یہ کیسا انصاف اے؟
مجھے نوٹس دیا اے۔ میں نے کیا کِیا اے؟
سب سے پَیلے پاکستان اے۔ پھر لندن اے۔ مزے ایں۔ رنگ میں بھنگ ڈالا اے۔ مجھے ڈر نئیں لگتا اے۔
نواز شریف اے۔ بے ایمان اے۔ لوٹ کے کھا گیا اے پاکستان کو۔ میری اونسٹی اے، ڈگنیٹی اے۔ صرف 24 کروڑ کا فلیٹ اے۔ ایجویئر روڈ اے، اچھااے۔ رونق میلہ اے۔ میمیں ایں۔ پھرتی ایں۔ مزا آتا اے۔
زرداری اے، اچھا آدمی اے۔ مجبور اے۔ پھس گیا اے۔ نواز شریف نے دھوکہ دیا اے، مکر گیا اے۔
رانی مکر جی اے، وہ بِی مکر گئی تھی، میں گیا اوں، وہ نئیں آئی اے، میں نے ویٹ کیا اے، پھر بِی نئیں آئی اے۔ دل توڑا اے۔ محفلیں یاد آتی ایں۔ شوکت عزیز تھا، عبداللہ یوسف بی تھا، گانے ہوتے تھے، ڈانس ہوتا تھا، مزا آتا تھا۔ اب کچھ بی نئیں اے۔ ظلم اے۔ زیادتی اے۔ اس پر کوئی سووموٹو نوٹس نئیںاے۔ میرا کوئی حق نئیں اے؟؟ خدمت کی اے، ملک کی، عوام کی۔
مجھے جسٹس چوہدری سے ڈر نئیں لگتا اے۔ صرف اس کی آنکھوں سے ڈر لگتا اے۔ خون اے، اترا ہوا اے۔ ساری نواز شریف کی سازش اے۔ اس کے پاس پیسہ اے۔ لگاتا اے۔ وکیلوں کو لگاتا اے۔ جلوس نکلواتا اے۔ صحافیوں کو کھلاتا اے۔ مکار اے۔ جھوٹا اے۔ ہائی جیکر اے۔ اب لارڈ نذیر کو میرے پیچھے لگادیا اے۔
امریکہ اے۔ بے وفا اے۔ نظریں نئیں ملاتا اے۔ کہتا اے، عدالت کا معاملہ اے۔ اتنے بندے پکڑ کے دئیے ایں، پھر بھی کوئی مدد نئیں کی اے۔ ظلم اے۔
میں بہادر اوں، میں نے جنگیں لڑیں ایں۔ مجھے ڈر نئیں لگتا اے۔ (سوںسوں سوں) رو نئیں را اوں۔ نزلہ اے۔ ناک صاف کی اے، رویا نئیں اوں، مجھے ڈر نئیں لگتا اے۔۔۔
7ند سوال
آپ ”لوگ“ اتنے بد تہذیب اور بد تمیز کیوں ہوتے ہیں؟
جہالت آپ میں کوٹ کوٹ کر کیوں بھری ہوئی ہے؟
آپ قتل و غارت اور خونریزی کے کیوں اتنے شوقین ہیں؟
علم سے دشمنی آپ کی گھٹی میں کیوں پڑی ہوئی ہے؟
دوسروں کی حق تلفی کرنا، آپ اپنا پیدائشی حق کیوں سمجھتے ہیں؟
آپ خود کو انسان کہلانے پر کیوں بضد ہیں؟
آپ اتنے تنگ نظر اور چھوٹے دل کے کیوں ہیں؟
نفرت، منافقت اور مکاری، آپ کی فطرت کیوں ہے؟
آپ لوگ ”ڈھگے“ کیوں مشہور ہیں؟
آپ کے لہجے اور برتاؤ سے ہر وقت تعصب کیوں چھلکتا رہتا ہے؟
کیا کہا؟
نہیں نہیں، نفرت اور تعصب کی وجہ سے یہ سوال نہیں پوچھے۔۔۔
صرف اپنی معلومات میں اضافہ کرنا چاہتا ہوں!
حاجی غلام دین نمازی زکاتی
”تمہاری سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ تم چوّل ہو“۔ یہ کہہ کر انہوں نے اپنے کھیسے سے کے ٹو کی ڈبی نکالی، سگریٹ سلگایا اور لمبا کش لگا کر ناک سے دھواں نکالتے ہوئے سر ہلانے لگے۔
ٹھہرئیے ! پہلے میں ان سے آپ کا تعارف کروادوں۔
ان کا نام حاجی غلام دین نمازی زکاتی ہے۔ چونکئے مت۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حج کرنے کے بعد بندہ اپنے نام کے ساتھ حاجی لگا سکتا ہے تو نماز پڑھنے کے بعد اسے نمازی لکھنے اور زکوۃ دینے کے بعد زکاتی لکھنے کا بھی پورا حق ہے۔ اگرچہ خود انہوں نے صرف اس وقت ہی زکوۃ دی تھی جب حکومت بینک کھاتوں سے زبردستی زکوۃ کاٹ لیا کرتی تھی۔ آج کل کے حالات میںجہاد کا ذکر کرنا وہ مصلحت کے منافی گردانتے ہیں، اس لئے جہادی لکھنے پر آمادہ نہیں اگرچہ ان کا کہنا ہے کہ وہ ہر وقت اپنے نفس امارہ کے ساتھ جہاد میں مصروف رہتے ہیں۔ میں جب بھی بہت خوش ہوتا ہوں، میرا کوئی کالم ہٹ ہوتا ہے، میرے پروگرام کو اشتہارات زیادہ ملتے ہیں اور نتیجے کے طور پر میرا کمیشن بھی بڑھ جاتا ہے، جب بھی کسی نئے اعلی عہدیدار سے میرے ”دوستانہ“ تعلقات پنپتے ہیں۔ غرض جب بھی میری زندگی میں خوشی کا کوئی موقع آتا ہے میںان کے پاس حاضری ضرور دیتا ہوں۔
میری ان سے ملاقات انجمن تاجران غلہ منڈی کی تقریب حلف برداری میںاتفاقا ہوئی اور پہلی ہی ملاقات میں انہوں نے مجھے اپنی شخصیت کا گرویدہ کرلیا۔ ان کی شخصیت کی سادگی حیران کن ہے۔ بے تحاشا دولتمند ہونے کے باوجود غربت ان کے چہرے اور باتوںسے ٹپکتی ہے۔ سادہ خوراک استعمال کرتے ہیں۔ ایک دفعہ تو میں نے انہیں کیک رس، پیپسی میں ڈبو کر کھاتے ہوئے بھی دیکھا ہے!
اس کے بعد میری ان سے ملاقاتیں جاری رہیں۔ مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں جتنی بھی کامیابیاں حاصل کی ہیں ان کے پیچھے ان کا ہی ذہن کام کرتا رہا ہے۔ آپ اعلی درجے کے عیار، چوٹی کے دھوکے باز اور بے حد عمدہ بے ایمان ہیں۔ ان سے ملنے سے پہلے میں بھی نام نہاد ایمانداری، راست گوئی، اور قلم کی عصمت وغیرہ کا قائل ہوا کرتا تھا۔ لیکن ان کی صحبت میں، مجھے پتہ چلا کہ زندگی میں کامیابی کے گُر کیا ہوتے ہیں!
