مقطع میں آ پڑی ہے سُخن گسترانہ بات

قادیانی/مرزائی/احمدی احباب بارے پھر بحث چھڑی ہے کہ کسی کو کافر کیوں قرار دیا جائے؟ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔ آئین میں ترمیم کریں اور انہیں مسلم قرار دے دیں۔ جب تک ریاستی قانون انہیں غیرمسلم قرار دیتا ہے تب تک اسے ماننا پڑے گا۔
دوسرا رخ اس کا یہ کہ اس بنیاد پر ان سے امتیازی سلوک کیا جائے یا تشدّد کی کسی بھی قسم سے کام لیا جائے تو یہ مذہی، قانونی، اخلاقی کسی بھی رُو سے نہ تو جائز ہے اور نہ ہی اس کی کوئی توجیہہ یا حمایت کی جاسکتی ہے۔ یہ پاکستان کے شہری ہیں اور انہیں وہی حقوق (یا ان کی حق تلفی) حاصل ہیں جو عمومی طور پر ہم سب کو حاصل ہیں۔
تیسرا رُخ یہ کہنا کہ بھُٹّو نے مولویوں کے دباؤ میں یہ فیصلہ کیا تھا، قطعی غلط ہے۔ یہ انیس سو چوہتّر کا واقعہ ہے جب بھٹّو اپنے اقتدار کے عروج پر تھے۔ جن مولویوں کے دباؤ کی بات کی جاتی ہے، انہیں اسمبلی سے ڈنڈا ڈولی کرکے باہر پھینک دیا جاتا تھا۔ جو بات ہم سمجھنا نہیں چاہتے وہ یہ کہ ان کے پیشوا (موروثی)  کو پارلیمان نے اپنا موقف بیان کرنے کا پورا موقع دیا اور ان کا مؤقف ظاہر و باہر اور آن ریکارڈ ہے کہ جو مرزا صاحب کو نبی اور مسیح موعود نہیں مانتا، ان کے نزدیک وہ ان کے دائرہ اسلام سے خارج اور کافر ہے۔ ان کی حق گوئی کی داد دی جانی چاہیے کہ جس بات کو انہوں نے درست سمجھا اسے ڈنکے کی چوٹ پر ریاست کی مقنّنہ  کے سامنےبغیر کسی ہچکچاہٹ بیان کیا۔ اسی اصول کو سامنے رکھتے ہوئے مقنّنہ نے بھی وہ فیصلہ کیا جسے وہ حق سمجھتی تھی۔ جمہوری اصول کے تحت اس فیصلہ کا احترام تب تک کیا جانا چاہیے جب تک اسے وہی مقنّنہ بدل نہ دے۔
قادیانی احباب اپنے پیشواؤں  کے جیسے مقلّد ہیں وہ شاید ان احباب کو جاننے والے حضرات بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ جائز اور اکثر ناجائز طور پر ہم مولویوں پر تنقید کرتے ہیں اور ان میں لبرل حضرات خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ لیکن آج تک کبھی کسی نے، قادیانی احباب جس پیشوائی چنگل میں جکڑے ہیں، اس پر ایک لفظ نہیں لکھا۔ یہ بھی مذہبی پیشوائیت کے ہاتھوں اتنے ہی ڈسے جا رہے ہیں جتنے ہم ہیں شاید اس سے بھی زیادہ۔ ہم تو اپنے مولویوں پر ہر قسم کی تنقید اور ان کا پوسٹمارٹم کرتے رہتے ہیں لیکن یہ اس پیشوائیت کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھاتے یا اٹھا نہیں سکتے۔

ایک زمانہ تھا جب ہم ان دوستوں بارے بہت سخت زبان استعمال کرتے تھے اور مرزا صاحب بارے وہ سب کچھ کہتے تھے جو یقینا ہم اپنے بارے سننا نہیں چاہیں گے۔ لیکن آہستہ آہستہ یہ جانا کہ نفرت کاشت کرنے سے تشدّد کی فصل اگتی ہے اور تشدّد زدہ معاشرہ معذور ہوجاتا ہے۔ تو اب کوشش یہ ہوتی ہے کہ اپنے عقیدے پر رہتے ہوئے، مناسب انداز میں اپنی رائے بیان کردی جائے۔

آخری ٹُل

آپ سلطان کو دیکھ لیں۔ یہ بانسانوالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد نمبردار کے مُنشی تھے۔ یہ بہن بھائیوں میں وچکارلے تھے۔ یہ بچپن سے ہی کھیل کُود کے شوقین تھے۔ ان کی والدہ سے روایت ہے کہ قبل از پیدائش بھی کافی اودھم مچاتے تھے۔ بانسانوالہ کی گردونواح میں وہی اہمیّت تھی جو پارٹیشن سے پہلے علی گڑھ کی یو پی میں تھی۔ ان کے والد اعلی تعلیم یافتہ تھے۔ سلطان کی ابتدائی تعلیم نمبردار کے ڈیرے پر ہوئی۔ جہاں یہ والدکے ساتھ جاتے تھے کیونکہ یہ گھر میں سب کا جینا حرام کئے رکھتے تھے۔
نمبردار کے ڈیرے سے ہی ان کو گلّی ڈنڈا کھیلنے کا شوق ہوا۔ یہ ابّا جی کی نظر بچا کر ڈیرے سے بھاگ جاتے۔ یہ فرینڈز کے ساتھ آوارہ گردی کرتے۔ یہ ٹیوب ویل پر نہاتے۔ یہ گنّے توڑتے (کھیتوں سے)۔ بڑے لڑکوں کو گلّی ڈنڈا کھیلتے دیکھ کر ان کو بھی کھیلنے کا شوق پیدا ہوا۔ نیامت ورک، جو گلّی ڈنڈے کا ماہر کھلاڑی تھا، سے دوستی گانٹھ کر سلطان بھی بڑے لڑکوں کے ساتھ کھیلنے لگے۔ یہ پیدائشی کھلاڑی نکلے۔ ان کا ٹُل ایسا جاندار ہوتا کہ کوئی اس پر ہاتھ ڈالنے کی جرات نہ کرتا۔ ابتدائی دور میں ہی انہوں نے اتنی گُلّیاں اپنے ٹُلّوں سے گم کیں جو گلّی ڈنڈے کی ہسٹری میں کوئی نہیں کرسکا۔ فیلڈنگ میں بھی ان کو ملکہ حاصل تھا۔ یہ ٹُل باز کے ڈنڈے کی ابتدائی حرکت سے جان لیتے کہ ٹُل کدھر جائے گا۔ ٹُل کو کیچ کرنے میں بھی ان کو یدِ طُولٰی حاصل تھا۔ ریومر ہیز اٹ ۔۔۔کہ ایک دفعہ انہوں نے چار پَیلیاں دوڑ کر ٹُل کیچ کیا۔ گلّی ان کی ہتھیلی میں پیوست ہوگئی لیکن کمٹمنٹ ایسی کہ کیچ نہیں چھوڑا۔
وقت گزرتا گیا۔ سلطان، جوان ہوگئے۔ ہر طرف ان کے کھیل کی دُھومیں تھیں۔ دوشیزائیں ان کا میچ دیکھنے کے لیے پانی بھرنے کا بہانہ بنا کر آتیں اور ہر ٹُل پر اَش اَش کرتیں۔ یہ لنگوٹ کے اتنے پکّے تھے کہ کبھی لنگوٹ کسا ہی نہیں تھا۔ یہ اپنے مدّاحوں سے ایک مناسب فاصلہ رکھتے اور ان سے کبھی تحائف وغیرہ وصول نہیں کرتے تھے کوئی زبردستی گھر پہ دے جاتا تو کسی کا دل نہیں توڑتے تھے۔ یہ ایک ہینڈسم ہَنک تھے۔ بانسانوالہ کے طول و عرض کے کمادوں اور مکئی میں ان کے پیار کی داستانیں بکھری پڑی تھیں۔ نِگّو سے نسرین اور پِینو سے بشرٰی تک۔ یہ پیار کا جواب ہمیشہ پیار سے دیتے تھے۔ یہ دل سے یقین رکھتے تھے کہ کسی کا دل توڑنے سے بڑا گناہ کوئی نہیں۔
گلّی ڈنڈے میں انہوں نے نئی اختراعات کیں۔ اس سے پہلے گلّی ڈنڈے میں کپتان کا کوئی تصوّر نہیں تھا۔ یہ بانسانوالہ کی ٹیم کے پہلے کپتان بنے۔ یہ کھلاڑیوں کی فٹنس پر خاص توجّہ دیتے تھے۔ یہ کھلاڑی کا تہہ بند دیکھ کے بتا دیتے تھے کہ یہ آج کیسا پرفارم کرے گا۔ یہ ایک دلیر اور بہادر کپتان تھے۔ مخالف ٹیم کے بہترین ٹُل باز کے عین سامنے کھڑے ہوجاتے تھے۔ وہ گھبرا کر ٹُل مِس کردیتا تھا۔ یہ مخالف ٹُل باز کے ڈنڈے کی حرکت سے گلّی کی سمت کا اندازہ لگا لیتے تھے۔ان کے لگائے ہوئے ٹُل کی پاور کا یہ حال تھا کہ جہاں گلّی گرتی تھی وہیں زمین میں دھنس جاتی تھی۔ ان کو یہ اعزاز بھی حاصل تھا کہ پورے کیرئیر میں کبھی ان کے ٹُل کو کیچ نہیں کیا جاسکا۔
بانسانوالہ کی ہزاروں سالہ تاریخ میں یہ واحد سپو ت تھے جو "آل بُچّیکِی گلّی ڈنڈا گولڈ کپ" کے فاتح ٹھہرے۔ ان کی کپتانی اور کھیل نے وہ معجزہ کر دکھایا جو بانسانوالہ کی ہسٹری کا گولڈن چیپٹر ہے۔ اس اعزاز کو حاصل کرنے پر اہالیانِ بانسانوالہ نے ان پر گندم، چاول، دیسی گھی، پیاز، آلو، دیسی مرغیوں، اور میوے والےگُڑ کی بارش کردی۔ نیامت ورک جو اپنے ابّاجی کی ڈیتھ کے بعد بانسانوالہ کے سب سے بڑے زمیندارے کے وارث ٹھہرے تھے۔ انہوں نے سلطان کو دس پیلیاں، ایک ٹریکٹر اور ٹیوب ویل کا نذرانہ پیش کیا۔ اتنی محبّت اور پیار اور رسپیکٹ سے سلطان کا دل موم ہوگیا۔ یہ خود کو بانسانوالہ کا مقروض سمجھنے لگے۔
انہی دنوں خواب میں ان کو ایک بزرگ کی زیارت ہوئی۔ یہ سفید تہہ بند اور کالے کُرتے میں ملبوس پست قامت نورانی چہرے والے بزرگ تھے جن کے ہاتھ میں گلّی ڈنڈے والا ڈنڈا تھا۔ انہوں نے گلّی کو زوردار ٹُل لگایا اور جلالی لہجے میں سلطان سے کہا۔۔۔ "اٹھ اوئے کاکا سلطان۔۔ تے بانسانوالے نوں ظالموں دے چنگل توں آزاد کرا۔۔۔۔"۔ سلطان یہ خواب دیکھ کر اپ سیٹ ہوگئے۔ یہ پریشان ہوگئے۔ یہ دبدھا میں پڑ گئے کہ اس خواب کی کیا تعبیر ہے۔ یہ اپنے بچپن کے دوست نیامت ورک کے پاس گئے اور خواب بیان کیا۔ نیامت ورک اٹھے اور انہیں لے کر بابا تُوڑی سائیں سرکار کے مزار پر پہنچ گئے۔ خادم انہیں لے کر حجرہءخاص میں پہنچا جہاں مزار کے متوّلی پیر کَڑدِھن شاہ بے اولاد زنانیوں میں تعویذ بانٹ کے فارغ ہوئے تھے۔ پِیر صاحب نے خواب سُنا۔ ان پر رقّت طاری ہوگئی۔ ان کی حالت غیر ہوگئی۔ خادم نے چپٹی سی شیشی سے محلول ایک گلاس میں ڈال کر ان کی خدمت میں پیش کیا۔ جسے پی کر ان کی طبیعت ذرا بحال ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ خواب میں نظر آنے والے بزرگ بابا تُوڑی سائیں سرکار تھے اور ان کا اشارہ نمبردار کے بانسانوالے پر چنگل کی جانب تھا۔ پیر صاحب نے کہا کہ اب یہ سلطان پر فرض ہے کہ وہ اپنے علاقے کو ان ظالموں سے نجات دلائے۔ سلطان یہ سب خاموشی سے سنتے رہے۔ یہ سوچ میں ڈوبے رہے۔ دس منٹ بعد انہوں نے سر اٹھایا اور پیر کَڑدِھن شاہ سے یوں مخاطب ہوئے۔ "میں پاغل آں۔۔۔ بیفکوف نئیں۔۔۔"۔ یہ کہہ کر سلطان اُٹھے اور حجرہءخاص سے باہر نکل گئے۔

