنے لگا۔ لوگ حیران تھے کہ عبدالمنان  جو ایک خو ش مزاج اور جولی انسان تھا، اس کی یہ حالت کیونکر اور کیسے ہوئی۔
یہی وہ المیہ ہے جو پاکستانی بابوں کو ڈیسنٹ بابے کی بجائے چاچا کرمو ٹائم پیس جیسے بابوں میں بدل دیتا ہے۔ یہ جیسے ہی ادھیڑ عمری کی منزل پار کرتے ہیں۔ ان کی زوجہ، بیوی سے مزار کا روپ دھار لیتی ہے۔ اس کے پاس سے اگربتیوں کی خوشبو اور قوالیوں کی گونج سنائی دینے لگتی ہے۔  اس کے پاس بیٹھنا تو درکنا ر اس کی طرف پشت کرنا بھی بے ادبی شمار ہوتا ہے۔ یہ وہی بیوی ہوتی ہے جوشادی کے پہلے سال  خاوند کے گھر آنے پر مور نی کی طرح پیلیں پارہی ہوتی تھی۔  اب یہ خانقاہ کا مجاور بن جاتی ہے ۔یہ بابے کی زندگی میں ایک ایسی  کسک بھردیتی ہے جس کی وجہ سے بابا، کپتّا، سڑیل اور ٹھرکی ہوجاتا ہے۔
آپ کسی  محلّے میں چلے جائیں ۔ آپ گلیوں میں تھڑوں پر بیٹھے بابوں کو چیک کرلیں۔ یہ سب زندگی سے بے زار بیٹھے ہوتے ہیں۔ یہ ہر بچے کو جھڑکتے ہیں اور ہر بچّی کو تاڑتے ہیں۔  یہ بابے بے قصور ہیں۔ ان کی مائیوں نے ان کا یہ حال کیا ہے۔  آپ دبئی چلے جائیں، آپ بنکاک چلے جائیں۔ آپ ملائشیا چلے جائیں۔ آپ حیران رہ جائیں گے ۔ آپ دیکھیں گے کہ گورے مائیاں بابے کیسے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے سیریں کرتے ہیں۔ یہ  سر عام اظہار محبت بھی کرتے ہیں۔یہ ایک دوسرے کی باہوں میں باہیں ڈالے  عاشقی ٹُو جیسے سین بناتے ہیں۔  جبکہ پاکستانی بابوں کو یہ موقع تنہائی میں بھی نہیں ملتا۔ ان کی آخر ی عمر اعتکاف میں ہی گزرجاتی ہے۔
جب تک ہم بابوں کے مسائل کو سمجھیں گے نہیں۔ جب تک ہم ان کو حل کرنے کے  لیے  ان کی مائیوں کو کنونس نہیں کریں گے۔ بجٹ کا خسارہ ہویا  لوڈشیڈنگ۔ ڈرون حملے ہوں یا  کیبل پر انڈین چینلز۔ امن و امان کا مسئلہ ہو یا پرویز خٹک کی صحت۔ عائلہ ملک  کی دوسری شادی ہو یا شہباز شریف کی چوتھی (یاشاید پانچویں، چھٹی  یا ساتویں ( شادی ۔  پاکستان کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ بابے اپنے اپنے پروفیشن میں ماہر ہوتے ہیں لیکن ان کی مائیوں کی بے اعتنائی انہیں ہر چیز سے متنفر کرکے سڑیل اور کوڑا کردیتی ہے۔  یہ کچھ بھی نہیں کرسکتے  یہ صرف تھڑوں پر بیٹھ کر سڑ سکتے ہیں ۔

میاں نواز شریف کی حکومت جب تک یہ کام نہیں کرے گی ۔ یہ پاکستان کو نہیں بچاسکے گی۔ پاکستان کو بچانے کے لیے بابوں کو خوش کرنا ضروری ہے۔  ورنہ 
  ؎ تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