لیکن آج ان کی بات نے مجھے حیرت زدہ اور غمگین کردیا۔ میرے چہرے کے تاثرات دیکھ کر انہوں نے ایک قہقہہ لگایا اور میرے کندھے پر ہاتھ مار کر بولے۔ ”دل چھوٹا نہ کرو۔ چوّل ہونا فی زمانہ ایک خوبی ہے، اس میں بیستی کی کوئی بات نہیں۔ یقین نہیں آتا تو رحمن ملک سے لے کر سلمان تاثیر اور فوزیہ وہاب سے لے کر شیخ رشید تک کسی کو بھی دیکھ لو۔ ایک سے بڑھ کر ایک چوّل ہے۔ اور ان سب کے سردار کا نام تو پوری دنیا جانتی ہے“۔ یہاں تک پہنچتے پہنچتے ان کی آواز بھرّا گئی تھی اور آنکھوں میں فرط عقیدت سے آنسو آگئےتھے۔ میں نے اٹھ کر ان کے گھٹنوں کو چھوا اور کمرے سے باہر نکل آیا۔
ٹھہرئیے ! پہلے میں ان سے آپ کا تعارف کروادوں۔
ان کا نام حاجی غلام دین نمازی زکاتی ہے۔ چونکئے مت۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حج کرنے کے بعد بندہ اپنے نام کے ساتھ حاجی لگا سکتا ہے تو نماز پڑھنے کے بعد اسے نمازی لکھنے اور زکوۃ دینے کے بعد زکاتی لکھنے کا بھی پورا حق ہے۔ اگرچہ خود انہوں نے صرف اس وقت ہی زکوۃ دی تھی جب حکومت بینک کھاتوں سے زبردستی زکوۃ کاٹ لیا کرتی تھی۔ آج کل کے حالات میںجہاد کا ذکر کرنا وہ مصلحت کے منافی گردانتے ہیں، اس لئے جہادی لکھنے پر آمادہ نہیں اگرچہ ان کا کہنا ہے کہ وہ ہر وقت اپنے نفس امارہ کے ساتھ جہاد میں مصروف رہتے ہیں۔ میں جب بھی بہت خوش ہوتا ہوں، میرا کوئی کالم ہٹ ہوتا ہے، میرے پروگرام کو اشتہارات زیادہ ملتے ہیں اور نتیجے کے طور پر میرا کمیشن بھی بڑھ جاتا ہے، جب بھی کسی نئے اعلی عہدیدار سے میرے ”دوستانہ“ تعلقات پنپتے ہیں۔ غرض جب بھی میری زندگی میں خوشی کا کوئی موقع آتا ہے میںان کے پاس حاضری ضرور دیتا ہوں۔
میری ان سے ملاقات انجمن تاجران غلہ منڈی کی تقریب حلف برداری میںاتفاقا ہوئی اور پہلی ہی ملاقات میں انہوں نے مجھے اپنی شخصیت کا گرویدہ کرلیا۔ ان کی شخصیت کی سادگی حیران کن ہے۔ بے تحاشا دولتمند ہونے کے باوجود غربت ان کے چہرے اور باتوںسے ٹپکتی ہے۔ سادہ خوراک استعمال کرتے ہیں۔ ایک دفعہ تو میں نے انہیں کیک رس، پیپسی میں ڈبو کر کھاتے ہوئے بھی دیکھا ہے!
اس کے بعد میری ان سے ملاقاتیں جاری رہیں۔ مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں جتنی بھی کامیابیاں حاصل کی ہیں ان کے پیچھے ان کا ہی ذہن کام کرتا رہا ہے۔ آپ اعلی درجے کے عیار، چوٹی کے دھوکے باز اور بے حد عمدہ بے ایمان ہیں۔ ان سے ملنے سے پہلے میں بھی نام نہاد ایمانداری، راست گوئی، اور قلم کی عصمت وغیرہ کا قائل ہوا کرتا تھا۔ لیکن ان کی صحبت میں، مجھے پتہ چلا کہ زندگی میں کامیابی کے گُر کیا ہوتے ہیں!
لیکن آج ان کی بات نے مجھے حیرت زدہ اور غمگین کردیا۔ میرے چہرے کے تاثرات دیکھ کر انہوں نے ایک قہقہہ لگایا اور میرے کندھے پر ہاتھ مار کر بولے۔ ”دل چھوٹا نہ کرو۔ چوّل ہونا فی زمانہ ایک خوبی ہے، اس میں بیستی کی کوئی بات نہیں۔ یقین نہیں آتا تو رحمن ملک سے لے کر سلمان تاثیر اور فوزیہ وہاب سے لے کر شیخ رشید تک کسی کو بھی دیکھ لو۔ ایک سے بڑھ کر ایک چوّل ہے۔ اور ان سب کے سردار کا نام تو پوری دنیا جانتی ہے“۔ یہاں تک پہنچتے پہنچتے ان کی آواز بھرّا گئی تھی اور آنکھوں میں فرط عقیدت سے آنسو آگئےتھے۔ میں نے اٹھ کر ان کے گھٹنوں کو چھوا اور کمرے سے باہر نکل آیا۔
سوال گندم ۔۔۔ جواب چنا
سوال: آپ کسی کچے انڈے کو کنکریٹ کے فرش پر اسے توڑے بغیر کیسے گرا سکتے ہیں؟
جواب:کنکریٹ کا فرش بے حد مضبوط ہوتا ہے، اس کا ٹوٹنا مشکل ہے۔
سوال: اگر آٹھ آدمی دس گھنٹے میں ایک دیوار بناتے ہیں تو چار آدمی اسے بنانے میں کتنا وقت لگائیں گے؟
جواب: کوئی وقت نہیں لگائیں گے، وہ پہلے ہی بنی ہوئی ہے۔
سوال: اگر آپ کے دائیں ہاتھ میںتین سیب اور چار نارنگیاں اور بائیں ہاتھ میں چار سیب اور تین نارنگیاں ہوں تو آپ کے پاس کیا ہوگا؟
جواب: بے حد بڑے ہاتھ۔
سوال: کوئی شخص آٹھ دن تک بغیر سوئے کیسے رہ سکتا ہے؟
جواب: وہ رات میں سو سکتا ہے۔
سوال: اگر کسی نیلے سمندر میں سرخ پتھر پھینکا جائے تو کیا ہوگا؟
جواب: پتھر یا تو صرف گیلا ہوگا، یا ڈوب جائے گا۔
سوال: کس چیز کی شکل نصف سیب جیسی ہوتی ہے؟
جواب: سیب کے دوسرے نصف حصے کی۔
سوال: آپ ظہرانے میں کیا چیز نہیں کھا سکتے؟
جواب: عشائیہ۔
(سب رنگ ڈائجسٹ سے انتخاب)
جواب:کنکریٹ کا فرش بے حد مضبوط ہوتا ہے، اس کا ٹوٹنا مشکل ہے۔
سوال: اگر آٹھ آدمی دس گھنٹے میں ایک دیوار بناتے ہیں تو چار آدمی اسے بنانے میں کتنا وقت لگائیں گے؟
جواب: کوئی وقت نہیں لگائیں گے، وہ پہلے ہی بنی ہوئی ہے۔