مُتفرّقات

٭ مچھلی، پانی اور مولوی، لاؤڈ سپیکر کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔
٭ درشت مزاجی کو ۔۔"میں تو صاف بات کرتا ہوں"۔۔ میں نہ چھپائیں۔
٭ قابلیت کے بغیر ایمانداری، گولی کے بغیر بندوق ہے۔
٭ عقیدت، عقل کا کینسر ہے.
٭ گمان کو حقیقت اور پھر اس کو ایمان سمجھ لینا، پاگل پن کا اعلی ترین درجہ ہے.
٭ سب سے مہلک سراب، اپنی اہمیت کا احساس ہے.
٭ عبادت بہرحال نہایت ذاتی معاملہ ہے.. محبت کی طرح
٭ حماقت کا دفاع نہیں ہوسکتا صرف پیروی ہوسکتی ہے۔
٭ صرف وہ گرنا اہمیت رکھتا ہے جس کے بعد آپ اٹھ نہ سکیں۔
٭ طیش کو سستا نہ کریں۔
٭ تبلیغ، عمل کا نام ہے، خطبوں کا نہیں۔
٭ مسلسل انتظار میں گزری زندگی ، پرندے کی قفس سے محبّت کا استعارہ بن جاتی ہے۔
٭ چلے جانے والوں اور چھوڑ جانے والوں کی یاد میں دل اس ادھ جلے کوئلے کی طرح ہوجاتا ہے جو ذرا سی ہوا پا کر دھک اٹھے۔۔۔
٭ ممدوح کی شان بیان کرتےہوئے کسی کو گالی دینے کی ضرورت پڑجائے تو یہ گالی اصل میں ممدوح کے لیے ہی ہوتی ہے۔
٭ کم گو کی بات توجہ سے سنی جاتی ہے۔
٭ پرہیزگاری کے شدید احساس کو فاشزم کہتے ہیں۔
٭ پچھتاوے کا کوئی علاج نہیں۔
٭ اعلی ترین اخلاقی اقدار کا پرچار، دودھاری تلوار ہوتا ہے۔
٭ سکھانے والا ہی سیکھتا ہے۔
٭ ملحدین، زنادقہ، روافض۔۔۔ اگر ان کا مطلب پتہ نہ ہو تو کیسے عمدہ لفظ لگتے ہیں۔
٭ وہ اپنے مُنکر سے جینے کا حق نہیں چھینتا، ہم آپ کیسے چھین سکتے ہیں؟
٭ فوری ردّعمل، ناپختگی کی نشانی ہے۔
٭ فنکار مرد اور خود مختار عورت۔ دونوں جنسِ مخالف کے لیے مرعوب کُن ہوتے ہیں۔
٭ مطلقہ خاتون اور شادی شدہ مرد کا المیہ ایک جیسا ہے۔ دونوں کی سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔
٭ دنیا، نظریات کی بجائے ضروریات پر چلتی ہے۔
٭ بجٹ اور محبوب کے وعدے ایک سے ہوتے ہیں۔
٭ سانپ کو مارنے کے لیے لاٹھی ٹوٹنے کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔
٭ محبّت کرنے والے کو وضاحت کی ضرورت نہیں ہوتی اور نفرت کرنے والا اس کا حقدار نہیں ہوتا۔
٭ نااہلی کا خسارہ ایمانداری بھی پورا نہیں کرسکتی۔
٭ اگر آپ نے زندگی میں صرف نصابی کُتب پڑھی ہیں تو یقین جانیے آپ جاہل ہیں۔

مانی

یادیں، مدّہم پڑ سکتی ہیں، محو ہوسکتی ہیں، وقت کی گرد انہیں چھپا سکتی ہے۔ پر جو منظر دل پر نقش ہوجائیں وہ کبھی مدّہم نہیں پڑتے، محو نہیں ہوتے، وقت کی گرد ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔ وہ ہمیشہ ویسے ہی سفّاک، شفّاف اور واضح نظر آتے ہیں۔ جب نظر جھکائی، دیکھ لیا۔۔۔
مانی مجھ سے بہت چھوٹا تھا۔۔۔ کہیں تو سب بہن بھائیوں میں آخری نمبر۔ بہت کم عمری میں بھی کچھ الگ سا تھا ۔۔ بیمار ہوتا تو روتا نہیں تھا، تنگ نہیں کرتا تھا۔ چہرے پر نقّاہت سے پتہ چلتا کہ صاحب کی طبیعت برابر نہیں ہے۔ ہنس مُکھ ایسا کہ محلّے کے بچّے اسے باہر لے جانے کے لیے باری کا انتظار کرتے ۔ میری خالہ کہا کرتی تھیں کہ "اس کی آنکھیں ہنستی ہیں"۔۔۔۔خالہ کا اس سے بہت انس تھا۔۔۔ سادھ بیلے سے تقریبا روزانہ آیا کرتیں اور جس عمر میں بچہ ماں سے چند منٹ دور نہیں رہتا، وہ ان کے ساتھ ان کے گھر چلا جاتا اور سارا دن ان کے ساتھ رہتا۔
تھوڑا بڑا ہوا تو اس کی سب سے من پسند سرگرمی، موٹر سائیکل کی سیر تھی۔ محمّد پورہ کے بازار جسے "وڈّا بازار" کے نام سے یاد کیا جاتا تھا، ناشتہ لینے کے لیے جانا ہوتا تو مانی میاں موٹر سائیکل کے ساتھ پہلے سے کھڑے ہوتے کہ ہم بھی جائیں گے۔۔ حلوہ اور پوری ان کا من بھاتا کھاجا تھا۔ وڈّے بازار میں پاء شفیع کی حلوہ پوری سب سے مزے دار ہوتی تھی اور رش بھی خوب۔ مانی کے لیے دو پوریاں اور انکے درمیان حلوہ رکھ کے الگ باندھا جاتا کہ اسے ایسا ہی پسند تھا۔
جولائی کا مہینہ تھا اور دسویں کی گرمیوں کی چھٹیاں چل رہی تھیں۔ برسات کے موسم میں پھوڑے پھنسیاں نکل ہی آتی ہیں۔۔ اس کی کمر پر عین ریڑھ کی ہڈی کے اوپر ایک پھنسی سی نکلی۔۔ یہ کوئی خلاف معمول بات نہیں تھی۔۔ آم کھانے کے شوقین ہوں تو پھنسیاں تو نکل ہی آتی ہیں۔۔ کافی دن گزر گئے اور یہ پھنسی بڑھ کر پھوڑا بن گئی۔۔ مانی جو کبھی روتا نہیں تھا اور تنگ نہیں کرتا تھا وہ بے چین سا رہنے لگا۔۔۔ گھریلو ٹوٹکے آزمائے جاتے رہے کہ معمولی سا پھوڑا ہے، ٹھیک ہوجائے گا، لیکن نہیں ہوا۔ جولائی کی ایک گرم صبح ابّو اسے ساتھ لے کر ڈاکٹر کے پاس گئے۔ کہ چیک تو کروائیں کہ کیا مسئلہ ہے۔۔۔ اسی دن گیارہ بجے کے قریب، میں درمیان والے کمرے میں امّی کے ساتھ بیٹھا تھا۔ کھڑکی سے دیکھا کہ برآمدے سے نکل کر تایا جی صحن میں آئے۔۔۔ مانی کو دونوں ہاتھوں پر اٹھائے۔۔۔ ابّو ان کے پیچھے تھے۔۔۔ مانی ایک کپڑے سے ڈھکا ہوا تھا۔۔۔ یہ منظر ہے۔۔ جو نقش ہے۔
اس کے بعد کیا ہوا اس کا کچھ وضاحت سے مجھے علم نہیں۔ عصر کے بعد ہم نے اسے دفنا دیا۔ سخت گرمی اور حبس کا دن تھا۔ جنازے کے ساتھ جاتے ہوئے بھی میں سب سے پیچھے رہا۔ قبر میں کس نے اتارا، مجھے کچھ علم نہیں۔
وہ رات، خدا سے پہلے شکوے کی رات تھی۔ اس سے پہلے مجھے اس سے کوئی شکایت نہیں تھی۔ میں سوچتا رہا کہ اتنی گرمی اسے لگتی تھی تو اب کیسے گڑھے میں اتنی مٹّی کے نیچے پڑا ہوگا۔۔ تو یہ سب کرکے خدا کو کیا ملا اور یہ چیز مجھے ایسی تکلیف دیتی تھی جس کا کوئی تجربہ مجھے اس سے پہلے نہیں تھا۔۔۔ میں گم آواز میں روتا رہا کہ مرد رویا نہیں کرتے۔
اس بات کو بہت عرصہ گزرگیا، مانو تو زندگی گزر گئی۔ وہ منظر آج بھی ویسا ہی شفّاف، سفّاک اور واضح ہے۔