بٹ ریفریجریشن سروس

بٹ صاحب کا اصل نام تو شاید طاہرتھا  یا طارق ۔۔۔ لیکن بٹ ، بٹ ہی ہوتا ہے چاہے وہ پاءطیفا ہو یا وکّی۔ بٹ صاحب طویل قامت تھے لیکن ان کی طوالت عمودی  کی بجائے  افقی تھی۔ سر کا درمیانی حصہ،  اقبال سٹیڈیم فیصل آباد کی اس پچ کی طرح  تھا جسے ڈینس للّی نے اپنی قبر کے لیے منتخب کیا تھا۔ ان کی رنگت  دیکھ کے دلدار پرویزبھٹی کا وہ بیان یا د آتا کہ اگر میں ویسٹ انڈیز میں ہوتا تولوگ  مجھے بٹ ساب کہتے۔  بٹ صاحب سے تعارف کی وجہ وہی ظہیر لائبریری اور وہاں روز کا آنا جانا اور ڈیرہ جمانا تھا۔ پانچویں جماعت سے اس وقت تک جب ہم جلاوطن نہیں ہوگئے شاید ہی کبھی اس معمول میں ناغہ ہوا ہو۔ بہرکیف،  بٹ صاحب کی فریج اور اے سی رئیپرنگ کی دکان عین ظہیر لائبریری کے سامنے واقع تھی اور ازکاررفتہ فریج ، واشنگ مشینیں وغیرہ کمپنی کی مشہوری کے لیےآدھی سڑک گھیرے ہوئے تھیں۔
بٹ صاحب کا پہلا تاثر جو یاد کا حصہ ہے وہ ظہیرالدین بابر ، پروپرائٹر  ظہیر لائبریری  کی وہ شیطانی مسکراہٹ تھی جس کے بعد انہوں نے ہمیں مخاطب کرکے کہا تھا کہ "میر جعفرا !  تینوں اک شغل وخائیے؟"۔ ظہیر صاحب  ہمیشہ ہمیں اسی نام سے پکارتے تھے اور آخر کار جب ہم کالج میں پہنچے تو ایک دن ان سے پوچھ ہی لیا،  "پائین، جیہڑی غدار ی میں تہاڈے نال کیتی اے،  اوہ کسے نوں دسنا ناں"۔  یہ سن کے ان کے جاٹ خون نے جوش تو مارا لیکن چونکہ بہت عرصہ جلُاہوں کی صحبت میں گزار چکے تھے اسی لیے خون جلد ہی ٹھنڈا پڑگیا  اور شادیوں پر انٹرٹین کرنےو الوں بھانڈ احباب کی طرح انہوں نے ہمیں اس جگت کی ایک "ٹھاپ" کی صورت میں داد  دی۔
بہرکیف ،   احباب اب تک یہ بخوبی جان چکے ہوں گے کہ شغل ویخ ویخ کے ہی آج ہمارا یہ حال  ہے کہ دوسروں کو اپنے بارے جگتیں بتاتے ہیں کہ یہ زیادہ فٹ ہوتی ہے اور  یہ کہتا تو بڑا لطف آتا،۔۔۔  تو ہم نے فورا شغل "ویخنے " کی  حامی بھرلی۔ انہوں نے پنجابی اشٹائل میں آواز لگائی ۔۔۔اوئے بٹ اوئےےےےے۔۔۔  بٹ صاحب نے ادھر ادھر دیکھا اور آواز کا منبع دریافت کرنے کے بعد چھوٹے کو ضروری ہدایات دیں ، لڑھکتے ہوئے سڑک پار کی اور ہمارے ساتھ والی کرسی پر آکے دھپ سےتشریف دے ماری۔ نامعلوم وجوہات کی بناء پر بٹ صاحب ، مغلوں کے جدّ امجد کے ہم نام کی بہت عزت وغیرہ کرتے تھے۔ اور یہ وجوہات اتنی نامعلوم بھی نہیں تھیں۔ نام تو ان  کا مغلوں والا تھا لیکن وہ تھے اصیل جاٹ۔ سونے پر سہاگہ یا کریلا اور اس پر نیم چڑھا کے مصداق ان کے والد ریٹائرڈ حوالدار اور ان کے برادر بزرگ حاضر سروس سب انسپکٹر تھے۔  لہذا بٹ صاحب ان کی ناملائم گفتگو بھی دانت نکال کے برداشت کرلیتے تھے، یہ ساری باتیں بہرحال ہمیں بعد میں پتہ چلیں ۔
ظہیر نے چھُوٹتے ہی دُرفنطنی نما سوال کیا کہ۔۔۔ بٹ صاب ۔۔ ایہہ جیہڑی پوجا بھٹ اے، اے وی بٹ اے؟۔۔۔ بٹ صاحب کا مُشکی   رنگ مزید سانولا ہوا اور انہوں نے کرسی پر تقریبا پھُدکتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔ یار، ظہیر، میں تیری اینی عزت کرداں تے توں سانوں ذلیل ای کردا رہناں؟۔۔ ۔ ظہیر نے پکّا سا منہ بنا کے کہا کہ  یار، میں نے تو اپنے علم میں اضافے کے لیے پوچھا تھا، تُو غصہ کرگیا ہے۔ چل مٹّی پاء،  ۔۔۔ چائے پیے گا؟  کھانے پینے کا ذکر  آتے ہی بٹ صاحب کو پوجا بھٹ، بیستی اور دیگر امور یکایک بھول گئے اور انہوں نے مُنڈی ہلا کے  بارات کے دن والی شرمیلی دلہن کی طرح ہاں کردی۔
 تمہید طُولانی ہوتی جارہی ہے اور اصل قصّہ ابھی تک سنائے جانے کا انتظار کررہا ہے۔ گلشن کالونی میں ایک پارک نما چیز تھی جسے "تِن نُکری گراونڈ" کے عظیم نام سے پکارا جاتا تھا حالانکہ اس کا سرکاری نام تو شاید کسی شیخ صاحب کے نام پر تھا لیکن جیسے کمپنی باغ کو آج تک کوئی جناح باغ نہیں کہتا اسی طرح سب اسے تِن نُکری گراونڈ ہی کہا کرتے تھے اور اب تک کہتے ہیں۔ اس زمانے میں کبھی این جی اوز کا ذکر کسی لبرل نے بھی نہیں سنا تھا لیکن ہمارے کچھ دوستوں نے مل کر ایک "غیر سرکاری تنظیم" بنا رکھی تھی، جس کے زیر اہتمام  "ہیلتھ واک"، "پیس واک" یہ واک ، وہ واک وغیرہ کا اہتمام ہوا کرتا تھا۔ اس تنظیم کے روح رواں یا  ہیڈ گیڑے باز میاں کاشف نواز تھے۔ اب ان کا ذکر ایک علیحدہ  تحریر  بلکہ بہت سی تحاریر کا متقاضی ہے لہذا اس سے صرف نظر کرتے ہیں۔ میاں صاحب نے اس تِن نُکری گراونڈ میں ایک مباحثہ کا اہتمام کیا جس کے مہمانان خصوصی  سُوتر منڈی کے شیخ صاحبان تھے۔۔۔ ہمیں اب پورا یقین ہے کہ سارا "ناواں" بھی انہی خصوصی مہمانوں کا خرچ ہوا ہوگا۔ اس مباحثے کا عنوان  "عقلاں والے بھُکھے مردے، مُورکھ کھان جلیب" تھا۔ اب میاں صاحب کی اس ستم ظریفی کی داد کوئی اہل نظر و دل ہی دے سکتا ہے کہ شیخ صاحبا ن کو سٹیج پر بٹھا کر ، انہیں کے پیسے لگوا کر ، انہیں اس مباحثے کو سننےپر مجبور کیا جائے۔
یہ مباحثہ ہمارے یار غار نے جیتا  جوزمانہ  سکولیت سے ہی زید حامد جیسے مقرّر تھے اور بہت سی ٹرافیاں اور کپ اور پلیٹیں وغیرہ جیت چکے تھے۔ کلاس فیلو ہونے کے ناطے ان کی تقاریر کی ریہرسل سننے کی سزا اکثر بھگتنی پڑتی تھی اور وہ شور مچانے پر تقریر روک کر ہمیشہ یہ چتاونی دیا کرتے  ۔۔۔ جو قومیں تقاریر غور سے نہیں سنا کرتیں، وہ تباہ و برباد ہوجایا کرتی ہیں۔۔۔ مجھے تو اب یہ  لگتاہے کہ ٹاک شوز کا آئیڈیا بھی ہمارے انہی عزیز دوست کا ہے تاکہ ساری قوم بیٹھ کے تقریریں سنتی رہے اور تباہ نہ ہو۔۔ واللہ اعلم بالصواب۔۔۔
اس سارے ڈفانگ کی سمعی و بصری عکس بندی کا اہتمام بھی  کیا گیا تھا، سادہ الفاظ میں جسے ویڈیو بنانا کہتے ہیں۔  اس کی بہت سی کاپیاں بنائی گئیں اور ان شیخ صاحبان کو دی گئیں جن کے خرچے پر یہ سب کیا گیا تھا۔ ایک کاپی ، ہیڈکوارٹر ہونے کے ناطے ظہیر لائبریری پر بھی پہنچی۔
یہیں سے بٹ صاحب کا المیہ شروع ہوتاہے !۔
ایک شام گپیں مارتے ہوئے  اور ایسے لطیفے سنتے سناتے ہوئے جنہیں بندہ  اپنے یاروں کے علاوہ کسی کو نہیں سنا سکتا، اچانک ہمارے ذہن میں ایک شیطانی خیال نے جنم لیا۔ ہم نے اس ابلیسی خیال کو ظہیر تک منتقل کیا اور اس نے فورا ہی منظوری دیتے ہوئے  آواز لگادی۔۔۔ اوئے بٹ اوئےئےئےئےئے۔۔۔  ہزار دفعہ یوں پکارے جانے کے باوجود بٹ صاب اس آواز پر ادھر ادھر دیکھنا ضروری سمجھتے تھے لہذا انہوں نے اپنی روٹین پوری کی اور پھر ظہیر کی طرف دیکھ کے سر ہلایا اور اپنا لُڑھکنا چالو کردیا۔
بٹ صا ب کے وہاں پہنچنے تک ہم سب پکّے منہ بنا کے بیٹھ چکے تھے۔ ظہیر نے آواز میں پُراسراریت  سمو کر بٹ صاب کو کہا کہ ایک ضروری بات کرنی ہے  اکیلے میں۔ چلو ، ذرا باہر۔ باہر دو تین منٹ بٹ صاب کے کان میں کھسر پھسر کرکے ظہیر اندر آیا اپنے کاونٹر کے دراز سے ویڈیوکیسٹ نکالی اسے اخبار میں لپیٹا اور نہایت رازداری سے بٹ صاب کو باہر جاکے تھمادی۔ بٹ صا ب نے چوکنّے ہو کے ادھر ادھر دیکھا،  اور عین سڑک پر سب کےسامنے اخبار میں لپٹی ہوئی کیسٹ  بڑے "خفیہ " انداز میں ڈب میں لگا لی۔
ظہیر الدین بابر ، پروپرائٹر ظہیر لائبریری راوی ہیں کہ بٹ صاب نے اگلے دن ان کی جو کُتّے خانی کی وہ ایک عظیم تاریخی حیثیت کی حامل تھی۔ بٹ صاب ، ظہیر کا جاٹ ہونا ، ان کے والد کا سابقہ اور بھائی کا موجودہ پُلس والا ہونا بالکل فراموش کرکے ، غلامابادی انداز کی جتنی گالیاں انہیں یاد تھیں ، وہ یکے بعد دیگرے اور بار بار انہیں دیتے جاتے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی دردناک آپ بیتی بھی سناتےجاتے کہ کتنے جتنوں سے سب کے سونے کا انتظار کیا  اور اتنی گرمی میں کمرے کا دروازہ بند کرکے جب میں نے وی سی آر آن کیا تو شرو ع میں ہی شناسا چہرے نظر آئے ، میں خوش ہوگیا کہ "پروگرام" جینوئن لگتا ہے، مُنڈوں نے اپنا موج میلہ ریکارڈ کیا ہے۔۔۔۔  آپ بیتی کا آخری حصّہ بقول راوی ، بٹ صاب نے رقّت آمیز آواز میں سنایا کہ میں نے تین گھنٹے کی ساری کیسٹ بنا فارورڈ کیے دیکھی کہ ۔۔۔۔۔ خورے۔۔۔ پر "کچھ " ہونا تھا نہ ہوا۔ راوی بیان کرتا ہے کہ ہنس ہنس کے اس کی اتنی بری حالت ہوئی کہ بٹ صاب اپنا رنڈی رونا  بھول کے اس کی خیریت بارے فکر مند ہوگئے کہ کہیں بے چارا پاگل تو نہیں ہوگیا ۔
شنید ہے کہ یہ قصّہ آج بھی گلستان روڈ موجودہ بمبینو روڈ   کےباسی کسی لوک کہانی کی طرح یاد رکھے ہوئے ہیں ۔  اور اکثر بک بکواس کی محافل شبینہ میں فرمائش کرکے سُنتے  اور سناتے ہیں ۔
ہمیں تو یوں لگتا ہے کہ اس دفعہ بھی "بٹ صاحب" کو جو کیسٹ دی گئی ہے
وہ پھر  "خالی"  نکلنی ہے!.