سوال: اگر آپ کے دائیں ہاتھ میںتین سیب اور چار نارنگیاں اور بائیں ہاتھ میں چار سیب اور تین نارنگیاں ہوں تو آپ کے پاس کیا ہوگا؟
جواب: بے حد بڑے ہاتھ۔
سوال: کوئی شخص آٹھ دن تک بغیر سوئے کیسے رہ سکتا ہے؟
جواب: وہ رات میں سو سکتا ہے۔
سوال: اگر کسی نیلے سمندر میں سرخ پتھر پھینکا جائے تو کیا ہوگا؟
جواب: پتھر یا تو صرف گیلا ہوگا، یا ڈوب جائے گا۔
سوال: کس چیز کی شکل نصف سیب جیسی ہوتی ہے؟
جواب: سیب کے دوسرے نصف حصے کی۔
سوال: آپ ظہرانے میں کیا چیز نہیں کھا سکتے؟
جواب: عشائیہ۔
(سب رنگ ڈائجسٹ سے انتخاب)
رس(؟) ملائی
اگرچہ آج تک ہم رس ملائی شوق سے کھاتے رہے ہیں لیکن اس کے نام سے ہم کبھی متفق نہ ہوسکے۔ہمارے خیال میں تو اس کا نام ”میٹھے شوربے والی گلاب جامن“ ہونا چاہئے۔ویسے بھی ہمیں تو کبھی اس میں رس (بیکری والا) نظرنہیں آیا۔اور اگر اس رس سے مراد جوس ہے تو ملائی کا جوس کیسے نکل سکتا ہے؟ رس تو ہمیشہ ٹھوس چیز کا نکلتا ہے جیسے گنے کا رس، سیب کا رس، آم کا رس، حکومت پاکستان کے ہاتھوں عوام کا رس۔
اس مسئلے پر ہم نے بہت غوروخوض کرنے کے بعد ایک ترکیب ایجاد کی ہے جو واقعی رس ملائی کہلائے جانے کے قابل ہے۔ اس کے اجزاء زیادہ نہیں لیکن ان کو حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ لہذا جو خواتین و حضرات سہل پسند اور عیش کوش ہوں، ان سے درخواست ہے کہ اس ترکیب پر طبع آزمائی نہ کرنا ہی ان کی صحت وسلامتی کے لئے بہتر ہے۔
سب سے پہلے تو ہمیں خالص ملائی کی ضرورت ہوگی۔ اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ یہ ملائی آپ اس دودھ نما چیز سے کشید کرسکتے ہیں جو گوالہ فراہم کرتا ہے تو یقیناً آپ احمقوں کی جنت کے آس پاس کہیں رہائش پذیر ہیں۔ اس دودھ نما سے آپ جگر کو جلانے والی چائے اور خراب معدے کے علاوہ کچھ حاصل نہیں کرسکتے۔ خالص ملائی حاصل کرنے کے لئے آپ کو کچھ اور آپشنز پر غور کرنا ہوگا۔ مثلاً کسی گاؤں وغیرہ کا سفر۔ لیکن جب سے ہم نے جعلی کرنسی چھاپنے والے کا ایک عبرت ناک واقعہ سنا ہے جو غلطی سے پندرہ روپے کا نوٹ چھاپ بیٹھا تھا اور گاؤںکے لوگوں کی سادگی کا فائدہ اٹھانے کے لئے اس نے یہ نوٹ گاؤں میںچلانے کا فیصلہ کیا تھا۔ گھر کی بیٹھک میں کھلی ایک کریانے کی دکان سے جہاں ایک بڑی بی تشریف فرما تھیں وہاں اس مرد شریف نے پندرہ روپے کے نوٹ کا کھلا کروایا تو بڑی بی نے اسے ساڑھے سات کے دو نوٹ لوٹادئیےتھے، تب سے ہم اس آپشن سے بھی کچھ ناامید سے ہوگئے ہیں۔
دیکھا، ہم نے شروع میں ہی کہہ دیا تھا کہ اس ڈش کے اجزاء ملنے بہت مشکل ہیں!
ایک آخری آپشن بچا ہے کہ آپ ایک بھینس خریدیں، اور اس کے دودھ سے خالص ملائی حاصل کرلیں۔ اب دوسرے جز کی باری ہے۔ کسی اچھی سی بیکری سے تازہ رس لائیں۔ برسات کا موسم ہے لہذا اچھی طرح چیک کرلیں کہ رس ”سیلابے“ نہ ہوں۔ لیجئے، اب ترکیب اپنے اختتامی مرحلے تک پہنچا چاہتی ہے۔ ایک رس لے کر اس پر ملائی کا اچھی طرح لیپ کریں اور اس کے اوپر دوسرا رس رکھ دیں۔
مزیدار رس ملائی تیار ہے!
اس مسئلے پر ہم نے بہت غوروخوض کرنے کے بعد ایک ترکیب ایجاد کی ہے جو واقعی رس ملائی کہلائے جانے کے قابل ہے۔ اس کے اجزاء زیادہ نہیں لیکن ان کو حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ لہذا جو خواتین و حضرات سہل پسند اور عیش کوش ہوں، ان سے درخواست ہے کہ اس ترکیب پر طبع آزمائی نہ کرنا ہی ان کی صحت وسلامتی کے لئے بہتر ہے۔
سب سے پہلے تو ہمیں خالص ملائی کی ضرورت ہوگی۔ اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ یہ ملائی آپ اس دودھ نما چیز سے کشید کرسکتے ہیں جو گوالہ فراہم کرتا ہے تو یقیناً آپ احمقوں کی جنت کے آس پاس کہیں رہائش پذیر ہیں۔ اس دودھ نما سے آپ جگر کو جلانے والی چائے اور خراب معدے کے علاوہ کچھ حاصل نہیں کرسکتے۔ خالص ملائی حاصل کرنے کے لئے آپ کو کچھ اور آپشنز پر غور کرنا ہوگا۔ مثلاً کسی گاؤں وغیرہ کا سفر۔ لیکن جب سے ہم نے جعلی کرنسی چھاپنے والے کا ایک عبرت ناک واقعہ سنا ہے جو غلطی سے پندرہ روپے کا نوٹ چھاپ بیٹھا تھا اور گاؤںکے لوگوں کی سادگی کا فائدہ اٹھانے کے لئے اس نے یہ نوٹ گاؤں میںچلانے کا فیصلہ کیا تھا۔ گھر کی بیٹھک میں کھلی ایک کریانے کی دکان سے جہاں ایک بڑی بی تشریف فرما تھیں وہاں اس مرد شریف نے پندرہ روپے کے نوٹ کا کھلا کروایا تو بڑی بی نے اسے ساڑھے سات کے دو نوٹ لوٹادئیےتھے، تب سے ہم اس آپشن سے بھی کچھ ناامید سے ہوگئے ہیں۔
دیکھا، ہم نے شروع میں ہی کہہ دیا تھا کہ اس ڈش کے اجزاء ملنے بہت مشکل ہیں!