بخاری مسجد

یہ تیسری جماعت کا قصّہ ہے۔ نئے سکول میں ہم خوش تھے اور تعلیمی مدارج ہنسی خوشی طے کررہے تھے جب ہمارے والدین کو ہماری دینی تعلیم کی فکر ہوئی۔ ہر محلّے کی طرح ہمارے محلّے میں بھی قرآن پاک پڑھانے والی ایک "خالہ جی" موجود تھیں۔۔ استاد خالد کی والدہ۔ عمر رسیدہ، سفید برف جیسے بال۔ انتہائی شفیق۔ تو ہم بھی ایک سہانی شام سر پر جالی والی ٹوپی جمائے، ہاتھ میں نیا نورانی قاعدہ لیے، سڑک پار کرکے خالہ جی کے گھر جا پہنچے۔ ہم، چونکہ، نئی بھرتی تھے تو ہمیں تین باجیوں میں سے سب سے چھوٹی باجی کے سپرد کیا گیا۔ ان کی طبیعت کچھ جلالی قسم کی تھی اور ہم کسی نوابزادے سے کم نہیں تھے۔ ان کی دو ایک گھُرکیوں پر جب ہماری معصوم سی آنکھوں میں آنسو آگئے تو انہوں نے فورا ہمیں مرغا بن جانے کا حکم دیا۔ مرتا کیا نہ کرتا۔ مرغا بننا پڑا۔ وہ ہمارا خالہ جی کے گھر میں پہلا اور آخری تدریسی دن تھا۔ واپس گھر پہنچ کے ہم نے قطعی فیصلہ سنا دیا کہ کل سے ہم خالہ جی کے پاس سیپارہ پڑھنے ہرگز نہیں جائیں گے۔ امّی نے لاکھ پوچھا کہ ہوا کیا۔۔ لیکن ہم بھی ایک کائیاں تھے اپنی عزت افزائی کا بالکل ذکر نہیں کیا اور وہی راگ الاپتے رہے کہ ہم نہیں جائیں گے، نہیں جائیں گے، نہیں جائیں گے۔۔۔
دو تین دن گزر گئے اور امّی کے اصرار اور دھمکیوں کے باوجود ہم سیپارہ پڑھنے نہیں گئے تو یہ معاملہ ابّو جی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ ابّو جی جان گئے کہ سکول کی طرح اس کی سّوئی یہاں بھی اٹک گئی ہے لہذا اس کا کوئی اور بندوبست کرنا پڑے گا۔ اگلے دن ہم سکول سے واپس دکان پر پہنچے تو ابّو نے کہا کہ یہ آپ کے کپڑے ہیں، اوپر گیلری میں جا کے بدلیں، کھانا کھائیں اور پھر سیپارہ پڑھنے کے لیے مسجد جانا ہے۔
ہماری دکان جناح کالونی کی ہوزری مارکیٹ میں واقع تھی۔ فیصل آبادی احباب جانتے ہوں گے کہ یہ مارکیٹ بہت سے چھوٹے پروڈکشن یونٹس پر مشتمل تھی (اور ہے شاید)۔ ہماری دکان دوسرے بازار کے کونے پر واقع تھی اور دوسرے اور تیسرے بازار کے عین درمیان بخاری مسجد تھی۔ ہر دکان کے ساتھ ایک برآمدہ تھا جہاں ایک یا دو یا تین پریس مین ہوتے تھے جو بنیان یا جرابیں استری کرتے تھے۔ ایک کَٹَر ماسٹر ہوتا تھا اور ایک مرمتّیا۔۔ جس کے کان کے اوپر ہوزری مشین کی سُوئی ہر وقت ٹِکی رہتی تھی۔ کچھ دکانوں کی گیلریوں میں فلیٹ اور اوورلاک مشینیں بھی تھیں۔ کپڑا بُننے کی مشینیں زیادہ تر کوئی مکان کرائے پر لے کر لگائی جاتی تھیں اور وہیں فلیٹ اور اوورلاک کی مشینیں بھی ہوتی تھیں، اسے جناح کالونی کی زبان میں "کارخانہ" کہا جاتا تھا۔ ہمارے دکان چونکہ نُکڑ پر واقع تھی تو کافی جگہ میسر تھی۔ چار پریس مین، دو کٹر اور ایک مرمتّیا اس وقت دکان پر کام کرتے تھے۔ خیر۔۔۔ تو ہم گیلری میں جاپہنچے، کپڑے بدلے اور کھانا کھا کے اپنے ابّو کے ساتھ سہ پہر تین بجے کے قریب بخاری مسجد جا پہنچے۔
مسجد کے داخلی دروازے کے بائیں طرف صحن پار کرکے ایک کمرہ تھا۔ جس میں پینتیس چالیس مختلف عمروں کے لڑکے آمنے سامنے دو قطاروں میں اپنے سامنے پڑے لکڑی کے طویل ڈیسک پر قرآن پاک رکھے، ہِل ہِل کے پڑھ رہے تھے۔ ایک سرے پر قاری صاحب بیٹھے تھے جن کے سامنے ایک چھوٹا سا لکڑی کا میز تھا۔۔ جس پر کچھ کتب رکھی ہوئی تھی۔ قاری صاحب، ابّو کے جاننے والے تھے، اٹھ کر تپاک سے ان سے ملے۔ حال احوال کے بعد ہمیں باقاعدہ قاری صاحب کا شاگرد بنا دیا گیا۔
قاری صاحب، طویل قامت، چھریرے بدن کے مالک اور نرم گو انسان تھے۔ پڑھنے لکھنے سے ہمیں کبھی نفور نہیں رہا۔۔ رویّے البتہ ہمارے لیے ہمیشہ اہم رہے۔ بخاری مسجد میں ہماری دینی تعلیم، جو ناظرہ قرآن تک محدود تھی، دن دوگنی چار چوگنی رفتار سے بڑھتی رہی۔ ہمارے ہم سبق زیادہ تر صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والے تھے۔ جن کی عمریں چھ سات سال سے لے کر سترہ اٹھارہ سال تک تھیں۔ انکی رہائش، کھانے اور دوسری ضروریات مسجد اور مدرسے کی انتظامیہ کے ذمّے تھیں۔ دوسری منزل پر ایک قطار میں دس بارہ کمرے تھے جہاں یہ سب رہتے تھے۔ ہمارے ذہن میں اس وقت یہ خیال آتا تھا کہ اپنے امی ابو کے بغیر یہ اتنی دور، اتنا عرصہ کیسے رہ لیتے ہیں؟ ہمیں تو یہ سوچ کے ہی رونا آنے لگتا تھا۔
مدرسے کے ان طالبعلموں میں جناح کالونی سے تعلق رکھنے والوں کا صرف ایک بچہ شامل تھا۔ وسیم بھائی، جو پاک سویٹس والوں کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ لحیم شحیم۔۔ حفظ کے طالبعلم تھے۔ فربہ لوگوں کی اکثریت کی طرح ہنس مُکھ اور خوش مزاج۔ ان کے علاوہ کوئی بھی طالبعلم گردونواح سے تعلق نہیں رکھتا تھا۔
مسجد اور مدرسے کا انتظام چلانے میں جناح کالونی کے کاروباری حضرات پیش پیش تھے۔ مالی طور پر مدرسے کی انتظامیہ کو کبھی تنگی پیش نہیں آئی لیکن مدرسے میں دی جانے والی تعلیم، البتّہ اپنے بچوں کو دلانے میں کسی کو خاص دلچسپی نہیں تھی۔ سب کے بچے اچھے سکولوں میں پڑھتے تھے۔ ہمارا معاملہ مختلف اس لیے تھا کہ ہم ایک عارضی طالبعلم تھے جو چند مہینے، پڑھ کے وہاں سے فارغ ہوگیا۔ اس دور میں طبقاتی تقسیم اتنی واضح اور عریاں نہیں تھی لیکن پھر بھی مدرسے کے ان طالبعلموں اور میرے جیسے عام سے بچّے کے طرز معاشرت میں واضح فرق تھا۔ جیسے دو مختلف دنیاؤں کے باسی۔
قاری صاحب نے ان چند مہینوں میں ہم سے نہایت شفقت برتی۔ سوائے سر پر ایک ہلکی سی چپت کے، جو مسلسل دو چھٹیاں کرنے کی سزا تھی، ہمیں انگلی تک نہیں لگائی۔ ان کے میز کے نیچے پڑی چپٹی لکڑی البتّہ دوسرے طالبعلموں پر بے دردی سے برستی تھی۔ ہم حیران ہوتے تھے کہ اتنے اچھے قاری صاحب ایک دم اتنے گندے کیوں ہوجاتے ہیں؟ اس کا جواب ہمیں کبھی نہ مل سکا۔
ٹی وی، کارٹون، ڈرامے، جنوں اور پریوں کی کہانیوں والے رسالوں کی باتیں جب ہم اپنے ہم درسوں سے کرتے تو وہ ان کے لیے کسی اور دنیا کی باتیں ہوتی تھیں۔ وقت کے ساتھ یہ فرق کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی رہا ۔۔ اس میں سیاست، تزویراتی گہرائی اور مذہبی مفادات کے تڑکے لگتے رہے۔۔۔۔ اور آج ہم جہاں پر ہیں وہ۔۔
تیس برس کا قصّہ ہے، دو چار برس کی بات نہیں۔۔۔ 