رینڈم نیس

تفصیل، تباہ کن ہوتی ہے۔
*******************************************************************
روحانیت کا سفر، محبت سے شروع ہوتا ہے۔
*******************************************************************
سادگی، قابل شرم اور لش پش، رواج بن جائے تو وہی حال ہوتا ہے، جو ہمارا ہے۔
*******************************************************************
سیاست کے علاوہ کوئی بات کرنے کو نہ ہو تو یہ کیسی بدنصیبی کی بات ہے۔
*******************************************************************
دنیا کے سامنے ذلیل ہونا اپنے آپ کے سامنے ذلیل ہونے سے بہتر ہے.
*******************************************************************
رب یا ہو محبوب، پہلی ترجیح بنائے بغیر نہیں ملتا۔
*******************************************************************
باس اور معشُوق کو کبھی جگت نہیں کرنی چاہیے۔
*******************************************************************
لفظ ، بے معنی ہوتے ہیں، مخاطب اور لہجہ ان کو معانی دیتے ہیں۔
*******************************************************************
باس اور محبوب نرم مزاج ہو تو ماتحت اور عاشق نکمے ہوجاتے ہیں۔
*******************************************************************
اپنے اندر کا جھاڑ جھنکاڑ سمیٹ کے، جالے اتارکے، سفیدی کرکے، اگر بتیاں لگاکے دھمال ڈالنا، محبت ہے۔
*******************************************************************
جب کوئی آپ کی ناراضگی کی پروا کرنا چھوڑے دے تو سمجھ جائیے کہ محبت ختم اور مجبوری شروع ہوگئی ہے۔ *ماخوذ*
*******************************************************************
پاکستانی قوم بھی وہ شہزادی ہے جو ہمیشہ کسی چنگڑ کے ساتھ پھس جاتی ہے.
*******************************************************************
جگجیت سنگھ سننے کا مطلب ہے کہ محبوب اور حکیم دونوں تک رسائی ناممکن ہوچکی ہے۔
*******************************************************************
شہوانیت باتوں میں نہیں، دماغ میں ہوتی ہے۔
*******************************************************************
خوشی کی ترسیل ہمیشہ غم کے وسیلے سے ہوتی ہے۔
*******************************************************************
خواہش، روح کو کانٹوں پر گھسیٹنا ہے۔
*******************************************************************
دو قومی نظریہ، دنیا میں انسان کے ساتھ ہی وجود میں آگیا تھا۔۔۔۔ ظالم قوم۔ مظلوم قوم۔
*******************************************************************
رب سے گلہ کرنا جائز ہے۔۔۔ گلہ، اپنوں سے ہی کیا جاتا ہے۔
*******************************************************************
سیلف میڈ، انسان نہیں رہتا، فرشتہ ہوجاتاہے یا شیطان۔
*******************************************************************
زن، زر اور زمین، مرد کا پھندہ ہیں۔
*******************************************************************
مجھے تو کبھی کبھی یہ لگتا ہے کہ پاکستان، مجید نظامی اور نوائے وقت نے بنایا تھا۔
*******************************************************************
قدر، نسبت کی ہوتی ہے، چیز کی نہیں۔

الیکشن اور اللہ دتّہ


ہوش سنبھالنے پر جو پہلے الیکشن ہم نے دیکھے ، وہ کونسلری کے تھے۔مزے کا زمانہ تھاوہ بھی۔  دیواروں پر چسپاں امیدوا ر برائے کونسلر کے رنگ برنگے اشتہار،  فلمی اشتہار بنانے والے مصوروں کے موئے قلم سے رنگین دیواریں جن پر امیدوار کی وہ خصوصیات بیان کی گئی ہوتی تھیں جو شاید بے چارہ خود بھی کوشش کے باوجود دریافت نہ کرپاتا۔  ہمیں آج بھی زرعی یونیورسٹی کے مین گیٹ والی دیوار کا اشتہار یاد ہے۔ جس میں "نہ بکنے والا نہ جھکنے والا" کے  "نہ" پر کسی ناہنجار نے سفیدی پھیر دی تھی اور پولنگ کے دن تک وہ مصور ی کا شاہکار آتے جاتے لوگوں کو محظوظ کرتا رہا۔  کافی عرصے بعد اسی دیوار پر  ملن سوپ کے اشتہار کے ساتھ بھی یہی کچھ کیا گیاتھا۔ بہرحال اس کا انتخابات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔  رات کو ہونے والی کارنر میٹنگز،  نعرے،  پر جوش تقاریر ، یہ سب ایک میلے جیسا لگتا تھا۔  اس الیکشن میں جیتنے والے ایک شیخ صاحب تھے کہ ہمارے علاقے میں شیخ صاحبان کی ایک تو ویسے اکثریت تھی اور جو بھی بندہ چار پیسے کمالیتا تھا وہ بھی شیخ ہوجاتا تھا تو یہ اکثریت دو تہائی تک جاپہنچتی تھی۔ ہمیں یاد ہے کہ وہ کونسلر ، شاید شیخ اشرف ان کا نام تھا ،  الیکشن جیتنے کے بعدکبھی نظر نہیں آئے۔ کونسلری کے کام گلیاں سڑکیں اور گٹروں کی صفائی تک ہی محدود ہوتے ہیں ۔ اور شیخ صاحب تو صبح سویرے بارہ بجے اٹھ کے سوتر منڈی چلے  جاتے تھے  اور اہالیان حلقہ ان کے آنے کا انتظار کرتے رہتے تھے ، گھر پر جاکے ان کا دریافت کرنے پر پتہ چلتا تھا کہ شیخ صاحب، آدھ کلو چھوٹا گوشت اور دوسیر آم "چوپ" کے سو چکے  ہیں۔  
اگلے الیکشن آنے تک ہمارے حلقے کا حال ازمنہ قدیم کے کسی افریقی ملک کا منظر پیش کرنے لگا تھا۔ شیخ برادری کے بڑوں نے متفقہ طور پر پرانے کونسلر کی بجائے ایک نئے صاحب کو "ٹکٹ" جاری کیا۔ اور برادری کی بنیاد پر ایک دفعہ پھر وہ صاحب الیکشن جیت گئے۔  اگر آپ شیخ صاحبان سے واقف ہوں تو آپ بخوبی جانتے ہوں گے کہ شیخ حضرات، گلی محلے کی سیاست والا میٹریل نہیں ہوتے۔ ایک ارسٹوکریٹک سا ٹچ ہوتا ہے جو انہیں سیوریج اور نالیاں پکی کرانے جیسے کاموں سے دور رکھتا ہے۔   آخرکار تیسرے انتخاب میں اہالیان حلقہ نے انہیں اس "غلیظ" کام سے دور رکھنے  کا فیصلہ کیا اور ملک اللہ دتّہ کی باری آئی۔
ایک نیم خواندہ، سیمنٹ کی ایجنسی کے مالک، عام لوگوں میں پولیس ٹاوٹ کی شہرت۔ لہجہ جانگلی۔ کرخت، درشت۔ ہر الیکشن میں حصہ لینے والے لیکن کبھی تیسرے نمبر سے آگے نہ بڑھ سکنے والے، ملک اللہ دتّہ۔ کہاں شیخ صاحبان کی میٹھی پیاری باتیں  اور سوفسٹی کیشن اور کہاں ملک صاحب کا جٹکا انداز۔ لیکن تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق لوگوں نے یہ جوا ءبھی کھیل ہی لیا اور وہ یہ جواء جیت بھی گئے۔ ملک صاحب نے اپنے حلقے کے ایسی خدمت کی کہ آج اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود میں ان کو یاد کرنے پر مجبور ہوں۔ صبح جب ہم سکول کالج جانے  کےلیے نکلتے تھے تو وہ اپنے ویسپا سکوٹر پر گلیوں کا چکر لگار ہے ہوتے تھے۔ کوئی بھی شخص ان کو روک کے کوئی بھی مسئلہ بتا سکتا تھا اور اگر فوری طور پر حل ہونے والا ہو تو وہ اسے سکوٹر کی پسنجر سیٹ پر بٹھا کر اسی وقت حل کرنے چل پڑتے تھے۔  سارے علاقے کی سڑکیں اور گلیاں تعمیر ہوئیں، سیوریج اور صفائی کے مسائل حل ہوئے۔ گلی محلے کی حد تک معمولی قضیے اور جھگڑے بھی ان کے ڈیرے پر ہی حل ہوجاتے تھے اور کسی کو کبھی کسی جانبداری کی شکایت نہیں ہوئی۔  ہم اس وقت یہ سوچ کر حیران ہوتے تھے کہ سابقہ کونسلرز کے پاس بھی اتنے ہی فنڈز تھے تو انہیں زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا؟ ملک صاحب اپنی وفات تک کونسلری کا الیکشن جیتتے رہے اور ان کے جنازے پر تقریبا سارا علاقہ اکٹھا تھا۔
تسلسل کسی بھی چیز یا کام میں بہت اہم بلکہ بنیادی عنصر کی حیثیت رکھتا ہے۔  دو میعادوں تک اہل محلہ نے مشکلیں برداشت کرکے یہ سبق سیکھا کہ برادری کو ووٹ دینے سے سڑکیں یا گلیاں نہیں بن سکتیں، بند گٹر نہیں کھل سکتے، صفائی کا نظام درست نہیں ہوسکتا۔  یہ سب کام صرف اپنےووٹ کا درست استعمال کرنے سے ہوسکتے ہیں۔ نفیس لباس، مہنگی خوشبوئیں اور لچھے دار تقریریں بھی یہ کام نہیں کرسکتیں۔    جمہوریت اور انتخابات کی یہی خوبصورتی ہے کہ ہم اپنی غلطی کو درست کرسکتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ تسلسل جاری رہے۔ فوجی بوٹوں کی حکمرانی نہ ہم سے پوچھ کے آتی ہے اور نہ جاتے وقت اطلاع کرتی ہے کہ ۔۔ خوش رہو  اہل وطن، ہم تو سفر کرتے ہیں۔ ۔۔۔  سو خرابیوں اور خامیوں کے باوجود آگے جانے کا رستہ یہی ہے۔ ووٹ ڈالیے۔ چاہے تیر کو، شیر کویا بلّے کو  یا جس کو بھی دل چاہے اور یہ سوچ کے ڈالیے کہ کس نے پچھلے پانچ سال آپ کے ساتھ کیا کِیا ہے۔
ہمارے محلے کے شیخ صاحبا ن نے بھی آخر کار درست فیصلہ کرلیا تھا۔ کیوں نہ اس دفعہ ہم سب مل کے درست فیصلہ کرلیں۔