ایک آخری آپشن بچا ہے کہ آپ ایک بھینس خریدیں، اور اس کے دودھ سے خالص ملائی حاصل کرلیں۔ اب دوسرے جز کی باری ہے۔ کسی اچھی سی بیکری سے تازہ رس لائیں۔ برسات کا موسم ہے لہذا اچھی طرح چیک کرلیں کہ رس ”سیلابے“ نہ ہوں۔ لیجئے، اب ترکیب اپنے اختتامی مرحلے تک پہنچا چاہتی ہے۔ ایک رس لے کر اس پر ملائی کا اچھی طرح لیپ کریں اور اس کے اوپر دوسرا رس رکھ دیں۔
مزیدار رس ملائی تیار ہے!
دیر
”آپ کی والدہ حیات ہیں؟“ لا ابالی نظر آنے والے اس شخص نے ڈرائیور سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔
”کیوں؟“ ڈرائیور کے لہجے میں حیرت آمیز برہمی تھی۔
ٹھہریئے!
میرے خیال میں ، ابتداء سے یہ قصہ شروع کرتے ہیں۔
وہ شخص شہر کے مرکزی علاقے سے ویگن میں سوار ہوا تھا۔ اس کو آخری سٹاپ تک جانا تھا۔ خوش قسمتی یا بد قسمتی سے، اسے فرنٹ سیٹ مل گئی۔ جینز ، ٹی شرٹ میں ملبوس وہ شخص اپنے ارد گرد سے لا تعلق نظر آتا تھا۔ حرکات و سکنات اور بدن بولی سے وہ اپنے اندر کی دنیا میں گم رہنے والا لگتا تھا جسے دوڑتی بھاگتی، چیختی چلاتی، پرشور، انسانوں سے لبالب بھری دنیا سے کوئی دلچسپی نہ ہو۔
ویگن کے چلتے ہی ڈرائیور کا سگریٹ بھی سلگ اٹھا۔ نصیبو لعل کی آواز بھی مقناطیسی فیتے میں سے انگڑائی لے کر جاگ اٹھی۔ اوسطا ہر تیس سیکنڈ کے بعد پریشر ہارن بھی کانوں میں رس گھولتا رہا۔ ڈرائیور نے بھی شاید سوچ رکھا تھا کہ اپنی مہارت کے سارے گر وہ آج ہی آزمائے گا۔ بسوں، ٹرکوں، رکشوں، گدھا گاڑیوں کو اوور ٹیک کرتا، کسی کو گالی دیتا اور کسی سے گالی سنتا ہوا وہ اپنی منزل کی جانب گامزن رہا۔ کنڈیکٹر کی ”روک کے استاد جی“ کی آواز پر وہ سڑک کے عین درمیان بریک لگاکر مسافر اتارتا، چڑھاتا رہا تھا۔
اس سارے ہنگامے کے باوصف، وہ شخص بالکل پرسکون بیٹھا تھا۔ جیسے وہ کوئی تماشائی ہو اور تھیٹر میںبیٹھا، اداکاروں کی پرفارمنس سے لطف اندوز ہورہا ہو۔ بالآخر منزل آگئی۔ ویگن مسافروں سے خالی ہوگئی۔ لیکن وہ شخص بدستور گاڑی میں بیٹھا رہا۔ ڈرائیور نے سوالیہ نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا۔ اس پر اس شخص نے مندرجہ بالا سوال ڈرائیور سے کیا!
ڈرائیور کی برہمی آمیز ”کیوں“ کے جواب میں وہ یوں گویا ہوا۔
”بھائی صاحب، جب آپ صبح کام پر جانے کے لئے گھر سے نکلتے ہیں تو آپ کی والدہ گھر میں سارا دن آپ کی خیریت اور سلامتی کی دعائیں کرتی ہوں گی کہ میرا بیٹا شام کو خیر خیریت سے گھر کو لوٹ کر آئے۔ اسے اللہ پاک اپنے حفظ وامان میں رکھے۔ سوچیں، اگر خدانخواستہ آپ کو کوئی حادثہ پیش آجاتا ہے، آپ زخمی ہوجاتے ہیں یا اس سے بھی بدتر صورتحال سے دوچار ہوکر جاں بحق ہوجاتے ہیں تو آپ کی والدہ کا کیا حال ہوگا؟ اب آپ اس عورت کے دکھ کا اندازہ کریں جو اپنے بیٹے، بھائی، شوہر کے انتظار میں بیٹھی ہے اور اسے پتہ چلے کہ اس کا انتظار ساری زندگی جاری رہے گا اور اس کا پیارا نہیں آئے گا۔“ وہ سانس لینے کو رکا۔ ڈرائیور کے چہرے کے بدلتے رنگوں سےاندازہ ہورہا تھا کہ بات اس کی سمجھ میں آرہی ہے۔
”تو میرے بھائی!“ وہ پھر گویا ہوا، ”اگر آپ کو کسی مسافر کا یا اس کے گھروالوں کا خیال نہیں، تو کم از کم اپنی والدہ کا ہی احساس کریں۔ جو ہر شام آپ کی راہ تکتی ہیں۔ سوچیں کہ صرف پانچ، دس منٹ جلدی منزل پر پہنچنے کے لئے کہیں آپ کو ہمیشہ کے لئے دیر نہ ہوجائے“۔
یہ کہہ کر اس نے دروازہ کھولا اور ویگن سے اتر گیا!
”کیوں؟“ ڈرائیور کے لہجے میں حیرت آمیز برہمی تھی۔
ٹھہریئے!
میرے خیال میں ، ابتداء سے یہ قصہ شروع کرتے ہیں۔
وہ شخص شہر کے مرکزی علاقے سے ویگن میں سوار ہوا تھا۔ اس کو آخری سٹاپ تک جانا تھا۔ خوش قسمتی یا بد قسمتی سے، اسے فرنٹ سیٹ مل گئی۔ جینز ، ٹی شرٹ میں ملبوس وہ شخص اپنے ارد گرد سے لا تعلق نظر آتا تھا۔ حرکات و سکنات اور بدن بولی سے وہ اپنے اندر کی دنیا میں گم رہنے والا لگتا تھا جسے دوڑتی بھاگتی، چیختی چلاتی، پرشور، انسانوں سے لبالب بھری دنیا سے کوئی دلچسپی نہ ہو۔
ویگن کے چلتے ہی ڈرائیور کا سگریٹ بھی سلگ اٹھا۔ نصیبو لعل کی آواز بھی مقناطیسی فیتے میں سے انگڑائی لے کر جاگ اٹھی۔ اوسطا ہر تیس سیکنڈ کے بعد پریشر ہارن بھی کانوں میں رس گھولتا رہا۔ ڈرائیور نے بھی شاید سوچ رکھا تھا کہ اپنی مہارت کے سارے گر وہ آج ہی آزمائے گا۔ بسوں، ٹرکوں، رکشوں، گدھا گاڑیوں کو اوور ٹیک کرتا، کسی کو گالی دیتا اور کسی سے گالی سنتا ہوا وہ اپنی منزل کی جانب گامزن رہا۔ کنڈیکٹر کی ”روک کے استاد جی“ کی آواز پر وہ سڑک کے عین درمیان بریک لگاکر مسافر اتارتا، چڑھاتا رہا تھا۔
اس سارے ہنگامے کے باوصف، وہ شخص بالکل پرسکون بیٹھا تھا۔ جیسے وہ کوئی تماشائی ہو اور تھیٹر میںبیٹھا، اداکاروں کی پرفارمنس سے لطف اندوز ہورہا ہو۔ بالآخر منزل آگئی۔ ویگن مسافروں سے خالی ہوگئی۔ لیکن وہ شخص بدستور گاڑی میں بیٹھا رہا۔ ڈرائیور نے سوالیہ نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا۔ اس پر اس شخص نے مندرجہ بالا سوال ڈرائیور سے کیا!