بچّی، حضور والا، بچّی

دو ہزار سال ہوتے ہیں۔۔۔اُس نادرِ روزگار عبقری نے کہ، راسپوٹین جس کا نام تھا، کہا، " حُسنِ بلاخیز ہر جُرم سے ماوراء ہوتاہے۔" لوگ مگر غور نہیں کرتے۔ الحذر الحذر۔۔۔
عارف نے کہا تھا، "بچّی اپنے فگر سے پہچانی جاتی ہے۔" بیس یوم اُدھر، طالب علم پنج ستارہ ہوٹل میں چند ہم نشینوں کے ہمراہ قہوہ پی رھا تھا کہ ایک عزیز اصرار سے اس طرف لے گیا کہ جہاں رنگ برنگی تتلیاں اور کوہ قاف کو شرماتی پریاں، حُسن کو دھار پر لگا رہی تھیں۔ ایسے مناظر کہ زاہدِ خُشک بھی سبحان اللہ پُکار اٹھے۔ لیکن نگاہ کو جس کا ہوکا تھا وہ صورت، نظر میں نہ آسکی۔ شتابی سے سوال کیا۔ "آیان کہاں ہیں؟" جواب سُنا تو روح لرز اٹھی۔۔۔۔ تاریخ کے چوراہے میں سوئی، انجام سے بے خبر قوم اور اس کے رہنما۔۔۔ کوئی ہے جو جائے اور ان کو جگائے؟
روح چیخ اٹھتی ہے۔ مکھّن جیسی بچّی اور ایسا ظُلم۔۔ امراء القیس، وہ شاعر، وہ شہزادہ کہ جس کا نام آج بھی دوشیزاؤں کے سانس اتھل پتھل کردیتا ہے۔۔۔ بلادِ شام سے واپسی کا سفر تھا۔۔ شب آپہنچی تو پڑاؤ کا قصد کیا۔۔۔ کمر بھی سیدھی نہ کرپایا کہ قاصد پیام لایا۔۔ "شہزادے، امتحان آپہنچا۔۔۔ رُقیّہ قید میں ہے۔۔۔"۔ شہزادہ، الفاظ کا ہی نہیں، تلوار کا بھی دھنی تھا۔۔ اُٹھا اور وہ کہا جو آج تک تاریخ میں مثلِ شمس جگمگا رہا ہے۔۔۔" بچّی، امراء القیس کو پکارے اور وہ نرم بستر میں سوتا رہے۔۔۔ تُف ہے ایسی مردانگی اور شہزادگی پر۔۔" اسباب سمیٹا۔۔ گھوڑے کو ایڑ لگائی ۔۔۔  باقی تاریخ ہے۔
حکمرانوں سے کیا گلہ۔۔ تاریخ کا جن کو شعور نہیں۔ اپنی ذات سے اٹھ کر وہ سوچ نہیں سکتے۔ کوتاہ نظر و ظاہر بیں۔۔۔ شکوہ مگر کپتان سے ہے۔ ایسا جری اور بانکا جواں بھی جب ظُلم و جَور کے سامنے سِپر ڈال دے تو ۔۔ کس کا گلہ کرے کوئی۔۔۔ طالب علم کے لیے ہر شب، قیامت اور ہر دن امتحان کا ہے۔ لُقمہ، حلق سے اترتا نہیں۔۔ دل نے عارف کی دُھائی دی تو سفر کا قصد کیا۔ شام ڈھلے خدمت میں حاضر ہوا۔۔ حالت بیان کی۔۔ عارف نے سر اٹھایا اور بھیگے لہجے میں کہا۔۔۔
ہم رات بہت روئے بہت آہ و فغاں کی
دل درد سے بوجھل ہو تو نیند کہاں کی
المیہ مگر ہمارا یہ ہے کہ تفکّر نہیں کرتے۔ بے سبب کینہ پالتے ہیں۔ جتنی رقم کا الزام، بچّی پر لگا ہے اتنی تو اس کے پیروں کا صدقہ، مجھ جیسا فقیر دے سکتا ہے۔ جھوٹ ہے، صریح جھوٹ۔ اب بھی یہ قوم حشر نہ اٹھا دے تو سمجھیے کہ دل بنجر اور ذہن بے فیض ہوئے۔ کوئی امیّد باقی نہ رہے گی۔ وقت آ لگا ہے جب کھرا اور کھوٹا الگ کردیا جائے گا۔۔۔ اس بے مثال گویّے، جازی بی نے جیسا کہا تھا۔۔۔
حُسناں دی سرکار
دلاں نوں لُٹ دی جاوے
دو ہزار سال ہوتے ہیں۔۔۔اُس نادرِ روزگار عبقری نے، کہ راسپوٹین جس کا نام تھا، کہا، " حُسنِ بلاخیز ہر جُرم سے ماوراء ہوتاہے۔" لوگ مگر غور نہیں کرتے۔ الحذر الحذر۔۔۔


کیتھرین اور وال سٹریٹ کی شام

"تم ہمیشہ اداس کیوں نظر آتے ہو؟"۔ کیتھرین میری طرف جھکی اور آنکھوں میں جھانکتے ہوئے نرم لہجے میں پوچھا۔ کیتھرین کا سوال مجھے ماضی میں کئی سال پیچھے لے گیا۔ میں اس وقت سکول میں پڑھتا تھا۔ گھر کا خرچ چلانے کے لیے سکول سے آنے کے بعد ہم تنکوں سے ٹوکریاں اور ہیٹ بناتے تھے جو لاہور کا ایک تاجر ہم سے خرید لیتا تھا۔ ایک ٹوکری کے پانچ روپے اور ہیٹ کے دس روپے ملتے تھے۔ ہمارے ہُنر کو کوڑیوں کے بھاؤ خرید کر وہ انہیں موتیوں کے بھاؤ ایکسپورٹ کردیتا تھا۔ ایک ٹوکری پانچ لاکھ اور ہیٹ پندرہ لاکھ میں بیچتا تھا۔ اس کے پاس ڈیفنس میں دو ایکڑ کا وسیع و عریض محل تھا۔ اس کے بچّے امریکہ میں پڑھتے تھے۔ لمبرگینی اور فراری سے پورشے اور بنٹلے تک۔۔ اس کے پاس اعلی سے اعلی گاڑیاں تھیں۔ اس کے سوٹ اٹلی سے سِل کر خصوصی جہاز پر آتے تھے۔ اس کے پاس بارہ شیف تھے جو دنیا کی اعلی سے اعلی ڈشز بنانے میں کمال مہارت رکھتے تھے۔ اس کے محل میں آئ میکس سینما سے لے کر چڑیا گھر تک ہر چیز موجود تھی۔ یہ سب اس نے ہماری محنت کی کمائی لُوٹ کر بنایا جبکہ میرے پاس سکول کی فیس دینے کے پیسے تک نہیں ہوتے تھے۔۔۔ اتنا کہہ کر میں سانس لینے کے لیے رُکا۔۔۔ کیتھرین دم سادھے یہ کہانی سُن رہی تھی۔۔۔ اس کا تیسرا ہمبرگر ابھی تک ویسے کا ویسا ہی پلیٹ میں رکھا ٹھنڈا ہورہا تھا۔۔ بئیر پڑی پڑی گرم ہورہی تھی۔۔۔
"بہرحال" میں دوبارہ گویا ہوا۔۔ " جیسے تیسے میں نے میٹرک پاس کرلیا اور ملتان چلا آیا۔ یہاں میرے ہم وسیب بہت سے دوست تھے جنہوں نے میرا بڑا ساتھ دیا۔ ان کی محبتیں اور احسان میں کبھی نہیں بھول سکوں گا۔ ایم اے انگلش کرنے کے بعد میں نے اخبار میں نوکری کرلی۔ انہی دنوں اس اخبار میں ایک پنجابی جو ایم اے جرنلزم کرکے آیا تھا، وہ بھی بھرتی ہوا۔ میں اس سے ہر لحاظ سے بہتر تھا۔ مجھے انگلش بھی فر فر آتی تھی۔ جبکہ وہ بے چارہ اردو بھی نہیں بول سکتا تھا۔ لیکن مجھے سائیڈ لائن کرکے اس کو پروموٹ کیا گیا۔ اس کا کالم بھی شائع کرنا شروع کردیا گیا۔ نامور پنجابی صحافیوں نے اس کو پروموٹ کیا۔ آج وہ سب سے مقبول کالم نگار ہے۔ سب سے ہائلی پیڈ جرنلسٹ ہے۔۔۔ مجھے کیا ملا؟ مجھے ہمیشہ دیوار سے لگایا گیا۔ میری حق تلفی کی گئی۔ کسی اخبار یا چینل میں مجھے ٹِکنے نہیں دیا جاتا۔ میرا جُرم صرف یہ ہے کہ میں اپنی مظلوم قوم کے حق میں آواز اٹھاتا ہوں۔ میں نے ظالم پنجابی حکمرانوں کی کھربوں ڈالرز کی کرپشن کا سراغ لگایا۔ لیکن میری آواز صدا بصحرا ثابت ہوئی۔"
کیتھرین کی آنکھیں بھر آئی تھیں۔۔۔۔ اس نے میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کے تھپتپھایا۔۔۔ "اصل بات ابھی باقی ہے میری دوست"۔۔۔ میں نے سلسلہءکلام جوڑتے ہوئے کہا، " اگر اس تربیتی کورس کے سلسلے میں میرا نیویارک آنا نہ ہوتا تو میں کبھی نہ جان سکتا کہ میری محنت کی کمائی سے کیا کیا ہورہا ہے۔۔۔ سنو، پیاری کیتھرین، مجھے وال سٹریٹ پر ان تنکوں کی خوشبو آتی ہے جن سے ہم نے ٹوکریاں اور ہیٹ بنائے اور تم شاید سن کر حیران ہوگی کہ ایک عظیم الشان برانڈ چین میں، میں نے وہی ٹوکریاں اور ہیٹ لاکھوں ڈالرز میں بکتے دیکھے ہیں۔ ہماری خون پسینے کی کمائی سے آپ لوگوں نے نیو یارک جیسے شہر کھڑے کرلیے ہیں۔۔ تخت لہور ہو یا وال سٹریٹ۔۔۔ سرائیکی وسیب کا خون سب نے چُوسا ہے۔۔ سوال تو یہ ہے کہ ہمیں کیا ملا؟ غربت، ناانصافی، طعنے۔۔۔"
کیتھرین نے بچا ہوا تیسرا ہمبرگر منہ میں ڈال کے گرم بئیر کا لمبا گھونٹ لیا۔۔۔ اور ایک طویل ڈکار لے کے میرے دونوں ہاتھ تھام لیے اور میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولی۔۔۔ "رؤف، میں ان سب ناانصافیوں کا اُپائے تو نہیں کرسکتی لیکن اپنا قرض ضرور ادا کرسکتی ہوں۔۔"
اس کی آنکھوں میں محبّت اور سُپردگی تھی۔