قیدی کی فریاد


یہ کیا او گیا اے؟
جسٹس چودری اے، ٹیرا اے۔ نوایشریف سے پیسے کھاتا اے۔ مجھے پھساتا اے۔  میں آیا اوں، عوام کی امیدیں جاگی ایں۔   میرے کاغژ ایں ، مسترد کردئیے ایں۔  میں اونسٹ اوں، میری ڈگنیٹی بھی اے۔ عوام کی اتنی کِی اے ۔ کسی کی جرات نئیں اے کہ اتنی کرسکے۔ خدمت اے،  کِی اے۔ کیا صلہ دیا اے؟  اندر کردیا اے۔  عوام اے، روتی اے۔ کہتی اے ، میرا دور اچھا تھا، امن تھا، چین تھا، موبائل تھے، بچیاں تھیں،  پھستی بھی تھیں، مزا  آتا تھا۔  اب بجلی نی اے، گیس نی اے، کچھ بھی نی اے۔  
فیش بک اے، دھوکہ اے۔ سب جھوٹے لو گ ایں۔ مجے اشکل دی اے۔ میں آیا اوں، خود نئیں آئے ایں۔ میں پھس گیا اوں۔ کیس ایں، کھل گئے ایں۔ تشریف اے، بند ہوگئی اے۔فون کیے ایں۔ کسی نے بات نئیں کی اے۔ احسان فراموش اے۔ کیانی اے۔ میں نے  بنایا اے۔ مجے ای گیڑا کرایا اے۔ زندگی اے، آرمی کو دی اے۔ میں کمانڈو اوں، مجے ڈر نی لگتا اے۔  بس کِرلی سے لگتا اے،  کنکھجورے سے بھی لگتا اے۔ باقی کسی سے نی لگتا اے۔
اٹک قلعہ اے۔ بہت گرم اے۔ گرمی  آتی اے ، تپ جاتا اے۔ سانپ ایں ، نکلتے ایں۔ سانپ سے ڈر نی لگتا اے۔ پینٹ گیلی ہوجاتی اے۔ عمر کا تقاضہ اے، ڈر،  نئیں اے۔ جیل اے، مزے ایں، آفیشر میس اے، بیٹ مین اے، بریک فاشٹ اے، بوتل بھی اے۔ طبلہ اے، بجاتاہوں ، مزا  آتا اے۔ ایمبیشی والے ایں، میرے یار ایں۔  ریمنڈ ڈیوس اے، معمولی آدمی اے، میں اوں ، پریژیڈنٹ اوں۔ میں نے نکلنا اے، چلے جانا اے۔  میرا کچھ پٹ نئیں سکتے ایں۔ خدمت کی اے۔ دل سے کی اے۔ ہر بات مانی اے، وہ بھی مانی اے جو نہیں کہی اے۔ مجے ڈر نی لگتا اے۔ امریکہ اے، میرے ساتھ اے۔ اللہ اے، وہ بھی میرے ساتھ اے۔ عوام اے، اس کا پتہ نی چلتا اے، فیش بک پر میرے ساتھ اے۔ سڑک پر کہتی اے، مشرف کو پھانسی دو۔ مشرف نے کیا کِیا اے؟
میڈیا اے، بکا ہوا اے۔ میں نے آزادی دی اے۔ میرا  ای بیڑہ غرق کیا اے۔  میرے کلوژ اپ دکھاتے ایں۔ گرمی اے، پسینہ آتا اے۔ گلط امپریشن جاتا اے۔  مجے پہلے بِھی ڈر نئیں لگتا تھا، اب بھی نئیں لگتا اے۔ لال ماسجد اے، دہشت گردی اے۔ میں نے ختم کی اے، مجھے  گالیاں دیں ایں۔ میں نے کیا کیِا اے؟  الیکشن ایں، میں نے جیتنے ایں۔ دہشت گردی اے، ختم کرنی اے۔ ماسجدوں میں دہشت گرد ہوتےایں، ان کو پکڑنا اے، مارنا اے، بمب مارنے ایں، گولیاں مارنی ایں۔ ڈرون ایں، گڈ ایں۔ میں نے اجاژت دی اے۔ ویڈیو گیم جیسا مژا آتا اے۔ بندے ایں ، مرتے ایں۔  سب نے مرنا اے۔ پہلے مرنا اے یا بعد میں مرنا اے۔ شور کرنے کی کیا ضرورت اے؟
وکیل ایں۔ چو ل ایں۔ نعرے ایں۔ لگاتے ایں۔ مشرف کُتا اے، کہتے ایں۔ میں کُتا نی اوں، وہ صدر اے۔ میں تو شیر اوں۔ جسٹس چودری اے۔کھوتا  اے۔
شیر اور کھوتے والا لطیفہ اے ۔ میں نے  نئیں سنا اے۔
ڈنر آگیا اے، بوتل بھی آگئی اے۔ ڈانس کا ارینجمنٹ نئیں اے۔ بیگم صاحبہ ایں۔ ناچتی ایں۔ اب اچھی نی لگتی ایں، جوانی تھی، مزا آتا تھا۔ پارٹی میں ڈانس ہوتا تھا۔ ترقی ملتی تھی۔ اب گئی اے۔ ناچی اے، سارے کیس کھل گئے ایں۔ ظلم اے۔ جوانی اے۔ بے وفا اے۔
میں نیک انسان اوں۔ کبھی گناہ نئیں کیا اے۔ حج کیے ایں، عمرے کیے ایں۔  نماژیں بھی پڑھی ایں۔ روژے بھی رکھے ایں۔ کارگل میں جہاد بھی کیا اے۔ مجھ سے اچھا کون مسلمان ہوسکتا اے؟