ڈرائیور کی برہمی آمیز ”کیوں“ کے جواب میں وہ یوں گویا ہوا۔
”بھائی صاحب، جب آپ صبح کام پر جانے کے لئے گھر سے نکلتے ہیں تو آپ کی والدہ گھر میں سارا دن آپ کی خیریت اور سلامتی کی دعائیں کرتی ہوں گی کہ میرا بیٹا شام کو خیر خیریت سے گھر کو لوٹ کر آئے۔ اسے اللہ پاک اپنے حفظ وامان میں رکھے۔ سوچیں، اگر خدانخواستہ آپ کو کوئی حادثہ پیش آجاتا ہے، آپ زخمی ہوجاتے ہیں یا اس سے بھی بدتر صورتحال سے دوچار ہوکر جاں بحق ہوجاتے ہیں تو آپ کی والدہ کا کیا حال ہوگا؟ اب آپ اس عورت کے دکھ کا اندازہ کریں جو اپنے بیٹے، بھائی، شوہر کے انتظار میں بیٹھی ہے اور اسے پتہ چلے کہ اس کا انتظار ساری زندگی جاری رہے گا اور اس کا پیارا نہیں آئے گا۔“ وہ سانس لینے کو رکا۔ ڈرائیور کے چہرے کے بدلتے رنگوں سےاندازہ ہورہا تھا کہ بات اس کی سمجھ میں آرہی ہے۔
”تو میرے بھائی!“ وہ پھر گویا ہوا، ”اگر آپ کو کسی مسافر کا یا اس کے گھروالوں کا خیال نہیں، تو کم از کم اپنی والدہ کا ہی احساس کریں۔ جو ہر شام آپ کی راہ تکتی ہیں۔ سوچیں کہ صرف پانچ، دس منٹ جلدی منزل پر پہنچنے کے لئے کہیں آپ کو ہمیشہ کے لئے دیر نہ ہوجائے“۔
یہ کہہ کر اس نے دروازہ کھولا اور ویگن سے اتر گیا!
ٹوٹے
ویگن میں مسافر نکو نک ٹھنسے ہوئے ہیں۔ کنڈیکٹر نے ایک اور مسافر کی جگہ بنانے کے لئے آواز لگائی۔
”ذرا نال نال ہوجاؤ جی“۔ (ذرا سمٹ جائیں)۔
”میں ربڑ دا بنیا واں، جیہڑا ہور نال نوں ہوجاواں“۔ (میں ربڑ کا بنا ہوا ہوں جو اور سمٹ جاؤں)۔
ایک بزرگ نے کنڈیکٹر کو مخاطب کرتے ہوئے جواب دیا۔
==============================================
مغرب کی اذان میں دس منٹ باقی تھے۔ آج وہ ذرا جلدی مسجد میں آگیا تھا۔ مسجد تقریبا خالی تھی۔ دو تین بندے تھے شاید۔ وہ بیٹھا ہی تھا کہ اسے کسی نے مخاطب کیا اور بزبان عربی اسے صلواتیں سنانے لگا کہ مسجد میں آکر سب کو سلام کرتے ہیں، ایسے ہی منہ اٹھا کر نہیں آجاتے۔ مخاطب کرنے والے کے لہجے میں ایک عجیب طرح کی حقارت اور ناپسندیدگی تھی۔ اس نے مسکرا کر سر کو اثبات میں ہلادیا۔
چند ثانیوں بعد اسے پھر وہی آواز سنائی دی۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو وہی صاحب سیل فون پر گفتگو میں مصروف تھے!!!
==============================================
میرا دوست ”خ“ اتنا مایوس ہے کہ مایوسی اسے دیکھ کر بذات خود مایوس ہوجاتی ہے!
==============================================
چست ٹی شرٹس اور جینز میں ملبوس خواتین کو دیکھ کر اتنی ٹھنڈی آہیں بھرنی پڑتی ہیں کہ مینجر آ کر درخواست کرنے لگتا ہے کہ یا تو ٹھنڈی آہیں بند کرو یا پھر میں اے سی بند کرواتاہوں۔ جولائی کے مہینے میں نمونیا ہوجائے گا تو دنیا کیا کہے گی۔۔۔
==============================================
ڈفر اور دارا؟؟ اگر ڈفر ہی ڈفر ہے تو دارا کون ہے؟ اچھا، چلو فرض کرو، ڈفرستان کا باسی ہونے کی وجہ سے دارا بھی ڈفر ہے تو پھر ڈفر بھی ڈفر ہے اور دارا بھی ڈفر ہے تو جیسے ڈفر، دارا ہے تو ڈفر کون ہے؟؟
بس بس بس۔۔۔ خدا کے لئے بس کرو۔۔۔ میرا بھیجہ فرائی ہوگیا ہے۔۔۔۔۔۔
==============================================
اوئے ۔۔ ادھر آ۔۔۔
جی جناب۔۔
اپنی مرغیوں کی فیڈ چیک کرا اوئے ۔۔۔
لیکن جناب میں تو مرغیوں کو خوراک ڈالتا ہی نہیں۔۔۔
اوئے یہ کیا بکواس کررہاہے؟؟ خوراک نہیں ڈالتا تو اتنی بڑی کیسی ہوگئی ہیں؟
سر جی ۔۔۔ میں ان کو دس روپے روز دیتا ہوں۔۔۔ یہ اپنی مرضی سے جو کھانا ہو کھالیتی ہیں!!
”ذرا نال نال ہوجاؤ جی“۔ (ذرا سمٹ جائیں)۔
”میں ربڑ دا بنیا واں، جیہڑا ہور نال نوں ہوجاواں“۔ (میں ربڑ کا بنا ہوا ہوں جو اور سمٹ جاؤں)۔
ایک بزرگ نے کنڈیکٹر کو مخاطب کرتے ہوئے جواب دیا۔
==============================================
مغرب کی اذان میں دس منٹ باقی تھے۔ آج وہ ذرا جلدی مسجد میں آگیا تھا۔ مسجد تقریبا خالی تھی۔ دو تین بندے تھے شاید۔ وہ بیٹھا ہی تھا کہ اسے کسی نے مخاطب کیا اور بزبان عربی اسے صلواتیں سنانے لگا کہ مسجد میں آکر سب کو سلام کرتے ہیں، ایسے ہی منہ اٹھا کر نہیں آجاتے۔ مخاطب کرنے والے کے لہجے میں ایک عجیب طرح کی حقارت اور ناپسندیدگی تھی۔ اس نے مسکرا کر سر کو اثبات میں ہلادیا۔
چند ثانیوں بعد اسے پھر وہی آواز سنائی دی۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو وہی صاحب سیل فون پر گفتگو میں مصروف تھے!!!
==============================================
میرا دوست ”خ“ اتنا مایوس ہے کہ مایوسی اسے دیکھ کر بذات خود مایوس ہوجاتی ہے!