کِی دم دا بھروسہ

ان سے پہلی ملاقات ہی خوشگوار نہیں تھی۔
پردیسی ہوئے ہمیں زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا اور طبیعت کی تُنک مزاجی اور زُود رنجی ابھی قائم تھی۔ ہمارے کولیگ چھٹی پر پاکستان تشریف لے گئے تھے اور دو بندوں کا کام ہمارے نازک کندھوں پر تھا۔ یہ انہی دنوں کا قصّہ ہے۔۔۔۔
ہم حسب عادت ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے، کام میں مشغول تھے کہ ایک درمیانہ قامت و عمر کے صاحب ہمارے دفتر میں وارد ہوئے۔ درمیانہ جُثّہ، گورا چٹّا رنگ، چھوٹے چھوٹے سخت بال، چہرے پر درشت تاثّر۔۔۔ آتے ہی بزبان عربی بہ لہجہ مصری گویا ہوئے، "وہ پاکستانی کہاں ہے؟"۔ اس وقت تک عربی سمجھ تو آتی تھی لیکن بولنے میں روانی نہیں تھی تو ہم نے انگریزی میں جواب دیا کہ وہ حضرت تو پاکستان تشریف لے گئے ہیں۔ تِس پر موصوف گویا ہوئے کہ ہمارا کام کون کرے گا؟۔ ہم نے ان کی طرف بغور دیکھا اور پھر اپنے سامنے پڑے میک کو غور سے دیکھا اور دوبارہ انکی طرف دیکھا۔ انہیں ہماری اس حرکت کا مفہوم سمجھ آیا تو چہرے کی درشتی میں مزید اضافہ ہوگیا اور مخصوص مصری انداز میں بڑبڑاتے ہوئے دفتر سے نکل گئے۔
کمپنی کے مندوب جو اتفاق سے مصری ہی تھے، ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد تشریف لائے اور استفسار کیا کہ وہ جو صاحب آئے تھے ان سے کیا بات ہوئی۔۔ ہم نے حرف بحرف دہرا دی۔ انہوں نے ہمیں یرکانے کی پوری کوشش کی کہ یہ صاحب فلاں سیمنٹ فیکٹری کے چیف اکاؤنٹنٹ وغیرہ ہیں جس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں ہماری کمپنی کے مالک بھی شامل ہیں اور یہ "ارباب" کے خاص آدمی ہیں۔ یہ تم سے بہت ناراض ہیں کہ تم نے ان کا "احترام" نہیں کیا۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔ ہم دل میں گھبرائے تو لیکن پکّا سا منہ بنا کے ان کی بات سنی ان سنی کرنے کا تاثر دیتے رہے۔
بات یہ کھلی کہ ہر سال اس سیمنٹ فیکٹری کی سالانہ رپورٹ ہماری کمپنی چھاپتی تھی اور وہ اسی سلسلے میں تشریف لائے تھے لیکن ہمارے روئیے اور ان کا واجب احترام نہ کرنے سے ان کو شدید طیش آیا اور وہ واپس تشریف لے گئے۔
اللہ غریق رحمت کرے، ہمارے مینجر، جو فلسطینی اردنی تھے۔ ان تک بات پہنچی تو وہ اپنے مخصوص دبنگ انداز میں بولے۔۔ شُووو۔۔ خلّی ولّی ہذا نفر۔۔ مافی فکر۔۔ (کیا؟؟ مٹی ڈالو اس بندے پر۔۔ اور فکر نہ کرو)۔۔۔ ہم نے فورا ان پر مٹّی ڈالی اور بے فکر ہو کے اپنی مزدوری میں مشغول ہوگئے۔ بہرکیف، اگلے دن انہوں نے اپنے کسی ماتحت کو ساری تفصیلات دے کر بھیجا اور خود تشریف نہیں لائے۔۔۔۔
ان کی کمپنی کا سارا چھپائی کاکام یہیں ہوتا تھا چونکہ ارباب ادھر بھی تھے اور ادھر بھی۔۔ لہذا ان کا ہمارے دفتر میں کبھی کبھار کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔۔۔۔ ہمارے کولیگ سے وہ بڑی گرمجوشی سے باقاعدہ عربی چمُیوں والے انداز سے گلے ملتے لیکن سالہا سال گزر گئے انہوں نے کبھی ہمیں سلام تک نہیں کیا۔ اگر کبھی کولیگ دفتر میں نہ ہوتے تو دروازے سے واپس ہوجاتے اور ریسپشن سے ان کے بارے استفسار کرتے کہ کہاں ہیں اور کب تک آئیں گے۔۔۔ ان کے چہرے سے ہی پتہ چلتا تھا کہ وہ ہمیں کس حد تک ناپسند کرتے ہیں۔ ہمیں ان کے اس مسلسل روئیے کی سمجھ نہیں آتی تھی کہ ہم ایک معمولی سے کِی بورڈ مزدور۔۔ جس کی مہینے کی آمدنی شاید ان کی ایک دن کی آمدنی سے بھی کم۔۔۔ مجھ سے یقینا اعلی تعلیم یافتہ اور سماجی طور پر بھی مجھ سے کہیں برتر۔۔ شیوخ کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا۔۔ جبکہ ہم سے تو نائی بھی بال کاٹنے کے ایڈوانس پیسے لیتے تھے۔ خیر۔۔ جیسا کہ ہماری کھال کافی سخت ہے تو ہم نے ان کے اس روئیے کو بھی معمول سمجھ لیا اور جیسے وہ ہمیں گوبھی سمجھتے تھے ہم بھی انہیں میز سمجھنے لگے۔
یہ قریبا اڑہائی سال پہلے کی بات ہے۔ کمپنی کے ڈرائیور نے ہمیں بتایا کہ وہی صاحب بہت بیمار ہیں اور ہسپتال میں ہیں۔ ہم نے تفصیل پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ انہیں کینسر ہوگیا ہے اور طبیعت بہت خراب ہے۔ ہم نے ان سے کہا کہ جب بھی آپ کا ہسپتال جانا ہو تو مجھے بھی ساتھ لے لیجیے گا۔۔۔ اس بات سے قریبا ایک ڈیڑھ مہینہ پہلے وہ ہمارے دفتر آئے اور بالکل ہشاش بشاش اور تندرست تھے۔ ہم نے دل میں سوچا کہ خان بھائی، مبالغہ کررہے ہوں گے، طبیعت ایک دم اتنی خراب کیسے ہوسکتی ہے۔۔۔
اس سے ایک آدھ دن بعد خان بھائی نے ہمارے دفتر کا دروازہ تھوڑا سا کھول کر گردن گھسائی اور گویا ہوئے، "جاپر بھائی، ام اسپتال جائےگا، تم جائےگا؟"۔ ہم آمنّا و صدقنّا کہتے ہوئے ان کے ساتھ چل دئیے۔
ہسپتال کی مخصوص بُو، خاموشی اور اس خاموشی میں تیرتی امید اور مایوسی۔۔ ہم جب ان کے کمرے میں داخل ہوئے تو گورے چٹّے صحت مند چہرے والے صاحب ایک مخصوص مشینی سی کرسی پر بیٹھے تھے۔۔ ان کا رنگ ایسا زرد تھا کہ زندگی میں کبھی کسی انسان کا رنگ ایسا نہیں دیکھا۔ پیٹ پُھولا ہوا تھا۔ ہمیں دیکھ کر ان کی آنکھوں میں حیرانی بھر آئی۔۔۔۔ پھر ایک شناسائی کی چمک۔۔۔ دونوں ہاتھ پھیلا کر بولے۔۔ "شّوف ۔۔ یا گعفر۔۔۔" (دیکھو۔۔ یہ کیا ہوگیا میرے ساتھ) ان کی آنکھیں بھر آئی تھیں ۔۔ "سوی دُعا حبیبی"۔۔۔ (میرے دوست، دُعا کرنا میرے لیے) ہمارے حلق میں جیسے دُھواں بھر گیا ۔۔۔ ان کا کندھا تھپتھپایا۔۔۔ روایتی سی باتیں کیں کہ انشاءاللہ کچھ نہیں ہوگا۔۔ سب ٹھیک ہوجائےگا۔۔۔ ان کو بھی اور ہمیں بھی علم تھا کہ یہ جھوٹ ہے۔۔۔۔ واپسی کے لیے مُڑے۔۔ تو بولے۔۔ شُکرا یا گعفر۔۔۔۔
پندرہ بیس دن بعد خبر ملی کہ وہیں چلے گئے ہیں جہاں سب کو جانا ہے۔