مردود، جگر اور ڈیوریکس


حاشا و کلا ہمارا ہرگز یہ  ارادہ نہیں تھاکہ  قادری جگر پر دوبارہ خامہ فرسائی فرماتے۔ لیکن دنیا ہے کہ ہمیں "اُنگل" کرانے سے باز نہیں آتی۔  اور ہمارے چند زریں اصولوں میں سے ایک،  انگل کے جواب میں "باں" کرانا ہے۔  آمدم برسر مطلب، قادری جگر ہمارے بچپن میں پی ٹی وی پر شاید جمعے کے جمعے "حلوہ" افروز ہوا کرتے تھے اور اسی زمانے سے ان کی خطابت کا ڈنکا اتنی زور سے بجتا آرہا ہے کہ پاس بیٹھے ہوئے  لوگ کانوں سے ہی نہیں بلکہ دماغ سے بھی بہرے ہوجاتے ہیں۔   جگر کی رام کہانی اتنی دفعہ دہرائی جاچکی ہے کہ اب تک سب کو ازبر ہوچکی ہوگی۔ کہ  جھنگ سے چلنے والا عبدالشکور ، علامہ مولاناپروفیسر ڈاکٹر  قادری جگر کیسے بنا۔ لہذا اس سے صرف نظر کرتے ہوئے ہم اپنے مشاہدات ہی بیان کرتے ہیں۔
مدت مدید کی بات ہے کہ جناح کالونی میں، جہاں ہمارے ابّا کی دوکان تھی اور ہم کالج سے فراغت کے بعد سیدھا وہیں پہنچا کرتے تھے، سرما کی ایک سرد اور دھند آلود دوپہر کو ہم چھتری والی گراونڈ سے متصل مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے تشریف لے گئے۔ نماز سے فارغ ہوئے تو  گراونڈ میں لگے شامیانوں نے ہماری توجہ کھینچی ۔ اسی اثنا میں پانچ چھ گاڑیوں کا ایک تیز رفتار قافلہ زن سے ہمارے پاس سے گزرا  اور گراونڈ کی دوسری طرف شامیانوں کے پاس جا کے رک گیا۔  ڈبل کیبن ڈالوں سے وردیوں میں ملبوس اور کلاشنکوفوں سے لیس محافظوں نے چھلانگیں لگائیں اورایسے  پوزیشنز سنبھال لیں جیسے ابھی فاتح کشمیر پدھاریں گے۔  درمیان والی کالی پجارو کا دروازہ کھلا اور اس میں سے قادری جگر نے قدم رنجہ فرمایا۔ یہ اس دور کی بات ہے جب شیر علی جیسے ایم این اے سڑکوں پر عام چلتے پھرتے مل جاتے تھے۔فضل حسین راہی جیسے ایم پی اے تلنگوں کے ساتھ تھڑوں پر بیٹھ کر چرس پیتے تھے اور اسلحہ صرف پولیس والوں کے پاس ہی نظر آتا تھا۔  اس وقت تک ان کی خوابی پیشگوئیاں بھی زبان زد عام تھیں تو ہمارا بچگانہ اور احمقانہ دماغ یہ سوچنے لگا کہ یہ کیسا بندہ ہے جو خواب میں بشارت پانے کے بعد بھی اپنی حفاظت  کے لیے اتنے بندوں کو لے کے گھومتا ہے؟ یا تو خواب جھوٹے ہیں یا اس کا ایمان۔
وہ دور گزر گیا ۔ ہم حالات کے تھپیڑے کھاتے ، پردیس آ پہنچے۔ یہاں ہمیں ایک لہورئیے ملے۔ جو ایک موبائل کی دکان پر سیلز مین تھے۔ اور ان کے کمرے کی الماری میں قادری جگر کے آڈیو کیسٹس اور ڈیوریکس کے پیکٹ ساتھ ساتھ پڑے ہوتے تھے۔ ہم نے اس کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے جو جگر کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملانے شروع کیے تو بنا بریک کے آدھ گھنٹے تک بولتے ہی چلے گئے۔ ان کے دم لینے پر ہم نے پوچھا کہ یہ ڈیوریکس آپ انکی سالگرہ پر  غباروں کی جگہ لگاتے ہیں؟ اس بات پر وہ تپ گئے اور کہنے لگے کہ میں گنہگار بندہ ہوں، غلطی ہوجاتی ہے۔ تس پر ہم نے خاموشی اختیار کی کہ مقصد ان کو شرمندہ کرنا  نہیں تھا۔ جگر کے یہ پرستار ایک سال بعد غبن کرکے غائب ہوگئے اور سننے میں آیا تھا کہ لانچ کے ذریعے پاکستان پہنچے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
چند دن پہلے ہم ایک جانی کےساتھ بک بکواس ٹائم انجائے کررہے تھے کہ ان کے ایک دوست بھی تشریف لے آئے۔  تعارف سے پتہ چلا کہ حضرت ڈاکٹر ہیں ۔  انگریز ، بات کرنے کے لیے موسم کی بات چھیڑتے ہیں اور ہم سیاست کی۔ لہذا ہم نے بھی دانہ پھینکا کہ 'ڈاکٹر ساب، تہاڈا  کیہ خیال اے کہ عمران خاں کنیاں سیٹاں لے جائے گا؟" ہمارے اندازے کے عین مطابق ڈاکٹر صاحب انصافیے نکلےاور جو ش و خروش سے  کینسر ہسپتال، ورلڈ کپ کی فتح، عمران کی ایمانداری ، لگن، استقلال،  بہت سی عورتوں کو بیک وقت خوش رکھنے کی صلاحیت وغیرہ پر رواں ہوگئے۔ ہم میسنے ہوکے بیٹھ گئے اور ڈاکٹر صاحب کا جو ش و خروش انجائے کرنے لگے۔ جب وہ ذرا ٹھنڈے پڑنے لگے تو اللہ جانے ہمارے ذہن میں کیا خنّاس سمایا کہ قادری جگر کا ذکر چھیڑ بیٹھے۔  ڈاکٹر صاحب نے اپنی عینک اتاری، شیشے صاف کیے ۔ دوبارہ ناک پر جمائی۔ ہماری طرف غور سے دیکھا اور پوچھا کہ آپ کو ان سے کیا تکلیف ہے؟ ۔ ہم نے اپنی سٹینڈرڈ تکالیف گنوادیں کہ ڈاکٹر صاحب یہ یہ تکلیف ہے۔  تازہ تازہ متوفی کو کلمہ پڑھانے والی ویڈیو کا حوالہ دینے پر انہوں نے فرمایا کہ تلقین کرنا سُنّت ہے اور جو اس کو نہیں مانتا ، وہ مردود ہے ۔ اس لیے آپ مردود ہیں۔ ہمارے کان لال تو ہوئے لیکن ازلی ڈھیٹ پن کی وجہ سے دوبارہ اپنی رنگت پر واپس آگئے۔ سجدے والی ویڈیو پر ارشاد فرمایا کہ آپ کو کیا پتہ کہ ان کی نیّت سجدہ کرنے کی ہے یا پاوں چومنے اور پاوں چومنا بھی حدیث سے ثابت ہے لہذا آپ ان پر شرک کا الزام لگا کر خود مشرک ہوچکے ہیں۔  اس دلیل پر ہماری ذہن میں ایک نہایت فحش جوابی دلیل آئی لیکن ۔۔۔ خیال خاطر احباب چاہیے ہر دم۔۔
 دوست کا دوست بھی دوست ہی ہوتا ہے چاہے وہ آپ کو مردود اور مشرک ہی کیوں نہ سمجھے۔۔ ہیں جی۔۔

