شیدا پستول بنام بابا ریمتا


ٹِلّہ جوگیاں
30 فروری بروز  جمعۃ المبارک
محترم بابا جی!
آداب و تسلیمات کے بعد عرض ہے کہ فدوی خیریت سے ہے اور آپ کی خیریت نیک مطلوب نیز اقبال (خودی والا نہیں!) بلند چاہتا ہے۔ عرضِ احوال یہ ہے کہ فدوی نے کچھ ماہ قبل چند موضعات میں بغرضِ روزگار ڈکیتیاں کی تھیں جن میں چند بندے کولیٹرل ڈیمیج کے طور پر پھٹّڑہوئے۔ نیز دو دوشیزاؤں کے ساتھ بوجۂ شدیدحاجت، محبت بھی کر بیٹھا۔فدوی خدا کو حاضر ناظر جان کربیان کرتا ہے کہ اس نے مذکورہ بزنس وینچرزسے  یافت شدہ مال کا چالیس فیصد بابا پیٹر سائیں سرکار کی خدمت میں بطور نذرانہ پیش کردیا تھا۔ اس کے باوجود موضعات ہذا کے کھوجی اور فُکراٹے (پُلسئیوں کو فدوی اسی نام سے پکارتا ہے) اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہوئے ہیں۔ ان کے اظلام و استام سے بچنے کی خاطر فدوی نے علاقہ ہذا چھوڑ کر نامعلوم مقام (تہانوں تے پتہ ای ہونا!) پر ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ فدوی کے علم میں یہ بھی آیا ہے کہ بغرض روزگار کی گئی کاروائیوں کے چند متاثرین آپ والا تبار کی پنچائت میں حاضر ہو کر حضورِ والا کے کان بھر رہے ہیں کہ فدوی ایک نہایت لعین و شاتم فرد ہے جس کا قلع قمع عین ضروری و آئینی ہے۔
فدوی نہایت ادب سے عرض کرتا ہے کہ سب کو روزگار کا انتخاب کرنے کی آزادی ہے۔ کسی سے اس ضمن میں امتیازی سلوک روا رکھناانسانی حقوق کی صریحا اور قطعا خلاف ورزی ہوگی۔ بوجۂ روزگار کی گئی کاروائیوں کو کسی بھی پنچائت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ان پر قدغن لگائی جاسکتی ہے۔اگر یقین نہ ہو تو وڈّے چوہدری صاحب سے پوچھ لیں۔فدوی کے علم میں یہ بھی آیا ہے کہ حضور گنجورنے پنچائت میں پیشی کے وَرَنٹ نکالے ہوئے ہیں۔ فدوی کے لئے  یہ پیشی عین سعادت ہے بلکہ
میرے دل دے شیشے وچ سجناں
پئی سج دی اے تصویر تیری
لیکن حاسدین و بد خواہونِ فدوی اس موقع کی تاڑ میں ہوں گے اور عین ممکن ہے کہ فدوی کو پکڑ کے گدّڑ کُٹ لگائیں۔مائی باپ آپ کے علم میں ہی ہوگا کہ بے پناہ پھینٹی کے دوران منہ سے واہی تباہی نکل جاتی ہے جس کو فدوی کے متاثرین روزگار، انکشافات کا نام دے کر ان کی گُڈّی اڑاتے پھریں گے اور عالی جناب کا نام بھی اس میں ملوث ہوسکتا ہے۔ کمّی کمینوں کی زبانیں کون کم بخت روک سکتا ہے؟ فدوی آپ اور بابے پیٹر سائیں سرکار کے نیاز مندانہ تعلقات کا عینی و سمعی شاہد ہے۔ وڈّے چوہدری صاحب نے بھی اس بابت ہمیشہ تقیہ کرنے کی اہمیت اجاگر کی ہے۔
خط طویل ہوتا جارہا ہےاور  فدوی کو احساس ہے کہ عالی جناب کے اقوات شدید بیش قیمت ہیں اور ان کو ضائع کرنے کا گناہ فدوی اپنے سر نہیں لینا چاہتا۔ لہذا فدوی التجا کرتا ہے کہ اس نیاز نامے کو آدھی ملاقات سمجھتے ہوئے حضورِ والا، فدوی کو حاسدین کے تمام الزامات سے باعزت بَری کریں کہ یہ انصاف اور بنیادی انسانی حقوق از قسم روزگار کی آزادی اور مناسب مواقع پر منہ بند رکھنا وغیرہ کے عین مطابق ہوگا۔ علاوہ ازیں  بابے پیٹر سائیں سرکار نے آپ والا تبار کی خدمت میں سلام لکھوایاہے۔ گر قبول افتد زہے۔۔۔ پَین دِی سِری
نیاز مند
شیدا پستول


لاؤ تو اعمال نامہ "اپنا"۔۔


یہ کچھ پیچیدہ سی سادہ بات ہے۔ متوسط طبقے کے شہری، پنجابی، پاکستانی،سُنی مسلمان ہونے کے ساتھ بائی ڈیفالٹ کچھ سافٹ وئیر انسٹال ہوتے ہیں۔ ان میں  سے پہلا یہود و ہنود، امریکہ، شیعہ، احمدی، سیاستدانوں سے نفرت اور دوسرا  اسلام، پاکستان، مشرقی روایات اور پاک فوج سے محبت ہے۔ آپ سے کیا پردہ، فدوی بھی عنفوان شباب سے ذرا پہلے جماعتیا ہوا کرتا تھا۔ مزے کی بات یہ کہ فدوی  اس عالمگیر سچائی کے استثنی کی مثال ہے کہ بندہ جماعت سے نکل جاتاہے،جماعت بندے سے نہیں نکلتی۔ فدوی جماعت سے بھی نکل گیا اور جماعت بھی فدوی سے نکل گئی لہذا اصولا تو فدوی کی جگہ اب میوزیم آف نیچرل ہسٹری ہونی چاہیئے کہ یہ انسانی تاریخ کی شاید پہلی اور آخری مثال ہے۔ بہرکیف یہاں سے بات کو موڑ کے اصل مدعا کی جانب آتے ہیں۔
پردیس میں ایک عمر گزار کے یہ سمجھ آئی کہ زندگی اور دنیا کی رنگارنگی ہی  اس کی اصل ہے۔ دیکھیے، میں ایک مذہبی انسان ہوں اور میرا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر خدا سب کو ایک جیسا اور ایک جیسی سوچ اور عقیدے کا مالک بنانا چاہتا تو اس کے لئے یہ مشکل نہیں تھا اور نہ ہے۔ تو یہ اتنے رنگ برنگے لوگ اور عقیدے اور مذاہب اور زبانیں کس لئے ہیں؟ میری رائے میں یہ سب اس کے ڈیزائن کا حصہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی خدا کی بنائی دنیا میں بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو سرے سے خدا کو ہی نہیں مانتے تو خدا ان کی آکسیجن بند نہیں کرتا۔ ان پربھی سورج ویسے ہی چمکتا ہے۔ ان کے دن میں بھی 24 گھنٹے ہیں۔ وہ بھی دولت کماتے ہیں۔ زندگی کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ان کو بھی بیماری سے شفا ملتی ہے۔
خدا ان سے یہ نہیں کہتا کہ چونکہ تم مجھے جاننا تو دور کی بات، مانتے بھی نہیں اس لئے اپنی دنیا میں رہنے کا حق میں تم کو نہیں دوں گا اور تم سب کو فنا کردوں گا۔ جی نہیں؛ خدا ایسا نہیں کرتا۔ خدا نے انسان کو بنایا ۔ اسی نے انسان کو انسان ہونے کے حقوق دئیے تو کوئی انسان کسی سے یہ حق نہیں چھین سکتا کیونکہ یہ خدائی ڈومین ہے۔ حیات بعد از موت کا تصور بھی میری رائے میں اس کی تصدیق کرتا ہے کہ تب خدا سب کو لائن حاضر کرکے پوچھے گا کہ ہاں، اب بولو کہ تم دنیا میں کیا گل کھلا کے آئے ہو۔ حساب دو۔ نکتہ یہ ہے کہ عقیدوں اور اعمال کا حساب  خدا لے گا۔ میں آپ ایک دوسرے سے یہ حساب لینے کے مجاز نہیں۔
کسی انسان سے اعمال و عقائد کا حساب مانگنے سے پہلے  خدائی کا دعوی یاد سے کرلینا چاہیئے۔

