مزید خیالات پریشاں

زرداری اے۔ فراڈ اے۔ کرمنل بی اے۔

میں اوں، ولی اللہ اوں۔ قطب اوں؛ ابدال بی اوں۔ خدمت اے، کی اے۔ پاکستانی ایں، احسان فراموش ایں۔ باوے قید یازم کے بعد ایک ای لیڈر اے؛ وہ میں اوں۔ بلکہ باوا بی کوئی اتنا بڑا لیڈر نئیں اے؛ جو بی اے میں ای اوں! زرداری اے۔ لٹیرا اے۔ قومی خزانہ اے، لوٹ لیا اے۔ میں اوں؛ ایماندار اوں۔ پنشن اے۔ ملتی اے۔ بیٹا اے۔ بڑا لیق اے۔ پیسہ اے۔ کماتا اے۔ مجے بی دیتا اے۔ مزا آتااے۔

مجے امریکہ  کا ایک کالا کل ملا اے؛ کہتا اے کہ اگر میرا جیسا لیڈر ان کے ملک میں ہوتا تو ہم اس کا زندہ مجسمہ بنا دیتے! میں نے اس سے پوچھا اے۔ زندہ مجسمہ کیسے بنتا اے۔ اس نے بتایا اے کہ کنکریٹ مکسر میں ڈال کے ایک منٹ اس کو چلانا اے پھر لیڈر باہر نکال کر سکھا لینا اے۔ ایسے بنتا اے۔ میں نے بہوت سوچا اے لیکن سمجھ نئیں آئی اے!

آپ سبوں کو پتہ ہونا چائیے! میرے مرنے کے بعد باوے قید یازم کے مزار میں میری قور (قبر) ہونی چائیے۔ باوے کو نکال کر کھارادر میں بی دفنا دیں تو مشکل نئیں اے۔ اصل باوائے قوم تو میں اوں۔ باوے کی تو ایویں ہوا بنی ہوئی اے! پھر ہر سال میرے عرس پر شہزاد رائے کی قوالی اونی چائیے؛ جس پر رانی مکر جی کو دھمال بی ڈالنی چائیے! بلیک لیبل اور تکے کبابوں کا لنگر اونا چائیے۔ عرس کی سیریمونی کے آخر میں شکیرا کا کنسرٹ اونا چائیے؛ اس کے بعد میرے ایصال ثواب کے لئے عائشہ ثنا سے اجتماعی دعا کرانی چائیے!

پی ٹی وی کے خبرنامے سے پیلے جو "باوائےقوم نے فرمایا" آتا اے؛ اس میں میرے "گولڈن کوٹس" ہونے چائیں۔ مثلاً دوباتیں ایں، ایک تو میری ڈگنیٹی اے، دوسری پاکستان (سب سے پیلے پاکستان والا) کی ملک کی، ترقی اے۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ اور یہ ہونے بی میری آواز میں چائییں۔ میں آٹھ سالوں میں اتنا بولا اوں کہ اگلے دس ہزار سال تک بی یہ گولڈن کوٹس کھتم نئیں ہوں گے۔

پر مجے مالوم اے۔ ایسا نئیں ہوگا۔ یہ قوم نئیں اے؛ جانور ایں۔ اسی لئے میرے جیسا گریٹ لیڈر ملک سے باہر اے۔ ووٹ ایں۔ گنجے کو دئیے ایں، زرداری کو بی دئیے ایں۔

اور مجے صرف آرٹیکل سکس کے ڈراوے دئیے ایں!

نسوار بھرے پراٹھے

میں آج کل اگرچہ جنت میں ہوں کہ جنت میں ملنے والی نعمتیں جو ہمیں آج تک بتائی گئی ہیں، میں کم و بیش ان سے متمتع (واہ ! کیا لفظ استعمال کیا ہے) ہورہاہوں۔ لیکن میں اپنے دوستوں کو بھولا نہیں۔ اسی سلسلے میں یہ تازہ ترکیب آپ کے "اعلی" ذوق کی تسکین کے لئے پیش خدمت ہے!

ہوسکتا ہے کچھ حاسدین اس ترکیب میں سے تعصب اور نسلی و لسانی منافرت  برآمد کرنے کی کوشش کریں، لیکن میرا خدا جانتا ہے کہ میں بہت نیک، پرہیز گار، غیر متعصب، قومی یکجہتی پر یقین رکھنے والا نہایت ہی عمدہ انسان ہوں! اس لئے ایسے لوگوں کے کہے پر کان نہ دھریں اور اجزاء نوٹ کرکے عنداللہ ماجور ہوں۔

اجزاء مندرجہ ذیل ہیں:

1-  اعلی قسم کی نسوار

2-  سبز مرچ (کافی ساری)

3-  کالی مرچ (5 چمچے۔۔۔جی ہاں! وہی چمچے)

4-  نمک (بالکل نہیں!)