ظرف

نوٹس بورڈ پر کلاس روم اور لیکچرر کا نام تلاش کرتے ہوئے نظر، رُستم علی ضیاء، پر پڑی تو پہلا خیال جو ذہن میں آیا وہ ایک لمبے تڑنگے، دس بج کے دس منٹ والی مونچھوں اور مصطفی قریشی جیسی آواز والی دبنگ شخصیت کا تھا۔ کلاس روم ڈھونڈتے ہوئے نئے بلاک کے ایک کمرے میں پہنچے تو پینتیس چالیس، انواع و اقسام کے لڑکے بالے پہلے سے موجود تھے۔ ہم بھی دم سادھ کے حسب معمول و عادت، پچھلے بنچوں پر جا کر تشریف فرما ہوگئے۔ کچھ توقّف کے بعد خاموشی سی چھا گئی اور منمناتی ہوئی سی ایک آواز سنائی دینے لگی۔ آواز کا مخرج البتہ سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔ تھوڑا تردّد کیا اور ذرا اُچک کر دیکھا تو ایک منحنی سے مُعنّک صاحب، جو ٹنڈولکر کے ہم قد تھے، پروفیسرانہ مونچھیں اور صورت پر ثقلین مشتاق جیسی معصومیت لیے کچھ کہہ رہے تھے۔ ہم نے آخری بنچ کو چھوڑ کے دو بنچ آگے ہجرت کی تو آواز کچھ واضح ہوئی۔ وہ اپنا تعارف کرارہے تھے اور وہی روایتی باتیں کررہے تھے جو استاد پہلے دن اپنے طلباء سے کرتے ہیں۔ ہمیں بہرحال، رُستم علی ضیاء، اچھے لگے۔
کمرہءجماعت میں ہم ہمیشہ لو پروفائل رہنے کی کوشش کیا کرتےتھے۔اس سے دو فائدے ہوتے، ایک تو استاد آپ کو نکمّا سمجھتے اور دوسرا  رٹّو طوطے ہم جماعت آپ سے پروفیشنل جیلسی محسوس نہیں کرتے تھے۔ رُستم صاحب بھی ہمیں ایک کم گو، غبی اور سست طالبعلم سمجھتےاور دورانِ لیکچر ہمیں کسی سوال کے جواب کے لیے تکلیف نہیں دیتے تھے۔ ویسے بھی ہمارا گریجویشن کرنے کا پلان ایک طعنے کا نتیجہ تھا۔ ورنہ ہمیں اس میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ یہ البتہ ایک الگ کہانی ہے۔
گریجویشن کے دوسال ہم نے کرکٹ کھیلتے، جگتیں کرتے اور دھوپ سینکتے (سردیوں میں) گزار دئیے۔ تھرڈ ائیر کے سالانہ امتحان میں ہمارے نمبر دیکھ کے ہمارے سارے اساتذہ اور ہر وقت کتاب لے کے گراسی پلاٹس میں بیٹھے رٹّو طوطے کم و بیش ایک جیسی، گہرے شاک، والی کیفیت میں تھے۔ ایک دن کلاس ختم ہونے کے بعد باہر نکلتے ہوئے رُستم صاحب نے ہمیں روک لیا اور پوچھنے لگے، "آپ نے امتحان خود دیا تھا ناں؟"۔ ہم نے جوابا کہا، "نہیں سر، میرے مؤکل نے دیا تھا"۔ وہ بات سمجھ گئے۔ قہقہہ لگایا،  کندھے پر تھپکی دی اور اس دن کے بعد ہم ان کی نظر میں آگئے اور ہمیں پہلے بنچ پر ہجرت کرنا پڑی۔
گریجویشن کے دوسرے سال رُستم صاحب پوری کلاس کو سٹڈی ٹور پر پنڈی اسلام آباد، تربیلا اور مری لے گئے۔ (مری تو خیر سٹڈی نہیں پُونڈی ٹُور تھا)۔ پنڈی، اسلام آباد کے سوشل ویلفئیر کے اداروں میں وزٹس کیے۔ تربیلا میں اس وقت رُستم صاحب کے کوئی کلاس فیلو دھانسو قسم کے آفیسر تھے اور وہ دور بھی اچھا تھا تو ہمیں ان جگہوں کا وزٹ بھی کرایا گیا جہاں عام طور پر سٹڈی ٹورز پر آنے والوں کو نہیں لے جایا جاتا تھا۔ کنٹرول روم ٹائپ ایک بڑے سے ہال میں گھومتے ہوئے، ہمارے کلاس فیلو ملک واحد نے ایک بڑے سارے پینل پر کھڑے انجینئر ٹائپ بندے سے پوچھا، "پائین، فیصلاباد دی بتّی کتھوں بند کردے او؟" اس نے پوچھا کہ آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟ تو جواب ملا، " میں سوچیا، آئے تو ہوئے آں، او بٹن ای پَن دیّے"۔ انجینئنر صاحب نے حیران ہو کر ملک کی طرف دیکھا۔۔ پھر اسے احساس ہوا کہ یہ فیصل آباد سے آئے ہیں!۔
پنڈی صدر کے ایک ہوٹل میں ہماری رہائش کا بندوبست تھا۔ ہمیں جو کمرہ ملا وہ شاید چوتھی منزل پر تھا، تیسری منزل کے کمروں میں ہمارے گروپ کے باقی سارے مسکیٹئیرز تھے۔ رات کو کھانے سے فارغ ہو کے ایک کمرے میں محفل جمتی تھی۔ ہمارے روم میٹ جناح کالونی کے ایک شیخ صاحب تھے جن کا اصل نام، واللہ، ہم بھول چکے ہیں کیونکہ ہمارا دیا ہوا نام اتنا مقبول ہوگیا تھا کہ اب یاد کرنے پر بھی ان کا اصل نام یاد نہیں آتا۔ اصلی شیخ تھے، سرخ و سپید، گول مٹول، حساب کتاب میں تیز اور باقی معاملات میں معصوم۔
ہم محفل میں پہنچے تو رنگ کھیلا جارہا تھا۔ شیخ صاحب ہمارے ساتھ تھے۔ ہمارے آتے ہی پتّے سمیٹ دئیے گئے اور ساجد چیمے نے اپنے بیگ سے پلاسٹک کی ایک بوتل نکالی۔ میز پر رکھے گلاسوں میں تھوڑا تھوڑا محلول انڈیلا اور سب کو "بسم اللہ کرو" کہہ کے دعوت دی۔ ساجد کا تعلق ساہیانوالے سے تھا۔ جہاں کی مشہور مصنوعات میں جاٹ اور دیسی ٹھرّا شامل ہیں۔ پینے والوں میں ساجد چیمہ، زاہد ٹھنڈ، ملک واحد اور زاہد موٹا شامل تھے۔ شیخ صاحب کا رنگ شراب کا ذکر سنتے ہی پیلا پڑ گیا تھا۔ جبکہ ہمیں کوئی ایسی چیز پینے سے کبھی دلچسپی رہی ہی نہیں جسے پینے کے لیے ناک بند کرنی پڑے اور بعد میں وہ دماغ بند کردے۔
ہمارے ہم جماعتوں میں تین زاہد تھے۔ جن کے نام بالترتیب زاہد ٹھنڈ، زاہد موٹا اور زاہد کیسٹ تھے۔ زاہد ٹھنڈ، پیپلز کالونی کے رہائشی تھے۔ جِم وغیرہ کرتے تھے۔ جس سے ان کا منہ پچک سا گیا تھا اور ایسے ٹھٹھک کر بات کرتے تھے جیسے ٹھنڈ لگ رہی ہو ان کے پاس ایک زمانہء قدیم کا پوائنٹ ٹُو ٹُو کا زنگ لگا زنانہ پستول بھی ہوتا تھا جو وہ ڈب میں لگا کر گھوما کرتے تھے۔ ہم نے ایک دفعہ ان  سے پوچھ لیا کہ میاں، اس پستول سے شلوار میں ناڑا ڈالتے ہو؟ تِس پر انہیں مزید ٹھنڈ لگنی شروع ہوگئی تھی۔ زاہد موٹا، غلام محمد آباد کے رہائشی تھے۔ شدید موٹے اور شدید کالے۔ معصوم صفت انسان تھے، ہومیوپیتھک کہہ لیں، جیسا کہ اکثر موٹے ہوتے ہیں۔ زاہد کیسٹ، محمد پورہ کے رہائشی تھے، جماعتیے تھے تو کیسٹ کی وجہ تسمیہ آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ ہر معاملے پر وہ اپنے لیکچر کی کیسٹ چلا دیتے تھے اور پوری سنائے بغیر کسی کو بات نہیں کرنے دیتے تھے۔ ویسے ہم ان کے احسان مند بھی ہیں کہ انہوں نے ایک دفعہ ہماری جان بچائی تھی۔ یہ کہانی بھی پھر سہی۔۔۔
تیسرے گلاس کے بعد محفل کی حالت بدلنے لگی ۔ ساجد چیمہ نہایت رومانٹک ہوکے نورجہاں کے گانے گنگنانے لگا۔ زاہد ٹھنڈ کے چہرے پر آرنلڈ شوارزینگر جیسے تاثرات آنے لگے، زاہد موٹے کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو تھے۔ ملک واحد البتّہ ویسے کا ویسا ہی تھا۔ آنکھوں میں ہلکی سی سُرخی کے علاوہ اسکی کسی حرکت یا بات سے نشے میں ہونے کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ اس کی جگتوں کی دھار البتہ کچھ تیز ہوگئی تھی۔ ساجد کی رومانی حالت کا رُخ جب شیخ صاحب کی طرف ہونے لگا تو ہم نے دخل در نامعقولات کرتے ہوئے، ساجد سے پوچھا، "ساجد، وہ فائر کیسے لگا تھا تجھے؟" یہ سنتے ہی چیمے کے تاثرات، چیتے جیسے ہوگئے۔ اور وہ اپنی ہزار دفعہ کی دہرائی ہوئی کہانی پورے جوش و جذبے اور گالیوں کے ساتھ دہرانے لگا کہ کیسے اسے ڈیرے پر اس کے ویری نے فائر مارا تھا اور اس کا چھوٹا بھائی اس کو ہسپتال لے جانے کی بجائے پہلے بندوق لے کے اس ویری کو فائر مار کے آیا اور اس کے بعد ساجد چیمے کو ہسپتال لے کےگیا۔۔۔۔ فلمی سین تو یہ ہوا کہ وہ ایک ہی وارڈ میں دو بیڈ چھوڑ اپنی ٹانگوں پر پلستر چڑھائے لیٹے تھے اور سارا دن ایک دوسرے کی والدہ ہمشیرہ، واحد کرتے تھے۔
زاہد ٹھنڈ، پانچواں گلاس ختم کرتے ہی کمرے سے باہر نکل گیا۔ تھوڑی دیر بعد ہنگامے کی آواز سن کر ہم باہر دوڑے تو وہ ساتھ والے کمرے کا دروازہ پیٹ رہا تھا اور مشیر مسیح، جو ہمارا ہم جماعت تھا، اسے گالیاں دے رہا تھا۔۔ نکل اوئے ویسٹ انڈیز دیا چوہڑیا۔۔۔ مشیر، بستی عیسائیاں کا رہائشی اور بہت نفیس بندہ تھا (اب بھی ہے)۔ اس نے عقلمندی کی کہ دروازہ نہیں کھولا اور مزید تماشہ بنانے سے گریز کیا۔ زاہد ٹھنڈ کو بڑی مشکل سے گھسیٹ کر کمرے میں لایا گیا۔ عام حالات میں ٹھنڈ کی مشیر سے گاڑھی چھنتی تھی۔ جس کی وجہ مسیحیوں کا بوتل کوٹہ تھا۔کمرے میں واپس آئے تو زاہد موٹا، پُھس پُھس کرکے رو رہا تھا۔ ملک کی آنکھوں میں شرارت تھی، اس نے اشارہ کیا کہ اس سے پوچھو کہ کیا ہوا۔۔ ہم موٹے کے پاس جا کے بیٹھ گئے اور پوچھا کہ کیا ہوا ہے۔۔ اس کے رونے کی آواز اور اونچی ہوگئی۔۔۔ "میرے نال بڑے ظلم ہوئے نیں، میرے نال بڑے ظلم ہوئے نیں"۔۔ ہم سمجھنے سے قاصر تھے کہ اتنی بالی عمریا میں کتنے کُو ظلم ہوگئے ہوں گے؟ ظلم کی نوعیت پوچھنے پر بھی وہی جواب ملتا رہا۔۔ میرے نال بڑے ظلم ہوئے نیں۔۔۔ عام حالات میں زاہد موٹا ایک نہایت خوش باش اور ہیپی گو لکّی قسم کا بندہ تھا۔ ہمیں آج تک سمجھ نہ آسکی کہ اس کے ساتھ کیا ظلم ہوئےتھے۔
ملک واحد البتّہ، اپنی گلامابادی وِٹ اور خوش مزاجی پر ویسے کا ویسا قائم تھا جیسے پانچ گلاس پہلے تھا۔ آنکھ کی سُرخی اور منہ کی بُو کے علاوہ کوئی ایسی نشانی نہیں تھی جس سے ان پانچ گلاسوں کا کوئی نشان ملتا ہو۔