بابے ریمتے کی کہانی، مولوی ذاکر کی زبانی


بابے ریمتے کی پنچائت کا انصاف پوری تحصیل میں مشہور ہوچکا تھا۔ آس پاس کے پِنڈوں سے لوگ بابے کے پاس شکایات لے کر آتے۔ بابا اپنی انصاف پروری اور دانش سے ان کے فیصلے کرتا اور مسکینوں کو ان کا حق دلاتا۔ ایک ایسے ہی ایک پھڈّے میں بابے نے سراج تیلی کی بیٹی کو سنگسار کرنے کا فیصلہ دیا جسے صادق باجوے کے منڈے نے اغواء کرکے دو مہینے ڈیرے پر قید رکھا تھا۔ بابے نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جوان جہان لڑکی جب گلیوں میں آزادانہ گھومے پھرے گی تو شیطان متقی جوانوں کو بہکائے گا۔ اس میں جوانوں کا کوئی قصور نہیں۔
بابے ریمتے کی بیٹھک میں ہر وقت لوگ کا ہجوم رہتا۔ بابے کا مشیرِ خاص فتّو میراثی تھا۔ جو آئے گئے ہر بندے کی خدمت میں جُتا رہتا اور جاتے ہوئے جو بھی اپنی مرضی سے کوئی نذرانہ دیتا تو اسے سنبھالنے کا کام بھی اس کے ہی سپرد تھا۔ چراغ جلے جب رش کم ہوتا تو بابے اور فتّو کے مابین پورے دن کی کاروائی اور یافت پر دو طرفہ مذاکرات ہوتےاور اگلے دن کے شیڈول پر بھی ڈسکس کیا جاتا۔ فتّو صدق دل سے یہ سمجھتا تھا کہ بابا ریمتا ایک لیجنڈ بن چکا ہے اور پورے پنڈ کے لوگ ہر مشکل میں اس کی طرف دیکھتے ہیں اور اس کا فیصلہ جی جان سے قبول کرتے ہیں۔ فتّو اکثر بابے کو مشورہ دیتا تھا کہ اب اسے چوہدری صاحب کے ساتھ برابری کی بنیاد پر بات کرنی چاہیئے ۔ ان کے ساتھ منجی پر بیٹھنا چاہیئے نہ کہ زمین پر۔
بھادوں شروع ہوچکا تھا۔مچھروں کی بہتات تھی۔ بابے کو ساری رات نیند نہیں آئی۔ حبس اور گرمی جوبن پر تھی۔ بابا تڑکے نور پیر ویلے ہی اٹھ گیا تھا۔ ماسی پِینو کو اٹھا کے بابے نے لسّی مانگی تو ماسی نے بابے کو چھڈویں چپّل دے ماری اور چلاّئی۔۔"پھُڑکی پینیاں، جا لے جا میرے مگروں، دغاڑا لگناں"۔  بابے نے تحمّل سے ماسی کی بدزبانی برداشت کی اور بیٹھک میں چلا آیا۔ دن چڑھے تک بابا بیٹھک میں افسردہ بیٹھا رہا۔بابا سوچتا رہا کہ پِنڈ کے لوگ اس کی اتنی عزت کرتے ہیں، اس کے ہر فیصلے پر آمنّا و صدقنا کہتے ہیں اور ایک یہ پِینو اونتری ہے جو اس کی یومیہ بنیادوں پر بے عزتی کرتی ہے۔ بابے نے فتّو کے آنے سے پہلے فیصلہ کرلیا کہ آج وہ ایسا کام کرے گا کہ پِینو دوبارہ اس کے سامنے کبھی اونچی آواز میں بات کرنے کی جرأت نہیں کرسکے گی۔ فتّومیراثی کےآتے ہی بابے نے اس کو ساتھ لیا اور چوہدری کے ڈیرے کی طرف چل پڑا۔ فتّو پوچھتا ہی رہا کہ کیا معاملہ ہے لیکن بابے کے چہرے پر گھمبیرتا طاری رہی۔
ڈیرے پر پہنچتے ہی بابے ریمتے نے کامے کو حکم دیا کہ چوہدری صاحب کی رنگلے پایوں والی منجی بوڑھ کے نیچے بچھا دے اور اس پر ریشمی غلاف والے تکیے رکھ دے اور بھاگ کے چوہدری کو بلا لائے۔ بابا منجی پر تکیے کے ساتھ ٹیک لگاکے بیٹھا گیا اور فتّو کو کہا کہ وہ نیچے زمین پر بیٹھ کے اس کی ٹانگیں دبائے۔ تھوڑی دیرہی  گزری تھی کہ  چوہدری صاحب، نِکّے چوہدری اور حواریوں کے ساتھ تشریف لے آئے۔ ڈیرے میں داخل ہوتے ہی انہیں بابے کی کڑک دار آواز سنائی دی،
"اوئے چوہدری! ادھر آکے زمین پر بیٹھ جا۔ آج تیرا یومِ حساب ہے۔ تو غریب مزارعوں کی خون پسینے کی کمائی لوٹتا ہے۔ تیرے بدکار پُتّر کی ہوس سے پِنڈ کی کوئی کُڑی محفوظ نہیں۔جب تیرا دل چاہتا ہے کسی کو بھی بے گار میں پکڑ کر لے جاتا ہے۔جو تیرے سامنے آواز اٹھاتا ہے اسے تیرے کن ٹُٹّے مار مار کے باندر بنا دیتے ہیں۔ تو پِنڈ کے لوگوں کو انسان نہیں سمجھتا۔ ان کی توہین کرتاہے۔ آج تیرے ان سب جرائم کا حساب ہوگا۔ میرے پنچائت کے فیصلوں کی پوری تحصیل میں دھوم ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ بابا ریمتا سب کے ساتھ انصاف کرتا ہے۔ آج بابا تیرے ساتھ بھی انصاف کرے گا۔
میں ، بابا ریمتا، حکم دیتا ہوں کہ چوہدری کی زمینیں قرق کرکےمزارعوں میں تقسیم کر دی جائیں۔ نِکّے چوہدری کے ہاتھ پیر باندھ کے اس کا منہ کالا کرکے ، گلے میں جوتوں کا ہار ڈال کے،کھوتے پر سوار کرکے پورے پِنڈ کا چکر لگوایا جائے۔چوہدری کی حویلی آج سے میرا ڈیرہ ہوگا۔ چوہدری کو زن بچے کے ساتھ پِنڈ سے نکال دیا جائے اور پوری تحصیل میں اس کو کسی بھی جگہ پناہ نہ دی جائے۔ نکالنے سے پہلے چوہدری پِنڈکے ہر بندے کے سامنے ہاتھ جوڑ کے معافی مانگے۔ "
فیصلہ سنانے کے بعد بابے ریمتے نے فخریہ نظروں سے فتّومیراثی کی طرف دیکھا۔ فتّومنہ پھاڑے بابے کی طرف دیکھ رہا تھا۔ بابا چپ ہوا تو فتّو نے اٹھ کے دامن جھاڑا، پلاسٹک کی پرانی چپّل پاؤں سے اتاری اور بابےریمتے کے سر پر برسانے لگا۔
قصّہ مختصر، آج بعد از نمازِ عصر بابے ریمتے کی نمازہ جنازہ پِنڈ کی مسجد میں ادا کی جائے گی۔


ایک معمول کی پریس کانفرنس

خاں صاحب یہ بتائیں کہ کرپشن کے خلاف آپ نے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں ان کی کیا وجہ ہے؟
دیکھیں۔ ۔ جب لیڈر ایماندار ہوگا تو اس کے نیچے کوئی کرپشن نہیں کرسکتا۔ یہ نواز شریف ڈاکو ہے۔ اس کی پارٹی میں بھی سب چور ہیں۔ میں ان کے خلاف سپریم کورٹ میں گیا۔ دیکھیں میں نے سارے ثبوت عدالت کے سامنے رکھے۔ اس کے بعد کیسے یہ لوگ بچ سکتے تھے۔ میں ان کا پیچھا نہیں چھوڑوں گا۔ ان کو جیل اور پھر پھانسی کے پھندے تک پہنچاؤں گا انشاءاللہ۔ ۔ ۔
خاں صاحب، سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین کو نا اہل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں اور صادق و امین نہیں۔ تو جیسا آپ نے کہا کہ نیچے سب چور ہوں تو لیڈر بھی چور ہوتا ہے، تو کیا یہ پی ٹی آئی پر بھی لاگو ہوگا؟
مجھے پتہ ہے تمہیں خالو رفیق نے بھیجا ہے۔ اسے میں نے تیسری شادی میں نہیں بلایا تو وہ میرے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ کررہا ہے۔ تمہیں شرم آنی چاہیے۔ ۔ دو ٹکے کا رپورٹر ہو کے خالو کے پیچھے لگ گئے ہو۔ تم لوگوں کے پیچھے میں شیخ رشید کو لگاؤں گا وہ بھی تمہارے جیسا چوّل ہے۔
اچھا خاں صاحب یہ جو بلین ٹری سونامی ہے اس کے بارے میں بتائیے؟
دیکھیں انسانی تاریخ میں آج تک کسی نے اتنے درخت نہیں لگائے۔ آج سے پچاس لاکھ سال پہلے جب انسان اس سیارے پر اترا تو یہاں پر درخت ہی درخت تھے جو ڈائنو سارز نے لگائے تھے۔ درخت اتنے زیادہ لگ گئے کہ ڈائنو ساربے چارے چل پھر بھی نہیں سکتے تھے جس سے ان کا وزن بڑھ گیا اور ان کو شوگر ہوگئی جس سے سارے ڈائنو سار مر گئے۔ آج پچاس لاکھ سال گزرنے کے بعد آپ کے بھائی نے ایک ارب بائیس کروڑ درخت لگا کے ڈائنو سارز کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ درخت لائنوں میں لگائے ہیں تاکہ آپ کا بھائی ان میں دوڑ بھی لگاتا رہے تاکہ  وزن نہ بڑھے اور اس کا انجام ڈائنو سارز جیسا نہ ہو۔ یہ چیزیں ہوتی ہیں جن سے لیڈر کے وژن کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ ہوتا ہے لیڈر اور یہ ہوتا ہے وژن۔
لیکن خاں صاحب ایک رپورٹ کے مطابق ریکارڈ میں بائیس کروڑ درخت لگانے کا ذکر ہے۔ تو باقی ایک ارب کدھر گئے؟
تمہیں ضرور صادق خان مئیر لندن نے بھیجا ہے۔ جب سے میں نے اس بس ڈرائیور کی اولاد کے خلاف اپنے اعزازی سالے کی انتخابی مہم چلائی ہے وہ میرا دشمن ہوگیا ہے۔ اس نے یہودیوں۔ ۔ ۔ اررر۔ ۔ ۔ ۔ انڈینز کے ساتھ مل کے میرے خلاف محاذ کھولا ہوا ہے اور یہ نواز شریف تو ہے ہی مودی کا یار۔ یہ سارے جھوٹ نواز شریف پھیلا رہا ہے۔ میں چیف جسٹس سپریم کورٹ سے اپیل کرتا ہوں اس کا نوٹس لے کر نواز شریف کو ایک دفعہ پھر نا اہل کریں اور ہو سکے تو اسے مچھ جیل بھیج دیں۔ یہ شخص اسلام، پاکستان، ملت اسلامیہ اور میرا دشمن ہے۔ اس کو عبرت ناک سزا ملنی چاہیے۔
خاں صاحب، وہ عمر چیمے نے آپ کو سلام بھیجا ہے۔
او دَلیا۔ ۔ او تینوں رپورٹر کنّے بنایا۔ ۔ ۔ او تیری پَین دی سِری۔ ۔ ۔ او کُتیا۔ ۔ کُتّا کہنا بِی توہین۔ ۔ ہَلکیا کُتّا کہنا بِی توہین۔ ۔ او خنزیر کی نسل سے بھی بدتر نسلو۔ ۔ ۔ او تینوں رپورٹر کنّے بنایا۔ ۔ ۔ او تیری ٭٭٭ ٭٭٭ ٭٭