5-  بھنگ کے تازہ پتے

6-  موبل آئل (اگر میسر نہ ہو تو کھانے کے تیل سے بھی کام چل جائے گا کہ زیادہ فرق تو ہوتا نہیں دونوں میں!)

7-  اور ہاں! آٹا (کہ اس کے بغیر پراٹھا کیسے بنے گا۔۔۔ ہیں جی!)

فرائنگ پین میں تھوڑا سا موبل آئل ڈال کر گرم کرلیں۔ پھر اس میں نسوار ملا کر اچھی طرح بھون لیں۔ سبز مرچیں باریک کاٹ کر ملالیں۔ نسوار اچھی طرح بھوننے کے بعد چولہے سے اتار لیں۔ اگلا مرحلہ نہایت اہم ہے۔ یہ ہے آٹا گوندھنے کا۔ امید ہے کہ آپ کو آٹا گوندھنا نہیں آتا ہوگا، مجھے بھی نہیں آتا! یہ تو بڑا مسئلہ ہوگیا، اب کیا کریں؟ ایک حل تو اس سمسیا کا یہ ہےکہ آپ کسی نزدیکی تندور پر جائیں اور خشک آٹا دے کر گوندھا ہوا آٹا لے آئیں یا پھر کسی ہمسائے کا منت ترلہ کرکے اس سے آٹا گوندھوا لیں۔ بہرحال یہ آپ کا سردرد ہے۔ میں آپ کو آٹا گوندھنے کی ترکیب بتانے کا مکلف نہیں! الجبرے کی طرح فرض کرلیں کہ آٹا گوندھا ہوا ہے۔ اب پیڑے بنا کر ان کے درمیان بھنی ہوئی نسوار برابر پھیلادیں اور پیڑے کو بیلنے سے پہلے فی پراٹھا ایک چمچہ کالی مرچ کا ملانا نہ بھولیں! پراٹھے تیار کرنے کے بعد بھنگ کے تازہ پتے بلینڈر میں ڈال کر بلینڈ کرلیں اور اسے حقے کے پانی میں ملا کر "مزیدار چٹنی" تیار کرلیں۔

گرماگرم نسوار ملے پراٹھوں کو بھنگ کی چٹنی کے ساتھ پیش کریں۔ زندگی کا لطف آجائے گا!!!

بی سی جیلانی کی ڈائری کا ایک ورق

صبح جلدی اٹھنا پڑا۔ رات ناروے کے قومی دن کی پارٹی میں ناں ناں کرتے بھی پانچ چھ لگاگیاتھا۔ صبح سر درد کے مارے پھوڑا بنا ہوا تھا، اٹھتے ہی بلیک کافی سے دو اسپرین نگلنی پڑیں۔ دس بجے ہالیڈے ان میں "چائلڈ لیبر اور انسانی حقوق کی تقدیس" پر ایک سیمینار تھا۔ جس کے مہمان خصوصی کیچوؤں کے تحفظ کی وزارت پر نئے آنے والے وزیر محترم تھے۔ مجھے اپنی این جی او "آؤ سبق سکھائیں" کی نمائندگی کرنا تھی اور پیپر بھی پڑھنا تھا۔ دیو ہیکل امریکی قونصل جنرل اس تقریب کی صدارت کرنے والے تھے، لہاذا میرا وقت سے پہلے پہنچنا ازحد ضروری تھا!

فیکے کو ہزار دفعہ سمجھایا ہے کہ جوتے رات کو ہی پالش کرکے رکھا کرو، آٹھ سال کا پلا پلایا سانڈ بن چکا ہے لیکن کام کرتے ہوئے موت پڑتی ہے۔ جبکہ اس کی ماں روز آکر اس کی تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ کرتی ہے۔ ان غریبوں نے بھی ناک میں دم کرکے رکھا ہوا ہے۔ ادھر بشیر بھی ہر روز گاڑی سٹارٹ کرنے سے پہلے دو ہزار ایڈوانس مانگنا نہیں بھولتا۔ اس کی ماں بیمار ہے تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟ میں تو اسے تنخواہ وقت پر دیتا ہوں۔ میں نے کیا ساری دنیا کا ٹھیکا لیا ہوا ہے؟