==============================================
چست ٹی شرٹس اور جینز میں ملبوس خواتین کو دیکھ کر اتنی ٹھنڈی آہیں بھرنی پڑتی ہیں کہ مینجر آ کر درخواست کرنے لگتا ہے کہ یا تو ٹھنڈی آہیں بند کرو یا پھر میں اے سی بند کرواتاہوں۔ جولائی کے مہینے میں نمونیا ہوجائے گا تو دنیا کیا کہے گی۔۔۔
==============================================
ڈفر اور دارا؟؟ اگر ڈفر ہی ڈفر ہے تو دارا کون ہے؟ اچھا، چلو فرض کرو، ڈفرستان کا باسی ہونے کی وجہ سے دارا بھی ڈفر ہے تو پھر ڈفر بھی ڈفر ہے اور دارا بھی ڈفر ہے تو جیسے ڈفر، دارا ہے تو ڈفر کون ہے؟؟
بس بس بس۔۔۔ خدا کے لئے بس کرو۔۔۔ میرا بھیجہ فرائی ہوگیا ہے۔۔۔۔۔۔
==============================================
اوئے ۔۔ ادھر آ۔۔۔
جی جناب۔۔
اپنی مرغیوں کی فیڈ چیک کرا اوئے ۔۔۔
لیکن جناب میں تو مرغیوں کو خوراک ڈالتا ہی نہیں۔۔۔
اوئے یہ کیا بکواس کررہاہے؟؟ خوراک نہیں ڈالتا تو اتنی بڑی کیسی ہوگئی ہیں؟
سر جی ۔۔۔ میں ان کو دس روپے روز دیتا ہوں۔۔۔ یہ اپنی مرضی سے جو کھانا ہو کھالیتی ہیں!!
کریلا بینگن شیک
کچھ نامعلوم اور پراسرار وجوہات کی بناء پر آج کل میرا ”اَینٹ“ ترکیبوں پر خوب ”بخا“ ہوا ہے۔ گرمی زوروں پر ہے اور برسات کی آمد ہے لہذا پھوڑے، پھنسیاں اور ”پِت“ (اردو میں جس کو گرمی دانے کہتے ہیں، لیکن یہ لفظ پِت کی ذلالت کو ظاہر نہیں کرسکتا، ویسے بھی گرمی دانےپڑھ کر خیال آتا ہے کہ کیا سردی دانے بھی ہوتے ہیں!) بھی ٹکا کر نکلیں گے۔
تو ہمارا آج کا مشروب نہ صرف ایک ”مفرح“ اور ”خوش ذائقہ“ بلکہ خون کو بھی ”آخری حد تک صاف“ کرنے والا نسخہ ہے۔ اجزاء نوٹ کرلیں۔
1- کریلے (دو عدد)
2- بینگن (پنجابی میں جس کو بتاؤں اور سیالکوٹی میں پٹھے کہتے ہیں)
3- نیم کے پتے (مناسب مقدار میں)
4- گوند کتیرہ (حسب ذائقہ)
5- ہلدی (آدھا پینے کا چمچ)
6- دیسی شکر (دو دانے)
7- پانی (کافی سارا)
نیم کے پتے پانی میں ڈال کر پانی ابال لیں۔ پانی ابل جائے تو اس میں سے پتے چھان کر علیحدہ کرلیں۔ اگر محلے میںکوئی فوتیدگی ہوئی ہے تو پانی وہاں پہنچادیں، میت کو نہلانے کے کام آجائے گا اور آپ کی سماجی خدمت کی بھی دھوم مچ جائے گی جو مستقبل میں کونسلر کا الیکشن لڑنے میں کام آ سکتی ہے۔ نیم کے پتے، کریلے اور بینگن بلینڈر میں بلینڈ کرلیں اور اس میں گرم پانی ڈال کر اچھی طرح ملا لیں۔ پھر اس میں ہلدی، شکر اور گوند کتیرہ ڈالیں اور اچھی طرح ”شیک“ کرلیں۔ برف اگر میسر بھی ہو تو مت ڈالیں ورنہ ”ذائقہ“ خراب ہوجائے گا۔
لیجئے ۔۔۔ ”مزیدار“ کریلا بینگن شیک تیار ہے۔
خاص طور پر ان مہمانوں کو پیش کریں
جو اکثر بلا اطلاع آ دھمکتے ہیں اور پھر جانے کا نام نہیں لیتے۔
انشاءاللہ اسے پینے کے بعد، بلانے پر بھی نہیں آئیں گے!
تو ہمارا آج کا مشروب نہ صرف ایک ”مفرح“ اور ”خوش ذائقہ“ بلکہ خون کو بھی ”آخری حد تک صاف“ کرنے والا نسخہ ہے۔ اجزاء نوٹ کرلیں۔
1- کریلے (دو عدد)
2- بینگن (پنجابی میں جس کو بتاؤں اور سیالکوٹی میں پٹھے کہتے ہیں)
3- نیم کے پتے (مناسب مقدار میں)
4- گوند کتیرہ (حسب ذائقہ)
5- ہلدی (آدھا پینے کا چمچ)
6- دیسی شکر (دو دانے)
7- پانی (کافی سارا)
نیم کے پتے پانی میں ڈال کر پانی ابال لیں۔ پانی ابل جائے تو اس میں سے پتے چھان کر علیحدہ کرلیں۔ اگر محلے میںکوئی فوتیدگی ہوئی ہے تو پانی وہاں پہنچادیں، میت کو نہلانے کے کام آجائے گا اور آپ کی سماجی خدمت کی بھی دھوم مچ جائے گی جو مستقبل میں کونسلر کا الیکشن لڑنے میں کام آ سکتی ہے۔ نیم کے پتے، کریلے اور بینگن بلینڈر میں بلینڈ کرلیں اور اس میں گرم پانی ڈال کر اچھی طرح ملا لیں۔ پھر اس میں ہلدی، شکر اور گوند کتیرہ ڈالیں اور اچھی طرح ”شیک“ کرلیں۔ برف اگر میسر بھی ہو تو مت ڈالیں ورنہ ”ذائقہ“ خراب ہوجائے گا۔
لیجئے ۔۔۔ ”مزیدار“ کریلا بینگن شیک تیار ہے۔
خاص طور پر ان مہمانوں کو پیش کریں
جو اکثر بلا اطلاع آ دھمکتے ہیں اور پھر جانے کا نام نہیں لیتے۔
انشاءاللہ اسے پینے کے بعد، بلانے پر بھی نہیں آئیں گے!