بابے ریمتے کی ڈائری

کل چوہدری صاحب نے میوے والےتازہ گُڑ کے ساتھ تین دیسی مرغیاں بھیجیں۔ سخاوت میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ حاتم تائی بھی ان کے سامنے پانی بھرتا ہے۔ پچھلے بدھ کو پنچایت میں نِکّے چوہدری کا معاملہ زیر بحث تھا۔ جوان جہان بچہ ہے۔ فیکے ماچھی کی چھوری کو شہر گھمانے لے گیا تھا۔ ماچھیوں نے پورے گاؤں میں پِٹ سیاپا ڈال دیا کہ ہماری چھوری کو اغوا کرلیا ہے۔ یہ ساری طیفے لوہار کی شرارت تھی۔ جب سے اس نے چار پیسے کما لیے ہیں، چوہدریوں کے منہ کو آنے لگا ہے۔ چوہدراہٹ کا شوق ہوگیا ہے۔ اسی نے ماچھیوں کو بھڑکا کے گاؤں میں رولا ڈلوا دیا تھا۔ چوہدری صاحب نے منشی کے ذریعے پیغام بھجوایا کہ اس معاملے کو دیکھو۔ میں نے فوری ایکشن لیتے ہوئے جھورے میراثی کو گبلے چوک میں پنچایت کا اعلان کرنے کے لیے کہہ دیا۔
نِکّے چوہدری نے اگلے دن ہی ماچھیوں کی چھوری کو واپس کر دیا تھا۔ چھنال پہلے تو ہنسی خوشی اس کے ساتھ چلی گئی لیکن واپس آنے کے بعد رونے پیٹنے کے ڈرامے کررہی تھی کہ مجھے زبردستی لے گیا تھا۔ مارا پیٹا اور میرے ساتھ بدی بھی کی ۔ بادی النظر میں یہ کوئی بڑی بات نہیں ۔ پہلی بات تو یہ کہ چھوری اپنی مرضی سے نِکّے چوہدری کے ساتھ گئی تھی اگر زبردستی بھی لے جایا گیا تو اس کا کیا گھِس گیا؟ شہر کی سیر مفت میں کرلی اور نئے جوڑے اور جھمکے بھی مل گئے۔ اس کا باپ تو ساری زندگی اس کو ایسی چیزیں نہیں دلوا سکتا۔ ایک تو غریبوں کا احساس کرنے والے سخی لوگوں کو دنیا جینے نہیں دیتی۔ چوہدری صاحب کی سخاوت اور دریا دلی کے قصے پورے علاقے میں مشہور ہیں۔ ایک دفعہ ڈیرے پر جاتے ہوئے جیپ کی ٹکر سے کمہاروں کے لڑکے کی ٹانگ ٹوٹ گئی تو چوہدری صاحب نے اس کے باپ کو پورے پچاس روپے دئیے تھے کہ بچے کو دودھ وغیرہ پلا دے۔ اس کی ماں آج تک چوہدری صاحب کی درازیٔ عمر کی دعائیں کرتی ہے۔
ہاں تو پنچایت کا قصہ بیچ میں ہی رہ گیا۔ پنچایت بیٹھی تو فیکے ماچھی نے پِٹ سیاپا شروع کردیا کہ اس کی عزت لُٹ گئی۔ اس کو انصاف چاہیئے۔ چوہدری کے نِکّے کو سزا دو۔ اس نے گاؤں کی عزت پر ہاتھ ڈالا ہے۔ طیفے لوہار نے اس کو چپ کراتے ہوئے کہا کہ آج ماچھی کی چھوری خراب کی ہے کل ہمارے دھی بہن کی باری بھی آئے گی۔ ہم یہ بغیرتی نہیں چلنے دیں گے اور نِکّے چوہدری کو ایسی سزا دیں گے کہ اس کی نسلیں یاد رکھیں گی۔ طیفے لوہار کی بات پر ساری پنچایت میں کھپ پڑ گئی۔ سارے ماجھے ساجھے کمّی کمین چوہدری صاحب والا تبار کی شان میں گستاخیاں کرنے لگے۔ میں نے فورا گرجدار آواز میں سب کو خاموش ہونے کا حکم دیا۔ چوہدری صاحب کے کن ٹٹّے بھی اسی اثناء میں لاٹھیاں، ریفلیں لے کر گبلے چوک پہنچ چکے تھے۔ طیفے لوہارنے بیٹھنے سے انکار کردیا اور کہا کہ پنچایت کی پرمپرا مظلوم کی حمایت اور ظالم کا ہاتھ روکنا ہے۔ اگر پنچایت یہ کام نہیں کرسکتی تو یہ پنچایت نہیں بلکہ زور آوروں کی رکھیل ہے اور سرپنچ اس رکھیل کا دلال ہے۔
طیفے لوہار کی اس بکواس پر چوہدری صاحب نے جیرے پھنئیر کو اشارہ کیا تو وہ اپنے جتھے کے ساتھ طیفے لوہار پر پل پڑا۔  لاٹھیاں اور ریفلوں کے بٹ مار مار کے اس کی ہڈیاں توڑ ڈالیں۔گبلے چوک پر موت کا سکوت طاری تھا۔ اس میں چوہدری صاحب کی آواز گونجی۔۔
"اورکسی کو انصاف چاہیئے؟ چل او ئے بابے ریمتے، پنچایت کا فیصلہ سنا۔"

کپتان، جوشؔ اور فرائڈ

جبلّت سے ہم شرمندہ ہوتے ہیں۔ روح پر گرانی  لاد لیتے ہیں۔ خود کو ہم کوستے ہیں اور اس پر تقلید کے  خوگر مذہب کے سوداگر جو زیست کو عذاب بنانے پر تلے ہیں۔ مردِ آزاد فرائڈ البتہ حقیقت پا گیا تھا۔
اکل و شرب پیکر خاکی کی ضرورت ہے۔ زندہ ہم اس کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ لیکن مگر اعتدال۔۔  مگر نفاست۔۔۔ مگر تہذیب۔  طبیعت میں عجیب سی بے چینی جاگزیں تھی۔ پسلی کی آنکھ والا لحم، ہلکی آنچ پر بھنا ہوا۔۔ نیلی پٹّی والا مشروب۔ ماکولاتِ بہشت  سے لذّت کام و دہن کے باوجود اضطراب وجود میں لہریں لے رہا تھا۔ اس عالم میں اس عالمِ بےبدل، بابائے پُونڈاں حضرت جوش کی یاد آئی۔ یادوں کی برات جیسے تمنائیں بیاہنے پہنچ گئی ہو۔یک لخت جیسے گرہ کھل گئی ہو۔ اضطراب کا ماخذ دریافت ہوا۔ من شانت ہوا۔
فرائڈ یاد آتا ہے۔ ہر کارِ جہاں پُونڈی پر منحصر ہے۔۔۔ کیسی حکمت بیان کی۔ ہم مگر علم کو خانوں میں بانٹتے ہیں۔ انسانی تہذیب کی اجتماعیت کو رد کرتے ہیں۔ کیوں نہ پھرتاریخ کے چوراہے پر لڑکے بالے ہمارا ٹھٹھا اڑائیں۔ کپتان طعام سے فراغت کے  بعد سیاہ بیر پر مشغول تھا۔ نفیس فریم کا چشمہ ناک کی پھننگ پر ٹکائے۔۔ نِمّا نِمّا ہاسا بُلیوں پر سجائے۔۔۔کیسا یقین اور کیسا سکون اس کے چہرے پر تھا۔ مانو جیسے کپل وستو کا سدھارتھ نروان پا گیا ہو۔  من بے اختیار ہوا ۔۔۔  یویو ہنی سنگھ یاد  آیا۔
لَک ٹوئنٹی ایٹ کُڑی دا
فورٹی سیون ویٹ کُڑی دا
کتاب سے کپتان کو مگر شغف نہیں۔ جی کڑا کرکے لیکن دریافت کیا۔ جوشؔ کو جانتے ہو؟ سیاہ بیر سے نظر اٹھا کے کپتان نے فقیر کو دیکھا۔ چہرے پر جیسے رنگین یادوں کا میلہ سجا ہو۔ لان میں انار کے درخت پر بہار تھی۔ اناروں  پر نظر کپتان کی ٹِکی رہی۔ کچھ لحظے توقف کے بعد بولا۔ یادوں کی برات میں نے پڑھی نہیں؛ مجھ پر بیت گئی ہے۔اس عالم میں کپتان کو پہلی دفعہ دیکھا۔ جھُرجھُری آگئی۔ نظر اس کے چہرے پر ٹکنی دشوار۔ ایسا نُور۔۔ ایسا اطمینان۔۔ بایدو شاید۔ یہ غازی یہ تیرے پُراسرار بندے۔۔۔فقیر کے سینے پر سے جیسے سل ہٹ گئی۔ جسم و ذہن پھول کی پتّی ہوا۔
  ؎ اڑتا ہی پھروں ان ہواؤں میں کہیں
زنجیریں ہیں یہ زنجیریں۔ احساسِ گناہ میں ہماری روحیں جکڑتے ہیں۔ جبلّت پر پہرے بٹھاتے ہیں۔ اکل و شرب ضرورت ہے تو پُونڈی بھی ضرورت ہے حضورِ والا۔ آزاد روح اور آزاد فکر۔اس کے سوا اس قوم کی راہِ نجات کوئی نہیں۔پست فکر یہ معاشرے کو کرچکے ۔ تخلیق کا گلا گھونٹتے ہیں۔ فکر کو زنجیر پہناتے ہیں۔ ادبار سے نجات کا وقت آ پہنچا ہے۔ جوشؔ یاد آتا ہے۔
جبلّت سے ہم شرمندہ ہوتے ہیں۔ روح پر گرانی  لاد لیتے ہیں۔ خود کو ہم کوستے ہیں اور اس پر تقلید کے  خوگر مذہب کے سوداگر جو زیست کو عذاب بنانے پر تلے ہیں۔ مردِ آزاد فرائڈ البتہ حقیقت پا گیا تھا۔