آج گھر میں ایک نیا چہرہ دیکھ کر میں دل پکڑ کر رہ گیا۔ کل ماسی حنیفاں بیمار تھی اور چھٹی مانگ رہی تھی لیکن مسز جیلانی نے کہا کہ اگر چھٹی کی تو پھر پکی چھٹی کرادوں گی، شاید اسی لئے آج اس نے اپنی بیٹی کو کام پر بھیجا تھا۔ کیا مال ہے!! میں تو سوچ رہا ہوں کہ آئندہ حقوق نسواں والی واک میں اس کو "پھٹے پرانے" کپڑے پہنوا کر اس کی تصویر بنواؤں اور اس کا پوسٹر بنے گا تو بہہ جا بہہ جا ہو جائے گی۔ یہ لڑکی میرے بڑے بڑے پھنسے ہوئے کام نکلوا سکتی ہے۔ ماسی کو دس ہزار بھی دے دیا تو وہ خوش ہوجائے گی!

ڈھائی بجے سیمینار سے فارغ ہوکر گالف کلب گیا۔ کلب کے مینیجر نےفون کیا تھا کہ ایس اے فاروقی آئے ہوئے ہیں، پچھلے تین سیمینارز کے بل پھنسے ہوئے تھے۔ ایس اے فاروقی سے مل کر گزارش کی کہ حضور ۳۰ فیصد کافی سے زیادہ ہے، آدھا آپ کو دے دیں گے تو خود گنجی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا!

گرانٹ ملے بھی ایک مہینہ ہوگیاہے۔ پچھلی گرانٹ تو ساری ڈیفنس والے بنگلے کی انٹیرئیر ڈیکوریشن میں لگ گئی تھی۔ اب کیری لوگر بل سے میری بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔سننے میں آیا ہے کہ یہ گرانٹ این جی اوز کے ذریعے خرچ ہوگی۔ بس وارے نیارے ہوجائیں گے۔ پتہ نہیں کون بے غیرت لوگ غیرت غیرت کا شور مچا کر ہمارا چھابہ الٹانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان پر اللہ کی مار ہو!

آج شام کو جلدی گھر واپس آگیا، مسز جیلانی ایک کاک ٹیل پارٹی پر جانے کی تیاری کررہی تھیں، انہوں نے مجھے ساتھ چلنے کے لئے نہیں کہا، میں بھی یہی چاہتا تھا۔

ماسی حنیفاں کی بیٹی ابھی واپس نہیں گئی تھی!!!!!

سپیمی سازش

عالم اسلام کے عظیم لکھاری (مابدولت) کے خلاف اگرچہ پہلے بھی یہود و ہنود بہت سی ناکام سازشیں کرکے منہ کی کھا چکے ہیں، لیکن میں "کھٹکتا ہوں دل یزداں میں کانٹے کی طرح"، لہاذا ان کی تازہ ترین سازش میری کردار کشی کی وہ کوشش ہے، جو وہ مجھے "بدنام زمانہ ادویات" خریدنے پر مائل کرکے، کر رہے ہیں۔

چند ایک تحاریر سے شاید ان دشمنان ملت نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ مابدولت بھی رنگیلے (فلمسٹار نہیں!) واقع ہوئے ہیں! حاشا و کلا ایسی کوئی بات نہیں۔ نہ تو میری شکل رنگیلے سے ملتی ہے اور نہ ہی میری طبیعت رنگیلی ہے! مشروبات میں سادہ پانی میرا من بھاتا مشروب ہے۔ منورنجن کے نام پر میں صرف گانے سنتا ہوں، وہ بھی آئی ٹیونز پر۔ زندہ ناچ گانے کا نہ تو شوق ہے نہ اوقات! لیکن دل کا کیا کریں؟ اگر کسی پر آجائے تو کیا گھٹ گھٹ کے مرجائیں اور اظہار بھی نہ کریں، بقول رونا لیلی "مجبور ہیں اف اللہ! کچھ کہہ بھی نہیں سکتے" اور اگر کہہ ہی دیں تو ان بدخواہوں کے دل میں لڈو پھوٹنے لگتے ہیں کہ یہ بندہ تو "دو نمبر" ہے! لہاذا وہ مابدولت کو بدنام کرنے لئے ایسی ادویات بیچنے کی کوشش پچھلے دو ماہ سے کررہے ہیں جو یا تو ہوس پرست خریدیں گے یا "پوشیدہ" بیماریوں میں مبتلا افراد اور دونوں صورتوں میں ہماری ساکھ انتہائی مجروح ہونے کا اندیشہ حقیقی ہے!