گانے شانے۔۔۔
میرے کچھ پسندیدہ گانوں، غزلوں اور قوالیوں کا انتخاب ۔۔۔
ایک ہی نشست میں سننے سے گریز کریں۔۔۔
گرم سرد ہونے کا اندیشہ ہے۔۔۔
یہ جو چلمن ہے ۔۔۔ دشمن ہے ہماری - محمد رفیع
چمکتے چاند کو ٹوٹا ہوا تارہ بنا ڈالا - غلام علی
کچھ اس طرح - عاطف اسلم
تیرے بن - عاطف اسلم
شعلہ تھا جل بجھا ہوں - مہدی حسن
تملّی معاک - عمرو دیاب
Don Omer - Dale Don Dale
نیناں ٹھگ لیں گے - راحت فتح علیخان
Enrique Iglesius - Bailamos
جب دل ہی ٹوٹ گیا - کے ایل سہگل
چنگا بنایا ای سانوں کھڈونا - نورجہاں
کہو اک دن - احمد جہانزیب
اے اجنبی - ادت نرائن (دل سے)
Sade - And I miss you
پھونک دے - کویتا (نو سموکنگ)
Lionel Richie - Hello
چپکے سے - سادھنا سرگم (ساتھیا)
اک پھل موتیے دا مار کے - منصور ملنگی
تنہائی - سونو نگم (دل چاہتا ہے)
کبھی کبھی آدیتی - راشد علی (جانے تو یا جانے نہ)
Enrique Iglesius & Whitney Housten - Kiss forever
آنکھوں میں رہو - سومیا (کمپنی)
توسے نیناں لاگے - شلپا راؤ (انور)
جائیں تو جائیں کہاں - طلعت محمود (ٹیکسی ڈرائیور)
نیندر نئیں آؤندی - سجاد علی
The Sopranos soundtrack - Leonard Cohen - woke up this morning
میں روواں تینوں یاد کرکے - نصرت فتح علی خان
کتھے عشق دا روگ نہ لا بیٹھیں - نصرت فتح علی خان
تم اک گورکھ دھندہ ہو - نصرت فتح علی خان
میرے دل دے شیشے وچ سجناں - نور جہاں
مینڈا عشق وی توں - پٹھانے خان
سن چرخے دی مٹھی مٹھی گھوک - نصرت فتح علی خان
اللہ ہو اللہ - سائیں ظہور (خدا کے لئے)
آجا صنم - مناڈے / لتا منگیشکر (چوری چوری)
یارا سیلی سیلی - لتا منگیشکر (لیکن)
ساگر جیسی آنکھوں والی - کشور کمار (ساگر)
تیری یاد - جَل
دیوانہ - علی عظمت
مائے نی میں کنوں آکھاں - حامد علی بیلا
پانی پانی رے - لتا منگیشکر (ماچس)
لائی وی نہ گئی - سکھویندر سنگھ (چلتے چلتے)
سوگیا یہ جہاں - نتن مکیش (تیزاب)
پپو کانٹ ڈانس - بینی دیال (جانے تو یا جانے نہ)
سپنوں سے بھرے نیناں - شنکر مہا دیون (لک بائی چانس)
عاشقاں توں سوہنا مکھڑا لکان لئی - عنایت حسین بھٹی
انشاء جی اٹھو - امانت علی خان
یہ جو محبت ہے - کشور کمار
کلّی کلّی جان دکھ لکھ تے کروڑ وے - نور جہاں
بھیگی بھیگی جادو بھری - سجاتا تریویدی (تکشک)
یہ فہرست، درجہ بندی کے لحاظ سے نہیں ۔۔۔ یادداشت کے حساب سے ہے۔۔۔۔
ہومیوپیتھک قسم کی تحریر ہے! اس کااگر کوئی نقصان نہیں تو فائدہ بھی نہیں۔۔۔
اس لئے اس میں مقصد تلاش کرنا بھوسے میں سے سوئی تلاشنا ہے۔۔۔
یاروں کی پسند
تیری صورت - عزیز میاں
اس فہرست میںسے اپنی پسند کے پانچ گانے منتخب کیجئے۔۔۔
مصنف کی درجہ بندی کے مطابق ہونے پر آپ کی لاٹری بھی لگ سکتی ہے ۔۔۔
جناب بدتمیز کی فرمائش پر لنکس بھی پیش خدمت ہیں۔۔۔ عذاب جاریہ کے لئے
ایک ہی نشست میں سننے سے گریز کریں۔۔۔
گرم سرد ہونے کا اندیشہ ہے۔۔۔
یہ جو چلمن ہے ۔۔۔ دشمن ہے ہماری - محمد رفیع
چمکتے چاند کو ٹوٹا ہوا تارہ بنا ڈالا - غلام علی
کچھ اس طرح - عاطف اسلم
تیرے بن - عاطف اسلم
شعلہ تھا جل بجھا ہوں - مہدی حسن
تملّی معاک - عمرو دیاب
Don Omer - Dale Don Dale
نیناں ٹھگ لیں گے - راحت فتح علیخان
Enrique Iglesius - Bailamos
جب دل ہی ٹوٹ گیا - کے ایل سہگل
چنگا بنایا ای سانوں کھڈونا - نورجہاں
کہو اک دن - احمد جہانزیب
اے اجنبی - ادت نرائن (دل سے)
Sade - And I miss you
پھونک دے - کویتا (نو سموکنگ)
Lionel Richie - Hello
چپکے سے - سادھنا سرگم (ساتھیا)
اک پھل موتیے دا مار کے - منصور ملنگی
تنہائی - سونو نگم (دل چاہتا ہے)
کبھی کبھی آدیتی - راشد علی (جانے تو یا جانے نہ)
Enrique Iglesius & Whitney Housten - Kiss forever
آنکھوں میں رہو - سومیا (کمپنی)
توسے نیناں لاگے - شلپا راؤ (انور)
جائیں تو جائیں کہاں - طلعت محمود (ٹیکسی ڈرائیور)
نیندر نئیں آؤندی - سجاد علی
The Sopranos soundtrack - Leonard Cohen - woke up this morning
میں روواں تینوں یاد کرکے - نصرت فتح علی خان
کتھے عشق دا روگ نہ لا بیٹھیں - نصرت فتح علی خان
تم اک گورکھ دھندہ ہو - نصرت فتح علی خان
میرے دل دے شیشے وچ سجناں - نور جہاں
مینڈا عشق وی توں - پٹھانے خان
سن چرخے دی مٹھی مٹھی گھوک - نصرت فتح علی خان
اللہ ہو اللہ - سائیں ظہور (خدا کے لئے)
آجا صنم - مناڈے / لتا منگیشکر (چوری چوری)
یارا سیلی سیلی - لتا منگیشکر (لیکن)
ساگر جیسی آنکھوں والی - کشور کمار (ساگر)
تیری یاد - جَل
دیوانہ - علی عظمت
مائے نی میں کنوں آکھاں - حامد علی بیلا
پانی پانی رے - لتا منگیشکر (ماچس)
لائی وی نہ گئی - سکھویندر سنگھ (چلتے چلتے)
سوگیا یہ جہاں - نتن مکیش (تیزاب)
پپو کانٹ ڈانس - بینی دیال (جانے تو یا جانے نہ)
سپنوں سے بھرے نیناں - شنکر مہا دیون (لک بائی چانس)
عاشقاں توں سوہنا مکھڑا لکان لئی - عنایت حسین بھٹی
انشاء جی اٹھو - امانت علی خان