خدائی کا سرٹیفکیٹ

دیکھیے، سرٹیفکیٹ جدید زندگی کا لازمی جزو ہیں۔ پیدا ہوتے ہی میونسپل کمیٹی کا سرٹیفکیٹ لینا پڑتا ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ اب قانونی طور پر پیدا ہوچکے ہیں۔یہ نہ ہو تو آپ پیدا ہوکے بھی پیدا نہیں ہوتے کہیں عالم برزخ میں پڑے رہتے ہیں۔ یہی تعلیم کا قصہ ہے۔ پرائمری سے پی ایچ ڈی تک یہ مُوا سرٹیفکیٹ ہی ہے جو ثابت کرتا ہے کہ آپ پڑھے لکھے ہیں اگرچہ آج کل حامل سرٹیفکیٹ پوری  کوشش کرتے ہیں کہ انہیں پڑھا لکھا نہ سمجھا جائے۔ اس کے بغیر چاہے آپ جتنی مرضی قسمیں کھاتے رہیں کوئی یقین نہیں کرتا۔ ریاست بھی اپنے شہریوں کو سرٹیفکیٹ دیتی ہے کہ مسمی فلاں ابن فلاں اسلامی جمہوریہ پاکستان کا شہری ہے اور اسے بھی وہ تمام حقوق (یا ان حقوق کی خلاف ورزیاں) حاصل ہیں جو ایک جدید ریاست کے شہریوں کو حاصل ہوتے ہیں۔
مذہب کا معاملہ البتہ کچھ الگ تھا۔ اس کے لئے کسی سے کوئی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہوا کرتی تھی۔ زبان سے کیا جانے والا اقرار کافی و شافی رہتا تھا۔  کسی کو اس پر شک نہیں ہوتا تھا  نہ کوئی کسی سے سرٹیفکیٹ مانگتا تھا۔ مذہبی پیشواؤں کو البتہ مشغلے کے طور پر دوسروں کے مذہب /مسلک میں مین میخ نکالنے  کی عادت تھی لیکن یہ سب سو کالڈ علمی طور پر ہوتا تھا۔ ہزاروں صفحات اس لٹریچر کے لکھے گئے کہ فلاں کا مذہب /مسلک /عقیدہ ناقص ہے جبکہ  ہمارا ایک دم چوبیس قیراط ہے اور حافظ کا اصلی ملتانی سوہن حلوہ ہے۔ یہ سرگرمیاں مذہبی کتابوں/رسائل اور کبھی کبھار مناظروں تک محدود رہتی تھیں۔ لہو گرم رکھنے کا بہانہ سمجھ لیں کہ علاّمہ صاحب نے بھی پلٹ کر جھپٹنے کی کافی  فضیلت بیان کر رکھی ہے۔ اگرچہ دبے  الفاظ میں "فی سبیل اللہ فساد" کا ذکر بھی کیا  ہے لیکن عموما اس سے چشم پوشی کی جاتی ہے۔بزرگوں کی خطا پر گرفت کرنا ویسے  بھی گستاخی کے زمرے میں آتا ہے۔  کسی بھی مسلک کی مسجد میں نماز پڑھتے ہوئے کسی کو کوئی ڈریا خوف نہیں ہوتا تھا کہ کوئی اس سے سرٹیفکیٹ طلب کرے گا کہ۔۔۔ او  بھیّا کدھر منہ اٹھا کے گھسے آتے ہو؟ تمہارے پاس ہمارا جاری کردہ سرٹیفکیٹ بھی ہے یا نہیں؟
ہر شہر کی چند مساجد میں ایسے شعلہ بیان خطیب ہوا کرتے تھے جن کا ہر جمعہ کاشو ہاؤس فل ہوتا تھا۔ شعلہ بیان خطیبوں کو مذہبی انڈسٹری کے سپر سٹار سمجھ لیں۔ جو بھی بول دیں، سپر ہٹ ہوجاتا ہے۔ عبداللہ حسین کا "اداس نسلیں" شاید چند ہزار لوگوں نے پڑھا ہوجبکہ مظہر کلیم ایم اے کے ولولہ انگیز ناول بلا مبالغہ کروڑوں لوگ پڑھ چکے ہوں گے۔  سلمان خان کی ایک فلم کو اتنے لوگ دیکھتے ہیں جتنے شاید نصیرالدین شاہ کی تمام فلموں کے ناظرین ملا کے بھی نہیں بنتے ہوں گے۔ خیر۔۔۔  لوگ دور دور سے آتے۔ سوا  ڈیڑھ گھنٹے کی انٹرٹینمنٹ سے لطف اندوز ہوتے اور دوبارہ اپنی معمول کی زندگی میں مگن ہوجاتے۔ اچھے وقت تھے کہ شعلہ بیان خطیب بھی ایسے شعلے دہکاتے تھے جن پر باربی کیو ہوسکے نہ کہ گھر جلائے جا ئیں۔ فیصل آباد میں مولانا ضیاءالقاسمی غلام محمد آباد کی گول مسجد میں جمعہ کا خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ پنجابی میں خطاب کرتے اور لوگوں کو ہنساتے تھے،رلاتے بھی تھے۔ ان سے منسوب ہے کہ جمعے کے خطبہ میں حضرت موسی کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کوئلے کا ذکر آیا تو فرمانے لگے،
"واہ اوئے کولیا تیریاں شاناں، جے پَخ گیا تے نورانی ۔۔۔ جے بُجھ گیا تےےےے۔۔ مفتی جعفر حسین"۔
صاف بات یہ ہے کہ ہمیں مذہبی اور ریاستی معاملات کی پیچیدگیوں کا کوئی زیادہ ادراک نہیں ہے۔ نہ ہی ان کو جاننے میں دلچسپی ہے لیکن کچھ تو ایسا ضرور ہوا ہے کہ ایسا روادار معاشرہ جس کے مذہبی پیشوا بھی جگتیں کیا کرتے تھے وہ اس حال کو پہنچ گیا کہ ایک لفظ بھی آپ کا حال مشال جیسا کرسکتا ہے۔   اب آپ کو باقاعدہ ایک مذہبی سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہے۔جس پر واضح الفاظ میں آپ کے ایمان کی گواہی اور تصدیقی مہر ثبت ہو  کہ حامل ہذا سرٹیفکیٹ قادری سُنّی ٹن ٹن ٹناٹن ہے۔  اس کے بغیر آپ کی ساری قسمیں رائیگاں ہیں۔ کوئی بھی ہجوم کسی بھی بازار، درس گاہ میں آپ کو جہنم رسید کرسکتا ہے اور اس کام کو جنت کی یقین دھانی سمجھ سکتا ہے۔ ایمان پر شک کی ایک چنگاری آپ کے جسم کے پٹرول پر پھینکی جاسکتی ہے اور آپ بھک سے اڑ سکتے ہیں۔  جن بزرگوں کے ہاتھ پر برصغیر کے لوگوں نے اسلام قبول کیا وہ بھی آج ہوتے تو شاید انہی لوگوں کی اولادیں ان کو کافر قرار دے کے قتل کردیتیں۔
زاہد حامد، رانا ثناءاللہ وغیرہ  جانے کس بھول میں ہیں یہاں تو خدا کو بھی سوادِ اعظم کی منظور شدہ فرنچائز  سے خدائی کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا پڑے  گا۔

قائدؒ کے ایمان افروز واقعات

جیمز واٹس ہومز مشہور برطانوی محقّق اور تاریخ دان ہیں۔ ان کی مشہور تصانیف میں "اے سٹڈی آف انڈو پاک تھرو آ نیوٹرل آئی"، "ہسٹری از سائنس" اور "جناح - سینٹ آف ٹوئنٹیتھ سنچری" شامل ہیں۔ برّصغیر پاک و ہند کی تاریخ جیمز ہومز کی خصوصی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح ؒ پر لکھی گئی ان کی کتاب خاصے کی چیز ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے قائد بارے بہت سی ایسی باتیں پتہ چلتی ہیں جو آج تک ہم سے بوجوہ چھپائی گئی ہیں۔ 
مثلاً صفحہ نمبر چونتیس پر ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے جیمز ہومز لکھتے ہیں کہ 12 فروری، 1933 کو پیر مہر علی شاہ،  لاہورمیں  نواب افتخار ممدوٹ کی رہائش گاہ  پر قائد سے ملنے آئے توقائد مرکزی دروازے پر ان کا استقبال کرنے کے لئے موجود تھے۔ قائد نے پیر صاحب کے ہاتھ چومے اور انہیں بصد احترام ڈرائنگ روم  میں لے کر آئے۔ پیر صاحب کو صوفے پر بٹھایا اور خود قالین پر آلتی پالتی مار کربیٹھ گئے۔ پیر صاحب کے بصد اصرار پر بھی آپ نے ان کے برابر بیٹھنے سے انکار کردیا۔ آپ نے فرمایا کہ علمائے دین کا رتبہ اس بات کا متقاضی ہے کہ ان کے احترام و ادب میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ رکھا جائے۔ پیر صاحب نے خوش ہوکر آپ کے لئے دعا فرمائی کہ " اے جناح، اللہ تعالی تمہیں ایسی عزت و شرف عطا فرمائے گا کہ رہتی دنیا تک تمہارا نام زندہ و تابندہ رہے گا۔" یہ سن کر قائد کی آنکھیں بھر آئیں اور آپ نے فرمایا کہ میں آج جو کچھ بھی ہوں بزرگان دین کی جوتیوں کے صدقے میں ہوں۔
قائد بارے کچھ حلقے یہ پراپیگنڈہ کرتے ہیں کہ آپ نے ہمیشہ پارلیمانی نظام کی بات کی اور جمہوریت کو پاکستان کے لئے واحد راستہ قرار دیا۔ مسٹر جیمز نے تاریخی حقائق سے اس بات کی تردید کی ہے۔ 2 ستمبر، 1935 کی ایک ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے صفحہ نمبر 69 پر لکھتے ہیں کہ جناح ؒاور اقبالؒ کی ملاقات آگرہ میں ہوئی۔ چوہدری رحمت علیؒ بھی اس ملاقات میں موجود تھے۔ اس ملاقات میں جناح ؒاور اقبالؒ اس بات پر متفق تھے کہ پاکستان کا نظام خلافت ہوگا۔ جناحؒ نے واضح الفاظ میں پارلیمانی جمہوریت کو زہر قاتل اور اسلام کے خلاف  قرار دیا۔ اسی موقع پر اقبالؒ نے مشہورِ زمانہ شعر کہا ۔
جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
چوہدری رحمت علیؒ کہتے ہیں کہ اسی اثناء میں نماز مغرب کا وقت ہوگیا۔ قائد نے جماعت کرائی۔ تلاوت کرتے ہوئے آپ کی ہچکی بندھ گئی  اور آپ روتے روتے نڈھال ہوگئے۔ نماز سے فارغ ہوکے تقریباً تیس منٹ تک آپ اوراد و وظائف میں مشغول رہے۔
وطنِ عزیز میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو نعوذ باللہ قائد کو سیکولر اور لبرل خیالات کا مالک کہتے ہیں۔ مذکورہ واقعہ پڑھنے کے بعد ان کو اپنے خیالات پر نظرثانی کرنی چاہیئے اور قائد ؒ پر بہتان باندھنے سے گریز کرنا چاہیئے۔
قراردادِ پاکستان کی منظوری کے بعد قائدؒ نے ہندوستان کے طول و عرض میں سفر کیے۔ مسلم لیگ کے لئے چندہ اکٹھا کیا اور انہیں پاکستان کے جھنڈے تلے اکٹھا کرنے کے لئے دن رات ایک کردئیے۔  قائدؒ پبلک منی کے معاملے میں بہت حساس تھے۔ اسی کتاب کے صفحہ 92 پر درج ہے کہ شملہ کے دورے میں آپ کی کار کے ٹائر میں ہوا کم ہوگئی۔ ڈرائیور نے پنکچر والی دکان سے ہوا بھروائی اور سیکرٹری سے پیسے لے کر دکان والے کو دے دئیے۔ آپ نے ریسٹ ہاؤس پہنچتے ہی ڈرائیور کو ملازمت سے برطرف کردیا کہ اس نے سیکرٹری سے پارٹی فنڈ کا پیسہ لے کر اس سے ذاتی کار میں ہوا کیوں بھروائی۔ آپ نے سیکرٹری کو بھی سخت وارننگ دی اور اپنی ذاتی جیب سے ہوا بھروائی کے دو آنے پارٹی فنڈ میں جمع کرا دئیے۔
پاکستان بننے کے بعد کابینہ کا پہلا اجلاس کراچی میں ہوا۔ اجلاس کے دوران نوابزادہ لیاقت علی خان نے ملازم سے پانی کا گلاس مانگا تو قائدؒ نے اپنی مخصوص دبنگ آواز میں قائد ملت کو جھاڑ پلادی۔ آپ نے فرمایا کہ یہ ریاست کا ملازم ہے، ہمارا ذاتی ملازم نہیں ہے۔ آپ نے پانی، چائے، کافی جو بھی پینا ہو گھر سے پی کے آیا کریں۔ یہ کام کرنے کی جگہ ہے، کوئی ریسٹورنٹ نہیں ہے۔  اس کے بعد قائدؒ کی زندگی میں کابینہ کے جتنے بھی اجلاس ہوئے، کابینہ کے تمام ارکان اپنے لئے گھر سے پانی، چائے، کافی وغیرہ تھرمس میں ڈال کے لایا کرتے تھے اور وقفے کے دوران پی لیا کرتے تھے۔
کرپشن اور سرکاری وسائل کے ذاتی استعمال کے آپ سخت خلاف تھے۔ جیمز واٹس ہومز نے ایک ایسا واقعہ لکھا ہے جو ناقابل یقین ہے لیکن ایک غیرجانبدار فرد ہوتے ہوئے ان کو غلط بیانی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ ایک اجلاس کے دوران ایک بیوروکریٹ نے آپ سے بال پوائنٹ مانگا۔ آپ نے میز کی دراز سے ریوالور نکال کر اسے شُوٹ کردیا اور یہ الفاظ کہے، "آج تم بال پوائنٹ مانگ رہے ہو، کل کو تم اس ملک کا خزانہ لوٹ کے کھا جاؤ گے۔ میں یہ ہرگز نہیں ہونے دوں گا۔" اس کے بعد آپ نے اس کی جیب سے سرکاری کارتوس کے 3 روپے 25 پیسے بھی نکالے اور خزانے میں جمع کرادئیے۔ اس کی لاش کو سرکاری گاڑی کی ڈگی میں بھیجنے کی بجائے سالم ٹانگہ منگوایا گیا اور اس کا خرچہ بھی متوفّی کے لواحقین سے وصول کیا گیا۔
یہ بالکل واضح ہے کہ قائدؒ اس ملک کو اسلامی اصولوں کے مطابق چلتا ہوا دیکھنا چاہتے تھے نہ کہ پارلیمانی جمہوریت  کے کفریہ نظام پر۔آپ نہ تو سیکولر تھے اور نہ ہی لبرل بلکہ بزرگان دین سے حددرجہ عقیدت رکھتے تھے۔  آپ ایک ایسا پاکستان چاہتے تھے جہاں کرپشن نہ ہو اور فوری انصاف ملے اور کرپشن کرنے کی نیّت کرنے والوں کو بھی موقع پر ہی جہنم رسید کیا جائے۔  آپ کے بعد اس ملک پر قابض مافیا نے آپ کی تعلیمات کو فراموش کردیا اور ہر ایسی چیز پر پابندی لگادی جس سے آپ کے اصل خیالات کا اظہار ممکن ہو۔تمام پاکستانیوں کو جیمز واٹس ہومز کی کتاب کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیئے بلکہ اس کتاب کا ترجمہ کرکے اسے نصاب تعلیم میں شامل کرنا چاہئے۔