پہلی صورت میں محبوبان خوش ادا ہم سے بدظن ہوسکتے ہیں اور دوسری صورت میں مایوس! یہ دونوں آپشن ہمیں قبول نہیں۔ فرض کریں اگر خدانخواستہ ایسی صورت حال پیدا ہو بھی جائے تو ہمارے تین چار ذاتی دوست ہیں جو حکمت میں درک رکھتے ہیں اور رازداری کی ضمانت بھی دیتے ہیں! طب یونانی میں ضمنی اثرات بھی نہ ہونے کےبرابر ہوتے ہیں جبکہ ہمارے ان سازشی دوستوں کی ادویات کے ضمنی اثرات اظہر من الشمس ہیں!

تو ہم آخری بار اپنے ان سازشی دوستوں کو خبردار کرتے ہیں کہ ہمیں تنگ کرنا بند کردیں ورنہ ۔۔۔۔۔ ہم ایسے ہی روزانہ اپنے ڈیش بورڈ پر آدھا گھنٹہ صرف کرکے ان کے تبصرے ڈیلٹتے رہیں گے!!!!

منیر نیازی ۔ دو پنجابی نظمیں

میری عادت


تھاہ لے کے ای واپس مڑیا جدّھر دا رخ کیتا میں

زہر سی یا اوہ امرت سی سب انت تے جاکے پیتا میں

مینوں جیہڑی دھن لگ جاندی فیر نہ اوس توں ہٹدا میں

راتاں وچ وی سفر اے مینوں دن وی ٹردیاں کٹدا میں

کدے نہ رک کے کنڈے کڈّھے زخم کدے نہ سیتا میں

کدے نہ پچھّے مڑ کے تکیا کوچ جدوں وی کیتا میں
چار چپ چیزاں

بربر جنگل دشت سمندر سوچاں وچ پہاڑ

جیہڑے شہر دے کول ایہہ ہوون اوس نوں دین بگاڑ

اندروں پاگل کردیندی اے ایہناں دی گرم ہواڑ

ایہناں دے نیڑے رہن لئی بڑی ہمت اے درکار

ایہناں دی چپ دی ہیبت دا کوئی جھل نہ سکدا بھار

انٹر نیٹ-عمرو عیار کی زنبیل

بچپن میں کہانیاں سننے کا زیادہ شوق نہیں تھا، البتہ پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ آٹھ آنے والی کہانیاں بہت پڑھیں، جن میں شہزادی اور دیو والی کہانیوں کے علاوہ عمرو عیار کی کہانیاں بہت اچھی لگتی تھیں۔ دل چاہتا تھا کہ میرے پاس بھی کوئی ایسی زنبیل ہو جس میں‌ ہاتھ ڈال کر جو چاہوں نکال لوں! بچپن میں تو یہ خواہش پوری نہیں ہوئی، لیکن اب ہوچکی ہے، انٹر نیٹ کی صورت میں!
میرا پاکستان والے افضل صاحب نے ٹیگ کا سلسلہ شروع کیا تھا ایک دو دن پہلے، مجھے راشد کامران نے ٹیگ کیا ہے، لیجئے حاضر ہیں جوابات!
انٹرنیٹ پر آپ روزانہ کتنا وقت صرف کرتے ہیں؟
میرے کام کی نوعیت ایسی ہے کہ انٹرنیٹ پر تقریبا آٹھ سے نو گھنٹے صرف ہوجاتے ہیں۔
انٹرنیٹ آپ کے رہن سہن میں کیا تبدیلی لایا ہے؟
انگلش کے کسی لفظ پر پھنس جاتا تھا تو ڈکشنری پاس نہ ہونے کی صورت میں بال نوچنے کو جی چاہتا تھا۔
اخبار پڑھنے کی لت تھی۔ روزانہ پبلک لائبریری میں دو سے تین گھنٹے صرف کرتا تھا۔
میوزک کا شوق تھا (اب بھی ہے) جو فارغ وقت کے انتظار میں تشنہ رہتا تھا۔
فکشن کا رسیا تھا، خاص طور پر روسی ادباء کو پڑھنا چاہتا تھا، لیکن یہ پتہ نہیں تھا کہ ان کی کتابیں کہاں سے حاصل کروں؟
اب یہ سب اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ایک جگہ پر بیٹھے ہوئے ہوسکتاہے۔ اس سے بڑی تبدیلی اور کیا ہوگی۔۔
کیا انٹرنیٹ نے آپ کی سوشل یا فیملی لائف کو متاثر کیا ہے اور کس طرح؟
فیملی لائف تو ملک چھوڑنے کے ساتھ ہی متاثر ہوگئی تھی، انٹرنیٹ کا اس میں‌کوئی قصور نہیں۔ سوشل لائف میں تو بہت بہتری آئی ہے۔ آن لائن کمیونٹی کی صورت میں اتنے اچھے اور پیارے لوگ ملے ہیں کہ بس کچھ نہ پوچھیں!
اس علت سے جان چھڑانے کی کبھی کوشش کی اور کیسے؟
میں اسے علت سمجھتا ہی نہیں‌ تو جان کیوں چھڑاؤں گا۔۔۔ ہیں جی۔۔۔ علت تو میری صرف ایک ہے، زبان پھسلنے کی، اس سے جان نہیں‌چھوٹتی!
کیا انٹرنیٹ آپ کی آؤٹ ڈور کھیلوں میں رکاوٹ بن چکا ہے؟
بالکل نہیں۔۔۔ میں معمول کے مطابق ورزش کرتا ہوں، انٹر نیٹ مجھے بالکل نہیں روکتا۔ ویسے بھی جی تقریبا نو گھنٹے مانیٹر کے سامنے گزارنے کے بعد میرا کمپیوٹر کی شکل دیکھنے کو دل ہی نہیں‌کرتا۔
اور میں ٹیگ کرتا ہوں اب
عمر احمد بنگش ، نازیہ، اسیداللہ، منیر عباسی اور ڈفر اعظم کو