راجُو


اصل نام تو شاید ریاض تھا یا رزاق ، پر نام میں کیا رکھا ہے کہ گوروں کے علامہ اقبال  فرماگئے ہیں کہ گلاب کو جس نام سے بھی پکارو ، وہ گلاب ہی رہے گا تو راجو کو بھی جس نام سے  پکاریں وہ راجو ہی رہے گا۔ پست قامت، گورا چٹا رنگ، نیلی آنکھیں۔ اتنا سوہنا ارائیں ہم نے اپنی زندگی میں آج تک نہیں دیکھا۔  یہ تو یاد نہیں کہ اس کا نام پہلی دفعہ کب سنا تھالیکن جب سے ہم نے ہوش سنبھالی تو راجو ہمارے علاقے کا ایک ، بقول حسن نثار، لیجنڈری قسم کا کردار تھا۔  پُلس مقابلوں سے کرکٹ کےمیچوں میں بلّوں سے فریق مخالف کی پھینٹی تک ، ایم این اے کو تھپڑوتھپڑی ہونے سے اسی ایم این اے کا باڈی گارڈ بننے تک ، ایسی ایسی داستانیں کہ بس لڑکپن میں یہی خواہش تھی کہ بڑے ہوکے  "راجو" بننا ہے۔
سُودی کے برادر بزرگ ، نام تو جن کا محمود ہے لیکن خاندان میں بھولے اور دوستوں میں مُودے کے نام سے جانے جاتے ہیں، وہ جب تازہ تازہ کالجیٹ ہوئے تو ہم شاید دسویں جماعت میں تھے۔ ان سے ہمیں راجو کی مزید داستانیں سننے کا موقع ملا کہ ان دنوں ان کی دوستی اس سے ہوگئی تھی۔  کہ راجو کے بظاہر اس دنیا میں دو ہی کام اور شوق تھے، پھینٹی کھانا   (اور لگانا بھی)اور کرکٹ کھیلنا۔ کرکٹ بارے  تو ہمیں بعد میں پتہ چلا کہ کرکٹ کھیلنی اسے اتنی ہی آتی تھی جتنی میاں صاحب کو سیاست  یا خاں جی کو مردم شناسی۔ بھولے کے ریفرنس سے ہی ایک دن راجو نے  سعید کی ویڈیوگیمز والی دکان میں ہم سے شرف تعارف یہ پوچھ کر حاصل کیا  کہ "تسی مُودے دے پراء او"۔ اب یہ بڑی مزے کی بات ہے کہ  راجو کا اندا ز تخاطب اتنا مہذب اور نستعلیق اور شائستہ اور شگفتہ اور نسرین وغیرہ تھا کہ ہم حیران رہ گئے کہ یہ وہ پھنّے خاں ہے جو پلس مقابلے تک کرتا ہے۔ سچ پوچھیں تو ہمارے دل میں اس کی جو "عزت" تھی وہ ایک کوڑی کی نہیں رہی کہ ۔۔ لے دس۔۔ یہ ہے راجو۔
وہ  تو رمضان میں رات کو ہونے والے ایک کرکٹ ٹورنامنٹ کے  فائنل نے راجو بارے،  ہمارے وچار دوبارہ انہی عظمتوں تک پہنچائے ، جو پہلے قائم تھیں۔  فائنل پر رواں تبصرے کے لیے راجو بذات خود مائک لے کے ایسی ایسی در فنطنی چھوڑ رہا تھا کہ سوچ ہے آپ کی۔ اپنی  زندگی کے ہر مرحلے پر وہ چونکہ اشتہاری ہی رہا تو کسی نے گلبرگ تھانے فون کھڑکا دیا کہ راجو یہاں بذات خود موجود ہے۔ پولیس کیسے آئی اور کتنی سہولت سے اس کو پیچھے سے آکے دبوچا ، اس کا پتہ اس کو تب چلا جب انہوں نے اسے موبائل میں پٹخا۔ پندرہ منٹ بعد کیا دیکھتے ہیں کہ راجو پھر مائیک سنبھال کے پولیس سمیت مخالفوں کی والدہ اور ہمشیرہ کو واحد کررہا تھا۔ بعد میں پتہ چلا کہ چلتی موبائل سےکود کے گلیوں میں گھس گیا اور جتنی دیر میں "فُکراٹے" موبائل رکوا کے اس کے پیچھے جاتے وہ انہیں غچّہ دے کے گلیوں میں غائب ہوچکا تھا۔ پولیس والوں کے لیے عوام الناس نے  کافی اصطلاحات وضع کی ہیں، جن میں چھلّڑ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ لیکن راجو کی وضع کردہ فکراٹے کی اصطلاح کا مقابلہ آج تک کوئی نہیں کرسکا۔
بی بی کے دوسرے دور حکومت میں ہر بلدیاتی حلقے میں ایک جیالا کونسلر کی جگہ پر نامز د کیا گیا تھا کیونکہ بلدیاتی الیکشن کرانا ہماری جمہوریت کے ماموں کے وارے میں نہیں ہوتا، ہمارے محلے میں غلام عباس نامی ایک جیالے کو یہ ذمہ داری سونپی گئی  جو شومئی قسمت سے راجو کے  پرانے محلے دار  اور بیلی تھے۔ گلستان روڈ پر ان کا ایک وڈیوسینٹر تھا جس کے وسیع و عریض تھڑے پر ہر  رو ز صبح سویرے،  سینٹری ورکرز کے جھمگٹ میں دربار سجا کے بیٹھتے تھے۔ ایک سہانی صبح  راجو کا گزر جب وہاں سے ہوا تو موٹرسائیکل روک کے وہ غلام عباس سے یوں مخاطب ہوا،  " یار  باسے، ایک فیملی گروپ فوٹو نہ ہوجائے"۔  یہ کہہ کر اس نے موٹر سائیکل کو گئیر لگایا اور اڑنچھو ہوگیا ، غلام عباس کی مقفع و مسجع گالیوں کی آواز  البتہ آدھ گھنٹے تک قرب و جوار کے لوگوں کے کانوں میں مسلسل آتی رہی۔
اسی ویڈیو سینٹر کے عین سامنے ظہیر لائبریری واقع تھی۔ اس لائبریری سے ہمارا تعلق پانچویں سے شروع ہوا جب ہم اشتیاق احمد کے ناول کرایہ پر لینے جاتے تھے اور یہ تعلق اس وقت تک جاری رہا جب تک یہ لائبریری بند نہیں  ہوئی۔ اس کے مالک بھی راجو کے لنگوٹیے یار تھے اور اکثر اس کے  واقعات سنایا کرتے تھے۔  مشکل یہ کہ ان واقعات میں سے اکثریت ایسی ہے کہ سنسر سے گزرنے کے بعد ان میں ، سے، پر ، ہے، کو وغیرہ ہی رہ جائیں گے۔  بہرحال ایک نسبتا ہومیوپیتھک سا واقعہ سنا کے اس ایپی سوڈ کو ختم کرتے ہیں۔ ظہیرالدین بابر، پروپرائٹر ظہیر لائبریری  راوی ہیں کہ ایک دن شام کو ایک مولانا صاحب چندے کی کاپی سنبھالے وار د ہوئے اور فرمایا کہ میں  رحیم یار خان سے آیا ہوں ، اللہ کا گھر بن رہا ہے، مدد کریں۔ راجو جو وہاں موجود تھا، اس نے مولانا سے پوچھا کہ ۔۔۔ ایس توں پہلے رب کرائے تے رہندا سی؟۔  مولانا ، لاحول ولا اور کافر و زندیق کی تسبیح کرتے ہوئے ایسے غائب ہوئے کہ دوبارہ کبھی نظر نہیں آئے۔
اس ابتدائی تعارف کے بعد ہمارا  ارادہ تھا کہ اس دور کے حالات بھی بیانیں جب ہم راجو کی زیر صدارت ایک رجسٹرڈ کلب کی طرف سے کرکٹ کھیلا کرتے تھے  اور امپائرنگ کے کسی بھی تنازعے کی صورت میں راجو اپنی ٹی ٹی کی جھلک کراکے معاملہ چشم زدن میں نمٹا دیا کرتا تھا۔  پر یہ سب  پھر کبھی سہی۔   یار زندہ، صحبت باقی۔۔ اس بات پر ہمارے ایک جانی بہت شرماجاتے ہیں۔۔ نجانے کیوں؟