دیکھا ایک خواب تو یہ سلسلے ہوئے

خوابوں پر ہمارا یقین کوئی ایسا نہیں رہا کہ ہم انہیں سنجیدہ لیں۔ خواب ہمارے نزدیک وہ فلمیں ہوتی ہیں جو ہم بنانا چاہتے ہیں لیکن بوجوہ بنا نہیں سکتے۔ حاشا و کلا اس سے ہماری مراد علامہ اقبال کا پاکستانی خواب نہیں ہے۔ ویسے بھی وہ جاگتے میں دیکھا جانے والا خواب تھا جسے نیند والے خوابوں کے زمرے میں نہیں رکھا جاسکتا۔ بچپن سے ہی ہم خواب دیکھتے آئے ہیں اور ڈراؤنے، رنگین، سنگین اور غمگین خواب بکثرت دیکھ چکے ہیں۔ ان خوابوں کا مگر ہماری زندگی میں کوئی کردار نہیں رہا اور نہ ہی ہم نے خوابوں کو اجازت دی کہ ہماری زندگی میں دخل اندازی کرسکیں۔  اس تمہید کے بعد یقینا آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ہم آپ کو فرائڈ وغیرہ کے نظریات ِ رنگین و سنگین خواب جات بارے بریف کریں گے تو آپ کا خیال درست نہیں ہے۔اس کے برعکس ہم آپ کو ایک ایسے خواب کی روداد سنانے جارہے ہیں جس نے ہماری زندگی، آدرش، نظریات اور افعال سب بدل کے رکھ دئیے ہیں۔
خواب میں خود کوایک وسیع و عریض سرسبز وادی میں پایا جس کو چاروں اطراف سے بلند و بالا پہاڑوں نے گھیر رکھا تھا۔ وادی کے مشرقی پہاڑ کی  ترائی پر ایک عظیم الشان قلعہ تھا جس تک پہنچنا ناممکن نظر آتا تھا۔ قلعہ کی فصیل پر لاتعداد بُرجیاں تھیں اور اس کے پیچھے قلعے کی مرکزی عظیم الشان عمارت ، جس کا گنبد اور مینار طویل فاصلے سے بھی نمایاں نظر آتے تھے۔ وادی میں گہرے بادل چھائے ہوئے تھے۔آسمانی  بجلی کی کڑک سے دل دہل دہل جاتا تھا۔ وادی کے عین درمیان میں ایک منہ زور ندی بہہ رہی تھی جس کا بہاؤ اتنا تیز تھا کہ اس کو عبور کرنا ناممکن نظر آتا تھا۔ اچانک شمالی  پہاڑ کے جنگلات سے گھوڑوں کے سُموں کی آوازیں قریب آتی محسوس ہوئیں۔ ہم چونک کر اس طرف متوجہ ہوئے  تو کیا دیکھتے ہیں کہ سفید عربی النسل گھوڑوں پر سوار افراد تیز رفتاری سے ہماری طرف بڑھتے  چلےآتے ہیں۔ ان کی فارمیشن ایرو ہیڈ جیسی تھی اور دونوں سروں پر موجود سواروں کے ہاتھ میں پرچم تھے۔ تقریبا بیس فٹ کے فاصلے پرسواروں نے یکدم لگامیں کھینچیں، گھوڑوں نے اگلی ٹانگیں اٹھائیں اور جگر پاش آواز میں ہنہنا کر وہیں رک گئے۔
سواروں کے امیر نے چہرے پر لپٹا ہوا سبز پگڑی کا پلّوہٹایا ۔  سرخ و سفید چہرہ، مہندی رنگی خوبصورت داڑھی میں جگمگا رہا تھا۔  آنکھوں سے شعاعیں نکلتی ہوئی محسوس ہورہی تھیں۔ ہم مبہوت کھڑے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔امیر نے اپنے ہاتھ میں موجود لٹھ کو زور سے زمین پر مارا اورگونجتی ہوئی پروقار آواز میں اپنا نام بتایا  (یہ نام ناگزیر وجوہات کی بنا پر نہیں لکھا جارہا)۔ ہم نے تعظیما ان کو جھک کے سلام کیا اور ان کا ہاتھ چومنے کے ارادے سے آگے بڑھے تو انہوں نے کڑک کر فرمایا۔
"یہیں رُک جا، مُورکھ۔ ہمارے قریب آنے کی جرات مت کرنا۔ تم ایک زبان دراز، بے ہودہ اور بے ادب انسان ہو۔ تمہاری گز بھر لمبی زبان سے ہم کو اتنی تکلیف پہنچی ہے کہ آج ہم تمہاری گوشمالی کو آئے ہیں۔"
خوف سے ہماری گھگھّی بندھ گئی۔ ہم گھٹنوں کے بل جھکے اور عاجزی سے کہا کہ یہ درست ہے کہ ہم زبان دراز اور بے ادب ہیں لیکن آج تک اکابرین و بزرگان بارے کوئی زبان درازی نہیں کی۔ یہ  سن کر امیر کا چہرہ متغیر ہوا انہوں نے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور ہمارے قریب آکر زور سے لٹھ ہماری کمر پر جمائی۔ ہم قلابازیاں کھا کر کئی فٹ دور جاگرے۔ کراہتے ہوئے اٹھے اور عرض کی کہ ہماری خطا تو بتائی جائے۔ امیر نے اپنے ساتھیوں کو ہاتھ کے اشارے سے چہروں سے پگڑیوں کے پلو ہٹانے کا اشارہ کیا۔ دائیں طرف والے  خوبصورت نوجوان نے بلند آواز میں اپنا نام بتایا، "میں محمد بن قاسم ہوں"۔ ہم حیرت سے وہیں جم کر رہ گئے۔ اگلے درمیانی عمر کے سخت جان سوار نے بلند آہنگ سے کہا ، "ہم صلاح الدین ایوبی ہیں"۔ درمیان والے سوار نے جو امیر کے عین پیچھے تھے انہوں نے بتایا کہ وہ قاضی شریح ہیں۔ اگلے دونوں افراد کے چہروں پر غور کیا تو ہم انہیں پہچان گئے۔ وہ قائد اعظم محمد علی جناح اور شاعر مشرق حضرتِ علامہ محمد اقبال تھے۔ دونوں بزرگوں کے چہرے خوبصورت جماعت کَٹ داڑھیوں سے سجے تھے۔ قائد بے نیازی سے بولے،" وَیل۔۔ ینگ مین، یو نوء ہُو آئی ایم"۔ ہم نے عقیدت سے اثبات میں سر ہلا یا۔ حضرت علاّ مہ نے مسکرا کر ہماری طرف دیکھا اور غالب کا مصرع گنگنایا۔۔
 کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا
ہم نے جوابا چھٹی جماعت میں یاد کی گئی نظم کا ایک شعر ان کی نذر کیا
یوں تو چھوٹی ہے ذات بکری کی | دل کو لگتی ہے بات بکری کی
امیر نے اس شعرو شاعری پر اپنی ناگواری کا اظہار دوبارہ لٹھ ہماری کمر پر جما کر کیا۔ ہم کراہتے ہوئے اٹھے اور ہاتھ باندھ کر امیر سے التجا کی کہ ہماری خطا سے آگاہ کیا جائے۔ ابھی ہماری بات ختم ہی ہوئی تھی کہ آسمانی بجلی کی زبردست کڑک سے پوری وادی روشن ہوگئی۔ اسی روشنی میں مغرب کی سمت سے ایک شہسوار تیز رفتاری سے ہماری طرف بڑھتا نظر آیا۔  جوں ہی وہ سوار ہمارے قریب پہنچا تو بادل چھٹ گئے اور چہار سُو شمس کی ضیاء پھیل گئی۔سوار نے اسپِ سیاہ کی لگام کھینچی اور چہرے سے سرخ اور سبز رنگ کا کپڑا ہٹایا تو ہم دم بخود رہ گئے۔ یہ عمران خان تھے!
قائد اعظم نے دایاں ہاتھ اٹھا کر فلک شگاف آواز میں  نعرہء تکبیر بلند کیا اور باقی بزرگوں کے ساتھ ہم نے بھی پھیپھڑوں کی پوری طاقت سے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا۔ خاں صاحب نے زرہ بکتر کے کھیسے سے کالی عینک نکال کر لگائی اور سب بزرگوں کو ہاتھ ہلا کر سلام کیا۔ شہسواروں کے امیر، گھوڑے سے اترے اور ہمارے قریب آکر لٹھ سے ہمیں ٹہوکا دیا اور یوں مخاطب ہوئے۔۔
"اے ناہنجار، بے شعور انسان!تمہاری زبانِ دراز ہمارے سپہ سالار کے خلاف برسوں سے زہر اگل رہی ہے۔عمران خان اس دور میں اسلام اور مسلمانوں کا سپہ سالار ہے۔ یہ وہی بطلِ حریت ہے جو مسلمانوں کو ادبار سے نجات دلانے کے لیے مامور کیا گیا ہے۔ ہم سب (انہوں نے بازو لہرا کر تمام بزرگان کی طرف اشارہ کیا) اس معرکے میں اس کے ساتھ ہیں۔ تم اور تمہارے جیسے عاقبت نااندیش اس عبقری کا ٹھٹھا اڑاتے ہیں۔ اس پر زبانِ طعن دراز کرتے ہیں۔ تمہارے جیسے بے ہودگانِ ملّت یہ نہیں جانتے کہ خان کو اُس عظیم مشن میں پر مامور کیا گیاہے جس پر اس سے پہلے محمد بن قاسم، صلاح الدین ایوبی جیسے مجاہدینِ ملّت فائز رہ چکے ہیں۔ پاکستان کو کس سمت میں لے کر جانا ہے یہ قائد اعظم اور شاعر مشرق سے بہتر کوئی نہیں جانتا اور تم دیکھ سکتے ہو کہ آج وہ کس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کیا اب بھی تم جہالت اور بے شعوری پر قائم رہو گے؟ کیا اب بھی تم اس عظیم انسان کے خلاف زبان اور قلم سے جھوٹ پھیلاؤ گے؟"
یہ کہہ کر انہوں نے ایک دفعہ پھر زور سے لٹھ ہماری پشت پر جمائی۔ ہم اوئی اوئی کرتے کافی دیر اچھلتے رہے۔ جب تکلیف  ذرا کم ہوئی تو ہم بصد ادب عمران خان کی طرف بڑھے ۔ ان کا دایاں ہاتھ تھام کر چُوما۔ ان کے گھوڑے کی گردن پر ہاتھ پھیرا اور اپنی زبان درازیوں کی معافی مانگ کر اپنی بیعت میں قبول کرنے کی درخواست کی۔ خان صاحب نے بصد مہربانی ہمیں اپنی بیعت میں قبول کیا اور لالے عطاءاللہ کا "بنے گا نیا پاکستان" گا کر سنانے کا کہا۔ تین ضرباتِ لٹھ کے بعد ہماری آواز میں لالے جتنا ہی سوز آچکا تھا۔ ہم نے مکھڑا ہی گایا تھا کہ سب بزرگان آبدیدہ ہوگئے۔ پگڑی کے پلو سے آنکھیں  پونچھتے ہوئے ہمیں گانا بند کرنے کا اشارہ کیا۔
بزرگان کے امیر نے واپس جانے سے پہلے ہمیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ صرف خواب نہیں ہے۔ تنبیہ ہے۔ ایسا نہ ہو کہ بیدار ہونے کے بعد تم اسے بھول جاؤ اور اپنی پرانی حرکات پر اتر آؤ۔ یہ کہہ کر انہوں نے لٹھ بلند کی ہی تھی کہ ہم نے ہاتھ جوڑ دئیے کہ انشاءاللہ ہم دوبارہ کبھی ایسی شنیع حرکات کا ارتکاب نہیں کریں گے۔ تس پر سب بزرگان بشمول خان صاحب نے اپنے اسپانِ تازہ دم کو ایڑیں لگائیں اور چشم زَدن میں پہاڑی جنگلات میں گم ہوگئے۔
اس موقع پر ہماری آنکھ کھلی۔ ہم نے اس خواب کو بھی آج تک دیکھے گئے باقی خواب جات کی طرح اہمیت نہیں دی۔ بستر سے اٹھے تو ایک دم کمر اور پشت پر ٹیسیں محسوس ہوئیں۔ سائیڈ ٹیبل پرنظر پڑی تو وہاں ایک خوبصورت سرخ اور سبز رنگ کا چھوٹا سا باکس دیکھ کر حیرانی ہوئی۔ اسے کھول کر دیکھا تو اس میں چھوہارے، بادام اور لڈو موجود تھے۔ یہ بِد کا ڈبّا لگ رہا تھا۔ ہمارے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ فورا  قمیص اتار کے آئینے کے سامنے گردن موڑ کر کمر کو دیکھنے کی کوشش کی۔ کمر پر نیل نظر آرہے تھے۔
بزرگ جاتے ہوئے دو نشانیاں چھوڑ گئے تھے!