اوبامہ کے نام ”بند“ خط

عالی مقام جناب السید بارک حسین اوبامہ مدظلہ العالی سلمہ

ہاؤڈی!

امید ہے آپ بخیر ہوں گے اور ہماری خیریت بارے منصوبے بنانے میں زوروشور سے مصروف ہوں گے! سب سے پہلے آپ کو "نوبل پیس پرائز" ملنے پر دل کی اونچائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ "پیسنے" میں جو مہارت آپ نے اپنے ابتدائی صدارتی ایام میں دکھائی ہے، وہ قابل صد تحسین ہے۔ اللہ کرے زور "پیس" اور زیادہ۔۔۔

آمدم برسر مطلب۔۔ اس نامے کا مقصد آپ کی توجہ ایک انتہائی اہم معاملے کی طرف مبذول کرانا ہے۔ جیسا کہ ساری دنیا جانتی ہے کہ اس ملک خداداد موسوم بہ پاکستان پر ہمیشہ سے عظیم ریاست ہائے متحدہ کی بالواسطہ حکومت رہی ہے جو وہ اپنے قابل اعتماد لوگوں کے ذریعے چلاتا رہا ہے۔ لیکن حضور والا! آپ کے لوگوں نے پاکستان کے عوام پر بہت ظلم ڈھائے ہیں اور ڈھا رہے ہیں۔ ہمیں یقین کامل ہے کہ اس ظلم کو آپ کی حمایت حاصل نہیں۔ اور وہ یہ کام آپ والا تبار سے بالا بالا ہی کرتے آرہے ہیں۔ آپ بھی چند "ناگزیر وجوہات" کی بناء پر ان سے چشم پوشی کا رویہ اختیار کرتے رہے ہیں جو قطعی طور پر قابل فہم ہے۔ لیکن حضور والا! اب پانی سر سے اونچا ہوتاجارہا ہے۔ ایسا نہ ہو میرے منہ میں خاک۔۔ کہ آپ کو اپنا بوریا بستر یہاں سے گول کرنا پڑجائے اور عظیم ریاست ہائے متحدہ "بڑے بے آبرو ہوکر ترے کوچے سے ہم نکلے" کی عملی تصویر بن جائے۔