شاژیہ اور بِلاّ

ہزار دفعہ منع کرنے کے باوجود،  بِلاّ ، ہمیں پائین کہہ کے ہی مخاطب کر تا تھا اور ابھی بھی کرتا ہے۔ ہم پائین کہنے پر اس کو خونخوار نظروں سے گھورتے تو وہ ایسے ہنسنے لگتا  جیسے گونگی۔۔۔ چلیں چھوڑیں۔  ان دنوں پُونڈی کا لفظ اتنا عام نہیں تھا اس کی بجائے فیصلابادی روزمّرہ میں "ٹیم چُکنا" کا لفظ استعمالا جا تا تھا۔  عام بِلّوں کی طرح ہمارا بِلاّ بھی نہایت عاشق مزاج واقع ہو ا تھا اور ٹیم چُکنے کا نہایت شوقین تھا۔ بِلاّ  فرنیچر کی دکان پر کام کرتا تھا  اور وہاں صبح سات بجے ہی پہنچ جاتا تھا اس کی وجہ فرض شناسی یا کوئی اور ایسی خوبی نہیں تھی بلکہ اس کی وجہ "شاژیہ" تھی۔  شازیہ  کو جب بِلاّ  شاژیہ کہتا تھا تو اس کے سارے ناآسودہ و بے ہودہ جذبات جس طرح اس نام کے تلفظ میں سماجاتے تھے وہ چیز بیان کرنی مشکل ہے۔ شاژیہ اس وقت بِلّے کی سب سے منظور نظر حسینہ تھی اور روزسکول جاتے ہوئے اس کی دکان کے سامنے سے گزر تی تھی۔  مزے کی بات یہ کہ یہ نام بِلّے نے خود ہی  اس حسینہ کو الاٹ کیا  تھا کہ اس کے اصل نام کا پتہ اس کے فرشتوں کو بھی نہیں تھا اور شاژیہ ، بلِّے کا پسندیدہ نام تھا۔ وہ دور نہایت پسماندہ تھا جب انٹرٹینمنٹ کے نام پر چاچا جی صبح پانچ منٹ کے کارٹون دکھا کے ٹرخا دیا کرتے تھے۔ موبائل فون اور ایس ایم ایس اور ایمیلز  جیسی انٹرٹینمنٹ صرف جیمز بانڈ کی فلموں میں ہی نظر آتی تھی۔ لہذا حسینوں سے رابطہ صرف خط اور خواب میں ہی ہوسکتا تھا۔ 
روزانہ شام کو جب تھڑے پر ہماری محفل مخولیہ جمتی  تو بِلّا ہر بات کو موڑ کر شاژیہ کے ذکر کی طرف ہی لے جاتا تھا ۔ پائین، اج او میرے ول ویخ کے ہسّی سی۔ اج اونہے مینوں سلام کیتا سی۔ اج بڑی سوہنی لگ رئی سی۔ یہ تین باتیں  وہ بلاناغہ ترتیب بدل کے بیانتا تھا۔ ہم اپنی فطرت سے مجبور اس کو ہمیشہ یہی کہا کرتے تھے کہ بِلاّجی ، شاژیہ کو آپ سے بھائی والی محبت ہے ، غلط خیال نہ لایا کریں۔ اس پر بِلاّ شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے پانچ منٹ کے لیے  واک آوٹ کرجا تا اور واپس آنے پر اس کے چہرے پر وہی گونگی والی مسکراہٹ ہوتی تھی۔ 
سردیوں کے ایک خوشگوار جمعے کو ہمارا اسلامیہ کالج کی گراونڈ میں میچ تھا۔ بِلاّ بضد تھا کہ وہ بھی ہمارے ساتھ جائے گا۔ ہم نے بہتیرا سمجھایا کہ شام ہوجائے گی میچ ختم ہوتے، تو نے اتنی دیر کیا کرنا وہاں۔ لیکن وہ بِلاّ ہی کیا جو کسی کی بات سن لے۔  بہرحال  ہم وہاں پہنچے۔ ٹاس ہارنے کے بعد حسب معمول ہمیں بالنگ کرنی پڑی۔ خوب پھینٹی لگی ۔ اوورز ختم ہوئے تو لنچ اور جمعہ کی نماز سے فارغ ہوکے ہماری باری شروع ہوئی۔ ہم اپنے تئیں نہایت عظیم بلّے باز تھے  لیکن ہمارے کپتان کی نظر میں ہم صرف بالر ہی تھے اور بیٹنگ کی صلاحیت ہم میں اتنی ہی تھی جتنی تنویر احمد میں بالنگ کی ہے۔ لہذا ہم کافی دیر کے لیے فارغ تھے ۔  بِلاّ، میں اور ہمارا لنگوٹیا تینوں گراونڈ کے پرسکون سے گوشے میں جاکے بیٹھ گئے ۔ زبیر نے سگریٹ سلگا لیا اور اپنی پھینٹی کا غم غلط کرنے لگا، ہماری بدقسمتی یہ رہی کہ آج تک ہمیں غم غلط کرنے کا کوئی ذریعہ ہی پسند نہیں آیا  لہذا ساری تلخی آج تک ہمارے اندر ہی ہے جو وقتا فوقتا باہر نکلتی رہتی ہے۔  زبیر نے دو کش ہی لیے ہوں گے کہ بِلّے نے سگریٹ جھپٹا اور  گھاس پر پلسیٹے مار کر دھوئیں نکالنے لگا۔ زبیر نے اسے مناسب مغلظات سے نوا ز کر نیا سگریٹ سلگایا اور دوبارہ غم غلط کرنے کا سلسلہ وہیں سے جوڑا جہاں سے ٹوٹا تھا۔ لیٹے لیٹے سگریٹ پیتے ہوئے ، بِلّے کے ذہن میں پتہ نہیں کیا آیا کہ رومانوی قسم کی خود کلامیاں کرنے لگا۔۔۔"شاژیہ، تینوں کیہ پتہ میں تینوں کنّاں پیار کرداں،    تینوں کیہ پتہ تیرا   پراء تینوں کنّاں یاد کردا"۔۔۔۔ ہمارے قہقہوں کی آوازیں اتنی بلند تھیں کہ پچ پر موجود ہمارے کپتان جی جو بنفس نفیس اوپننگ کے لیے تشریف لےگئے تھے، ان کی توجہ بھی ہماری طرف مبذول ہوگئی کہ ان کمینوں نے کونسا زعفران کا کھیت دیکھ لیا ہے۔
 بس اس دن کے بعد بِلاّ اگر کسی کے منہ سے  شاژیہ کا نام بھی سن لیتا تھا تو  پتھر لے کے اس کے پیچھے بھاگتا تھا۔ یہ مت پوچھیے کہ کیوں۔۔  اور یہ بھی مت پوچھیے کہ محلے کے سارے بچّوں کو شاژیہ کا نام کس نے سکھایا تھا۔ 

انسپشن ":ڈ"


میرے خیال میں تو کسی بھی غیر معمولی کتاب یا فلم کو جانچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ دوبارہ پڑھنے اور دیکھنے پر وہ کتاب یا فلم آپ کو مجبور کرتی ہے یا نہیں۔ کرسٹوفر نولان کی جتنی فلمیں میں نے دیکھی ہیں ان سب میں یہ خاصیت بدرجہ اتّم موجود ہے۔ بلکہ ایمانداری کی بات تو یہ ہے کہ اس کی فلموں کو پوری طرح سمجھنے کے لیے ایک دفعہ دیکھنا میرے لیے کافی نہیں ہوتا سوائے "ڈارک نائٹ" کے۔ لیکن اس کو بھی "جوکر" کے لیے بار بار دیکھنا پڑا ہے اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔
سائنس فکشن فلموں سے مجھے کبھی رغبت نہیں رہی۔ ٹرانسفارمرز نے چاہے اربوں ڈالرز کما لیے ہوں لیکن میرے لیے ایسی فلمیں ٹکے کی نہیں ہوتیں۔ انسپشن بارے جب پہلی دفعہ سنا تو اس کے ساتھ لگے ہوئے سائنس فکشن کے دم چھلّے کی وجہ سے مجھے مایوسی سی ہوئی کہ یہ نولان میاں کس طرف نکل گئے۔ بہرحال "کَوڑا گھُٹ" کرکے انسپشن کو دیکھنے کا ارادہ کیا۔ اگر میں نے اس دفعہ میٹرک کے امتحان دینے ہوتے تو اردو "ب" کے پرچے میں "سحر زدہ کرنا" کا جملہ بنانا میرے لیے بہت آسان ہوجاتا۔ یہ فلم اور سب کچھ ہوسکتی ہے لیکن نام نہاد سائنس فکشن زمرے میں اسے شامل نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ اسی کسی بھی متعین زمرے میں ڈالنا اس فلم کے ساتھ زیادتی ہے۔
فلم کی کہانی ایک خوابی چور کے گرد گھومتی ہے جو لوگوں کے ذہن میں ان کے خوابوں کے ذریعے داخل ہوکر ان کے راز چراتا ہے۔ کہانی کے بارے میں کچھ اور بتانا فلم کے مزے کو پھسپھسا کرسکتا ہے لہذا اسی پر اکتفا کریں اور کم از کم ایک بار فلم ضرور دیکھیں۔ دوسری ، تیسری اور چوتھی بار یہ فلم آپ کو خود ہی دکھوا لے گی۔
فلم کے ہدایتکار بارے تو آپ کو پتہ چل ہی گیا ہوگا کہ کرسٹوفر نولان ہے۔ فلم کے مصنف بھی یہی حضرت ہیں۔ یار، بندے کو اتنا ٹیلنٹڈ بھی نہیں ہونا چاہیے!
مرکزی کردار لیونارڈو ڈی کپریو نے نبھایا ہے۔ ڈیپارٹڈ اور شٹر آئیلینڈ کے بعد اس فلم میں ڈی کپریو کی پرفارمنس نے ثابت کردیا ہے کہ وہ اس دور کا رابرٹ ڈی نیرو ہے بلکہ میری رائے میں تو اس سے بھی بہتر ہے۔ ٹائی ٹینک کے پپّو بچّے سے کم از کم مجھے تو یہ امید کبھی نہیں تھی کہ وہ اتنی منجھی ہوئی، پیچیدہ اور "مردانہ" قسم کی پرفارمنس دے سکتا ہے۔ فلم کے دوسرے اہم اداکاروں میں جوزف گورڈن لیوٹ، ایلن پیج، ٹام ہارڈی،مائیکل کین، میرین کوٹلرڈ وغیرہ شامل ہیں۔ جوزف گورڈن لیوٹ کو اس سے پہلے میں نے، ۵۰۰ڈیزآف سمر، میں دیکھا تھا۔ اور اس کی اداکاری کا قائل ہوا تھا۔ اس فلم میں اس نے ثابت کیا کہ میں غلط نہیں تھا۔ ٹام ہارڈی اور ایلن پیج کی کارکردگی بھی درجہ اول (بناسپتی نہیں) کی ہے۔
اب میرا کہنا مانیں اور اس ریویو کا پیچھا چھوڑ کر اس فلم کو دیکھنے کا بندوبست کریں۔ اب تک آپ کو پتہ تو چل ہی گیا ہوگا کہ میری تجویز کردہ فلمیں بری چاہے ہوں، بور نہیں ہوتیں۔