جھیل، چِکّڑ چھولے اور چیمہ

میں نے نظریں جھکائیں۔ ارمانی کی شرٹ پر دہی پودینے کی چٹنی کا دھبہ دیکھا اور گہری سانس لے کر نان چھولے کا آخری بائٹ لیا  اورویٹر کو سپرائٹ اور کالانمک  لانے کا آرڈر دے دیا۔ لا گورڈیا جھیل میں لہریں اٹکھیلیاں کر رہی تھیں۔ ایک شوخ  لہر باقی لہروں سے نظر بچا کے بار بار ساحل تک آتی اور ترشے ہوئے پتھرکو چوم لیتی۔ پتھر بے خود ہو کراس کی طرف لپکتا۔ اس کو بانہوں میں لینے کی کوشش کرتا  لیکن یہ انگلی سے نہ نہ کا اشارہ کرتے بھاگ جاتی۔ یہ منظر اتنا رومانی  تھا۔ یہ اتنا  خواب ناک تھا کہ میں 6 نان کھا گیا۔ میں نے چکڑ چھولوں کی چار پلیٹیں کھالیں جن میں سات ابلے ہوئے انڈے بھی تھے۔ میرے سٹامک میں پین ہونے لگی۔ ہر محبت کا انجام پین ہوتا ہے۔یہ مجھے لاگورڈیا جھیل کے کنارے بیٹھ کر نان چھولے کھاتے ہوئے  سمجھ آیا۔
یہ ریسٹورنٹ عین لاگورڈیاجھیل کے کنارے  ایک جھکی چٹان پر واقع ہے۔ یہ چٹان جھیل پر بالکل ایسے جھکی ہوئی تھی جیسے کسی عاشق  کو زمانوں بعد اپنے محبوب  کا دیدار  نصیب ہو اور وہ اس کے حضور جھک جائے ۔ اس ریسٹورنٹ کی سٹوری بہت انٹرسٹنگ ہے۔ یہ نیامت چیمے کا ریسٹورنٹ ہے ۔ یہ لاگورڈیا تک کیسے پہنچا، جھیل  کنارے اس کو ریسٹورنٹ بنانے کا خیال کیسے آیا۔ اس کے لیے آپ کو چیمے کی سٹوری جاننا بہت ضروری ہے۔
یہ  لالے موسے کے ریلوے سٹیشن پر نان پکوڑے بیچتا تھا۔ یہ غریب تھا۔ یہ ہڈحرام اور بے ایمان تھا۔ یہ باسی پکوڑے بیچ دیتا۔ یہ بقایا پیسے دینے میں حیل حجت کرتا حتی کہ گاڑی چل پڑتی۔ مسافر اس کو کھڑکیوں سے سر نکال نکال کے گالیاں دیتے۔ یہ ڈھیٹ بن کر ہنستا رہتا۔ ریلوے سٹیشن کے سارے صادق اور امین اس کو سمجھاتے۔ یہ اس کو گندی گالیاں نکالتے۔ یہ اس کو کہتے، بے ایمانی سے کبھی فائدہ نہیں ہوتا۔ جب تک تم تازے پکوڑے نہیں بیچو گے۔ مسافروں کا بقایا نہیں دوگے۔ تم کبھی ترقی نہیں کرسکتے۔ چیمہ آگے سے ان کو ہنس کے دکھا دیتا۔ یہ ان کو عرفان قادر والے اشارے کرتا۔ یہ ان کے چھابے الٹا دیتا۔ یہ صادق اور امین  مایوس  ہوگئے۔ انہوں  نے چیمے  سےکچّی کرلی۔ یہ اس کو بلانا چھوڑ گئے۔
لالے موسے کے سٹیشن پرریل گاڑیوں کا جھمگٹا لگا رہتا ہے۔ یہاں ہر وقت رش رہتا ہے۔ یہ وسط اکتوبر کے دن تھے۔ ہوا میں بھینی بھینی خنک خوشبوئیں تھیں۔ آتی جاتی ٹرینوں میں  لڑکے،  لڑکیاں اکھ مٹکّوں میں مشغول تھے۔ تاروں پر بیٹھے چڑے، چڑیوں سے رومانس کررہے تھے۔ جنہیں دیکھ کر بچے حیران ہوتے تھے کہ یہ چڑیاں کیوں لڑ رہی ہیں۔ یہ نہیں جانتے تھے ۔ یہ پیار ہے یہ محبت ہے۔ یہ لڑائی نہیں ہے۔ نیامت چیمہ خیبر میل کو بھگتا کے فارغ ہی ہوا تھا۔ اس نے فیقے کے ٹی سٹال سے چائے اور کیک رس لیے۔ یہ بنچ پر بیٹھ کر کھانے لگا۔ اچانک اس کی نظر ایک اخبار کے ٹکڑے پر پڑی۔ اس نے اٹھا کر دیکھا ۔ یہ ضرورت رشتہ کا صفحہ تھا۔ یہ اس کو پڑھنے لگا۔ یہ لاگورڈیا میں رہائش پذیر ایک خاتون کا اشتہار تھا۔ خوبرو، خوب سیرت، والدین انتقال کرچکے، بے تحاشہ جائیداد کی واحد وارث، نیک دل، صادق اور امین کی طالب۔  چیمہ اس اشتہار میں ایسا ڈوبا کہ اس کا کیک رس چائے میں ڈوب گیا۔ یہ فورا اٹھا ۔ نان پکوڑے سمیٹے اور تیر بن کے نکلا ۔یہ اپنے لنگوٹیے تجمل کمبوہ کے گھر پہنچ گیا۔ 
اس نے کمبوہ سے کہا، 'میرا ٹَیم آگیا ہے جِیلے۔ خدا نے میری سن لی ہے۔' چیمے نے کمبوہ سے اس اشتہاری حسینہ کو خط لکھوایا۔ تجمل کمبوہ خواتین کے رسالوں میں شگفتہ نورین کے نام سے کہانیاں لکھتا تھا۔ اس نے پھڑکتا ہوا خط لکھ کے چیمے کے حوالے کردیا۔
خط کا جواب ایک ہفتے میں ہی آگیا۔ اشتہاری حسینہ نے اپنی تصویر، نام، فون نمبر بھی بھیجا۔ اس کا نام کوثر شہزادی تھا۔ یہ خط پڑھتے ہی چیمے کی محبت میں مبتلا ہوگئی۔ کوثر کی تصویر چیمے کو روغنی نان پر دھرے تازہ پکوڑوں جیسی لگی۔ یہ پہلی نظر میں کوثر کا دیوانہ ہوگیا۔ دو لیٹرز اور پانچ ٹرنک کالز کے بعد کوثر اور چیمہ، کوثر چیمہ بننے کے لئے بے تاب ہوگئے۔ نیامت چیمے کو لاگورڈیا کا ویزا ملا تو اس نے پورے محلے میں تازہ پکوڑے بنا کے بانٹے۔ یہ اتنا ہیپی ہوگیا کہ اس نے سٹیشن والے صادق، امینوں سے بھی صلح کرلی۔ جس دن چیمے نے کراچی جانے والی ٹرین میں پاؤں دھرا، پورا سٹیشن اس کے استقبال کے لیے امڈ آیا۔  چیمے نے ثابت کردیا کہ آنسٹی از ناٹ بیسٹ پالیسی، لَوّ از بیسٹ پالیسی۔
یہ ریسٹورنٹ اسی چیمے کا ہے۔ یہ لاگورڈیا جھیل کے کنارے بھی نان پکوڑے اور چِکّڑ چھولے بیچتا ہے۔ پوری دنیا سے محبّت کے پنچھی یہاں آتے ہیں۔ یہ محبت کی نشانی جھکی ہوئی چٹان پر بیٹھتے ہیں۔ یہ تلوں والے نان اور چِکّڑ چھولے کھاتے ہیں۔ یہ سِی سِی کرتے ہیں۔ یہ سپرائٹ میں کالانمک ڈال کے پیتے ہیں ۔ یہ پتھروں اور لہروں کی بالغانہ فلم انجائے کرتے ہیں۔ یہ منظر ان کے یادوں کا مستقل حصہ بن جاتا ہے۔ زندگی میں جب بھی انہیں محبت ہوتی ہے۔ انہیں چِکّڑ چھولے یاد آجاتے ہیں۔ انہیں پتھر اور لہریں یاد آجاتی ہیں۔ یہ لاگورڈیا اور نیامت چیمے کے مشکور ہوجاتے ہیں۔ 
نیامت چیمہ آج کا شاہجہاں ہے جس نے کوثر شہزادی کی محبت  میں چِکّڑ چھولوں کا تاج محل بنادیا ہے۔  میں نیامت چیمے کو سلیوٹ کرتا ہوں!