اس صورتحال کے تدارک کے لئے خاکسار آپ کی خدمت میں ایک تجویز پیش کرنے کی جسارت کرتا ہے۔ تجویز یہ ہے کہ فورا سے پیشتر پاکستان کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی ریاست قرار دے دیا جائے۔ اس طرح پاکستان کے عوام کو بھی وہی حقوق حاصل ہوجائیں گے جو امریکی آئین کے تحت آپ کو حاصل ہیں۔ اس چھوٹے سے قدم سے آپ اتنا لمبا فاصلہ طے کرسکتے ہیں جو پچھلے دس سال "دہشت گردی کے خلاف جنگ"، القاعدہ، طالبان، روشن خیال اعتدال پسندی، جمہوریت، این جی اوز، ریڈ وائن، بلیک واٹر وغیرہ سے بھی طے نہ ہو سکا تھا۔ امریکہ کا تاثر بھی مسلم دنیا خاص طور پر "اسلام کے قلعے" میں اتنا مثبت ہوجائے گا کہ آپ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ویسے بھی ہم جتنے مرضی نعرے آپ کے خلاف لگاتے رہیں، ویزہ ہمیں امریکہ کا ہی بھاتا ہے۔ اور اگر ویزے کی بجائے گھر بیٹھے گرین کارڈ ہی مل جائے تو اس قوم کی خوشی کا اندازہ لگانے کے لئے آپ کو آئن سٹائن ہونے کی ضرورت نہیں ! دہشت گردی کی جو فیکٹریاں آپ نے اپنے باوردی دوستوں کے تعاون سے قبائلی علاقوں میں لگائی تھیں، ان کی مصنوعات کا رخ بھی چین کی طرف موڑا جاسکے گا جس کی گستاخیوں کی وجہ سے آج کل آپ کی اشرافیہ کی نیند حرام اور ہاضمہ خراب ہورہا ہے!!!

مجھے امید ہے کہ آپ میری معروضات پر ہمدردانہ غور کرتے ہوئے فوری اقدام کریں گے اور اس فددی کو نئی ریاست کے گورنر کے عہدے کے لئے ڈیمو کریٹک پارٹی کا ٹکٹ بھی عنایت کریں گے۔

آپ کا نیاز مند

عشق وشق پیار ویار

میں بڑی مشکل میں پڑگیا ہوں!

سیانےکہتے تھےکہ " علموں بس کریں او یار'' تو ٹھیک ہی کہتے تھے!

عشق ومحبت کی اقسام اور ان کی خصوصیات، جب سے پڑھی ہیں تو میرے دل میں بھی بڑی خواہش اور تمنا پیدا ہوگئی ہے کہ میں بھی عشق کروں، محبت میں مبتلا ہوجاوں اور سیانے لوگوں نے محبت کی تعریفوں کے جو پل باندھے ہیں اور بے شمار صفحات، اس کوشش میں کالے کئے ہیں تو ذرامیں بھی اس کا مزا چکھوں!

پر شرط بڑی کڑی لگادی ہے جی کہ محبت کرنے کے لئے اپنا آپ خاک میں ملاو، اپنی انا کو محبوب کے سامنے سرنڈر کرو، اپنے آپ کی نفی کرو۔ اب میرے جیسا بندہ کہ جس کے پاس اپنی انا کے علاوہ کچھ ہے ہی نہیں، نہ علم ، نہ ایمان، نہ شعور، نہ وجدان، تو وہ کیسے اپنی ساری جمع پونجی اس جوئے میں لٹادے؟

دل کی بستی پر محبت کا بلڈوزر چلا کے پرانی بستی ڈھانی اور نئی بسانی بہت مشکل ہے۔ بستی کے پرانے مکین، غم روزگار کی عدالت سے حکم امتناعی لے آتے ہیں کہ جی یہ 420 منزلہ خود غرضی کی عمارت تو آپ بالکل نہیں گراسکتے۔اور اس کے متصل خواہشات کا ڈپارٹمنٹل سٹور بھی بہت ضروری ہے، اس کے بغیر تو کام چلتا ہی نہیں۔ اور انا کا مینار تو وہ ہے جی کہ اس کی آخری منزل پر کھڑے ہوکر بندے کو دوسرے آدم زاد کیڑے مکوڑے نظر آتے ہیں! اوروہ خود کو خدا کا نائب تو کیا خود ہی خدا سمجھنے لگتا ہے! بڑا ہنگامہ کھڑا ہوجائے گا جی دل میں تو۔ خانہ بدوشوں کی بستی کو بھی اگر حکومتی اہلکار گرانے آجائیں تو وہ مسکین بھی مزاحمت پر اتر آتے ہیں۔ لاٹھی چارج اور آنسو گیس استعمال کرنی پڑجاتی ہے جی بلکہ کبھی کبھار تو گولیاں بھی چل جاتی ہیں، تو دل کی بستی کے مکین تو بڑے ڈاہڈے ہوتے ہیں۔ یہ تو اتنی آسانی سے بستی چھوڑ کے جانے والے نہیں!