دسمبری دُکھڑے کا علاج

پار سال ہم نے دسمبر اور اس کے انواع و اقسام کے دُکھڑوں پر کماحقہ روشنی وغیرہ ڈالی تھی۔ اب ہم ان دُکھڑوں کے شافی و کافی علاج کے ساتھ حاضر ہیں مبادا یہ سمجھ لیا جائے کہ ہم اردو کالم نگاروں کی طرح، صرف مسائل کا پرچار کرتے ہیں اور ان کا حل ہمارے پاس نہیں ہوتا۔ خیر، ایسا سمجھ بھی لیا جائے تو ہماری صحت پر کوئی اثر نہیں۔ آپ کا جو دل چاہے سمجھتے رہیں۔۔۔
دسمبر میں وہ خواتین و حضرات بھی دردیلی شاعری کا پرچار شروع کردیتے ہیں جنہیں ۔۔۔ لپّے آتی ہے دعا بن کے تمنّا میری۔۔ بھی، کبھی یاد نہیں ہوسکی تھی۔ اس کا آسان علاج  ہے کہ نومبر کے آخری ہفتے سے ہی انور مسعود، دلاور فگار، ضمیر جعفری ، خالد مسعود اور اگر ہمّت ہو تو استاد امام دین گجراتی کی شاعری کا کثرت سے مطالعہ کریں۔ شادی شدہ خواتین و حضرات اس کے ساتھ ساتھ کثرت جماع پر زور رکھیں۔ یہ بھی مفید ہوتا ہے۔
جن خواتین کو اپنے نہ ملنے والے سجّن پیاروں کی یاد بے چین کرتی ہے اور وہ ان کی یاد میں دسمبر شروع ہوتے ہی آٹھ آٹھ آنسو بہانا شروع کردیتی ہیں۔ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ جولائی کی کسی اتواری ملتانی دوپہر کا تصّور ذہن میں لائیں۔ صبح سات بجے سے بجلی بند ہو۔ آپ کا محبوب رات کو کمپلسری ویک اینڈ بھی سیلیبریٹ کرچکا ہو۔۔ اور اس وقت تہہ بند، شلوار یا برمودا شارٹس پہن کے صحن میں بیٹھا ہو۔ پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے ابھی تک "غسل" بھی نہ کیا ہو۔۔ دانت صاف کرنے کی عادت اس کو عادتِ بد لگتی ہو۔۔ پانچ فٹ دور سے اس کے منہ کی سگرٹانہ مہک مخاطب کو عطر بیز کرتی ہو۔۔۔کُلّی کرکے اس نے اس گرمی میں بھی، صبح دو پراٹھوں کے ساتھ چار انڈوں کا آملیٹ کھایا ہو اور اب ایک ہاتھ اپنی بنیان میں ڈال کے پیٹ کھجا رہا ہو اور دوسرے ہاتھ میں "گولڈ لیف" سلگا کے اس کے کش لگا رہا ہو۔۔ عاشقی کی کامیابی کے جوش میں پہلے تین سالوں میں جو تین ماڈل مارکیٹ کردئیے گئے تھے، وہ گرمی کی وجہ سے مسلسل اپنے ہونے کا ثبوت دے رہے ہوں اور آپ کے یہ کہنے پر کہ۔۔۔ ذرا زوماریہ نوں چُوٹا ای دے دیو۔۔ پر وہ گھُور کے آپ کی طرف دیکھے اور کہے۔۔۔ میں تیرے پیو دا نوکر آں؟۔۔۔
اس سارے سنیریو کو ایک دفعہ تصوّر میں لانے پر اس وقت جو دہُوش میلی بنیان اور الٹی شلوار پہنے، آپ کے ساتھ لیٹا ہوا خرّاٹے مار رہا ہے، آپ کو اس پر بے اختیار پیار آسکتا ہے۔۔ لیکن اس پیار کو دل میں ہی رکھیں اور اسے عملی طور پر ظاہر کرنے سے گریز کریں۔ سردی کافی ہے اور گیس کی لوڈ شیڈنگ چل رہی ہے اور ٹھنڈے پانی سے نہانا کافی مشکل ہوتا ہے۔۔۔
ان مرد احباب کے لیے جنہیں غمِ جاناں ہے اور وہ اس کو شاعری کے زور پر غم دوراں بنانے پر تُلے ہیں، مشورہ ہے کہ وہ ان محترمہ کا تصوّر کریں جن کے بغیر ان کو لگتاہے کہ ان کی زندگی ادھُوری ہے۔۔ شادی کے بعد ان کو پتہ لگتا کہ خاتون کو چٹپٹی چیزیں کھانے کا شوق ہے، بنا بریں اوائل عمری سے ہی گیس ٹربل ان کی سہیلی ہے۔ اس صورت میں آپ کی آدھی تنخواہ تو ائیر فریشنر پر ہی خرچ ہوجاتی۔ اس کے علاوہ جتنا وقت وہ ہار سنگھار اور میک اپ پر خرچ کرتی ہیں، اتنی دیر آپ بھی میک اپ کریں تو ونیزہ احمد تو لگ ہی سکتے ہیں۔ غُبارِ عاشقی کی وجہ سے ہونے والی مسلسل زچگیوں کے باعث خاتون دو تین سال میں ہی پیچھے سے مُسرّت شاہین اور سامنے سے عابدہ پروین لگنے لگی ہیں۔ مرے پر سو دُرّے۔۔ آپ کے بیڈروم میں شیرخواروں کے بول کی مہک ایسی رچ بس گئی ہے کہ آپ کی سونگھنے کی حِس ہی مردہ ہوچکی ہے۔۔ اور خاتون کو ان سب چیزوں کا احساس دلانے پر وہ آپ کو شادی سے پہلے آپ کی احمقانہ گفتگو کے ایسے ایسے طعنے دینا شروع کردیتی ہیں کہ آپ کا اعتبار ہی دنیا، شادی، عورت سے اٹھ جاتا ہے اور آپ برہمچاری ہو کر اس دنیا سے بن باس لینے کا سوچنے لگتے ہیں۔
یہ سب تصوّر میں لانے کے بعد آپ کو اپنی گہری سانولی زوجہ، جو اس وقت مُنّے کو سُلا کر عمیرہ احمد کے ناول کی تازہ قسط پڑھ رہی ہیں، پر شدید ہارمونک پیار آئے گا۔۔۔ اور چاہے دسمبر یا ہو یا گیس کی لوڈ شیڈنگ۔۔ آپ نے باز تو آنا نہیں۔۔۔

مردودکی یاد میں

ہم نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ کسی کی یاد میں کبھی کچھ لکھنے کی نوبت آئے گی لیکن آج ہم بصد خوشی و مسرّت یہ سطور قلم بند کرنے کی سعاد ت حاصل کررہے ہیں۔ان کا ذکر کرنے سے پہلے تین دفعہ لاحول اور تین ہی دفعہ آیت الکرسی پڑھ کر پاس بیٹھے ہوئے پر دم کردیں لیکن خیال رکھیں کہ کوئی انجان خاتون نہ ہوں ورنہ آپ کا دم بھی نکل سکتا ہے۔۔۔
آمدم برسر مطلب۔۔۔ان کا نام ایسا تھا کہ اسکی وجہ سے اکثر وہ کبھی کھابے کھاتے اور کبھی قتل ہونے سے بال بال بچتے رہے لیکن عرف عام میں انہیں سجن دشمن سب "مردود" کے نام سے یاد کرتے تھے۔ اس کی بہت سی وجوہات تھیں لیکن سب سے بڑی وجہ ان کا موقع محل اور جھونپڑی دیکھے بغیر بولنا تھا۔ مرے پر سو درّے، جب وہ بولتے تھے تو زیادہ تر باقیوں کی بولتی بند کردیتے تھے۔ لہذا انہیں اتفاق رائے سے مردود کا نام دیا گیا۔ دوست احباب البتہ زیادہ جوش و خروش سے ان کی غیر موجودگی میں یہ نام دہراتے تھے اور اپنے من کو ٹھنڈک پہنچاتے تھے۔
زمانہ طالب علمی میں اساتذہ اور ہم جماعتوں میں وہ یکساں طور پر غیر مقبول تھے۔ اساتذہ ان کے سوالات اور ہم جماعت ان کی حاضر جوابی (جنہیں چند حاسدین جگت بازی کا بھی نام دیتے ہیں) سے تنگ رہتے تھے۔ اساتذہ تو اپنا ساڑ کسی نہ کسی طرح نکال لیتے تھے مثلا اردو گرائمر پڑھاتے ہوئے، استاد  اچانک ان سے پوچھتے کہ  بوٹسوانہ کے  وزیر بہبود آبادی کا نام بتاؤ۔۔ مردود بھی ایسے کائیاں تھے کہ کریبونگا امبنگوا جیسا کوئی نام بول دیتے، استاد محترم کے لیے مشکل ہوجاتی کہ اگر غلط کہیں تو ٹھیک بتانا پڑے گا اور درست  مانیں تو مردود بچ جائیں گے۔ لیکن استاد بھی آخر استاد ہوتے ہیں۔۔ فورا ان سے فعل ماضی مطلق شکیہ  کی گردان سنانے کا حکم جاری کردیتے۔۔ تس پر مردود گویا ہوتے ۔۔ سرجی ! پھینٹی لانی اے تے لاؤ ، بہانے تے نہ لاؤ۔۔ اس پر محترم استاد اپنے دل کی بھڑاس شہتوت کی لچکدار چھڑی ان کے ہاتھوں اور تشریف پر برسا کے پوری کرتے۔۔
ہم جماعت، نہ زبانی اور نہ ڈنڈیں پٹّیں ، ان سے الجھنے کی ہمّت رکھتے تھے لہذا اس ساڑ کو اکثر و بیشتر ان کی غیرموجودگی  میں ان کے قصیدے پڑھ کے نکالاجا تا تھا۔ آپ کو خدا تعالی نے ڈھٹائی کی صفت سے نکونک مُتّصف کیا تھا، بنا بریں ایسی باتیں اگر ان کے کان میں پڑ بھی جاتیں تو بے شرمی سے ہنس کر، سنانے والے کو دو تین جگتیں ٹکا دیا کرتے۔ رفتہ رفتہ سب کو اندازہ ہوگیا کہ آپ ہمیشہ اپنی مرضی اور منشاء سے  کھیلتے ہیں، لائی لگ نہیں ہیں۔
اعلی تعلیم کے لیے لوگ باہر جاتے ہیں آپ اس سلسلے میں دو تین دفعہ اندر جاتے ہوئے بال بال بچے۔ کالج میں آپ کے جوہر مزید کھلے۔ ایک تو یہاں شہتوت کی چھڑی سے گدّڑ کُٹ لگانے والے اساتذہ نہیں تھے اور دوسرا ان کو اپنے مزاج کے چند اور مردود بھی مل گئے۔ جو آخری سانس (مردود کی آخری سانس) تک ان کے ساتھ رہے۔ آپ نے کالج میں اپنی منافقت کے باوصف جماعتیوں میں شمولیت اختیار کی حالانکہ آپ کی گفتگو اگر کوئی ناظم بھائی سن لیتے تو موقع پر  ہی ان کو شہادت سے سرفراز کردیتے۔ آپ کا  "باگا" بہت تھا۔ "زندہ ہے جمعیت زندہ ہے" کے نعرے لگاتے ہوئے دو تین دفعہ ایم ایس ایف کے ہاتھوں مرتے مرتے بچے۔ ان کے حاسدین ان کے اس طرح بچنے پر ہمیشہ سڑ کے یہی کہتے تھے کہ ۔۔۔ بُرائی اینی چھیتی نئیں مُکدی۔۔۔
آپ نے  یہ محاورہ بھی غلط ثابت کیا کہ جو گرجتے ہیں وہ برستے  نہیں۔۔۔ آپ گرجتے بھی تھے اور برستے اس سے زیادہ تھے۔ ایک دفعہ تو تنگ آکے ایم ایس ایف  والے وفد بنا کر مرکز میں تشریف لے گئے اور اکابرین سے درخواست کی کہ اگر اس کو لڑائی میں شامل کرنا ہوتا ہے تو ۔۔ اسیں اگّے توں لڑائی لڑائی نئیں کھیڈنا۔۔۔
چہرے پر چھائی نحوست ، مردودیت اور لفنٹر پن کے باوجود آپ ہمیشہ خواتین کی خصوصی توجہ کا مرکز بنے رہے۔ اس کی وجوہات پر جب روشنی ڈالنے کے لیے کہا جاتا تو آپ ہمیشہ ایک ذلیل سی ہنسی کے ذریعے اس کا جواب دیتے۔ اس دلچسپی  کے سائیڈ افیکٹس  یہ تھے کہ ان خواتین کے خالو، پھوپھے، ماموں، چچا ، بھائی وغیرہ ہمیشہ ان پر بندوقیں کس کے پھرتے رہے ۔۔۔ بقول شاعر۔۔۔
کانٹے کی طرح ہوں میں "اقرباء" کی نظر میں
رہتے ہیں مری گھات میں چھ سات مسلسل
جو ں جوں وقت گزرتا رہا اس فہرست میں بھتیجے، بھانجے وغیرہ بھی شامل ہوتے گئے۔۔ اگر آپ  دنیائے فانی سے اتنی جلد دفع نہ ہوتے تو یقینا نوبت بیٹوں تک جا پہنچتی۔۔
آسماں تیری لحد پہ زہر افشانی کرے
آپ کی وفات مُسّرت آیات، اچانک  ہوئی۔ ایک دن صبح اٹھے اور فیصلہ کیا کہ آج کے بعد بدل جائیں گے۔ منافقت چھوڑ دیں گے، مردودیت سے کنارہ کرلیں گے، اچھے بچّے بن جائیں گے۔۔ اس فیصلے کی خوشی کی تاب نہ لاتے ہوئے، اسی شام داعئ حق کو لبیک کہہ گئے۔۔
حق، پاء لمّیاں لوے، عجب مردود مرد تھا