مُودے کی کہانی، بِلّو کی زبانی

عرش  سے نالوں کا جواب آتا ہے۔ آہیں دل پگھلا دیتی ہیں مگر انجام سے بے خبر یہ سرپٹ دوڑتے ہرکارے۔حیف اس قوم پر جو سیٹیاں مارنے کا الزام لگائے۔۔۔ مُودا  دھیں پٹاس بے قصور ہے حضورِ والا۔۔۔
ربع صدی  ہوتی ہے؛ طالبعلم ساتویں درجے میں فیل ہوا تو دل خون ہوا ، تشریف ابّا جی خلد آشیانی نے خونم خون کی۔طیش اور مایوسی۔ کوئی راہ سجھائی نہ دیتی تھی۔
۔ ہیولیٰ برقِ خرمن کا ہے خونِ گرم دہقاں کا
جی میں آیا کہ یہ جہاں ترک کیا جاوے اور کہیں دور بستی بسائی جائے۔ فقیر گلی میں نکلا تو بِلّو پر نگاہ پڑی۔ روپ اور  رنگ کی پُڑیا۔ واٹ 69 کی بظاہر سر بمہر بوتل۔ چشمِ پُر فتن۔ جدھر نظر اٹھائے، کشتوں کے پشتے لگائے۔ریشمی لاچے سے جھانکتی روپہلی پنڈلیاں۔ چال ایسی کہ بقول یوسفی، دو مٹکے مٹک رہے ہوں۔ چاچے جیرے کے تھڑے پر فدوی ڈھیر ہوا۔ سانس بے قابو، جذبات میں ہنگام۔ ہمت مجتمع کی اور گویا ہوا ، "اے حسینہء خوش اندام، کدھر کا قصد ہے؟"۔ بِلّو نے ایک نگاہِ غلط انداز فقیر پہ ڈالی اور بزبان مادر ہم سے ایسا سوال کیا جس میں ہماری عمر کا طعنہ تھا اور حسّاس اعضاء کی جبلّی حرکات بارے شکوک ۔طالب علم شرم سے پانی پانی ہوا۔ خاموشی شعار کی۔ تِس پرحُسن کی اُوزی نے موڈا مارا اور چمک کے فرمایا، "مُودے کول چلّی آں۔ کوئی تکلیف؟"۔
مُودا دھیں پٹاس، وہ مرِد جری کہ جس کی پہنچ سے  ماجھے کاکوئی ڈنگر محفوظ نہ تھا۔ ایسی آہو چشم بھینسیں چشمِ زدن میں کھول لیتا جیسے بنارسی ٹھگ آنکھ سے سُرمہ چرا  لیا کرتے تھے۔ مردِ خود دار و خُود بیں۔اقبال کا شاہیں۔ کبھی کسی کے سامنے دستِ سوال درا ز نہ کیا۔ ہمیشہ چھین لیا۔  شجاعت کا جوہر بس چند جواں مردوں کا زیور ہوا کرتا ہے۔ لوگ مگر سمجھتے نہیں۔دل مگر مُودے کا گداز تھا۔ شبِ بھینس کھلوائی مناکے آتا تو عجب ہی ترنگ ہوتی۔ چال میں نرالا بانکپن ، آواز ایسی کہ دلوں کو چیر دے۔
شام کو ٹھنڈی ہوا ان کے لئے بہتی ہے | جن کے محبوب بہت دور کہیں رہتے ہیں
حاسد پیٹھ پیچھے زبان طعن دراز کرتے کہ مُودے کا محبوب بھینس ہے۔ ۔حذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریں۔۔۔نگہ پاکباز اور لنگوٹ آہنی۔ شورہ پشت بِلّو جو کسی کو پٹھے پر ہاتھ دھرنے نہیں دیتی تھی؛ مُودے پر دھیں پٹاس تھی۔ مُودا مگر راہِ سلوک کا مسافر۔ دنیاوی لذائذ سے کنارہ کش۔ نظر جھکا کے بِلّوکے سب وار سہہ جاتا۔ عورت کی انا، حضورِ والا، عورت کی انا۔ زخمی ناگن،  بِلّو بن چکی تھی۔ وہ دوشیزہ کہ 12 سے 72 تک سب مرد جس کے لئے مرے جارہے ہوں اور ایک جواں مرد اسے پرِ کاہ جیسی اہمیت نہ دے؟  توہین ہے یہ حُسن کی توہین۔
ساون کی ایک حبس بھری صبح چوپال کے سامنے بِلّوفریاد کرتی پائی گئی۔ تریا چلتر۔ ہجوم اکٹھا کرلیا گیا۔ چلاّ چلاّ کر مُودے پر بہتان باندھے گئے۔ تان اس پر ٹوٹی کہ آتے جاتے مجھے سیٹیاں مارتا ہے۔ حضورِ والا مُودے کی تو سیٹی نکلتی ہی نہیں؛ وہ کیسے سیٹیاں مار سکتا ہے؟  بہتان ہے، صریح بہتان۔ جھوٹ ہے ، سفید جھوٹ۔
عرش  سے نالوں کا جواب آتا ہے۔ آہیں دل پگھلا دیتی ہیں مگر انجام سے بے خبر یہ سرپٹ دوڑتے ہرکارے۔حیف اس قوم پر جو سیٹیاں مارنے کا الزام لگائے۔۔۔ مُودا  دھیں پٹاس بے قصور ہے حضورِ والا