اور یہ دل کی بستی ہے بھی بڑی عجیب کہ ایثار و خلوص کی جھونپڑی بنتے تو زمانے لگ جاتے ہیں جبکہ خودغرضی اور کمینگی کے سکائی سکریپر لمحوں میں کھڑے ہوجاتے ہیں!

تودوستو!

میں تو بڑی مشکل میں پڑگیاہوں۔۔۔ کیا کروں؟

انعامی مقابلہ برائے حصول تصویر مابدولت!

ہمارے ایک بہت پیارے اور عبرت ناک حد تک سنجیدہ تصاویر کھنچوانے کے شوقین دوست نے کتاب چہرے پر ہماری ایک تصویر لگائی تھی، جسے ہم نے فساد خلق کے ڈر سے ہٹادیا۔ تس پر عوام کے ایک طبقے نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانے کا پرزور مطالبہ کیا!

لہاذا اب ہم ایک انعامی مقابلے کا انعقاد کررہے ہیں۔ تصویر میں سے ہمیں پہچاننے والے کو ایک تازہ ترین (اگرچہ اب ہم باسی ہوچکے ہیں پھر بھی۔۔) تصویر بطور انعام برقی ڈاک کےذریعے بھیجی جائے گی۔ ایک سے زیادہ درست جوابات کی صورت میں قرعہ اندازی کی جائے گی۔ ججز کا فیصلہ حتمی تصور ہوگا۔ (کچھ چائے پانی ملنے کی صورت میں ججز اپنے فیصلے میں مناسب ترامیم بھی کرسکتے ہیں)۔

003

اس تصویر میں کرسیوں پر براجمان تھری مسکیٹیرز میں سے ایک میں ہوں، دوسرا وسیم انوار (جس سے رابطہ ہوئے مدت گزر چکی، خود پڑھ لے تو واپس آجائے، اسے کچھ نہیں کہا جائے گا) اور تیسرا غلام دستگیر ہے، جو کالج کے بعد بالکل ہی لاپتہ ہوگیا تھا۔ اس کے لئے بھی مضمون واحد ہے!

یہ تصویر، ہمارے سکول (لیبارٹری ہائی سکول، یونیورسٹی آف ایگریکلچر، فیصل آباد) کے سالانہ جلسے کی ہے جس میں ہم تینوں کوئز کوئز کھیل رہے ہیں۔ کمپئیر ہمارے بہت محترم استاد فضل محمد صاحب ہیں۔ پس منظر میں ایک صاحب سوٹ پہنے کھڑے ہیں۔ وہ رشید صاحب ہیں جو ہمیں بیالوجی پڑھانے کی کوشش کیا کرتے تھے! ان کے ایک واقعے کا شمار کلاسکس میں ہوتا ہے، جو، اگر کبھی موڈ بنا تو آپ کی نذر کیا جائے گا۔

عاصم بٹ / راجندر سنگھ بیدی

تب پہلی بار وہ مجھے محض ایک عام لڑکی نہ لگی، جیسا میں اسے سمجھتا آیا تھا۔ مجھے احساس ہوا کہ یہ یورپین بظاہر جتنے بے تکلف ہوتے ہیں اتنے ہی محتاط بھی، ایسے ہی کسی سے نہیں کھلتے۔ کسی سے اپنا دل کھولنا، ان کے لئے کسی کے ساتھ ہم بستری کرنے سے بھی زیادہ احتیاط برتنے کے لائق بات ہوتی ہے۔

(عاصم بٹ کی کہانی "بوڑھی راہبہ" سے اقتباس)