میں جو اک برباد ہوں، آباد رکھتا ہے مجھے

عیدمیلاد النبی کی ایک بہت پرانی سی یاد ہے جس میں ایک چھوٹا سا بچہ یہی کوئی چھ سات برس کا، عربی لباس پہنے، اپنے ابّا کی انگلی تھامے کسی مذہبی محفل میں شریک ہے ۔ اس نامانوس اور نئے لباس کیوجہ سے  خوشی اور محفل کی طوالت کی وجہ سے بوریت کا ملاجلا احساس بھی اس کے چہرے سے عیاں ہے۔  محفل کے اختتام پر ابّا کے ساتھ واپسی کے سفر میں وہ سجے سجائے ٹرک، جن پر مساجد کے ماڈلز بنے ہوئے ہیں، اونٹ گاڑیاں، بسیں  اور ان پر انسانوں کے ہجوم کو حیرانی سے دیکھتا ہے۔ اسی حیرانی میں سے بہت سے سوال برآمد ہوتے ہیں جو وہ بار بار اپنے ابّا سے پوچھتا ہے۔ ان میں سے کچھ جوابات تو اس کی سمجھ میں آتے ہیں اور کچھ باوجود کوشش کے وہ سمجھ نہیں پاتا۔
یہ بچّہ، مابدولت ہیں۔
ہوش سنبھالنے پر اس تہوار کی غایت بھی پتہ چلی۔ عید میلاد النبی کے جلوس کے ساتھ جانے کی لیکن کبھی اجازت نہ مل سکی۔ اگرچہ ہمارا یار سُودی ہمیں ہر دفعہ ترغیب دلاتا کہ " چل تے سہی، بڑا مزا آندا ای، گٹ آلے جاواں گے ٹرک تے، نہر اچ ناہواں گے،  حلیم، کلچے، حلوہ، چاول ۔۔۔ فل عیاشیاں باوے"۔لیکن  ہمارے ساتھ مسئلہ یہ تھا کہ امّاں کی نظر سے دور رہنے کا طویل ترین وقفہ جو ہمیں میسر تھا ، وہ پندرہ منٹ سے زیادہ کبھی نہیں بڑھ سکا۔ ہر پندرہ منٹ کے بعد انہیں یہ بتانا ضروری ہو تا تھا کہ پچھلے پندرہ منٹ میں کہا ں تھا اور کیوں تھا۔ اور چونکہ میلادالنبی کی چھٹی کی وجہ سے ابّا بھی گھر پر ہوتے تھے تو ان کی موجودگی میں تو ایسا کوئی ایڈونچر کرنا  ممکنات میں سے نہیں تھا۔  ہمارے ابّا کا کہنا تھا کہ ان جلوسوںمیں لفنگے لونڈے لپاڑے جاتے ہیں جن کا مقصد ہلّڑ بازی کے سوا کچھ نہیں ہوتا ۔ اور اس متبرک دن کے لحاظ سے یہ حرکات انہیں سخت ناپسند تھیں اور وہ اپنے سخت غصے کا اظہار یہ کہہ کرکرتے تھے کہ "گدھے ہیں یہ سب"۔ شدید ترین غصّے کے علاوہ یہ لفظ وہ کبھی نہیں بولتے تھے۔ لہذا ان جلوسوں میں جانا تو دور کی بات ، اپنی گلی کی نکڑ پر کھڑے ہو کر ان سجے ہوئے ٹرکوں کو دیکھنا بھی کافی مشکل ہوتا تھا۔
ہمیں یہ ماننے میں کوئی عار نہیں کہ کسی مذہبی محفل میں شریک ہونے کا ہمیں کبھی کوئی اشتیاق نہیں رہا۔ نہ ہی کبھی کوئی رقّت وغیرہ طاری ہوئی۔ اور ہمیں بڑی حیرانی ہوتی تھی جب ٹی وی پر کبھی اعظم چشتی کی پنجابی نعت چلتی تھی تو ابّا سر نیچے کرکے سنتے رہتے تھے اور ختم ہونے پر اپنے  رومال سے منہ صاف کرکے  ہی سر اوپر اٹھاتے تھے۔  میلا د شریف محفل میں جب بھی سلام پڑھنا شروع کیا جاتا تھا تو اپنی امّاں کی ہچکیوں کی آواز سن کر ہم خود بھی کسی کونے کھدرے میں چھپ کر رونا شروع کردیتے تھے۔
ماں کو روتے دیکھنا بہت مشکل ہوتا ہے جی۔
استاد خالد کا تذکرہ ہم دو تین دفعہ کرچکے ہیں ۔ استاد کی ایک خا ص ادا جو اب ہمیں یاد آتی ہے کہ اس وقت تو کبھی ایسی باتوں پر غور ہی نہیں کیا تھا ۔ استاد محلے کی مسجد یا کسی بھی جگہ ہونے والی محفل نعت میں بن بلائے پہنچ جاتے تھے۔ عام طور پر استادکا حلیہ ابتر ہوتا تھا  کپڑے میلے کچیلے، شیوبڑھی  ہوئی ، بال بکھرے ہوئے ۔ یہ ان کے کام کی وجہ سے بھی تھا۔ سارا دن لوہے سے ہاتھ پنجہ کرکے بندہ باؤ بن کے تو نہیں رہ سکتا۔ لیکن جب بھی کسی محفل میں جانا ہوتا تو استاد بہترین سفید کپڑے پہن کے ، شیو کرکے، سر پر رومال باندھ کے جاتے تھے۔  استاد کی آواز ایسی تھی کہ بلا شبہ ایسی نعت پڑھتے ہوئے کم ہی لوگوں کو سنا ہے ۔  نعت پڑھتے ہوئے استاد کی آنکھوں سے زارو قطار آنسو جاری ہوجاتے ۔  روپوں  کا ڈھیر ان کے سامنے اکٹھا ہوجاتا تھا پر استاد نے کبھی ان پیسوں کی طرف آنکھ اٹھا کے نہیں دیکھا۔ یہ ہمیں ذاتی طور پر علم ہے۔ استاد نعت پڑھتے اور خاموشی سے نکل آتے ۔ مذہبی محافل کے اختتام پر جو خوردونوش کا بندوبست ہوتا ہے، اور جس کے لیے سامعین کی اکثریت آخر تک بیٹھی رہتی ہے، استاد نے وہاں سے کبھی پانی کا گلاس تک نہیں پیا ۔
اب آکے یہ باتیں سمجھ میں آئی  ہیں۔ یہ عشق کا معاملہ ہے۔ محبت کا۔ اس ہستیﷺسے محبت کا جو رب کی محبوب ہے۔  کچھ عرصہ قبل نماز جمعہ کے لیے مسجد میں بیٹھے ، اذان سنتے ہوئے ، جب موذن،  اشہد ان محمد الرسول اللہ،  تک پہنچا تو خدا معلوم اندر کا کونسا قفل کھلا کہ بندہ بے حال ہوگیا، تب پتہ چلا کہ ابّا سر جھکاکے نعت کیوں سنتے  تھے، امّاں کی ہچکیاں کیوں بندھ جاتی تھیں، استاد خالد جو جمعہ کی نماز کے علاوہ کبھی مسجد میں نظر نہیں آتا تھا، وہ نعت پڑھتے ہوئے  کیوں زارو قطار رونے لگتا تھا۔
مذہب سے ہمارا لگاؤ کوئی بہت جانثار قسم کا نہیں ہے۔ نہ ہی ہم کوئی مفتی  یا علامہ ہیں۔ لیکن کبھی کبھار سوچتے ہیں کہ کیا مذہب کی ہر علامت کو کاروبار بنا لینا  جائز ہے؟ کیا  عام آدمی کے مذہبی جذبات کو فروخت کرنا جائز ہے؟  استاد خالد جیسے نعت پڑھنے والے  اور ڈولبی سراونڈ ساونڈ اور پورے ٹشن کے ساتھ کمرشل نعت خوانی  میں کوئی فرق نہیں؟ کیا اس  محبت کی علامت کو دنیا کمانے کے لیے استعمال کرنا جائز ہے؟