جندل، چلّی ملّی اور کمبلے

چیمپئینز ٹرافی کی فاتح ٹیم کے اعزاز میں وزیر اعظم ہاؤس میں تقریب جاری تھی۔وزیر اعظم بہت ہشاش بشاش نظر آرہے تھے۔ اپنی تقریر میں انہوں نے مقتدر حلقوں پر پھبتیاں بھی کسیں اور خود کو نام نہاد وزیر اعظم قرار دیتے ہوئے بظاہر کرکٹ ٹیم لیکن اصل میں مقتدر حلقوں کو وزیر اعظم قرار دیا۔ انہوں نے ایک اور بہت اہم بات کہی کہ "اصل ہیروز آپ ہیں۔ ہم تو آپ کے پرستار ہیں"۔ آن دا فیس آف اٹ یہ ایک خراج تحسین ہے لیکن اس کے پیچھے ایک پوری کہانی ہے۔ آئیے اس کہانی کی پرتیں کھولتے ہیں۔
یہ 26 اپریل کی ایک سہانی دوپہرکا منظر ہے۔ مری کے سٹیٹ گیسٹ ہاؤس کے لان میں دو افراد چہل قدمی کرتے ہوئے گفتگو کررہے ہیں۔ یہ وزیراعظم اور ہندستانی صنعتکار سجن جندل ہیں۔ مسٹر جندل جیب سے ایک گلابی کاغذ کا پرزہ نکال کر وزیر اعظم کی طرف بڑھاتے ہیں۔ وزیر اعظم ویسٹ کوٹ کی اوپری جیب سے قلم نکال کے اس پر کچھ لکھ کے واپس کردیتے ہیں۔ جندل اس کو ایک لحظہ دیکھتے ہیں اور پھر کاغذ کے اس ٹکڑے کو منہ میں ڈال کے ٹافی کی طرح چبا کے نگل جاتے ہیں۔ کاغذ کے اس پرزے پر " چیمپئینز ٹرافی" لکھا ہوا تھا!
اس کاغذ کی کہانی بھی دلچسپ ہے۔ یونیورسٹی آف تل ابیب کے ڈیپارٹمنٹ آف ایڈیبل سائنسز کے سربراہ ایریل بیگن نے ایک ایسا کاغذ ایجاد کیا جس کا ذائقہ مشہور زمانہ چلّی ملّی کینڈی کی طرح ہے۔اس کا نام ایڈیبل پیپر رکھا گیا۔ ساری دنیا کے جاسوس کہیں نہ کہیں پکڑے جاتے ہیں لیکن موساد کے ایجنٹ کبھی نہیں پکڑے جاتے۔ اس کی وجہ یہی کاغذ ہے۔ موساد کے ایجنٹ کسی بھی مشن پر تمام کمیونیکیشن اسی پیپر پر کرتے ہیں اور پیغام ریسیو کرنے کے بعد اس کو کھا لیتے ہیں اور کسی بھی قسم کا الیکٹرانک یا دستاویزی ثبوت نہیں چھوڑتے۔
سجن جندل کے خفیہ دورے کے متعلق ہر طرح کی قیاس آرائیاں کی گئیں۔ کوئی اسے ڈان لیکس سے جوڑتا رہا اور کوئی وزیر اعظم کے ہندوستانی میں موجود کروڑوں ڈالرز کے کاروبار کا ذکر کرتا رہا۔ لیکن اصل معاملہ بہت الگ اور گہرا تھا۔ ڈان لیکس میں مقتدر حلقوں کی جمہوریت سے وابستگی کے عزم کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے حکمرانوں نے ایک اور منصوبہ بنایا ۔ جس میں پانامہ کے معاملے کو بھی ڈان لیکس کی طرح جمہوریت کے خلاف سازش کا رنگ دینے کا فیصلہ ہوا۔ لیکن بہت کوشش کے باوجود بھی آزاد و خودمختار عدلیہ کو جھکایا نہ جا سکا ۔ پانامہ کا فیصلہ نوشتۂ دیوار نظر آنے لگا تو اگلے منظر نامے کے لئے ایک گھناؤنی سازش رچائی گئی۔  سجن جندل کے ذریعے وزیر اعظم نے اپنے دوست اور سٹریٹجک پارٹنر نریندر مودی کو پیغام بھجوایا کہ کسی بھی طرح پاکستان کو چیمپئینز ٹرافی جتوانے کا بندوبست کریں ورنہ معاملات ہمارے ہاتھ سے نکل جائیں گے ۔ مودی جی نے کرکٹ ایکسپرٹس کو بلا کے بریفنگ لی جس میں ان تمام ٹیموں کا اندازہ لگایا گیا جن سے پاکستان کا میچ ہوسکتا تھا۔ ان ایکسپرٹس میں کیرتی آزاد، شیو لال یادیو، آکاش چوپڑا اور مدن لعل شامل تھے۔ گروپ سٹیج کی ٹیموں سے رابطہ کیا گیا۔ ساؤتھ افریقہ نے صاف انکار کردیا۔ سیمی فائنل اور فائنل کی متوقع ٹیموں میں انگلینڈ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ شامل تھیں۔ گوروں کی مزاحمت سے نبٹنے کے لئے مودی جی نے آخرکار اسرائیلی وزیر اعظم سے رابطہ کیا اور انہیں ساری صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے مدد کی درخواست کی۔  یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ دنیا کا اصل حکمران اسرائیل ہے۔ ساری دنیا کا میڈیا، بزنس، مالیاتی ادارے سب کو کنٹرول کرنے والے یہودی ہیں۔ جہاں انہیں اپنے مفادات خطرے میں نظر آتے ہیں وہاں یہ پوری قوت سے ضرب لگاتے ہیں۔ اس معاملے میں بھی یہی ہوا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے متعلقہ ممالک کی حکومتوں سے رابطہ کرکے انہیں سخت الفاظ میں پیغام دیا کہ اگر ان کی ٹیم پاکستان سے نہ ہاری تو انہیں اس کی ناقابل تلافی قیمت چکانی پڑے گی۔
ہنگری کے شہر بوڈاپسٹ میں ہونے والی ایک پارٹی میں سجن جندل مدہوش ہو کر اس منصوبے بارے بول پڑے۔ روس کے مشہور اخبار ماسکوپوسٹ کے سٹار رپورٹر نیکولائی کرامازوف تک یہ خبر پہنچی  توانہوں نے آن لائن ایڈیشن میں یہ خبر چھاپ دی۔ دہلی سے تل ابیب تک تھرتھلی مچ گئی۔ اسی وقت کرامازوف کی بیٹی کو ماسکو سے اغوا کرلیا گیا اور خبر ہٹانے کی شرط پر اس کو رہا کیا گیا۔ یہ خبر فورا ہٹا لی گئی اور اگلے دن پرنٹ ایڈیشن میں بھی شامل نہیں کی گئی۔ اس خبر کے سکرین شاٹس انٹر نیٹ پر دستیاب ہیں۔
چیمپئینز ٹرافی شروع ہوئی۔ پہلے ہی میچ میں ہندوستان نے پاکستان کو بری طرح ہرادیا۔ رینکنگ اور موجودہ ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے یہ نتیجہ غیر متوقع نہیں تھا۔ سابقہ کرکٹرز نے کرکٹ بورڈ پر کڑی تنقید کی ۔ عمران خان نے اپنی ٹوئٹ  میں نواز شریف اور نجم سیٹھی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہیں پاکستانی کرکٹ کو تباہ کرنے کا ذمہ دار قرار دیا۔ اس کے بعد جو ہوا وہ یہود و ہنود کے پلان کے عین مطابق تھا۔ پاکستان کی اوسط سے کم درجے کی بالنگ نے جنوبی افریقن بیٹنگ لائن کے پرخچے اڑا دئیے۔ آملہ، ڈوپلیسی، ڈی کاک، ڈی ویلئیرز جیسے بلّے بازوں کو اڑا کے رکھ دیا۔ سری لنکا کے خلاف میچ میں جیسے سرفراز کے کیچز چھوڑے گئے ان پر کرکٹ ماہرین اب تک حیران ہیں۔ انگلینڈ کے خلاف سیمی فائنل میں بین سٹوکس جیسا کوالٹی آل راؤنڈر ایک بھی باؤنڈری نہ لگا سکا۔ جبکہ اسی وکٹ پر اظہر علی چوکے پہ چوکے لگاتے رہے۔ حتّی کہ حفیظ جیسے کھلاڑی بھی انگلینڈ کے ورلڈ کلاس بالرز کو کلب لیول کے بالرز کی طرح ٹریٹ کررہے تھے۔ یہ سب الارمنگ علامات تھیں لیکن کوئی بھی مشہور کرکٹ تجزیہ نگار اس کی تفصیل میں نہیں گیا۔ سب پاکستانی ٹیم کے فائٹ بیک کی توصیف کرتے رہے۔  اب فائنل درپیش تھا!
پچھلے 25 سال میں کرکٹ کی دنیا میں میچ فکسنگ اور جوئے کا کینسر پھیلا ہوا ہے۔ بہت کم کھلاڑی ایسے ہیں جو اس میں سے کلین ہوکر سامنے آئے ہیں۔ انیل کمبلے ان میں سے ایک ہیں۔ اظہر الدین، جدیجہ، سچن ٹنڈولکر، دھونی، رائنا جیسے سٹارز نے اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے لیکن کمبلے نے ہمیشہ صاف کرکٹ کھیلی۔ انیل کمبلے کو کوچ بناتے وقت بھی ٹیم میں ان کی مخالفت موجود تھی۔ ان کے ہوتے ہوئے کھیل میں ہیرا پھیری ممکن نہیں تھی۔  چیمپئینز ٹرافی کے فائنل سے قبل میٹنگ میں جب مودی جی کا پیغام پڑھ کے سنایا گیا تو کمبلے نے اس پر عمل کرنے سے صاف انکار کردیا۔ ان کا کہنا تھا انہوں نے ساری زندگی فئیر گیم کھیلی ہے اور وہ کسی بھی قسم کی فکسنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔ انہوں نے کھلاڑیوں کو سخت وارننگ دی کہ اگر انہوں نے جان بوجھ کر خراب کھیل پیش کیا تو وہ اس کو برداشت نہیں کریں گے۔ صورتحال بگڑتی دیکھ کر دھونی نے مودی جی سے رابطہ کیا اور انہیں کمبلے کے موقف سے آگاہ کیا۔ مودی جی نے اسی وقت ٹیم میٹنگ میں کال کی ۔ فون کا سپیکر آن تھا۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں ٹیم کو حکم دیا کہ کل ہر صورت فائنل ہارنا ہے۔ اگر کسی کو یہ منظور نہیں تو وہ ٹیم چھوڑ کر جا سکتا ہے۔ کمبلے نے اسی وقت اپنا استعفی لکھا اور ٹیم مینجمنٹ کے حوالے کرکے اپنے کمرے میں چلے گئے۔
فائنل کا آغاز بھی سنسنی خیز تھا۔ بمراکی گیند پر فخر زمان آؤٹ ہوئے تو تھرڈ امپائر نے نوبال قرار دے دی۔ سکرین پر چلتے پھرتے ڈائنو سارز دکھائے جاسکتے ہیں تو ایک سفید لائن کو دو تین انچ آگے پیچھے کرنے میں کیا مشکل ہوسکتی ہے۔ پاکستانی اوپنرز کو یقین دلایا گیا کہ پہلے 20 اوورز میں انہیں کسی بھی طرح آؤٹ قرار نہیں دیا جائے گا۔ یہی وجہ تھی کہ اظہر علی بھی کھل کر کھیلے۔ سب سے دلچسپ چیز حفیظ کے چھکے چوکے تھے۔ کرکٹ سے دلچسپی رکھنے والے جانتے ہیں کہ حفیظ نے سارے کیرئیر میں کبھی ایسے بیٹنگ نہیں کی۔ ہندوستانی بالرز کو باقاعدہ ہدایات دی گئی تھیں کہ ہر پاکستان بلے باز کے سٹرانگ پوائنٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے بالنگ کریں تاکہ وہ اپنے فیورٹ شاٹس آزادی سے کھیل سکیں۔ ہندوستانی بیٹنگ کا پاور ہاؤس بھی پاکستانی ایوریج بالنگ کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوا۔ یووراج سنگھ نے ہاتھ کھولنے کی کوشش کی تو انہیں ایل بی ڈبلیو قرار دے دیا گیا۔ پانڈیا کو جدیجہ نے رن آؤٹ کرا  یا۔ بالآخر پاکستان نے چیمپئینز ٹرافی جیت لی۔
اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ 92 کا ورلڈ کپ  ملک و قوم کی یکجہتی کی واحد وجہ ہے۔ جس نسل کے والدین کی 92 میں شادی بھی نہیں ہوئی تھی وہ بھی اس ورلڈ کپ فتح کے دیوانے ہیں۔ ملک و قوم کو متحد رکھنے والی اس علامت پر ضرب لگانے کے لئے چیمپئینز ٹرافی جیتنے کی سازش کی گئی۔ 92  کی طرح شروع میں بری طرح میچ ہارا گیا۔ پھر اس کے بعد فائٹ بیک کا ڈرامہ سٹیج کیا گیا  اور بالآخر فائنل جیت کے اپنے تئیں ورلڈ چیمپئینز  بن گئے۔ نجم سیٹھی اور کرکٹ بورڈ کی تعریفیں ہونے لگیں۔ یہ سب تیاریاں متوقع پانامہ فیصلے کے بعد ہونے والے انتخابات کی ہیں۔ تاکہ کہا جاسکے کہ ورلڈ کپ تو سرفراز نے بھی جیتا اور ہمارے دور میں جیتا ۔ اس سازش  سے ایک دفعہ پھر عمران خان کا رستہ کاٹنے کی کوشش کی جارہی ہے  لیکن سازشی ہمیشہ کی طرح ایک دفعہ پھر ناکام و نامراد ہوں گے۔

ورلڈ کپ کا اصلی فاتح صرف ایک کپتان ہے۔ ہمارا کپتان۔۔ عمران خان