یہ بات نہیں کہ وہ سگھڑ سیانیوں کی طرح اپنا سارا کچھ ایک ہی دم نہ دے دینا چاہتی تھی، بلکہ کوئی بات تھی جو اُبٹنے، بندی، اخروٹ کی چھال اور رس بھریوں سے اوپر ہوتی ہے، جس کا تعلق عورت کی شکل و صورت سے نہیں ہوتا، نہ اس کی نسائیت جس کی انتہا ہے، جسے وہ دھیرے دھیرے سامنے لاتی ہے اور جب لاتی ہے، تب پتہ چلتا ہے، یہ بات تھی! جیسے اشٹم کا چاند اپنا آدھا چھپائے رہتا ہے، اور پھر آہستہ آہستہ، روز بہ روز، ایک ایک پردے؛ دُپٹے، چولی، انگیا، سب کو الگ ڈالتا جاتاہے اور آخر ایک دن، ایک رات، پورنیما کے روپ میں آکر کیسی بے خودی و مجبوری، کیسی ناداری و لاچاری کے ساتھ اپنا سب کچھ لٹا دیتا ہے۔ کیا علم النّساء علم النّجوم سے دور کی بات ہے؟ کوئی بھی علم دوسرے علم سے فاصلہ رکھتا ہے؟ جن لوگوں نے برسوں اور عادتا آسمانوں پر جھانکا، ستاروں کو دیکھا ہو، ان کی جھلمل کے ساتھ مرے، ہل مل کے ساتھ جیے ہوں، اماوس کے ساتھ مرجھائے، پونم کے ساتھ کھلے ہوں، وہی رجنی کی آنکھوں میں پلکوں کے نیچے زمینوں سے بڑی، آسمانوں سے بڑی، برق و مقناطیس کی وسعتوں میں جو راس رچائی جاتی ہے، جو بھنگڑے اور جھمر اور لڈّی ناچے جاتےہیں، ان کے راز سمجھتے ہیں ۔۔۔ وہی اشٹم کے چاند کا بھید بھی جانتے ہیں۔

(راجندر سنگھ بیدی کی کہانی "ایک چادر میلی سی" سے اقتباس)

فقیری ٹکڑے

بہت دن گزر گئے بلکہ عید بھی آکے چلی گئی لیکن کوئی ترکیب نہیں لکھی۔ ہمارے پرانے بادشاہ انگریز کہتے ہیں جی کہ کبھی بھی بہت دیر نہیں ہوتی، لہاذا پیش خدمت ہے "تازہ ترین" ترکیب!

شاہی ٹکڑے (یہ نام بہت کنفیوزانہ ہے، سننے پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی بادشاہ کو ٹکڑے کرکے اور ورق لگاکے پیش کیا جارہا ہو! ویسے اگر حالات نہ بدلے تو عن قریب شاہی ٹکڑے ایسے ہی تیار ہوا کریں گے!) تو آپ نے کھائے ہوں گے اور خوب لطف اندوز بھی ہوئے ہوں گے، آج آپ کی خدمت میں فقیری ٹکڑے پیش ہیں، تو اجزاء نوٹ کرلیں:

چار دن کی باسی روٹی کے ٹکڑے

پانی

نمک

مرچ

ترکیب بہت آسان ہے!

پیالہ، جگ یا گلاس (جو بھی میسر ہو) میں پانی ڈال کر نمک مرچ ملالیں اور باسی روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے اس میں بھگودیں۔ خیال رکھیں کہ ٹکڑے چھوٹے چھوٹے ہوں، ٹکڑے بڑے ہونے کی صورت میں ڈش کی لذت برقرار نہیں رہے گی!

باسی روٹی پر اگر پھپھوندی بھی لگی ہو تو یہ سونے پر سہاگہ والی بات ہے!

دوگھنٹے کے بعد یہ ڈش کھانے کے لئے تیار ہوجائے گی۔ اسے چکھیں! اگر اسے کھانے کے بعد آپ کو خدا یاد نہ آجائے تو پیسے واپس!

یہ ماحضر تناول کرنے کے بعد اپنے بادشاہوں کے "حق" میں "دعائے خیر" کرنا نہ بھولئے، جن کی مہربانیوں اور لطف و کرم کے صدقے ، ملک خداداد کے غیور عوام کی اکثریت ایسا "من و سلوی" دن رات کھا رہی ہے!

امرود

ہندی فلموں میں آپ نے اکثر ہیروئن کو ہوشربا ملبوسات میں توبہ شکن ڈانس کرتے تو دیکھا ہی ہوگا۔ جسے دیکھ کر آپ کا اوپر کا سانس نیچے اور نیچے کا اوپر رہ گیا ہوگا !!!
آپ یہ سوچنے میں خود کو حق بجانب محسوس کرتے گے کہ ہندوستان میں ایسی ناریاں عام چلتے پھرتے نظر آتی ہوں‌ گی تو ہندوستانیوں کی تو موجیں ہی موجیں ہیں!
بس یہیں آپ مار کھا گئے!
آپ کو کبھی پھیکے خربوزے، پلپلے امرود، سوکھے ہوئے مالٹے، اندر سے سفید تربوز کھانے کا اتفاق ہوا ہے؟
بس یہی حال ہندوستانی عورتوں کا ہے!!