بابا حاجی

ہمارا گھر گلی میں داخل ہوکے بائیں ہاتھ پر تیسرا تھا۔ بائیں ہاتھ پر آٹھواں گھر، بابا حاجی کا تھا۔ ان کے اصل نام کا تو ہمیں کبھی علم نہ ہوسکا لیکن سب لوگ انہیں بابا حاجی کے نام سے ہی جانتے تھے۔ باریش، گُٹھا ہوا سر، تہہ بند اور کُرتا۔ کندھے پر سفید رنگ کا صافہ جو گرمی میں سر پر بندھا ہوتا تھا۔ شیخ برادری سے ان  کا تعلق تھا۔ زوجہ وفات پاچکی تھیں اور وہ اپنے بڑے بیٹے اور بہو کے ساتھ رہتے تھے۔ شیخ اور سیاستدان کبھی ریٹائر نہیں ہوتے۔ مرتے دم تک اپنے کام سے لگے رہتے ہیں۔ یہ بھی اپنے بیٹے کے ساتھ کپڑے کی دکان پر جاتے تھے ۔ شام کو جلد واپس آجاتے تھے۔ ان کا مستقل ٹھکانہ ، ان کے گھر کے باہر والا تھڑا تھا ۔  شام کو اکثر وہیں پائے جاتے ، جہاں ان کے ساتھ ان کے ہم عمر بزرگ شہری  بھی محفل جمایا کرتے تھے۔
بابا حاجی ،  ہمارے بزرگوں کی اس روایت پر سختی سے کاربند تھے جس کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ چڑچڑا پن بڑھانا ضروری ہوتا ہے۔  ہم شام کو گلی میں کرکٹ ایمانی جو ش و جذبے کے ساتھ کھیلا کرتے ۔ زبیر کے گھر کے سامنے ہماری "پچ " تھی۔ بالر کا  رن اپ وہاں سے شروع ہوتا تھا جہاں بابا حاجی و ہمنوا شام کو بیٹھتے تھے۔ ہر گیند پھینکنے سے پہلے وہ بالر کو یہ تنبیہ ضرور کیا کرتے تھے کہ   ۔۔ جے گیند مینوں لگّی تے میں چھڈنا نئیں تہانوں"۔۔۔ شو مئی قسمت کہ برسوں ہم کرکٹ کھیلتے رہے ایک بھی دفعہ گیند ان کو نہیں لگی۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تنبیہات میں غصہ اور برہمیت بڑھتی ہی رہی۔
ہم بھی لڑکپن سے خطرناک عمر تک بڑھتے رہے اور بابا حاجی کا چڑچڑ اپن بھی ۔  مسلسل ٹوکا ٹاکی سے تنگ آکر ہم نے اپنے گینگ آف عوامی کالونی سے مل کر ایک گھناؤنا منصوبہ بنایا ۔ جس کا مقصد بابا حاجی کو اس حد تک زچ کرنا تھا کہ وہ ہمیں تنگ کرنے سے با ز آجائیں۔ اس وقت ہمیں اگر یہ پتہ ہوتا کہ ساری زندگی کی عادتیں اس عمر میں جا کے نہیں بدلتیں تو یقینا ہم یہ حرکت نہ کرتے۔ پر ہر بات  مناسب وقت پر ہی پتہ چلے تو اچھا ہے ورنہ زندگی بے رنگ ہوجاتی ہے۔
ہم نے گلی کی بچہ پارٹی کو اکٹھا کیا اورانہیں اپنے ساتھ کبھی کبھار کرکٹ کھیلنے کا لالچ دے کر اپنے منصوبے کا حصہ بنایا۔  ایک دن شام کو جب بابا حاجی تھڑے پر تنہا بیٹھے تھے۔ سب سے پہلے باجی رانی کے صاحبزادے نے ان کے پاس سے گزرتے ہوئے کہا۔۔ بابا حاجی، سلاما لیکم۔۔ بابا حاجی نے خوش ہوکے جواب دیا۔۔ واالیکم سلام۔۔۔ دو منٹ بعد شیخ یونس کے تھتھّے صاحبزادے عدنان کی باری آئی۔۔ بابا ہادی۔۔ تھلامالیتم۔۔  انہوں نے غور سے اسے دیکھا اور جوابا  وعلیکم کہا۔۔ تیسرے بچے پر ان کا پارا تھوڑا چڑھ گیا۔۔ چوتھے پر انہوں نے چلا کے سلام کا جواب دیا۔ پانچویں کو گالی اور چھٹے کے پیچھے مارنے کو بھاگے۔۔۔
گلی میں ہونے والے خلاف معمول شور نے خواتین خانہ کی توجہ بھی مبذول کرالی اور  گھروں کے دروازے آباد ہوگئے۔ بابا حاجی  کو اپنے گھر کے سامنے کھڑے بآواز بلند گالیاں بکتے دیکھ اور سن کر خواتین ہکّا بکّا رہ گئیں کہ اس سے پہلے بابا حاجی کے منہ سے ایسے الفاظ کسی  نے نہیں سنے تھے۔ اب یہ روز کا معمول بن گیا۔ بچوں کے ہاتھ ایک کھیل آگیا۔۔ وہ دور سے ہی بابا حاجی کو دیکھ کر نعرہ لگاتے۔۔ بابا حاجی، سلاما لیکم۔۔ اور  وہ انہیں ایسی ایسی گالی دیتے کہ ان کی والدائیں گھروں کے اندر شرم سے دُہری ہوجاتیں۔  خواتین نے زنانہ چینل کی وساطت سے اپنی گذارشات ان کی بہو تک بھی پہنچائیں لیکن وہ بے چاری بھی کیا کرتیں۔ بگڑا ہوا بابا، سدھارنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا ہے۔
یہ تماشہ  سالہا سال جاری رہا۔ گلی سے بات نکل کے پورے محلے میں پھیل گئی۔ راہ چلتے لوگ انہیں ۔۔ بابا حاجی، سلاما لیکم ۔۔  کہہ کے ان کی گالیوں کا مزا لینے لگے۔ تماش بینی ہمارے خمیر میں شامل ہے چاہے اس میں ہمیں ہی گالیاں کیوں نہ پڑ رہی ہوں۔ بابا حاجی کو کبھی پتہ نہیں چل سکا کہ ان کے ساتھ یہ کھیل کھیلنے والے کون تھے ۔  سب یہی سمجھتے رہے کہ  بابا حاجی عمر کے تقاضے کی وجہ سے سٹھیا  گئے ہیں۔
اس وقت تو نہیں لیکن کافی عرصہ بعد ہم پر یہ کُھلا کہ پرہیزگاری اور تقوی کے زُعم میں گنہگاروں کو دیوار سے نہیں لگانا چاہیے۔ اگر وہ پلٹ کر حملہ آور ہوجائیں تو آپ کے اندر کا بابا حاجی جسے آپ ساری عمر مختلف طریقوں سے چھپا کے رکھتے ہیں وہ عُریاں ہو کر سب کے سامنے آجاتا ہے۔