یہ جو محبت ہے - کشور کمار
کلّی کلّی جان دکھ لکھ تے کروڑ وے - نور جہاں
بھیگی بھیگی جادو بھری - سجاتا تریویدی (تکشک)
یہ فہرست، درجہ بندی کے لحاظ سے نہیں ۔۔۔ یادداشت کے حساب سے ہے۔۔۔۔
ہومیوپیتھک قسم کی تحریر ہے! اس کااگر کوئی نقصان نہیں تو فائدہ بھی نہیں۔۔۔
اس لئے اس میں مقصد تلاش کرنا بھوسے میں سے سوئی تلاشنا ہے۔۔۔
یاروں کی پسند
تیری صورت - عزیز میاں
اس فہرست میںسے اپنی پسند کے پانچ گانے منتخب کیجئے۔۔۔
مصنف کی درجہ بندی کے مطابق ہونے پر آپ کی لاٹری بھی لگ سکتی ہے ۔۔۔
جناب بدتمیز کی فرمائش پر لنکس بھی پیش خدمت ہیں۔۔۔ عذاب جاریہ کے لئے
بمباسٹک زردہ
نہیں ۔۔ نہیں۔۔۔ کوئی بم شم کاچکر نہیں، زردے کی ترکیب ہے۔ ایسے فلمی اشتہاروں سے متاثر ہوکر بمباسٹک لکھ دیا ہے، جو اکثر مصروف شاہراہوں پر ہورڈنگز کی شکل میں لگے رہتے ہیں اور ہر آنے جانے والے کی برداشت اور ہمت کا امتحان لیتے ہیں جیسے مثال کے طور پر ”بمباسٹک حسینہ عرف کنگفو کی واپسی“ ہمراہ گرما گرم سائیڈ پروگرام۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ اوہو یہ میں کدھر نکل گیا۔۔
چلیں چھوڑیں اسے اور شروع کریں آج کی ترکیب۔۔۔۔۔
ایک بڑا پتیلہ پانی سے بھر کر تیز آنچ پر رکھ دیں۔ ایک آدھ گھنٹہ پڑا رہنے دیں۔ پانی خشک ہونے پر دوبارہ بھردیں اور یہ عمل تین دفعہ دھرائیں۔ اس سے دو فائدے ہوں گے ایک تو آپ کا پتیلہ اچھی طرح صاف ہوجائے گا، دوسرا، اس مہینے گیس کا بل دیتے ہوئے آپ کو زیادہ تکلیف نہیںہوگی کہ گیس کم استعمال کرنے پر بھی بل تو پورا ہی آتا ہے لہذا استعمال کرکے بل دینے پر قلبی اطمینان اور روحانی سکون حاصل ہوگا۔
اب ایسا کریں کہ زردے کی ترکیب تو مجھے معلوم نہیں تو اگر آپ کو علم ہے تو اسی طریقے سے پکا لیں اور اگر آپ بھی میری ہی طرح ”یملے“ ہیں تو پھر چاول، چینی، الائچیاں، گھی، پانی ، زرد رنگ سب پتیلے میں ڈال کر ہلکی آنچ پر رکھ دیں۔ جب پانی خشک ہوجائے تو امید ہے کہ زردہ پک گیا ہوگا۔
اب یہاں سے سادہ زردہ، بمباسٹک زردہ بنے گا!!
دم دینے سے پہلے اس میں بیر، فالسہ، گنڈیریاں، ملوک، شہتوت، آلو بخارا (تازہ) ملادیں اور دم دے دیں (زردے کو!)۔
ہر تیس سیکنڈ کے بعد ڈھکنا کھول کر دیکھیں کہ دم آگیا ہے یا نہیں۔ جب زردہ تیار ہوجائے تو اس پر ٹماٹو کیچپ کی دو بڑی بوتلیں انڈیلیں اور چاٹ مصالحہ بھی حسب ذائقہ چھڑک لیں۔
لیجئے۔۔۔ مزیدار بمباسٹک زردہ تیار ہے!
شادیوں پر پکانے سے گریز کریں۔
شادی کے بعد البتہ اپنی ساس اور جملہ سسرالیوں کو کھلانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
چلیں چھوڑیں اسے اور شروع کریں آج کی ترکیب۔۔۔۔۔
ایک بڑا پتیلہ پانی سے بھر کر تیز آنچ پر رکھ دیں۔ ایک آدھ گھنٹہ پڑا رہنے دیں۔ پانی خشک ہونے پر دوبارہ بھردیں اور یہ عمل تین دفعہ دھرائیں۔ اس سے دو فائدے ہوں گے ایک تو آپ کا پتیلہ اچھی طرح صاف ہوجائے گا، دوسرا، اس مہینے گیس کا بل دیتے ہوئے آپ کو زیادہ تکلیف نہیںہوگی کہ گیس کم استعمال کرنے پر بھی بل تو پورا ہی آتا ہے لہذا استعمال کرکے بل دینے پر قلبی اطمینان اور روحانی سکون حاصل ہوگا۔
اب ایسا کریں کہ زردے کی ترکیب تو مجھے معلوم نہیں تو اگر آپ کو علم ہے تو اسی طریقے سے پکا لیں اور اگر آپ بھی میری ہی طرح ”یملے“ ہیں تو پھر چاول، چینی، الائچیاں، گھی، پانی ، زرد رنگ سب پتیلے میں ڈال کر ہلکی آنچ پر رکھ دیں۔ جب پانی خشک ہوجائے تو امید ہے کہ زردہ پک گیا ہوگا۔
اب یہاں سے سادہ زردہ، بمباسٹک زردہ بنے گا!!
دم دینے سے پہلے اس میں بیر، فالسہ، گنڈیریاں، ملوک، شہتوت، آلو بخارا (تازہ) ملادیں اور دم دے دیں (زردے کو!)۔
ہر تیس سیکنڈ کے بعد ڈھکنا کھول کر دیکھیں کہ دم آگیا ہے یا نہیں۔ جب زردہ تیار ہوجائے تو اس پر ٹماٹو کیچپ کی دو بڑی بوتلیں انڈیلیں اور چاٹ مصالحہ بھی حسب ذائقہ چھڑک لیں۔
لیجئے۔۔۔ مزیدار بمباسٹک زردہ تیار ہے!
شادیوں پر پکانے سے گریز کریں۔
شادی کے بعد البتہ اپنی ساس اور جملہ سسرالیوں کو کھلانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
عمر دا اصل حصہ
ملدا کیہہ اے ایس دنیا وچ
رُت ایک نویں جوانی دی
ہوکے بھرن دی پیار کرن دی
اکھّاں دی نادانی دی
باقی عمر تے بس فیر ایویں
نسدیاں بھجدیاں لنگھدی اے
دور دراز دیاں سوچاں اندر
روندیاں ہسدیاں لنگھدی اے
بھُلدے جاندے خواباں دے
عکساں نوں لبھدیاں لنگھدی اے
رُت ایک نویں جوانی دی
ہوکے بھرن دی پیار کرن دی
اکھّاں دی نادانی دی
باقی عمر تے بس فیر ایویں
نسدیاں بھجدیاں لنگھدی اے
دور دراز دیاں سوچاں اندر
روندیاں ہسدیاں لنگھدی اے
بھُلدے جاندے خواباں دے
عکساں نوں لبھدیاں لنگھدی اے
منیر نیازی
ایک اور شعیب اختر ۔۔۔
ایک شعیب اختر سے جان چھوٹی ہے تو دوسرا اس کی جگہ سنبھالنے آگیا ہے۔۔۔
اور اس کی پسند کی بھی داد دینے کو جی چاہتا ہے۔۔۔
چھتر لاء لئے بندہ۔۔۔۔
